Reverse Robin Hood
نجات دہندہ!
خوشخبری یہ ہے کہ ایک دہائی (دس برس) کے دوران پاکستان کی مجموعی خام اقتصادی ترقی (جی ڈی پی) کی شرح نمو 5.28 فیصد جبکہ مہنگائی کی شرح 4 فیصد کے آس پاس منڈلا رہی ہے۔ مہنگائی کی اِس صورتحال کا موازنہ اگر پاکستان پیپلزپارٹی کے ’دور حکومت‘ سے کیا جائے تو صورتحال میں بہتری غیرمعمولی دکھائی دیتی ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں مہنگائی کی شرح پچیس فیصد تک جا پہنچی تھی اور یہ زیادہ پرانی بات بھی نہیں قریب آٹھ سال پہلے ہی تو بات ہے جب پیپلزپارٹی دور حکومت تھا۔ یہ امر بھی قابل بیان ہے کہ پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں کم ترین شرح سود مقرر ہے لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ بیان کرنے کو بس یہی چند خوشخبریاں دامن مضمون میں سما سکتی ہیں!
پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہ اہے کہ قومی ترقیاتی حکمت عملی کے لئے دو اعشاریہ ایک کھرب روپے جیسی خطیر رقم مختص کی گئی ہے اور اِس رقم کی تقسیم صوابدیدی طریقے سے کیا جائے گا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مالی سال 2017-18ء کے لئے وفاقی حکومت کا بجٹ عام انتخابات کو ذہن رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے جس سے مسلم لیگ (نواز) کو وفاقی حکومت کے خزانے سے ایک کھرب جبکہ پنجاب حکومت کے خزانے سے 500 ارب روپے ملیں گے‘ جسے پارٹی اپنی سیاسی ترجیحات کے مطابق خرچ کرے گی۔
غور کیجئے کہ 2.1 (دو اعشاریہ ایک) کھرب روپے قومی ترقیاتی حکمت عملی کے لئے مختص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ 40ہزار روپے ہر پاکستانی ووٹر کے تناسب سے علیحدہ کر لئے گئے ہیں۔ غور کیجئے کہ دواعشاریہ ایک کھرب روپے کی رقم اگر سال 2013ء میں مسلم لیگ (نواز) کے لئے ووٹ کرنے والوں پر تقسیم کی جائے تو یہ فی ووٹر ڈیڑھ لاکھ روپے بنتے ہیں۔ غور کیجئے کہ دو اعشاریہ ایک کھرب روپے اگر پاکستان کے ہر خاندان پر تقسیم کئے جائیں تو یہ 75 ہزار روپے بنیں گے! اب کسی ایسی سیاسی جماعت کو عام انتخابات میں کوئی کیسے شکست دے سکے گا‘ جس نے قومی خزانے کو سیاسی ترجیحات اور عام انتخابات مدنظر رکھتے ہوئے کچھ اِس انداز میں خرچ کرنے کا عزم کر رکھا ہو کہ یہ رقم تحلیل (خرچ) بھی ہو جائے لیکن ناکافی رہے!
پاکستان کے وفاقی بجٹ 2017-18 کا سب سے بڑا اور بنیادی خرچ یہی ’’2.1 کھرب روپے‘‘ ہیں جن کا 70فیصد حصہ ایسے منصوبوں پر خرچ ہوگا جن میں سیمنٹ اور سریا استعمال ہو۔ 20فیصد گاڑیوں کی خرید اور چار فیصد انسانی ترقی جبکہ قریب چار ہی فیصد دیگر متفرق اخراجات کی نذر ہوگا۔ اندازہ ہے کہ اِن ’2.1کھرب روپوں‘ کا زیادہ سے زیادہ چھ سو ارب اور کم سے کم دوسو ارب روپے جیسا خطیر حصہ مالی و انتظامی بدعنوانیوں یا ادارہ جاتی نااہلیوں کے سبب ضائع ہو جائے گا۔
بجٹ 2017-18ء کا تعلق کسی بھی طرح ہمارے معاشرے کے اُس طبقے سے نہیں جو سب سے زیادہ مستحق ہے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان دو کھرب روپے ایک ایسی ترقی کے نام پر خرچ کرنے جا رہا ہے جس سے اُس کی اکثریتی آبادی کے مشکلات بھرے روزوشب (معمولات) پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیا ہمارے حکمران نہیں جانتے کہ پاکستان کی قریب 30فیصد آبادی یعنی 6 کروڑ لوگوں کی معاشی حالت کچھ ایسی ہے کہ وہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں یعنی تیس فیصد پاکستانیوں کی یومیہ آمدنی دوسو روپے سے کم ہے! اگر یہ بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وفاقی بجٹ میں کم آمدنی اور بالخصوص غربت کے شکار طبقات کے لئے براہ راست کچھ مختص نہیں۔ وہ لوگ جو غذائی قلت کا شکار ہیں‘ جنہوں بھوک پیاس لاحق ہے‘ جنہیں بیماریوں نے آ گھیرا ہے اور جنہیں اپنی بقاء کے مراحل درپیش ہیں‘ اِس وفاقی بجٹ کے حساب سے شمار ہی نہیں ہوئے!
کسی بھی اقتصادی ترقی کا انحصار‘ کسی ملک میں پیدا ہونے والی بجلی پر ہوتا ہے۔ اقتصادی جائزہ برائے سال 2016-17ء کے تحت دیئے گئے اعدادوشمار کو اگر قابل بھروسہ سمجھا جائے تو پاکستان میں بجلی اور گیس کے شعبوں میں 3.5فیصد کے تناسب سے اضافہ ہوا ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر قومی خام پیداوار (جی ڈی پی) بھلا کیسے 5.3فیصد ہو سکتی ہے!؟
اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق سال 2017ء میں ملک میں بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 22.9ملین سے بڑھ کر 25.1 ملین میگاواٹ رہی لیکن بجلی کی پیداوار کم ہوئی۔ کہنے کا مطلب ہے کہ پیداواری صلاحیت موجود ہے لیکن حکومت اِس قابل نہیں کہ وہ ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت سے خاطرخواہ استفادہ کر سکے۔
مالی سال کے لئے ’آمدن و اخراجات‘ کا سالانہ میزانہ (بجٹ) ’خیالی من گھڑت تصورات‘ پر نہیں بلکہ مستقبل کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرتب ہونا چاہئے لیکن یہ الفاظ کا گورکھ دھندا اور مقصدیت سے خالی دکھائی دیتا ہے جس میں اعدادوشمار کے ذریعے کچھ ایسا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا عملی زندگی اور برسرزمین حقائق سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ بجٹ معیار کے لحاظ سے عوام کی توقعات اور ضروریات کا احاطہ نہیں کر رہا۔ بجٹ 2017-18ء اُس کردار (رابن ہڈ) کی کہانی کا الٹ ہے جو اپنے وقت کے امیروں سے سرمایہ چھین کر اُسے غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتا تھا۔ بجٹ میں پہلے سے عائد اُن تمام ٹیکسوں (محصولات) کو نہ صرف برقرار بلکہ اُن کی شرح بھی بڑھا دی گئی ہے جس میں ملک کے کم آمدنی رکھنے والے طبقات سے نسبتاً زیادہ ٹیکس وصول کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ چونکہ حکومت سرمایہ دار طبقات سے خاطرخواہ ٹیکس وصول کرنے میں عملاً ناکام ثابت ہو رہی ہے اِس وجہ سے اپنی اِس نااہلی کی سزا غریبوں کو دی جا رہی ہے اور اُن سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ کسی رحم دل ’رابن ہڈ‘ کے عمل کی یہ برعکس مثال اپنی جگہ دلچسپ و عجیب اور منفرد ہے۔ آج کے پاکستان کی اقتصادی مشکلات و مسائل کے حل بارے توقعات اُس ’رابن ہڈ (نجات دہندہ)‘ جیسے کردار سے وابستہ ہیں‘ جو ملک کے سرمایہ داروں کی بجائے غریبوں پر رحم کرے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرجسین اِمام)