Showing posts with label Imran Khan. Show all posts
Showing posts with label Imran Khan. Show all posts

Tuesday, August 16, 2022

Byelections or Referendum?

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

ضمنی انتخاب یا ریفرنڈم؟

بیس ستمبر 2020ء: پاکستان پیپلزپارٹی کی میزبانی میں ’کل جماعتی کانفرنس‘ میں 26 نکاتی قرارداد منظور کرتے ہوئے حزب اختلاف اتحاد ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM)‘ کا قیام عمل میں آیا اُور اِس ’موومنٹ‘ کے زیراہتمام ’سولہ اکتوبر 2020ء‘ کے روز گوجرانوالہ میں پہلے جلسۂ عام کا انعقاد کیا گیا۔ اِبتدا میں ’پی ڈی ایم‘ گیارہ سیاسی جماعتوں (عوامی نیشنل پارٹی‘ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل‘ جمعیت اہل حدیث‘ جمعیت علمائے اسلام (فضل)‘ جمعیت علمائے پاکستان (نورانی)‘ نیشنل پارٹی (بزنجو)‘ مسلم لیگ (نواز)‘ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (محمود اچکزئی)‘ قومی وطن پارٹی اُور جمہوری وطن پارٹی) پر مشتمل تھی جبکہ بعدازاں 3 دیگر سیاسی جماعتوں (بلوچستان عوامی پارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اُور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ) نے ’پی ڈیم ایم‘ میں شمولیت کر لی۔

دس اپریل 2022ء: تحریک انصاف کے سربراہ (چیئرمین) عمران خان کے خلاف ’پی ڈی ایم‘ کی تحریک ِعدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد اُور شہباز شریف کے بطور وزیراعظم حلف اُٹھانے (گیارہ اپریل) سے قبل تحریک انصاف سے قومی اسمبلی سے کنارہ کشی کر لی اُور تحریک سے تعلق رکھنے والے 123 قومی اسمبلی اراکین نے اپنی اپنی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو مطلع کر دیا۔ ’گیارہ اپریل‘ کے روز قومی اسمبلی کی جانب سے مستعفی ہونے والے اراکین کے ارسال کردہ خطوط میں کہا گیا کہ وہ اجتماعی استعفوں کی فرداً فرداً تصدیق کے لئے اسپیکر سے رابطہ کریں لیکن مقررہ تاریخوں (6 سے 10جون) کے درمیان تحریک انصاف کے کسی بھی رکن قومی اسمبلی نے اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر مستعفی ہونے کی تصدیق یا انکار کو ضروری نہیں سمجھا۔

اٹھائیس جولائی 2022ء: تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے اجتماعی استعفوں کے 109 دن بعد‘ تحریک کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا اعلان قومی اسمبلی کے ٹوئیٹر اکاونٹ (@NAofPakistan) سے کیا گیا۔ مذکورہ اعلان کے مطابق اسپیکر راجہ پرویز اشرف (@RPAPP) نے 2 خواتین سمیت 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے آئین پاکستان کی شق 64(1) اُور قومی اسمبلی قواعد و ضوابط 2007ء کے تحت منظور کئے تاہم مذکورہ اعلان میں یہ نہیں کہا گیا کہ مرحلہ وار استعفے کیوں منظور ہوئے‘ سب استعفے اکٹھے منظور کیوں نہیں کئے گئے اُور جن گیارہ اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہوئے ہیں اُس کے لئے کس ضابطے یا اصول کو پیش نظر (بنیاد) رکھا گیا ہے۔ یہ سُوال بھی اپنی جگہ جواب طلب اُور حیرت کا باعث رہا کہ تحریک انصاف کے باقی 120 اراکین قومی اسمبلی کی قسمت کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا اُور اِن کے استعفے مستقبل قریب میں قبول کئے جائیں گے یا نہیں؟

پانچ اگست 2022ء: الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 9 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لئے اُمیدواروں سے کاغذات نامزدگی طلب جبکہ پولنگ کے لئے اتوار (25 ستمبر 2022ء) کا دن مقرر کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے جنرل نشستوں پر 9 جبکہ خواتین کے لئے مختص نشستوں پر 2 اراکین کے استعفے قبول کرنے کے بعد اُن کے نام (30 جولائی 2022ء کے روز) قومی اسمبلی اراکین کی فہرست سے خارج (ڈی نوٹیفائی) کر دیئے گئے۔

چھ اگست 2022ء: تحریک انصاف نے ’اسلام آباد ہائی کورٹ‘ سے الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کے خلاف رجوع کیا اُور عدالت سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ”ضمنی انتخابات کا جاری کردہ شیڈول معطل کیا جائے کیونکہ عدالت پہلے ہی تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری سے متعلق مقدمے کی سماعت کر رہی ہے اُور اِس سلسلے میں 4 اگست کی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹسیز جاری ہو چکے ہیں‘ جن کے بارے میں باخبر ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول جاری کیا ہے اِس لئے ’پانچ اگست‘ کا شیڈول معطل کیا جائے۔“ دوسری طرف ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے چند گھنٹے بعد (پانچ اگست شام 7 بج کر 3 منٹ پر) ’عمران خان‘ نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ (@ImranKhanPTI) سے اعلان کیا کہ تمام (9) نشستوں پر وہ بذات خود بطور اُمیدوار انتخابی مقابلے میں حصہ لیں گے یوں یہ ضمنی انتخابات بنیادی طور پر …… 1 (عمران خان) بمقابلہ 14 سیاسی جماعتیں (پی ڈی ایم) …… پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انتہائی غیرمعمولی انتخابی معرکہ ثابت ہوگا جس میں حصہ لینے کے لئے دونوں فریقین نے آستینیں اُوپر کر لی ہیں اُور امر واقعہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اِس سے قبل کبھی بھی ضمنی انتخابات اِس قدر اہم اُور قابل ذکر و زیربحث نہیں رہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ (چیئرمین) عمران خان نے ضمنی انتخاب کی آخری تاریخ ختم ہونے سے قبل ’حسب ِاعلان‘ 9 انتخابی حلقوں (کراچی کے تین (این اے 246این اے 237 این اے 239)‘ مردان (این اے 22)‘ چارسدہ (این اے 24)‘ پشاور (این اے 31)‘ کرم (این اے 45)‘ فیصل آباد (این اے 108) اُور ننکانہ (این اے 118) کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ خاص نکتہ یہ بھی ہے کہ تحریک ِانصاف کو انتخابی کامیابی اِس حد تک یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ اِس نے خواتین کی مختص نشستوں پر 2 کی بجائے 3 خواتین (شندانہ گلزار‘ روہیلہ حامد اُور مہوش علی) کو نامزد کیا ہے۔ 

بنیادی بات یہ ہے کہ تحریک ِانصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے ضمنی انتخاب کی ہر نشست پر تن تنہا بطور اُمیدوار انتخاب لڑنے کے فیصلے نے ’ضمنی انتخاب‘ کو ’ریفرنڈم‘ میں تبدیل کر دیا ہے جس کا نتیجہ (پولنگ ڈے‘ پچیس ستمبر) اگر ’تحریک انصاف کے حق میں آیا تو اِس سے ملک میں ’صدراتی نظام‘ کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ صدراتی نظام حکومت میں قومی فیصلے فرد واحد (صدر مملکت) کے حکمنامے سے اُور فوری نافذ العمل ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کے ’3 سال 7ماہ 23 دن‘ پر محیط دور ِحکومت (18 اگست 2018ء سے 10 اپریل 2022ء) کے دوران ”صدارتی طرزحکمرانی“ کے حوالے سے قومی سطح پر بحث و مباحثہ متعارف کروایا گیا جس سے اتفاق کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں‘ شریک ِاقتدار قوتوں اُور عوامی حلقوں کی اکثریت نے اِسے پاکستان کے مسائل کا واحد‘ صائب‘ دیرپا اُور قابل عمل حل قرار دیا تھا اُور اِس حوالے سے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی خاصی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں آئی تھی لیکن بعدازاں چند تکنیکی و آئینی پیچیدگیوں اُور معاشی و سیاسی حالات کی وجہ سے اِس تصور (آئیڈیا) پر عملاً پیشرفت نہ ہو سکی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 25 ستمبر 2022ء کے روز صرف 9 انتخابی حلقوں کے رائے دہندگان ہی نہیں بلکہ اِن معرکوں پر نظر رکھنے والے کس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اُور بالخصوص مذکورہ ضمنی انتخابات پاکستان میں طرزحکمرانی کے مستقبل کے بارے میں کس سمت کا تعین کرتے ہیں‘ جسے تحریک کے قائدین پہلے ہی ’یقینی کامیابی کی صورت حقیقی آزادی‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اِن ضمنی انتخابات سے تحریک انصاف کا مستقبل اُور لائحہ عمل بھی بڑی حد تک واضح ہو جائے گا جس کی ’نئے پاکستان‘ کی تخلیق و تعمیر اُور تعبیر کے لئے بائیس سالہ سیاسی جدوجہد نہ صرف نئی تصوراتی بلندی کو چھو لے گی بلکہ یہ پاکستان میں سیاست کا رخ بھی شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدل کر کے رکھ دے۔ ”میں پیروی اہل سیاست نہیں کرتا …… اِک راستہ اِن سب سے جدا چاہئے مجھ کو (عرش صدیقی)۔“

Sunday, December 6, 2020

Pakistan Citizen Portal, Success vs the failure

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پاکستان سٹیزن پورٹل

تین ٹوئیٹر پیغامات لائق توجہ ہیں۔ پہلا پیغام: ٹوئیٹر صارف حسن خاور (@HasaanKhawar) لکھتے ہیں ”میں نے تجرباتی طور پر سٹیزن پورٹل پر ایک شکایت درج کروائی اُور اُس پر فوری ردعمل حقیقت میں قابل ستائش ہے۔“ دوسرا پیغام: پاکستان تحریک انصاف کے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ (@PTIofficial) سے کہا گیا ہے کہ ”سٹیزن پورٹل ’انقلابی اقدام‘ ہے‘ جس میں عام آدمی اپنی شکایت وزیراعظم تک پہنچا سکتا ہے۔“ تیسرا پیغام: سٹیزن پورٹل کے نگران ادارے ’پرفارمنس ڈیلیوری یونٹ (@PakistanPMDU)‘ کا کہنا ہے کہ ”2 سال کے عرصے میں پورٹل کے ذریعے 30 لاکھ شکایات درج ہوئیں جو عوام کے اعتماد کا مظہر ہیں اُور اِن شکایات میں سے 94فیصد حل کی جا چکی ہیں۔“ مذکورہ تینوں پیغامات 4 دسمبر (دوہزاربیس) کے روز چھ گھنٹے کے دوران اِرسال کردہ اُن ہزاروں تبصروں (trends) کا حصہ ہیں جو ’سٹیزن پورٹل‘ سے متعلق حکومتی سرپرستی میں شروع کئے گئے ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ ”نیشنل آئی ٹی بورڈ‘ حکومت پاکستان“ کی جانب سے جاری کردہ ’پاکستان سیٹرن پورٹل (Pakistan Citizen Portal)‘ نامی موبائل فون ایپلی کیشن (app) 10 لاکھ سے زیادہ صارفین ’گوگل پلے سٹور‘ سے حاصل (ڈاون لوڈ) کرچکے ہیں۔ مذکورہ ایپ سے استفادہ کرنے کے لئے کسی صارف کے پاس سمارٹ فون‘ موبائل فون کنکشن‘ قومی شناختی کارڈ نمبر اُور انٹرنیٹ جیسی چار بنیادی ضروریات ہونی چاہیئں کیونکہ مختلف مراحل پر صارف کے حقیقی ہونے کی تصدیق کی جاتی ہے۔ گوگل درجہ بندی (رٹینگ سسٹم) کے حساب سے سٹیزن پورٹل کے اینڈرائیڈ صارفین کی جانب اِس ایپ کو ’تھری سٹار‘ ملے ہیں یعنی صارفین کی نصف سے زیادہ تعداد نے اِسے پسند کیا ہے۔ پسندیدگی کا یہ عالمی معیار (تھری سٹارز) اگر زیادہ اچھی نہیں تو زیادہ بُری بھی نہیں۔ ایک ستارہ (star) کا مطلب کم ترین جبکہ اگر کسی ایپ کو پانچ ستارے (5-Stars) ملیں تو یہ اُس کی انتہائی مقبولیت کی علامت ہوتی ہے۔ اندازہ ہے کہ مجموعی طور پر پندرہ لاکھ کے قریب اینڈرائیڈ اُور آئی فون صارفین سٹیزن پورٹل کو اب تک حاصل کر چکے ہیں جبکہ اِس کے فعال صارفین (زیرغور شکایات) کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے۔ مذکورہ ایپ کو زیادہ سے زیادہ آسان (یوزر فرینڈلی) بنانے کے لئے 3 ہزار 796 سرکاری محکموں کی درجہ بندی 20 گروپوں میں کی گئی ہے اُور اِن کی کارکردگی سے متعلق شکایات درج کرانے کا عمل (پاکستان سٹیزن پورٹل) 28 اکتوبر 2018ءسے جاری ہے۔ اِس متعلق افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ”عوام ’اِظہار رائے کا موقع‘ دے کر اَمور مملکت میں شریک (حصہ دار) بنا لیا گیا ہے۔“

سٹیزن پورٹل پر شکایات درج کرانے کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے انسداد رشوت ستانی کو بھی درجہ بندی میں شامل کر لیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے چار دسمبر (دوہزاربیس) کے روز اعلان کیا ہے کہ ”غلط کام کرنے والے سرکاری اہلکار کو معطل یا اُن کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ اُنہیں سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا۔ اگرچہ ایسی کوئی ایک بھی مثال موجود نہیں جس میں بقول وزیراعظم ”غلط کام“ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو مثالی و عبرت ناک سزائیں دی گئی ہوں بلکہ عمومی مشاہدہ یہی ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ ’پلی بارگین‘ کے ذریعے مقدمات طے کرتے ہوئے اپنی بدعنوانیاں تسلیم کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو بھی اُن کے عہدوں پر بحال کیا گیا بلکہ اُنہوں نے محکمانہ ترقیاں پائیں اُور پہلے سے زیادہ مالی و انتظامی اختیارات کے نگران مقرر کئے گئے۔ سٹیزن پورٹل کے بارے میں عمومی تصور یہ ہے کہ اِس کے ذریعے ذاتی شکایات درج کروائی جاتی ہیں اُور لوگوں کے ذاتی مسائل حل ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں لیکن وزیراعظم تک رسائی کے بعد عوام کے ذاتی تجربات سے زیادہ قومی مفادات کے تحفظ پرتوجہ ہونی چاہئے جیسا کہ رواں برس (سال 2020ءکے دوران) ’انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ خیبرپختونخوا‘ نے مجموعی طور پر ”925 کنال 11 مرلے“ اراضی کو غیرقانونی قبضے سے واگزار کرائی‘ جس کی مالیت 96 کروڑ روپے سے زیادہ بیان کی گئی تو معلوم ہواکہ عام آدمی پر ظلم کی کوئی ایک صورت یا کوئی ایک محکمہ یا فرد ذمہ دار نہیں بلکہ یہاں پٹوار خانے سے مال خانے اُور تھانے کچہری و جامعات تک استحصال و زیادتی کے لاتعداد واقعات اکثر دیکھنے اُور سننے میں آتے ہیں۔ سٹیزن پورٹل اُن حالات میں عوام کے مسائل حل کرنے میں کارگر (موثر) حربہ ثابت ہو سکتا ہے جہاں سرکاری محکموں میں جرائم رازداری اُور انتہائی پیچیدہ طریقے (مہارت) سے سرانجام دیئے جا رہے ہوں۔ یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ رشوت ستانی‘ نااہلی‘ خردبُرد‘ آمدن سے زائد اثاثہ جات‘ اختیارات کے عوض ذاتی مفادات کا حصول‘ عام آدمی (ہم عوام) کا استحصال اُور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات سرعام رونما ہو رہے ہیں اُور اِن کی تعداد اِس قدر زیادہ ہے کہ جرائم کا شمار و بیان بھی ممکن نہیں! ایسی صورت میں وفاقی یا صوبائی فیصلہ ساز اپنے اپنے ’سٹیزن پورٹلز‘ جیسے باسہولت وسیلوں پر ’کلی انحصار‘ کرنے کی بجائے اگر خفیہ اداروں کے ذریعے کاروائیاں کریں تو 2 سال بعد امور مملکت (طرزحکمرانی) اُس نہج پر رواں دواں ہو سکتی ہے جہاں کوئی شکایت کرنے والا نہ ملے اُور پھر شکایت کرنے والے سے اُس کی شناخت بھی نہ پوچھی جائے۔ 

فیصلہ سازوں کو اِس پہلو پر بھی سوچنا چاہئے کہ سٹیزن پورٹل کے ذریعے جب شکایت کرنے والے کے کوائف خفیہ نہیں رکھے جاتے تو بڑی مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے بارے میں مطلع کون کرے گا جن سے عوامی و قومی مفادات کو منظم انداز میں نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ افسر شاہی (سرکاری اہلکار بیوروکریسی) ایک دوسرے کے مفادات کی محافظ ہے اُور اِس آپسی اتحاد کے باعث کسی بھی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنے‘ عوامی شکایات کے داخلی و نگرانی کے وضع کردہ جملہ طریقے (قواعد و ضوابط) ناکام (بے سود) ثابت ہوئے ہیں بالکل اِسی طرح ’پاکستان سٹیزن پورٹل‘ کے ذریعے بھی وفاقی حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا سلسلہ جاری ہے اُور جن 94فیصد عوامی شکایات کے حل کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے اگر اُن کی آزاد ذرائع سے تصدیق کروائی جائے تو دودھ کا دودھ کا پانی کا پانی واضح ہو جائے گا کہ کس کس طرح جھوٹ بولا گیا ہے اُور کس جعل سازی سے خود ہی شکایات درج کروا کر اُنہیں حل کر کے مختلف محکموں نے اپنی کارکردگی کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا جبکہ وہ حقیقت میں وہ زمین کی پستیوں سے بھی پست ہیں! 

کہاوت ہے کہ ”جھوٹ کے سر اُور پاوں (منطقی جواز) نہیں ہوتے“ لیکن ’پاکستان سٹیزن پورٹل‘ پر جھوٹ پورے وجود (شباب) سے حاوی ہے اُور اِس ناکام تجربے کو کامیاب ثابت کرنے پر مزید مالی اُور وقت جیسے قیمتی وسائل و توانائیاں خرچ کرنے کی بجائے اگر خفیہ اداروں کو متحرک کیا جائے تو اُن سبھی چھوٹی بڑی مچھلیوں کو مزید مہلت دیئے (کم وقت اُور کم خرچ میں) پکڑا جا سکتا ہے‘ جنہوں نے پورے تالاب کو گندا کر رکھا ہے۔

....

Editorial Page - Daily Aaj Peshawar /Abbottabad - Dec 06, 2020 - Sunday

Clipping from Editorial Page - Daily Aaj Peshawar /Abbottabad - Dec 06, 2020 - Sunday


Monday, August 20, 2018

Aug 2018: NEGLECTED sector, the "Social Security" in Pakistan!

شبیرحسین امام
نیاپاکستان: ریاست کا فلاحی کردار!
پاکستان میں غربت کے کئی پہلو ہیں اور اِس ناتوانی کا جائزہ جس کسی پہلو سے بھی لیا جائے زیادہ بھیانک و پرسرار چہرہ (محرک) سامنے آتا ہے۔ معاشرے کو طبقات میں تقسیم کرکے غربت سے دوچار رکھنے میں والوں میں سیاسی فیصلہ سازوں کے شانہ بشانہ ذمہ دار سرکاری ملازمین (افسرشاہی) بھی ہے جنہوں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف تو اٹھایا لیکن اِس حلف کی پاسداری نہیں کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ تبدیلی اور اصلاحات کے ’انقلابی لائحہ عمل (ایجنڈے)‘ متعارف کروائے لیکن اِس سے قبل ’بیوروکریسی‘ کا قبلہ درست کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کو حاصل مالی و انتظامی اختیارات میں کمی نہ لائے۔ حکومت ملازمتیں دینے والی ایجنسی کا نام نہیں ہوتا بلکہ عوام کے ٹیکسوں اور بہبود کے لئے مختص مالی وسائل سے ملازمین اِس لئے رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ عوام کی خدمت کریں تو کیا عملاً ایسا ہی ہو رہا ہے؟ سرکاری اداروں سے بدعنوانی اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اِس بدعنوانی کے امکانات (صوابدیدی اختیارات) پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا‘ جب تک کارکردگی کو ملازمت سے مشروط نہیں کردیا جاتا جو کہ ’’ناگزیر ضروریات‘‘ ہیں۔

غربت کے بارے میں حکومت پاکستان کے مرتب کردہ اعدادوشمار کو مستند مان لیا جائے جنہیں ماہرین کم بتاتے ہوئے اختلاف رکھتے ہیں تب بھی صورتحال ناقابل یقین حد تک خراب ہے۔ حالیہ سالانہ اِقتصادی جائزہ ’اکنامک سروے آف پاکستان (2017-18ء)‘ کے مطابق ’’پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی (5 کروڑ لوگ) خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں یعنی پاکستان میں پانچ کروڑ لوگ ایسے ہیں جنہیں صرف ایک وقت کا کھانا بمشکل میسرآتا ہے۔ اِس کے علاؤ ہ38.8 فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں مختلف پہلوؤں سے غربت کا سامنا ہے یعنی اُن کا رہن سہن ایسا ہے کہ اُس میں تعلیم و صحت اور سہولیات سمیت کچھ بھی معیاری نہیں۔ یوں مجموعی طور پر پاکستان کی ’’88.8 فیصد‘‘ آبادی کسی نہ کسی صورت غربت سے دوچار ہے۔ غربت زدہ اور غریب متوسط طبقات کی اکثریت دیہی علاقوں میں آباد ہے‘ جہاں کی معیشت و معاشرت کا انحصار زراعت پر ہے اور ایک عرصے سے زراعت وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ترجیح نہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں‘ پانی کی قلت اور پیداواری اخراجات میں اضافے کی وجہ سے زراعت منافع بخش بھی نہیں رہی!

اقوام متحدہ کی جانب سے سال 2030ء تک رکن ممالک سے جس ایک چیز کا ترجیحی بنیادوں پر خاتمہ کرنے کی حکمت عملی (ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز اور بعدازاں ساسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز) وضع کئے گئے اُن میں سرفہرست غربت کا خاتمہ ہے‘ جس کے لئے تجویز کیا گیا ہے کہ حکومتیں ’سماجی و اقتصادی بہبود (سوشل پروٹیکشن)‘ کے ذریعے غربت زدہ خاندانوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں‘ اُن کی روزمرہ ضروریات پوری کی جائیں اور تعلیم و صحت تک سب کو یکساں رسائی دی جائے۔ اِس سلسلے میں ریاست کے فلاحی کردار پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے اور اگر اقوام متحدہ کے وضع کردہ (پائیدار ترقی کے) اہداف کا یہ بنیادی نکتہ سمجھ لیا جائے تو باقی ماندہ کام آسان ہو جاتا ہے کہ ’’ریاست (حکومت) کا کام فلاح اور سماجی تحفظ ہونا چاہئے۔‘‘ کیا پاکستان میں کوئی ایک بھی حکومت عام آدمی (ہم عوام) کے ’’سماجی تحفظ‘‘ کے لئے فکرمند دکھائی دی؟ اور کیا تبدیلی و ترقی کا کارواں کسی بھی طرح منزل تک پہنچ پائے گا جبکہ آبادی کا بڑا حصہ بہت پیچھے رہ گیا ہے اور اُس میں قدم اٹھانے کی بھی سکت نہ رہی ہو!؟

دنیا کے 149 ممالک میں سے صرف غریب ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ معاشروں میں بھی حکومتوں کی جانب سے کم آمدنی رکھنے والے طبقات کی ’’مالی مدد‘‘ کی جاتی ہے اور پاکستان میں ’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ بھی اُنہیں عالمی کوششوں کا تسلسل ہے جس کے ذریعے انتہائی غریب اور کم آمدن والے طبقات کا معیار زندگی بلند کرنے کی محدود کوشش کی گئی۔ 

تحریک انصاف کے مقرر کردہ انتخابی اہداف (وعدوں) میں سماجی تحفظ کی فراہمی اور فلاحی ریاست کا قیام شامل رہا اور چیئرمین عمران خان انتخابی جلسوں میں جس ’مدینۃ المنورہ‘ کا ذکر کرتے رہے ہیں جس کی مثالیں آج کے ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ہیں‘ جہاں ریاست کے پاس وسائل کی ہر پائی عوام کی بہبود پر خرچ ہوتی اُور حکمراں خود کو عوام کا خادم سمجھتے ہوئے ریاستی وسائل سے ’نمود و نمائش‘ اختیار نہ کرتے تھے۔ تحریک انصاف کے لئے ممکن ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وسعت دے جو کہ انتظامی طور پر کم خرچ حل ہوگا لیکن اگر ایک نیا پروگرام شروع کیا گیا تو اِس کے انتظامی معاملات پر اٹھنے والے اخراجات اضافی بوجھ ہوں گے۔ 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا 10 سالہ عرصہ کامیابیوں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہے۔ سیاسی جماعتوں (پیپلزپارٹی اور نواز لیگ) نے اِس پروگرام سے انتخابی فوائد حاصل کرنے کو زیادہ اہم سمجھا۔ اراکین اسمبلیوں کے ذریعے کارڈ تقسیم کئے گئے جن کی ایک بڑی تعداد آج بھی انتہائی غریبوں یا مستحقین کے علاؤہ اُن لوگوں کے پاس ہے جہاں یہ نہیں ہونے چاہئے تھے۔ کیا تحریک انصاف ’بینظیرانکم سپورٹ پروگرام‘ کی مالی امداد میں اضافے سے پہلے ’کلب ممبروں‘ کا حساب کتاب کرے گا؟ 

یہی سبب رہا کہ قریب 2 کروڑ 70 لاکھ افراد کی مالی معاونت کرنے کے باوجود بھی مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو رہے اور نہ ہی خود حکومت کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 5 کروڑ ’’انتہائی غریب‘‘ اَفراد ہی اِس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اب تک کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ مالی معاونت و استعانت سے غربت کی دلدل میں پھنسے خاندانوں کو وقتی فائدہ تو ہوتا ہے لیکن وہ آمدنی کے لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا مالی وسائل بنیادی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک وسیع کرنا ہوں گے تاکہ غربت سے سمجھوتہ نہیں بلکہ اُسے شکست دی جا سکے۔ اِس سلسلے میں کئی ممالک کے تجربات اور اُن سے حاصل کردہ نتائج موجود ہیں کہ جہاں حکومتوں نے غریب اور کم آمدنی رکھنے والے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کی تعلیم میں سرمایہ کاری کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نہ صرف غربت سے رہا ہوگئے بلکہ اُنہوں نے معاشرے کے دیگر غریبوں کے لئے بھی آسانیاں پیدا کیں۔ دراصل تعلیم میں سرمایہ کاری ہی ایک روشن مستقبل اور نئے پاکستان کی نوید بن سکتی ہے۔
۔
https://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-08-20

https://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-08-20

Thursday, July 12, 2018

July 2018: Reham Khan by Rehman Khan : BOOK REVIEW!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
کتاب: ریحام خان!
پاکستان تحریک اِنصاف کے سربراہ عمران خان کی دوسری شادی ’برطانوی شہریت‘ رکھنے والی خاتون ’ریحام خان‘ سے اُس ملاقات کا نتیجہ تھی‘ جو ایک پارٹی کے سربراہ اور صحافی کے درمیان (پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے لئے‘ طے شدہ مقام اور مقررہ وقت پر) ہوئی لیکن رسمی سوال و جواب کی نشست برخاست ہونے کے بعد دونوں نے ’غیررسمی طور پر‘ ایک دوسرے کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ انہیں تو ایک دوسرے کا ’شریک حیات‘ ہونا چاہئے۔ ریحام 2012ء میں پاکستان آئیں اور عمران خان سے اُن کی ملاقاتوں کا سلسلہ (نتیجہ) 2015ء میں شادی کی صورت سامنے آیا لیکن یہ شادی 2015ء ہی میں انجام (طلاق) کو پہنچی‘ جو شادی ہی کی طرح غیرمتوقع بات تھی۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان کی جانب سے ریحام کو ’8 کروڑ روپے‘ ادا کئے گئے۔ یہ رقم اقساط میں ادا کی گئی اور عمران خان کے قریبی دوست ذوالفقار العمروف زلفی بخاری جو کہ برطانیہ میں کاروبار رکھتے ہیں اُنہوں نے ادائیگیاں کیں‘ البتہ ریحام نے ایسی کسی بھی ’لین دین (ادائیگی یا وصولی)‘ سے انکار کیا اور پہلی مرتبہ ’8 نومبر 2015ء‘ کے روز باضابطہ طور پر اعتراف کیا کہ اُن کے اور عمران خان کے درمیان طلاق واقع ہو چکی ہے۔‘ عمران خان کی جانب سے یہ اعلان اِس سے پہلے ہی کردیا گیا تھا۔

ریحام خان کی طلاق کے محرکات کیا تھے؟ باشعور اور تعلیم یافتہ جوڑے کی پسند سے ہونے والی ایک ایسی شادی جس کا جشن پورے پاکستان اور دنیا بھر میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے منایا‘ وہ چند ماہ میں کیسے ختم ہوئی؟ عمران خان کی نجی معمولات کیا ہیں؟ یہ سب اور بہت کچھ مزید جاننے کا تجسس رکھنے والوں میں ایک بڑی تعداد تحریک انصاف کے کارکنوں کی بھی ہے‘ جنہیں عمران خان کی سماجی و سیاسی خدمات اور عزائم کا تو علم ہے‘ وہ یقین بھی رکھتے ہیں لیکن عمران خان کے ’پراسرار معمولات زندگی‘ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی اکثریت کو عمران خان کی نجی زندگی اور ریحام خان کی کتاب سے قطعی کوئی دلچسپی نہیں بلکہ وہ اِس کتاب کو ’دل آزاری اُور سیاست میں الزام تراشیوں کے نئے باب کا اضافہ‘ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان کے سبھی سیاست دان اپنی نجی زندگی کو سیاسی زندگی سے الگ کئے ہوئے ہیں اور اُن کے بارے میں عام آدمی (ہم عوام) کی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سیاست دانوں کو اُن کی سیاسی زندگی‘ بیانات اور مخالف سیاسی جماعتوں پر تنقید کرنے کے حوالے سے دیکھا اور سمجھا (پرکھا) جاتا ہے لیکن بطور انسان اُن کی شخصیت کے کتنے ظاہری اور کتنے پوشیدہ پہلو ایسے بھی ہوں گے‘ کہ جنہیں سامنے رکھتے ہوئے اُن کی مستقل مزاجی اور بصیرت و کردار کو سمجھا جا سکے۔ 

مغربی معاشروں میں اگر جمہوریت مضبوط دکھائی دیتی ہے تو اُس کی بنیاد ’سچ‘ پر ہے جبکہ ہمارے ہاں کی جمہوریت میں سیاسی رہنما بالخصوص سیاسی جماعتوں کے قائدین ’سچ‘ صرف اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں بولنا اُور سننا پسند کرتے ہیں۔ اِس تناظر (پس منظر) کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’محترمہ ریحام خان‘ کی تحریر کردہ ’آپ بیتی (کتاب)‘ خاص اہمیت کی حامل ہے‘ جس میں لکھی ہوئی اگر ہر بات سچ نہیں ہو سکتی تو ہر بات کا انکار بھی ممکن نہیں۔ یہ الگ بحث ہے کہ ریحام خان کو یہ سب باتیں کتابی صورت میں مرتب کرنی چاہیئں تھیں یا نہیں۔ بیوی کی حیثیت یا اُس سے قبل ایک دوست کی حیثیت سے اُن کا جتنا بھی وقت عمران خان کی قربت میں گزرا‘ کیا اُس کے بارے میں لکھتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں پردے اور اخلاقیات کے پیمانے‘ شرعی رشتے کی باریکیوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے تھا بالخصوص جہاں کہیں عمران خان کے علاؤہ دیگر افراد کے نام آئیں۔ مثال کے طور پر کتاب میں پلاسٹک کی 2 تھیلیوں کی ایک تصویر شائع کی گئی ہے‘ جن میں بھرے سفید رنگ کے پوڈر (powder) کو دیکھا جاسکتا ہے اور اِس کے نیچے تفصیل (کیپشن) میں لکھا ہے کہ یہ ’کوکین (نشہ آور مادہ)‘ عمران خان کی جیب میں موجود پائی گئی تھی لیکن یہ بات کس طرح ثابت کی جائے گی کہ یہ دونوں تھیلیاں عمران خان کے زیراستعمال تھیں؟ کیا ریحام خان کی بنی گالہ میں موجودگی بطور جاسوس تھی جو وہ عمران خان کی جیبوں کی تلاشی لینے اور اُن میں موجود اشیاء کے تصویری شواہد (ثبوت) جمع کرتی رہیں؟ کیا مزید ایسی تصاویر کا ذخیرہ بھی اُن کے پاس ہے جن کے مطالعے (مشاہدے) سے عمران خان کی نہایت ہی خلوت میں بسر ہونے والی زندگی کے بارے حقائق معلوم ہوسکیں؟ کیا ریحام خان اپنی ’آپ بیتی‘ کی دوسری اشاعت (نئے ایڈیشن) میں مزید تصاویر اور تفصیلات کو وضاحت سے بیان کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟

عمران خان کی نجی زندگی سے متعلق ریحام خان کی کتاب 365 صفحات پر مشتمل ہے‘ جو 30 ابواب پر مشتمل ہے۔ صفحہ 311 سے 365 تک کا حصہ تصاویر پر مشتمل ہے جو تحریری ابواب میں اضافہ ہے۔ یہ کتاب الیکٹرانک طور پر ایمازون (Amazon) نامی ادارے کے ذریعے فروخت کے لئے پیش کی گئی ہے جس کی قیمت قریب 10 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی بارہ یا تیرہ سو روپے بنتی ہے۔ برطانیہ میں اِسے کتابی شکل (Hard Copy) میں بھی جاری کیا گیا ہے لیکن اِس کتاب نے پاکستانی سیاست میں جس قدر ہنگامہ برپا کرنا تھا‘ وہ نہیں کر سکی یعنی کتاب کی اشاعت سے جو مقصد حاصل ہونا تھا وہ نہیں ہوسکا کیونکہ 12جولائی کو ’آن لائن (منظرعام)‘ پر آنے والی اِس کتاب پر ’نواز شریف اور مریم نواز‘ کی وطن واپسی اور گرفتاری جیسے موضوعات حاوی ہیں۔ 

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریحام خان (مصنفہ) کی ’’ریحام خان‘‘ نامی کتاب تحریر کرنے اور اِسے عام انتخابات سے قبل شائع کرنے میں مسلم لیگ (نواز) کی دلچسپی و سرپرستی ’شامل حال‘ رہی ہے‘ جو اِن الزامات حتی کہ اپنی طلاق (عمران خان سے علیحدگی) کے عوض 8 کروڑ روپے کی وصولی سے بھی انکار کر چکی ہیں۔ 

کتاب کی سب سے خاص بات عمران خان کے بارے میں ریحام خان کے تجزیئے ہیں بلکہ پے در پے اور غیرمحتاط تجزئیات پریشان کن حد تک یک طرفہ ہیں۔ مثال کے طور پر ’’عمران خان ایک ایسا شخص ہے جس سے ہر کوئی (اپنے مقاصد کے لئے) استعمال کر چکا ہے۔ (صفحہ 294)‘‘ اِسی صفحے پر مزید لکھا ہے کہ ’’عمران خان وزیراعظم بننے کی حوص میں اندھا ہو چکا ہے۔‘‘ اور یہ کہنا کہ ’’عمران خان کی عادت ہے کہ وہ سنجیدہ نوعیت کی باتیں بھی اپنے ذاتی ٹیلی فون نمبر کے ذریعے کرتا ہے اور بار بار میرے سمجھانے کے باوجود بھی اپنی اِس عادت سے باز نہیں آتا۔‘‘ تو اِس کا جواب ’تحریک انصاف‘ کی جانب سے یہی آ سکتا ہے کہ عمران خان کوئی جاسوس نہیں اور نہ ہی اپنی نجی اور سیاسی زندگی میں کچھ بھی پوشیدہ رکھنے کی اُسے (دروغ گوئی کی) ضرورت ہے۔ یقینی بات ہے کہ عمران خان کا ماضی جو بھی تھا‘ اُس کا حال اُور مستقبل مختلف دکھائی دے رہے ہیں لیکن اِس پوری کہانی (کتاب و انتساب) کے بعد ریحام خان کہاں کھڑی ہے؟ ریحام خان نے عمران خان پر اُنگلیاں اٹھانے کی کوشش (شوق) میں اپنے آپ کو ہی مشکوک بنا دیا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, January 16, 2018

Jan 2018: Shattered Dreams!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
خواب ریزہ ریزہ!
پاکستان تحریک انصاف نے ’مئی دوہزارتیرہ‘ کے عام انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا کہ برسراقتدار آنے کے بعد اُن کی اولین ترجیح ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی کا قیام ہوگا لیکن بات اِس وعدے کی بارہا زبانی تائید سے زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔ اٹھائیس نومبر دوہزار سترہ کے روز وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا تھا کہ ’’ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی بنائی جائے!‘‘ تحریک انصاف کا وعدہ درحقیقت سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون سے جامعات بنانے کا تھا جو بہترین تصور تھا لیکن اِسے معیاری اور قابل عمل بنانے کے لئے خاطرخواہ دلچسپی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز اُن کی جامعات میں ہونے والی تحقیق ہے. ہمارے ہاں تحقیق سب سے زیادہ نظرانداز شعبہ ہے۔ تصور کیجئے پاکستان کی اکیس کروڑ آبادی کے لئے 85 جامعات اور اِن میں سے بھی 8 سرکاری اور 18 نجی شعبے کی یونیورسٹیوں میں صرف اور صرف تعلیمی اسناد بانٹنے کا کام ہو رہا ہے۔ تحقیق کون کرے گا؟ اور تحقیق کس کی سرپرستی میں ہونی چاہئے؟

تحریک انصاف سے قبل عوامی نیشنل پارٹی نے خیبرپختونخوا پر حکومت کی اور اپنے دور میں 10 جامعات قائم کرکے ریکارڈ بنا ڈالا‘ جن میں اسلامیہ کالج کی اَپ گریڈیشن‘ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ‘ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان‘ یونیورسٹی آف صوابی‘ شہید بینظیر یونیورسٹی اپر دیر‘ یونیورسٹی آف ہری پور‘ خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک‘ ویمن یونیورسٹی صوابی اور عبدالولی خان یونیورسٹی کے لوئردیر اور چترال کیمپ آفسیز شامل تھے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ تعلیم چونکہ صوبوں کی ذمہ داری ٹھہری لیکن خیبرپختونخوا کے حصے میں اعلیٰ تعلیم کا ایک ایسا وزیر آیا‘ جس نے کبھی خود یونیورسٹی سے استفادہ نہیں کیا تھا! نئی یونیورسٹیز کے قیام کے لئے ’پیٹ کاٹ کر‘ مالی وسائل حسب وعدہ فراہم نہ کرنے میں کوتاہی کی وجہ بھی یہی تھی کہ غیرمتعلقہ سیاسی کردار کو اعلیٰ تعلیم کا قلمدان سونپا گیا‘ جس کے لئے منظورنظر افراد میں ملازمتیں بانٹنے سے زیادہ اِن جامعات (اداروں) کی کوئی اہمیت نہیں تھی! موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم اداروں کے لئے غیرمعمولی مالی گرانٹ سال دوہزارسولہ سترہ کے دوران دیکھنے میں آئی جو 90 کروڑ روپے تھے جس میں سے 10 کروڑ ’ویمن یونیورسٹی مردان‘ کو دیئے گئے۔ المیہ رہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اعلیٰ تعلیم کے لئے مختص کئے جانے والے بیشتر فنڈز فراہم نہیں کئے جا سکے!
خیبرپختونخوا حکومت کی ’اَعلیٰ تعلیم‘ سے متعلق حکمت عملی پر مبنی اِس سرسری روداد (یاد دہانی) کا مقصد یہ ہے کہ پندرہ جنوری کے روز جب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ’کرک (خوشحال خان خٹک) یونیورسٹی‘ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے تو اُن کے سامنے یہ حقائق پیش نہیں کئے گئے کہ ’جناب آپ کی قیادت میں صوبائی حکومت ہر ضلع میں جامعات کے قیام سے متعلق اپنے انتخابی وعدے پورے نہیں کر پائی ہے۔‘ بالخصوص جب عمران خان یہ فرما رہے تھے کہ ’’سال دوہزار اٹھارہ تحریک انصاف کے (وفاقی) حکومت میں آنے کا سال ہے‘‘ تو اِس بلندبانگ دعوے کو سننے والے اُن کی توجہ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کی جانب مبذول کروا سکتے تھے۔ یوں ایک نادر موقع گنوا دیا گیا۔ 

عمران خان شاید ہی آئندہ پانچ دس سال میں کرک کا دورہ کر پائیں گے جن کی موجودگی سے ’وسیع البنیاد فائدہ‘ نہیں اٹھایا جاسکا!

تحریک انصاف صرف جامعات کے قیام ہی سے متعلق غفلت کی مرتکب نہیں بلکہ کئی دیگر امور بھی نظرانداز رہے جن کا تعلق خیبرپختونخوا کے حقوق سے ہے اور اِن حقوق کے تحفظ میں خاطرخواہ دلچسپی اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں اگر آبپاشی کا بندوبست کیا جائے تو اِس سے زرعی انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ زیتون کی کاشت ایک الگ موضوع ہے لیکن پیاسے دشت و بیانوں میں حسرت و یاس اور غربت و افلاس گردوغبار کے ساتھ اُڑتی دکھائی دیتی ہے! دوہزار بارہ میں قائم ہونے والی ’خوشحال خان خٹک (کرک) یونیورسٹی‘ میں تقریب کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے نہایت ہی پرسکون اَنداز میں چند منٹ کھڑے کھڑے بات کرتے ہوئے عمران خان نے اِس بات پر تعجب کا اِظہار کیا کہ ’’علاقے میں یورینیم (Uranium) آلودگی سے سرطان (کینسر) جیسا خطرناک مرض پھیل رہا ہے۔‘‘ انہوں نے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے قیام سے متعلق مطالبے سے زیادہ ضروری اِس بات کو قرار دیا کہ ’یورینیم کا پھیلاؤ روکا جائے‘ جس کے لئے چیف سیکرٹری سے رپورٹ طلب کی یقین دہانی بھی کرائی کہ ’’آخر مقامی لوگ ’یورینیم سے آلودہ پانی‘ پینے پر مجبور کیوں ہیں؟‘‘ عمران خان صاف گو ہیں اُنہوں نے کھلے دل سے تسلیم کیا کہ اِس قسم کی شکایت اُنہیں کبھی بھی سننے میں نہیں آئی۔ 

اَصولی طور پر اُنہیں اپنے ہمراہ صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان سے پوچھنا چاہئے تھا کہ اِس قدر اہم مسئلے سے اُنہیں آگاہ کیوں نہیں کیا گیا اور ساڑھے چار سال کے عرصے میں وہ جس ایک بات لاعلم رہے وہ اِس قدر اہم تھی کہ ذرائع ابلاغ میں بارہا رپورٹ بھی ہو چکی ہے تو اُس کے حل سے متعلق صوبائی حکومت کی کوششوں سے اُنہیں (پارٹی چیئرمین) کو بے خبر رکھنے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ ’ایف ایس سی‘ میں سائنس کا مضمون پڑھنے والا ایک عام طالب علم بھی جانتا ہے کہ تابکاری کے لحاظ سے یورینیم (اَٹامک نمبر 92) نہایت ہی کمزور کیمیائی عنصر ہے تاہم اِس کی عمر ایک لاکھ ساٹھ ہزار سال سے ساڑھے چار ہزار ارب سال تک ہو سکتی ہے۔ یہ قدرتی طور پر پایا جاتا ہے اور اگر انسانی جسم میں کسی بھی ذریعے سے داخل ہوجائے تو کینسر کا ہونا یقینی امر ہے۔ خیبرپختونخوا کا ضلع کرک تیل و گیس اور نمک کے علاؤہ یورینیم جیسے قیمتی کیمیائی مادے کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے لیکن اس سے صوبے کو جس قدر فائدہ اُٹھانا چاہئے تھا وہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ 

وفاقی حکومت کی اجازت سے کرک میں قدرتی وسائل حاصل کرنے کے عمل میں خاطرخواہ احتیاط نہ برتنے سے اہل علاقہ جوہری تابکار مادے سے متاثر ہو رہے ہیں تو یہ ذمہ داری کسی اُور کی نہیں بلکہ صوبائی حکومت ہی کی بنتی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے حقوق کا دفاع کرے! وفاقی حکومت نے مالی سال 2016-17ء میں ضلع کرک کی یورینیم کانوں کے لئے 1 ارب 75 کروڑ روپے مختص کئے تھے لیکن یہ رقم خرچ نہیں ہوئی‘ تو اِس بارے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ ایوانوں میں سوال (اعتراض) اب بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔
۔

Thursday, September 7, 2017

Sept 2017: Promise of change & the unchanged ground reality of Khyber Pukhtunkhwa!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
’عشق‘ کے اِمتحاں!
اِعتراف حقیقت‘ اِعتراف جرم نہیں ہوتا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے برطانوی خبررساں اِدارے ’بی بی سی‘ سے بات چیت کرتے ہوئے اِس بات پر ’شکر‘ کا اِظہار کیا ہے کہ ’’سال دوہزار تیرہ کے عام اِنتخابات میں اُنہیں وفاق میں حکومت سازی کاموقع ملتا تو خیبرپختونخوا کی طرح ہی صورتحال پیش آتی‘ جس میں تبدیلی سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہوئیں۔‘‘ چار سال صوبے میں سیاہ و سفید کے مالک اُور فیصلہ سازی کے منصب پر فائز رہنے والے عمران خان ہم جماعتوں کو اِس ’یقین کی بنیاد‘ پر معاف کر رہے ہیں کیونکہ وہ (مبینہ طورپر) ’ناتجربہ کار‘ تھے اُور انہیں سیاسی حکومت چلانے کا تجربہ نہیں تھا لیکن درحقیقت وہ اپنی غلطیوں (اندھے اعتماد) کو نہیں کوس رہے‘ جو وزیراعلیٰ کے چناؤ سے لیکر ’اَین اَے ون‘ کی نشست خالی کرنے تک اُن کے متکبرانہ طرزعمل کی طویل فہرست کا جز ہے۔ 

کیا جواب ہوگا کہ صرف خیبرپختونخوا ہی نہیں بلکہ مرکز اُور دیگر صوبوں میں ’تحریک اِنصاف‘ کی تنظیم سازی پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی اور اِس غلطی کو کس کے حصے میں شمار کیا جائے؟ تحریک اِنصاف کی قیادت ’بطور فیشن‘ سماجی رابطہ کاری کے وسائل بالخصوص ’ٹوئٹر (twitter)‘ اِستعمال کرتے ہیں لیکن اپنے پیغامات جاری کرنے کے علاؤہ وہ کسی ایسی ’آن لائن بحث‘ کا حصہ نہیں بنتے‘ جس کا تعلق بالخصوص تحریک انصاف کے جماعتی فیصلوں اُور نظم و ضبط سے ہو۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف نے سب سے زیادہ نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ (راغب) کیا لیکن یہی وہ جماعت بھی ہے‘ جس نے اَندرون ملک سب سے زیادہ ’نوجوانوں پر مشتمل اَثاثے‘ کی خاطرخواہ قدرومنزلت نہیں کی۔ ذرائع اَبلاغ بالخصوص ’قومی و علاقائی اُردو اَخبارات‘ چیخ چیخ کر ’خیبرپختونخوا حکومتی کارکردگی‘ کی جانب متوجہ کرتے رہے لیکن ماضی کی طرح ’محکمۂ اِطلاعات‘ کے ذریعے صوبائی حکومت کی تعریف و توصیف کرنے والوں کو نواز کر ’بنی گالہ‘ کے سامنے ایک ایسا نقشہ پیش کیا گیا‘ جس میں خیبرپختونخوا میں اِدارہ جاتی اصلاحات اور ترقی کے عمل کو خوشنمائی سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا۔ سیاسی نوزائیدہ تحریک انصاف کی سیاسی پختگی کا سفر چٹکی بجانے سے نہیں ہوگا۔ ’دیرآئید درست آئید‘ دانش ہے کہ جنون‘ تبدیلی (اصلاح) اُور انقلاب (نظریاتی عشق) کے اِمتحاں اُور بھی ہیں!

کارکردگی ملاحظہ کیجئے کہ مالی سال 2016-17ء کے دوران خیبرپختونخوا نے محصولات (ٹیکس) جمع کرنے کا مقررہ ہدف حاصل نہیں کیا تو اِس سے بھی زیادہ تعجب خیز امر یہ ہے کہ گذشتہ مالی سال میں آمدن کا مقررہ ہدف کا قریب نصف (پچاس فیصد 24.5 ارب روپے) ہی جمع کئے جا سکے ہیں۔ صوبائی حکومت کے مقرر‘ عائد ٹیکسوں سے حاصل ہونے آمدنی 25فیصد جبکہ دیگر ذرائع سے متوقع آمدنی 64فیصد کم رہی۔ آمدنی میں کمی کا میزانیہ دلچسپ و عجیب اعدادوشمار کا مجموعہ ہے۔ مثال کے طور پر خیبرپختونخوا کے محکمۂ جنگلات کو ایک سال میں ’’6 ارب روپے‘‘ ٹیکس جمع کرنے کا ہدف دیا گیا تھا لیکن اپنے ہدف سے 5.5 ارب روپے پیچھے رہا اور یوں محصولات جمع کرانے میں محکمۂ جنگلات کی کارکردگی 92فیصد کم رہی! تصور کیجئے کہ سرکاری محکموں کے ملازمین کی تنخواہیں اُور مراعات کم نہیں ہوئیں لیکن اُن کے دم کرم سے صوبائی خزانے کو جو آمدنی باآسانی حاصل کی جا سکتی تھی اُس میں محکمہ ناکام رہا! صوبائی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ (finance.gov.pk) پر موجود اعدادوشمار‘ ذرائع سے ملنے والی دستاویزات اور اِس مؤقف سے اختلاف کی گنجائش نہیں کہ اگر جملہ صوبائی محکموں کی ’غیرسنجیدگی‘ یونہی برقرار رہتی ہے‘ تو اِس سے خیبرپختونخوا میں تعمیروترقی کا عمل متاثر ہوگا بلکہ صحت و تعلیم کے جاری اُور مجوزہ منصوبوں کے لئے بھی مالی وسائل فراہم نہیں کئے جا سکیں گے!

عمران خان اپنی ناکامی اُور کامیابی بیک وقت تسلیم کر رہے تھے کہ ’سیاسی ناتجربہ کاری‘ کی وجہ سے تحریک اِنصاف ’خیبرپختونخوا‘ میں خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی لیکن عمران خان کی شہرت‘ ساکھ اُور سیاسی حیثیت سے فائدہ اُٹھانے والے اگر اُن کے ’شریک سفر‘ رہتے ہیں تو وہ مستقبل میں بھی ملنے والی چھوٹی بڑی سیاسی ذمہ داری اَدا کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔ غلطیاں سرزد ہونا غلطی نہیں لیکن غلطیوں سے سبق نہ سیکھنا‘ اِن سے اظہار بیزاری اُور غلطیوں کو کسی نہ کسی جواز کے تحت قابل قبول سمجھنا ’گناہ‘ ہے کیونکہ اِسی سے مصلحت (بوجھ) جنم لیتا ہے‘ جس سے بعدازاں چھٹکارہ ممکن نہیں رہتا۔ تحریک انصاف کے جملہ فیصلہ سازوں کو برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر (Tony Blair) کی یاداشتوں (memoir) پر مبنی کتاب ’اے جرنی (A Journey)‘ کا مطالعہ یا کم سے کم ورق گردانی ضرور کرنی چاہئے جس کا نچوڑ اِس تصور کو دیا جا سکتا ہے کہ ’کسی سیاسی جماعت کے برسراقتدار رہنے کا عرصہ (پاور پولیٹیکس) اُور ’حکمرانی برائے اِصلاحات‘ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔‘‘ کھوٹے سکے اگر بانئ پاکستان قائداَعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے کام نہیں آ سکے‘ تو خوش فہم عمران خان کو حقیقت پسندی سے کام لینا چاہئے۔

حرف آخر: خیبرپختونخوا محکمۂ تعلیم کے ملازمین مسرور ہیں کہ اُن کے بچوں کو ’تعلیمی وظائف‘ دینے کے لئے ’اَیجوکیشن اِیمپلائیز فاؤنڈیشن‘ نے درخواستیں طلب کی ہیں۔ صوبائی حکومت اِس بات کو ’لازماً‘ ممکن بنائے کہ صرف اُنہی بچوں کو وظائف دیئے جائیں گے‘ جو ’سرکاری درسگاہوں (سکولوں‘ کالجوں اور جامعات)‘ میں زیرتعلیم ہیں۔ محکمۂ تعلیم کے مراعات یافتہ فیصلہ ساز جس طرح ’صرف اُور صرف‘ اپنی ’بہبود‘ کے بارے میں سوچتے ہیں تو اِن نیک خواہشات (توجہات) کا رُخ ’سرکاری درسگاہوں‘ کی سرپرستی اُور کشش میں اضافہ کرنے کی جانب بھی ہونا چاہئے۔
Aitraf e Haqeeqat

Friday, August 4, 2017

Aug 2017: Gulalai episode and role of media in politics framework!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صحافت: سیاسی روبہ زوال اَقدار!
’تحریک اِنصاف پاکستان‘ کی مرکزی قیادت اِس بات کا دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے کہ اُنہوں نے ملک کو ایسے نئے ’سیاسی کلچر‘ سے روشناس کرایا‘ جس میں غریب و متوسط طبقات کی طرح ایک معقول تعداد میں سرمایہ دار اور اُن روشن خیال طبقات سے تعلق رکھنے والے گھرانے بھی ’نئے پاکستان‘ کی انقلابی جدوجہد کا حصہ بنے‘ جو قبل اَزیں جلسے جلوسوں اُور بالخصوص عام انتخابات جیسی ہنگامہ آرائیوں سے الگ رہنے میں عافیت سمجھتے تھے۔ تحریک انصاف ہی ہے جس نے عوامی اجتماعات میں ملی نغموں‘ پارٹی کی تعریف میں تحریر و نغمائے گئے ترانوں اور سیاسی اجتماعات کے اختتام پر قومی ترانے کا ’استعمال‘ کیا۔ اِسی طرح سیاسی پیغامات کی ترسیل و تشہیر کے لئے سماجی رابطہ کاری کے وسائل بالخصوص ’ٹوئٹر (twitter)‘ کے اِستعمال کا سہرا بھی تحریک انصاف ہی کے سر ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کے سربراہ (وزیراعلیٰ) تک ’عوام و خواص کی رسائی‘ کا ذریعہ ’شکایات سیل ویب سائٹ‘ کا مطالعہ اور خاطرخواہ نتائج حاصل نہ ہونے کے محرکات اگرچہ الگ موضوع ہے تاہم کوشش ضرور کی گئی اور طرزحکمرانی کو حتی الوسع شفاف رکھنے کے لئے بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی پر انحصار کیا گیا۔

خیبرپختونخوا حکومت کی موبائل فون اینڈرائرڈ ایپ (Phone App) بطور خاص قابل ذکر ہے جس کے ذریعے نہ صرف سالانہ ترقیاتی پروگرام پر عمل درآمد کی رفتار اور حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے بلکہ اِس بارے صارفین اپنی آرأ و تجاویز سے بھی صوبائی حکمرانوں کو مطلع کر سکتے ہیں لیکن چونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بنیادی تصور ’ون وے‘ کیمونیکشن نہیں ہوتا‘ اِس لئے خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ تحریک انصاف نے طرز حکمرانی کی اصلاح کے لئے ’اِی گورننس‘ (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے وسائل پر ایک خاص حد تک بھروسہ کیا لیکن بہت سے کاموں کی تکمیل ہونا ابھی باقی ہے جیسا کہ پورے خیبرپختونخوا کے ’لینڈ ریکارڈ‘ کی کمپیوٹرائزیشن۔ ترجیحات کی درجہ بندی درست اقدام ہوتا اگر اِسے پایا تکمیل تک بھی پہنچایا جاتا۔ بہرحال بالائی ہزارہ ڈویژن کے علاقوں پر مشتمل سیاحتی علاقے ’گلیات‘ میں جنگلات و اراضی کا سروے بذریعہ ’گوگل میپ‘ کرکے نئی حد بندیاں جاری کرنا غیرمعمولی عملی کوشش ہے‘ جس پر اعتراض کی ’گنجائش‘ باقی نہیں رہی لیکن ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ سے ’بے حدوحساب (غیرمحتاط)‘ استفادے میں تحریک انصاف کسی بھی دوسری جماعت سے پیچھے نہیں!

تحریک ویب سائٹ اُور سوشل میڈیا سے لیکر ’اینڈرائڈ ایپ‘ تک پھیلی ہوئی ہے لیکن قواعد و ضوابط کا نام و نشان نہیں ملتا۔ جس کی جو مرضی ہے لکھ رہا ہے اور پارٹی کے دفاع میں ترجمانی سے کم درجے پر خود کو فائز نہیں سمجھتا! تحریک کا ’مرکزی میڈیا سیل‘ بھی موجود ہے لیکن ہر رہنما اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاونٹ سے بیانات داغنے کے لئے ملی آزادی سے خوب محظوظ ہو رہا ہے۔ سیاست سے اخلاقیات کے رخصت ہونے کی تاریخ تو بہت پرانی ہے لیکن جس طرح عمومی و خصوصی آپسی رابطوں سے لیکر ’سوشل میڈیا‘ تک پھیلے ’مواصلاتی الیکٹرانک آلات‘ کا استعمال رازداری کے لئے ہوا ہے‘ اِس کا منفی اَثرات سیاسی اخلاقیات پر مرتب ہوئے ہیں کیونکہ حفظ مراتب کا لحاظ (پاس) نہیں رہا۔

تحریک انصاف سے چار سال تک وابستہ اور خواتین کی مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی بننے کا اعزاز رکھنے والی ’محترمہ عائشہ گلالئی‘ کی مثال موجود ہے‘ جنہیں اور جن کے اہل خانہ کو نہ صرف تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین کی حددرجہ تنقید کا سامنا ہے بلکہ اُنہیں ذرائع ابلاغ بھی اپنی ’ریٹنگ‘ اور کسی سیاسی مؤقف کی حمایت میں دل کھول کر گھسیٹ رہے ہیں! عائشہ گلالئی تو رول ماڈل ہونی چاہئے کہ ہمارے جیسے ملک میں کسی بھی خاتون کے لئے اس قسم کی بات کرنا کمزور حوصلہ رکھنے والوں کے بس کی بات نہیں ہوتی! گلالئی کا یہ حق ہے کہ وہ جب چاہے اور جب مناسب سمجھے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو بیان کرے‘ لہٰذا یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ انہوں نے پارٹی قیادت کے ہراساں کرنے پر مبنی رویئے کو کم سے کم چار سال تک برداشت کیوں کیا! دیکھنا تو یہ چاہئے کہ مبینہ طور پر زیادتی ہوئی ہے یا نہیں اور اِس کا فیصلہ کرنے کے قومی ادارے موجود ہیں۔ کردار کشی اور تنقید کا استعمال ’زیادتی پر زیادتی‘ کرنے کے مترادف اقدام ہے۔ درحقیقت الزامات عائد کرنے والی گلالئی پر ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیان کے حق میں ناقابل تردید ثبوت فراہم کریں۔ گلالئی پر الزام ہے کہ اُنہوں نے تحریک انصاف کے مخالفین سے پیسے لیکر چیئرمین تحریک انصاف پر ’جنسی ہراساں‘ کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں اگر اِس بیان کو درست مان بھی لیا جائے کہ انہوں نے سب کچھ پیسوں کے لئے کیا ہے پھر بھی موبائل فون پیغامات کے ذریعے ’ہراساں‘ ہونے پر مبنی اُن کا اقدام غلط نہیں ہوسکتا۔

گلالئی پاکستان کی صحافت کے لئے بھی ایک ’ٹیسٹ کیس‘ ہے۔ پانامہ کیس کی طرح نجی ٹیلی ویژن چینلز بھی ’گلالئی‘ کے معاملے پر واضح تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی اختلافات پر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے تقسیم ہونے کی سمجھ تو آتی ہے لیکن کسی خاتون کے خود کو ہراساں کئے جانے کے بیان کو بھی ’سیاسی تناظر اور حالات‘ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنے والوں سے دانستہ غلطی سرزد ہو رہی ہے۔ تین اگست کی صبح سینیئر صحافی و تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی سے ٹیلی فونک بات چیت میں درخواست کی گئی کہ وہ پاکستان میں ’نجی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا‘ کے کردار اُور غیرجانبداری کے اَصولوں پر مبنی صحافتی اَخلاقیات کو اُجاگر کریں‘ کیونکہ پاکستان میں جس طرح صحافت فعال بصورت ’روبہ زوال‘ ہے اِس کی واپسی ’اَزخود‘ نہیں ہوگی۔ ہر ’نیوز چینل‘ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ’اِدارتی پالیسی‘ رکھے‘ جس کا اِظہار (عکس) اُس کی ’نیوز کوریج‘ میں دکھائی دے لیکن ’بحث و مباحثوں (ٹاک شوز)‘ میں سوالات و جوالات پہلے ہی سے سوچ کر کسی خاص سیاسی جماعت کے مؤقف کو آگے بڑھانا کہاں کی صحافت‘ عدل و اِعتدال ہے۔ یہ اَمر بھی لائق توجہ ہے کہ پاکستان کے سینئر صحافیوں میں صرف ’رحیم اللہ یوسفزئی‘ ہی کے کندھوں پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی لیکن وہ ’مشعل بردار‘ کا کردار اَدا کرتے ہوئے صحافت کو کھوئی ہوئی ساکھ (عزت و وقار) ضرور واپس دلا سکتے ہیں۔

آج اگر دیگر شعبوں کے مقابلے صحافتی پیشے سے وابستہ افراد کے بارے عمومی و اکثریتی رائے قابل ذکر نہیں تو اِس کے لئے صرف اور صرف (اکلوتا) ’ذمہ دار‘ میڈیا ہاؤسیز کی ’کاروباری سوچ‘ کو قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اِس ’کارخیر‘ میں صحافیوں کی ایک تعداد بھی شامل رہی ہے‘ جنہوں نے اپنے رہن سہن اور مالی حیثیت کو راتوں رات بڑھانے کے لئے علم و محنت (تجربے) کی بجائے ’شارٹ کٹ‘ اِختیار کیا۔ اِدارے کے لئے اشتہارات اکٹھا کرنے سے ’ائرٹائم‘ کی فروخت تک کو ممکن بنانے والوں نے صحافت سے زیادہ اداروں کے مفادات کو پیش نظر رکھا اور پھر توازن برقرار نہ رکھ پائے تو نتیجہ سب کے سامنے ہے لیکن اگر اِن روئیوں اُور کاروباری طریقۂ کار کی اِس مرحلے پر اِصلاح نہ کی گئی تو موجودہ اُور آنے والی نسل (روائتی عمومی اَندھی تقلید میں) اِسی ’کاروباری طرز عمل‘ کو صحافت سمجھ کر اِختیار کرتی چلی جائے گی! پاکستان میں ’صحافت برائے صحافت تحریک‘ کے لئے جہاں نظریں متعلقہ تعلیمی اِداروں کی طرف اُٹھتی ہیں‘ وہیں ہر سینئر کو اَپنا ’رہنما کردار‘ اَدا کرنے کے لئے ’دامے درہمے سخنے‘ کوشش کرنا ہوگی کیونکہ ’’برائی کے خلاف دل میں کراہت محسوس کرنے کا شمار بھی ’ایمان کے کم ترین درجے‘ میں کیا جاتا ہے۔

‘‘ صحافت کی واپسی اُور صحافت کی طرف واپسی‘ کے لئے ماضی کی طرح ’بے لوث کوششیں‘ درکار ہیں‘ جس طرح آمرانہ اَدوار میں ’آزادئ اظہار‘ کے لئے قربانیاں دے کر ’خودمختار و آزاد پریس کلبس اُور یونین آف جرنلسٹس‘ حاصل کئے گئے‘ والعصر متقاضی ہے کہ صحافت کو غیرسیاسی (depoliticize) کیا جائے اُور مزید بحث اُور تنازعہ میں اُلجھنے کی بجائے عالمی طور پر مسلمہ (رائج) صحافتی اَخلاقیات و اَقدار کے اَصولوں کو رائج یا کم سے کم انہیں ’لائق مطالعہ و عمل بنا کر‘ متعارف کیا جائے۔ صحافت کے مستقبل کے لئے فکرمند ’’صائب الرائے سینئرز‘‘ چونکہ میڈیا ہاؤسیز کے مالکان تک براہ راست رسائی اور تجربے کی بنیاد پر اپنی بات میں وزن رکھتے ہیں‘ اِس لئے صحافتی نشاۃ ثانیہ‘ اِس کی غیرجانبداری اُور فعالیت کی بحالی میں‘ اُن سے رہنما (کلیدی) کردار اَدا کرنے کی توقع (التجا) ہے۔


Monday, July 31, 2017

July 2017: Mission Accomplished

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
دِلی مُرادیں!
پانامہ کیس کا فیصلہ نہ تو ’اَنجام‘ ہے اور نہ ہی ’سرانجام‘ بلکہ نئے مقدمات و تحقیقات کا ’نکتۂ آغاز‘ اور ’پاکستان‘ کی ’تشکیل نو‘ کا ’نادر موقع‘ قرار دیا جا رہا ہے جس کے بارے عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ اِس سے آئین کی بالادستی زیادہ واضح ہوئی ہے لیکن اِس تاریخی فیصلے کے حقیقی ثمرات (نتائج) مارچ دوہزار اٹھارہ تک اُن ریفرنسیز (مقدمات) کے فیصلوں کی صورت سامنے آئیں گے‘ جنہیں عدالت عظمیٰ نے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو اِرسال کیا ہے۔ 

بدعنوانی کے خلاف جماعت اسلامی پاکستان کی جدوجہد کا آغاز مرحوم قاضی حسین احمد نے 31 سال قبل کیا جبکہ تحریک انصاف کی 21 سال سیاسی سرگرمیوں کا بنیادی نکتہ بھی یہی رہا کہ ’آزاد و شفاف عام انتخابات کے انعقاد اور بدعنوانیوں سے پاک طرزحکمرانی کے بناء پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔‘ پانامہ کیس فیصلے کو سیاسی فتح سمجھنے اور ’اِظہار تشکر‘ کرنے سے ایک قدم آگے‘ کیا تحریک انصاف اِس فیصلے کا استقبال اُور اِس سے ’بھرپور سیاسی فائدہ‘ اُٹھانے کی منصوبہ بندی رکھتی تھی؟ پانامہ کیس فیصلے کے بعد ’تحریک اِنصاف‘ کی سوچ آئندہ عام انتخابات کے لئے لائحہ عمل کیا ہے؟ 

سابق وزیراعظم کی نااہلی سے ’این اے ایک سو بیس (لاہور)‘ پر ہونے والے ’ضمنی انتخاب‘ کی تیاریاں کن مراحل سے گزر رہی ہیں! لیکن جب اِس بنیادی سوال کے ساتھ کہ ’کیا شمولیت اختیار کرنے والوں کا ماضی بھی دیکھا جاتا ہے‘ تو چیئرمین (سربراہ) ’پاکستان تحریک انصاف‘ نے ’ورچوئل اپوئٹمنٹ‘ میں سوال کا جواب سوال سے دیتے ہوئے کہا کہ ’’آئندہ عام انتخابات میں کم وبیش ایک ہزار تک نامزدگیاں (پارٹی ٹکٹ) تقسیم کئے جائیں گے۔ اچھی ساکھ اور بے داغ ماضی والے سیاسی افراد کہاں سے لائے جائیں بالخصوص کیا ایک ایسے ملک میں ’سوفیصد ایماندار‘ صاحبان کردار اور ہرلحاظ سے قابل بھروسہ رہنما کیسے میسر آ سکتے ہیں جبکہ قومی اداروں کو کمزور اور ذاتی و سیاسی ترجیحات توانا کر دی گئیں ہوں؟‘‘ تاہم عمران خان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ’قومی اداروں کو مضبوط‘ بنائیں گے تاکہ کسی بھی سیاسی جماعت کا اگر کوئی بھی رکن مالی و انتظامی بدعنوانی میں ملوث پایا جائے تو اُس کا فوراً محاسبہ ممکن ہو۔ تحریک انصاف کی ’سیاسی حکمت عملی‘ یہ ہے کہ سپرئم کورٹ کا دباؤ برقرار رکھا جائے۔ شریف خاندان کے جن ناموں کا ذکر پہلے ہی ’حدیبیہ پیپر ملز‘ کی ذیل میں ’پانامہ کیس فیصلے‘ کا حصہ ہے اُنہیں اور باقی ماندہ افراد کو ’’التوفیق‘‘ کے مقدمے میں آئینی طور پر نااہل قرار دیا جائے۔ اِس سلسلے میں شہباز شریف کے خلاف بدعنوانی کا ایک اُور ریفرنس (مقدمہ) جلد ہی دائر کر دیا جائے گا۔ عمران خان پراُمید ہیں کہ ’’اللہ نے موقع دیا تو وہ جو ’’ایک ناممکن کام‘‘ عملاً کرکے دکھائیں گے وہ یہ ہوگا کہ پاکستان میں بدعنوانی میں آخری حد تک کمی لائی جائے گی۔ قانون کے نفاذ اور احتساب سے متعلق اداروں کو مضبوط ہوں اُور وزارت خزانہ کو خودمختار کیا جائے تاکہ حسب آمدنی محصولات (انکم ٹیکس) کی وصولی مہنگائی میں کمی ممکن ہو۔‘‘ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست ’الزام تراشیوں‘ کا مجموعہ ہے۔ جس میں بناء ثبوت و صداقت الزامات عائد کئے جاتے ہیں لیکن ’پانامہ کیس فیصلے‘ کے بعد صورتحال یکسر مختلف نظر آتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں ’تحریک انصاف‘ نے ایک مرتبہ پھر ’قومی وطن پارٹی‘ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور عمران خان اِسے ’صوبائی قیادت کا فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’وہ ’مائیکرو منیجمنٹ‘ نہیں کرتے۔ قومی وطن پارٹی سے علیحدگی‘ دوبارہ شمولیت اور اب پھر سے علیحدگی کا فیصلہ صوبائی حکومت نے خود کیا کیونکہ مذکورہ قوم پرست جماعت نواز لیگ کا دفاع کر رہی تھی اور اگرچہ ’قومی وطن پارٹی‘ سے علیحدگی کے سبب خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کی اکثریت باقی نہیں رہی اور صوبائی حکومت چھن جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ آج پاکستان اُس مرحلے تک آ پہنچا ہے جہاں کم سے کم بدعنوانی کے لئے ’’فکروعمل اُور نیت‘‘ مصلحت پر مبنی نہیں ہونی چاہئیں۔‘‘ 

قومی وطن پارٹی کے لئے تحریک انصاف کا ’ردعمل‘ اُور تحریک انصاف کے لئے قومی وطن پارٹی کا ’طرزعمل‘ ’غیرمتوقع‘ نہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو بخوبی جانتے ہیں لیکن اِس مرحلے پر تحریک انصاف سے علیحدگی اور خود پر ’کرپشن کی چھاپ‘ لینا نہ تو ’سیاسی دانشمندی‘ ہے اور نہ ہی اِس بات کی ضمانت (کلین چٹ) ہو سکتی ہے کہ قومی وطن پارٹی اُس (اَندرون و بیرون ملک سرمایہ کاری‘ اَثاثوں اُور بینک بیلنس پر مبنی) ماضی سے چھٹکارہ حاصل کر لے گی‘ جس کی ملکیت کا اعتراف رکھنے کے باوجود بھی اُس کے خلاف مقدمات ’سیاسی مفاہمت اور جمہوریت‘ کے نام پر نمٹا دیئے گئے۔ 

دانستہ بھول ہو گی اگر کسی نے احتساب کے جاری عمل کو صرف اور صرف ’شریف خاندان‘ کی حد تک محدود سمجھا۔ بقول چیئرمین ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے‘‘ سمیت بیرونی سرمایہ کاری سے ’اقتصادی فوائد‘ صرف اُسی صورت حاصل کئے جا سکیں گے‘ جبکہ پاکستان سے مالی و انتظامی بدعنوانیوں کا خاتمہ ہو جائے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کی ’دلی خواہشات‘ گنتے گنتے یہی بات سمجھ آئی ہے کہ ’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے‘ ۔۔۔ اے کاش ہم اپنی زندگیوں میں دیکھ سکیں کہ ہر پاکستانی بشمول اعلیٰ و ادنیٰ سرکاری ملازمین سیاسی جماعتوں کے نہیں بلکہ صرف اور صرف ملک کے خادم‘ وفادار اور پاکستان کے مشکور و ممنون ہو کر فرض شناسی سے فرائض منصبی سرانجام دیں۔

Thursday, July 13, 2017

July 2017: Roundup: Political Situation of NA17

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
این اے سترہ: دانشمندانہ فیصلے!
منظرنامہ تبدیل ہے۔ قیام پاکستان کی جدوجہد سے لیکر ’مئی دوہزار تیرہ‘ کے عام انتخابات تک کے سفر میں ’اہل ہزارہ‘ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے نسل در نسل منتقل ہونے والی ’حب الوطنی‘ کا ناجائز فائدہ اُٹھانے والوں کے چہروں سے نقاب اُلٹا‘ اور ہزارہ سے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی کے ساتھ ’سیاسی تبدیلی‘ کے پہلے مرحلے کو خوش اسلوبی سے طے کیا۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے موقع پر ’این اے سترہ‘ ایبٹ آباد ون‘ کی نشست بطور خاص مرکز نگاہ تھی‘ جہاں سے تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی کے جملہ محرکات میں نامزد اُمیدوار ’ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون‘ کی بے لوث سماجی و طبی خدمات‘ ہزارہ کے حقوق کے لئے ایک دہائی پر محیط سیاسی جدوجہد اُور جدون خاندان کا ’اَثرورسوخ‘ بھی شامل تھا‘ جس کی بدولت مسلم لیگ (نواز) کے 69 ہزار 568 ووٹوں کے مقابلے ڈاکٹر اظہر نے 96 ہزار 185 ووٹ حاصل کرکے ایک ایسی تاریخی کامیابی حاصل کی‘ جس کی پورے ہزارہ ڈویژن میں مثال نہیں تھی اُور یہ فتح صرف انتخابی کامیابی کی حد تک ہی محدود نہ سمجھی جائے بلکہ اُس وقت مسلم لیگ (نواز) کی ہزارہ سیاست سے پاؤں اکھاڑ دیئے گئے تھے۔ اے کاش کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت چار سالہ دور میں ’این اے سترہ‘ پر حاصل انتخابی کامیابی کی اہمیت کا ادراک کر سکتی اور اِس نشست سے وابستہ صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پر اگر مقامی کارکنوں کو خاطرخواہ اہمیت دیتی‘ تنظیم سازی اور ترقیاتی حکمت عملی میں ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے تحریک کے ’سیاسی مستقبل‘ کو مدنظر رکھا جاتا تو آج صورتحال زیادہ موافق ہوتی! جون دوہزار چودہ میں ہوئے صوبائی اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ کے ضمنی انتخابی مرحلے میں اگر کسی مقامی اُمیدوار کو تحریک نامزد کرتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ مسلم لیگ (نواز) کو آٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل سرکل بکوٹ کے اِس اہم حلقے پھر سے پاؤں جمانے کا موقع مل سکتا!

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے مشتاق احمد غنی (پی کے چوالیس)‘ قلندر خان لودھی (پی کے چھیالیس)‘ سردار ادریس (پی کے اڑتالیس) اُور ڈاکٹر اظہر جدون (این اے سترہ) نے نہایت ہی رازداری سے ایسی حکمت عملی اختیار کی‘ جس کی وجہ سے ’تحریک انصاف‘ کی مخالفت کے آگے بند باندھنے میں کامیابی حاصل ہوئی اور اِسی ’’حکمت عملی کا ثمر‘‘ تھا کہ مئی دوہزار پندرہ میں ہوئے یہاں سے ’بلدیاتی انتخابات‘ کے نتائج تحریک انصاف کے حق میں رہے لیکن واضح برتری کے باوجود اگر تحریک انصاف تاحال اپنی ضلعی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو اِس کے درپردہ سازشوں میں ’بدنیتی‘ سیاسی مخالفت (غیرجمہوری روئیوں)‘ کے سوأ کوئی دوسرا محرک کارفرما نہیں۔ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ’ایبٹ آباد‘ کو بھی اِس ’’جرم‘‘ کے لئے سزا دی گئی کہ اِس نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات اور بعدازاں مئی دوہزار پندرہ کے بلدیاتی انتخابات میں ’تحریک انصاف‘ کو ووٹ کیوں دیا!

تحریک انصاف کے خلاف ضلع ایبٹ آباد میں سازشوں کی کمی نہیں اور اِس بات کا کماحقہ ادراک مرکزی و صوبائی قیادت کو کرنا ہوگا کہ اگر اُنہوں نے آئندہ عام انتخابات میں ایبٹ آباد کے کسی ایک بھی حلقے سے غیرمقامی اُمیدوار نامزد کیا تو انتخابی معرکے میں شکست ملے گی۔ عیدالفطر کے فوراً بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے منسوب یہ بیان تحریک انصاف کے کارکنوں میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کہ ’’وہ بذات خود ’این اے سترہ‘ کے لئے اُمیدوار ہیں!‘‘ ماضی میں ایسے ہی یک طرفہ اور غلط فیصلوں کی وجہ سے نہ صرف ہزارہ بلکہ دیگر اضلاع میں تحریک انصاف کو انتخابی شکست ہوئی جیسا کہ ’این اے ون‘ اور ’پی کے پینتالیس‘ کی مثالوں (حاصل نتائج) سے عیاں ہے!

تحریک انصاف کی مخالف سیاسی قوتیں پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور بالخصوص جوں جوں ’پانامہ کیس‘ اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ رہا ہے‘ تحریک مخالف ’اِنتخابی اتحاد‘ بن رہے ہیں! سیاسی بصیرت‘ دانشمندی اور موجودہ نازک گھڑی میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور خوب تول کر بولنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت آئندہ عام انتخابات سے متعلق قبل ازوقت بیانات نہ دے کیونکہ بیانات سے مخالفین کو منصوبہ بندی اور پیش بندی کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ غیرضروری بیانات داغنے سے مقامی کارکنوں اور قیادت پر بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے کیونکہ تحریک کے قائد سے منسوب بیان کا سیاق و سباق مقامی قیادت کو معلوم نہیں ہوتا اور بیانات کا دفاع یا وضاحت کرتے ہوئے غلطی کا اندیشہ رہتا ہے۔ دوئم انتخابی حکمت عملی پر مشاورت کئے بناء کوئی بھی ایسا فیصلہ صادر نہ کیا جائے‘ جس سے بعدازاں رجوع کرنا پڑے۔ سوئم کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے بڑا اثاثہ اُس کے کارکن ہوتے ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں تحریک انصاف کی تنظیم سازی مکمل کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہئے۔ خواتین نوجوانوں اُور رضاکاروں کی منظم و فعال تنظیمیں ہی آئندہ عام انتخابات میں کارآمد و کارگر ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر تحریک انصاف اب انتخابی تیاریاں شروع نہیں کرتی تو یہ کب کرے گی؟ چوتھی ضرورت یہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد کی سطح پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور نمائندہ اداروں (پریس کلبس اور یونین) کے درمیان دھڑے بندیاں ختم کرنے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کردار ادا کرے‘ کیونکہ اِس دھڑے بندیوں کا بھرپور فائدہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین اُٹھا رہے ہیں اور بالخصوص مقامی اخبارات کو ’منفی پراپگنڈے‘ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 

خیبرپختونخوا حکومت کے پاس مالی وسائل بھی ہیں اور ایسے آئینی اختیارات بھی جن کے ذریعے ’پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا‘ کی پیشہ ورانہ اِستعداد میں اضافہ اور وقتی مفادات پر مبنی سوچ کی اصلاح ممکن ہے۔ پریس کلبوں اور یونین سے غیرمتعلقہ افراد کا اخراج‘ صحافت کی اہمیت اور شعور اُجاگر کرنے سے باآسانی ممکن ہے۔ افراد کی بجائے اگر اداروں کو مضبوط کیا جائے تو اس سے نہ صرف تحریک انصاف کو وقتی فائدہ ہوگا بلکہ جمہوریت کے لئے بھی یہی نیک شگون ہے کہ ’’جرائم‘ سیاست اور صحافت‘‘ کے درمیان گٹھ جوڑ ختم کیا جائے۔ غیرجانبدار اُور غیرسیاسی میڈیا کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ سبھی کے مفاد میں ہے۔ سوشل میڈیا پر اِنحصار کرنے والی ’تحریک اِنصاف‘ دیگر ہم عصروں سے پہل کرتے ہوئے جماعتی سرگرمیوں پر مبنی اخبار اور ٹیلی ویژن چینل بھی متعارف کرا سکتی ہے جس سے غیرمصدقہ بیانات اور اِن کی آڑ میں سازشیں کرنے والوں کا مقابلہ اور توڑ کیا جاسکتا ہے۔ وقت ہے کہ انتخابات کی بجائے سیاست میں سرمایہ کاری کی جائے۔ 

ایبٹ آباد کے مقامی سیاسی حالات‘ خاندانوں کے اثرورسوخ اور تحریک انصاف کے موجودہ منتخب نمائندوں (مشتاق غنی‘ قلندر لودھی‘ سردار ادریس اُور ڈاکٹر اظہر) کی دامے درہمے سخنے کوششوں کو معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے پاس ’غلطی کی گنجائش‘ نہیں رہی اور اگر ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی ’جذباتی اُور مزید غلط فیصلے‘ کئے گئے تو تحریک انصاف کم سے کم ایبٹ آباد کی سطح پر آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کا ’نادر موقع‘ ہمیشہ کے گنوا دے گی۔
Reasons why Imran Khan should not context election from NA-17 Abbottabad I in upcoming Geenral Elections

Tuesday, May 2, 2017

May2017: The 10 billion offer!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
دس اَرب ۔۔۔ زیادہ بڑا سوال!
پاکستان تحریک انصاف نہ صرف ملک کی واحد ’حزب اختلاف‘ ہونے کا کردار ادا کر رہی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تحریک جیسا دلیرانہ کردار پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی ایک بھی سیاسی جماعت یا سیاسی جماعت کے سربراہ نے ادا نہیں کیا جیسا کہ عمران خان ادا کر رہے ہیں جو چاہتے ہیں کہ مالی و انتظامی شعبوں ہی میں نہیں بلکہ طرزحکمرانی پر مسلط ہونے والے مفاد پرستوں کا کھیل ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔ عام انتخابات میں دھونس دھاندلی اور سرمایہ کاری کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کی بھاری قیمت خود تحریک انصاف کو بھی ادا کرنا پڑے گی لیکن وہ ملک کے مستقبل کے لئے ایسا کرنے کو تیار (پرعزم) دکھائی دے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پانامہ کیس پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض ’دس ارب روپے‘ کی ابتدائی پیشکش ٹھکرانے اور ڈان لیکس کے اصل مجرموں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے جو کچھ بھی کہا جاتا ہے عوام کی اکثریت اُس کی صداقت پر یقین رکھتی ہے! جیسا کہ ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ عوامی سطح پر اپنے ذریعے کا نام بتانا کچھ مسائل کو جنم دے سکتا ہے مگر پھر بھی لوگوں میں اس حوالے سے تجسس ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کو پاناما پیپرز سکینڈل کی پیروی نہ کرنے کے لئے وزیرِ اعظم نواز شریف کی جانب سے دس ارب روپے کی پیشکش لانے والا شخص آخر کون ہے؟ 

ملکی تاریخ کی سب سے بڑی نہ سہی لیکن سب سے ’’پیچیدہ پیشکش‘‘ ضرور ہے۔ جس احتساب کا نعرہ عمران خان لگاتے ہیں اگر وہ شکنجہ خود ان کے دروازے پر آ کھڑا ہو تو وہ بہت مشکل صورتحال میں پڑ جائیں گے‘ اسی لئے ان کے خلاف تمام الزامات ایک طرف مگر کبھی بھی ان پر کرپشن یا رشوت کا الزام نہیں لگا ہے۔ درحقیقت ہمیں عمران خان کو کریڈٹ دینا چاہئے کہ سابق کھلاڑی نے عوامی عطیات سے ایک بہت نامور ہسپتال قائم کیا ہے مگر اس سے بھی زیادہ الجھن اس بات کی ہے کہ آخر کون بے وقوف ہوگا جو ایک اپوزیشن رہنما کو اس کے سیاسی کریئر کے عروج پر ایسی پیشکش دے گا۔ اس کے علاؤہ اس پوری کہانی میں سے کافی ساری تفصیلات غائب ہیں‘ جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ نے شاید ایک بار پھر غلط بازی کھیلی ہے۔ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ بھلے ہی عمران خان الفاظ اور ناموں کے بارے میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا سیکھ چکے ہیں مگر وہ اعداد و شمار کو اب بھی آسانی سے بڑھا چڑھا کر پیش کر دیتے ہیں۔ ان کی پارٹی اور خود ان کی اپنی شہرت کو بدنامِ زمانہ پینتیس پنکچرز کی کہانی بار بار دہرائے جانے سے نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق سال دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں کم از کم پینتیس سیٹوں پر دھاندلی کی وجہ سے ہی نوازلیگ کامیاب ہوئی تھی۔ لب لباب یہ ہے کہ عمران خان کا مذاق اڑانا آسان لیکن اُن کی طرح دلیرانہ اور بے لوث و امتیاز قومی سیاست کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

تحریک انصاف کے دم کرم سے دوسرا معاملہ جس پر حزب اختلاف کا ڈٹ کر مؤقف سامنے آیا ہے وہ ڈان لیکس کا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت پاناما کیس فیصلے کے بعد کافی دباؤ میں ہے مگر عمران خان کا یہ خطرناک شاٹ کسی اور کے بجائے خود انہیں ہی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ جس چیز کو سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کے ایک دور کا خاتمہ ہونا چاہئے تھا‘ وہ خاتمے کے بجائے ایک تازہ اور غیر ضروری بحران میں بدل گئی ہے۔ سیاست کی دھندلی دنیا میں اداروں کے درمیان تعلقات کے بارے میں حقائق جاننا ویسے تو بہت مشکل ہے لیکن پھر بھی آگے بڑھنے کا راستہ تقریباً تلاش کر لیا گیا تھا۔ 

کم وبیش آٹھ ماہ بعد ایک انکوائری کمیٹی‘ جس میں فوج اور سویلین دونوں ہی کے نمائندے شامل تھے‘ نے متفقہ رپورٹ اور سفارشات تیار کیں جنہیں وزیرِ اعظم نواز شریف کو پیش کیا گیا۔ حکومت نے عوامی سطح پر وعدہ کیا تھا کہ وہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات قبول بھی کرے گی اور نافذ بھی کرے گی۔ معلوم ہونے لگا تھا کہ معاملہ اب اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے مگر پریشان کن طور پر حکومت نے کمیٹی کی سفارشات کے اعلان کو غیرمناسب انداز میں طے کرنے کی کوشش کی۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ فوج نے اس معاملے پر حکومت کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزیرِ اعظم نواز شریف اور نئے آرمی چیف جنرل باجوہ پانچ ماہ قبل قیادت سنبھالنے سے اب تک اس قومی سطح کے مسئلے میں مرکزی کردار کے طور پر تھے۔ یہاں سے آگے ٹھنڈے دماغ سے کام لینا چاہئے اور اس کے لئے دونوں فریقوں کو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ یقینی بنانا چاہئے کہ یہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔ حکومت کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کو عوام میں لانے سے اس پر چھائے شکوک اور بدگمانی کے بادل ہٹ سکتے ہیں۔ حکومت کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ایک دوسرے سے متصادم پیغامات مزید عدم استحکام یا اس سے بھی خطرناک صورتحال کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب بحران پیدا ہوا تو وزیرِ داخلہ نثار علی خان کی پریس کانفرنس نے صرف شش و پنج میں اضافہ کیا۔ ایک موقع پر تو یہ بھی محسوس ہوا کہ شاید وزیرِ داخلہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان کی وزارت انتظامی طور پر وزیرِ اعظم کے دفتر سے بالاتر ہے۔ 

تکنیکی باتیں جو کچھ بھی ہوں لیکن ضرورت تھی کہ معاملے کو سلجھایا جاتا! لمحۂ فکریہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سادہ لوحی یا جذبات یا باہمی اختلافات کی وجہ سے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتیں جمہوریت کے تسلسل ہی کو نقصان پہنچانے جا رہی ہیں؟ دس ارب کی پیشکش سے بھی زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پانامہ کیس پر سپرئم کورٹ کے فیصلے اور تیزی سے گزرتے ہوئے وقت میں نواز لیگ کی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں تو کہیں وفاقی حکومت کو اقتدار سے الگ کرنے کے لئے کوئی ایسا باعزت راستہ تو نہیں دیا جا رہا‘ جس میں اُس کے بعد کم سے کم حکومت ’تحریک انصاف‘ کے حصے میں نہ آئے؟

Saturday, March 11, 2017

Mar2017: Statements without care!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بے معنی توقعات!
تیسری کوئی صورت باقی نہیں رہی؟ قوم اُور سیاسی تجزیہ کاروں کی اکثریت سپرئم کورٹ سے ’نون‘ یا ’قانون‘ کا جنازہ نکلنے کی اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور تعلق محبت کا ہو یا اُنس کا مایوسی اُن ’توقعات‘ کے سبب ہوتی ہے‘ جس میں ہم دوسروں کے حالات (اوقات اُور حدود) کا خیال نہیں کرتے۔ ’’کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی۔۔۔یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا!‘‘ المیہ ہے کہ قیادت ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ قانون ساز ایوانوں کے اندر اور باہر ہلڑبازی‘ گرما گرمی‘ جذبات کا کھلم کھلا اظہار ’’بالخصوص غیرمحتاط بیانات‘‘ نے ماحول کو تو گرما دیا ہے لیکن یہ جمہوریت اُور جمہوری اَقدار کے سراسر منافی ہے۔

اگر قوم کی یاداشت کمزور نہ ہوتی تو سیاست دانوں کا کردار اور قوم کی توقعات یوں ’بے معنی‘ نہ ہوتیں!تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے تعارف میں آج بھی ’کپتان‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے‘ جس پر اُن کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ 

کینسر ہسپتال ہوں یا نمل یونیورسٹی‘ عمران خان صاحب کے اِرادوں کی پختگی کو اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں نے مالی عطیات سے تکمیل تک پہنچا کر عزت بخشی۔ بطور سیاستدان اُن کے کرخت لہجے اور رویئے یا پل پل بدلتے بیانات سے اختلاف رکھا جا سکتا ہے لیکن دنیائے کرکٹ اور طب و تعلیم کے میدان میں ان کا مقام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا لیکن کپتان کی منطق اِس حد تک نرالی ہے کہ جسے وہ خود ہی بہتر سمجھ اور سمجھا سکتے ہیں! انہوں نے ’پی ایس ایل سیزن ٹو‘ کے فائنل میں حصہ لینے والے مہمان کھلاڑیوں کو ’’پھٹیچر اور ریلو کٹا‘‘ کہا‘ تو سیاسی مخالف کو اُن کے بیان سے حقارت بھرے الفاظ کی بو آئی۔ تجزیہ کار اور عوام ’’ریلو کٹا‘‘ کا مفہوم اپنی اپنی دانست و مطالعے کی روشنی میں تلاش کرتے رہے جبکہ کپتان کی جماعت اس اصطلاح کے وہ معنی تلاش کرتے ہلکان ہوتی رہی جو عوامی و میڈیائی غصے کو ٹھنڈا کرسکیں۔ کہا جاتا ہے مسلسل صفائی اور تاویلیں دراصل غلطی کا اعتراف بن جاتی ہیں لیکن اعتراف کے تو کیا ہی کہنے جب وہ اپنے بیان پر ’’باجماعت‘‘ ڈٹ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ کپتان کی غیررسمی بات چیت کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر نشر کرنے والی خاتون رپورٹر نے صحافتی آداب کا خیال نہیں رکھا اور بعدازاں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم نے مذکورہ خاتون کی کردار کشی کرنے کی کوشش میں اُن پر توہین رسالت جیسا الزام تک تھوپ دیا! 

چند ایسے پیغامات بھی سوشل میڈیا پر زیرگردش ہیں کہ ’’بے غیرت میڈیا‘‘ نے کپتان کی خدمات بھلا کر صرف ان کے ایک لفظ ’پھٹیچر‘ پر ساری توجہ مرکوز کر رکھی ہے! لیکن کیا انسانیت کی خدمت میں فلاحی کینسر ہسپتال اور تعلیمی ادارہ تعمیر کروانے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوسروں کے بارے میں خیالات کا اظہار کرنے میں احتیاط سے کام نہ لیا جائے اور دوسروں کو حقیر یا ارزاں سمجھا جائے؟ 

کیا دنیائے کرکٹ میں اب کوئی ایسا بڑا کرکٹر پیدا نہیں ہو سکتا چاہے اس نے دو مرتبہ ورلڈ کپ (عالمی مقابلے) جیت رکھے ہوں؟ کیا انسانیت کی خدمت کسی بھی انسان کو حق دیتی ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں آباد انسانوں کو تحقیر سے دیکھا جائے؟ کیا سر ویوین رچرڈز اور دیگر سابق کرکٹرز کا پاکستان آنا معمولی بات ہے؟ جس کرکٹ میچ کو کپتان نے سیاسی جلسہ قرار دیا‘ وہاں ان دو اشخاص کے خلاف نعرے لگوائے گئے جنہوں نے پاکستان میں دہشت ختم کرنے کی ادنی سی کوشش تو کی۔ بجائے اس کے کہ ان دہشت گردوں کو یک زبان ہو کر جواب دیا جاتا جو ہمارے کھیل کے میدان ویران کرتے رہے اور ہم سے ہماری خوشیوں اور ثقافت کا ہر رنگ چھین لینا چاہتے ہیں۔ کپتان نے خود کو اس موقع پر غیرجانبدار رکھنے کی بجائے اِسے سیاسی اور تقسیمی لمحہ بنا ڈالا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قوم کی یاداشت کمزور ہے۔

Wednesday, November 2, 2016

Nov2016: Outcome of the PTI's Islamabad Dharna


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِحتجاج: تشکیل و تکمیل کے مراحل!


پاکستان تحریک اِنصاف کے اِحتجاجی دھرنے کو ’ناکام‘ بنانے کے لئے وفاقی اُور صوبہ پنجاب کی حکومتیں ہر ممکنہ طاقت کا ’غیرمحتاط و غیر ضروری‘ استعمال کر رہی ہیں‘ جو پاکستان کے حق میں مفید نہیں کیونکہ اِس سے نہ صرف خیبرپختونخوا کے رہنے والوں کی ایک بڑی اکثریت (بالخصوص تحریک انصاف کے حامیوں) میں پایا جانے والا ’احساس محرومی‘ بڑھا ہے بلکہ آبادی کے لحاظ سے بڑے ایک صوبے (پنجاب) کی ملکی وسائل پر اختیار (حاکمیت) سے پیدا ہونے والی صورتحال (خرابیوں) کو دیکھتے ہوئے یہ ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل ہونی چاہئے تاکہ انتظامی طور پر پاکستان کی صوبائی اکائیاں برابری کی بنیاد پر فیصلہ سازی اور جمہوری عمل میں شریک ہو سکیں۔

اکتیس اکتوبر کی سہ پہر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا صوابی پہنچتے ہیں‘ جہاں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے تحریک انصاف کے منتظر کارکنوں کے قافلے گرمجوش نعروں سے اُن کا استقبال کرتے ہیں۔ چند منٹ کی تقریر میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کارکنوں کو پرامن اور غیرمسلح رہنے کی بار بار تلقین کرتے ہیں۔ بدعنوانی سے پاک پاکستان کے لئے جدوجہد کرنے والوں کا قافلہ چلتا ہے۔ چھوٹی بڑی گاڑیوں میں سوار اُور پیدل چلنے والوں کا جوش و جذبہ دیدنی ہوتا ہے لیکن صوبہ خیبرپختونخوا اور صوبہ پنجاب کی سرحد ’ہارون آباد‘ کے مقام پر اسلام آباد جانے والوں کو راستے میں نصب رکاوٹیں ملتی ہیں‘ جنہیں بھاری مشینری کے ذریعے ہٹا دیا جاتا ہے۔ پنجاب پولیس اِس دوران آنسوگیس کے گولے برساتی ہے اور کارکن دستیاب پانی و نمک کے ذخیرے سے ایک دوسرے کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔

’صوابی (خیبرپختونخوا)‘ سے ’ہارون آباد (پنجاب)‘ تک کم وبیش ’بیس کلومیٹر‘ کا فاصلہ طے کرنے میں ’چار گھنٹے‘ اذیت و مشکلات بھرے ثابت ہوتے ہیں۔ قافلہ سالار وزیراعلیٰ کالے شیشوں والی ائرکنڈیشن گاڑی میں قیادت کرتے ہوئے برہان تک آ پہنچتے ہیں جو صوبہ پنجاب کی حدود ہے اور یہاں بھی اُن کا سامنا پنجاب پولیس کے چاک و چوبند دستوں سے ہوتا ہے۔ سفید دھواں اگلتے آنسو گیس شیل نہتے اُور پرامن احتجاجی مظاہرین کی ’صوبہ پنجاب آمد‘ پر استقبال کرتے ہیں اور تمام رات وقفے وقفے سے آنسو گیس گولے پھینکنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مہمان نوازی کا یہ انداز پاکستان کی سیاسی تاریخ نے کبھی نہیں دیکھا کہ جب کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کی قیادت کے باوجود بھی پولیس راستہ نہیں دیتی! تحریک انصاف کے قافلے میں موجود کارکن نماز مغرب و عشاء کے اوقات میں صفیں بنا لیتے ہیں لیکن آنسوگیس کی گولہ باری جاری رہتی ہے۔ یکم نومبر کا صبح نماز فجر کے بعد آنسوگیس کے گولے پھر سے ’یہاں وہاں‘ گرنے لگتے ہیں تو تحریک انصاف کے چیئرمین کی طرف سے پیغام ملتا ہے کہ کارکن واپس صوابی (خیبرپختونخوا) کی حدود میں چلے جائیں اور اگلے حکم کا انتظار کریں۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت لائحہ عمل بدل لیتی ہے۔ انسانی حقوق اور مستحکم جمہوریت کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیمیں پاکستان میں جاری اِس پولیس تشدد اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہیں کہ ’’نواز لیگ کی حکومت برداشت سے کام لے اور سیاسی کارکنوں کو غیض و غضب کا نشانہ نہ بنایا جائے۔‘‘ دوسری طرف وفاقی حکومت کی جانب سے یکم نومبر کی صبح وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق مذاکرات کی پیشکش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ حکومت یہی چاہتی ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں گرفتار کارکنوں کی رہائی کے بدلے اُس احتجاج کو ختم کیا جائے جو خیبرپختونخوا سے صوبہ پنجاب کے راستے اسلام آباد پہنچنا چاہتے ہیں! لیکن لب و لہجہ میں پائی جانے والی فرعونیت محسوس کی جا سکتی ہے۔ خواجہ سعد رفیق مذاکرات کی دعوت کے ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’تحریک انصاف‘ کے کارکن اگر مہینہ بھر بھی کسی مقررہ جگہ پر بیٹھ کر احتجاج کرنا چاہیں تو وفاقی حکومت کو اِس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن اُنہیں تحریک انصاف کے کارکنوں کے اسلام آباد داخلے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دکھائی نہیں دیتیں!

اکتیس اکتوبر سے یکم نومبر تک پشاور اُور اسلام آباد کے درمیان جو کچھ بھی رونما ہوا‘ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔ احتجاج سے تعلق نہ رکھنے والوں کو جس طرح مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سیاسی افراتفری کی وجہ سے جس طرح کئی عالمی کانفرنسیں ملتوی ہوئیں‘ اُس کا حساب کون دے گا؟ خیبرپختونخوا کی قیادت میںآنے والے کارکنوں کو جس انداز میں ’خوش آمدید‘ کہا گیا اور جس طرح طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا گیا‘ وہ بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے جس سے قبل ابواب میں تحریر ملتا ہے کہ جس کسی جمہوری یا جمہوری آمرانہ یا آمرانہ حکومت نے مخالفین کی آواز ’’طاقت‘‘ کے ذریعے دبانے کی کوشش کی اُسے منہ کی کھانی پڑی اور ہر ایک آنسو گیس کا گولہ‘ ہر ایک ربڑ کی گولی اور ہر ایک لاٹھی جو کسی نہتے‘ پرامن سیاسی کارکن کے سر یا کمر پر برسائی گئی اُس کی چوٹ بعدازاں ظلم کرنے والوں یا اُن کے ہمراں فیصلہ سازوں و مشیروں کو جھیلنا پڑی ہے۔ تحریک انصاف کے کارکن قصور وار ہیں کیونکہ وہ پاکستان کے وسائل لوٹنے والوں کے احتساب کا زبانی کلامی مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر آج ہی کے دن تحریک انصاف مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر وفاقی حکومت سے ’ڈیل (معاہدہ)‘ کر لیتی ہے اور شریک اقتدار ہو کر خود بھی مالی و انتظامی بدعنوانیوں کا حصّہ بن جاتی ہے تو راتوں رات ’سب ٹھیک‘ ہو جائے گا۔ وزارتیں‘ عہدے اُور مالی فوائد کے ساتھ آئندہ وفاقی حکومت میں زیادہ بڑی حصہ داری ملنے کی یقین دہانی تحریک انصاف کی منتظر ہے لیکن آج کا پاکستان سیاسی کارکنوں کی قربانیوں پر سودا بازی کرنے کا نہیں۔ 

ذرائع ابلاغ ہر بال کی طرح ہر ایک لفظ کی کھال اُتار رہے ہیں۔ الفاظ کے مفہوم اور اُن کی باریک بینی سے تشریح ہو رہی ہے‘ جس میں ’موقع پرستی‘ کی گنجائش نہیں رہی۔ 

پاکستان ایک ’’نئے پاکستان‘‘ کی جانب قدم قدم بڑھ رہا ہے۔ ہر رکاوٹ اُور ہر ایک پرتشدد اقدام ’سیاسی و جمہوری انقلاب‘ کی منزل کو مزید قریب کر رہا ہے کیونکہ یہ سب ایک ایسی شعوری تحریک کا حصہ ہے‘ جس نے 20برس سے زائد کی جدوجہد میں عوام کو ’ایک نئے پاکستان‘ کی تشکیل کی ضرورت سے آشنا اور پاکستان کی تکمیل کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے عملاً آمادہ کیا ہے۔ اب تبدیلی (انقلاب) آ کر رہے گا۔ حکمرانوں کی طرح یہ لمحے جنون کے امتحان کی گھڑیاں بھی ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, March 22, 2016

Mar2016: Corruption & Plantation Day

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شجر کاری مہم: منفی عوامل!
عمران خان پشاور تشریف لائے لیکن خبر یہ ہے کہ اُنہوں نے اکیس مارچ کے روز دوپہر دو بجکر بیس منٹ پر ’ریگی للمہ ٹاؤن شپ‘ کے مقام پر ’شجرکاری مہم‘ کا افتتاح کیا جس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’رواں موسم بہار میں دس لاکھ پودے لگائے جائیں گے جبکہ مجموعی طور پر درخت لگانے کے ہدف کو ایک ارب سے بڑھا دیا گیا ہے۔‘‘ اس موقع پر گرمجوش انداز میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’’پاکستان کی 70سالہ تاریخ سب سے زیادہ درخت خیبرپختونخوا میں لگائے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے ’سبز ربن مہم (Green Ribbon)‘ بھی متعارف کرائی جس میں ہر طالبعلم پر زور دیا گیا کہ وہ رواں برس کم سے کم ایک پودا ضرور لگائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی خواہش پر صوبائی حکومت ہر سال پہلے سے زیادہ درخت لگانے کی کوشش کرتی ہے تاکہ پانچ سال میں ’ایک ارب درخت‘ نامی شجرکاری مہم کو عملی جامہ پہنایا جاسکے جو نہ صرف خیبرپختونخوا کی معیشت و اقتصادیات پر طویل المعیاد مثبت اثرات مرتب کرے گی بلکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور بالائی علاقوں میں بارشوں کا اعتدال‘ زمینی کٹاؤ کے کم ہونے اور درجہ حرارت بڑھنے کا عمل روکنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے لیکن شجرکاری مہم کو دیمک کی طرح چاٹنے والے چند ایسے منفی عوامل بھی ہیں جن کی بارہا اِن سطور میں نشاندہی کی جاتی رہی ہے لیکن صوبائی کابینہ کی سطح پر اُن کے امکانی و ظاہری وجود کے بارے سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ حالیہ چند ہفتوں میں شجرکاری کے نام پر پودوں کی خریداری میں گھپلوں کے انکشاف نہ صرف صوبائی حکومت کے لئے بدنامی کا باعث بن رہا ہے بلکہ شجرکاری مہم جیسی اہم ضرورت کی رفتار بھی سست ہونے کا اندیشہ ہے! علاؤہ ازیں جنگلات میں اضافے کے لئے صوبائی حکومت کے عزم کو لگنے والا دھچکا الگ سے توجہ طلب ہے‘ جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہوگی!

توجہ رہے کہ خیبرپختونخوا میں شجرکاری مہم کے لئے مختلف اضلاع میں پودوں کی مہنگے داموں اُور من مانی قیمتوں پر خریداری کا معاملہ ’درختوں کے عالمی دن (اکیس مارچ)‘ کے روز منظرعام پر آیا ہے جبکہ بدعنوانی سے پاک طرزحکمرانی متعارف کرانے کا دعویٰ کرنے والوں میں پائی جانے والی مایوسی یقیناًاُن تمام سرکاری اہلکاروں کا کڑا احتساب ہونا چاہئے جنہوں نے ’شجرکاری مہم‘ کی آڑ میں بدعنوانی کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا! قابل ذکر ہے کہ ہرسال اکیس مارچ کے روز ’تین عالمی دنمنائے جاتے ہیں۔ 1: جنگلات کا عالمی دن۔ 2: شجرکاری کا عالمی دن۔ 3: لکڑی کا عالمی دن اُور تینوں ایام کا تعلق ایک ہی شے یعنی درخت سے ہے‘ جس کی اہمیت و ضرورت کو سمجھ لیا گیا ہے لیکن چند ایسے عناصر بھی ہیں جو ترقی کے عمل اور اِس کے مقاصد کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے ’شجرکاری مہم‘ سے ذاتی مفادات وابستہ کررکھے ہیں!

افسوسناک امر ہے کہ خیبرپختونخوا میں شجرکاری کے لئے کی گئی خریداری میں خردبرد سامنے آئی ہے‘ جس کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ضلع مردان میں چیر درخت کا ایک پودا چھ روپے جبکہ دیگر اضلاع میں ایک سو روپے سے زائد کے عوض خریدا گیا۔ اسی طرح آم کا پودا جو کہ پشاور کی نرسریوں میں بھی عام طور پر ایک سو روپے قیمت رکھتا ہے لیکن اِس پودے کی سرکاری کاغذوں میں دو سو تیس روپے قیمت ادا کی گئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ شجرکاری مہم کے اخراجات میں سرکاری اہلکاروں نے اپنی صوابدید پر تین ہزار روپے فی پودا خریداری بھی فرمائی ہے جبکہ شجرکاری مہم کی ایک افتتاحی تقریب ایسی بھی ہوئی جس کے لئے 1200 روپے کا پودا خریدا گیا! بے قاعدگیوں کی ایسی درجنوں مثالیں مزید تحقیقات کے لئے خفیہ ادارے کو سونپ دی گئی ہیں۔ اگر ماضی میں اِس طرح کی بے قاعدگیوں کی خاطرخواہ تحقیقات کی جاتیں اور بدعنوانی کے مرتکب افراد کو سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے معاف نہ کیا گیا ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ اِس قدر بڑے پیمانے پر مالی وسائل خردبرد ہوتے۔ محکمۂ جنگلات و زراعت سمیت جملہ سرکاری محکموں میں ’سزا و جزأ‘ کا تصور اور صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ انتظامی عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین سالانہ بنیادوں پر اپنے اثاثہ جات سے متعلق کوائف بمعہ بیان حلفی داخل دفتر کریں۔ عجب ہے کہ جملہ سرکاری وسائل بشمول گاڑیوں اور اُن کے ایندھن کی مد میں ہونے والی خردبرد چند ہزار درختوں کی خریداری میں ہوئی لاکھوں ہزار روپے کی خردبرد سے کہیں زیادہ اور مستقل بنیادوں پر ہو رہی ہے۔ اُمید کی جاسکتی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک ’شجرکاری مہم‘ کی بدنامی و ناکامی کا سبب بننے والے جملہ محرکات کی اصلاح فرماتے ہوئے سرکاری وسائل کی اندھا دھند لوٹ مار کا بھی نوٹس لیں گے اور فوری طور پر ابتدا اِس بات سے کر سکتے ہیں کہ دفتری اُوقات کے بعد سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ سخت ترین مالی و انتظامی نظم وضبط لاگو کئے بناء اصلاحاتی کوششیں معنوی و عملی لحاظ سے کافی ثابت نہیں ہوں گی۔
Corruption shadow the plantation drive in KP, Pakistan

Sunday, March 15, 2015

Mar2015: Live experiment

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مسلسل‘ براہ راست‘ راہ راست
پاکستان تحریک اِنصاف کے سربراہ عمران خان نے ’خیبرپختونخوا (ایف ایم) ریڈیو‘ کی نشریات سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے محکمۂ پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوششوں کے نتائج کو مثالی قرار دیتے ہوئے جس اطمینان کا اظہار کیا ہے‘ اُس میں بہتری کے امکانات و گنجائش کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن جس اصلاحات میں جس تیزرفتاری کا مظاہرہ کیا گیا ہے‘ اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ براہ راست ٹیلی فون کالز‘ موبائل فون ایس ایم ایس‘ فیس بک (facebook) اور ٹوئٹر (twitter) پیغامات کے ذریعے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایک مرحلے پر عمران خان نے اشارتاً ’محکمۂ اطلاعات خیبرپختونخوا‘ کو بھی زیادہ کلیدی و مؤثر کردار ادا کرنے کے لئے حکمت عملی مرتب کرنے کا مشورہ دیا تاکہ اُن تمام کارہائے نمایاں کی خاطرخواہ تشہیر کی جا سکے‘ جو تحریک انصاف حکومت نے مختصر عرصے میں سرانجام دیئے ہیں۔ چودہ مارچ کی سہ پہر تین بجے سے چار بجکر کر بیس منٹ تک ’خیبرپختونخوا ایف ایم (92.2) ریڈیو اسٹیشن کے پشاور سٹوڈیو سے براہ راست نشریات اُس شفاف طرز حکمرانی کا عملی اظہار تھا‘ جس کا وعدہ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل تحریک انصاف نے کیا تھا کہ وہ ’برسراقتدار آ کر صاف و شفاف طرز حکمرانی کو فروغ دے گی اُور حکمراں جماعت عوام کے سامنے جوابدہ ہوگی۔‘‘ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کا نشریاتی پروگرام میں براہ راست سوالات کے جواب دینا ایک ایسی روایت ہے‘ جس پر دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص وفاقی حکومت کو بھی عمل کرنا چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف شروع دن سے ’ٹیکنالوجی فرینڈلی‘ ہے اُور یہی وجہ ہے کہ سماجی رابطہ کاری کے وسائل کا بھرپور استعمال کرنے والی یہ ملک کی پہلی اور سرفہرست سیاسی جماعت ہے‘ جس کے کارکن و رہنما دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے انٹرنیٹ وسائل اور ہر موضوع پر اظہار خیال کرنے میں بے انتہاء سخاوت و فراخدلی سے کام لیتے ہیں۔ عام انتخابات سے قبل انٹرنیٹ ریڈیو و ٹیلی ویژن اسٹیشن بھی قائم کئے گئے تاہم اِنہیں بعدازاں ترقی دے کر روائتی اسلوب و پیرائے میں نہیں ڈھالا جا سکا‘ جس کی شدت سے ضرورت خود عمران خان نے بھی محسوس کی۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’’اِس قسم کے آپریشن صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی کئے جائیں گے۔‘‘ براہ راست رابطہ کرنے والوں میں مختلف محکموں کے برطرف ملازمین بھی شامل تھے‘ جنہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ملازمتوں کے لئے اہل افراد کی حق تلفی نہیں ہوگی جبکہ ماضی کی طرح سفارش‘ رشوت یا اقرباپروری سے بھرتیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان کے ہمراہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور وزیراطلاعات مشتاق غنی بھی موجود تھے تاہم اُنہوں نے سوال و جواب کے سلسلے میں حصہ نہیں لیا۔ مشتاق غنی سرکاری محکموں سے جڑی توقعات پوری کرنے اور چیئرمین کی یقین دہانی کو عملی طور پر ممکن بنانے کے لئے یقیناًخاطرخواہ اقدامات کریں گے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ’ایف ایم خیبرپختونخوا‘ کی نشریات ملک گیر سطح پر براہ راست جبکہ انہیں آن لائن ویڈیو سٹریمنگ کے ذریعے بھی نشر کیا گیا یہی وجہ تھی کہ امریکہ‘ کینیڈا‘ برطانیہ و دیگر یورپی و عرب ممالک کے علاؤہ اندرون ملک کراچی(سندھ) اُور کوئٹہ (بلوچستان) سے بھی سوالات آئے جو اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ عمران خان کا شمار پاکستان کے اُن چند سرکردہ سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کے سیاسی نظریات سے اتفاق کرنے والے پورے ملک اور دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ براہ راست ریڈیو نشریات کے ذریعے خود کو حامیوں اور مخالفین کے سامنے پیش کرنا اُس یقین کا عملی اظہار ہے جو جمہوریت میں ’اِحتساب‘ اُور ’جوابدہ‘ جیسی صفات سے متعلق ہیں۔

عمران خان نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ ہر ماہ ’ایف ایم ریڈیو‘ کی براہ راست نشریات میں حصہ لیں گے‘ جس کا آئندہ دورانیہ زیادہ ہونے کی توقع ہے کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں کالرز کے لئے نہ تو ایک گھنٹہ کافی ہے اور نہ ہی ایک ٹیلی فون کال ہی کافی قرار دی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں سوالات کی ریکارڈنگ کا الگ سے اہتمام ہونا چاہئے تاکہ کسی مقررہ تاریخ سے ہفتوں قبل سوالات ریکارڈ کئے جا سکیں اور عمومی نوعیت کے سوالات کو تحریری شکل میں مرتب کرکے نہ صرف تحریک انصاف کی ویب سائٹ بلکہ فیس بک و دیگر سماجی رابطہ کاری کے وسائل کے ذریعے مفصل انداز میں بمعہ دستاویزات نشر کر دیا جائے۔ اِس طرح سوالات کی درجہ بندی اور متعلقہ محکموں کے حساب سے اُن کی ترتیب بھی بنتی چلی جائے گی لیکن سوالات ریکارڈ کرنے کے لئے تحریک انصاف کا مرکزی سیکرٹریٹ ’ٹول فری لائن‘ اُور ’ریکارڈنگ‘ کا اہتمام خود کرے تو یہ عمل زیادہ شفاف (بابرکت) انداز میں مکمل ہو سکے گا۔

براہ راست نشریات کے دوران وقفہ بھی لیا گیا‘ جو سمجھ سے بالاتر تھا کیونکہ چند منٹ کے وقفے میں نہ تو کوئی پیغام نشر کیا گیا اور نہ ہی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق کوئی ایسا اِِشتہار بنایا گیا‘ جس کے ذریعے اُن اقدامات کی تشہیر کی جاتی جس میں قانون سازی سے لیکر سرکاری محکموں کی کارکردگی اور اصلاحات جیسے اَمور کا اِحاطہ کیا گیا ہوتا۔ یقیناًکراچی سے پشاور‘ قبائلی علاقوں اور بیرون ملک کروڑوں سامعین نے ’ایم ایف خیبرپختونخوا‘ کی نشریات سے استفادہ کیا‘ جنہیں بہت سے سیاسی و غیرسیاسی پیغام پہنچائے جا سکتے تھے۔ اگرچہ سینیٹ انتخابات سے لیکر صوبائی حکومت کے ترقیاتی بجٹ‘ صحت و تعلیم اور شہری سہولیات تک کم و بیش سبھی چیدہ چیدہ موضوعات سے متعلق سوالات زیربحث آئے لیکن خواتین اِس عمل سے کیوں الگ رہیں۔ افراد باہم معذوری کے مسائل اور اُن سے متعلق صوبائی حکومتی کی ترجیحات بھی واضح ہونی چاہیں تھیں اور یہ نکات اُسی صورت اُٹھ سکتے تھے جبکہ ایک شرکاء کے ایک پینل کے ذریعے پروگرام کو زیادہ جامع بنایا جاتا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے ذریعے متعارف کرائی گئی قانون سازی اور زیرغور قوانین سے متعلق عمومی سطح پر شعور اُجاگر کرنے کے لئے ابھی انتھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ سامعین کے ’فیڈبیک (دلچسپی)‘ کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد یقیناًوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا‘ اُور وزیراطلاعات نہ صرف ’ایم ایف خیبرپختونخوا‘ کے وسائل کا بھرپور استعمال کریں گے‘ بلکہ تحریک اِنصاف کے پلیٹ فارم سے ’ایف ایم ریڈیو اسٹیشن‘ کے قیام کو پہلے مرحلے کی ترجیح میں شامل کیا جانا چاہئے۔ ویب ٹیلی ویژن اور بلاگز (blogs) سے ایک قدم آگے سیاسی جماعت کے مؤقف‘ ترجیحات اور کارکردگی پر مبنی روزنامے کی اشاعت کا بھی یہی ’موزوں وقت‘ ہے تاکہ اصلاحات و ترقی کا جو عمل خیبرپختونخوا میں شروع کیا گیا ہے‘ اُس کی کلی و مناسب تشہیر ممکن بنائی جاسکے تاکہ ’’جنگل میں مور ناچا‘ کس نے دیکھا‘‘ جیسی صورتحال نہ ہو‘ اُور آئندہ عام انتخابات سے قبل تحریک انصاف اپنی کارکردگی کے حوالے سے اُس رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر چکی ہو‘ جو سردست یہ اِس منفی تاثر پر مبنی ہے کہ ۔۔۔ ’’تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت کی ترجیحات اُور قول و فعل ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘‘ ایک نئے پاکستان کی تشکیل اور جمہوری نظام کے استحکام کی منزل تک سفر میں بات چیت اُور بحث و مباحثوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔
Pakistan Tehreek e Insaf  (PTI) Chairman Imran Khan address live on FM92.2 (Khyber Pukhtunkhwa) Radio but such continuous efforts need to be more organize and as permanent feature