Showing posts with label Budget 2016-17. Show all posts
Showing posts with label Budget 2016-17. Show all posts

Sunday, February 18, 2018

Feb 2018: Wishes vs Development - the development scenario of KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ترقیاتی اہداف: اِنتظامی مشکلات!
خیبرپختونخوا حکومت کا شروع دن سے دعویٰ رہا ہے کہ اِس نے اُن تمام شعبوں کی ترقی کو نسبتاً زیادہ توجہ دی‘ جو ماضی میں ’نظرانداز‘ چلے آ رہے تھے اور اِس سلسلے میں ’’صحت و تعلیم‘‘ کا بطور خاص ’فخریہ ذکر‘ کیا جاتا ہے لیکن مختلف مدوں کے لئے صوبائی آمدنی سے مختص مالی وسائل اور اِن مالی وسائل کے استعمال سے متعلق اعدادوشمار چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ ۔۔۔ ’’صوبائی حکومت اپنے ہی مقرر کردہ ’ترقیاتی اہداف‘ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘‘ صوبائی سطح پر منصوبہ سازی اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے درمیان پائے جانے والے ’زمین و آسمان‘ کے فرق کی وجہ سے رواں مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے اختتام پر ممکن نہیں ہوگا کہ ترقی کے لئے مختص تمام مالی وسائل باوجود خواہش و کوشش بھی خرچ ہو سکیں! شک و شبے سے بالاتر ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے باقی ماندہ پاکستان کے سامنے یہ ’’بینظیر مثال‘‘ پیش کی کہ ’’تعلیم ترجیح ہونی چاہئے۔‘‘ سال دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد‘ جب تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو اُس وقت ماضی کی حکومتیں تعلیم کے لئے زیادہ سے زیادہ سالانہ ’61 ارب روپے‘ مختص کیا کرتی تھیں‘ جس میں مثالی اضافہ کرتے ہوئے یہ رقم بڑھا کر سالانہ ’’138 ارب روپے‘‘ کر دی گئی اور پھر اِس میں ہر سال اضافہ بھی کیا جاتا رہا۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ رواں مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے شعبۂ تعلیم کے لئے مختص رقم کا صرف ’’31فیصد‘‘ حصہ ہی استعمال ہو سکا ہے!

خیبرپختونخوا کا مسئلہ مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ درپیش انتظامی مشکلات ہیں‘جن کی وجہ سے ترقیاتی اہداف کے حصول ممکن نہیں ہو پا رہا۔ اِن محرکات میں صوبائی حکومت کی ترقی کے عمل پر خاطرخواہ توجہ مرکوز نہ ہونا بھی شامل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے وفاقی سطح پر ’انسداد بدعنوانی‘ کے لئے جو ’گرانقدر‘ آئینی و پارلیمانی جدوجہد شروع کر رکھی ہے‘ اُس میں خیبرپختونخوا حکومت کو اِس طرح شریک ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی بلکہ ’خیبرپختونخوا محاذ‘ پر صوبائی سیاسی فیصلہ سازوں کو کارکردگی کے ذریعے دوسرے صوبوں کی حکومتوں پر عوام کا دباؤ بڑھانا تھا۔ کچھ ایسا منظر دیکھنے کو ملتا کہ پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان میں ’’تحریک انصاف‘‘ کی طلب کرنے والے سڑکوں پر نکل آتے اور اپنی اپنی صوبائی حکومتوں کو جھنجوڑتے کہ دیکھو ’طرزحکمرانی‘ یہ ہوتی ہے لیکن آج یہی سوال قدرے مختلف اَنداز میں پوچھا جا رہا ہے کہ ۔۔۔ ’’کیا طرز حکمرانی ایسی ہوتی ہے؟‘‘

رواں مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے دوران سرکاری تعلیمی اِداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعمیرومرمت کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے صوبائی حکومت نے 20.3 ارب روپے مختص کئے‘ جس میں سے 14 ارب روپے بنیادی و ثانوی (ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) اور 6.3 ارب اعلیٰ تعلیم (ہائر ایجوکیشن) کے شعبوں کی ضروریات کے لئے تھے لیکن منصوبہ بندی و ترقی کے صوبائی محکمے کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پہلے چھ ماہ کے دوران بنیادی و ثانوی تعلیم پر 7.88 ارب روپے جاری ہو سکے جن کا 33 فیصد (4.71 ارب روپے حصہ) ہی استعمال ہوا۔ یاد رہے کہ رواں مالی سال کے آغاز پر ’خیبرپختونخوا حکومت‘ نے ’انقلابی ترقیاتی حکمت عملی‘ پیش کرنے کا دعویٰ کیا تھا‘ جو اعدادوشمار کی حد تک تو ’سو فیصد‘ درست ہے یعنی صوبائی حکومت نے سالانہ ’’208 ارب روپے‘‘ کا جو ترقیاتی پروگرام پیش کیا تھا‘ اُس میں 82 ارب روپے غیرملکی ذرائع سے حاصل ہونا تھے اور 126 ارب روپے صوبائی حکومت کی اپنی آمدنی تھی۔ اِس 208 ارب روپے کے ترقیاتی حجم کے لئے چھ ماہ میں 61.4 ارب روپے جاری کئے گئے اور اِس اکسٹھ ارب سے زائد جاری ہونے والی اِس خطیر رقم کا بھی صرف ’34.8 فیصد (43.8 ارب روپے حصہ)‘ ہی استعمال ہو سکا! افسوسناک امر یہ ہے کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت کی سالانہ ترقیاتی کارکردگی کا موازنہ خود اِس کے اپنے ہی ماضی سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران کارکردگی قدرے بہتر تھی اور صوبائی حکومت نے ترقیاتی امور کے مختص مالی وسائل کا 36 فیصد حصہ خرچ کیا تھا جو کم ہو کر قریب پینتیس فیصد رہ گیا ہے! 

عجب ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو صوبائی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والی مالی وسائل کا بھی صرف 29 فیصد حصہ (2.2 ارب روپے) ہی استعمال ہو سکا ہے۔ تعلیم کی طرح صحت کے شعبے میں بھی خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی زیادہ متاثرکن نہیں۔ سالانہ ترقیاتی حکمت عملی میں صحت کے لئے ’’12 ارب روپے‘‘ مختص کئے گئے جن میں سے 5.3 ارب روپے جاری ہوئے اور چھ ماہ کے دوران اِس جاری کردہ پانچ ارب روپے سے زائد رقم کا 3.2 ارب روپے (26.9فیصد حصہ) خرچ ہوا۔

اعدادوشمار نہ تو ہمیشہ ’’گمراہ کن‘‘ ہوتے ہیں اور نہ بوریت بھرے بلکہ اِن کا ہر لفظ ’نپا تلا‘ اور ’اہمیت کا حامل‘ (نتیجہ خیز) ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی معلوم کرنے کا کوئی نہ کوئی ایسا معیار اور کسوٹی تو بہرحال مقرر کرنا پڑے گی‘ جس پر زمینی حقائق کی جانچ کی جا سکے اور مالی امور سے متعلق اعدادوشمار گواہ ہیں کہ تحریک انصاف کے لئے خیبرپختونخوا میں حکومت ’خوش نصیبی‘ ہے لیکن اِس سے عام آدمی (ہم عوام) کی زندگی میں ’تبدیلی‘ نمایاں نہیں۔ صوبائی حکومت کی آئینی مدت (پانچ سال) مکمل ہونے کو ہیں‘ اِس عرصے کے دوران صوبائی حکومت کی ترجیح چار شعبے (تعلیم‘ علاج معالجہ‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور شاہراؤں کی توسیع و تعمیر) رہے لیکن اِن میں سے کسی ایک میں بھی ’’سوفیصد ترقی‘‘ اور کسی ایک بھی مالی سال میں مختص مالی وسائل سے ’’سوفیصد استفادہ‘‘ نہیں کیا جاسکا۔ 

صوبائی فیصلہ سازوں کے پیش نظر ’’سیاسی‘ ذاتی اُور انتخابی مفادات‘‘ کے تابع ’ترقیاتی حکمت عملی‘ اگر اَدھوری (نامکمل) ہے تو اِس کی ذمہ داری بھی بہرحال ’تحریک انصاف‘ ہی کو قبول کرنا پڑے گی‘ چاہے کوئی سنے یا نہ سنے‘ توجہ دے یا نہ دے‘ قابل غور سمجھے یا نہ سمجھے لیکن خیبرپختونخوا کے مسائل حل کرنے میں حسب وعدہ اور اعلانات کامیابی حاصل نہ کرنے والی ’تحریک انصاف‘ کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے احتساب (عام انتخابات) کی گھڑی دستک رہی ہے۔
۔

Sunday, May 14, 2017

TRANSLATION: Alarm bells by Dr Farrukh Saleem

Alarm bells
خطرے کی گھنٹیاں
رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کی آمدنی 3.1 (تین اعشاریہ ایک) کھرب روپے تھی جبکہ حکومت نے اِس عرصے کے دوران مجموعی طورپر 4.3 (چار اعشاریہ تین) کھرب روپے کے اخراجات کئے جس کا مطلب یہ ہے کہ آمدنی کے مقابلے 1.24 (ایک اعشاریہ چوبیس) کھرب روپے زیادہ اخراجات کئے گئے جو اصطلاحی طور پر ’بجٹ کا خسارہ (budget deficit)‘ کہلاتا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت معمولی نہیں کیونکہ مالی سال کے اختتام تک خسارہ مزید بڑھے گا اور ملک کی موجودہ خام پیداوار (جی ڈی پی) کا پانچ فیصد (ایک اعشاریہ سات کھرب روپے) کے مساوی ہوگا جو ایک نہایت ہی خوفناک صورت ہوگی۔
بجٹ خسارے سے زیادہ خوفناک حقیقت ’گردشی قرضہ جات (circular debt)‘ ہیں جو کم وبیش 400 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں اور موجودہ مالی خسارے میں یہ چار سو ارب روپے شامل نہیں۔ اِسی طرح کی ایک خوفناک صورتحال ٹیکسوں کی واپسی بھی ہے جہاں وفاقی محکمۂ خزانہ (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کو کم و بیش 250 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنا ہیں لیکن وہ یہ ادائیگیاں روک لی گئیں ہیں۔ یہ امر بھی ملک کی اقتصادی صورتحال کی ہولناکی میں اضافہ کرتا ہے کہ 173 ارب روپے کا ملک قرضہ بھی ملک کو درپیش خسارے میں شمار نہیں کیا گیا اور اگر اِن سب مدوں کو بھی خسارے میں شامل کیا جائے تو یہ ملک کی مجموعی خام پیداوار کا7.5فیصد بن جاتا ہے جو حقیقت میں ایک بہت ہی بڑا خسارہ ہے اور اِس سے پیدا ہونے والی صورتحال ڈروانی ہے۔

یاد رہے کہ مالی سال 2016-17ء کے بجٹ میں دفاع بشمول دفاعی معاملات اور اِس شعبے سے وابستہ خدمات (سروسیز) کے لئے 860 ارب روپے مختص کئے گئے تھے لیکن رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں حکومت نے اِس مد کے لئے مختص مالی وسائل کا صرف 62 فیصد یعنی 535ارب روپے ہی جاری کئے۔ دفاع اور دفاعی امور سے متعلق شعبہ پاکستان کی اقتصادی ترجیحات میں ایسا واحد ذریعہ ہے جس میں حکومت نے مختص مالی وسائل سے کم خرچ کئے ہیں!

مالی سال 2016-17ء کے دوران قرضہ جات پر سود کی ادائیگیوں کے لئے 1.36 ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں اِس مد سے 80فیصد ادائیگیاں کی جا چکی ہیں اور مالی سال کے اختتام تک حکومت 1.5کھرب روپے حاصل کردہ ’قومی قرضہ جات‘ پر سود کی ادائیگیوں میں ادا کر چکی ہوگی۔

مالی سال 2016-17ء کے لئے اُمید دلائی گئی تھی کہ نجکاری کے ذریعے 50ارب روپے حاصل کئے جائیں گے لیکن آمدن کے اِس ذریعے سے متعلق تصور پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور اس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ متعلقہ وزیر کا تمام وقت اور توانائیاں ’پانامہ لیکس‘ کے محاذ پر وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ کے دفاع کرنے میں خرچ ہو گئیں! مالی سال 2016-17 کے آغاز پر کہا گیا تھا کہ ٹیلی کام لائسینسیز کے اجرأ سے حکومت کو 75ارب روپے آمدنی ہوگی لیکن اِس بات کو بھی حکومت کی خوش قسمتی ہی کہیئے کہ کم سے کم اِس مد میں پچاس فیصد آمدنی حاصل ہوئی ہے!

مالی سال 2016-17ء کے دوران ’بجٹ خسارہ‘ مدنظر رکھتے ہوئے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ مالی سال 2017-18ء کے بجٹ میں نئے ٹیکس لگائے جائیں گے اور ملک پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھے گا۔ نئے (مزید) ٹیکس عائد کرنے سے ملک کی موجودہ پیداوار متاثر ہوگی جبکہ مزید قرض لینے کا منفی اثر مستقبل کے پاکستان پر مرتب ہوگا اور یہ دونوں امور ہی ناگزیر (حتمی) دکھائی دے رہے ہیں!

وفاقی حکومت اگر چاہے تو وہ بجٹ کا خسارہ تین اقدامات کے ذریعے کم کر سکتی ہے۔ نمبر ایک حکومت کے غیرترقیاتی اخراجات کم کئے جائیں۔ دوسرا ٹیکس بڑھائے جائیں اور تیسرا ملک کی اقتصادی ترقی کے بارے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے لیکن جب ہم موجودہ حکومت کا طرزعمل دیکھتے ہیں تو اُسے طرزحکمرانی پر اٹھنے والے اخراجات (لاگت) کم کرنے میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ سادگی اختیار کرنا حکومت کی ترجیحات حتی کہ زبانی کلامی بیانات کا بھی حصہ نہیں! جہاں تک اقتصادی ترقی کی بات ہے تو یہ ہدف اُس وقت تک حاصل نہیں ہوگا جب تک ملک میں توانائی کا بحران موجود ہے اور ایسے عوامل (حکومتی ترجیحات) کی بھی کمی دکھائی دیتی ہے جن کی وجہ سے اقتصادی ترقی رونما ہو سکتی ہے! اِس صورتحال میں بجٹ خسارہ کم کرنے کی واحد صورت یہی رہ گئی ہے کہ حکومت مزید (نئے) ٹیکس عائد کرے۔

ٹیکس عائد کرنے کی طرح اُن کی وصولی بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر ہم ’ایف بی آر‘ کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو یہ وفاقی ادارہ ’براہ راست (ڈائریکٹ)‘ ٹیکسوں کی وصولی میں اب تک ناکام رہا ہے‘ جس کی وجہ سے بلواسطہ (بلاراست) ٹیکس عائد اور وصول کرنا پڑتے ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ بلواسطہ ٹیکس ظالمانہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ ملک کی اُس کم آمدنی والے طبقات کو نچوڑ لیتے ہیں‘ جن میں ٹیکس ادا کرنے کی سکت کم ہوتی ہے جبکہ اِس کی وجہ سے زیادہ آمدنی والے طبقات ٹیکس اَدا کرنے سے محفوظ رہتے ہیں!

بنیادی بات یہ ہے کہ بجٹ خسارہ ہی تمام اقتصادی مسائل کی جڑ ہے اور اِس پر قابو پانا وقت کی ضرورت ہے بصورت دیگر آئندہ مالی سال (2017-18ء) کے دوران پاکستانی اِس بات کے لئے تیار رہیں کہ مزید اِن ڈائریکٹ ٹیکسوں (مہنگائی میں اضافے) کے ذریعے‘ اُن کے زخموں پر ’نمک پاشی‘ کی جائے گی! اُور اُنہیں مزید سخت قسم کے اقتصادی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین امام)

Monday, June 13, 2016

Jun2016: Expectations of Pesnioners & Worker Welfare Board

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سانس سانس جدوجہد!
پاکستان کے وزیر خزانہ ’قومی بجٹ‘ پیش کرنے کے بعد برطانیہ تشریف لے گئے ہیں اُن کے دورے کا مقصد ’سرکاری زبان میں‘ روبہ صحت ہوتے اپنے رشتہ دار وزیراعظم کی عیادت‘ تیمارداروں کا حوصلہ بڑھانا اُور وزیر اعظم کو پیش کردہ ’قومی بجٹ برائے مالی سال 2016-17ء‘ سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرنا بتایا گیا ہے حالانکہ بجٹ پیش ہونے سے قبل وزیراعظم بذریعہ ’ویڈیو لنک‘ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بجٹ کی منظوری دے چکے ہیں اور قومی اسمبلی میں پیش کی گئی بجٹ دستاویز کی نقل (ہارڈ کاپی) بھی انہیں پیشگی ہی برطانیہ میں فراہم کردی گئی تھی۔ اصولی طورپر حکومت کے جملہ وزرأ بشمول وزیر خزانہ کو ’قومی اسمبلی‘ میں جاری بجٹ پر بحث کے موقع پر موجود ہونا چاہئے تاکہ حزب اختلاف کی جانب سے آنے والی بجٹ تجاویز پر سنجیدگی سے غور ہو سکے لیکن صورتحال یہ ہے کہ نہ تو اپوزیشن کے تمام اراکین قومی اسمبلی میں جاری بجٹ بحث کا حصّہ بن رہے ہیں اور نہ ہی حکومت کی حمایت کرنے والوں کو فرصت ہے کہ وہ ماہ رمضان کی مبارک ساعتیں ایک ایسے اہم قومی معاملے پر سوچ بچار کرنے پر خرچ کریں جس کام کے لئے اُنہیں منتخب کیا جاتا ہے اور پھر سیاست جیسے قومی مفاد والے کام کی وہ باقاعدگی سے ماہانہ تنخواہ و مراعات وصول کرتے ہیں جس میں ’نیلے رنگ والا (بلیو) سرکاری پاسپورٹ‘ بھی شامل ہے‘ جس کا استعمال کرتے ہوئے وہ جب چاہیں دنیا بھر میں بناء ویزے سفر کرسکتے ہیں۔ ائرپورٹس پر بنے ہوئے ’وی وی آئی پیز لاونجز‘ کے ذریعے لائے گئے سامان کی بناء جانچ پڑتال آمدورفت کر سکتے ہیں۔ اُن کی خدمت کے لئے ’پروٹوکول کا عملہ‘ ہر وقت حاضر رہتا ہے تاکہ کسی بھی صورت ’کانچ سے نازک‘ استحقاق مجروع نہ ہونے پائے۔ ایک طرف مراعات یافتہ طبقات ہیں جن کے سرکاری وسائل پر اختیارات کا شمار ممکن نہیں اور دوسری جانب ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کہ جن کے مسائل ہر گزرتے ’بجٹ‘ کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ تصور کیجئے کہ یہ منظرنامہ اُس پاکستان کا ہے جس میں طرزحکمرانی شاہانہ ہے جبکہ 60فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے جبکہ دیگر 20 سے 25فیصد محنت کش متوسط (سفید پوش) طبقے سے تعلق رکھتی ہے‘ جن کی معیشت و معاشرت اپنی بقاء کے لئے سانس سانس جدوجہد کر رہی ہے!

وفاقی حکومت سے خیر کی توقع رکھنے والے طبقات سراپا احتجاج ہیں اور چاہتے ہیں کہ بجٹ پر نظرثانی کے مراحل میں عام آدمی (ہم عوام) کی زندگی آسان بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ کم آمدنی والے طبقات سے بالواسطہ اور بلاواسطہ وصول کئے جانے والے ٹیکس کی شرح کم کی جائے اُور شاہانہ زندگی بسر کرنے والوں سے نسبتاً زیادہ ٹیکس وصول کئے جائیں۔ اِس سلسلے میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین (پینشنرز) کی جانب سے 4 بنیادی مطالبات سامنے آئے ہیں۔ 1: پینشن میں 10فیصد ناکافی ہے‘ جسے میں کم از کم دگنا کیا جائے۔ 2: صحت کی مد میں پینشن حاصل کرنے والوں کو علاج معالجے پر بھاری اخراجات ادا کرنا پڑتے ہیں جنہیں مہنگائی کے تناسب سے اضافی میڈیکل الاؤنس اور نجی علاج گاہوں سے علاج معالجے کی سہولت دی جائے۔ 3: پینشنرز کو بجلی و گیس و دیگر یوٹیلٹی بلز میں ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ 4: حکومت کی جانب سے 80سال کے پینشنروں کے لئے مراعات میں اضافہ کیا گیا ہے جس کی مدت کم کرکے 70سال اور پینشن و میڈیکل کی شرح میں 25فیصد اضافہ کیا جائے۔

وفاقی بجٹ سے وابستہ ’ورکرز ویلفیئر بورڈ‘ کے صنعتی محنت کشوں کی توقعات بھی پوری نہیں ہوئیں اُور اب اُن کی نظریں خیبرپختونخوا حکومت پر مرکوز ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ سال دوہزار میں صوبائی حکومت کی زیرنگرانی ’ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن‘ کے تحت چالیس تعلیمی ادارے قائم کئے گئے جن سے 33 ہزار طلباء و طالبات اور چار ہزار سے زائد تدریسی و معاون عملہ کا مستقبل وابستہ ہے لیکن ’ورکرز ویلفئیر بورڈ‘ کی مالی امداد وفاق اور صوبے کے درمیان تنازعے کی وجہ سے بند ہے‘ جس کی وجہ سے وابستہ ملازمین کو گذشتہ چار ماہ سے تنخواہیں نہیں مل پا رہیں! ورکرز ویلفئیر بورڈ خیبر پختونخوا کے ملازمین کی سالانہ تنخواہوں کے لئے 1 ارب 70 کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں جس میں وفاقی حکومت نے 70 کروڑ روپے کم کر دیئے ہیں جس سے پیدا ہونے والی صورتحال یہ ہے کہ 1 ارب روپے آٹھ ماہ میں ختم (استعمال) ہو جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ گذشتہ تین برس سے حل طلب ہے۔ رواں برس بھی ماہ فروری سے مئی کی تنخواہیں نہ ملنے کے سبب ’ورکرز ویلفیئر بورڈ‘ کے ملازمین پر جو معاشی قیامت گزر رہی ہے‘ اُس دکھ اُور اَذیت کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اُور وزیر اعلیٰ پرویز خان خٹک نے بنی گالہ میں ورکرز ویلفیئر بورڈ ملازمین کا احتجاج ختم کراتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ ماہانہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور ’’نیا ورکرز ویلفئیر بورڈ‘‘ بنانے کے لئے ٹھوس عملی اقدامات کئے جائیں گے اُور اِن وعدوں کو آئندہ چند روز میں پیش ہونے والے صوبائی بجٹ میں باآسانی پورا کیا جاسکتا ہے۔
Issues of Pensioners & Worker Welfare Board having expectations from Provincial Budget