Showing posts with label Poverty. Show all posts
Showing posts with label Poverty. Show all posts

Sunday, May 10, 2020

Corona Files: Failures in combating Covid-19

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
غربت
مسائل بڑے اُور وسائل چھوٹے ہیں۔ اِس عمومی تصور کی حقیقت دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وسائل موجود ہیں لیکن اُن سے خاطرخواہ استفادہ نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اِس تصور کی عملی شکل بیان کرنے کے لئے پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی روداد پیش کی جا سکتی ہے‘ جن میں اندرون شہر کے 2 ایسے بھائی بھی شامل ہیں جنہیں پانچ مرلے کے گھر میں قرنطینہ کیا گیا اُور نتیجہ یہ رہا کہ مجموعی طور 17 افراد کے اِس کنبے میں 11 افراد بشمول خواتین اُور بچے کورونا سے متاثر ہو چکے ہے!

محکمہ صحت کی مصدقہ رپورٹ کے مطابق مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے والے مذکورہ خاندان کے گیارہ افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے اُور یہ بات صرف کسی ایک خاندان اُور صحافیوں ہی کی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں اکثر غریب گھرانوں کی ملتی جلتی روداد یہی ہے کہ وہ مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زیادہ افراد کم رقبے کے مکانات میں رہتے ہیں‘ جہاں ایک کمرہ اُور ایک بیت الخلا گھر کے کئی افراد کے زیراستعمال رہتا ہے۔ اِس صورتحال کی وجہ سے خاندان کے مرد خواتین اُور کم عمر بچے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ غریب علاقوں کی ایک خاص بات یہ بھی ہوتی ہے کہ اِن کے اہل محلہ و علاقہ ایک دوسرے سے جڑ کر رہتے ہیں اِس لئے متاثرین کا شمار کسی ایک خاندان کے اَفراد سے کہیں زیادہ ہے۔ مئی کے پہلے ہفتے سے خیبرپختونخوا میں نئے کورونا متاثرین کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زیادہ جبکہ 63 اموات اِس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ کم آمدنی اُور غریب طبقات کورونا وائرس کا باآسانی شکار بن رہے ہیں اُور اگر اِس جانب (اِس موقع پر بھی) خاطر خواہ (فوری) توجہ نہ دی گئی تو کورونا وائرس پھیلنے کا سلسلہ تیز تر ہوتا چلا جائے گا۔

کورونا وبا سے متاثرین کی کہانیاں اُور مسائل ایک جیسے  اہم ، تشویشناک  اُور لائق توجہ ہیں۔ 
اگر صحافی متاثر ہیں تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ خطرے سے متعلق علم ہونے کے باوجود بھی اِنہوں نے بنا حفاظتی تدابیر متاثرہ علاقوں کے دورے کئے۔ دیگر طبقات اُور پیشوں سے تعلق رکھنے والے اِس لئے متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ وہ کورونا وائرس کو اپنے لئے یکساں طور پر خطرہ نہیں سمجھتے اُور اب بھی یہ تاثر عام ہے کہ اموات وبا سے نہیں بلکہ اِس وبا کے خوف سے ہو رہی ہیں اُور خوف پھیلانے میں ذرائع ابلاغ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں!

آمدن کے لحاظ سے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت کورونا وائرس سے متعلق غلط فہمیوں کا پہلے اُور وائرس سے بعد میں شکار ہو رہی ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے لئے یہ حالات اُور صورت حالات ایک جیسی ہے کہ ایک طرف وبا کا طلاطم خیز طوفان اُور دوسری طرف عالمگیر وبا کی صورت کھائی ہے۔ ایک طرف بھوک افلاس ہے اُور دوسری طرف بیماری سے موت کا خطرہ جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی مرض سے خطرہ اُور موت کا امکان قابل برداشت ہوتا ہے۔ فیصلہ سازوں کو سوچنا اُور برسرزمین حقائق دیکھنا ہوں گے کہ آبادی کا وہ بڑا حصہ جس کے لئے سر پر چھت کا ہونا ہی سب سے بڑی نعمت ہے اُور ایسے طبقے سے یہ توقع کرنا کہ اُن کے پاس رہائش کے لئے اتنی جگہ ہو گی جہاں وہ دیگر اہل خانہ سے الگ تھلگ (یا مناسب فاصلے پر) رہ سکیں گے دراصل غلط فہمی ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے بالخصوص چھوٹے رقبے والے مکانات میں رہتے ہیں مگر ان کے اہل خانہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اگر ہم پشاور کی بات کریں تو یہاں گھر چھوٹے لیکن مکینوں کے دل بڑے ہوتے ہیں اُور آج بھی مشترکہ خاندانی نظام اِس سماج کا سب سے مضبوط حوالہ ہے۔ حکومتی فیصلہ سازوں نے کورونا متاثرین کے لئے قواعد (SOPs) تشکیل دے رکھے ہیں تو کیا اِس کے بعد کسی اقدام کی ضرورت نہیں رہی؟ ایک سے بڑھ کر ایک مشکل کھڑی کرتے ہوئے برسرزمین حقائق‘ عام آدمی (ہم عوام) کی آمدنی و مالی حیثیت اُور اُس مشترکہ خاندانی نظام کے بارے میں زیادہ بات نہیں ہو رہی جو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اُور جس کی موجودگی میں کورونا متاثرین کا الگ تھلگ رہنا اُس وقت تک عملاً ناممکن رہے گا‘ جب تک کہ حکومت کی جانب سے خصوصی انتظامات‘ سہولیات بشمول مالی امداد نہیں دی جاتی۔

از خود علیحدگی (قرنطینہ) کے لئے قواعد و ضوابط وضع کرنا ضروری تھا لیکن کافی نہیں جب تک کہ عمل درآمد کی صورتحال اُور عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات بارے سوچ بچار نہ کیا جائے۔ جن نجی رہائشگاہوں کو اُن کے مکینوں کے لئے ’قرنطینہ مراکز‘ میں تبدیل کیا گیا ہے‘ اُن کے اعدادوشمار بشمول مکان کا خاکہ‘ وہاں دستیاب سہولیات اُور وہاں مقیم صحت مند افراد سمیت کل مکینوں کے بارے حکومت کے پاس اعدادوشمار نہیں۔ ضوابط بنانے کے ساتھ اگر اُن کے ضمنی و ذیلی پہلوو ¿ں پر بھی غور کیا جاتا اُور اب بھی کیا جائے تو کورونا وائرس کا پھیلاو  بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ 

صوبائی حکومت ہر سطح پر کوشش کر رہی ہے کہ ’طفل تسلیوں‘ سے وقت گزر جائے اُور کام چلتا رہے۔ ماضی کی طرح حکمرانوں کا طرزعمل یہی ہے کہ جہاں اِن کے پاس صحافیوں کے سوالات کے جوابات نہیں ہوتے‘ وہاں رابطے منقطع کر دیئے جاتے ہیں اُور جہاں حکومتی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مطلوب ہوتا ہے‘ وہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو سر آنکھوں پر بٹھا لیا جاتا ہے! یہ روش تشویشناک ہے کہ زبانی کلامی بیانات‘ وعدوں اُور یقین دہانیوں سے اب تک کی پراسرار اُور وباو ¿ں سے مقابلہ کرنے کی انسانی تاریخ میں منظرعام پر آنے والے خطرناک جرثومے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کورونا کی طرح غربت بھی لاعلاج مرض بن چکا ہے۔

پشاور کے ایک متاثرہ صحافی سے ہوئی بات چیت میں جب یہ پوچھا کہ حکومت نے تو کورونا سے متاثرہ صحافیوں کے لئے خصوصی امداد کا اعلان بھی کر رکھا ہے‘ کیا آپ تک وہ امداد پہنچی ہے تو اُس نے بناءتوقف اُور طنزیہ قہقہہ لگاتے ہوئے فوراً کہا ”بھائی مذکورہ امدادی پیکج کے لئے کورونا وائرس سے فوت ہونا ضروری ہے!“
........


Monday, August 20, 2018

Aug 2018: NEGLECTED sector, the "Social Security" in Pakistan!

شبیرحسین امام
نیاپاکستان: ریاست کا فلاحی کردار!
پاکستان میں غربت کے کئی پہلو ہیں اور اِس ناتوانی کا جائزہ جس کسی پہلو سے بھی لیا جائے زیادہ بھیانک و پرسرار چہرہ (محرک) سامنے آتا ہے۔ معاشرے کو طبقات میں تقسیم کرکے غربت سے دوچار رکھنے میں والوں میں سیاسی فیصلہ سازوں کے شانہ بشانہ ذمہ دار سرکاری ملازمین (افسرشاہی) بھی ہے جنہوں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف تو اٹھایا لیکن اِس حلف کی پاسداری نہیں کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ تبدیلی اور اصلاحات کے ’انقلابی لائحہ عمل (ایجنڈے)‘ متعارف کروائے لیکن اِس سے قبل ’بیوروکریسی‘ کا قبلہ درست کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کو حاصل مالی و انتظامی اختیارات میں کمی نہ لائے۔ حکومت ملازمتیں دینے والی ایجنسی کا نام نہیں ہوتا بلکہ عوام کے ٹیکسوں اور بہبود کے لئے مختص مالی وسائل سے ملازمین اِس لئے رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ عوام کی خدمت کریں تو کیا عملاً ایسا ہی ہو رہا ہے؟ سرکاری اداروں سے بدعنوانی اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اِس بدعنوانی کے امکانات (صوابدیدی اختیارات) پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا‘ جب تک کارکردگی کو ملازمت سے مشروط نہیں کردیا جاتا جو کہ ’’ناگزیر ضروریات‘‘ ہیں۔

غربت کے بارے میں حکومت پاکستان کے مرتب کردہ اعدادوشمار کو مستند مان لیا جائے جنہیں ماہرین کم بتاتے ہوئے اختلاف رکھتے ہیں تب بھی صورتحال ناقابل یقین حد تک خراب ہے۔ حالیہ سالانہ اِقتصادی جائزہ ’اکنامک سروے آف پاکستان (2017-18ء)‘ کے مطابق ’’پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی (5 کروڑ لوگ) خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں یعنی پاکستان میں پانچ کروڑ لوگ ایسے ہیں جنہیں صرف ایک وقت کا کھانا بمشکل میسرآتا ہے۔ اِس کے علاؤ ہ38.8 فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں مختلف پہلوؤں سے غربت کا سامنا ہے یعنی اُن کا رہن سہن ایسا ہے کہ اُس میں تعلیم و صحت اور سہولیات سمیت کچھ بھی معیاری نہیں۔ یوں مجموعی طور پر پاکستان کی ’’88.8 فیصد‘‘ آبادی کسی نہ کسی صورت غربت سے دوچار ہے۔ غربت زدہ اور غریب متوسط طبقات کی اکثریت دیہی علاقوں میں آباد ہے‘ جہاں کی معیشت و معاشرت کا انحصار زراعت پر ہے اور ایک عرصے سے زراعت وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ترجیح نہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں‘ پانی کی قلت اور پیداواری اخراجات میں اضافے کی وجہ سے زراعت منافع بخش بھی نہیں رہی!

اقوام متحدہ کی جانب سے سال 2030ء تک رکن ممالک سے جس ایک چیز کا ترجیحی بنیادوں پر خاتمہ کرنے کی حکمت عملی (ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز اور بعدازاں ساسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز) وضع کئے گئے اُن میں سرفہرست غربت کا خاتمہ ہے‘ جس کے لئے تجویز کیا گیا ہے کہ حکومتیں ’سماجی و اقتصادی بہبود (سوشل پروٹیکشن)‘ کے ذریعے غربت زدہ خاندانوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں‘ اُن کی روزمرہ ضروریات پوری کی جائیں اور تعلیم و صحت تک سب کو یکساں رسائی دی جائے۔ اِس سلسلے میں ریاست کے فلاحی کردار پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے اور اگر اقوام متحدہ کے وضع کردہ (پائیدار ترقی کے) اہداف کا یہ بنیادی نکتہ سمجھ لیا جائے تو باقی ماندہ کام آسان ہو جاتا ہے کہ ’’ریاست (حکومت) کا کام فلاح اور سماجی تحفظ ہونا چاہئے۔‘‘ کیا پاکستان میں کوئی ایک بھی حکومت عام آدمی (ہم عوام) کے ’’سماجی تحفظ‘‘ کے لئے فکرمند دکھائی دی؟ اور کیا تبدیلی و ترقی کا کارواں کسی بھی طرح منزل تک پہنچ پائے گا جبکہ آبادی کا بڑا حصہ بہت پیچھے رہ گیا ہے اور اُس میں قدم اٹھانے کی بھی سکت نہ رہی ہو!؟

دنیا کے 149 ممالک میں سے صرف غریب ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ معاشروں میں بھی حکومتوں کی جانب سے کم آمدنی رکھنے والے طبقات کی ’’مالی مدد‘‘ کی جاتی ہے اور پاکستان میں ’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ بھی اُنہیں عالمی کوششوں کا تسلسل ہے جس کے ذریعے انتہائی غریب اور کم آمدن والے طبقات کا معیار زندگی بلند کرنے کی محدود کوشش کی گئی۔ 

تحریک انصاف کے مقرر کردہ انتخابی اہداف (وعدوں) میں سماجی تحفظ کی فراہمی اور فلاحی ریاست کا قیام شامل رہا اور چیئرمین عمران خان انتخابی جلسوں میں جس ’مدینۃ المنورہ‘ کا ذکر کرتے رہے ہیں جس کی مثالیں آج کے ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ہیں‘ جہاں ریاست کے پاس وسائل کی ہر پائی عوام کی بہبود پر خرچ ہوتی اُور حکمراں خود کو عوام کا خادم سمجھتے ہوئے ریاستی وسائل سے ’نمود و نمائش‘ اختیار نہ کرتے تھے۔ تحریک انصاف کے لئے ممکن ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وسعت دے جو کہ انتظامی طور پر کم خرچ حل ہوگا لیکن اگر ایک نیا پروگرام شروع کیا گیا تو اِس کے انتظامی معاملات پر اٹھنے والے اخراجات اضافی بوجھ ہوں گے۔ 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا 10 سالہ عرصہ کامیابیوں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہے۔ سیاسی جماعتوں (پیپلزپارٹی اور نواز لیگ) نے اِس پروگرام سے انتخابی فوائد حاصل کرنے کو زیادہ اہم سمجھا۔ اراکین اسمبلیوں کے ذریعے کارڈ تقسیم کئے گئے جن کی ایک بڑی تعداد آج بھی انتہائی غریبوں یا مستحقین کے علاؤہ اُن لوگوں کے پاس ہے جہاں یہ نہیں ہونے چاہئے تھے۔ کیا تحریک انصاف ’بینظیرانکم سپورٹ پروگرام‘ کی مالی امداد میں اضافے سے پہلے ’کلب ممبروں‘ کا حساب کتاب کرے گا؟ 

یہی سبب رہا کہ قریب 2 کروڑ 70 لاکھ افراد کی مالی معاونت کرنے کے باوجود بھی مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو رہے اور نہ ہی خود حکومت کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 5 کروڑ ’’انتہائی غریب‘‘ اَفراد ہی اِس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اب تک کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ مالی معاونت و استعانت سے غربت کی دلدل میں پھنسے خاندانوں کو وقتی فائدہ تو ہوتا ہے لیکن وہ آمدنی کے لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا مالی وسائل بنیادی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک وسیع کرنا ہوں گے تاکہ غربت سے سمجھوتہ نہیں بلکہ اُسے شکست دی جا سکے۔ اِس سلسلے میں کئی ممالک کے تجربات اور اُن سے حاصل کردہ نتائج موجود ہیں کہ جہاں حکومتوں نے غریب اور کم آمدنی رکھنے والے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کی تعلیم میں سرمایہ کاری کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نہ صرف غربت سے رہا ہوگئے بلکہ اُنہوں نے معاشرے کے دیگر غریبوں کے لئے بھی آسانیاں پیدا کیں۔ دراصل تعلیم میں سرمایہ کاری ہی ایک روشن مستقبل اور نئے پاکستان کی نوید بن سکتی ہے۔
۔
https://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-08-20

https://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-08-20

Tuesday, April 17, 2018

Apr 2018: Investment in HEALTH is actually investment is in future!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سرمایہ کاری برائے مستقبل!
کسی ملک یا معاشرے کے رہنے والوں کی صحت کا معیار جانچنے کا عالمی معیار (پیمانہ) ’ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس‘ ہے جس کے مطابق دنیا کے ’188 ممالک‘ میں پاکستان ’147ویں‘ نمبر پر ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت مثالی نہیں بالخصوص ایک ایسے ملک میں جہاں تعمیروترقی پر صحت سے زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ پختہ سڑکیں‘ موٹروے‘ آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں‘ درآمد شدہ آسائشیں ایک طرف اور دوسری طرف اگر آبادی کے نصف سے زائد اگر غذائی قلت کا شکار ہیں یا اُنہیں حسب ضرورت غذا نہیں مل رہی تو قصوروار کون ہے؟ 

ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کے مطابق پاکستان میں فی کس خوراک ملنے کا تناسب اور حسب آبادی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اسلام آباد سرفہرست (ویری ہائی لیول) ہے جبکہ اِیبٹ آباد اُور لاہور دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں‘ جن کا شمار اُن اضلاع میں ہوتا ہے کہ جہاں صورتحال نسبتاً بہتر (ہائی لیول) ہے لیکن بدقسمتی سے تین صوبوں (سندھ‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا) کے کئی ایسے اضلاع ہیں جن کا شمار انگلیوں پر گننا تک ممکن نہیں کہ جہاں ’غربت نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے!‘

پاکستان میں 58 فیصد خاندان ’غذائی عدم اِستحکام (فوڈ اِن سیکورٹی)‘کا شکار ہیں جن میں سے قریب 10فیصد (9.8%) ایسے ہیں‘ جنہیں یومیہ ایک وقت کا کھانا تک میسر نہیں اُور یہ اعدادوشمار سال دوہزار گیارہ کے سروے (جائزے) سے معلوم ہوئے تھے جس کے بعد سے تاحال ’نیشنل نیوٹریشن سروے‘ نہیں ہو سکا ہے‘ جس پر اِظہار اَفسوس کرتے ہوئے ماہرین نے ’قومی صحت کو ترجیح‘ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ایبٹ آباد میں ’صحت سے متعلق عمومی شعور اُجاگر کرنے کی غیررسمی نشست میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے ’دوہزارسترہ‘ میں ہوئی مردم شماری میں صحت سے متعلق اعدادوشمار اکٹھا نہ کرنے پر بھی دکھ کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ سات سالہ پرانے اعدادوشمار کی بنیاد پر قومی اور صوبائی حکمت عملیاں مرتب کرنے کی بجائے بلاتاخیر سروے کروایا جائے‘ قومی وسائل کا بڑا حصہ کم آمدنی والے طبقات کو خوردنی اشیاء کی فراہمی پر خرچ ہونا چاہئے کیونکہ آبادی میں اضافے کا سیدھا سادا مطلب یہی ہے کہ غربت کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ نشست میں ’فوڈ سیکورٹی اینڈ ٹیوٹریشن اسٹریٹجک ریویو فار پاکستان 2017ء‘ نامی حکمت عملی کا بھی سرسری جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی کل آبادی کا 18فیصد ’خوراک کی کمی‘ کا شکار ہے۔ بچوں کی اکثریت کا وزن اُن کی عمروں کے تناسب سے کم ہے اور جب تک ’تعلیمی پالیسی‘ میں خوراک کو شامل نہیں کیا جاتا‘ اُس وقت تک بچوں کو لاحق ہونے والے امراض میں کمی نہیں آئے گی۔ حاملہ خواتین کی صحت و خوراک اور بچے کی بعداز پیدائش سے نشوونما کے مختلف مراحل سے متعلق ایک ایسی قومی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں سرکاری طور پر کم آمدنی رکھنے والے طبقات کی مالی سرپرستی کی جائے۔ اِس سلسلے میں مغربی (ترقی یافتہ) ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں عوام کی قوت خرید ہونے کے باوجود بھی حاملہ خواتین اور نومود بچوں کو حکومت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے اور اُن کی خوردنی ضروریات پوری کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں نہ صرف بچوں کی جسمانی نشوونما بہتر ہوتی ہے بلکہ اُن کی ذہانت کا معیار بھی پاکستان سے کئی درجے بلند ہوتا ہے۔ ماں اور بچے کی صحت میں سرمایہ کاری درحقیقت مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کے مترادف عمل ہے لیکن افسوس کہ صحت کے حوالے سے بالخصوص ہمارے سیاسی و غیرسیاسی پالیسی سازوں نے قوم کو سوائے بیماریوں اور مشکلات کے اُور کچھ نہیں دیا۔

مقام صد افسوس ہے کہ خیبرپختونخوا میں حاملہ خواتین کی پچاس فیصد سے زائد تعداد جبکہ عمومی طور پر تیئس فیصد آبادی ’فولاد کی کمی‘ کا شکار ہے۔ ’آئرن‘ کی کمی دور کرنے کے لئے عالمی ادارے خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں مفت ادویات تقسیم کرنے کی حکمت عملی بنائے ہوئے ہیں جس میں ’آئرن کی کمی‘ کے بارے شعور اُجاگر کرنے کی مہمات بھی شامل ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صرف شعور اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے توجہ دلانے سے کام نہیں چلے گا کیونکہ عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت اِس بات کی سکت ہی نہیں رکھتی کہ وہ فولاد سے بھرپور خوراک یا ادویات خرید سکیں! حکومت اگر بچوں کو ملنے والے ملاوٹ شدہ دودھ ہی کی خبر لے تو صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ زرعی معیشت و معاشرت رکھنے والے علاقوں کے رہنے والے یہاں کے لوگ بھی فولاد کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے! وجہ یہ ہے کہ ہمارے شہروں کی طرح دیہی علاقوں میں بھی لوگوں نے ’صحت مند رہن سہن ترک کر دیا ہے۔‘ کاربونیٹیڈ ڈرنکس اور خطرناک کیمیائی مادوں سے بھرپور اشیاء کی بھرمار ہے اور یوں ہمارے بڑے اور بچے صحت جیسی دولت سے محروم ہو رہے ہیں۔ کیمیائی مادوں سے بھرپور غیرصحت مند اشیائے خوردونوش کھانے سے قوت مدافعت کم ہو رہی ہے‘ جس کی وجہ سے لاحق ہونے والے کسی معمولی مرض کا علاج بھی نہایت ہی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ سرشام ماہر ڈاکٹروں کے کلینکس پر تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی کیونکہ مناسب خوراک اور صحت مند طرز زندگی ترک کرنے کی وجہ سے بیماریاں نہ صرف پھیل رہی ہیں‘ بلکہ وہ ہمارے گھروں میں گھر کر چکی ہیں۔ 

خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں مختلف قسم کے ساگ اُور سبزی بڑی مقدار میں پیدا ہو سکتی ہے لیکن زرعی پیداوار کی سرکاری سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے موافق آب و ہوا اور زرخیز مٹی سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ تعجب خیزہے کہ خیبرپختونخوا میں غربت اِس انتہاء تک جا پہنچی ہے کہ خوراک کی کمی سے حاملہ خواتین کی پچاس فیصد اور عمومی سطح پر تیئس فیصد افراد فولاد کی کمی کا شکار ہیں۔ فولاد کی اِس کمی کے باعث بچوں کی جسمانی نشوونما اور ذہانت بالعموم متاثر ہے جبکہ بالغ افراد (مرد و خواتین) میں فولاد کی کمی باآسانی دور کی جا سکتی ہے کیونکہ قدرتی طور پر موجود یہ عنصر عام دستیاب ہے۔ 

آئرن ڈیفیشینسی بذات خود کسی بیماری کا نام نہیں لیکن اِس کمی کی وجہ سے کئی اقسام کے عارضے لاحق ہو سکتے ہیں اور ہمارے اردگرد پھیلی نمودونمائش پر مبنی ترقی بے معنی ہو کر رہ جائے گی اگر ہم جسمانی اور ذہنی طور پر لاغر اُور قوت مدافعت کے لحاظ سے صحت مند اعصاب کے مالک نہیں بن جاتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Sunday, May 28, 2017

May2017: TRANSLATION: Robin Hood by Dr Farrukh Saleem

Reverse Robin Hood
نجات دہندہ!
خوشخبری یہ ہے کہ ایک دہائی (دس برس) کے دوران پاکستان کی مجموعی خام اقتصادی ترقی (جی ڈی پی) کی شرح نمو 5.28 فیصد جبکہ مہنگائی کی شرح 4 فیصد کے آس پاس منڈلا رہی ہے۔ مہنگائی کی اِس صورتحال کا موازنہ اگر پاکستان پیپلزپارٹی کے ’دور حکومت‘ سے کیا جائے تو صورتحال میں بہتری غیرمعمولی دکھائی دیتی ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں مہنگائی کی شرح پچیس فیصد تک جا پہنچی تھی اور یہ زیادہ پرانی بات بھی نہیں قریب آٹھ سال پہلے ہی تو بات ہے جب پیپلزپارٹی دور حکومت تھا۔ یہ امر بھی قابل بیان ہے کہ پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں کم ترین شرح سود مقرر ہے لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ بیان کرنے کو بس یہی چند خوشخبریاں دامن مضمون میں سما سکتی ہیں!

پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہ اہے کہ قومی ترقیاتی حکمت عملی کے لئے دو اعشاریہ ایک کھرب روپے جیسی خطیر رقم مختص کی گئی ہے اور اِس رقم کی تقسیم صوابدیدی طریقے سے کیا جائے گا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مالی سال 2017-18ء کے لئے وفاقی حکومت کا بجٹ عام انتخابات کو ذہن رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے جس سے مسلم لیگ (نواز) کو وفاقی حکومت کے خزانے سے ایک کھرب جبکہ پنجاب حکومت کے خزانے سے 500 ارب روپے ملیں گے‘ جسے پارٹی اپنی سیاسی ترجیحات کے مطابق خرچ کرے گی۔

غور کیجئے کہ 2.1 (دو اعشاریہ ایک) کھرب روپے قومی ترقیاتی حکمت عملی کے لئے مختص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ 40ہزار روپے ہر پاکستانی ووٹر کے تناسب سے علیحدہ کر لئے گئے ہیں۔ غور کیجئے کہ دواعشاریہ ایک کھرب روپے کی رقم اگر سال 2013ء میں مسلم لیگ (نواز) کے لئے ووٹ کرنے والوں پر تقسیم کی جائے تو یہ فی ووٹر ڈیڑھ لاکھ روپے بنتے ہیں۔ غور کیجئے کہ دو اعشاریہ ایک کھرب روپے اگر پاکستان کے ہر خاندان پر تقسیم کئے جائیں تو یہ 75 ہزار روپے بنیں گے! اب کسی ایسی سیاسی جماعت کو عام انتخابات میں کوئی کیسے شکست دے سکے گا‘ جس نے قومی خزانے کو سیاسی ترجیحات اور عام انتخابات مدنظر رکھتے ہوئے کچھ اِس انداز میں خرچ کرنے کا عزم کر رکھا ہو کہ یہ رقم تحلیل (خرچ) بھی ہو جائے لیکن ناکافی رہے!

پاکستان کے وفاقی بجٹ 2017-18 کا سب سے بڑا اور بنیادی خرچ یہی ’’2.1 کھرب روپے‘‘ ہیں جن کا 70فیصد حصہ ایسے منصوبوں پر خرچ ہوگا جن میں سیمنٹ اور سریا استعمال ہو۔ 20فیصد گاڑیوں کی خرید اور چار فیصد انسانی ترقی جبکہ قریب چار ہی فیصد دیگر متفرق اخراجات کی نذر ہوگا۔ اندازہ ہے کہ اِن ’2.1کھرب روپوں‘ کا زیادہ سے زیادہ چھ سو ارب اور کم سے کم دوسو ارب روپے جیسا خطیر حصہ مالی و انتظامی بدعنوانیوں یا ادارہ جاتی نااہلیوں کے سبب ضائع ہو جائے گا۔

بجٹ 2017-18ء کا تعلق کسی بھی طرح ہمارے معاشرے کے اُس طبقے سے نہیں جو سب سے زیادہ مستحق ہے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان دو کھرب روپے ایک ایسی ترقی کے نام پر خرچ کرنے جا رہا ہے جس سے اُس کی اکثریتی آبادی کے مشکلات بھرے روزوشب (معمولات) پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیا ہمارے حکمران نہیں جانتے کہ پاکستان کی قریب 30فیصد آبادی یعنی 6 کروڑ لوگوں کی معاشی حالت کچھ ایسی ہے کہ وہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں یعنی تیس فیصد پاکستانیوں کی یومیہ آمدنی دوسو روپے سے کم ہے! اگر یہ بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وفاقی بجٹ میں کم آمدنی اور بالخصوص غربت کے شکار طبقات کے لئے براہ راست کچھ مختص نہیں۔ وہ لوگ جو غذائی قلت کا شکار ہیں‘ جنہوں بھوک پیاس لاحق ہے‘ جنہیں بیماریوں نے آ گھیرا ہے اور جنہیں اپنی بقاء کے مراحل درپیش ہیں‘ اِس وفاقی بجٹ کے حساب سے شمار ہی نہیں ہوئے!

کسی بھی اقتصادی ترقی کا انحصار‘ کسی ملک میں پیدا ہونے والی بجلی پر ہوتا ہے۔ اقتصادی جائزہ برائے سال 2016-17ء کے تحت دیئے گئے اعدادوشمار کو اگر قابل بھروسہ سمجھا جائے تو پاکستان میں بجلی اور گیس کے شعبوں میں 3.5فیصد کے تناسب سے اضافہ ہوا ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر قومی خام پیداوار (جی ڈی پی) بھلا کیسے 5.3فیصد ہو سکتی ہے!؟

اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق سال 2017ء میں ملک میں بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 22.9ملین سے بڑھ کر 25.1 ملین میگاواٹ رہی لیکن بجلی کی پیداوار کم ہوئی۔ کہنے کا مطلب ہے کہ پیداواری صلاحیت موجود ہے لیکن حکومت اِس قابل نہیں کہ وہ ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت سے خاطرخواہ استفادہ کر سکے۔

مالی سال کے لئے ’آمدن و اخراجات‘ کا سالانہ میزانہ (بجٹ) ’خیالی من گھڑت تصورات‘ پر نہیں بلکہ مستقبل کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرتب ہونا چاہئے لیکن یہ الفاظ کا گورکھ دھندا اور مقصدیت سے خالی دکھائی دیتا ہے جس میں اعدادوشمار کے ذریعے کچھ ایسا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا عملی زندگی اور برسرزمین حقائق سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ بجٹ معیار کے لحاظ سے عوام کی توقعات اور ضروریات کا احاطہ نہیں کر رہا۔ بجٹ 2017-18ء اُس کردار (رابن ہڈ) کی کہانی کا الٹ ہے جو اپنے وقت کے امیروں سے سرمایہ چھین کر اُسے غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتا تھا۔ بجٹ میں پہلے سے عائد اُن تمام ٹیکسوں (محصولات) کو نہ صرف برقرار بلکہ اُن کی شرح بھی بڑھا دی گئی ہے جس میں ملک کے کم آمدنی رکھنے والے طبقات سے نسبتاً زیادہ ٹیکس وصول کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ چونکہ حکومت سرمایہ دار طبقات سے خاطرخواہ ٹیکس وصول کرنے میں عملاً ناکام ثابت ہو رہی ہے اِس وجہ سے اپنی اِس نااہلی کی سزا غریبوں کو دی جا رہی ہے اور اُن سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ کسی رحم دل ’رابن ہڈ‘ کے عمل کی یہ برعکس مثال اپنی جگہ دلچسپ و عجیب اور منفرد ہے۔ آج کے پاکستان کی اقتصادی مشکلات و مسائل کے حل بارے توقعات اُس ’رابن ہڈ (نجات دہندہ)‘ جیسے کردار سے وابستہ ہیں‘ جو ملک کے سرمایہ داروں کی بجائے غریبوں پر رحم کرے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرجسین اِمام)

Wednesday, October 5, 2016

Oct2016: Questioning the Sri Lanka Development!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سری لنکا: بولتے سوالات!

’دعا‘ اُور ’دوا کی تاثیر‘ سے متعلق جنوبی بھارت کے ایک جزیرہ پر بسنے والے ’سری لنکن‘ باشندوں کا ماننا ہے کہ ’’علاج کی صرف وہی تدبیر شفایابی کا باعث بنتی ہے‘ جس میں مریض کا اپنے ’طریقۂ علاج‘ اُور ’دوا‘ کے مؤثر ہونے پر یقین غیرمتزلزل ہو۔‘‘ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ’بے یقینی‘ میں ’دَوا‘ اور ’دُعا‘ دونوں اپنا اپنا اَثر کھو دیتے ہیں۔ ’سیلون‘ اور ’سراندیپ‘ کے ناموں سے معروف رہے ’سری لنکا‘ کی تہذیب دو ہزار سال پرانی ہے‘ جو بدھ مت‘ ہندو مت‘ اسلام اُور عیسائیوں کو ماننے والے چار بڑے مذہبی گروہوں کی سرزمین ہے لیکن یہاں کسی دین کا دوسرے سے تصادم دکھائی نہیں دیتا۔ ایک ہی سڑک کے دائیں ہاتھ گرجا گھر اور بائیں ہاتھ (بلمقابل) بدھ مت کا مندر دیکھا گیا اور دونوں ہی میں عبادت کرنے والوں کی آمدورفت جاری تھی۔
سری لنکا ائرپورٹ پر امیگریشن کا عمل سیاحت یا کسی دوسرے مقصد سے آنے والے غیرملکی مسافروں کو خود سرانجام دینا پڑتا ہے لیکن برق رفتار طریقۂ کار کی بدولت یہ مرحلہ جلد ہی طے ہو جاتا ہے جس کے بعد سری لنکا میں داخل ہونے کی قانونی اجازت پانے والوں کے پاس ائرپورٹ سے باہر جانے کے 2 راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ پہلا راستہ کسٹم ڈیوٹی ادا کرنے کا ہے کہ اگر کسی مسافر کے پاس ایسی برقی مصنوعات یا اشیاء ہیں کہ جن پر سری لنکا قانون کے مطابق درآمدی ٹیکس (کسٹم وغیرہ) ادا کرنا ضروری ہے تو اُس کے لئے کسٹم حکام نے الگ سے ’ایگزٹ پوائنٹ‘ بنا رکھا ہے جبکہ گرین چینل کے ذریعے بناء سامان کی جانچ پڑتال کئے ائرپورٹ سے باہر نکلا جاسکتا ہے اور ڈیوٹی پر موجود اہلکار کسی ایسے مسافر کی جامہ یا سامان کی تلاشی اُس وقت تک نہیں لیتے جب تک کہ اُس پر شک یا مخبری نہ ہو۔ 

بہرکیف ’پاکستان سری لنکا یوتھ ایکسچینج پروگرام‘ کے تحت 12 افراد پر مشتمل ’چوتھا دستہ‘ لاہور (علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ) سے کولمبو (بندرانائیکے انٹرنیشنل ائرپورٹ) پہنچا تو مقامی وقت کے مطابق صبح کے پونے پانچ بجے تھے لیکن ائرپورٹ پر ایک کے بعد دوسری فلائٹ اُتر رہی تھی اور مسافروں کی آمدورفت کے ہجوم سے ثابت تھا کہ سری لنکا کی معیشت و اقتصادی جس بہتری کی جانب گامزن ہے اُس کے ثمرات صرف قیادت تک محدود نہیں بلکہ اِس سے عام آدمی کی زندگی میں بھی بہتری آئی ہے اور اِس تبدیلی کو ہزارہ ڈویژن کے 3 تعلیمی اِداروں (ماڈرن ایج پبلک سکول‘ ماڈرن سکول سسٹم اُور مانسہرہ پبلک سکول) کے چنیدہ طلباء و طالبات (ہاجرہ سلطان‘ حبیب اللہ‘ وریشہ علی‘ خدیجہ مہ رخ‘ قاضی میرعالم‘ نعیم حماد‘ وجاہت شفقت‘ طبیبہ خان) اور اُن کی رہنمائی و تعارف کے لئے ہمراہ 4 اساتذہ نے بھی محسوس کیا جو چار سے بارہ اکتوبر تک سری لنکا کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں اور دیہی علاقوں کے مطالعاتی دورے میں تعلیمی نظام کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے علاؤہ نہ صرف سری لنکا کی ’یوتھ پالیسی‘ کے خدوخال کا جائزہ لیں گے بلکہ اپنے مشاہدے‘ مطالعے اور سوالات کے ذریعے سری لنکا کے ’ادارہ شماریات (statistics.gov.ik) کے اُس دعوے کی حقیقت کے بارے میں یقین کو پختہ کریں گے کہ سری لنکا میں شرح خواندگی بانوے (92.63) فیصد سے زیادہ ہے اور ستائیس فیصد سے زیادہ لوگ کمپیوٹر علوم کے بارے میں خواندگی رکھتے ہیں! کیا سری لنکا کی ’شرح خواندگی‘ میں اس قدر اضافہ اُس کے ہاں طرزحکمرانی (جمہوریت) کے مستحکم ہونے کا سبب بھی بنا ہے یا اعلیٰ سرکاری عہدوں سے لیکر سیاسی جماعتوں کے قائدین اور وزارتوں پر سرمایہ دار قابض ہیں؟
سری لنکا کی سڑکوں پر ٹریفک کا منظم نظام دیکھنے کو ملتا ہے۔ 

چھوٹی بڑی نجی یا سرکاری گاڑیاں ہوں یا موٹرسائیکل یا آٹو رکشہ‘ دارلحکومت کولمبو کی گنجان آباد سڑکوں پر ہر کوئی ٹریفک قواعد کی پابندی کرتا دکھائی دیتا ہے جسے ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ اگر کسی موٹرسائیکل پر دو افراد سوار ہوں تو دونوں نے ہیلمٹ پہن رکھے ہوں گے حتیٰ کہ اگر اُن کے ساتھ اُن کا بچہ بھی سوار ہوتو اُس نے بھی ایک چھوٹا سا ہیلمٹ پہن رکھا ہوگا۔ زیبرا کراسنگ‘ حد رفتار کے اعلانات اور ٹریفک کے خودکار سنگلز کے علاؤہ اکا دکا ٹریفک پولیس کے مستعد اہلکاروں کی اپنے کام سے کام رکھنے کی روش سے کولمبو کی سڑکوں کی تنگی کا احساس نہیں ہوگا۔ 

دارالحکومت کی بلندوبانگ عمارتوں‘ کارپٹ کی طرح صاف ستھری چمکدار شاہراہیں اور اُن کے اطراف میں رہنے والوں غریبوں کی بستوں کو پردے لگا کر چھپانے کی کوشش کی گئی ہے! 

سری لنکا کی تاریخ کا یہ تاریک اور سب سے زیادہ تکلیف پہنچانے والا پہلو یہی ہے کہ یہاں ترقی کی دور میں کسی لحاظ سے کمزور و ناتواں معاشرے کی اکائیوں کو ساتھ لیکر چلنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ غیرملکی درآمد شدہ مہنگی گاڑیاں ایک طرف لیکن پبلک ٹرانسپورٹ سے لٹکے ہوئے انسان اور دھنسی ہوئی آنکھوں سے بولتے سوالات ہر ایک صاحب شعور کو جھنجوڑ کر پوچھتے دکھائی دیئے کہ ۔۔۔ ’’سرکاری وسائل کی تقسیم میں عدل کب قائم ہوگا؟‘‘ نتیجہ تو بس یہی سمجھ آیا ہے کہ چاہے کہ بدھ مت ہو‘ ہندو یا مسلمان اور عیسائی‘ بات صرف سری لنکا کے اِن چار ادیان کے ماننے والوں کی حد تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ داروں کا جہاں کہیں بس چلتا ہے وہ غریبوں کو نچوڑنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پاکستان سے سری لنکا اُور سری لنکا سے آن کی آن میں پاکستان کا سفر کرنے کے بعد مزید کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں کر رہا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


GROUP PHOTO
 4th Youth Exchange Program participants visited the National YOUTH Service Council in Colombo on Oct 05, 2016

Sunday, June 5, 2016

Jun2016: Poverty Defination need to be review!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خط غربت؟
عالمی سطح پر غربت کے کا تعین کرنے کے لئے بنایا گیا پیمانہ ’کم سے کم آمدنی‘ کی بنیاد پر یہ وضع کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق کسی بھی شخص کی آمدنی اگر ایک مقررہ حد سے کم ہے تو وہ ’’غریب‘‘ کہلائے گا۔ اکتوبر 2015ء میں ’عالمی بینک‘ نے یومیہ آمدنی کی کم سے کم حد 1.90 ڈالر کی تھی جو سال 2005ء سے قبل ایک ڈالر بعدازاں 1.25 ڈالر یومیہ مقرر کی گئی۔ دنیا بھر کے ماہرین اِقتصادیات کم یا زیادہ اختلاف کے ساتھ ’خط غربت‘کے پیمانے سے اتفاق کرتے ہیں جو کسی فرد واحد کی ’قوت خرید‘ کی عکاسی تو کرتا ہے لیکن کیا یہ پیمانہ پاکستان جیسے ملک میں غربت کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے؟

خط غربت کے موجودہ عالمی پیمانے کو اگر پاکستانی روپے میں تبدیل کیا جائے تو یہ ’’199 روپے 3 پیسے‘‘ بنتے ہیں یعنی ہر وہ پاکستانی ’’غریب‘‘ ہے جو یومیہ کم و بیش 200 روپے کما رہا ہے اور اِس حساب سے 6ہزار روپے سے کم آمدنی والا غریب کہلائے گا جو سراسر غلط اور پاکستانی معاشرے کے حساب سے بے بنیاد تصور ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان کا قومی یا صوبائی بجٹ تشکیل دیتے وقت بھی غریبوں کا شمار اِسی ’خط غربت‘ پر کیا جاتا ہے جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک شخص کو اُس کے خاندان کی کفالت کے لحاظ سے شمار کیا جانا چاہئے۔ اگر ہم پاکستان میں کم سے کم مقررہ تنخواہ کہ جسے تین جون کو پیش کئے گئے بجٹ میں ایک ہزار روپے بڑھا کر چودہ ہزار کر دیا گیا ہے اور درحقیقت یہی ’خط غربت‘ ہے!

حکومت کی جانب سے مقرر کی جانے والی کم سے کم تنخواہ کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن اِس کی ادائیگی کے لئے حکومت (اپنے ہی حکم پر عمل درآمد) سختی سے نہیں کراتی۔ ایسے نجی اِداروں کا شمار اُنگلیوں پر ممکن نہیں‘ جو وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے کم سے کم تنخواہ کے مطابق ماہانہ ادائیگیاں نہیں کرتے۔ بھلا حکومت ایسے دلاسے دیتی ہی کیوں ہے جبکہ مزدوروں بالخصوص دیہاڑی (یومیہ محنت مزدوری) کرنے والوں کو کم سے کم چودہ یا پندرہ ہزار روپے ماہانہ اُجرت نہیں دلا سکتی!؟
خط غربت میں کمی اُس وقت تک عملاً ممکن نہیں ہوگی جب تک اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوتے اُور اُس وقت تک طرزحکمرانی پر اُٹھنے والے غیرترقیاتی اخراجات میں کمی نہیں کی جاتی جب تک کہ آمدن میں اضافہ نہ ہو۔ اقتصادی سروے رپورٹ 2015-16ء کے مطابق کپاس کی فصل خراب ہونے سے رواں مالی سال کیلئے معاشی ترقی کا پانچ اعشاریہ پانچ فیصد کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا۔ یہ مسلسل تیسرا موقع ہے کہ حکومت اپنے بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اقتصادی سروے اور بجٹ کی روشنی میں سامنے آنے والی صورتحال کسی طرح خوش کن اور اطمینان بخش قرار نہیں دی جاسکتی۔ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی ترقی اور صنعت کا پہیہ بنیادی طور پر زرعی سیکٹر سے جڑا ہوا ہے جو بدقسمتی سے شروع دن سے حکومت کی عدم توجہ اور عدم دلچسپی کا شکار ہے۔

کیا ہم نہیں جانتے کہ زراعت سے وابستہ روزگار کا تناسب 80فیصد سے زیادہ ہے لیکن اِس شعبے پر ’حکومتی نظرکرم‘ خاطرخواہ نہیں۔ بجٹ تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ نے کھاد کی بوری کی قیمت کم کرنے کا اعلان کیا تو اُن کی اطلاع کے لئے عرض میں پاکستان میں کھاد کی جو بوری رعایت کے بعد 1400 روپے میں بطور خاص عنایت دی جارہی وہی بھارت میں 700 روپے فی بوری ہے اور اگر کرنسی کا فرق نکال دیا جائے تو بھارت میں کھاد کی ایک بوری 900 روپے جبکہ پاکستان میں اگر 1400 روپے ہوگی تو اِس میں کمال ہی کیا ہے؟ رواں مالی سال میں زرعی سیکٹر میں ترقی کی منفی 0.19فیصد شرح ہے جو گزشتہ پچیس برسوں میں پہلی بار سامنے آئی ہے۔ کپاس‘ چاول] مکئی اور گندم ہماری اہم نقد آور اجناس ہیں ان کی پیداوار میں کمی سے ملکی برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور اب تو یہ بات خود حکومت بھی تسلیم کر رہی ہے۔ کیا ہم یہ بات بھی فراموش کر دیں کہ ’خط غربت‘ سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی اکثریت اُن محنت کشوں کی ہے جو کسی نہ کسی ذریعے زراعت سے وابستہ ہیں۔

 زرعی سیکٹر پوری طرح فعال ہونا چاہئے۔ کھاد‘ ٹریکٹر‘ پانی‘ تصدیق شدہ اچھے بیج اور دوسری مطلوبہ سہولیات ارزاں نرخوں پر مہیا کرنے کے ساتھ زرعی ماہرین کی رہنمائی فراہم ہونی چاہئے۔ معاشی اہداف کاحصول ممکن بنانے کے لئے بڑے زمینداروں کی آمدن اور چھوٹے کاشتکاروں کو سبسڈی دینا ہوگی۔ زرعی سیکٹر کے علاؤہ جنگلات‘ فشریز‘ لائیو سٹاک بجلی گیس اور تعمیرات کے شعبوں کا احوال بھی ناقابل بیان ہے۔ ہر شعبے میں ترقی اور نمو کی شرح مختلف ہے‘ کہیں کم کہیں زیادہ تاہم اس سے حکومت کی مجموعی کارکردگی پر کوئی اچھا اور مثبت تاثر نہیں اُبھرتا۔ اقتصادی فیصلہ سازوں کو ’خط غربت‘ کے عالمی معیار کا پاکستان پر اطلاق کرتے ہوئے زمینی حقائق اور اُن منفی محرکات پر غور کرنا چاہئے کہ بڑے زمیندار‘ صنعتکار اور تاجروں کی نمائندگی ہر منتخب ایوان میں موجود ہے لیکن عام آدمی (ہم عوام) جو کہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 90فیصد سے زیادہ ہیں‘ اُن کی بات کہنے اور اُن کے مفادات کا تحفظ کرنے والا کوئی نہیں! کیا یہ بات دل کو لگتی ہے کہ ملک کا صدر‘ وزیراعظم اور تمام ججوں کی ماہانہ تنخواہیں ٹیکس سے مستثنیٰ لیکن خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے اگر ایک عدد ماچس بھی خریدیں یا ایک یونٹ بجلی بھی خرچ کریں تو اُنہیں ٹیکس ادا کرنا پڑے۔ محصولات کی وصولی کے طریقۂ کار (نظام) کو بدلنا ہوگا‘ جس میں زیادہ آمدنی والوں سے کم لیکن کم آمدنی والوں سے نسبتاً زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے!
Poverty line need to be redefine

Sunday, May 22, 2016

TRANSLATION: The Human Cost

The human cost
بدعنوانی کی بھاری قیمت!
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل  نے ایک کہانی شائع کی ہے جو ڈھاکہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی سے متعلق ہے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش دنیاکے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں سال 2015ء سے متعلق جاری کردہ ایک جائزے کے مطابق سرکاری اداروں میں پائی جانے والی بدعنوانی کی شرح اُس کسوٹی یا پیمانے پر پچاس فیصد سے کم ہے جس میں سب سے بدعنوان ملک کو 100فیصد نمبر دیئے جاتے ہیں۔ مذکورہ لڑکی کی کہانی کچھ یوں ہے کہ وہ بجائے سکول جانے کے ایک فیکٹری میں محنت مزدوری کرتی ہے جہاں اُس کا کام بوتلوں کو ترتیب دینا ہے۔ بنگلہ دیش بھی دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں بچوں سے اِس قسم کی مشقت نہیں لی جا سکتی جبکہ وہ قانون کی رو سے پابند ہیں کہ اپنا وقت تعلیمی اداروں کے اندر صرف کریں لیکن جہاں کہیں بدعنوانی پائی جائے وہاں قانون توڑنے کے راستے نکل ہی آتے ہیں۔ جب ایک غلط طریقے سے درست سرکاری افسر کو رشوت دی جاتی تو اس سے نتیجے میں گنجائش نکل آتی ہے۔ عالمی طور پر مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے جن جن ممالک کے سرکاری اداروں میں بدعنوانی پائی جاتی ہے وہاں اِس کی قیمت غربت زدہ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں اور بالخصوص بچوں کو چکانا پڑتی جو سخت ترین قواعد کے باوجود نہایت ہی مشکل و ناموافق حالات میں محنت مشقت کرتے ہیں۔

سرکاری اداروں میں پائی جانے والی رشوت ستانی و بدعنوانی کے پیمانے پر بنگلہ دیش پچیسویں نمبر پر ہے جبکہ اِسی پیمانے پر پاکستان کو تیس نمبر دیئے گئے ہیں۔ دنیا کے غریب (ترقی پذیر ممالک) سالانہ ایک کھرب ڈالر کے مساوی بدعنوانی کی نذر کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے سرکاری ادارے سالانہ 8 ارب ڈالر خرد برد کرتے ہیں یہ رقم ملک کے سالانہ دفاعی بجٹ کے مساوی ہے۔ انگولا‘ جنوبی سوڈان‘ سوڈان‘ افغانستان‘ شمالی کوریا اُور صومالیہ دنیا کے نہایت ہی بدعنوان ملک ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہی ممالک کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں بھی ہوتا ہے جو امن و امان کے حساب سے بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کروڑوں ڈالر بجائے تعمیر و ترقی پر خرچ ہونے کے چوری یا خورد برد ہونے کی وجہ سے ضائع ہوگئے ۔ انگولہ کی 70فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی کرتی ہے یعنی اُن کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر یا اِس سے کم ہے۔ وہاں ہر چھ میں سے ایک بچہ پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتا ہے جو دنیا میں بچوں کی اموات کی بلند ترین شرح ہے! براعظم افریقہ کے اِس ملک میں بدعنوانی اور اختیارات کے عوض ذاتی اثاثوں میں اضافہ کرنے کی ایک مثال یہ ملاحظہ کیجئے کہ صدر کی بیٹی اسابیل ڈس سینٹوس (Isabel dos Santos) جو کہ ہیروں کی تجارت اور ٹیلی کیمونیکشن کمپنی کی مالکہ ہے براعظم افریقہ کی سب سے کم عمر ارب پتی خاتون ہے!

اگر ہم بدعنوانی کے منفی اثرات دیکھیں تو اِس سے فائدہ اٹھانے والے چند افراد کے مقابلے ملک کی ایک بڑی آبادی نہایت ہی بُرے انداز میں متاثر ہوتی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ ہر 10 میں سے 6پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں یعنی اُن کی یومیہ آمدنی یا ایک دن کے اخراجات 2 ڈالر سے کم ہیں۔ سیو دی چلڈرن نامی ایک عالمی امدادی ادارے (این جی اُو) کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر ایک ہزار بچوں میں سے 40.7بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اِس بات سے لگائیں کہ پاکستان کے بعد بچوں کی شرح اموات کے لحاظ سے نائجیریا دوسرے نمبر پر ہے جہاں 32.7‘ سری لیون میں 30.8‘ صومالیہ میں 29.7 اور افغانستان میں ہر ایک ہزار میں سے 29 بچے ہلاک ہو جاتے ہیں! یعنی افغانستان میں بچوں کے اموات کی شرح پاکستان سے بہتر ہے!

بدعنوانی‘ غربت اور عدم مساوات میں گہرا تعلق ہے اور اسی سبب سے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوپاتے۔ بدعنوانی کی وجہ سے ملک کی پیداوار اور سرمایہ کاری بھی متاثر ہوتی ہے جبکہ تعلیم پر بھی اِس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ غربت کا خاتمہ کس وجہ سے نہیں ہو پا رہا تو اِس کا بنیادی سبب سرکاری اداروں کی بدعنوانی سامنے آئے گی جو قوانین و قواعد پر عمل درآمد کو جب چاہیں معطل کردیتے ہیں۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں سالانہ بجٹ میں مختص کئے جانے والے مالی وسائل میں سے 20 ارب سے 40 ارب ڈالر خردبرد ہو جاتے ہیں اور یہ خردبرد اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین کرتے ہیں جو سرمائے کو بیرون ملک چھپا کر رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صدہزاری ترقیاتی اہداف (میلینئم ڈویلپمنٹ گولز) کے حصول میں خاطرخواہ کامیابی نہیں ہو رہی۔ بدعنوانی کے سبب دنیا ایک روشن مستقبل سے محروم ہے۔ الف اعلان نامی ایک غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے بچیاں ایسی ہیں جو سکول نہیں جاتے اور ایسے سکول سے باہر بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے چند ارب ڈالرز کی ضرورت ہے اور ایک ارب ڈالر اضافی طور پر مزید خرچ کردیا جائے تو بچوں کی پیدائش سے قبل یا پیدائش کے بعد ہونے والی شرح اموات کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

جاتے جاتے یہ بات بھی سن لیں کہ پاکستان میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں پانچ سو فیصد اضافہ مہنگائی‘ توانائی بحران‘ رشوت ستانی‘ بدعنوانی‘ قوانین پر عمل درآمد میں امتیازات‘ ناقص تعلیمی نظام‘ پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہر رکن پارلیمنٹ کی تنخواہ 80 ہزار روپے ماہانہ تھی جسے یکایک بڑھا کر 4 لاکھ 70 ہزار روپے کر دی گئی ہے!

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Sunday, February 22, 2015

Feb2015: Pic Story: The Poverty

SO SORRY BOY: Someone trash is other treasure! Child is garbage scavenger for living. The provincial govt of #PTI promised to send every child to school but many (20%) are out of schools. Primary education should be least priority for such kids earned less than a US Dollar (Rs: 100) for such filthiest job. (ALL PICTURES TAKEN IN GULBAHAR, Peshawar City, ON FEBRUARY 22, 2015).