Showing posts with label Budget 2017-18. Show all posts
Showing posts with label Budget 2017-18. Show all posts

Sunday, March 4, 2018

TRANSLATION: Alarm Bells by Dr. Farrukh Saleem

Alarm bells
خطرے کی گھنٹیاں
پاکستان کی معیشت اور اقتصادیات کو خسارے لاحق ہیں۔ 
رواں مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے ابتدائی سات ماہ کا جائزہ لیا جائے تو آمدن اور اخراجات میں عدم توازن 48 فیصد جیسی بلند سطح کو چھو رہا ہے‘ جو قریب 9 ارب ڈالر کے مساوی خسارہ ہے۔ قرض لیکر معاملات سدھارنے کی کوشش اور حکمت عملی بھی کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ باوجود قرض حاصل کرنے کے بھی غیرملکی ذخائر میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوسکا۔ ’اسٹیٹ بینک آف پاکستان‘ کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم ہر گزرتے دن کم ہو رہا ہے جو اِس وقت 12.7 ارب ڈالر ہے اور اِس کے ذریعے پاکستان صرف 2 ماہ کی درآمدات کرنے کے قابل ہے!

فروری 2017ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے درآمدات کی حوصلہ شکنی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے کے لئے چند اقدامات کئے جن میں یہ بات بھی شامل تھی کہ 404 اشیاء کی درآمد کے لئے 100 فیصد نقد رقم ادا کرنا پڑے گی۔ اکتوبر 2017ء میں وفاقی وزارت خزانہ (ایف بی آر) نے 731 اشیاء پر اضافی درآمدی ڈیوٹی (محصولات) عائد کئے‘ اِن میں سے زیادہ تر چیزیں سامان تعیش تھیں جیسا کہ ڈائپرز‘ شیمپو‘ ٹماٹروں کا گودا (ٹومیٹو پیسٹ)‘ چاکلیٹ‘ دودھ یا اِس سے بنی ہوئی مصنوعات‘ کتوں کے لئے کھانے پینے کی اشیاء اور موٹر گاڑیاں شامل تھیں لیکن اِس کے باوجود بھی حکومتی آمدن و اخراجات (کرنٹ اکاونٹ) کے خسارے پر قابو نہیں پایا جاسکا جس میں اضافہ ہر تدبیر کی ناکامی ثابت ہو رہا ہے۔ ’’مریض عشق پر رحمت خدا کی ۔۔۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔‘‘

آمدن و اخراجات کے خسارے پر قابو پانے میں ’وزارت برائے مالیاتی امور (فنانس منسٹری)‘ مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ قومی اسمبلی نے سالانہ آمدن و اخراجات کے میزانئے کی منظوری دی جس میں مجموعی قومی آمدنی کے تناسب سے 4.1فیصد یعنی 1.480 کھرب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا تھا لیکن موجودہ بجٹ خسارہ چھ فیصد سے تجاوز کر گیا ہے جو 2.2 کھرب روپے کے مساوی ہے۔

پاکستان کے ’رواں خسارے‘ کی بنیادی وجہ قومی اداروں کی ناقص کارکردگی کے باعث خزانے پر بوجھ ہے۔ بجلی کے پیداواری شعبے کو لیں جہاں کبھی 120 ارب روپے کی بجلی چوری ہوا کرتی تھی اب یہ چوری بڑھ کر 360 ارب روپے ہو چکی ہے۔ جولائی 2013ء میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے حکومت سنبھالی اور 480 ارب روپے کا گردشی قرضہ ادا کیا لیکن ایسے اقدامات نہیں کئے کہ جن سے گردشی قرض پھر سے جمع نہ ہو اور نتیجہ یہ نکلا کہ پانچ سال مکمل ہونے سے پہلے ہی آج ایک مرتبہ پھر 520 ارب روپے کا گردشی قرضہ ’حکومت پاکستان‘ پر واجب الادأ ہے! علاؤہ ازیں حکومت نے 450 ارب روپے کی سرمایہ کاری ’پاور ہولڈنگ کمپنی پرائیویٹ لمٹیڈ‘ میں کر دی ہے لیکن مذکورہ پاور ہولڈنگ کمپنی کو چلانے اور اِسے فراہم کئے جانے والے قرض کی ادائیگی کے لئے مزید قرض حاصل کرنے پڑ رہے ہیں۔ اگر ہم بجلی کے پیداواری شعبے کے مجموعی خسارے کو دیکھیں تو وہ ’970 ارب روپے‘ جیسی بلند سطح کو چھو رہا ہے لیکن اِس قدر غیرمعمولی خسارے کو ہنسی خوشی برداشت کرنے والے حقائق کا مسلسل انکار بھی کر رہے ہیں۔
کیا یہ بات اپنی جگہ تشویشناک نہیں کہ ’پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس اُو)‘ کے قابل وصول محاصل (receivables) میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ 334 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ اِسی طرح ’سوئی ناردن گیس پائپ لائنز (ایس این جی پی ایل)‘ کا خسارہ 15.9 ارب روپے اور پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن (پی آئی اے) کا سالانہ خسارہ 26 ارب روپے تک جا پہنچا ہے!

پاکستان کا اقتصادی خسارہ نہ صرف قومی آمدن کی مد میں ہونے والے نقصانات ہیں بلکہ غیرمحتاط حکومتی اخراجات اور غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے ہر پاکستانی خاندان قریب 10 لاکھ روپے کا مقروض بھی ہو چکا ہے!

انگریزی زبان میں دنیا کے عظیم ترین مصنفین اور ڈراما نگاروں میں شمار ہونے والے‘ برطانیہ کے قومی شاعر ولیم شیکسپیئر (William Shakespeare) نے کہا تھا
’’ہم اپنی غلطیوں کے لئے مردہ لوگوں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں! (He that dies pays all debts)۔‘‘

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, February 18, 2018

Feb 2018: Wishes vs Development - the development scenario of KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ترقیاتی اہداف: اِنتظامی مشکلات!
خیبرپختونخوا حکومت کا شروع دن سے دعویٰ رہا ہے کہ اِس نے اُن تمام شعبوں کی ترقی کو نسبتاً زیادہ توجہ دی‘ جو ماضی میں ’نظرانداز‘ چلے آ رہے تھے اور اِس سلسلے میں ’’صحت و تعلیم‘‘ کا بطور خاص ’فخریہ ذکر‘ کیا جاتا ہے لیکن مختلف مدوں کے لئے صوبائی آمدنی سے مختص مالی وسائل اور اِن مالی وسائل کے استعمال سے متعلق اعدادوشمار چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ ۔۔۔ ’’صوبائی حکومت اپنے ہی مقرر کردہ ’ترقیاتی اہداف‘ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘‘ صوبائی سطح پر منصوبہ سازی اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے درمیان پائے جانے والے ’زمین و آسمان‘ کے فرق کی وجہ سے رواں مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے اختتام پر ممکن نہیں ہوگا کہ ترقی کے لئے مختص تمام مالی وسائل باوجود خواہش و کوشش بھی خرچ ہو سکیں! شک و شبے سے بالاتر ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے باقی ماندہ پاکستان کے سامنے یہ ’’بینظیر مثال‘‘ پیش کی کہ ’’تعلیم ترجیح ہونی چاہئے۔‘‘ سال دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد‘ جب تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو اُس وقت ماضی کی حکومتیں تعلیم کے لئے زیادہ سے زیادہ سالانہ ’61 ارب روپے‘ مختص کیا کرتی تھیں‘ جس میں مثالی اضافہ کرتے ہوئے یہ رقم بڑھا کر سالانہ ’’138 ارب روپے‘‘ کر دی گئی اور پھر اِس میں ہر سال اضافہ بھی کیا جاتا رہا۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ رواں مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے شعبۂ تعلیم کے لئے مختص رقم کا صرف ’’31فیصد‘‘ حصہ ہی استعمال ہو سکا ہے!

خیبرپختونخوا کا مسئلہ مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ درپیش انتظامی مشکلات ہیں‘جن کی وجہ سے ترقیاتی اہداف کے حصول ممکن نہیں ہو پا رہا۔ اِن محرکات میں صوبائی حکومت کی ترقی کے عمل پر خاطرخواہ توجہ مرکوز نہ ہونا بھی شامل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے وفاقی سطح پر ’انسداد بدعنوانی‘ کے لئے جو ’گرانقدر‘ آئینی و پارلیمانی جدوجہد شروع کر رکھی ہے‘ اُس میں خیبرپختونخوا حکومت کو اِس طرح شریک ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی بلکہ ’خیبرپختونخوا محاذ‘ پر صوبائی سیاسی فیصلہ سازوں کو کارکردگی کے ذریعے دوسرے صوبوں کی حکومتوں پر عوام کا دباؤ بڑھانا تھا۔ کچھ ایسا منظر دیکھنے کو ملتا کہ پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان میں ’’تحریک انصاف‘‘ کی طلب کرنے والے سڑکوں پر نکل آتے اور اپنی اپنی صوبائی حکومتوں کو جھنجوڑتے کہ دیکھو ’طرزحکمرانی‘ یہ ہوتی ہے لیکن آج یہی سوال قدرے مختلف اَنداز میں پوچھا جا رہا ہے کہ ۔۔۔ ’’کیا طرز حکمرانی ایسی ہوتی ہے؟‘‘

رواں مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے دوران سرکاری تعلیمی اِداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعمیرومرمت کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے صوبائی حکومت نے 20.3 ارب روپے مختص کئے‘ جس میں سے 14 ارب روپے بنیادی و ثانوی (ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) اور 6.3 ارب اعلیٰ تعلیم (ہائر ایجوکیشن) کے شعبوں کی ضروریات کے لئے تھے لیکن منصوبہ بندی و ترقی کے صوبائی محکمے کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پہلے چھ ماہ کے دوران بنیادی و ثانوی تعلیم پر 7.88 ارب روپے جاری ہو سکے جن کا 33 فیصد (4.71 ارب روپے حصہ) ہی استعمال ہوا۔ یاد رہے کہ رواں مالی سال کے آغاز پر ’خیبرپختونخوا حکومت‘ نے ’انقلابی ترقیاتی حکمت عملی‘ پیش کرنے کا دعویٰ کیا تھا‘ جو اعدادوشمار کی حد تک تو ’سو فیصد‘ درست ہے یعنی صوبائی حکومت نے سالانہ ’’208 ارب روپے‘‘ کا جو ترقیاتی پروگرام پیش کیا تھا‘ اُس میں 82 ارب روپے غیرملکی ذرائع سے حاصل ہونا تھے اور 126 ارب روپے صوبائی حکومت کی اپنی آمدنی تھی۔ اِس 208 ارب روپے کے ترقیاتی حجم کے لئے چھ ماہ میں 61.4 ارب روپے جاری کئے گئے اور اِس اکسٹھ ارب سے زائد جاری ہونے والی اِس خطیر رقم کا بھی صرف ’34.8 فیصد (43.8 ارب روپے حصہ)‘ ہی استعمال ہو سکا! افسوسناک امر یہ ہے کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت کی سالانہ ترقیاتی کارکردگی کا موازنہ خود اِس کے اپنے ہی ماضی سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران کارکردگی قدرے بہتر تھی اور صوبائی حکومت نے ترقیاتی امور کے مختص مالی وسائل کا 36 فیصد حصہ خرچ کیا تھا جو کم ہو کر قریب پینتیس فیصد رہ گیا ہے! 

عجب ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو صوبائی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والی مالی وسائل کا بھی صرف 29 فیصد حصہ (2.2 ارب روپے) ہی استعمال ہو سکا ہے۔ تعلیم کی طرح صحت کے شعبے میں بھی خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی زیادہ متاثرکن نہیں۔ سالانہ ترقیاتی حکمت عملی میں صحت کے لئے ’’12 ارب روپے‘‘ مختص کئے گئے جن میں سے 5.3 ارب روپے جاری ہوئے اور چھ ماہ کے دوران اِس جاری کردہ پانچ ارب روپے سے زائد رقم کا 3.2 ارب روپے (26.9فیصد حصہ) خرچ ہوا۔

اعدادوشمار نہ تو ہمیشہ ’’گمراہ کن‘‘ ہوتے ہیں اور نہ بوریت بھرے بلکہ اِن کا ہر لفظ ’نپا تلا‘ اور ’اہمیت کا حامل‘ (نتیجہ خیز) ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی معلوم کرنے کا کوئی نہ کوئی ایسا معیار اور کسوٹی تو بہرحال مقرر کرنا پڑے گی‘ جس پر زمینی حقائق کی جانچ کی جا سکے اور مالی امور سے متعلق اعدادوشمار گواہ ہیں کہ تحریک انصاف کے لئے خیبرپختونخوا میں حکومت ’خوش نصیبی‘ ہے لیکن اِس سے عام آدمی (ہم عوام) کی زندگی میں ’تبدیلی‘ نمایاں نہیں۔ صوبائی حکومت کی آئینی مدت (پانچ سال) مکمل ہونے کو ہیں‘ اِس عرصے کے دوران صوبائی حکومت کی ترجیح چار شعبے (تعلیم‘ علاج معالجہ‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور شاہراؤں کی توسیع و تعمیر) رہے لیکن اِن میں سے کسی ایک میں بھی ’’سوفیصد ترقی‘‘ اور کسی ایک بھی مالی سال میں مختص مالی وسائل سے ’’سوفیصد استفادہ‘‘ نہیں کیا جاسکا۔ 

صوبائی فیصلہ سازوں کے پیش نظر ’’سیاسی‘ ذاتی اُور انتخابی مفادات‘‘ کے تابع ’ترقیاتی حکمت عملی‘ اگر اَدھوری (نامکمل) ہے تو اِس کی ذمہ داری بھی بہرحال ’تحریک انصاف‘ ہی کو قبول کرنا پڑے گی‘ چاہے کوئی سنے یا نہ سنے‘ توجہ دے یا نہ دے‘ قابل غور سمجھے یا نہ سمجھے لیکن خیبرپختونخوا کے مسائل حل کرنے میں حسب وعدہ اور اعلانات کامیابی حاصل نہ کرنے والی ’تحریک انصاف‘ کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے احتساب (عام انتخابات) کی گھڑی دستک رہی ہے۔
۔

Sunday, June 11, 2017

June2017: Development scenario and budget after the budgets!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاق و سباق: بالائے طاق!
خیبرپختونخوا کے لئے ’مالی سال دوہزار سترہ اٹھارہ‘ کے دوران آمدن واخراجات کا میزانیہ (بجٹ) پیش کرتے ہوئے ہر شعبے کے لئے اضافی مالی وسائل مختص کرنے کو بڑھا چڑھا کر (سیاق و سباق سے ہٹ کر) پیش کیا گیا ہے جس نے اِس سوال کی گنجائش پیدا کر دی ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے لیکر ترقیاتی عمل کے لئے درکار (مزید) مالی وسائل (آمدنی) کہاں سے آئے گی؟ 

عام آدمی کے لئے شاید بجٹ کے اعدادوشمار سمجھنا آسان نہ ہو اور اِسی ’ناخواندگی‘ کا فائدہ ہر حکومت کی طرح موجودہ صوبائی حکومت بھی دل کھول کر اُٹھا رہی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت دوہزار اٹھارہ میں مکمل ہونے والی ہے اور وقت مقررہ یا قبل اَز مدت ’عام اِنتخابات‘ کے انعقاد کی صورتوں میں موجودہ بجٹ ہی ’ترجیحات کا خلاصہ‘ اور ’آخری کارکردگی‘ ثابت ہوگی۔ کیا صوبائی حکومت اِن اعدادوشمار کو یکسر مسترد کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے کہ اختتام پذیر ہونے جا رہے مالی سال میں آمدنی کے جس قدر اہداف مقرر کئے گئے تھے وہ حاصل نہیں ہو سکے! مثال کے طور پر گذشتہ مالی سال (دوہزارسولہ سترہ) کے لئے صوبائی حکومت نے آمدنی کا ہدف 49.5 ارب روپے مقرر کیا تھا لیکن دس ماہ کے دوران (مئی دوہزارسترہ تک) صرف 20.9 اَرب اکٹھا کئے جا سکے! اِسی طرح آئندہ مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے لئے ٹیکس اور بناء ٹیکس ذرائع سے متوقع آمدنی 45.2 ارب روپے بیان کی گئی ہے جسے حاصل کرنا ممکن نہیں لیکن اگر صوبائی حکومت آمدنی سے متعلق اپنے ہی مقرر کردہ اہداف حاصل کر بھی لیتی ہے تو یہ رقم صوبائی بجٹ کے تناسب سے صرف 7.4فیصد ہی ہوگی۔ 

مالی سال دوہزارسولہ سترہ اور سترہ اٹھارہ کی بجٹ دستاویزات کا موازنہ کرنے سے باآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف آنے والی صوبائی حکومت کے لئے مالی ذمہ داریوں کا انبار لگا رہی ہے یعنی اگر آئندہ صوبائی حکومت تحریک انصاف کے (چھوڑے ہوئے) اَدھورے کام مکمل کرتی ہے اور اِس دوران کوئی بھی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کرتی تو اُسے کم وبیش ’4 چار سال 5ماہ‘ صرف اُن ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے لئے درکار ہوں گے‘ جن کی منصوبہ بندی اور اِس کے لئے مالی وسائل مختص کرنے والوں نے اُس مدت کو زیادہ اہمیت نہیں دی‘ جس پر اُس سے عام آدمی (ہم عوام) کی زندگی میں بہتری کا آغاز ہوگا۔ 

کیا یہ ممکن ہوگا کہ تحریک انصاف کے علاؤہ اگر کوئی دوسری جماعت خیبرپختونخوا میں آئندہ حکومت بنائے اور وہ اپنے انتخابی منشور و ترجیحات کو پس پشت ڈالتے ہوئے تمام تر مالی وسائل صرف اور صرف تحریک انصاف کی وضع کردہ ترقیاتی حکمت عملی پر خرچ کر دے؟ خیبرپختونخوا میں ترقی کا عمل پہلے سے زیادہ مشکوک اور ماضی سے زیادہ ’ناپائیدار‘ دکھائی دے رہا ہے‘ جو تضاد سے بھرے اعدادوشمار اور برسرزمین حقائق سے عیاں ہے اور باوجود کوشش بھی اِس مالی نظم وضبط اور ترقیاتی حکمت عملی کا دفاع ممکن نہیں‘ جس میں صوبائی خزانے سے ’ہم جماعت‘ اراکین قومی اسمبلی کو مالی وسائل فراہم کئے جا رہے ہوں! اگر ماضی کی حکمرانوں نے اپنے صوابدیدی اختیارات کا (بے دریغ) استعمال کرتے ہوئے ایسی (ناگوار) مثالیں چھوڑی ہیں‘ جن کا تعلق جماعتی‘ سیاسی‘ انتخابی یا پھر ذاتی ترجیحات سے تھا تو ’تبدیلی کی علمبردار‘ ایک تحریک کو قطعی طور پر یہ بات زیب نہیں دیتی تھی کہ وہ اُس دلدلی زمین پر پاؤں رکھتی‘ جس میں سوائے دھنستے چلے جانے کچھ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا۔

عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے بجٹ دستاویز کے ہر صفحے اور ہر سطر کے ذریعے مالی نظم و ضبط یا ترقی کا جو نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ زمینی حقائق میں فوری تبدیلی (بہتری) کا مؤجب نہیں بنے گا‘ تاوقتیکہ تحریک انصاف کے ہاتھ کوئی ’کرامت (جادو)‘ آجائے کیونکہ چار سالہ مالی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات ناممکن حد تک دشوار دکھائی دے رہی ہے کہ ترقی کے جو اہداف چار سال کے عرصے میں حاصل نہیں ہوسکے وہ یک بیک آئندہ مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے دوران حاصل کر لئے جائیں گے! 

یاد رہے کہ صوبائی حکومت یہ دعویٰ بھی رکھتی ہے کہ اُسے محصولات (ٹیکسوں) سے 22.3 اور بناء ٹیکس آمدنی کے ذریعے 22.9 ارب روپے حاصل ہوں گے اور بناء ٹیکس لگائے جس آمدنی کا ذکر کیا گیا ہے وہ ’حکومتی اثاثوں‘ کی نجکاری ہے‘ جو کوئی نیا تصور (آئیڈیا) نہیں بلکہ یہ حکمت عملی (خواب) اِس سے قبل بھی پیش کیا جا چکا ہے بالخصوص خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں (بشمول ہزارہ ڈویژن) میں سیاحتی مقامات کو ترقی دینے اور نئے سیاحتی مقامات بنانے کے ذریعے صوبائی آمدنی میں اضافہ ہونے کی نوید سنائی گئی لیکن جو اہداف (کام) چار سال میں مکمل تو کیا شروع بھی نہ ہو سکا‘ وہ محض کسی ایک مالی سال میں کس طرح مکمل کر لیا جائے گا؟ 

اِس مرحلۂ فکر پر جنگلات کی ترقی اُور شجرکاری مہمات سے برسرزمین حقائق میں تبدیلی کا بطور خاص ذکر ضروری ہے‘ جس کا احتساب کرتے ہوئے اگر چیئرمین عمران خان اُن تمام کرداروں کے ذاتی اثاثوں اور رہن سہن میں تبدیلی کی چھان بین (احتساب) کریں تو حقیقت آشکارہ ہو جائے کہ ’ایک ارب درختوں پر مبنی شجرکاری مہم‘ کی بدولت ترقی کس قدر محدود اور متعلقہ فیصلہ سازوں کی ذاتی زندگیوں (رہن سہن) میں تبدیلی کا مظہر ثابت ہوئی ہے! 

خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے بعد سے جس قدر ترقی اور تبدیلی تحریک انصاف کے وزیروں مشیروں اور اُن کے آگے پیچھے ہاتھ باندھے ’فوج ظفر موج‘ کی زندگیوں میں آئی ہے‘ اُس جیسی ’’آشنا مثالیں‘‘ دیگر سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا بھی (مذمتی) بیان ہے۔ خودفریبی کی انتہاء ہے کہ خیبرپختونخوا کے مالی نظم وضبط کا ایک پہلو ایسا بھی ہے‘ جسے روشن اُور مثالی قرار دیا جا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب گذشتہ مالی سال (دوہزارسولہ سترہ) کا اختتام ہو رہا تھا تو صوبائی خزانے میں 11.8 ارب روپے تھے اور اِس مرتبہ نئے مالی سال (دوہزار سترہ اٹھارہ) میں داخل ہوتے وقت صوبائی خزانے میں 24.8 ارب روپے ’ذخیرہ‘ ہیں! کیا صوبائی حکومت کا کام ’بچت‘ کرنا تھا یا (مینڈیٹ تھا کہ) دستیاب مالی وسائل کا استعمال کرکے وہ ’باسہولت بہتری (تبدیلی)‘ لائی جائے‘ ایک ایسی ’فقیدالمثال تبدیلی‘ جس کی خیبرپختونخوا آج بھی راہ دیکھ رہا ہے!

Saturday, June 10, 2017

June2017: Budget & Education - Financial Resources not just enough!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
کارکردگی: حاوی حقائق!
برسرزمین حقائق کا تقاضا یہ ہے کہ ’انسانی وسائل کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی‘ جیسی ترجیحات سرفہرست رکھی جائیں۔ خیبرپختونخوا کے بجٹ برائے مالی سال دوہزار سترہ اٹھارہ سے وابستہ توقعات بھلا کیسے پوری ہو سکتی ہیں جبکہ اُن جملہ امور کا خاتمہ نہیں کیا گیا‘ جن کے باعث گذشتہ مالی سالوں کے دوران مختص وسائل ضائع ہوتے رہے ہیں۔ ’سفررائیگاں‘ کے عنوان سے ’نو جون‘ کو ’نئے مالی سال اُور بلدیاتی نظام‘ کے حوالے سے جائزہ پیش کیا گیا‘ تاکہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو اُن کا یہ انتخابی وعدہ یاد دلایا جا سکے کہ ۔۔۔ ’’قانون ساز اَراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری نہیں کئے جائیں گے اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔‘‘ لیکن اگر ایسا عملاً نہیں ہو پا رہا تو فکروعمل کی اصلاح ضروری ہے۔

مالی سال دوہزارسترہ اٹھارہ کے لئے خیبرپختونخوا حکومت نے ’شعبۂ تعلیم‘ کے لئے 136 ارب روپے مختص کئے جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے ’’پندرہ فیصد‘‘ زیادہ ہیں! قابل ذکر ہے کہ صوبے کی مجموعی ترقیاتی حکمت عملی (اے ڈی پی) کا حجم 208ارب روپے میں سے 9.77 فیصد (بیس اعشاریہ بتیس ارب روپے) پرائمری اور ہائر ایجوکیشن میں ترقیاتی کاموں کے لئے مختص کئے گئے ہیں! 

سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے مالی وسائل مختص کرنے میں ’بہادری (فراخدلی) کا مظاہرہ‘ کرنے میں موجودہ صوبائی حکومت کا جواب نہیں لیکن کیا اب تک کے تجربات سے ثابت نہیں ہوا کہ محض مالی وسائل پانی کی طرح بہانے ہی سے بہتری نہیں لائی جا سکتی؟ تعلیم کے لئے مختص مالی وسائل کا بڑا حصہ جن تین مدوں میں خرچ ہو رہا ہے اُن کا تعلق غیرترقیاتی اخراجات سے ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں و مراعات اور دیگر اخراجات مختص مالی وسائل کے قریب نوے فیصد کو چھو رہے ہیں! پرائمری (بنیادی) تعلیم کے شعبے میں اساتذہ کی بذریعہ برطانوی ادارے ’برٹش کونسل‘ پندرہ روزہ تربیت پر ایک ارب روپے سے زائد رقم خرچ کرنا اور تربیتی عمل مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے آنے والے وقت میں ایک ایسا ’اسکینڈل‘ ثابت ہوگا‘ جس میں بڑے بڑے نام ’ملوث پائے جائیں گے۔‘ حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی تعلیمی پالیسی اور مختص مالی وسائل سے یا تو براہ راست ’برٹش کونسل‘ یا پھر ’برٹس کونسل‘ سے وابستہ رہے ملازمین کو زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے خیبرپختونخوا کے تعلیمی ڈھانچے کی بہتری کے لئے جس قدر ذیلی شعبے تخلیق کئے اُن میں حیرت انگیز طور پر برٹش کونسل سے سابق اور حاضر سروس ملازمین کی خدمات بھاری تنخواہوں اور مراعات کے عوض حاصل کی گئیں۔ حتیٰ کہ تشہیری مہمات کو ڈیزائن (تخلیق) کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی قرار دی جاسکتی ہے!؟ سوال یہ ہے کہ ماضی میں اساتذہ کی تربیت پر ایک ارب سے زائد خرچ کرنے سے کیا نتائج حاصل ہوئے اور نئے مالی سال میں 30 کروڑ (300ملین) روپے مزید مختص کرنے سے کیا بہتری آئے گی؟ دوسروں پر تنقید اور بلند بانگ دعوؤں پر مبنی بیانات جاری کرنے سے ایک ’سیاسی ضرورت‘ تو ’بخوبی پوری‘ ہو رہی ہے لیکن اگر خیبرپختونخوا کے سیاسی فیصلہ ساز کبھی اپنے آپ سے بھی باتیں کریں تو اُن کے علم میں اضافہ ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کار ’محمود جان بابر‘ سے اگر یہ نتیجۂ خیال مستعار لیا جائے کہ ’’تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی قیادت نے چیئرمین عمران خان کو ’اَندھیرے میں رکھتے ہوئے‘ ترقی اور تبدیلی کا جو نقشہ اُن کے سامنے پیش کیا ہے‘ وہ سوفیصد حقائق پر مبنی نہیں اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود اگر بہتری کے لئے عملی کوشش کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو پا رہے تو ’’طرزحکمرانی کی اصلاح‘ اِحتساب اُور تبدیلی‘‘ کے نام پر برسراِقتدار آنے والوں کو اپنے طرزفکروعمل پر غور کرنا چاہئے کہ ’حائل رکاوٹیں‘ کیا ہیں اور اُن سے چھٹکارہ پانے کے لئے کیا تدابیر اختیار کی جانی چاہیءں لیکن جو ایک بنیادی سوال نہیں اُٹھایا جا رہا وہ یہ ہے کہ ’’کیا چیئرمین عمران خان کی خیبرپختونخوا کے امور میں دلچسپی اُسی درجے (مقام بلند) پر فائز ہے جو مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے (حیران کن) نتائج کے وقت تھی؟‘‘ 

تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے بناء ’ہیوی ویٹ (ایلیکٹ ایبلز)‘ مئی دوہزارتیرہ کا انتخابی معرکہ اپنے نام کیا لیکن کیا آئندہ بھی ایسا کر پائے گی جبکہ تحریک انصاف کا تنظیمی ڈھانچہ اور کارکنوں کے آپسی اختلافات و تعلقات (بداعتمادی) کم ترین درجے پر ہے!؟ 

صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سیاسی معاملہ فہمی‘ بصیرت اور قدکاٹھ اپنی جگہ لیکن خیبرپختونخوا کی زیرنگرانی ’’تعلیم‘ صحت اُور بلدیاتی نظام‘‘ کا قبلہ بطور ترجیح درست کئے بناء ہر سال زیادہ سے زیادہ‘ بلکہ اور بھی زیادہ مالی وسائل سے کام لینا اُس وقت تک ’کارگر ثابت نہیں ہو گا‘ جب تک تعریف و توصیف کی ماہر ’افسرشاہی‘ کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے دھوکے (سراب) سے بچا نہیں جاتا‘ جب تک خود کو ’عقل کل‘ سمجھنے کی بجائے مشاورتی عمل کو وسعت نہیں دی جاتی‘ اور جب تک بلدیاتی نظام کو مضبوط و توانا نہیں کیا جاتا کیونکہ مسائل اور دستیاب وسائل (جمع پونجی) کا اِدارک رکھتے ہوئے فیصلہ سازی کے منصب پر فائز کردار ’نمائشی اقدامات‘ سے گریز کئے بناء ترقی کو پائیدار و معیاری نہیں بنایا جا سکے گا! 

تندوتلخ سہی لیکن حقیقت پر حقیقت (حاوی) ہی رہے گی کہ ’’خوش رنگ اقتدار کے ساتھ جڑی ذمہ داریوں کا ذائقہ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے!‘‘

Friday, June 9, 2017

June2017: KP Budget for FY 2017-18 & ignored LG System!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سفر رائیگاں!؟
خود کو آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا محسوس کرنے والوں کے لئے سال دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل اور بعد کی صورتحال زیادہ مختلف نہیں! کردار (چہرے) بدل گئے ہیں لیکن ’سیاسی تماشا‘ اور ’تماش بینوں‘ کا ایک دوسرے سے (دیکھدا جاندا رے جیسا) تعلق وہیں کا وہیں ہے‘ یہی سبب ہے کہ ’خیبرپختونخوا‘ کے ’وسائل اور مسائل‘ کی الجھن میں ہر ’بجٹ‘ کے ساتھ اِضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے! 

خوداحتسابی کے کم سے کم معیار کے ساتھ بھی اگر مالی و انتظامی نظم وضبط لاگو کرنے کی زحمت گوارہ کی جاتی‘ طرز حکمرانی کی بنیاد ’اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے‘ جیسی صورت اختیار کی جاتی تو ’الفاظ کے گورکھ دھندے‘ پر مبنی صوبائی آمدن و اخراجات کا سالانہ میزانیہ (بجٹ) ہر سال بہتری و تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا۔ یادش بخیر سال 2013ء میں خیبرپختونخوا حکومت نے ’بلدیاتی حکومتوں سے متعلق قانون سازی (لوکل باڈیز ایکٹ)‘ کے ذریعے اِس عزم کا اظہار کیا تھا کہ صوبائی حکومت ہر مالی سال کے آغاز پر 30 فیصد ترقیاتی بجٹ (اینول ڈویلپمنٹ پروگرام) عوام کے منتخب بلدیاتی نمائندوں (ضلعی ترقی) کے حوالے کرے گی لیکن سات جون کو صوبائی وزیرخزانہ مظفر سید نے مالی سال دوہزار سترہ و اٹھارہ کا بجٹ پیش کیا‘ جس سے قبل اُمید تھی کہ اپنی آئینی مدت کے آخری سال مقامی سطح پر ترقی کے لئے زیادہ مالی وسائل مختص کئے جائیں گے جس سے ایک ایسا مضبوط و توانا بلدیاتی نظام تشکیل پائے گا‘ جو نہ صرف دوسرے صوبوں کے لئے فقیلد المثال ہو گا بلکہ اس کے ذریعے خیبرپختونخوا میں ’’ترقیاتی عمل کی پیاس‘‘ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ بناء تمہید قابل مذمت قرار دینا چاہئے کہ ’’ترقی کے عمل کو ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی کے اراکین اور تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے اراکین کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے‘‘ جو اِس سے قبل بھی ’سیاسی‘ انتخابی اور ذاتی‘ ترجیحات کی بنیاد پر اپنے اپنے علاقوں میں ترقی کے نام پر جوکچھ بھی سرانجام دیتے آ رہے ہیں اُس پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی ’تبدیلی‘ کے بارے میں عمومی رائے (تاثر) اگر یہ ہے کہ اِس کا معیار اور مقدار دونوں ہی تسلی بخش نہیں تو بلدیاتی نمائندوں کی اجتماعی فہم و فراست اور مقامی حکومتوں کے ذریعے مقامی مسائل کے حل کو زیادہ بڑا اور وسیع المعانی موقع دینا چاہئے تھا لیکن اگر ایسا نہیں کیا گیا تو درحقیقت تحریک انصاف نے موقع نہ دے کر اپنے آپ کو ملنے والا وہ موقع ضائع کر دیا ہے‘ جو آئندہ عام انتخابات کے نتائج کو اِس کے حق میں تبدیل کرنے کی صلاحیت (قدرت) رکھتا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے نئے مالی سال کے لئے مجوزہ بجٹ ’سات جون‘ کو صوبائی اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جس کا کل حجم 603 ارب روپے ہے اور اِس میں صوبائی خزانے سے ترقیاتی کاموں کے لئے 126 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں‘ جس میں بیرون ملک سے حاصل ہونے والی 82 ارب روپے کی مالی امداد شامل نہیں۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ (اپنے ہی تخلیق کردہ قانون) کے تحت صوبائی اِس بات کی پابند تھی کہ وہ بلدیاتی حکومتوں کو تعمیروترقی کے لئے مختص مالی وسائل کا 30فیصد منتقل کر دیتی لیکن مجوزہ بجٹ میں بلدیاتی اداروں کا ترقیاتی حکمت عملی کے لئے مختص مالی وسائل میں حصہ 22.2 فیصد رہے گا یعنی ایک سو چھبیس ارب روپے میں سے قریب 28 ارب روپے اضلاع کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے لئے مخصوص ہوں گے! کیا اِسے خیبرپختونخوا کے تین سطحی بلدیاتی نظام سے اِنصاف قرار دیا جاسکتا ہے؟

صوبائی بجٹ دستاویز (ڈاکیومنٹ) کئی لحاظ سے دلچسپ ہے لیکن اگر موضوع کو ’بلدیاتی اداروں‘ کی حد تک محدود کر کے اِسے پڑھا جائے تو صوبائی حکومت نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ’’خیبرپختونخوا میں بلدیاتی ادارے اہم مقام رکھتے ہیں اور اِن کی اہمیت مسلمہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی اِس بات کا بھی ذکر تحریری طور پر موجود ہے کہ صوبائی حکومت کی مالی ذمہ داریوں میں یہ امر شامل ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کے لئے ترقیاتی بجٹ کا ’30فیصد‘ مختص کرے گی تو پھر کیا وجہ تھی کہ عملی طور پر ایسا نہیں کیا گیا تو اِس قریب ’آٹھ فیصد‘ کمی جیسے ’کھلے تضاد‘ کی وضاحت (حساب) کون دے گا؟ 

خیبرپختونخوا کے زمینی حقائق اِس بات کے متقاضی تھے کہ ’فسکل ائر دوہزار سترہ اٹھارہ‘ کے بجٹ میں کم سے کم 30فیصد کی آئینی حد سے زیادہ (بڑھ کر) مالی وسائل فراہم کئے جاتے لیکن عجب ہے کہ صوبائی حکومت نے تو اِس مرتبہ گذشتہ مالی سال (2016-17ء) کے بجٹ سے بھی کم مالی وسائل مختص کئے ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ مالی سال میں 33.9 ارب روپے اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کو دیئے گئے تھے جو اُس وقت کی کل ایک سو چھبیس ارب روپے کی صوبائی ترقیاتی حکمت عملی کا 27.1 (ستائیس اعشاریہ ایک) فیصد بنتا تھا اُور اُمید تھی کہ آئندہ مالی سال میں کم سے کم اِس تین فیصد کمی کو دور کرتے ہوئے مزید دس فیصد اِضافہ کیا جائے گا تاکہ نہ صرف ایک آئینی ذمہ داری کی ادائیگی ’خوش اسلوبی‘ کے ساتھ ممکن ہو سکے بلکہ کم ترقی یافتہ اضلاع کو زیادہ مالی وسائل فراہم کرکے اُس شعور و پختگی کو خراج تحسین پیش کیا جاسکتا تھا‘ جس نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا پر حکمرانی کرنے والی دیگر روائتی سیاسی جماعتوں کو مسترد کرتے ہوئے ’تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا‘ لیکن آخری سال کے بجٹ اُور بلدیاتی اِداروں کے لئے کم ترین مالی وسائل مختص کرنے کے عمل نے گویا ’اک خواب سہانے‘ ہی کو روند ڈالا ہے!‘
کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن موجودہ خیبرپختونخوا حکومت کو پہلے دن سے ’مالی بحران‘ کا سامنا ہے اور اِس بحران سے نمٹنے کے لئے طرز حکمرانی میں سادگی اختیار کرتے ہوئے غیرترقیاتی اخراجات میں کمی ممکن تھی۔ ہر ایک پائی کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنے سے ترقی کے جملہ اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکتا تھا۔ 

مالی سال 2017-18ء کے لئے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ’لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ‘ کو مجموعی طور پر ’175.58ارب روپے‘ دیئے جائیں گے۔ جس میں 28 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لئے اور 121.37 ارب روپے ملازمین کی تنخواہیں مراعات اور دیگر غیرترقیاتی اخراجات کی نذر ہوں گے لیکن بس یہی نہیں بلکہ تعمیر و ترقی کے لئے 28 ارب روپے اور غیرترقیاتی امور پر 121 ارب روپے کے علاؤہ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے لئے (مختص ایک سو پچھتہر اعشاریہ اٹھاون ارب روپے میں سے) 20 ارب روپے اُن غیرترقیاتی اخراجات کے لئے رکھے گئے ہیں جو ملازمین کی تنخواہوں کے علاؤہ ہیں! 

بیس ارب روپے معمولی رقم نہیں کہ یوں ہوا میں اُڑا دی جائے! کسی محکمے میں ملازمین کی زیادہ سے زیادہ تعداد کا میزانیہ اِس اصول پر ہونا چاہئے کہ غیرترقیاتی امور کی بجائے زیادہ مالی وسائل ترقی پر خرچ ہوں۔ اگر صوبائی حکومت ’بلدیاتی نمائندوں‘ کے دم کرم سے اِستفادہ کرے تو ’محکمۂ بلدیات‘ کے غیرترقیاتی اخراجات میں بڑی حد تک کمی لا سکتی ہے‘ لیکن اِمکانات و ممکنات کی دلدلی زمین پر پاؤں رکھنے والوں کو اَندیشہ ہے کہ وہ اپنا (سیاسی) توازن یعنی اَراکین اسمبلی اپنی اہمیت ہی کھو بیٹھیں گے! لیکن اگر اپنی ہستی (اَنا اور مفادات) کی قربانی دینے کا حوصلہ (ہمت) کا عملی مظاہرہ نہیں ہوگا‘ تو اُس وقت تک کوئی بھی دانہ خاک میں مل کر ’گل و گلزار‘ نہیں ہوگا۔

Sunday, May 28, 2017

May2017: TRANSLATION: Robin Hood by Dr Farrukh Saleem

Reverse Robin Hood
نجات دہندہ!
خوشخبری یہ ہے کہ ایک دہائی (دس برس) کے دوران پاکستان کی مجموعی خام اقتصادی ترقی (جی ڈی پی) کی شرح نمو 5.28 فیصد جبکہ مہنگائی کی شرح 4 فیصد کے آس پاس منڈلا رہی ہے۔ مہنگائی کی اِس صورتحال کا موازنہ اگر پاکستان پیپلزپارٹی کے ’دور حکومت‘ سے کیا جائے تو صورتحال میں بہتری غیرمعمولی دکھائی دیتی ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں مہنگائی کی شرح پچیس فیصد تک جا پہنچی تھی اور یہ زیادہ پرانی بات بھی نہیں قریب آٹھ سال پہلے ہی تو بات ہے جب پیپلزپارٹی دور حکومت تھا۔ یہ امر بھی قابل بیان ہے کہ پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں کم ترین شرح سود مقرر ہے لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ بیان کرنے کو بس یہی چند خوشخبریاں دامن مضمون میں سما سکتی ہیں!

پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہ اہے کہ قومی ترقیاتی حکمت عملی کے لئے دو اعشاریہ ایک کھرب روپے جیسی خطیر رقم مختص کی گئی ہے اور اِس رقم کی تقسیم صوابدیدی طریقے سے کیا جائے گا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مالی سال 2017-18ء کے لئے وفاقی حکومت کا بجٹ عام انتخابات کو ذہن رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے جس سے مسلم لیگ (نواز) کو وفاقی حکومت کے خزانے سے ایک کھرب جبکہ پنجاب حکومت کے خزانے سے 500 ارب روپے ملیں گے‘ جسے پارٹی اپنی سیاسی ترجیحات کے مطابق خرچ کرے گی۔

غور کیجئے کہ 2.1 (دو اعشاریہ ایک) کھرب روپے قومی ترقیاتی حکمت عملی کے لئے مختص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ 40ہزار روپے ہر پاکستانی ووٹر کے تناسب سے علیحدہ کر لئے گئے ہیں۔ غور کیجئے کہ دواعشاریہ ایک کھرب روپے کی رقم اگر سال 2013ء میں مسلم لیگ (نواز) کے لئے ووٹ کرنے والوں پر تقسیم کی جائے تو یہ فی ووٹر ڈیڑھ لاکھ روپے بنتے ہیں۔ غور کیجئے کہ دو اعشاریہ ایک کھرب روپے اگر پاکستان کے ہر خاندان پر تقسیم کئے جائیں تو یہ 75 ہزار روپے بنیں گے! اب کسی ایسی سیاسی جماعت کو عام انتخابات میں کوئی کیسے شکست دے سکے گا‘ جس نے قومی خزانے کو سیاسی ترجیحات اور عام انتخابات مدنظر رکھتے ہوئے کچھ اِس انداز میں خرچ کرنے کا عزم کر رکھا ہو کہ یہ رقم تحلیل (خرچ) بھی ہو جائے لیکن ناکافی رہے!

پاکستان کے وفاقی بجٹ 2017-18 کا سب سے بڑا اور بنیادی خرچ یہی ’’2.1 کھرب روپے‘‘ ہیں جن کا 70فیصد حصہ ایسے منصوبوں پر خرچ ہوگا جن میں سیمنٹ اور سریا استعمال ہو۔ 20فیصد گاڑیوں کی خرید اور چار فیصد انسانی ترقی جبکہ قریب چار ہی فیصد دیگر متفرق اخراجات کی نذر ہوگا۔ اندازہ ہے کہ اِن ’2.1کھرب روپوں‘ کا زیادہ سے زیادہ چھ سو ارب اور کم سے کم دوسو ارب روپے جیسا خطیر حصہ مالی و انتظامی بدعنوانیوں یا ادارہ جاتی نااہلیوں کے سبب ضائع ہو جائے گا۔

بجٹ 2017-18ء کا تعلق کسی بھی طرح ہمارے معاشرے کے اُس طبقے سے نہیں جو سب سے زیادہ مستحق ہے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان دو کھرب روپے ایک ایسی ترقی کے نام پر خرچ کرنے جا رہا ہے جس سے اُس کی اکثریتی آبادی کے مشکلات بھرے روزوشب (معمولات) پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیا ہمارے حکمران نہیں جانتے کہ پاکستان کی قریب 30فیصد آبادی یعنی 6 کروڑ لوگوں کی معاشی حالت کچھ ایسی ہے کہ وہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں یعنی تیس فیصد پاکستانیوں کی یومیہ آمدنی دوسو روپے سے کم ہے! اگر یہ بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وفاقی بجٹ میں کم آمدنی اور بالخصوص غربت کے شکار طبقات کے لئے براہ راست کچھ مختص نہیں۔ وہ لوگ جو غذائی قلت کا شکار ہیں‘ جنہوں بھوک پیاس لاحق ہے‘ جنہیں بیماریوں نے آ گھیرا ہے اور جنہیں اپنی بقاء کے مراحل درپیش ہیں‘ اِس وفاقی بجٹ کے حساب سے شمار ہی نہیں ہوئے!

کسی بھی اقتصادی ترقی کا انحصار‘ کسی ملک میں پیدا ہونے والی بجلی پر ہوتا ہے۔ اقتصادی جائزہ برائے سال 2016-17ء کے تحت دیئے گئے اعدادوشمار کو اگر قابل بھروسہ سمجھا جائے تو پاکستان میں بجلی اور گیس کے شعبوں میں 3.5فیصد کے تناسب سے اضافہ ہوا ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر قومی خام پیداوار (جی ڈی پی) بھلا کیسے 5.3فیصد ہو سکتی ہے!؟

اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق سال 2017ء میں ملک میں بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 22.9ملین سے بڑھ کر 25.1 ملین میگاواٹ رہی لیکن بجلی کی پیداوار کم ہوئی۔ کہنے کا مطلب ہے کہ پیداواری صلاحیت موجود ہے لیکن حکومت اِس قابل نہیں کہ وہ ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت سے خاطرخواہ استفادہ کر سکے۔

مالی سال کے لئے ’آمدن و اخراجات‘ کا سالانہ میزانہ (بجٹ) ’خیالی من گھڑت تصورات‘ پر نہیں بلکہ مستقبل کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرتب ہونا چاہئے لیکن یہ الفاظ کا گورکھ دھندا اور مقصدیت سے خالی دکھائی دیتا ہے جس میں اعدادوشمار کے ذریعے کچھ ایسا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا عملی زندگی اور برسرزمین حقائق سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ بجٹ معیار کے لحاظ سے عوام کی توقعات اور ضروریات کا احاطہ نہیں کر رہا۔ بجٹ 2017-18ء اُس کردار (رابن ہڈ) کی کہانی کا الٹ ہے جو اپنے وقت کے امیروں سے سرمایہ چھین کر اُسے غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتا تھا۔ بجٹ میں پہلے سے عائد اُن تمام ٹیکسوں (محصولات) کو نہ صرف برقرار بلکہ اُن کی شرح بھی بڑھا دی گئی ہے جس میں ملک کے کم آمدنی رکھنے والے طبقات سے نسبتاً زیادہ ٹیکس وصول کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ چونکہ حکومت سرمایہ دار طبقات سے خاطرخواہ ٹیکس وصول کرنے میں عملاً ناکام ثابت ہو رہی ہے اِس وجہ سے اپنی اِس نااہلی کی سزا غریبوں کو دی جا رہی ہے اور اُن سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ کسی رحم دل ’رابن ہڈ‘ کے عمل کی یہ برعکس مثال اپنی جگہ دلچسپ و عجیب اور منفرد ہے۔ آج کے پاکستان کی اقتصادی مشکلات و مسائل کے حل بارے توقعات اُس ’رابن ہڈ (نجات دہندہ)‘ جیسے کردار سے وابستہ ہیں‘ جو ملک کے سرمایہ داروں کی بجائے غریبوں پر رحم کرے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرجسین اِمام)

Sunday, May 14, 2017

TRANSLATION: Alarm bells by Dr Farrukh Saleem

Alarm bells
خطرے کی گھنٹیاں
رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کی آمدنی 3.1 (تین اعشاریہ ایک) کھرب روپے تھی جبکہ حکومت نے اِس عرصے کے دوران مجموعی طورپر 4.3 (چار اعشاریہ تین) کھرب روپے کے اخراجات کئے جس کا مطلب یہ ہے کہ آمدنی کے مقابلے 1.24 (ایک اعشاریہ چوبیس) کھرب روپے زیادہ اخراجات کئے گئے جو اصطلاحی طور پر ’بجٹ کا خسارہ (budget deficit)‘ کہلاتا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت معمولی نہیں کیونکہ مالی سال کے اختتام تک خسارہ مزید بڑھے گا اور ملک کی موجودہ خام پیداوار (جی ڈی پی) کا پانچ فیصد (ایک اعشاریہ سات کھرب روپے) کے مساوی ہوگا جو ایک نہایت ہی خوفناک صورت ہوگی۔
بجٹ خسارے سے زیادہ خوفناک حقیقت ’گردشی قرضہ جات (circular debt)‘ ہیں جو کم وبیش 400 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں اور موجودہ مالی خسارے میں یہ چار سو ارب روپے شامل نہیں۔ اِسی طرح کی ایک خوفناک صورتحال ٹیکسوں کی واپسی بھی ہے جہاں وفاقی محکمۂ خزانہ (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کو کم و بیش 250 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنا ہیں لیکن وہ یہ ادائیگیاں روک لی گئیں ہیں۔ یہ امر بھی ملک کی اقتصادی صورتحال کی ہولناکی میں اضافہ کرتا ہے کہ 173 ارب روپے کا ملک قرضہ بھی ملک کو درپیش خسارے میں شمار نہیں کیا گیا اور اگر اِن سب مدوں کو بھی خسارے میں شامل کیا جائے تو یہ ملک کی مجموعی خام پیداوار کا7.5فیصد بن جاتا ہے جو حقیقت میں ایک بہت ہی بڑا خسارہ ہے اور اِس سے پیدا ہونے والی صورتحال ڈروانی ہے۔

یاد رہے کہ مالی سال 2016-17ء کے بجٹ میں دفاع بشمول دفاعی معاملات اور اِس شعبے سے وابستہ خدمات (سروسیز) کے لئے 860 ارب روپے مختص کئے گئے تھے لیکن رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں حکومت نے اِس مد کے لئے مختص مالی وسائل کا صرف 62 فیصد یعنی 535ارب روپے ہی جاری کئے۔ دفاع اور دفاعی امور سے متعلق شعبہ پاکستان کی اقتصادی ترجیحات میں ایسا واحد ذریعہ ہے جس میں حکومت نے مختص مالی وسائل سے کم خرچ کئے ہیں!

مالی سال 2016-17ء کے دوران قرضہ جات پر سود کی ادائیگیوں کے لئے 1.36 ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں اِس مد سے 80فیصد ادائیگیاں کی جا چکی ہیں اور مالی سال کے اختتام تک حکومت 1.5کھرب روپے حاصل کردہ ’قومی قرضہ جات‘ پر سود کی ادائیگیوں میں ادا کر چکی ہوگی۔

مالی سال 2016-17ء کے لئے اُمید دلائی گئی تھی کہ نجکاری کے ذریعے 50ارب روپے حاصل کئے جائیں گے لیکن آمدن کے اِس ذریعے سے متعلق تصور پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور اس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ متعلقہ وزیر کا تمام وقت اور توانائیاں ’پانامہ لیکس‘ کے محاذ پر وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ کے دفاع کرنے میں خرچ ہو گئیں! مالی سال 2016-17 کے آغاز پر کہا گیا تھا کہ ٹیلی کام لائسینسیز کے اجرأ سے حکومت کو 75ارب روپے آمدنی ہوگی لیکن اِس بات کو بھی حکومت کی خوش قسمتی ہی کہیئے کہ کم سے کم اِس مد میں پچاس فیصد آمدنی حاصل ہوئی ہے!

مالی سال 2016-17ء کے دوران ’بجٹ خسارہ‘ مدنظر رکھتے ہوئے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ مالی سال 2017-18ء کے بجٹ میں نئے ٹیکس لگائے جائیں گے اور ملک پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھے گا۔ نئے (مزید) ٹیکس عائد کرنے سے ملک کی موجودہ پیداوار متاثر ہوگی جبکہ مزید قرض لینے کا منفی اثر مستقبل کے پاکستان پر مرتب ہوگا اور یہ دونوں امور ہی ناگزیر (حتمی) دکھائی دے رہے ہیں!

وفاقی حکومت اگر چاہے تو وہ بجٹ کا خسارہ تین اقدامات کے ذریعے کم کر سکتی ہے۔ نمبر ایک حکومت کے غیرترقیاتی اخراجات کم کئے جائیں۔ دوسرا ٹیکس بڑھائے جائیں اور تیسرا ملک کی اقتصادی ترقی کے بارے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے لیکن جب ہم موجودہ حکومت کا طرزعمل دیکھتے ہیں تو اُسے طرزحکمرانی پر اٹھنے والے اخراجات (لاگت) کم کرنے میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ سادگی اختیار کرنا حکومت کی ترجیحات حتی کہ زبانی کلامی بیانات کا بھی حصہ نہیں! جہاں تک اقتصادی ترقی کی بات ہے تو یہ ہدف اُس وقت تک حاصل نہیں ہوگا جب تک ملک میں توانائی کا بحران موجود ہے اور ایسے عوامل (حکومتی ترجیحات) کی بھی کمی دکھائی دیتی ہے جن کی وجہ سے اقتصادی ترقی رونما ہو سکتی ہے! اِس صورتحال میں بجٹ خسارہ کم کرنے کی واحد صورت یہی رہ گئی ہے کہ حکومت مزید (نئے) ٹیکس عائد کرے۔

ٹیکس عائد کرنے کی طرح اُن کی وصولی بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر ہم ’ایف بی آر‘ کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو یہ وفاقی ادارہ ’براہ راست (ڈائریکٹ)‘ ٹیکسوں کی وصولی میں اب تک ناکام رہا ہے‘ جس کی وجہ سے بلواسطہ (بلاراست) ٹیکس عائد اور وصول کرنا پڑتے ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ بلواسطہ ٹیکس ظالمانہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ ملک کی اُس کم آمدنی والے طبقات کو نچوڑ لیتے ہیں‘ جن میں ٹیکس ادا کرنے کی سکت کم ہوتی ہے جبکہ اِس کی وجہ سے زیادہ آمدنی والے طبقات ٹیکس اَدا کرنے سے محفوظ رہتے ہیں!

بنیادی بات یہ ہے کہ بجٹ خسارہ ہی تمام اقتصادی مسائل کی جڑ ہے اور اِس پر قابو پانا وقت کی ضرورت ہے بصورت دیگر آئندہ مالی سال (2017-18ء) کے دوران پاکستانی اِس بات کے لئے تیار رہیں کہ مزید اِن ڈائریکٹ ٹیکسوں (مہنگائی میں اضافے) کے ذریعے‘ اُن کے زخموں پر ’نمک پاشی‘ کی جائے گی! اُور اُنہیں مزید سخت قسم کے اقتصادی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین امام)

Wednesday, May 10, 2017

May2017: Primary education in KP as prime-priority & last opportunity too!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
آخری سال!
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت اپنی آئینی مدت کے آخری مالی سال (دوہزارسترہ اور اٹھارہ) کے لئے آمدن و اخراجات کا میزانیہ (بجٹ) تیار کر رہی ہے اور اب تک کی مشاورت سے حاصل ہونے والی ابتدائی سفارشات سے معلوم ہوتا ہے کہ ترجیحات کو مزید ترجیح دیتے ہوئے سب سے آئندہ مالی سال سب سے زیادہ توجہ ’بنیادی و ثانوی (پرائمری اینڈ سیکنڈری) تعلیم‘ پر ہی مرکوز رہے گی جس کے لئے قریب 17فیصد زائد مالی مختص کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ 

آئندہ مالی سال کے لئے سرکاری ’پرائمری اور سیکنڈری تعلیمی اداروں‘ کے حصے میں کم سے کم ’138 ارب روپے‘ آئیں گے۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ ’خیبرپختونخوا‘ کی سیاسی تاریخ میں کبھی بھی سرکاری پرائمری تعلیمی اداروں کے لئے اِس قدر رقم مختص نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت کے آخری مالی سال (دوہزار بارہ تیرہ) میں تعلیم کے لئے صرف 61 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور اگر ہم ماضی کے قوم پرستوں کا موازنہ جنون اور تبدیلی کی بنیاد پر اصلاحات کی دعویدار موجودہ صوبائی حکومت سے کریں تو یہ اضافہ ’’126 فیصد‘‘ بنتا ہے! لیکن سوال یہ ہے کہ ایک سو چھبیس فیصد سے زائد مالی وسائل مختص کرنے کے باوجود بھی اگر سرکاری پرائمری وسیکنڈری تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور حاصل ہونے والے نتائج وہی کے وہی ہیں تو فائدہ (حاصل) کیا!

پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ زیادہ مالی وسائل مختص کرنا ہی کافی ہے جبکہ صورتحال یہ رہی کہ ماضی کی طرح حال میں بھی مختص بجٹ کا بڑا حصہ (قریب نوے فیصد یا اس سے زیادہ) تنخواہوں اور مراعات کی ادائیگی جبکہ مالی سال کے آخری تین ماہ باوجود کوشش اور تیزرفتار اخراجات کے بھی مختص مالی وسائل سے پوری طرح استفادہ نہیں ہوسکا! تو اِس بات پر کس قدر اظہار مسرت کرنا چاہئے کہ صوبائی حکومت نے گذشتہ مالی سال کے مقابلے ’’سترہ فیصد‘‘ زیادہ مالی وسائل پرائمری وسکینڈری تعلیم کے لئے مختص کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا بڑا حصہ غیرترقیاتی اخراجات (تنخواہوں) کی نذر ہو جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ پرائمری و سیکنڈری ایجوکیشن کے لئے مالی سال 2016-17ء کے دوران 118 ارب مختص کئے گئے تھے جنہیں بڑھا کر 138 ارب روپے کیا جا رہا ہے! ذہن نشین رہے کہ صوبائی حکومت نے چالیس ہزار اساتذہ بھرتی کئے اور نئے مالی سال میں مزید پندرہ ہزار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے۔ صوبائی حکومت اساتذہ کی تربیت پر بھی ریکارڈ اخراجات کر رہی ہے اور اب تک 80کروڑ روپے جس تربیت پر خرچ ہو چکے ہیں‘ اُس کا فائدہ نجانے کون سی عینک پہن کر نظر آئے گا‘ معلوم نہیں! 

ماضی میں سکولوں کے ناموں پر جو کچھ تعمیر ہوا‘ اُس کا حال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو چار لاکھ کرسیاں فراہم کرنا پڑیں اور سکولوں کے نام پر تعمیر ہونے والے ڈھانچوں میں سہولیات کی فراہمی پر 7 ارب روپے خرچ کرنا پڑے۔

سرکاری تعلیمی اِداروں کا معیار جانچنے کی واحد اکائی ’امتحانات‘ ہیں‘ جن کے لئے نصاب چاہے جتنا بھی وسیع اور جامع بنانے کی کوشش کی جائے وہ محدود ہی رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نئے مالی سال کے دوران ’ذیابیطس (شوگر)‘ کے بارے میں اسباق بھی نصاب میں شامل کرے گی کیونکہ ہری پور اور کرک کے اضلاع میں کئے گئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اِن دو اضلاع کی اُنیس فیصد سے زیادہ آبادی شوگر میں مبتلا ہے اور صوبے کے دیگر تیئس اضلاع میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہ ہونے کا یقین رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں غیرمحتاط کھانے پینے کی عادات اور کیمیائی مادوں پر مشتمل اشیائے خوردونوش کے سبب انواع و اقسام کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ سب سے زیادہ خطرہ بچوں کو لاحق ہے جو ذرائع ابلاغ میں پرکشش اشتہارات سے ملنے والی رغبت کی بنیاد پر ایسی اشیاء کھاتے ہیں‘ جن سے اُن کی صحت عمر بڑھنے کے ساتھ خراب ہوتی چلی جاتی ہے۔ کیا سرکاری و نجی سکولوں کے اندر یا اُن کے آس پاس کیمیائی مادوں سے بنی ہوئے ایسی ذائقہ دار اشیاء فروخت ہونی چاہیئں‘ جو انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں؟ نصاب کے ذریعے آگہی اپنی جگہ اہم لیکن تمباکو نوشی کے رجحان میں اُس وقت تک کمی نہیں آئے گی جب تک اِس کی ہر عمر کے لئے سرعام دستیابی ختم نہیں کی جاتی۔ 

خیبرپختونخوا حکومت پرائمری سیکنڈری ہائی اور ہائرسیکنڈری تعلیم کی ضروریات اور تقاضوں کو الگ الگ کر کے دیکھ رہی ہے‘ جبکہ اِن سب کے درمیان ایک کمزور ہوتا تعلق بھی ہے‘ جس کی کھوج اور جس کی مضبوطی کے لئے بھی عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیا ہمارے ہاں معلم بچوں کے لئے ’رول ماڈل (ہر لحاظ سے قابل تقلید ہستی)‘ ہے؟ جاپان کے ایک سکول کا دورہ کرنے والے صحافیوں نے عجیب عمل دیکھا کہ برآمدے سے گزرنے والے بچے چلتے چلتے ایک خاص مقام پر پہنچ کر چھلانگ لگاتے جبکہ فرش ٹھیک تھا اور گیلا بھی نہیں تھا کہ پھسلنے کا خطرہ یا امکان ہوتا۔ جب سکول کے انتظامی نگران سے اِس کا سبب پوچھا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ غور کیجئے وہاں ایک معلم کھڑا ہے جس کے سائے پر پاؤں رکھنا طالب علم توہین سمجھتے ہیں‘‘ یقیناًجاپان کے بچوں کو ایسا کرنے کی اُنہیں تربیت (تلقین) دی جاتی ہوگی کیونکہ بناء تربیت درس و تدریس کے عمل سے جو کچھ بھی حاصل ہو گا وہ ’’آداب فرزندی‘‘ جیسی خصوصیات کا مرکب نہیں ہو سکتا!