Showing posts with label Economy. Show all posts
Showing posts with label Economy. Show all posts

Sunday, June 21, 2020

IN-OBSERVANCE: May I know why?

بے خبری
ماضی کی طرح موجودہ وفاقی اُور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ہر روز‘ بلاناغہ‘ مہنگائی کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے پاس روائتی بیانات کو نئے اَنداز میں پیش کرنے کے لئے الفاظ ختم ہو گئے ہیں۔ دعویٰ ہے کہ گراں فروشی کی اِجازت نہیں دی جائے گی۔ ذخیرہ اَندوزوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے۔ خصوصی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ .... صورتحال یہ ہے کہ حکمراں برہم اُور عوام پریشان ہیں لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اِس پوری صورتحال سے فائدہ کون اُٹھا رہا ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عام آدمی (ہم عوام) تک کب پہنچیں گے؟ 
چینی کمیشن رپورٹ اُور گندم کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق حکومتی تحقیقات کے ثمرات کب ظاہر ہوں گے؟ 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر ملز مالکان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات دائر کرنے پر حکم امتناعی (سٹے آرڈر) جاری کر کے جس انداز سے عوام کی نظروں میں اپنا مقام بلند کیا ہے‘ وہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے سیاہ ابواب میں رقم ہو چکا ہے۔ کیا اب بھی ہم عوام نہیں سمجھ سکے کہ جمہوریت اُور جمہوریت کے نام قائم ہونے والی سیاسی جماعتیں اُور یہ حکمران اُن کے مسائل کا حل نہیں بلکہ بذات خود مسئلہ ہیں!؟ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو اُس کا فوری اطلاق ہوتا ہے لیکن اِس میں کمی کا ایک مہینہ گزرنے کے باوجود بھی نہ صرف پیٹرول ناپید ہے بلکہ اِس کی گرانفروشی بھی جاری ہے۔ 

عجیب صورتحال ہے کہ پیٹرول پمپوں پر سرکاری نرخ کے مطابق پیٹرول دستیاب نہیں لیکن سڑک کنارے پلاسٹک کے ڈرم میں غیرمحفوظ انداز سے انتہائی جلد آگ پکڑنے والا محلول سرعام فروخت ہو رہا ہے۔ اگر پیٹرول کی قلت ہے تو غیرقانونی طور پر فروخت کرنے والے پیٹرول کہاں سے حاصل کر رہے ہیں؟ کیا اُنہوں نے اپنے گھروں میں تیل کے کنویں کھود رکھے ہیں اُور اپنی آئل ریفائنریز بنا رکھی ہیں؟

ماضی کی طرح حال کے حکمرانوں کی بے خبری اُور تغافل عیاں ہے‘جن کے پاس عوام کو دی جانے والی طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں۔ عام آدمی (ہم عوام) کو خبر ہے کہ عالمی منڈی میں صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہی کم نہیں ہوئیں بلکہ خوردنی تیل پام آئل اُور دیگر روغنیات کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں لیکن پاکستان میں صارفین مہنگے داموں گھی اُور خوردنی تیل خرید رہے ہیں۔ چاول دال چائے اُور خشک مصالحہ جات کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہیئں لیکن چینی سے لیکر سبزی اُور دال چاول تک ہر جنس نہ صرف مہنگی بلکہ اِن کی قیمتوں میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے اُور اِس پورے منظرنامے کی عینی شاہد (تماشائی) حکومت کی نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے ایک حالیہ اجلاس سے متعلق سرکاری خبررساں ادارے نے خبر جاری کی ہے کہ ملک میں مرغیوں اُور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اُور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے صوبائی حکومتوں کو منافع خوروں کے خلاف کاروائی اور قیمتوں میں کمی لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ کیا اِس کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے یا ہوگی؟ یادش بخیر یکم رمضان المبارک سے ایک دن قبل مرغی کی فی کلوگرام قیمت 120 روپے تھی جو پورے رمضان المبارک اُور شوال المکرم کے اختتام کے قریب 200 روپے کی اوسط سے فروخت ہو رہی ہے لیکن این پی ایم سی اچانک جاگ اُٹھی ہے اُور پچاس دن سے زائد فروخت ہونے والی پولٹری مصنوعات کی قیمتوں پر حیرت کا اظہار کر رہی ہے! نجانے یہ حکمران کسے دھوکہ دے رہے ہیں!؟

تفصیلات اہم ہیں اُور اِن تفصیلات سے اُن سبھی کرداروں کی کارکردگی کو سمجھا جا سکتا ہے جنہوں نے ایک طرف مہنگائی کی غیرتحریری اجازت دے رکھی ہے اُور دوسری طرف اِن کی آنکھوں میں مگرمچھ کے آنسوو ¿ں جیسی موسلادھار بارش بھی برس رہی ہے۔ ظلم اُور صبر کی بھی آخر کوئی نہ کوئی تو انتہا ہوتی ہے۔ ہم عوام اِس بات پر کتنا فخر کریں کہ پاکستان کا وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے جو بدعنوان نہیں۔ جس کی بیرون ملک سرمایہ کاری اُور جائیدادیں نہیں۔ جس کے کاروباری مفادات اُس کے عہدے سے متصادم نہیں لیکن اگر اِس قدر شریف النفس اُور ایماندار وزیراعظم تمام تر اختیارات اُور حکومتی وسائل کے باوجود عوام کو ناجائز منافع خوری جیسے ظلم سے نہیں بچا سکتا تو محض ایمانداری اُور صداقت و امانت جیسی اہلیت کافی تصور نہیں کی جا سکتیں۔ 

توجہ مبذول رہے کہ حالیہ ’این پی ایم سی‘ اجلاس کی سربراہی (غیرمنتخب سرکاری عہدیدار) وفاقی سیکرٹری برائے خزانہ نوید کامران بلوچ نے کی‘ جس میں ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ عوام کا منتخب نمائندہ اُور متعلقہ وزیر کہاں مصروف تھے؟ 

مہنگائی جیسا سنجیدہ اُور اہم مسئلہ متقاضی ہے کہ این پی ایم سی اجلاس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں اُور سب سے پہلے اُن فیصلہ سازوں کو جیل بھجوائیں جو مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے تنخواہیں اُور مراعات وصول کر رہے ہیں! مذکورہ اجلاس میں کمیٹی نے صوبائی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو منافع خوروں کے خلاف سخت کاروائی اُور مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں آسانی اور اِن کی قیمتوں میں کمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ جیسا کہ اگر کمیٹی یہ ہدایات جاری نہ کرتی تو اسلام آباد اُور کے دیگر حصوں میں ضلعی انتظامیہ مہنگائی جاری رکھنے کی اجازت برقرار رکھتیں۔ کیا مہنگائی حکومت سے اجازت لیکر کی گئی ہے جو اِسے ختم کرنے کے لئے باقاعدہ اجلاس اُور ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ سیاسی و غیرسیاسی‘ منتخب اُور غیرمنتخب‘ ضلعی‘ صوبائی اُور وفاقی حکمرانوں سے التماس ہے ہم عوام کو مزید دھوکہ اُور دلاسہ دینے سے گریز کریں کیونکہ گزشتہ دو سال سے قائم تحریک انصاف حکومت کے گزشتہ دو ماہ کی انتہائی خراب کارکردگی سے یہ حقیقت ظاہر (بخوبی عیاں) ہو چکی ہے کہ حکمرانی میں ناتجربہ کاری کا فائدہ سرمایہ دار طبقات ہی نہیں بلکہ حکمراں (خاندان و طبقات) بھی کسی نہ کسی صورت اُٹھا رہے ہیں!
........
Clipping from Daily Aaj - 21 June 2020 Sunday
Editorial Page of Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday


Saturday, June 13, 2020

Agricultre sector ignored once again in Budget (FY2020-21)

بجٹ: کورونا ہنگام
قومی آمدن اُور اخراجات میں عدم توازن (مالی خسارہ) کسی ایک بجٹ کی ”داستان خصوصی“ نہیں بلکہ سال ہا سال سے معمول ہے کہ وفاقی اُور صوبائی حکومتیں خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہیں‘ جو ’ٹیکس فری‘ بھی ہوتا ہے یعنی اُس میں نئے محصولات عائد نہیں کئے جاتے اُور مختلف شعبوں پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی جاتی ہے جیسا کہ جائیداد کی خریداری پر عائد 5 فیصد اسٹمپ ڈیوٹی کو کم کر کے 1 فیصد کر دیا گیا ہے اُور زیادہ بڑے تناظر میں دیکھا جائے تو وفاقی حکومت نے صنعتکاروں کے مطالبے پر ’سیلز ٹیکس‘ کی شرح میں بھی کمی کی ہے۔ جب ایک طرف آمدنی کم ہو اُور دوسری طرف محصولات میں اضافے کی بجائے اِن کی شرح میں کمی کی جا رہی ہو تو اِس مالی عدم توازن (خسارے) کو پورا کرنے کے لئے حکومت کو (نہ چاہتے ہوئے بھی) قرض لینا پڑتا ہے اُور یہیں سے پاکستان کی مالی مشکلات کا آغاز ہوتا ہے۔ 

بارہ جون کو پیش کردہ ’قومی اقتصادی جائزے‘ کے مطابق ”جولائی 2019ءسے مارچ 2020ءکے درمیانی عرصے میں پاکستان کے ذمے مجموعی قرض اور مالی واجبات 20کھرب 59ارب 70کروڑ روپے تک جا پہنچے ہیں جبکہ قرض و واجبات بڑھتے بڑھتے قومی آمدنی سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں اُور صورتحال یہ ہے کہ قرض پاکستان کی مجموعی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 102.6فیصد تک پہنچ چکی ہے یعنی پاکستان کی قومی آمدنی کے ہر 100 روپے میں سے 102روپے 60 ساٹھ پیسے قرضوں (مالی ذمہ داریوں) کی ادائیگی پر خرچ ہوتے ہیں اُور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ مالی سال 2020-21ءکا بجٹ ایک ایسی صورتحال میں پیش کیا گیا ہے جبکہ ہر طرف ’کورونا کہرام‘ برپا ہے! حکومت کے شاہانہ اَخراجات میں غیرمعمولی کمی کی ضرورت ہے تاکہ قرضوں پر منحصر معیشت بہتری کی جانب گامزن ہو۔ اِقتصادی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی قرضوں میں سب سے زیادہ اضافہ مقامی قرضوں کی وجہ سے ہوا‘ جو بڑھتے ہوئے 10کھرب 74ارب 60کروڑ روپے تک جا پہنچے ہیں جبکہ بقیہ اِضافہ حکومت کے غیرملکی قرض سے ہوا جو ”6کھرب 3ارب“ روپے تک جا پہنچے ہیں۔ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2020ءتک سرکاری قرض ’جی ڈی پی‘ کے 84.4 فیصد تھا۔

تحریک اِنصاف کی شروع دن سے کوشش و خواہش ہے کہ قومی قرضوں کے حجم میں کمی یعنی قومی مالیاتی ذمہ داریوں ادا ہوں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اِس کوشش و خواہش میں مزید قرض لئے گئے۔ وزیراعظم نے مال مویشیوں (لائیو سٹاک) پر توجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ ’مرغ بانی‘ کی بات ہوئی لیکن اُسے بھی مذاق میں اُڑایا گیا۔ سوشل میڈیا پر طنز عام ہوا۔ اَب وزیراعظم نے کہا ہے کہ ”حکومت نے چھوٹے کاروبار کی سرپرستی کا اعلان کیا ہے لیکن اِس اعلان کو بھی خاطرخواہ سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔“ لیکن بہتری (تبدیلی) اُسی صورت آئے گی جب وزیراعظم چھوٹے کاروبار کے لئے قرض دیتے ہوئے یہ شرط عائد کریں نئے کاروبار اُور صنعتوں کے لئے پچانوے فیصد (بیشتر) مشینری مقامی طور پر خریدی جائے گی۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اگر کسی ادارے کو چند سو سلنڈرز کی بھی ضرورت ہوتی ہے تو وہ چین یا دیگر ممالک سے درآمد کر لیتے ہیں لیکن گوجرانوالہ‘ لاہور اُور دیگر صنعتی مراکز سے رجوع نہیں کرتے۔ ’میڈ اِن پاکستان‘ اُور ’میڈ فار پاکستان‘ کی حکمت عملیاں وضع ہونی چاہیئں۔ کورونا وبا کی صورتحال میں بجٹ اگر خصوصی طور پر پیش کیا جا سکتا ہے تو خصوصی صنعتی و کاروباری حکمت عملیاں کیوں نہیں ترتیب دی جا سکتیں۔ 

کورونا وبا کی وجہ سے آکسیجن سلنڈرز کی ضرورت (مانگ) بڑھ گئی ہے اُور حیرت انگیز طور پر ہر سرکاری و نجی ہسپتال کی پہلی کوشش و ترجیح سلنڈرز درآمد کرنے کی ہے! حکومت جہاں نجی شعبے کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کا فروغ چاہتی ہے لیکن حکومتی اِداروں کا قبلہ اُور ترجیحات درست کرنے جیسی ’کم محنت‘ کی جانب توجہ مبذول نہیں ہے۔

وفاقی بجٹ کا ’2فیصد سے کچھ زیادہ حصہ‘ بڑی فصلوں کی ترقی کے لئے مختص کیا گیا ہے حالانکہ ضرورت اِس سے کہیں گنا زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کی ہے اُور بحیثیت مجموعی زرعی شعبے کو سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ زراعت کا شعبہ ہی پاکستان کو ’کورونا وبا‘ سے بچا سکتا ہے۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے پہلے بجٹ کے پہلے چھ ماہ کورونا وائرس سے متاثر رہے گی۔ 

صنعتیں اُور کاروبار پھل پھول نہیں سکیں گے۔ نئی ملازمتوں کے مواقع نہیں پیدا ہوں گے۔ زمینیں پڑی ہیں۔ کم سے کم آبادی کے تناسب سے فصلیں ہونی چاہیئں۔ ٹماٹر آلو جیسی چیزیں کم ہوجاتی ہیں اُور اس سے نہ صرف غذائی خودکفالت ہو گی بلکہ زرعی شعبہ روزگار کی فراہمی کے ساتھ ’ایس اُو پیز‘ کے ساتھ روزگار فراہم کر سکتا ہے۔ دیگر شعبے بھی اِہم اُور ضروری ہیں لیکن وہاں کی ترقی کے ساتھ جو ملازمتی مواقع پیدا ہوتے ہیں لیکن اُن میں ’ایس اُو پیز‘ پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ زرعی شعبے کو ’ٹڈی دل‘ سے خطرات لاحق ہیں۔ ماضی میں بھی ’ٹڈی دل‘ آتا رہا۔ اَفریقہ میں زیادہ بارشیں ہونے کی وجہ سے ٹڈی دل اتنی بڑھی کہ وہ ہوا کے ساتھ ایران کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے۔ پاکستان پہنچنے سے پہلے مغربی ذرائع ابلاغ خبر دے رہے تھے کہ اِس سال 400 گنا بڑا ٹڈی دل آگے بڑھ رہا ہے جسے پاکستان کے فیصلہ سازوں نے خاطرخواہ اہمیت نہیں دی۔

ایک سیاسی قیادت ہوتی ہے۔ وزیر ٹیکنوکریٹ ہوتا ہے جس سے توقع نہیں ہونی چاہئے۔ اِس وزیر کے نیچے بیوروکریٹ (افسرشاہی) ہوتا ہے جو کئی وزارتوں کا خانہ خراب کرنے کے بعد کسی نئی وزارت کے معاملات دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اِس طرح 2 لائق اکٹھا ہو کر قومی فیصلہ سازی کرتے ہیں۔ سیکرٹری کے نیچے ڈپٹی سیکرٹری اُور ڈپٹی سیکرٹری کے نیچے ایڈیشنل سیکرٹری اُور اُن کے نیچے درجہ بہ درجہ فوج ظفر موج نالائقوں کی جمع ہے اُور اِن کے غلط فیصلے عملاً ثابت ہیں۔ 

ٹڈی دل اَفریقہ سے چل کر پاکستان پہنچنے میں ایک مہینہ لگا لیکن ہمارے سیاسی اُور غیرسیاسی فیصلہ ساز نہ تو بھانپ سکے اُور نہ ہی اُنہیں معلوم ہو سکا کہ یہ کب پہنچے گا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین ٹڈی دل چاروں صوبوں کو کہیں کم تو کہیں زیادہ متاثر کر رہا ہے اُور ہمارے پاس فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کے اعدادوشمار بھی دستیاب نہیں کہ کل کتنا نقصان ہو چکا ہے اُور کس قدر (ممکنہ طور پر) مزید ہو گا۔ اِقتصادی حالات یہ ہیں کہ بیروزگاری (کم سے کم) آئندہ مالی سال کے ’پہلی شش ماہی‘ تک برقرار رہے گی اُور یہی وہ سخت ترین عرصہ (اِمتحان) ہے جسے حکومت اُور عوام دونوں کے لئے گزرنا آسان نہیں!
....
Editorial Page Daily Aaj June 13, 2020 
Clipping from Daily Aaj, 13 June 2020 Saturday

Sunday, December 29, 2019

Chasing shadows by Dr. Farrukh Saleem

Chasing shadows
سراب اُور حقائق

پہلا سراب: پاکستان سے لوٹے ہوئے 200 ارب ڈالر سوئزرلینڈ کے بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ 18 اگست 2018ءکے دن‘ عمران خان نے ’وزیراعظم پاکستان‘ کے عہدے کا حلف لیا۔ 19 اگست کے روز مراد سعید کو وفاقی وزیر برائے مواصلات اُور پوسٹل سروسیز کے عہدے پر فائز کیا جنہوں نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری کئے اپنے پیغام میں کہا کہ ”وزیرخزانہ نے پارلیمنٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ سوئزرلینڈ کی بینکوں میں پاکستان سے چوری شدہ 200ارب ڈالر موجود ہیں۔“ وفاقی حکومت اگست سے وسط اکتوبر تک اِن 200 ارب ڈالر کا پیچھا کرتی رہی اُور اِسی اُمید پر کہ پاکستان کے خزانے میں 200 ارب ڈالر آ جائیں گے اقتصادی حکمت عملیاں بنائی جاتی رہیں لیکن چونکہ حقائق سے زیادہ سراب پر توجہ مرکوز رکھی گئی تھی‘ اِس لئے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

سوئزر لینڈ کے مرکزی قومی بینک نے سال 2018ءسے متعلق اعدادوشمار جاری کئے جن میں شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ”سوئس بینکوں میں پاکستانی شہریت رکھنے والوں کے 388.58 ملین (38 کروڑ سے زائد) ڈالر پڑے ہوئے ہیں۔‘

دوسرا سراب: ستمبر 2018ءمیں حکومت نے مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی درست کرنے کے لئے ’ٹاسک فورسز‘ بنائیں۔ قریب 3 درجن خصوصی اختیارات رکھنے والے فیصلہ سازوں میں توانائی‘ پولیس‘ سرکاری ملازمین‘ کم خرچ طرز حکمرانی‘ قومی امور میں بچت‘ بدعنوانی سے حاصل کردہ قومی دولت کی وصولی‘ شجرکاری اُور اقتصادی راہداری سے متعلق کمیٹیاں شامل تھیں۔

اگست 2018ءمیں مذکورہ ’ٹاسک فورسیز‘ کے بنائے جانے سے قبل ’توانائی کے شعبے کا گردشی قرض 1100 ارب روپے تھا جو بڑھ کر 1700 ارب روپے ہو چکا ہے۔ موجودہ حکومت کے ابتدائی 16ماہ کے دور میں صوبہ پنجاب میں 5واں انسپکٹر جنرل پولیس تعینات کیا گیا ہے۔ اِس طرح کسی پولیس سربراہ کی تعیناتی اوسطاً تین ماہ کے لئے کی گئی۔ اِسی طرح پنجاب میں تین چیف سیکرٹریوں کو بھی یکے بعد دیگرے تبدیل کیا گیا۔ 6 ایجوکیشن سیکرٹری بھی اِسی عرصے میں تبدیل کئے گئے۔ حال ہی میں 31 ڈی سی اُوز‘ 20 ایڈیشنل آئی جیز‘ 19 سیکرٹریوں اُور 5 کمشنروں کے تبادلے کئے گئے ہیں۔
وزیراعظم کی بنائی ہوئی ایک کمیٹی قومی اثاثہ جات کی وصولی (Asset Recovery) کے لئے بنائی گئی تھی لیکن 16ماہ گزرنے کے باوجود بھی اِس کمیٹی کا پہلا اجلاس تک نہیں ہو سکا ہے۔

تیسرا سراب: نیا پاکستان ہاو ¿سنگ اسکیم کے نام سے حکمت عملی وضع کی گئی جس کا مقصد یہ تھا کہ کم آمدنی رکھنے والے طبقات کو ذاتی مکان دیا جائے۔ اکتوبر اُور نومبر اِس سلسلے میں کافی ہنگامہ خیز تھے جس کے بعد اِس منصوبے پر عمل درآمد کس مرحلے میں ہے‘ کوئی نہیں جانتا۔

چوتھا سراب: دسمبر 2018ءکے دوران حکومت نے مرغی اُور انڈے کے ذریعے غربت میں کمی اُور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی حکمت عملی کا آغاز کیا۔ جس کے تحت صرف ضلع روالپنڈی میں 25لاکھ افراد میں کو چار مرغیاں اُور ایک ایک مرغ دیا گیا۔ اِن مرغیوں کی عمر 85 دن تھی اُور یہ انڈے دینے کے لئے تیار تھیں لیکن اِس حکمت عملی کی موجودہ صورتحال کیا‘ اُور اِس سے کیا نتائج حاصل ہوئے‘ یہ معلوم نہیں ہے۔

پانچواں سراب: فروری 2019ءمیں سعودی شہزادے کی پاکستان آمد ہوئی۔ اِس آمد کا خوب چرچا کیا گیا اُور حسب شان استقبال ہوا۔ اِس دورے سے متعلق کہا گیا کہ سعودی عرب پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا لیکن کیا یہ سرمایہ کاری ہوئی اُور کب ہوگی اِس بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں ہے۔

چھٹا سراب: مارچ سے اپریل دوہزاراُنیس کے دوران پاکستانیوں کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کا کاروبار کرنے والی ایک بڑی کمپنی ’ایکسزون (ExxonMobil)‘ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گی اُور تیل و گیس کے تلاش کے ایک منصوبے پر کام کا آغاز کرے گی۔ اِس اُمید کا بھی اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہونے کے قریب ہیں اُور بہت جلد پاکستان کی قسمت سنورنے اُور بدلنے والی ہے لیکن یہ دعویٰ بھی حقیقت کا روپ اختیار نہ کر سکا۔

ساتواں سراب: جون کے اختتام تک پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض حاصل کیا‘ جس نے صورتحال کو کافی حد تک سنبھال لیا لیکن ایسی مالیاتی اصلاحات نہیں کی جا سکی ہیں جن سے حکومت کے جاری اخراجات میں کمی آئے اُور آئندہ قرض لینے کی ضرورت (حاجت) محسوس نہ ہو۔

پاکستان کو چار شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
1: سرکاری اداروں کے لئے خریداری کے طریقہ ¿ کار کی اصلاح کی جائے اُور اِس نظام کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جوڑ دیا جائے۔ یاد رہے کہ حکومتی ادارے ہر سال 6 کھرب روپے کی اشیاءخریدتے ہیں اُور محتاط اندازہ یہ ہے کہ اِس چھ کھرب روپے کا کم سے کم پچیس فیصد حصہ (یعنی ڈیڑھ کھرب روپے) خردبرد ہو جاتا ہے۔ یہ رقم اِس قدر بڑی ہے کہ اگر حکومت صرف خریداری کے نظام کی اصلاح کرلے تو اُس سے حاصل ہونے والی بچت کی وجہ سے اُسے ’آئی ایم ایف‘ سے قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

2: سرکاری ادارے قومی خزانے پر بوجھ ہیں اگست 2018ءیعنی تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے سے قبل سرکاری ادارے ہر سال 1300 ارب روپے کا خسارہ کرتے تھے جو بڑھ کر 2100 ارب روپے سالانہ ہو چکا ہے۔ اِن سرکاری اداروں کا قومی خزانے پر سے بوجھ کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

3: پاکستان میں بجلی کا پیداواری اُور ترسیلی شعبہ خرابیوں کا مجموعہ ہے۔ اگست 2018ءیعنی تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے سے قبل پاکستان میں سالانہ 1100ارب روپے مالیت کی بجلی چوری ہوتی تھی جو بڑھ کر 1700 ارب روپے ہو چکی ہے۔

4: گیس کی تقسیم کے شعبے کی کارکردگی بھی مثالی نہیں ہے اُور پاکستان میں ہرسال 2 ارب ڈالر کے مساوی گیس چوری ہو رہی ہے۔ حکومت سے درخواست اُور اُمید ہے کہ وہ مذکورہ چار اصلاحات (سرکاری اداروں کے لئے خریداری‘ سرکاری اداروں کی کارکردگی‘ بجلی اُور گیس کی چوری) پر توجہ دے اُور خسارے کا سبب بننے والے اِن بنیادی اُور بڑے شعبوں کی بہتری کے لئے اقدامات کرے گی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, December 1, 2019

TRANSLATION: The debt bomb by Dr Farrukh Saleem

The debt bomb
قرضوں کا بوجھ
پاکستان کے قومی قرضوں کا بوجھ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا براہ راست تعلق ملک میں مہنگائی اُور شرح سود سے ہے۔ قیام پاکستان یعنی سال 1947ءسے 2008ء کے 61 سالہ عرصے میں ملک کے 4 گورنر جنرلز‘ 9 صدور اُور 23 وزرائے اعظم گزرے اُور اِن سبھی نے مجموعی طور پر 6 کھرب روپے کا قرض لیا۔ سال2008ءتک ہر پاکستانی (قومی قرضوں کی وجہ سے) 36 ہزار روپے کا مقروض تھا۔

سال 2008ءسے 2013ء کے درمیانی عرصے (پانچ برس) میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ پاکستان نے آصف علی زرداری کی صدارت اُور 2 وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی و راجہ پرویز اشرف کی وزارت عظمیٰ کے ادوار دیکھے۔ اِن تین کرداروں (زرداری‘ گیلانی اُور راجہ) نے پاکستان نے قومی قرض کو 6 کھرب ڈالر سے 16 کھرب ڈالر تک پہنچا دیا یعنی 5 سال کے عرصے میں پاکستان کے قومی قرض میں 10 کھرب (10-trillion) روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اگر اوسط معلوم کی جائے تو پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت (2008-13) کے دوران پاکستان کے قومی قرضے میں ہر دن (یومیہ) ”5.5 ارب روپے“ کا اضافہ کیا جاتا رہا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مذکورہ 5 سالہ دور حکومت کے اختتام پر ہر پاکستانی اوسطاً 36 ہزار روپے سے 88 ہزار روپے کا مقروض ہو گیا یعنی پانچ سال کے دوران ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ دوگنے سے بھی زیادہ ہو گیا۔

سال 2013ءسے 2018ءکے 5 سالہ دور میں پاکستان نے ممنون حسین بطور صدر اُور 2 وزرائے اعظم میاں نواز شریف و شاہد خاقان عباسی دیکھے۔ اِن تینوں کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت یعنی ’پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ سے تھا۔ نواز لیگ حکومت کے دوران (دوہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) پاکستان کے قومی قرضوں کو 16 کھرب روپے سے بڑھا کر 30 کھرب روپے جیسی بلند سطح پر پہنچا دیا گیا یعنی پانچ سال میں 14 کھرب روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اگر نواز لیگ کے آخری دور حکومت کے دوران ہر دن لئے گئے قرض کا تناسب معلوم کیا جائے تو یہ 7.5 ارب روپے یومیہ بنتا ہے۔ لیگی حکومت نے پانچ سال تک ہر دن ساڑھے سات ارب روپے قومی قرض میں اضافہ کیا۔ یوں پانچ سال کے عرصے میں ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ جو کہ پہلے ’88 ہزار روپے‘ تھا بڑھ کر ’1لاکھ 44 ہزار روپے‘ ہو گیا۔

سال 2018ءسے 2019ئ‘ صدر مملکت عارف علوی اُور وزیراعظم عمران خان ہیں۔ اِن دونوں کا تعلق ’پاکستان تحریک انصاف‘ سے ہے۔ موجودہ حکومت کے 2 سال کی مالیاتی کارکردگی کا ایک رُخ یہ ہے کہ جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے بعد ’تحریک انصاف‘ کے برسراقتدار آنے کے وقت پاکستان کے قومی قرضوں کا کل حجم 30 کھرب روپے تھا اُور ماضی کی طرح موجودہ حکومت نے بھی قرض لینے کا سلسلہ جاری رکھا اُور قومی قرض کو 41 کھرب روپے پر پہنچا دیا یعنی اب تک (ایک سال کے عرصے میں) ’11 کھرب روپے‘ قرض لیا جا چکا ہے‘ جس کی اگر یومیہ اوسط نکالی جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہر دن ’30 ارب روپے‘ قرض لیا گیا ہے۔ حکومت کی مالیاتی کارکردگی‘ ترجیحات اُور منصوبہ بندی کا اندازہ اِس اَمر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 71 سال کے دوران پاکستان نے 30 کھرب روپے قرض لیا جبکہ تحریک انصاف نے ’1 سال‘ کے دوران ’11 ارب روپے‘ لیا ہے۔ تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل ہر پاکستانی ’ایک لاکھ 44 ہزار روپے‘ کا مقروض تھا لیکن اب ہر پاکستانی پر قومی قرض کا بوجھ ’1 لاکھ 87 ہزار روپے‘ ہو چکا ہے۔

لمحہ فکریہ ہے کہ قیام پاکستان سے 71 سال کے سفر میں قومی قرض میں ’73 فیصد‘ جبکہ ایک سال میں ’27فیصد‘ اضافہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے مالیاتی مشیر اُور حساب دانوں کا دعویٰ ہے کہ اُنہوں نے قومی قرض کے حجم میں اضافہ نہیں کیا بلکہ تحریک انصاف نے ماضی میں لئے گئے قرض واپس کئے ہیں اُور قومی مالیاتی ذمہ داریوں کے بوجھ کو کم کیا ہے لیکن برسرزمین حقائق مختلف ہیں۔ اگر تحریک انصاف نے قرض نہ لیا ہوتا اُور قومی قرضوں کی واپسی کی ہوتی تو پھر پاکستان کی واجب الاداءمالی ذمہ داریوں میں ایک سال کے دوران ”11 کھرب روپے“ کا اضافہ نہ ہوا ہوتا۔ آخر یہ کیسے ہو گیا کہ تحریک انصاف نے قرض نہیں لیا اُور واجب الاداءقرضوں کی واپسی بھی کی لیکن پھر بھی پاکستان پر قرض بڑھ گیا ہے؟

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن تحریک انصاف نے ایک سال کے دوران ’گیارہ کھرب روپے‘ قرض لیا ہے۔ اِس قرض میں روپے کی قدر میں کمی سے ہونے والا اضافہ بھی شامل ہے لیکن یہ اضافہ ماضی میں لئے گئے قرضہ جات میں بھی شمار کیا گیا ہے کیونکہ روپے کی قدر میں کمی بیشی تب بھی ہوا کرتی تھی۔ اِس لئے کسی بھی دور حکومت کے دوران لئے گئے مجموعی قومی قرض کا موازنہ دوسرے حکومتی دور میں لئے گئے مجموعی قومی قرضوں ہی سے کیا جائے گا۔
سال 1971ءمیں ہر پاکستان فرد (مرد‘ عورت یا بچے) کے ذمے 500 روپے قومی قرض تھا اُور 48 برس میں ہر پاکستانی فرد ”1 لاکھ 87 ہزار روپے“ کا مقروض ہو چکا ہے۔

قرض وقتی طور پر راحت کا باعث ضرور ہوتے ہیں لیکن جب ایک خاص حد سے زیادہ قومی قرضوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اِس کی وجہ سے ’ملکی شرح سود‘ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اُور معیشت قرضوں کی عادی ہونے لگتی ہے کیونکہ مصنوعی طریقے سے معیشت کو چلانے میں اِس کی ناکامی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جہاں خسارے (قومی معاشی ناکامی) کے امکانات زیادہ ہوں‘ وہاں یا تو سرمایہ کاری نہیں ہوتی یا سرمایہ کار احتیاط سے کام لیتے ہوئے زیادہ مراعات اُور منافع کا تقاضہ کرتے ہیں اُور اِن دونوں روئیوں (حکمت عملیوں) کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی اقتصادی ترقی یا تو بالکل رُک جاتی ہے یا پھر اِس کی شرح نمو میں اضافہ نہیں ہوتا۔

حد سے زیادہ قومی قرضہ جات میں اضافے کی مثال ایک ایسی گاڑی میں سفر سے دی جا سکتی ہے جو اپنی جگہ پر کھڑی ہو لیکن اُس کے اندر بیٹھے ہوئے افراد سمجھ رہے ہوں کہ سفر جاری ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, September 29, 2019

TRANSLATION: Cut Corporate Tax by Dr. Farrukh Saleem

Cut corporate tax
کاروباری ٹیکس اور معیشت!

سوال: کیا وزیراعظم عمران خان پاکستان کی معاشی اِصلاح کر سکیں گے؟ جواب: عمران خان میں یہ صلاحیت بدرجہ¿ اتم موجود ہے کہ وہ جس چیز کا وعدہ کریں اُسے عملاً کر بھی دکھائیں۔ ایسا کیوں نہ ہو آخر یہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان کے ایسے پہلے وزیراعظم ہیں‘ جن کے ذاتی و سیاسی اہداف اور قومی اہداف ایک دکھائی دیتے ہیں۔ اِس سلسلے میں وضاحت پیش ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور سرفہرست دشمن ’بیروزگاری‘ ہے جس کے کئی محرکات ہیں۔
گاڑیاں: اگست 2018ء میں 15 ہزار 389 نئی گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں جبکہ اگست 2019ءمیں 9 ہزار 126 نئی گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ یوں ایک سال کے عرصے میں گاڑیوں کی فروخت میں 40 فیصد جیسی غیرمعمولی کمی آئی ہے۔ کرولا (ٹیوٹا) گاڑیوں کی فروخت میں 58فیصد‘ ہونڈا (سوک) گاڑیوں کی فروخت میں 68 فیصد اُور سوزوکی (ویگنور) کی فروخت میں 71 فیصد کمی آئی ہے۔ ہنڈا‘ انڈس اُور سوزوکی نامی موٹر ساز صنعتیں 10 ہزار ملازمتیں فراہم کرتی ہیں اور ایسی ہر براہ راست ملازمت کے ساتھ 8 دیگر ملازمتیں جڑی ہوتی ہیں یعنی کاروباری سرگرمیوں سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ہم پاکستان میں گاڑیاں بنانے والے اداروں کی بات کریں تو مجموعی طور پر اِس صنعت سے 80 ہزار افراد ملازمتیں وابستہ ہیں اور یوں 5 لاکھ 36 ہزار افراد کی کفالت ہو رہی ہے کیونکہ 80 ہزار افراد 6.7 افراد فی خاندان کے تناسب سے اوسط خاندان تشکیل دیتے ہیں۔

ٹرک: جولائی اگست 2018ءمیں 1 ہزار 199 نئے ٹرک فروخت ہوئے۔ جولائی اگست 2019ءمیں 648 نئے ٹرک فروخت ہوئے اور یوں ٹرکوں کی فروخت میں ایک سال کے دوران 46فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ یہی صورتحال بسوں کی بھی ہے کہ جولائی اگست 2018ءمیں کل217 نئی بسیں فروخت ہوئیں جبکہ جولائی اگست 2019ءکے دوران 160 بسیں فروخت ہوئیں اور یوں 26فیصد کم بسیں فروخت ہوئی ہیں۔

ٹریکٹرز: جولائی اگست 2018ءکے دوران 7 ہزار 831 ٹریکٹر فروخت ہوئے۔ جولائی اگست 2019ءمیں 5 ہزار 592 نئے ٹریکٹر فروخت ہوئے جو ٹریکٹروں کی فروخت میں 29فیصد کمی کا اشارہ ہے۔ مالی سال 2018ءکے مقابلے 2019ءمیں موٹرسائیکلوں کی فروخت میں بھی 13فیصد کمی آئی ہے۔ سال 2019ءکے دوران 24 لاکھ موٹرسائیکل فروخت ہوئے اُور سیلز میں اِس کمی کی وجہ سے 15فیصد مزدوروں کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ اُمید ہے کہ حکومت اِن اُور دیگر صنعتوں کو مشکلات سے نکالنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرے گی۔

فیصل آباد میں کپڑوں پر نقش و نگار بنانے کی صنعت جسے ایمبریڈیری (embroidery) کہا جاتا ہے مشکل دور سے گزر رہی ہے اور قریب المرگ ہے اُور اگر حکومت نے خاطرخواہ توجہ نہ دی تو اندیشہ ہے کہ اِس صنعت سے وابستہ 2 لاکھ افراد بیروزگار ہو جائیں گے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں بھی کمی آئی ہے۔ جولائی اگست 2018ءکے درمیان 17 لاکھ ٹن تیل درآمد ہوا جبکہ جولائی اگست 2019ءمیں 9 لاکھ ٹن تیل درآمد ہوا ہے جو 46فیصد کمی ہے۔ اِس کے علاوہ بہت کچھ ایسا بھی ہو رہا ہے جو قبل ازیں دیکھنے میں نہیں آیا۔ جیسا کہ قائداعظم یونیورسٹی‘ سندھ یونیورسٹی اور سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی نے بینکوں سے قرض لیکر ملازمین بشمول اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات ادا کئے ہیں۔

جولائی اگست 2018ءمیں پاکستان نے 2.2 ارب ڈالر کی برآمدات کیں جبکہ جولائی 2019ءمیں 2.3 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ اِس سلسلے میں دو اچھی خبریں یہ ہیں کہ پاکستانی سے ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کرنٹ اکاونٹ کے خسارے میں کمی آئی ہے۔

پاکستان کی معیشت سے متعلق سب سے بڑی اور بُری خبر یہ ہے کہ سینکڑوں ہزار کی تعداد میں ملازمتیں کم ہوئی ہیں اُور صرف ایک ہی برس میں لاکھوں افراد کا بیروزگار ہونا نیک شگون نہیں۔ اس کے علاو¿ہ تحریک انصاف حکومت کے دور میں پچاس لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔

اِس صورتحال میں حکومت کو کیا کرنا چاہئے؟
بھارت نے کاروباری و صنعتی اداروں پر ٹیکس کی شرح میں 10فیصد کمی کی تاکہ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ نہ ہو۔ پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے تاکہ معاشی تنگدستی کے موجودہ حالات سے نکل سکے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان میں کاروباری و صنعتی اداروں پر عائد ٹیکس کی شرح دنیا کی بلند ترین ہے۔ اِس کے علاو¿ہ حکومت کو شرح سود میں بھی کمی لانی چاہئے تاکہ سرمایہ کاروبار‘ تجارت اور صنعتوں میں لگایا جائے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ پاکستان حکومت کی سب سے بڑی اور پہلی ترجیح روزگار کے مواقعوں کا تحفظ اور روزگار کے مواقعوں (امکانات) میں اضافہ ہونا چاہئے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, September 22, 2019

TRANSLATION: Incidents by Dr. Farrukh Saleem

Incidents
واقعات
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اُور بنیادی ضروریات سے متعلق دیگر اخراجات نے متوسط طبقات کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے سراپا فریاد ہیں کہ اُن کی آمدن میں ہر دن کمی لیکن اُن کے اخراجات (مالی بوجھ) میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے۔ اِس سلسلے میں ذاتی تجربے اور چند انفرادی مثالوں سے صورتحال کو سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا واقعہ: خشک میوہ جات فروخت کرنے والے ایک دکاندار نے یہ کہہ کر مجھے حیران کر دیا کہ ماضی قریب (آٹھ ماہ قبل) میں اُس کی یومیہ فروخت کا حجم 2 لاکھ روپے تھا جو کم ہو کر 70 ہزار روپے ہو چکا ہے اُور یہ کمی 65فیصد ہے۔

دوسرا واقعہ: پانچ ستارہ ہوٹل میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا جہاں کے ایک ملازم نے توجہ دلائی کہ اُس کے گھر کا بجلی بل 6 ہزار روپے آیا ہے جبکہ اُسے تنخواہ کے علاو ¿ہ بخشش کے طور پر جو رقم ملا کرتی تھی اُس میں انتہائی تباہ کن (غیرمعمولی) کمی آئی ہے‘ جس کی وجہ سے اُسے آئندہ ماہ بچے کی سکول فیس یا بجلی کے بل میں سے کسی ایک ذمہ داری کی ادائیگی کا انتخاب کرنا ہوگا۔

تیسرا واقعہ: ہوٹل سے نکلتے ہوئے ایک اُور ملازم نے اپنی روداد سے آگاہ کیا کہ اُس کی ماہانہ تنخواہ 22 ہزار روپے ہے جبکہ اُس کے گھر کا بل 5ہزار 900 روپے آیا ہے۔ میں نے استفسار کیا کہ یقینا تمہارے گھر برقی آلات زیادہ ہوں گے تو اُس نے کہا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں۔ گھر میں صرف دو پنکھے‘ ایک فریج اُور چند ٹیوب لائٹس ہیں۔ میں گھر والوں کو ہفتے میں صرف دو دن بجلی کی استری استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہوں۔ اِس شخص کی آمدنی اور بجلی کے بل کو مدنظر رکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی کل آمدنی کا 25فیصد کس طرح بجلی کی قیمت ادا کرنے کے لئے دے سکتا ہے؟

چوتھا واقعہ: حجام سے ہوئی بات چیت سے معلوم ہوا کہ اُس کا کاروبار مندی کا شکار ہے جبکہ اُس کے بجلی کا ماہانہ بل 9 ہزار روپے آیا ہے۔ میں پوچھا کہ کیا لوگوں نے بال کٹوانے چھوڑ دیئے ہیں‘ جس پر اُس نے کہا کہ نہیں لیکن اب وہ زیادہ وقفہ کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص ہر چار یا پانچ ہفتے (ایک ماہ) میں بال کٹواتا تھا تو اب اُس نے ہیرکٹ آٹھ سے دس ہفتے (دو ماہ) بعد کروانا شروع کر دیا ہے‘ جس کی وجہ سے اکثر حجاموں کے کاروبار میں 50فیصد کمی آئی ہے جبکہ دوسری طرف بجلی کے بل 100 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ آمدن میں کمی اُور یوٹیلٹی بلز و مہنگائی کا مسئلہ اُن کاروباری و ملازمت پیشہ افراد کے لئے زیادہ سنگین ہے‘ جو مشترک خاندان (جائنٹ فیملی سسٹم) کی صورت رہتے ہیں۔

پانچواں واقعہ: گاڑیاں دھلوانے والے (سروس اسٹیشن) اُور گاڑیوں کی مرمت کرنے والے (کار مکینک) نے بھی اپنی کاروباری آمدنی میں کمی اُور اخراجات میں اضافے کی جانب یہ کہتے ہوئے توجہ دلائی کہ ماضی کے مقابلے اب ہر روز اوسطاً 3 سے 4 گاڑیاں دھلائی (سروس) کے لئے آتی ہے‘ جو نہایت ہی کم تعداد ہے اُور اِتنی کم تعداد میں گاڑیوں کی سروس کرنے سے حاصل ہونے والی کل آمدنی سے اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے کاروباری حضرات نے اپنے ملازمین کی تعداد کم کرنا شروع کر دی ہے۔

چھٹا واقعہ: فوٹوکاپی (Photo-copy) کرنے والا ایک دکاندار جو عرصہ دس برس سے اپنا کاروبار کامیابی سے چلا رہا ہے‘ تعلیمی لحاظ سے اکاونٹنٹ ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ کاروبار میں 50فیصد کمی آئی ہے جس کی وجہ سے اُس نے اپنے سات میں سے چار ملازمین کو فارغ کردیا ہے لیکن اِس کے باوجود بھی آمدن و اخراجات میں توازن برقرار نہیں رکھ پا رہا۔

ساتواں واقعہ: شہر کی ایک سرمایہ دار بستی میں ایک گوشت فروخت کرنے والے (قصاب) نے بھی اپنے کاروبار میں کمی کی داستان مختلف انداز میں سنائی کہ گوشت کے خریدار اب بھی آتے ہیں لیکن اُنہوں نے گوشت کی کم مقدار خریدنا شروع کر دی ہے۔

لب لباب یہ ہے کہ پاکستان میں معاشی سرگرمیاں زوال پذیر ہیں۔ آمدن و اخراجات میں توازن برقرار رکھنا ہر دن مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ چھوٹے بڑے کاروباری اداروں اُور انفرادی طور پر بزنس کرنے والوں کے منافع میں غیرمعمولی شرح سے کمی آئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری میں کمی لانے کے لئے حکومت کو خاطرخواہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, September 15, 2019

Ten questions by Dr. Farrukh Saleem

Ten questions
دس سوالات

پہلا سوال: گزشتہ چالیس برس میں بلند ترین ’بجٹ خسارے‘ پر قابو پانے کے لئے حکومت کس قدر سادگی اختیار کرنے کے لئے تیار ہے؟ بہت سے ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ’بجٹ خسارہ‘ ہی پاکستان کی مالیاتی مشکلات کی بنیادی جڑ ہے۔
آخر ایسا کیا ہو گیا ہے کہ پاکستان کی کل خام پیداوار (آمدنی) کے تناسب سے بجٹ خسارہ 8.9 فیصد جیسی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے؟ آخر ہم اِس حالت پر کس طرح پہنچے ہیں کہ حکومت کا خرچ اِس کی آمدنی سے 3.4 کھرب روپے زیادہ ہو چکا ہے؟ ذہن نشین رہے کہ قومی آمدنی کے مقابلے بنگلہ دیش کا بجٹ خسارہ 5 فیصد جبکہ بھارت کا 3.4 فیصد جبکہ پاکستان کا 8.9 فیصد ہے!

دوسرا سوال: کم آمدنی کے باوجود اخراجات میں خاطرخواہ کمی نہ کرنے کی وجہ سے حکومت کو قرض لینے پڑتے ہیں تو قرض لینے کا بظاہر سادہ و آسان طریقہ پاکستان کی قومی خزانے اُور یہاں کی تعمیروترقی کو لے ڈوبا ہے۔ فی الوقت پاکستان کا قومی قرض اِس کی کل قومی آمدنی سے زیادہ ہے یعنی 104 فیصد تک پہنچ چکا ہے یعنی پاکستان کی آمدنی تو 100 روپے ہے لیکن اِسے 104 روپے قرضوں اُور اُن پر سود کی ادائیگی کے لئے درکار ہوتے ہیں۔ کیا حکومت کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ 100 روپے آمدنی میں سے 104 روپے واجب الاداءمالیاتی ذمہ داریاں اَدا کرے؟

پاکستان تحریک انصاف نے اگست 2018ءمیں وفاقی حکومت بنائی‘ جس کے ایک ماہ بعد (ستمبر 2018ئ) میں پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کے تناسب سے قرضوں کا حجم 80فیصد تھا لیکن پھر تحریک اِنصاف نے قرض لئے اُور صرف 9 ماہ میں یہ شرح بڑھ کر 104 فیصد تک پہنچ گئی۔ آخر یہ کس قسم کا مالیاتی نظم و ضبط اُور دانشوری ہے کہ آمدنی سے زائد مالیاتی ذمہ داریاں بڑھا لی گئی ہیں!

تیسرا سوال: تحریک انصاف کی وفاقی حکومت ادارہ جاتی اصلاحات کرنے میں کتنی سنجیدہ ہے اِس بات کا اندازہ سرکاری اداروں کے خسارے کو دیکھتے ہوئے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو سالانہ 2.1 کھرب روپے جیسی بلند سطح کو چھو رہا ہے۔ سرکاری اداروں (پبلک سیکٹر انٹرپرائزیز) کے مالی نظم و ضبط کی اصلاح وقت کی ضرورت ہے اُور اِس میں معلوم خرابیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرنا چاہئے۔ یہ اَمر بھی لائق توجہ ہے کہ آخر سرکاری محکمے 2 کھرب روپے سالانہ کے حساب سے قومی خزانے پر بوجھ کیوں ہیں؟ ستمبر 2018ءمیں‘ جب تحریک انصاف کو حکومت میں آئے ایک ماہ کا عرصہ گزرا تھا‘ سرکاری اداروں کا سالانہ خسارہ 1.359 کھرب روپے تھا جو ملک کی مجموعی قومی آمدنی کا 3.5 فیصد بنتا تھا یعنی پاکستان اپنی قومی آمدنی کا ساڑھے تین فیصد حصہ سرکاری اداروں کے خسارے کی نذر کر رہا تھا لیکن اِس میں ایک سال کے دوران کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب سرکاری محکموں کا خسارہ 2.1 کھرب روپے یعنی مجموعی قومی آمدنی کا 5.5 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ماضی کے مقابلے موجودہ حکومت کے دور میں سرکاری محکموں کا خسارہ بڑھا ہے!

چوتھا سوال: پاکستان کا قومی قرض (واجب الاداءمالیاتی ذمہ داریاں) 40 کھرب روپے تک جا پہنچی ہیں‘ جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے 5 سالہ دور (2008ءسے 2013ئ) کے دوران حکومت نے 10کھرب روپے کے قرض لئے اُور ملک پر قرضوں کے حجم 6 کھرب روپے کو 16 کھرب روپے پر پہنچا دیا۔ اِس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (نواز) کا دور حکومت (2013ءسے 2018ئ) کے دوران 14 کھرب روپے کے قرض لئے گئے جس سے قومی قرضوں کا حجم 16 کھرب روپے سے 30کھرب روپے ہو گیا۔ تحریک انصاف نے ایک سال کے دوران قومی قرضوں میں 10 کھرب روپے کا اضافہ کیا جبکہ پیپلزپارٹی کو یہ کام کرنے میں پانچ سال لگے تھے!

پانچواں سوال: موجودہ حکومت نے پاکستان میں تیار یا پیدا ہونے والی مصنوعات سے متعلق سالانہ برآمدی ہدف 28 ارب ڈالر رکھا تھا لیکن یہ ہدف 20فیصد کم حاصل ہوا ہے۔ کیا ہدف کا تعین کرنے میں غلطی کی گئی یا ہدف کے حصول سے متعلق حکمت عملی خاطرخواہ کامیاب نہیں رہی؟

چھٹا سوال: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں 25فیصد کمی آنے کی وجہ کیا ہے؟

ساتواں سوال: پاکستان میں سیمینٹ کی مانگ میں 50فیصد کمی کی وجہ کیا ہے؟

آٹھواں سوال: موجودہ حکومت کی ایک سالہ مدت کے دوران پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت 50فیصد کم کیوں ہوئی ہے؟
نواں سوال: نجی شعبہ (صنعتیں اور کاروباری طبقات) بینکوں سے قرض کیوں نہیں لے رہے۔ گذشتہ 2 ماہ کے دوران بینکوں سے قرض لینے میں 85 ارب روپے کی کمی دیکھنے میں کیوں آئی ہے؟

دسواں سوال: حکومت مہنگائی کو ضبط (کنٹرول) کرنے کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہے؟

وزیراعظم عمران خان مضبوط قوت ارادی کے مالک ہیں۔ یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ عمران خان جب کسی کام کا ارادہ کر لیتے ہیں تو اُسے ضرور پورا کرتے ہیں لیکن اب تک تحریک انصاف کے تمام فیصلوں‘ ارادوں اُور بیانات کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عمران خان کے ایسے ساتھی (ٹیم) نہیں مل رہی جو اُن کی رفتار سے سوچے اُور اُن کے جیسے اصلاحاتی عمل کو تیزی سے آگے بڑھائے۔ کسی ٹیم کے کپتان کے لئے تن تنہا ہر محاذ پر مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن جب تک اُس کے ساتھی (ٹیم کے دیگر اراکین) اُس جیسا قربانی اور جنون پر مبنی جذبے کا عملی مظاہرہ نہ کریں۔ اگر ٹیم کے اراکین بشمول کپتان کے ارادے مضبوط ہیں لیکن اُن میں ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت کم ہے تو اِس سے بھی پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے جن کی شدت میں ہر دن ’غیرمعمولی اضافہ‘ ہو رہا ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, August 25, 2019

TRANSLATION: Continuity by Dr. Farrukh Saleem

Continuity
تسلسل
اقتصادی مارکیٹ کا انحصار اور خوشحالی ’تسلسل‘ میں ہوتا ہے۔ معاشی حالات ایک ڈگر پر چلنے کے تسلسل سے مراد یہ ہے کہ عوام کی قوت خرید کسی ایک سطح پر برقرار رہے اُور اِس میں کمی تو ہرگز نہیں ہونی چاہئے لیکن پاکستان میں سرمایہ کاری اُور عوام کی قوت خرید دونوں ہی کم ہو رہے ہیں جس کی ایک جھلک کراچی سٹاک ایکسچینج میں بہتری کے آثار سے سمجھا جا سکتا ہے اُور اگر ملک کی اقتصادی صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کے فیصلے کو دیکھا جائے تو اِس فیصلے کے پس پردہ محرکات کی بخوبی سمجھ آ جائے گی۔ فی الوقت کراچی کی حصص مارکیٹ (KSE-100) انڈکس میں 2585 پوائنٹس کا اضافہ ہوا‘ جس کا مطلب ہے کہ 500 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ تصور کیجئے کہ حصص مارکیٹ میں کسی بھی ایک ہفتے کے دوران ہونے والی یہ بلند ترین سرمایہ کاری ہے۔

اگست 2018ءمیں جب تحریک انصاف حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اُس وقت حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ’کرنٹ اکاونٹ خسارہ‘ تھا یعنی حکومت کی آمدنی کم اور جاری اخراجات آمدنی سے زیادہ تھے۔ جولائی 2018ءکی بات ہے یعنی تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے ایک ماہ قبل ’کرنٹ اکاونٹ ماہانہ خسارہ‘ 2130 ملین ڈالر تھا۔ جولائی 2019ء(تحریک انصاف حکومت کے پہلے سال) کے دوران یہ خسارہ کم ہو کر 579 ملین ڈالر ہو چکا ہے‘ جو قریب ایک سال میں ’73 فیصد‘ بہتری ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ 1: ڈالر پر منحصر پاکستان کی اقتصادیات پر حکومت کا کنٹرول پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ 2: ایک سال قبل پاکستانی روپے پر جو دباو تھا اُس میں کمی آئی ہے اُور 3: ملک چلانے کے لئے ڈالروں کی ضرورت ماضی کے مقابلے کم ہوئی ہے۔ یہ سبھی اشارے حکومت کی اقتصادی حکمت عملیوں کی کامیابی کے اشارے ہیں۔

پاکستان کی داخلی صورتحال کے تناظر میں اگر ’جنرل باجوہ کے نظریات (Bajwa Doctrine)‘ کا جائزہ لیا جائے تو یہ7 ستونوں پر استوار دکھائی دیتا ہے۔ 1: ایک ایسا طرزحکمرانی جو عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ہاتھ میں ہو۔ 2: ایک ایسی حکومت کا قیام جو آزاد و شفاف انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئے ہوں۔ 3: قومی وسائل کی لوٹ مار پر مبنی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ 4: جمہوری حقوق کو مقدم سمجھتے ہوئے اِن کا بہرصورت تحفظ ہونا چاہئے۔ 5: قومی اداروں میں سیاست کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ 6: پاکستان کی ریاست کا اِس کے 7 لاکھ 96 ہزار 95 مربع کلومیٹر رقبے کے ہر حصے پر کنٹرول ہونا چاہئے اُور خوف و دہشت پھیلانے والے چاہے وہ کسی بھی لبادے اور کسی بھی نام سے ہوں انہیں تخریب کاری کی کھلی چھوٹ نہیں ہونی چاہئے اُور 7: وفاق پاکستان کو مضبوط بنایا جائے۔

جنرل باجوہ نظریات کو مشرق میں بھارت کا سامنا ہے‘ جہاں ہندو انتہاءپسند جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ برسراقتدار ہے۔ مغربی محاذ پر جنرل باجوہ نظریات کی کامیابی کے مغربی و امریکی ممالک بھی معترف ہیں۔ پانچ ستمبر کو بنکاک اُور پھر پیرس میں 18 سے 23 اکتوبر ’FATF‘ اجلاس بڑے چیلنجز ہیں۔ دنیا پاکستان کی پالیسیوں میں تسلسل کو سراہا رہی ہے۔
پاکستان کی داخلی اقتصادیات کی بات کی جائے تو یہ غیرمتوقع طور پر سست روی کا شکار ہے۔ چند ہفتے قبل مہنگائی کے اعدادوشمار کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتری سے متعلق جو پیشنگوئیاں کی گئی تھیں‘ وہ سب کی سب غلط ثابت ہوئی ہیں۔ روٹی کی قیمت میں اضافہ کسی بھی صورت اچھی خبر نہیں۔ روپے پر انحصار کرنے والی معیشت کو پانچ مشکلات کا سامنا ہے۔ 1.7 کھرب روپے کا گردشی قرضہ‘ 1.6 کھرب روپے سرکاری اداروں کا سالانہ خسارہ‘ سرکاری خریداریوں میں سالانہ ایک کھرب روپے کی بدعنوانیاں‘ گیس کے شعبے میں دو ارب ڈالر کا سالانہ خسارہ اُور حکومتی ضروریات کے لئے 734 ارب روپے کا قرض۔ اِن پانچ شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اِنہی پانچ شعبوں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے پاکستان کا قرض 40 کھرب روپے جیسی بلند سطح تک پہنچ گیا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت ایک تسلسل کے ساتھ اپنی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہے‘ جس کی وجہ سے اُمید ہو چلی ہے کہ اگر یہ تسلسل برقرار رہتا ہے تو اِس سے اقتصادی بہتری آئے گی۔ پاکستان کے دشمنوں کی کوشش ہے کہ وہ پاکستان کو اقتصادی طور پر اتنا کمزور کر دیں کہ وہ جنگ کے بارے میں سوچنے سے بھی گھبرائے۔ اگر حکومت مذکورہ پانچ شعبوں کو اصلاحاتی ترجیحات کا حصہ بناتی ہے تو اِس سے نہ صرف داخلی و خارجی محاذ پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ تعمیروترقی کے نئے دور اور نئے پاکستان کی تخلیق بھی عملاً ممکن ہو جائے گی۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, May 5, 2019

TRANSLATION: What went wrong? by Dr Farrukh Saleem

What went wrong?

دانستہ‘ غیردانستہ غلطیاں

دنیا کی سب سے سبک (برق) رفتار جنس ’سرمایہ‘ ہے۔ اِس کے پر نہیں ہوتے لیکن یہ طاقت پرواز رکھتی ہے۔ یہ آن کی آن میں اپنا ٹھکانہ بدل سکتی ہے اور اِس کی پرواز اُس بلندی سے بھی بلند ہو سکتی ہے‘ جس تک ہر جنس کو رسائی حاصل نہ ہو بالکل شاہین کی طرح جو آسمان کی وسعتوں اُور بلندیوں میں پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی ہوا ہے۔ تحریک انصاف نے ایسا ماحول پیدا کیا جس سے گھبرا کر سرمایہ کاروباری سرگرمیوں سے نکل کر کہیں بلندیوں میں روپوش ہو گیا۔ خوف اِس قدر تھا کہ سرمائے کو امریکی ڈالر اور دیگر غیرملکی کرنسیوں میں تبدیل کر کے ذخیرہ کر لیا گیا اُور یوں وہ سرمایہ جس کے بل بوتے پر پاکستان میں معاشی اور کاروباری سرگرمیاں جاری تھیں‘ دیکھتے ہی دیکھتے (آن 
کی آن میں) پرواز کر گیا۔


قومی سطح پر حساس فیصلہ سازی کرنے والوں سے آخر ایسی کونسی دانستہ او غیردانستہ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں‘ جن کی وجہ سے سرمایہ داروں نے کنارہ کشی اختیار کی؟ گیس کی قیمت میں اضافہ اور یہ اضافہ تین ہندسوں تک کر دیا گیا۔ بجلی کی قیمت بڑھی اُور یہ قیمت دو ہندسوں میں پہنچا دی گئی۔ ڈالر کی قدر بھی دو ہندسوں میں بڑھا دی گئی۔ اِن سبھی اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانیوں کی آمدنی میں غیرمعمولی کمی آئی۔ قوت خرید تیزی سے کم ہوئی۔ ماضی کی طرح اب گھر سے باہر کھانا کھانے کے لئے جانے والوں کا ہجوم نہیں ہوتا۔ شاپنگ مالز میں خریدوفروخت کرنے والوں کی تعداد بھی غیرمعمولی طور پر کم ہوئی ہے اور لوگ خریدنے کی بجائے مائل بہ فروخت ہیں۔ یہ سبھی محرکات حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے اثرات ہیں!


پاکستان کی اقتصادیات کا پہیہ رک گیا ہے۔ سرمایہ کاری اور لین دین نہیں ہو رہی۔ کاروبار بند ہو رہے ہیں یا اُن کی سرگرمیاں سکڑ رہی ہیں۔ ادارے اپنے افراد بوجھ کو اُتار رہے ہیں۔ کم سے کم 1.1 ملین (گیارہ لاکھ) پاکستانی ایسے ہیں‘ جنہیں اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ کم سے کم 4.1 ملین (41 لاکھ) پاکستانیوں کا شمار خط غربت سے نیچے زندگی بسر ہونے لگا ہے اُور یہ سب حکومت کی دانستہ و غیردانستہ غلطیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔


فاقی حکومت کے سامنے پہاڑ کی صورت کھڑے مسائل میں ’1600 ارب روپے‘ کا گردشی قرضہ‘ سرکاری اِداروں کا 1100 اَرب روپے‘ خسارہ اُور گیس کے شعبے میں کئی ارب ڈالر جیسے مستقل نقصانات شامل ہیں‘ جن سے چھٹکارہ حاصل کئے بغیر اقتصادی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔


تحریک انصاف سے دانستہ اور غیردانستہ طور پر سرزد ہونے والی غلطیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ حکومت کے اقتصادی فیصلہ ساز خاطرخواہ اہل یا صاحب بصیرت نہ تھے۔ وہ یہ بات نہ سمجھ سکے کہ ٹیکس کی وصولی اقتصادی سرگرمی کا حاصل ہوتی ہے۔ اگر اقتصادی سرگرمیاں محدود ہو جائیں گی تو ٹیکس وصولی نہیں بڑھے گی۔ فیصلہ سازوں کی دانستہ اور غیردانستہ غلطیوں کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوئیں جس کی وجہ سے ٹیکس وصولی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر جا پہنچی یعنی رواں مالی سال میں لگائے گئے تخمینہ جات سے ’485 ارب روپے‘ کم ٹیکس وصول ہوا۔


پاکستان کی اقتصادیات ایک ”بحرانی دور“ سے گزر رہی ہے اُور اِس صورتحال سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار دیکھنے والے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کی جنگیں ’سوشل میڈیا‘ کے میدانوں میں لڑی جا رہی ہیں جہاں مفروضوں پر مبنی گمراہ کن معلومات عام کی جاتی ہیں‘ جس سے رائے عامہ متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا محاذ پر حملہ آور ہونے والوں کی کوشش ہے کہ وہ عوام اُور فوج کے اِدارے کے درمیان غلط فہمیاں اُور فاصلے پیدا کریں کیونکہ سوشل میڈیا اکیسویں صدی کا ہتھیار ہے۔ اِس کے ذریعے سیاسی بے چینی اور ابتری کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ غلط معلومات کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے جس سے ملک کی اقتصادیات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ دشمن پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے حملہ آور ہے۔ یہ صورتحال ’وینزویلا‘ نامی ملک جیسی ہے‘ جہاں بیرونی طاقتوں نے حکومتی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلوں (عدم اعتماد) کے ذریعے اِسی طرح کے حالات پیدا کئے۔


ئے وزیر خزانہ‘ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے لئے مشکلات کی کمی نہیں۔ اُنہیں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کو حالت سکون میں لانا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے سے بات چیت کے ذریعے اُس قرض کے حصول کی کوشش کرنا ہے جو ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ بجلی اُور گیس کے شعبوں میں ہونے والے اَربوں ڈالر کے نقصانات پر قابو پانا ہے جبکہ اِس جیسے دیگر کئی ایک ’سنگین اِقتصادی چیلنجز‘ درپیش ہیں‘ جن کی فہرست طویل ہے۔ ایک بات جو پورے وثوق سے کہی اور حالات کے تناظر میں سمجھی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف اُور اِن مالیاتی اداروں کے تربیت یافتہ اہلکار کتابوں میں درج نظریات سے آگے سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ ’لکیر کے فقیر‘ ہوتے ہیں‘ جو کسی اِقتصادی مشکل کا وہی حل پیش کرتے ہیں‘ جو کتابوں میں درج ہوتی ہے اُور اگر پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو درست کرنے کے لئے ’کتابی نظرئیوں‘ پر اکتفا کیا گیا تو اِس سے صورتحال سنبھلنے کی بجائے مزید بگڑ جائے گی۔ 


(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, April 14, 2019

TRANSLATION: 8 questions by Dr Farrukh Saleem

Eight questions
آٹھ سوالات


موجودہ وفاقی کابینہ نے حلف ’20 اگست 2018ء‘ کے روز اٹھایا تھا۔ پہلا سوال: اُس روز پاکستانی روپے کے مقابلے امریکی ڈالر کی قدر 122 تھی‘ جس کے بعد سے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا رجحان جاری ہے اور یہ 144 روپے کی سطح پر آ چکا ہے۔ اگر پاکستانی درآمدات و برآمدات میں فرق کم ہو رہا ہے اور حقیقت میں بہتری آ رہی ہے تو پھر آخر کیا وجوہات ہیں کہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں خاطرخواہ بہتری نہیں آ رہی؟


دوسرا سوال: اگست 2018ء میں ادارۂ شماریات نے سالانہ مہنگائی کی شرح 5.8 بیان کی تھی۔ مارچ 2019ء میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 9.4فیصد ہو چکی ہے اور اگر ہم اِس کا موازنہ مارچ 2018ء کی صورتحال سے کریں تو مہنگائی میں 3.2فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ اگر پاکستان کی اکنامی درست رفتار اور درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ مہنگائی میں کمی ہونے کی بجائے مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے؟


گرامئ قدر وزیراعظم صاحب‘ تیسرا سوال: اگست 2018ء میں پاکستان کا گردشی قرضہ 1.14 کھرب تھا جو جنوری 2019ء میں بڑھ 1.4کھرب یعنی 137 دنوں میں یہ بڑھ کر 260 ارب روپے ہو چکا ہے۔ گردشی قرض ہر دن 2 ارب روپے بڑھ رہا ہے۔ اگر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لئے مرتب کی گئی ’ٹاسک فورس‘ راست اقدامات کر رہی ہے تو ’گردشی قرضے‘ میں کمی کیوں نہیں ہو رہی یا اِس کے بڑھنے کا عمل رک کیوں نہیں رہا؟


چوتھا سوال: جنوری 2018ء میں راقم الحروف کا گیس بل 8.756 یونٹس کے لئے 2,184 روپے فی یونٹ چارج ہوا۔ جنوری 2019ء میں 10.794 یونٹ گیس کے لئے قیمت 6,195 روپے فی یونٹ چارج کی گئی۔ کیا وجہ ہے کہ میرا بل 22 ہزار 628 روپے (جنوری 2018ء) سے بڑھ کر 66 ہزار 840 روپے (جنوری 2019ء) ہوا؟


پانچواں سوال: 24 مارچ کے روز گیس کی تقسیم کار کمپنیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گیس قیمتوں میں 141فیصد اضافہ کیا جائے اور اِس اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2019ء سے ہونا چاہئے۔ اگر گیس کی چوری روک لی گئی ہے۔ گیس کی تقسیم کے نیٹ ورک میں خرابیاں بھی دور کر دی گئی ہیں اور گیس کی فروخت کے نظام کی اصلاح بھی ہو چکی ہے تو پھر گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا ہے اور مزید اضافہ کس لئے تجویز کیا جا رہا ہے؟


چھٹا سوال: 27 اگست 2018ء کے روز پاکستان کے وزیر خزانہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ملک میں ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ 18مارچ 2019ء کے روز خبر شائع ہوئی کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے کم ٹیکس وصولی موجودہ حکومت کے دور میں ہوئی اور حکومتی ادارے کو ٹیکس وصولی کے ہدف میں ’485.9 ارب روپے‘ کمی کا سامنا ہے۔ اگر ’ایف بی آر‘ میں اصلاحات کر دی گئی ہیں تو پھر ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیوں نہیں ہوسکا اور ٹیکس وصولی کی شرح رو بہ زوال کیوں ہے؟ کیا موجودہ حکومت کے دور میں وصول نہ ہونے والے ٹیکس کے لئے بھی ماضی کے حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟


ساتواں سوال: 20 اگست 2018ء کے روز کراچی سٹاک ایکس چینج انڈکس (KSE-100) 42ہزار425 پوائنٹس پر تھی۔ تب سے آج تک انڈکس 5ہزار پوائنٹس سے زیادہ کھو چکی ہے یعنی سرمایہ کاروں کو 1 کھرب روپے (سات بلین ڈالر) کا نقصان ہو چکا ہے۔ یہ نقصان جو کہ سات ارب ڈالر کے مساوی ہے‘ کا حجم ’آئی ایم ایف‘ سے لئے جانے والے قرض کے مساوی ہے! اگر حکومتی اصلاحات پر سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقات کو اعتماد ہے تو پھر سٹاک ایکس چینج میں خسارہ کیوں ہو رہا ہے؟

آٹھواں سوال: حکومت کی جانب سے اِس بارے میں بہت سی باتیں کی جا رہی ہیں کہ ملک میں کاروبار (سرمایہ کاری) کرنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کی گئی ہیں تاکہ بالخصوص غیرملکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی جا سکے لیکن اگر ہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار پر نظر کریں تو اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ جولائی سے فروری کے درمیانی عرصے میں ’73فیصد‘ کمی آئی اور اِس عرصے میں ہونے والی بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 1.216 ارب ڈالر رہا۔

اقتصادی محاذ پر پاکستان میں اصلاحاتی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہیں۔ حکومت اب تک صرف ایک ہی کام کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اُور وہ ’کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ‘ ہے‘ جو 18 ارب ڈالر سے کم ہو کر 14 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ حکومت ایسے سینکڑوں اقدامات کر رہی ہے جو ملک کے لئے بہتر ہیں جیسا کہ قبائلی علاقوں کا اضلاع کی صورت خیبرپختونخوا میں انضمام کرنے کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ ایسا بھی پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ چار وزراء نے اپنے خلاف مالی بدعنوانیوں کی تحقیقات شروع ہونے پر استعفی دیا ہے اُور پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی کامیابی سے جاری ہے۔

حرف آخر: ملازمہ نے میری بیوی سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ ’’بیگم صاحبہ‘ آپ کے کہنے پر ’تحریک انصاف‘ کو ووٹ دیا تھا لیکن دیکھئے کہ کس طرح قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں!‘‘

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ:شبیرحسین اِمام)

Sunday, March 24, 2019

TRANSLATION "Pakistan Steel" by Dr. Farrukh Saleem

Pakistan Steel
پاکستان اسٹیل ملز
تاریخ: پاکستان اسٹیل ملز سال 2000ء سے لیکر 2007ء کے دوران ہر سال منافع دے رہی تھی۔ اِس تمام عرصے میں مجموعی منافع 20 ارب روپے تھا لیکن 2008ء سے 2013ء کے درمیانی عرصے میں پاکستان اسٹیل ملز کا خسارہ 100ارب روپے تک پہنچ گیا‘ یعنی دوہزارآٹھ سے دوہزارتیرہ کے درمیان ہر سال اِس اہم قومی ادارے نے قومی خزانے کو مالی نقصان پہنچایا اُور اگر ہم مجموعی خسارے کی بات کریں تو اِس عرصے میں 138 ارب روپے نقصان ہوا تھا۔

سوال: پاکستان اسٹیل ملز کا مالی خسارہ اُور اِس کے ذمے واجب الادأ مالی ذمہ داریوں کی مالیت کتنی ہے؟
جواب: پاکستان اسٹیل ملز کل 476 ارب روپے کا مقروض ہے لیکن کسی بھی حکومت نے اِس مالی خسارے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات نہیں کروائیں۔ کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا اُور نہ ہی اِس سلسلے میں کسی کا احتساب ہوا۔ تصور کیجئے کہ 476 ارب روپے جیسا خطیر بوجھ اور اِس مالی بوجھ کو پر پاکستانی خاندان پر مساوی تقسیم کیا جائے تو یہ رقم 15 ہزار روپے فی خاندان بنے گی!

پاکستان اسٹیل ملز کے مالی نقصانات کے بارے میں ’سپرئم کورٹ (عدالت عظمیٰ)‘ کو آگاہ کیا گیا ہے اُور اِس سلسلے میں عدالت کو فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اسٹیل ملز کا ایک سال میں کاروباری خسارہ 4.68 ارب روپے۔ بدعنوانیوں کی وجہ سے ایک سال میں خسارہ 9.99 ارب روپے۔ بدانتظامیوں کی وجہ سے ایک سال میں ہونے والا خسارہ 11.84 ارب روپے اُوریوں سال2008-09ء کے دوران اِس کا کل خسارہ 26 ارب روپے تھا۔ 18 اگست 2009ء کے روز‘ اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ’پاکستان اسٹیل ملز‘ کے چیئرمین کو بدعنوانی کے الزامات پر اپنے عہدے سے الگ کیا لیکن خاص بات یہ ہے کہ اُن کے خلاف بدعنوانیوں کے جرم میں تحقیقات نہیں کی گئیں۔

خطرے کی گھنٹی: لائق توجہ امر یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے سات ماہ کے عرصے میں بھی ’پاکستان اسٹیل ملز‘ کے معاملات (خسارہ‘ بدعنوانی اُور بدانتظامی) کا سلسلہ جاری ہے اور تحریک انصاف حکومت (سات ماہ) کے دوران اِس ادارہ نے ہر دن 120 ملین (12 کروڑ روپے یومیہ) کے حساب سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے اور نقصان کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اگست 2018ء سے مارچ 2019ء تک پاکستان اسٹیل ملز نے 25 ارب روپے نقصان کیا۔

پہلی حقیقت: سال 2015ء میں ایک موقع پر ’پاکستان اسٹیل ملز‘ کو بند کر دیا گیا تھا۔ 
دوسری حقیقت: پاکستان ہر ماہ 40 کروڑ ڈالر مالیت کی اسٹیل درآمد کرتا ہے۔
تیسری حقیقت: پاکستان اسٹیل ملز سے پیداوار اُور منافع تو حاصل نہیں ہورہا لیکن اِس ادارے کے ملازمین کی ماہانہ تنخواہیں 380 ملین (38 کروڑ روپے) ہیں۔
موجودہ صورتحال: اکتوبر 2018ء میں وزارت صنعت و پیداوار نے اسٹیل ملز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے 45 روزہ حکمت عملی (پلان) کا اعلان کیا۔ یہ حکمت عملی وزیراعظم کے مشیر رزاق داؤد کی سوچ بچار کا نتیجہ تھی۔ 16 نومبر 2018ء کے روز وزیرخزانہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ’’حکومت کا اسٹیل ملز اصلاحات کے حوالے سے بہت سا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔‘‘ مارچ 2019ء تک اسٹیل ملز بحالی سے متعلق حکومتی حکمت عملی کا اطلاق نہ ہوسکا اُور قابل ذکر ہے کہ اگست 2018ء سے مارچ 2019ء کے درمیانی عرصے میں پاکستان اسٹیل ملز نے مزید (اضافی) 25 ارب روپے کا خسارہ کیا۔

راقم کو ’اکنامک کورآرڈنیشن کونسل (اقتصادی رابطہ کونسل)‘ کے 7 اجلاسوں میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ اجلاس اکتوبر 2018ء سے مارچ 2019ء کے درمیان منعقد ہوئے اور اِن میں پاکستان اسٹیل ملز کا معاملہ زیرغور آیا۔ مارچ 2019ء میں بھی اسٹیل ملز بحالی کی حکمت عملی نافذ نہیں ہو سکی اُور اِس ادارے نے مزید 25 ارب روپے کا خسارہ کیا ہے۔

رکاوٹیں کیا ہیں؟ مفادات کا تصادم پاکستان اسٹیل ملز سے متعلق حکومتی اصلاحات کے نفاذ کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نجی شعبہ نہیں چاہتا کہ کسی بھی صورت پاکستان اسٹیل ملز اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔

چوتھی حقیقت: پاکستان میں اسٹیل کی صنعت کے لئے حکومتی قیمتیں کچھ اِس طرح مرتب کی گئی ہیں کہ پاکستان اسٹیل ملز کی عدم موجودگی میں نجی شعبہ ہر سال اربوں روپے کما رہا ہے۔

پہلی تجویز: سرکاری اداروں کو چلانے کے لئے ’’پبلک سیکٹر رولز 2013ء‘‘ پر عمل درآمد کیا جائے۔
دوسری تجویز: پیشہ ور اور تجربہ کار شخص کو پاکستان اسٹیل ملز کا سربراہ مقرر کیا جائے۔
تیسری تجویز: اسٹیل ملز کے مالی امور کی درستگی اور سخت گیر مالی نظم و ضبط لاگو کرنے کے لئے پیشہ ور‘ تجربہ کار اُور اچھی ساکھ رکھنے والا ’چیف فنانشیل آفسیر‘ (مالی امور کا منتظم) مقرر کیا جائے۔
چوتھی تجویز: پیشہ ور ڈائریکٹرز تعینات کئے جائیں۔
پانچویں تجویز: پیشہ ور جنرل منیجرز تعینات کئے جائیں۔
چھٹی تجویز: اسٹیل کی قیمتوں کا ازسرنو تعین کیا جائے اور پاکستان اسٹیل ملز کے لئے بھی کاروبار کے یکساں مواقع پیدا کئے جائیں۔

یاد رہے کہ ماضی میں اسٹیل ملز کی بحالی کے لئے جو کامیابی کوششیں کی گئیں اُن کے لائحہ عمل اور نتائج مطالعے کے لئے موجود ہیں۔ اِن میں ڈاکٹر اکرم شیخ نے اسٹیل ملز کی افرادی قوت اور مالی امور کی درستگی کے لئے اقدامات کئے تھے۔ اِسی طرح لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) صبیح قمر الزمان نے اسٹیل ملز کی 95فیصد پیداواری صلاحیت بحال کر دی تھی۔

اسٹیل ملز کی بحالی سے حکومت کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟ اگر حکومت اسٹیل ملز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیتی ہے اُور اِس کی پیداوار شروع ہونے کے بعد اسٹیل کی قیمتوں کا ازسرنو تعین کرتی ہے تو اِس سے اضافی ٹیکسوں کی صورت اربوں روپے کا منافع حاصل ہوگا۔ دوسرا حکومت ملکی ضروریات پورا کرنے کے لئے جو 3 ارب ڈالر مالیت کی سالانہ اسٹیل درآمد کر رہی ہے اُس میں بھی بچت ہوگی۔ تیسرا یہ کہ حکومت نئے پاکستان میں 50لاکھ نئے گھر تعمیر کرنے کا وعدہ کئے بیٹھی ہے اور اگر اسٹیل کی ملکی پیداوار کا آغاز ہوتا ہے تو اِس سے حکومت کے لئے کم قیمت میں اپنے وعدوں کی تکمیل ممکن ہوگی۔ چوتھا فائدہ یہ ہے کہ کم قیمت اسٹیل سے ملک میں تعمیر ہونے والے پن بجلی کے منصوبوں کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں گی اُور پانچواں فائدہ قومی خزانے پر اسٹیل مل کا بوجھ کم ہونے کے ساتھ ملک کا اقتصادی تحفظ و مفاد یقینی اور مضبوط بنایا جا سکے گا۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, March 17, 2019

TRANSLATION: Is it working by Dr. Farrukh Saleem

 ? Is it working
طرزحکمرانی: خاطرخواہ نتائج؟

بیس اگست دوہزار اٹھارہ: سولہ رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھایا۔ اُس وقت (اگست دوہزاراٹھارہ) میں پاکستان کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 10 ارب ڈالر تھا۔ تب سے آج (مارچ دوہزار اُنیس) تک پاکستان 3ارب ڈالر ’سعودی عرب‘ اُور 2 ارب ڈالر ’متحدہ عرب امارات (یو اے اِی)‘ یعنی مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر قرض لے چکا ہے۔ اِس حساب سے پاکستان کے خزانے میں 15 ارب ڈالر ہونے چاہیءں لیکن صورتحال یہ ہے کہ 8 مارچ 2019ء کے روز‘ ملک کے مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 8.1 ارب ڈالر ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور حکمران بننے کے بعد اُن کے رویئے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے لیکن اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے اور اعدادوشمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ حکومت پاکستان کی اقتصادی بہتری کے لئے جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ اُس کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد نہیں ہو رہے!

پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار کے آنے کے وقت (اگست 2018ء) میں ملک کا گردشی قرض 1.1 کھرب روپے تھا۔ 17 ستمبر 2018ء کو حکومت نے بجلی کے پیداواری شعبے میں اصلاحات متعارف کروانے کا فیصلہ کیا‘ اُور اِس مقصد کے لئے ایک ’ٹاسک فورس (task-force)‘ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ 20 اکتوبر 2018ء کے روز وفاقی حکومت نے ’خصوصی معاون برائے شعبۂ توانائی‘ مقرر کیا۔ اِس کوشش کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ نہ صرف توانائی کے پیداواری شعبے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے بلکہ اِس کی کارکردگی بھی بہتر بنائی جا سکے‘ جس سے ملک کو گردشی قرضے جیسے مسئلے سے مستقل نجات دلائی جائے لیکن گردشی قرض بڑھتا چلا گیا۔ جنوری 2019ء میں گردشی قرض کا حجم 1.4کھرب روپے تھا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے 137دن کے اندر گردشی قرضے میں 260 ارب روپے اضافہ ہوا جبکہ چند برس قبل تک گردشی قرض میں ہر روز 1 ارب روپے اضافہ ہو رہا تھا۔ سیاسی رہنماؤں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور حکمران بننے کے بعد اُن کے رویئے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے لیکن اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے اور اعدادوشمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ حکومت پاکستان گردشی قرضے سے نمٹنے کے لئے جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ اُس کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد نہیں ہو رہے!

سال 2000ء سے 2008ء کے درمیانی عرصے میں پاکستان اسٹیل ملز نے ’20 ارب روپے‘ منافع کمایا تھا۔ سال 2008ء اور 2013ء کے درمیان پاکستان اسٹیل ملز کا خسارہ 100 ارب روپے رہا یعنی اِس عرصے (سال 2013ء سے سال 2018ء) کے درمیان اسٹیل ملز نے 138 ارب روپے خسارہ کیا۔ فی الوقت (مارچ دوہزار اُنیس میں) ’پاکستان اسٹیل ملز‘ یومیہ 7 کروڑ (70ملین) روپے خسارہ کر رہی ہے اور یہ خسارہ کسی ایک دن نہیں ہوتا بلکہ سارا سال ہر دن سات کروڑ روپے کے حساب سے ہو رہا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور حکمران بننے کے بعد اُن کے رویئے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے لیکن اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے اور اعدادوشمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ حکومت پاکستان ’اسٹیل ملز‘ کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور خسارے سے نکالنے کے لئے جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ اُس کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد نہیں ہو رہے!

سال 2013ء میں پاکستان کے تمام سرکاری اداروں (پبلک سیکٹر انٹرپرائزیز) کا مجموعی خسارہ 495 ارب روپے تھا۔ سال 2018ء میں یہ خسارہ بڑھ کر 1100 ارب روپے ہو گیا۔ ’پندرہ نومبر دوہزار اٹھارہ‘ کے روز ’وفاقی کابینہ‘ کے ایک اجلاس میں ’سرمایہ پاکستان کمپنی‘ کے نام سے ایک حکومتی ادارہ قائم کیا گیا۔ اِس ادارے کی کارکردگی کیا رہی یہ جاننے کے لئے پندرہ نومبر سے آج تک ہوئے سرکاری اداروں کے خسارے پر نظر ڈالیں تو اِس میں ماضی کے مقابلے ’500 ارب روپے‘ کا اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور حکمران بننے کے بعد اُن کے رویئے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے لیکن اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے اور اعدادوشمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ حکومت پاکستان سرکاری اداروں کے خسارے کو کم کرنے کے لئے جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ اُس کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد نہیں ہو رہے!

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جولائی سے جنوری 2018ء کے مالی سال کے دوران پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری (foreign investment) کا حجم 4.1 ارب ڈالر رہا جبکہ جولائی سے جنوری 2019ء (تحریک انصاف کے دور حکومت میں) 1 ارب ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری پاکستان میں کی گئی! سیاسی رہنماؤں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور حکمران بننے کے بعد اُن کے رویئے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے لیکن اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے اور اعدادوشمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ حکومت پاکستان ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کے لئے جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ اُس پر غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد نہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومتی کوششوں کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد نہیں ہو رہے!
کسی حکومت کی کارکردگی کا اصل احوال اِن دو امور سے چلتا ہے کہ اُس کے دور حکومت میں ملک کی مجموعی خام پیداوار میں کس قدر اضافہ ہوا‘ اُور اُس کے دور حکومت میں پاکستان کے ذمے واجب الادأ مالی ذمہ داریوں (قرضوں) کے حجم میں کس قدر کمی ہوئی۔ سال 2008ء‘ میں پاکستان کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت کے دوران اِس میں اضافہ کرتے ہوئے 16 کھرب روپے کر دیا گیا یعنی پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں ہر دن 5 ارب روپے قرض لیا۔ سال 2013ء میں پاکستان کے ذمے کل قرض 16کھرب روپے تھا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے پانچ سالہ دور حکومت میں ہر دن 7.7 ارب روپے قرض لیا گیا جس سے مجموعی قومی قرض کا حجم 30 کھرب روپے تک جا پہنچا۔

خطرے کی گھنٹی: تحریک انصاف حکومت کے گزشتہ 7 ماہ کے دوران پاکستان کے ذمے غیرملکی قرضہ جات کے حجم ’’5.7 ارب ڈالر‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں پاکستان ماہانہ 814 ملین (81 کروڑ 40لاکھ) ڈالر کی شرح سے قرض لے رہا ہے جبکہ مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں ماہانہ ’556 ملین (55 کروڑ 60 لاکھ) ڈالر‘ قرض لیا جاتا رہا۔

جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں پاکستان کے عوام نے ’تحریک انصاف‘ کو 5 سال حکومت کرنے کا اختیار (مینڈیٹ) دیا۔ کسی حکومت کی آئینی مدت 5 سال یعنی مجموعی طور پر 1825 دن بنتی ہے۔ اِس حساب سے موجودہ حکومت کے دور اقتدار کا آٹھواں حصہ مکمل ہو چکا ہے اُور اِس کے پاس کل آئینی مدت کے سات حصے باقی بچے ہیں لیکن مالی نظم و ضبط و اقتصادی بہتری کے لئے اب تک کئے گئے حکومتی اقدامات کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے ہیں۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, January 27, 2019

TRANSLATION: Out of control by Dr. Farrukh Saleem

Out of control
آمدن و اخراجات: عدم توازن!
آغاز بیان ’منی بجٹ‘ سے کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے برآمد کنندگان کے لئے کچھ غیرمعمولی اور منفرد مراعات کا اعلان کیا ہے جس میں چند ایسے خام مال کی درآمدی ڈیوٹی بھی کم کی گئی ہے‘ جو برآمدی اشیاء کی تیاری کے لئے زیادہ تر استعمال ہوتے ہیں۔ اِسی طرح چھوٹی و درمیانی صنعتوں‘ زرعی شعبے اُور کم آمدنی والے ہاؤسنگ سیکٹر کے لئے بھی براہ راست مراعات کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ٹیکس سے رعایت بھی شامل ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وزیرخزانہ نے چند بہت ہی منفرد اور حسب حال ضروری اقدامات کئے ہیں جن سے زبوں حال اقتصادیات اور کاروبار کو فائدہ ہوگا۔ ضمنی بجٹ کے ذریعے تین اہداف بیک وقت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قومی بچت میں اضافہ‘ سرمایہ کاری اور آسائش سے متعلقہ اشیاء کی درآمدات کی حوصلہ شکنی۔ برآمدکنندگان کو شکایت رہتی ہے کہ حکومت اُن کے بقایا جات بروقت ادا نہیں کرتی۔ اِس دیرینہ مطالبے (ریفنڈ کے معاملے) کو حل کرنے پر بطور خاص توجہ دی گئی ہے‘ جو کہ خوش آئند ہے۔

اب آتے ہیں کچھ دیگر مسائل کی جانب۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے اخراجات ناقابل یقین حد تک زیادہ ہیں اُور یہ ضبط (کنٹرول) میں نہیں آ رہے جبکہ دوسری طرف حکومت کی آمدنی بھی کم ہو رہی ہے جو کہ گذشتہ 6 ماہ کے دوران 170 ارب روپے سے زائد کی کمی ہے۔ پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کے ذمے واجب الادأ قرضہ جات پر سود کی اقساط 2000 ارب روپے تک جا پہنچی ہیں جبکہ مالی سال کے پیش کردہ بجٹ میں اِس کا حجم 1620 ارب روپے تھا۔ پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں ایسا بھی پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت اسٹیٹ بینک سے 6.6 کھرب روپے قرض لے چکی ہے‘ جو کہ ایک غیرمعمولی طور پر بڑی رقم ہے۔

اعدادوشمار کی حد تک مہنگائی کی شرح 6.17 فیصد ہے لیکن یہ اعدادوشمار ’ادارۂ شماریات‘ کی ملکیت ہیں جو کہ اپنے تیئں مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب رہی ہے لیکن برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کی شرح میں غیرمعمولی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ (مہنگائی) بھی ضبط (کنٹرول) میں نہیں آ رہی ہے۔ حکومت کی آمدنی اور حکومت کے اخراجات کے درمیان توازن نہیں۔ عدم توازن کی یہ صورتحال بھی ضبط (کنٹرول) میں نہیں آ رہی ہے۔ بجٹ کا خسارہ چھ فیصد بتایا جاتا ہے لیکن اِس خسارے میں گردشی قرضہ‘ سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی سے ہونے والا جاری خسارہ‘ حکومتی اخراجات کا بوجھ اُور بجلی و گیس کے شعبوں میں ہونے والے خسارے شامل نہیں‘ جنہیں اگر بجٹ خسارے میں شمار کیا جائے تو یہ خسارہ ملک کی موجودہ کل آمدنی کے 10فیصد تک پہنچ جائے گا۔

قرض کا چکر اُس صورتحال کو کہا جاتا ہے جس میں قرض کی اقساط اور اُس پر سود ادا کرنے کے لئے قرض لیا جاتا ہے۔ سال 2008ء سے 2013ء تک پاکستان پیپلزپارٹی حکومت نے 5 ارب روپے یومیہ کے حساب سے قرض لیا۔ یہ پانچ ارب روپے یومیہ پانچ سال تک ہر روز لئے جاتے رہے۔ سال2013 ء سے 2018ء تک پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے 7.7 ارب روپے یومیہ کے حساب سے قرض لیا اور یہ سات اعشاریہ سات ارب روپے پانچ سال (حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے تک) تک ہر روز لئے جاتے رہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے پانچ ماہ کے دوران 15 ارب روپے یومیہ کے حساب سے قرض لیا ہے یعنی پانچ ماہ کے ہر دن پندرہ ارب روپے لئے گئے ہیں۔ رواں سال پاکستان کی تاخیر میں ایسا پہلا اقتصادی عرصہ ہوگا جس میں حکومت کو ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی نصف آمدنی (کل آمدنی کا پچاس فیصد) قرضہ جات کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہو جائے گی۔

حرف آخر یہ ہے کہ قومی پیداوار میں اضافہ سست رفتار یعنی 2 فیصد ہے یعنی 700 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ جلد یا بدیر وزارت خزانہ کو ایسے اقدامات کرنا پڑیں گے جن کی وجہ سے حکومت کی آمدن و اخراجات کے درمیان ’’800 ارب روپے‘‘ کا عدم توازن پورا کرنے کی سعی کی جائے۔ حکومت کے ناقابل کنٹرول اخراجات کی وجہ سے بہت جلد ہر پاکستانی خاندان کو اضافی 30 ہزار روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ حکومت کی آمدنی کم ہے اُور اِس کے اخراجات زیادہ ہیں۔

آمدنی بڑھانے کے ساتھ حکومت کو اُن تمام خرابیوں کو بھی دور کرنا ہے‘ جن کی وجہ سے اخراجات اور سرکاری اداروں کا خسارہ کم نہیں ہو رہے۔ ہمارے سرکاری ادارے سالانہ 1100 ارب روپے کا خسارہ کرتے ہیں۔ 2 ارب روپے یومیہ کے حساب سے بجلی کا خسارہ ہے۔ 150 ارب روپے سالانہ کے حساب سے گیس شعبے کا خسارے ہے اُور 624 ارب روپے کا بوجھ مختلف حکومتی اداروں کو فعال رکھنے کے لئے سرکاری خزانے پر مسلط ہے۔

اگر کسی مریض کو سرطان (کینسر) جیسا پیچیدہ اُور معلوم مرض لاحق ہو تو کیا اُس کا علاج گھریلو ٹوٹکوں یا درد رفع کرنے والی عمومی دوا ’پیناڈول (panadol)‘ سے کیا جاتا ہے؟

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, January 13, 2019

TRANSLATION: Course correction by Dr. Farrukh Saleem

Course correction
طرزحکمرانی: سمتِ سفر
ایک نہیں بلکہ دو ’اچھی خبریں‘ ایسی ہیں‘ جن کا ذکر ضروری ہے۔ 1: پاکستان کی برآمدات میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے اُور 2: پاکستان کے تجارتی خسارے میں 5 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ ہفتہ وار کالم لکھتے ہوئے راقم کو 20 برس ہو گئے ہیں جس کے لئے میں ’دِی نیوز (اَخبار)‘ کی اِنتظامیہ کا مشکور ہوں‘ جنہوں نے مجھے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ مجھے کیا لکھنا چاہئے۔ بیس برس ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ اَلبتہ اِس عرصے کے دوران ہزاروں کی تعداد میں میری تحریریں شائع ہوئیں لیکن ’3 مرتبہ‘ ایسا ہوا کہ میرے کالم شائع نہیں کئے گئے۔

گذشتہ 20 سال کے دوران ایسا پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم کی ذاتی ترجیحات قومی ضروریات کے مطابق ہیں۔ وزیراعظم دل سے چاہتے ہیں کہ پاکستان سے بدعنوانی (کرپشن) کا خاتمہ ہو اور غربت کا شکار 13 کروڑ ایسے پاکستانیوں کو غربت کی دلدل سے نکالا جائے جن کی آمدنی یومیہ 300 سے 400 روپے ہے لیکن اِس مقصد کے لئے حکومت کو ایک جامع اقتصادی حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔ جس کا انتخاب کرتے ہوئے یہ بات بھی یکساں اہم ہے کہ ماضی میں انسداد بدعنوانی اور غربت کے خاتمے کے لئے کی گئیں حکومتی کوششوں (مشقوں) کی ناکامی سے حاصل ہونے والے اسباق (نتائج) پر بھی نظر رکھی جائے۔

انسداد بدعنوانی کی مہمات (ماضی) میں پاکستان کو خاطرخواہ کامیابیاں حاصل نہیں ہوسکیں اُور اگر اِس مرتبہ بھی ’غیر روائتی انداز‘ اختیار نہ کیا گیا اُور ماضی ہی کی طرح انسداد بدعنوانی کی کوششیں کی گئیں تو اِس کے نتائج زیادہ مختلف برآمد نہیں ہوں گے۔ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی اقتصادی پالیسی میں بہتری لانے کے لئے ماضی کی حکمت عملیوں سے مختلف راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو اگرچہ مشکل ہوگا لیکن اِس کے سوأ ’اِصلاح کی کوئی دوسری صورت باقی نہیں ہے۔‘

پاکستان کا گردشی قرض 1400 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ گردشی قرضوں کے اِس غیرمعمولی حجم کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ 1100 ارب روپے ہے یعنی ہم پاکستان کے دفاع سے زیادہ گردشی قرضہ جات پر ادا کریں گے! گذشتہ 137 دنوں میں تحریک انصاف حکومت نے قومی قرضہ جات میں 260 ارب روپے کا اضافہ کیا ہے‘ جو 137 دنوں میں فی دن 2 ارب روپے بنتا ہے۔ چند برس قبل حکومت 1ارب روپے روزانہ قرض لے رہی تھی جو دگنا ہو چکا ہے۔ حکومت نے اقتصادی و معاشی محاذوں پر بہتری کے لئے ٹاسک فورسیز بنائی ہیں جن کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ لومڑیوں سے گوشت کی رکھوالی کراوئی جا سکے؟ بجلی (توانائی) کی عدم موجودگی میں کسی اقتصادی بہتری کا امکان نہیں ہو سکتا اور حکومت جو 2 ارب روپے یومیہ قرض لے رہی ہے‘ اُس کا استعمال توانائی کے پیداواری منصوبوں پر نہیں کیا جارہا۔ اِس سلسلے میں حکومتی ترجیحات کو درست کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

سال 2013ء میں حکومتی اداروں (پبلک سیکٹر انٹرپرائزز) نے مجموعی طور پر 495 ارب روپے کا نقصان کیا۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے گذشتہ دور حکومت میں یہ نقصان 1100 ارب روپے تک جا پہنچا تھا‘ جو ’حسن اِتفاق‘ سے پاکستان کے دفاعی بجٹ کے مساوی رقم ہے۔ میرے خیال کے مطابق‘ تحریک انصاف حکومت کے پہلے پانچ ماہ کے دوران سرکاری اداروں کا خسارہ ’500 ارب روپے‘ ہے اور حکومت کے پاس ایسی کوئی پالیسی نہیں جس کے تحت اِن اداروں کے خسارے پر قابو پا سکے۔ حکومت نے ’سرمایہ پاکستان کمپنی‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اِس قسم کے تجربات ماسوائے سنگاپور دنیا میں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔

پاکستان میں کاروبار اقتصادی غیریقینی پر مبنی صورتحال کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔ روپے کی قدر آئندہ ماہ کیا ہوگی‘ اِس بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔ برآمدکنندگان اشیاء کی بیرون ملک فروخت کے بعد سرمایہ پاکستان منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ پاکستنان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین اشرف شیخ کے بقول ’’بیروزگاری‘ بینک دیوالیہ اور آمدن میں کمی‘‘ جیسے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔ 60 ارب روپے مالیت کے ٹریکٹر بنانیو الی یہ صنعت مشکل دور سے گزر رہی ہے‘ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرکاری اداروں کی طرح نجی پیداواری ادارے بھی اقتصادی مسائل سے نمٹنے میں مشکلات سے دوچار ہیں‘ جنہیں کم کرنے کے لئے حکومت کو اپنے ’اقتصادی لائحہ عمل‘ میں تبدیلی لانا ہوگی۔

سال 2013ء میں اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ادارے کو مطلع کیا تھا کہ قومی خزانے سے 290 ارب روپے کی ایسی ادائیگیاں کی گئیں ہیں جو قوانین و قواعد کے خلاف ہیں لیکن یہ سلسلہ رک نہیں سکا اُور آج بھی جاری ہے! پاکستان کی حکومت جس بڑے پیمانے پر قرض لیکر ملک چلا رہی ہے ماضی میں اِس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر روپے کی قدر میں کمی کو شمار کرتے ہوئے موجودہ اور سابق سیاسی حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو مالی امور میں حکومت کی کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ گذشتہ 5 ماہ کے دوران 15 ارب روپے یومیہ کے حساب سے قومی قرض بڑھا ہے جو سابق دور حکومت (نواز لیگ) کے وقت 8 ارب روپے یومیہ اُور پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں 5 ارب روپے یومیہ تھا۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, December 30, 2018

TRANSLATION: Bleeding economy by Dr. Farrukh Saleem

Bleeding economy
اقتصادی زوال پذیری!
پاکستان کی اقتصادی صورتحال ایک عرصے سے گرواٹ کا شکار ہے اُور اِس زوال پذیری کی 3 بنیادی وجوہات ہیں۔ 1: حکومت اور حکومتی اداروں کے لئے خریداری کے عمل میں مالی بدعنوانیاں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے مقدار اُور معیار دونوں ہی متاثر ہوتے ہیں۔ 2: حکومتی ادارے قومی خزانے پر مستقل بوجھ ہیں اُور اِن اداروں کا خسارہ ہر گزرتے دن بڑھ رہا ہے۔ 3: اشیاء و اجناس سے متعلق حکومتی کاروائیاں خاطرخواہ مثبت نتائج کی حامل نہیں۔

قومی خریداری: عالمی بینک کی جانب سے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ حکومت یا حکومتی ادارے مجموعی قومی آمدنی کا 19.8 فیصد یعنی 7.5 کھرب روپے کی خریداری کرتے ہیں۔ سال 2002ء میں صدر پاکستان کے دستخطوں سے ایک قانون منظور ہوا‘ جس کے تحت ’پبلک پریکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پپرا)‘ تخلیق ہوئی۔ اِس نگران حکومتی ادارے کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ جملہ حکومتی اداروں کے لئے خریداری کے عمل پر نظر رکھے‘ اِس عمل کو کم خرچ اور معیار و پائیداری کے لحاظ سے بہتر بنائے۔ حکومتی اداروں کو جہاں کہیں خدمات کی ضرورت ہو یا کوئی کام کروانا ہو تو اُس موقع پر بھی ’پپرا‘ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ ’پپرا‘ کے بانی نگران (منیجنگ ڈائریکٹر) خالد جاوید تھے‘ جنہوں نے کہا تھا کہ ’’پاکستان کو کسی مالیاتی ادارے سے قرض لینے کی ضرورت نہیں لیکن اگر وہ حکومت اور حکومتی اداروں کے لئے خریداری کے عمل کو شفاف اور منظم بنائے کیونکہ اِس عمل میں ضائع (خردبرد) ہونے والے مالی وسائل کسی مالیاتی ادارے سے قرض لینے سے زیادہ ہیں۔‘‘ 

محتاط اندازہ ہے کہ قومی خریداری کے لئے مختص مالی وسائل کا 30 سے 60فیصد یعنی ہرسال 2.2 کھرب سے 4.5 کھرب روپے ضائع (بدعنوانی کی نذر) ہو جاتا ہیں۔ یہ قطعی معمولی رقم نہیں جو بہرحال بچائی جا سکتی ہے۔

قومی خریداری کے عمل میں پائی جانے والی بے قاعدگی‘ بے ضابطگی اور بدعنوانی کی بنیادی وجہ کمزور نظام ہے۔ اگر ہم موجودہ وفاقی حکومت کی بات کریں تو گذشتہ چار ماہ (اگست سے دسمبر) کے عرصے میں حکومت نے اِس شعبے میں کوئی مداخلت نہیں کی‘ جس کے نتیجے میں اندازہ ہے کہ 75 کروڑ روپے ضائع ہو چکے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو مزید قرض لینے پڑیں گے اور جیسے جیسے ملک کو چلانے کے لئے قرضوں کی ضرورت بڑھتی چلی جاتی ہے ویسے ویسے پاکستان کے اقتصادی جسم پر لگنے والے گھاؤ مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ قومی خریداری کو متاثر کرنے والے تین عوامل میں دھوکہ دہی‘ بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہے جس کی وجہ سے اشیاء کی خریداری کرتے وقت اُن کی قیمت زیادہ ادا کی جاتی ہے۔ بلاضرورت اور زیادہ مقدار میں خریداری کی جاتی ہے۔ غیرمعیاری خریداری کی جاتی ہے اور خریداری کے عمل سے متعلق فیصلہ سازی کے حاصل اختیارات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اِن سبھی مسائل کا سردست آسان حل یہ ہے کہ حکومتی اداروں کی خریداری کے عمل کو ’کمپیوٹرائزاڈ‘ کردیا جائے‘ جسے ’اِی پروکیورمنٹ (e-procurement)‘ کہلائے گی۔ اِس عمل میں شفافیت کا عنصر غالب رہے گا اور بالا و نچلی سطح پر حکومتی اداروں کے فیصلہ سازوں کے لئے ممکن نہیں رہے گا کہ وہ رازداری سے خریداری کریں اور اپنی بدعنوانیوں کے ثبوت فائلوں میں بند کرکے بعدازاں سرکاری ریکارڈ کو آگ لگا کر چلتے بنیں۔ جب تک خریداری کے عمل میں اختیار کی جانے والی رازداری کا خاتمہ نہیں کردیا جاتا اُس وقت شفافیت‘ معیار اُور بچت جیسے اہداف حاصل نہیں ہو پائیں گے۔

سرکاری اداروں کا خسارہ: گذشتہ پانچ برس کی کہانی یہ ہے کہ 195 سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر قومی خزانے کو 3.7 کھرب روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ صرف بجلی کی مد میں پاکستان کو یومیہ ایک روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ گیس کی مد میں پچاس کروڑ‘ پاکستان ائرلائن‘ پاکستان ریلویز اور اسٹیل مل کا خسارہ 56 کروڑ سالانہ جیسی بلند سطح کو چھو رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ چار ماہ کے دوران قومی اداروں کے اِن خساروں کو روکنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات نہیں کئے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو ’’370 ارب روپے‘‘ کا نقصان ہو چکا ہے۔ یہ رقم کس قدر بڑی ہے اِس بات کا اندازہ لگانے کے لئے مختلف شعبوں پر اُٹھنے والے حکومتی اخراجات پر نظر کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ پاکستان شعبۂ تعلیم پر سالانہ 55 ارب روپے خرچ کرتا ہے لیکن قومی ادارے سالانہ 1.1 کھرب روپے نقصان کر رہے ہیں۔ اِسی طرح پاکستان کے دفاعی اخراجات کا کل حجم مالی سال 2018-19ء کے دوران 1.1 کھرب روپے رہا جبکہ اِسی عرصے میں حکومتی اداروں نے قومی خزانے کو 1.1 کھرب روپے کا خسارہ دیا۔ پاکستان کی دگرگوں اقتصادی صورتحال کی بنیادی وجہ خزانے پر بوجھ قومی ادارے ہیں۔'

پاکستان میں اداروں کے حکمرانی ہے۔ یہاں ہونے والی ادارہ جاتی بدعنوانی ایک منظم انداز میں جاری ہے جس کا دائرہ اشیاء و اجناس کی خریداری سے لیکر قومی اداروں کے خسارے تک پھیلا ہوا ہے۔ ایسی صورت میں ادارہ جاتی ڈھانچوں اور صوابدیدی و غیرصوابدیدی اختیارات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ اصلاحات لانا ہوں گی جن سے نہ صرف سرکاری اداروں کی کارکردگی عوامی مفاد میں بہتر ہوں بلکہ اُن کا مالی بوجھ بھی کم ہو۔ 19 دسمبر (دوہزار اٹھارہ) کے روز ’آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی)‘ نے بدانتظامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’’کمزور مالی نظم و ضبط اور بے ضابطگیوں کی موجودگی میں 44 وفاقی وزارتوں نے مجموعی طور پر 5.8 کھرب روپے خرچ کئے ہیں۔‘‘ مراد یہ ہے کہ پاکستان کی خراب اقتصادی صورتحال کی زبوں حالی مسلسل‘ مستقل اور جاری عمل ہے! 

(مضمون نگار وفاقی حکومت کے مشیر اُور اقتصادیات و توانائی سے متعلق امور کے حوالے سے ترجمان ہیں۔ بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, December 9, 2018

TRANSLATION - Good news by Dr. Farrukh Saleem

Good news
اَچھی خبر
پاکستانی روپے کی قدر میں تیزی سے ہونے والا ردوبدل اور روپے کی غیرمستحکم حیثیت کاروبار کے لئے ’نیک شگون‘ نہیں ہوتی۔ جب کسی ملک کی کرنسی کی قدر کم ہوتی ہے تو اِس سے وہاں ضروریات زندگی مہنگی ہوتی ہیں اور یہ بات بھی ’نیک شگون‘ نہیں ہوتی۔ حالیہ چند ماہ کے دوران گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بجلی اب مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ عام آدمی مہنگائی میں کمی چاہتا ہے۔ روزمرہ ضروریہ کی قیمتوں میں کمی چاہتا ہے لیکن ایسا عنقریب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ملک کی معاشی صورتحال غیریقینی کا شکار ہے اور جہاں کہیں بھی معیشت غیریقینی سے دوچار ہو‘ وہاں کا ماحول کاروباری سرگرمیوں کے موافق نہیں ہوتا۔ یہی سبب ہے کہ ہمیں ملک کی حصص اور مالیاتی مارکیٹ میں بے سکونی دکھائی دیتی ہے۔

کیا اِس معاشی صورتحال پر حکومت وقت بھی پریشان ہے‘ جو ملک کو موجودہ معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے کوششیں کر رہی ہے؟ جی ہاں‘ حکومتی سطح پر قومی معاشی صورتحال کی بہتری کے لئے تین سطحی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ 1: برآمدات میں اضافہ کرنے کے لئے متعلقہ صنعتوں اور دیگر شعبہ جات کی سرپرستی کی جا رہی ہے‘ جس کے فوری اثرات تو ظاہر نہیں ہوں گے لیکن آئندہ چند برس کے دوران پاکستان اِس قابل ہوگا کہ وہ اپنی برآمدات پر بھروسہ کر سکے۔ 2: حکومت ملک میں ایسی سرمایہ کاری لانے کے لئے کوشاں ہے جس کے لئے مالی وسائل غیرملکی قرض کی صورت میں نہ ہوں اُور 3: بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ’ترسیلات زر‘ میں اضافہ کرنے کے لئے حکومت اور عوام کے درمیان اُس اِعتماد کو بحال کیا جائے‘ جس سے عوام خود کو حکمرانوں سے الگ نہ سمجھیں اُور اِس منفی سوچ کی بھی نفی (اَزالہ) ہو کہ حکومت بظاہر عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل تو ہوتی ہے لیکن صاحبان اقتدار اور عوام کے مفادات میں ’’زمین آسمان کا فرق‘‘ ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت ایک جامع معاشی حکمت عملی کے تحت اقدامات کر رہی ہے۔ ممکن ہے کہ اِس حکمت عملی پر عمل درآمد سست رفتار ہو اُور کچھ وقت لگے لیکن وقت تو بہر لگتا ہی ہے۔ وقت چاہے کم لگے یا زیادہ اُور اِس مرتبہ اگر کچھ وقت لگتا محسوس ہو رہا ہے‘ تو اِس کے بہتر نتائج دور رس بھی ظاہر ہوں گے اور مالیاتی و معاشی طور پر پاکستان کی ترقی پائیدار ہو گی۔
تحریک انصاف کی حکومت ترجیحی بنیادوں پر ایسا سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے‘ جس سے غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروبار کرنے میں رغبت ملے۔ اِس حکومتی کوشش کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے کئی عالمی اداروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس میں ’پیپسی کو (PepsiCo)‘ نامی معروف ادارہ بھی شامل ہے۔ اِس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر برائے ایشیاء‘ مشرق وسطی اُور شمالی افریقہ مائیک اسپینوس (Mike Spanos) نے حال ہی میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اُور اِس عزم کا اظہار کیا کہ اُن کی کمپنی پاکستان میں ’1 ارب ڈالر‘ سرمایہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ سرمایہ کاری آئندہ پانچ برس کے دوران ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ ’پیپسی کو‘ کی سالانہ آمدنی 63 ارب ڈالر ہے۔

’پیسی کو‘ کی طرح ’سوزوکی موٹر کارپوریشن (Suzuki Motor Corporation) کے چیئرمین اُسامو سوزوکی (Osamu Suzuki) نے بھی وزیراعظم سے ملاقات میں ’45 کروڑ ڈالر‘ سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اِظہار کیا۔ سوزوکی موٹر کارپوریشن کی سالانہ آمدنی ’35 ارب ڈالر‘ ہے۔ سوزوکی موٹر پاکستان میں اضافی 25 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کرے گی۔ جے ڈبلیو (JW) نامی کمپنی ’فارلینڈ (Forland)‘ کے تعاون میں پاکستان میں 15کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے‘ جس سے مال برداری میں استعمال ہونے والے ٹرک اور خصوصی استعمال کی گاڑیاں بنائی جائیں گی۔ خاص بات یہ ہے کہ مذکورہ منصوبے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ پاکستان میں لگنے والی اِس صنعت کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ہوگی۔ پائیدار ترقی کے لئے ضروری ہے کہ بیرون ممالک سے صنعتیں اپنی ٹیکنالوجی بھی پاکستان منتقل کریں۔ اِسی طرح والکس ویگن (Volkswagen)‘ سیمنز (Siemens)‘ رینالٹ (Renault)‘ ایگزی موبل کارپوریشن (Exxon Mobil Corporation) پاکستان میں اپنے آپریشنز شروع کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ علاؤہ ازیں پاکستان کے پانیوں میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے کراچی کے ساحل سے 230کلومیٹر دور تیل کی تلاش کرنے کی مہم بھی غیرملکی سرمایہ کاری سے شروع کی جائے گی۔ سردست پاکستان چھیاسی ہزار بیرل تیل اُور چار ارب کیوبک فٹ گیس یومیہ اپنے ذخائر سے حاصل کر رہا ہے۔ محتاط اَندازہ ہے کہ آئندہ تین برس میں یومیہ پیداوار 2 لاکھ بیرل تک بڑھ جائے گی۔ پاکستان میں تیل و گیس کے ترقیاتی ادارے ’اُو جی ڈی سی ایل (OGDCL)‘ کے پاس افرادی و تکنیکی وسائل موجود ہیں‘ جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے ہرسال سینکڑوں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش ممکن ہے لیکن یہ ادارہ چند درجن سے زائد کھدائیوں سے زیادہ کچھ نہیں کر رہا‘ جن میں کامیابی کی شرح ممکنہ ذخائر کی موجودگی اور حجم کے لحاظ سے کافی نہیں۔

معاشی استحکام کے مثبت اشارے مل رہے ہیں جیسا کہ پاکستان میں اکتوبر 2018ء کے دوران 4.5 ملین ٹن سیمنٹ برآمد کی گئی جو گذشتہ سال کے اِسی ماہ کے دوران برآمد ہونے والی سیمنٹ سے 7.4فیصد زیادہ ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں بھی اگرچہ معمولی اضافہ ہوا ہے لیکن یہ خوش آئند تبدیلی کا مظہر ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اپنے ملک کے نظام اور حکومت پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پاکستانیوں نے اکتوبر 2018ء کے دوران 2 ارب ڈالر ترسیلات زر کیں جبکہ اکتوبر 2017ء میں ’1.65 ارب ڈالر‘ کی ترسیلات زر ہوئی تھیں یوں 21 فیصد زیادہ ترسیلات زر غیرمعمولی (اہم) پیشرفت ہے۔

جنوری 2019ء میں فیصل آباد کی ایک صنعت ’اِنٹرلوپ لمٹیڈ‘ نائیکے (Nike) اُور ایڈیڈاس (Adidas) سے برآمدات کا معاہدہ کریں گی جس کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے اور 6.8 ارب ڈالر تک بڑھے گا۔ حکومت اور کاروباری اداروں کے درمیان اعتماد کی بحالی ایک ایسی خاص بات ہے‘ جس کا ذکر ضروری ہے کیونکہ اِسی تعلق کی مضبوطی سے روپے کی قدر پر دباؤ میں کمی لائے جا سکے گی اور یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ بہتر سے بہتر کرنے کی گنجائش بہرحال موجود رہتی ہے اور موجودہ حکومت کی کوششیں اپنی جگہ لیکن ابھی معاشی استحکام و ترقی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بہت سے اقدامات کی ضرورت بہرحال ہے۔

(مضمون نگار اِقتصادی اُور توانائی کے پیداواری اَمور کے حوالے سے حکومتی ترجمان اور مشیر ہیں۔ بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

Sunday, December 2, 2018

TRANSLATION: 100 Days by Dr. Farrukh Saleem

100 Days
سو دن
پاکستان تحریک انصاف حکومت کے ’ابتدائی 100 دن‘ کا جائزہ لینے کے لئے 2 امور لائق توجہ ہیں۔ 1: کیا وفاقی حکومت نے ایسی حکمت عملیاں وضع کیں‘ جن سے حسب ضرورت پائیدار ترقی کے اہداف حاصل ہوں اُور 2: کیا وضع کردہ حکمت عملیوں پر عمل درآمد جاری ہے؟

یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ کسی بھی حکمت عملی پر عمل درآمد کا آغاز تو فوری طور پر ہو سکتا ہے لیکن اُس سے نتائج حاصل ہونے میں وقت لگتا ہے۔ مذکورہ ’100 دن‘ کے دوران جن شعبوں سے متعلق حکمت عملیاں وضع کی گئیں اُن میں اقتصادیات‘ صحت‘ تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیجیٹل طرزحکمرانی ہے۔ اگر اِن چاروں شعبوں میں کئے گئے فیصلوں کا نظر کی جائے تو اِن کا انتخاب جامع ہونے کے ساتھ اُن زمینی حقائق کو ظاہر کرتا ہے‘ جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی باقی ماندہ آئینی مدت کے لئے ’قومی ترجیحات‘ کا تعین کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کی اقتصادی حکمت عملی تین ستونوں پر کھڑی ہے۔ برآمدات۔ سرمایہ کاری اور ترسیلات زر۔ حکومت اِن تینوں شعبوں میں غیرمعمولی بہتری چاہتی ہے۔ برآمدات کے شعبے کی اگر بات کی جائے تو پاکستان کی 71 سالہ اقتصادی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ دیکھا گیا کہ تجارتی خسارہ 38 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ یہ بات بھی پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہی دیکھنے میں آئی کہ ہماری برآمدات مسلسل چار سال تک زوال پذیر رہیں اُور پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں یہ بھی پہلی ہی مرتبہ دیکھنے کو ملا کہ ’جاری اخراجات (کرنٹ اکاونٹ)‘ کا خسارہ 18 ارب ڈالر جیسی غیرمعمولی بلند سطح کو عبور کر گیا ہو۔

ماہ ستمبر (دوہزار اٹھارہ) کی بات ہے جب وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے پانچ ایسے صنعتی شعبوں کی نشاندہی کی تھی‘ جن پر توجہ دے کر پاکستان اپنی برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ کر سکتا ہے۔ اِن میں پارچہ بافی (ٹیکسٹائل)‘ قالین سازی (کارپٹ)‘ چمڑے کی صنعت (لیدر)‘ کھیلوں کا سامان (سپورٹس گڈز) اُور طبی جراحت (سرجری) میں استعمال ہونے والے ’میڈیکل آلات‘ بنانے والی صنعتیں شامل ہیں۔ ماہ ستمبر ہی میں ’اقتصادی رابطہ کمیٹی‘ نے صنعتوں کے لئے گیس کی قیمت میں 44 ارب روپے کی رعائت (سبسڈی) دینے کا اعلان کیا۔ اگر ہم ٹیکسٹائل سیکٹر کی بات کریں تو پاکستان کی 60فیصد برآمدات کا تعلق اِسی صنعتی شعبے سے ہے۔ ’اقتصادی رابطہ کمیٹی‘ کے مذکورہ اجلاس میں 82 اشیاء کی قیمتوں پر درآمدی ڈیوٹی (محصولات) کم کئے گئے اور اِن دونوں اقدامات سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔ اِن حکومتی اقدامات کے جواب میں ’آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما)‘ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ 5 برس میں برآمدات دوگنا بڑھ جائیں گی جو فی الوقت سالانہ 13 ارب ڈالر کے مساوی ہیں۔ صنعتوں کا پہیہ تیزرفتاری سے چلنے کی وجہ سے ملازمتوں کے مواقع بھی بڑھیں گے اور اندازہ ہے کہ صرف فیصل آباد و ملتان کے شہروں میں پانچ لاکھ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ ظاہر سی بات ہے کہ گیس کی قیمت میں رعایت دینا ’برآمدات‘ بڑھانے کا پائیدار حل نہیں‘ اِس لئے زیادہ سوچ بچار کی بہرحال ضرورت اپنی جگہ موجود ہے۔

سرمایہ کاری کے شعبے میں اصلاحات کے تین بنیادی نکات ہیں۔ 1: ایسی سرمایہ کاری کی جائے جس کے ساتھ قرض کا بوجھ نہ ہو۔ 2: پاکستان میں کاروبار کرنے کے مواقعوں اور ماحول کو بہتر بنایا جائے تاکہ سرمایہ کار بناء تحفظات پاکستان کا رخ کریں اُور 3: خام پیداواری لاگت میں کمی لائے جائے۔ ایکزن موبل (ExxonMobil) نامی کمپنی جو کہ دنیا میں اپنی آمدن کے لحاظ سے 9ویں بڑی کمپنی ہے 27 برس بعد پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے آ رہی ہے۔ سوزوکی موٹر گلوبل کے چیئرمین اوسمو سوزوکی (Osamu Suzuki) پاکستان میں 45 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ کوکا کولا (ترکی) پاکستان میں 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی منصوبہ بندی کئے ہوئے ہیں۔ یہ سب سرمایہ کاری کے مثبت اشارے ہیں۔

ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کی سالانہ آمدنی 60 ارب ڈالر ہے۔ اِس ادارے کے سربراہ ڈاکٹر سلطان احمد الجبار نے اکتوبر (دوہزاراٹھارہ) میں پاکستان کے دورے پر آئے اور یہاں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اِسی طرح ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی جس کے اثاثوں کی قیمت 828 ارب ڈالر ہے نے بھی پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اِن سبھی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں دلچسپی اپنی جگہ لیکن یہ بات وقت ہی ثابت کرے گا کہ عملی طور پر کتنی سرمایہ کاری پاکستان آتی ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ’ترسیلات زر میں اضافہ‘ موجودہ حکومت کو مقصود ہے۔ پاکستانی ورکر قریب 20ڈالر سالانہ بینکوں کے ذریعے پاکستان بھیجتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے مائیگریشن (آئی اُو ایم) کے مطابق اِس قانونی ذریعے کے علاؤہ سالانہ 20 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ دیگر (بینکاری کے علاؤہ) ذرائع سے بھی پاکستان آتا ہے۔ حکومت بینکاری کے علاؤہ دیگر ذرائع سے ہونے والی ترسیلات زر کو قانونی بنانے کے لئے کوششیں کر رہی ہے جن میں ابھی تک کوئی خاص کامیابی تو حاصل نہیں ہوئی‘ جس کی دو وجوہات ہیں۔ بینکاری کے بغیر سرمائے کی ترسیل کرنے والے اپنی خدمات کا معاوضہ بینکوں کے مقابلے خاصہ کم وصول کرتے ہیں اور دوسرا اُن کے ذریعے سرمائے کی زیادہ تیزرفتار ہوتی ہے‘ جن سے ناخواندہ شخص بھی باآسانی فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔

غیرقانونی ذرائع سے سرمائے کی نقل و حمل (منی لانڈرنگ) روکنے کے لئے حکومتی کوششوں کا خلاصہ یہ ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی 43 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ یہ ادارہ ’منی لانڈرنگ‘ کے معاملات کو سامنے لا رہا ہے۔ 12 نومبر (دوہزاراٹھارہ) کے روز وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے احتساب‘ شہزاد اکبر نے اعلان کیا کہ ۔۔۔ ’’10 ممالک کو ہوئی 700 ارب ڈالر کی ’منی لانڈرنگ‘ کا سراغ لگایا گیا ہے۔‘‘ شہزاد اکبر نے یہ بھی کہا کہ ’’منی لانڈرنگ اور پاکستان کے مالیاتی قوانین کو خاطر میں نہ لانے والے ’بڑے مگرمچھوں (قانون شکنوں)‘ شکنجے میں لانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔‘‘
عمومی جائزے (سروے) سے یہ تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے آنے کے بعد سے اسلام آباد میں کاروباری سرگرمیوں میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔ ڈالر اور روپے کی قدر میں فرق کاروبار کے لئے خوش آئند نہیں ہوگا۔ اِس سلسلے میں مرکزی مالیاتی ادارہ (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) خاطرخواہ اقدامات کر رہا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اِن اقدامات اور اصلاحاتی کوششوں کے نتائج برآمد ہونے میں وقت لگے گا۔ بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ خوش آئند ہے کہ حکومت کی اُن تمام شعبوں پر نظر ہے‘ جن میں اصلاح و بہتری کے ذریعے قومی ترقی کو پائیدار اور اِس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

(مضمون نگار وزیراعظم کے مشیر ہیں۔ بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
The writer is the government’s spokesperson on economy and energy issues