Showing posts with label Inflation. Show all posts
Showing posts with label Inflation. Show all posts

Sunday, October 17, 2021

Petroleum Prices, inflation & threshold

 ژرف نگاہ ....شبیرحسین اِمام

غربت‘ شرافت اُور طرز حکمرانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2 ماہ کے دوران 4 مرتبہ اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے سولہ اکتوبر کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 44 پیسے‘ پیٹرول کی قیمت میں 10روپے 49پیسے اور مٹی کا تیل 10روپے 95 پیسے اضافے جیسا غیرمعمولی ردوبدل کیا گیا ہے۔ لائق توجہ ہے کہ کسی حکومتی کامیابی کا اعلان کرنے کے لئے متعلقہ وزارت کا وزیر یا وفاقی کابینہ کے اراکین اپنے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ کا استعمال کرتے ہیں لیکن جب وفاق کی منظوری سے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہوتا ہے تو اِس کے لئے صرف اُور صرف متعلقہ وزارت ہی کا اعلامیہ سامنے آتا ہے جبکہ عوام کے منتخب نمائندے جنہیں عزت اُور مرتبہ دے کر قانون ساز ایوانوں تک پہنچایا جاتا ہے وہ کچھ اِس طرح مصروف (غائب) ہو جاتے ہیں کہ جیسے اُنہیں خبر ہی نہ ہو یا جیسے اُن کا اِس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو! کاش پاکستان میں ایک وزارت غربت و مہنگائی کی بھی ہوتی جس کے فیصلہ سازوں سے بازپرس کی جاسکتی لیکن مہنگائی کا ذمہ دار ’عالمی منڈی‘ کو قرار دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ذمہ دار حکومت نہیں تو اِس جواز کو عام آدمی (ہم عوام) تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا کیونکہ اشیائے خوردونوش کی نقل و حمل سے لیکر آمدورفت کے اخراجات میں اخراجات میں اضافے کا براہ راست اثر اُن ذخیروں پر بھی پڑتا ہے جو گوداموں میں پڑے ہوتے ہیں یعنی اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو تو اِس کا اثر نہیں ہوتا لیکن معمولی اُور حالیہ غیرمعمولی اضافے کا فوری اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ حکومت عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مجبور ہوئی اُور اِسے قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا تو کیا وجہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اُور ملاوٹ جیسے 3 محرکات پر قابو پانے میں حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ذہن نشین رہے کہ حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 137 روپے 79 پیسے ہو گئی ہے جبکہ ایک لیٹر مٹی کے تیل کی قیمت 110 روپے 26 پیسے ہو گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 134 روپے 48پیسے اُور لائٹ ڈیزل آئل 108 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو چکا ہے۔ وزارت ِخزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں یہ کہا گیا ہے کہ ”عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں قریب پچاسی ڈالر فی بیرل کی بلند سطح پر ہیں جو اکتوبر دوہزاراٹھارہ کے بعد سے ریکارڈ قیمت ہے۔“ لیکن جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ڈالر اُور منفی تک پہنچ گئی تھیں تو تب عوام کو کونسا ریلیف ملا تھا جو اب پچاسی ڈالر فی بیرل ہونے جیسا جواز پیش کیا جا رہا ہے۔ اُمید یہی ہے کہ پیٹرول کی قیمت فی ڈالر یعنی 170 روپے فی لیٹر کے مساوی کر دی جائے گی کیونکہ اِس درآمدی جنس پر سبسڈی ختم کرنے کے لئے حکومت پر اُن مالیاتی اداروں کا دباو¿ ہے‘ جو قرض دیتے ہیں اُور اپنے قرض کو ایسی معاشی اِصلاحات سے مشروط کرتے ہیں‘ جس میں حکومت کسی درآمدی جنس (پیٹرول‘ بجلی‘ گیس‘ گندم‘ چینی‘ گھی‘ خوردنی تیل‘ خشک چائے‘ دالیں وغیرہ) کی وہی قیمت وصول کرے‘ جو قیمت ِخرید ہوتی ہے۔ یہاں مسئلہ مالیاتی اُور انتظامی نظم و ضبط کا ہے کہ حکومتی اداروں کے اخراجات اِس قدر ہوتے ہیں کہ کسی درآمدی جنس کی قیمت سو فیصدی نہیں بلکہ کئی سو فیصدی تک زیادہ مقرر کرنے کے باوجود بھی قومی خزانے کا خسارہ پورا نہیں ہوتا۔ سیاسی فیصلہ سازوں (اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اُور سینیٹرز) کے اخراجات خسارے کی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کرتے ہیں اُور یوں مہنگائی کا آلاو¿ آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے۔ مہنگائی اگر عالمی عمل ہے جس کے سامنے دنیا بے بس اُور عاجز دکھائی دیتی ہے تو اِس صورتحال میں کیا عام آدمی (ہم عوام) یہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ فیصلہ سازی کے مراحل اُور سرکاری ملازمین کے اخراجات اُور مراعات بھی حسب حال و ضرورت کم ہونی چاہیئں اُور حکومت و حکومتی ادارے ’چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں؟‘

لمحہ¿ فکریہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ کے نہ صرف روایتی عوامل ہیں بلکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک (آرگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز OPEC تنظیم کے رکن ممالک) کے مفادات‘ کورونا وبا جیسا مشترکہ عمل اُور تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کی کاروباری حکمت عملیوں کا عمل دخل بھی بڑی حد تک شامل ہوتا ہے اُور اگر یہ کہا جائے کہ کورونا وبا کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ ہر ملک اپنی برآمدات سے زیادہ مالی فائدہ اُٹھا کر کورونا وبا کے باعث معاشی بحران سے نکلنا چاہتا ہے اُور اِن تیل پیدا اُور اِس کا کاروبار کرنے والے اداروں کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں کہ دنیا پیٹرولیم مصنوعات کی زیادہ قیمتوں سے کس قدر متاثر ہوگی۔ تصور کریں کہ قدرت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات (بشمول گیس) جیسی دولت عطا کی گئی ہے اُور جن ممالک کو یہ نعمت حاصل ہے وہ دیگر ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں استحصال کو اپنا پیدائشی حق سمجھ بیٹھے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ایک محرک جس نے اہم کردار ادا کیا ہے وہ امریکی تحمل ہے۔ اس مرتبہ تیل کی عالمی مارکیٹ میں ایک حیران کن کہانی سامنے آئی ہے اُور وہ یہ کہ امریکہ میں تیل پیدا کرنے والوں نے بہت نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جہاں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود تیل کی پیداوار میں سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ تیل کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کا باعث بنتا ہے کیونکہ بہت سی مصنوعات کے لئے پیٹرولیم بطور خام مال استعمال ہوتا ہے اور اس میں بنیادی طور پر پیٹرول اور ڈیزل جو بنیادی طور پر نقل و حمل کے لئے ایندھن لیکن اِن سے بجلی کی پیداوار بھی ہوتی ہے۔ اِسی طرح کھاد‘ پلاسٹک‘ لوہا‘ سیمنٹ اُور دیگر صنعتیں بھی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتی ہیں الغرض زراعت (مقامی پیداوار) سے لیکر درآمدات اُور پیداواری صنعت تک زندگی کا کوئی ایک بھی ایسا شعبہ نہیں جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر نہ ہوتا ہو اُور اِس سے ”انتہائی غربت“ میں اضافہ نہ ہو۔ حرف آخر: جون 2021ءمیں عالمی بینک نے کہا تھا کہ ”پاکستان کی 39.2 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔“ اِس مرحلۂ فکر کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچئے کہ غربت سے متعلق مذکورہ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد 2 ماہ میں اگر 4 مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو کیا پاکستان میں ’غربت اُور انتہائی غربت کی شرح‘ میں اضافہ ہو گا یا کمی؟ ”میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دے .... وقت بدلا تو تری رائے بدل جائے گی (ندا فاضلی)۔“

....






Sunday, June 21, 2020

IN-OBSERVANCE: May I know why?

بے خبری
ماضی کی طرح موجودہ وفاقی اُور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ہر روز‘ بلاناغہ‘ مہنگائی کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے پاس روائتی بیانات کو نئے اَنداز میں پیش کرنے کے لئے الفاظ ختم ہو گئے ہیں۔ دعویٰ ہے کہ گراں فروشی کی اِجازت نہیں دی جائے گی۔ ذخیرہ اَندوزوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے۔ خصوصی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ .... صورتحال یہ ہے کہ حکمراں برہم اُور عوام پریشان ہیں لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اِس پوری صورتحال سے فائدہ کون اُٹھا رہا ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عام آدمی (ہم عوام) تک کب پہنچیں گے؟ 
چینی کمیشن رپورٹ اُور گندم کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق حکومتی تحقیقات کے ثمرات کب ظاہر ہوں گے؟ 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر ملز مالکان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات دائر کرنے پر حکم امتناعی (سٹے آرڈر) جاری کر کے جس انداز سے عوام کی نظروں میں اپنا مقام بلند کیا ہے‘ وہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے سیاہ ابواب میں رقم ہو چکا ہے۔ کیا اب بھی ہم عوام نہیں سمجھ سکے کہ جمہوریت اُور جمہوریت کے نام قائم ہونے والی سیاسی جماعتیں اُور یہ حکمران اُن کے مسائل کا حل نہیں بلکہ بذات خود مسئلہ ہیں!؟ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو اُس کا فوری اطلاق ہوتا ہے لیکن اِس میں کمی کا ایک مہینہ گزرنے کے باوجود بھی نہ صرف پیٹرول ناپید ہے بلکہ اِس کی گرانفروشی بھی جاری ہے۔ 

عجیب صورتحال ہے کہ پیٹرول پمپوں پر سرکاری نرخ کے مطابق پیٹرول دستیاب نہیں لیکن سڑک کنارے پلاسٹک کے ڈرم میں غیرمحفوظ انداز سے انتہائی جلد آگ پکڑنے والا محلول سرعام فروخت ہو رہا ہے۔ اگر پیٹرول کی قلت ہے تو غیرقانونی طور پر فروخت کرنے والے پیٹرول کہاں سے حاصل کر رہے ہیں؟ کیا اُنہوں نے اپنے گھروں میں تیل کے کنویں کھود رکھے ہیں اُور اپنی آئل ریفائنریز بنا رکھی ہیں؟

ماضی کی طرح حال کے حکمرانوں کی بے خبری اُور تغافل عیاں ہے‘جن کے پاس عوام کو دی جانے والی طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں۔ عام آدمی (ہم عوام) کو خبر ہے کہ عالمی منڈی میں صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہی کم نہیں ہوئیں بلکہ خوردنی تیل پام آئل اُور دیگر روغنیات کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں لیکن پاکستان میں صارفین مہنگے داموں گھی اُور خوردنی تیل خرید رہے ہیں۔ چاول دال چائے اُور خشک مصالحہ جات کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہیئں لیکن چینی سے لیکر سبزی اُور دال چاول تک ہر جنس نہ صرف مہنگی بلکہ اِن کی قیمتوں میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے اُور اِس پورے منظرنامے کی عینی شاہد (تماشائی) حکومت کی نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے ایک حالیہ اجلاس سے متعلق سرکاری خبررساں ادارے نے خبر جاری کی ہے کہ ملک میں مرغیوں اُور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اُور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے صوبائی حکومتوں کو منافع خوروں کے خلاف کاروائی اور قیمتوں میں کمی لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ کیا اِس کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے یا ہوگی؟ یادش بخیر یکم رمضان المبارک سے ایک دن قبل مرغی کی فی کلوگرام قیمت 120 روپے تھی جو پورے رمضان المبارک اُور شوال المکرم کے اختتام کے قریب 200 روپے کی اوسط سے فروخت ہو رہی ہے لیکن این پی ایم سی اچانک جاگ اُٹھی ہے اُور پچاس دن سے زائد فروخت ہونے والی پولٹری مصنوعات کی قیمتوں پر حیرت کا اظہار کر رہی ہے! نجانے یہ حکمران کسے دھوکہ دے رہے ہیں!؟

تفصیلات اہم ہیں اُور اِن تفصیلات سے اُن سبھی کرداروں کی کارکردگی کو سمجھا جا سکتا ہے جنہوں نے ایک طرف مہنگائی کی غیرتحریری اجازت دے رکھی ہے اُور دوسری طرف اِن کی آنکھوں میں مگرمچھ کے آنسوو ¿ں جیسی موسلادھار بارش بھی برس رہی ہے۔ ظلم اُور صبر کی بھی آخر کوئی نہ کوئی تو انتہا ہوتی ہے۔ ہم عوام اِس بات پر کتنا فخر کریں کہ پاکستان کا وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے جو بدعنوان نہیں۔ جس کی بیرون ملک سرمایہ کاری اُور جائیدادیں نہیں۔ جس کے کاروباری مفادات اُس کے عہدے سے متصادم نہیں لیکن اگر اِس قدر شریف النفس اُور ایماندار وزیراعظم تمام تر اختیارات اُور حکومتی وسائل کے باوجود عوام کو ناجائز منافع خوری جیسے ظلم سے نہیں بچا سکتا تو محض ایمانداری اُور صداقت و امانت جیسی اہلیت کافی تصور نہیں کی جا سکتیں۔ 

توجہ مبذول رہے کہ حالیہ ’این پی ایم سی‘ اجلاس کی سربراہی (غیرمنتخب سرکاری عہدیدار) وفاقی سیکرٹری برائے خزانہ نوید کامران بلوچ نے کی‘ جس میں ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ عوام کا منتخب نمائندہ اُور متعلقہ وزیر کہاں مصروف تھے؟ 

مہنگائی جیسا سنجیدہ اُور اہم مسئلہ متقاضی ہے کہ این پی ایم سی اجلاس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں اُور سب سے پہلے اُن فیصلہ سازوں کو جیل بھجوائیں جو مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے تنخواہیں اُور مراعات وصول کر رہے ہیں! مذکورہ اجلاس میں کمیٹی نے صوبائی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو منافع خوروں کے خلاف سخت کاروائی اُور مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں آسانی اور اِن کی قیمتوں میں کمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ جیسا کہ اگر کمیٹی یہ ہدایات جاری نہ کرتی تو اسلام آباد اُور کے دیگر حصوں میں ضلعی انتظامیہ مہنگائی جاری رکھنے کی اجازت برقرار رکھتیں۔ کیا مہنگائی حکومت سے اجازت لیکر کی گئی ہے جو اِسے ختم کرنے کے لئے باقاعدہ اجلاس اُور ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ سیاسی و غیرسیاسی‘ منتخب اُور غیرمنتخب‘ ضلعی‘ صوبائی اُور وفاقی حکمرانوں سے التماس ہے ہم عوام کو مزید دھوکہ اُور دلاسہ دینے سے گریز کریں کیونکہ گزشتہ دو سال سے قائم تحریک انصاف حکومت کے گزشتہ دو ماہ کی انتہائی خراب کارکردگی سے یہ حقیقت ظاہر (بخوبی عیاں) ہو چکی ہے کہ حکمرانی میں ناتجربہ کاری کا فائدہ سرمایہ دار طبقات ہی نہیں بلکہ حکمراں (خاندان و طبقات) بھی کسی نہ کسی صورت اُٹھا رہے ہیں!
........
Clipping from Daily Aaj - 21 June 2020 Sunday
Editorial Page of Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday


Sunday, November 17, 2019

TRANSLATION: The gap by Dr Farrukh Saleem

The gap
فرق و تضاد

حکومت کی ترجیحات اُور عوام کی توقعات کے درمیان ’زمین آسمان کا فرق‘ نمایاں ہے۔ مثال کے طور پر زمین پر جب ٹماٹروں کی فی کلوگرام قیمت 320 روپے تھی تب حکومت کے اہم رکن نے کہا کہ یہ 17 روپے فی کلوگرام ہیں۔ اِسی طرح جب زمین پر موسمی سبزی مٹر کی فی کلوگرام قیمت 100 روپے تھی تو حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ یہ 5 روپے فی کلوگرام ہے۔ اِسی طرح اہل زمین کو عام گاڑی سے سفر کرنے میں جتنی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے حکومت کی نظر میں ہیلی کاپٹر سے فی کلومیٹر 55 روپے میں سفر ہوتا ہے۔ یہ سبھی مثالیں اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ برسراقتدار طبقے اُور عوام کو مختلف قسم کے حالات درپیش ہیں اُور دونوں ہی کے لئے حالات سے نمٹنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

حکومت کے لئے پاکستان کی معاشی واقتصادی نظام کو درست کرنا ایک ضرورت اُور مشکل ہے جس کے لئے اُس نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے بھاری سود اُور سخت مالیاتی نظم و ضبط لاگو کرنے جیسی شرائط پر قرض حاصل کیا ہے جبکہ عام آدمی کی مشکل یہ ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کے نام پر کئے گئے اقدامات سے سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں۔ ملک میں بیروزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔ حکومت خوش ہے کہ اُس نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کر دی ہیں اُور عوام فکرمند ہے کہ اُن کا معاشی مستقبل پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ ہو چکا ہے۔ ملک میں غربت بڑھ رہی ہے۔ روزگار کو تحفظ حاصل نہیں جبکہ مہنگائی کی شرح اِس کے علاو ¿ہ اضافی بوجھ ہے۔ خلاو ¿ں میں رہنے والوں پر زمین کی سطح پر پائی جانے والی ’کشش ثقل‘ کا اثر نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ وفاقی کابینہ کے اراکین جب چھانگ مارتے ہیں تو وہ زیادہ بلندی تک ہوا میں اُڑتے ہیں اُور سمجھتے ہیں کہ اہل زمین (ہم عوام) بھی ایسی ہی صورتحال سے محظوظ ہو رہے ہوں گے۔ حکومت کے لئے بجلی و گیس کے بلوں میں اضافہ معمولی سی بات ہے اُور یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں گیس کے بلوں میں ڈھائی سے چھ روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا کیونکہ کابینہ کے کسی رکن کے لئے ڈھائی سے چھ روپے اضافہ معمولی سی بات ہے لیکن ایک ایسا شخص جس کی یومیہ آمدنی ہر دن کم ہو رہی ہے اُور اُسے ایک بڑے کنبے کی کفالت کرنی ہے لیکن اُس کی مالی ذمہ داریوں میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے!

خلاوں میں رہنے والوں کے لئے موسمیاتی تبدیلی‘ فضائی آلودگی اُور آب و ہوا کی خرابی کوئی مسئلہ نہیں لیکن زمین پر رہنے والوں کو آلودہ ہوا میں سانس لینے کی وجہ سے بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں۔ زراعت و کاشتکاری کو الگ سے خطرات لاحق ہیں جبکہ پاکستان کے کئی شہروں کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شمار کر لیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں سیاحت کی ترقی کیونکر ممکن ہو گی جبکہ پاکستان کے مرکزی شہروں کی فضا آلودہ ترین ہیں!؟

1700 کے اواخر کی بات ہے جب ملکہ ماری (Queen Marie Antoinette) سے کہا گیا کہ عوام روٹی نہ ملنے کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں تو اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ کیک کیوں نہیں کھا لیتے؟ فرانس کے حکمرانوں کا یہ رویہ اُنہیں لے ڈوبا تھا اُور 14جولائی 1789ءکو ’فرانسیسی انقلاب‘ میں شریک عوام نے بادشاہت کا تختہ اُلٹا۔ یاد رہے کہ فرانسیسی انقلاب 1789ءمیں شروع ہوا تھا۔

پاکستان میں مہنگائی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اُور اِس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہوئے کوئی حل نکالنا چاہئے۔ حال ہی میں ہوئے گیلپ و گیلانی سروے (Gallup & Gilani Poll) سے معلوم ہوا کہ 53فیصد پاکستانیوں کے لئے مہنگائی 23 فیصد کے لئے بیروزگاری جبکہ صرف 4فیصد کے لئے بدعنوانی بڑا مسئلہ ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کا ایک تعلق بجلی و گیس اُور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت کم سے کم بجلی و گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے گریز کرے تو اِس سے مارکیٹ میں ایک طرح کا استحکام دیکھنے میں آئے گا۔ حکومت قریب 2 کھرب روپے بجلی و گیس کی قیمت میں اضافے اُور اضافی ٹیکسوں سے حاصل کر رہی ہے‘ جس کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید میں مسلسل کمی کا رجحان ہے اُور جب قوت خرید کم ہوتی ہے تو پیداواری اداروں کو اپنی پیداوار کم کرنا پڑتی ہے جس کے لئے مزدوروں کی تعداد گھٹانا پڑتی ہے اُور یوں معیشت زوال پذیر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ مہنگائی کے محرکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے عوام سے متعلق فیصلہ سازی اُسی سطح پر کی جائے جہاں عوام رہتے ہیں۔ اِس کے لئے فیصلہ ساز کو زمین پر اُترنا ہوگا جہاں پاکستان کے معاشی حالات اُن کی سوچ سے زیادہ مختلف اُور گھمبیر ہیں۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)


Thursday, December 28, 2017

Dec 2017: Sugar Mafia hold over the commodity & farming!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
’ ۔۔۔’مالیاتی دہشت گرد!‘
نصاب تعلیم کا حصہ ہے کہ ’’پاکستان ایک زرعی ملک ہے‘‘ لیکن اِس حقیقت پر خاطرخواہ یقین اور اعتماد تو دور کی بات ’زرعی شعبے کی ترقی‘ میں پنہاں اِمکانات اُور غذائی خودکفالت جیسے کثیرالجہتی ثمرات بھی پیش نظر نہیں رہے۔ 

زرعی ملک‘ زرعی معیشت ومعاشرت‘ زرعی اقتصادی نظام‘ زرعی انحصار‘ زرعی منڈیاں‘ زرعی پیداواری عوامل‘ زرعی روزگار کے مواقع اور زرعی توسیع و تحقیق جیسے جملہ متعلقہ شعبے خاطرخواہ توجہ چاہتے ہیں۔ زراعت کے بارے ہمیں کسی مظالطے یا خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ اِس حقیقت کے کماحقہ ادراک کے لئے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں کا تجاہل عارفانہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے‘ جو دل کے اندھے ہیں‘ جنہیں توانائی بحران کی موجودگی میں ماحولیاتی و موسمیاتی منفی تبدیلیوں کا باعث بننے والی ’صنعتی ترقی‘ زیادہ پائیدار دکھائی دیتی ہے۔ 

زراعت کی سرپرستی چھوٹے کاشتکاروں اور زمینداروں کے لئے مراعات دینے سے ممکن ہے لیکن حکومت سطح پر رعائت (سبسڈی) کا بڑا حصہ صنعتوں جیسا کہ ’شوگرملز‘ کے لئے مخصوص کر دیا جاتا ہے لیکن اُن محنت کشوں کا ضامن اور سرپرست بننے کے کوئی تیار نہیں‘ جنہیں بلاسود یا آسان شرائط پر قرضہ جات اِس لئے نہیں ملتے کہ اُن کی جان پہچان نہیں ہوتی۔ آج کھیتوں میں کام کرنے والوں کو اگر روزگار میسر نہیں تو اِس کا سبب وسائل کی غلط تقسیم اور سرکاری سطح پر غلط فیصلے ہیں کیونکہ جس محنت کش کو اعزاز ملنا چاہئے وہ راندۂ درگار ہے۔ جنہوں نے غذائی خودکفالت عملاً ممکن بنانے کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کر رکھا ہے‘ اُسی کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا جارہا تو یاد رہے کہ ’’حکومتیں کفر سے تو قائم رہ سکتی ہیں لیکن ظلم سے نہیں!‘‘

کراچی سے پشاور تک ’گنے کے کاشتکار‘ سراپا احتجاج ہیں کیونکہ شوگر ملوں نے پہلے گنے کی فصل خریدنے سے انکار کیا اور بعدازاں اُس کی قیمت بھی خود ہی مقرر کی‘ جن سے فصل کی کاشت (پیداواری) اور نقل و حمل پر اُٹھنے والے اخراجات ہی کی ادائیگی بمشکل ممکن ہو پاتی ہے۔ ’پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن‘ کا مؤقف ہے کہ اُن کے پاس پہلے ہی پچاس فیصد سے زائد گنے کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ ملک کی سالانہ ضروریات کے لئے درکار گنے کی مقدار 120 روپے فی 40 کلوگرام سے زیادہ نہیں خریدی جائے گی۔‘‘ یاد رہے کہ مالی سال 2017ء کے پنجاب‘ سندھ اور خیبرپختونخوا (صوبائی) حکومتوں نے گنے کی اُس امدادی ’قیمت خرید‘ کو برقرار رکھا تھا‘ جو مالی سال 2015ء میں طے (مقرر) کی گئی تھی۔ یہ قیمت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لئے 180 روپے‘ سندھ کے لئے 182 روپے فی چالیس کلوگرام تھی جبکہ حکومت نے شوگرملز کے لئے دس روپے ستر پیسے فی کلوگرام سبسڈی (رعائت) دینے کا بھی اعلان کیا تھا‘ جو تین مراحل میں ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے والوں کو دی جائے گی تاکہ وہ عالمی منڈی میں چینی کی قیمتوں کا مقابلہ کر سکیں۔

پاکستان میں کاشتکاروں کی قسمت اُس وقت تک تبدیل نہیں ہوسکتی‘ جب تک ہر شعبے کی طرح شوگر ملوں کی ملکیت اُن بااثر شخصیات کے نام رہے گی‘ جن کی فیصلہ سازی اور کاروباری و ذاتی مفادات آپس میں متصادم ہیں۔ شریف اور زرداری (بھٹو) خاندان بالترتیب پنجاب اور سندھ کی پچاس فیصد سے زائد شوگر ملوں کے مالک ہیں جبکہ باقی ماندہ شوگر ملوں میں سے بھی اکثر سیاست دانوں یا اُن کے اہل خانہ کی ملکیت ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ کاروباری طبقات کی طرح شوگر ملز مالکان اپنی آمدن کا ایک خاص حصہ قومی سیاست کے لئے مختص رکھتے ہیں اور عام انتخابات میں سرمایہ کاری کے ذریعے فیصلہ سازی کے اُس عمل کو یرغمال (ہائی جیک) کئے ہوئے ہیں‘ جس کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں‘ زمینداروں‘ مزدوروں‘ محنت کشوں اور صارفین کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہئے۔ المیہ ہے کہ بہرصورت برسراقتدار حکمراں خاندانوں کی کھلم کھلا ’مالیاتی اجارہ داری‘ درحقیقت ’مالیاتی دہشت گردی‘ ہے‘ جس کا ادراک ہونے کے باوجود بھی عام آدمی (ہم عوام) اُنہی سیاست دانوں کو مرکز نگاہ و یقین بنائے ہوئے ہیں‘ جن کے ’قول و فعل‘ تضادات کا مجموعہ ہیں۔ بھلا ایسے حکمران پاکستان اور پاکستانیوں کے کیا کام آ سکتے ہیں جنہوں نے اپنے اثاثے‘ اہل و عیال اور سرمایہ کاری بیرون ملک محفوظ کر رکھے ہوں!؟ 

معلوم آمدن سے بڑھ کر اثاثہ جات کے علاؤہ مالی بدعنوانی میں ملوث ہمارے حکمرانوں کے کرتوت صرف پانامہ پیپرز ہی کے ذریعے منظرعام پر نہیں آئے بلکہ یورپ‘ اَمریکہ‘ خلیجی ریاستوں بشمول متحدہ عرب اَمارات میں جائیدادوں (ریئل اسٹیٹ) کی خریدوفروخت کرنے والوں میں بھی (الحمدوللہ) سرفہرست پاکستانی ہی ہیں‘ جو یہاں سے کمانے اور ٹیکس چوری کے عادی ہیں لیکن نہ تو پاکستانی قوانین و قواعد کے مطابق (حسب آمدن) ٹیکس اَدا کرتے ہیں اور نہ ہی پاکستانی قوانین کا احترام کرتے ہیں!

انسداد دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ ہر سطح پر ’’سیاسی و غیرسیاسی‘‘ حکمران‘ تجزیہ کار‘ محقق‘ دانشور اور سرکاری اہلکار عام آدمی (ہم عوام) کو یقین دلاتے ہیں کہ داخلی و خارجی محاذوں پر پاکستان کو درپیش چیلنجز زیادہ گھمبیر ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشی و اِقتصادی دہشت گرد‘ جو پاکستان کے زرعی شعبے کو مسلسل ڈس رہے ہیں‘ اُن کا سر کچلے بغیر کسی بھی محاذ اور مرحلے پر کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ پاکستان کے ’’اَن دیکھے‘‘ دشمنوں کے عزائم تو معلوم ہیں لیکن دوستوں کے بھیس میں دشمنوں (آستین کے سانپوں) سے زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے‘ جو مسلسل ڈس بھی رہے ہیں اور احسان بھی کر رہے ہیں۔ ’’عذاب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا ۔۔۔ میں مطمئن ہوں‘ میرا دل تیری پناہ میں ہے!‘‘
۔

Thursday, November 2, 2017

Jan 2018: Reasons for inflation!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
منطق‘ دلیل اور مہنگائی!
جیسا کہ ہر بات کی کوئی نہ کوئی تمہید ہوتی ہے بالکل اِسی طرح ’’مہنگائی‘‘ کا براہ راست تعلق (تعارف) ’پیٹرولیم مصنوعات‘ کی قیمتیں ہیں‘ جن میں معمولی ردوبدل کا روزمرہ اشیاء پر کئی سو گنا اثر ہوتا ہے تو جہاں ’فی لیٹر‘ پیسوں کا اضافہ بھی ناقابل برداشت حدوں کو چھوئے‘ وہاں اگر روپوں میں قیمتیں بڑھیں تو صورتحال کی سنگینی کا اَندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ) اور احتساب مقدمات کا سامنا کرنے والی وفاقی حکمراں جماعت نے عوام کے صبر کا ’کڑے امتحان‘ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ماہ قبل (تیس ستمبر) وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اُور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ’دو روپے فی لیٹر‘ اضافہ کیا گیا اور چند ہفتوں بعد اکتیس اکتوبر کے دن یہ اعلان سامنے آیا کہ ’’آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اِتھارٹی (اُوگرا)‘‘ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ’پانچ روپے اُنیس پیسے‘ تک اضافہ کرنے کی سفارش کو منظور کر لیا گیا‘ جس کے بعد ’مٹی کے تیل (کیروسین آئل) جیسی اُس بنیادی ضرورت کی قیمت بھی ’’چار روپے فی لیٹر‘‘ بڑھ گئی ہے‘ جس سے غریبوں کے گھر کا چولہا جلتا ہے! اسی طرح اشیائے خوردونوش کی نقل حمل میں اِستعمال ہونے والا ایندھن ’’لائٹ ڈیزل‘‘دو روپے فی لیٹر مہنگا کرنے سے بنیادی ضروریات کی ہر شے مہنگی ہو جائے گی! تصور کیجئے ایک طرف ہمارے حکمران ہیں کہ جن کی بیماریوں کا علاج بیرون ملک ہوتا ہے۔ جس عمر میں پاکستانیوں کے بچے اپنا نام نہیں لکھ سکتے اُس میں حکمراں خاندانوں کی اُولادیں بیرون ملک اربوں کھربوں روپے کے اثاثہ جات کی مالک بن جاتی ہے۔ ایک طرف غربت ہے جو‘ ہر گھڑی بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف سرمایہ دار ہیں جن کے اثاثہ جات میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے اور انہیں پاکستان میں مہنگائی کی شرح تو کیا یہاں بنیادی سہولیات کے فقدان سے بھی کوئی غرض نہیں!

پیٹرولیم مصنوعات میں قیمتوں کا منفی اثر ملک کی مجموعی قومی خام پیداوار (جی ڈی پی) پر نمایاں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ توانائی کی کمی سے پیدا ہونے والا بحران اپنی جگہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے مسلسل انکار سے قومی اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہیں۔ 

رواں ہفتے پاکستان میں تعینات جمہوری اسلامی ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے ’ہنرمندی سے زیادہ دانشمندی سے کام لیتے ہوئے‘ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق اور اسلام آباد ایوانہائے صنعت و تجارت کے اراکین سے ملاقاتوں میں مؤقف دہرایا کہ ’’اگر پاکستان چاہے اور معاہدہ کرے تو ایران پاکستان کو فوری طور پر ’’ایک ہزار سے تین ہزار میگاواٹ‘‘ (سستی) بجلی فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ ایران کا گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے توانائی بحران پر قابو پانے کا فوری حل ہے‘‘ لیکن ہمارے حکمران ’میڈ اِن ایران‘ حسب ضرورت بجلی خریدنے کے لئے بھی تیار نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے امریکی صدر ٹرمپ کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہو سکتی ہیں جو پہلے دھمکیاں دے رہے ہیں! پاکستان توانائی کے بحران میں اِس قدر شدت سے مبتلا ہوا کہ اس سے نکلنے کے لئے اب تک زبانی کلامی ہی کوشاں ہے۔ 

حکمراں جانتے ہیں کہ توانائی کے بغیر صنعتی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا‘ لیکن وہ صنعتی ترقی کے بارے بلندبانگ دعوے کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے! توانائی میں گیس اُور بجلی کو یکساں اِہمیت حاصل ہے اور یہ دونوں ضرورتیں بردار ہمسایہ ملک سے پوری ہو سکتی ہیں۔ پٹرولیم کی شکل میں ایندھن کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پٹرول اور گیس کے پاکستان میں ذخائر ضرور موجودہیں جو ضروریات سے کم ہیں۔ ذخائر کو دریافت کرنے کی ہمارے پاس مہارت بین الاقوامی سطح کی نہیں۔ یوں ہم اپنے ہی وسائل سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے جبکہ توانائی کا بحران سرمایہ کاری کے راستے میں دہشت گردی ہی کی طرح رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ بجلی کی پیداوار میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے مگر اب بھی ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ ایسے میں ایران کی بجلی کی فراہمی کی پیشکش پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے مابین گیس پائپ لائن کا معاہدہ موجود اپنی جگہ اور سردخانے میں پڑا ہوا ہے۔ 

ایران نے اپنی طرف سے کروڑوں ڈالر کی لاگت سے گیس پائپ لائن بچھا دی ہے تاہم امریکہ کے دباؤ پر اس معاہدے کی تکمیل سے بھی گریزاں ہیں۔ 

امریکہ نے ایران پر عائد پابندیاں اُٹھا لیں۔ اس کے اربوں ڈالر کے اثاثے واگزار کر دیئے مگر ہم ایران کے ساتھ معاہدوں کی تکمیل سے قاصر رہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں آج بھی ہے لیکن اگر اِس وسیع ترمفاد (ضرورت) کو (قومی ضرورت کے تناظر میں) سمجھا جائے مگر ایران سے بجلی و گیس اور سستے داموں پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کو پس پشت ڈال کر’’تاپی منصوبے‘‘ کی تکمیل جیسے سراب میں حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ تاجکستان‘ افغانستان‘ پاکستان‘ بھارت ’’تاپی منصوبے‘‘ کا حصہ ہیں اور جہاں بھارت ہوگا‘ وہاں پاکستان کے لئے خیرخواہی کی توقع کرنا ہی گمراہی ہے۔ امن و امان اور بھارت دوستی میں آخری حد تک جانے والے افغانستان کے مخدوش داخلی حالات کی وجہ سے ’’تاپی پائپ لائن منصوبہ‘‘ کبھی بھی محفوظ نہیں ہوگا تو کسی ایسے منصوبے میں کیونکر اُمیدوں اور توقعات کی بھی سرمایہ کاری کرکے خود کو دھوکہ دیا جارہا ہے جو عملاً ممکن ہی نہیں۔ ہم سب دل سے جانتے ہیں کہ افغانستان سے گزرنے والی ’’تاپی پائپ لائن‘‘ کبھی محفوظ نہیں رہ سکے گی اور پھر بھارت کا اس منصوبے میں شامل ہونا منصوبے کے ناقابل عمل ہونے کی بڑی دلیل ہے۔ پاکستان کی بہتری اور فوری طورپر توانائی ضروریات ایران کے ساتھ ’’گیس پائپ لائن معاہدے‘‘ کو بلاتاخیر انجام تک پہنچانا ہے اور جہاں ایران کی جانب سے سستی بجلی کی فراہمی کی پیشکش کی جا رہی ہے تو ایسی کسی پیشکش سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جا رہا؟ ایسا صرف اُسی صورت ممکن ہے جب ہماری داخلہ اور خارجی پالیسیاں قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کی جائیں اور ایسا کرنا صرف مشکل نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت کے لئے ناممکن ہے جو عدالتوں میں بدعنوانی کے ’پے در پے‘ الزامات کا سامنا کر رہی ہو۔ 

قوم کو آخر کس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ ایک حکمراں خاندان کے مشکوک ذرائع آمدنی اُور اثاثہ جات کی ملکیت ثابت کرنے کو سیاسی انتقام اور سازش بنا دیا گیا ہے۔ کیا جمہوریت ایک ایسے نظام کو کہتے ہیں جس میں ایک مرتبہ منتخب ہونے والے عوام کے نمائندے تاحیات قانون سے بالاتر تصور کئے جائیں؟ اگر احتساب کے قوانین اور قواعد کا اطلاق عام آدمی پر ہوتا ہے تو اِس سے حکمراں جماعت کے اَراکین کیسے (کس اَصول و منطق کی بنیاد پر) مستثنیٰ قرار دیئے جا سکتے ہیں!؟
۔

Saturday, June 3, 2017

July2017: Inflation & consumers awareness are co-related!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جنگل کی آگ!
مہنگائی کا توڑ بناء صارفین (عوام) کے عملی تعاون ممکن نہیں لیکن چونکہ قوت خرید (مالی حیثیت) کے اعتبار سے رہن سہن اُور بودوباش الگ الگ ہیں‘ اِس لئے آبادی کے بڑے مراکز کسی بھی جنس کی طلب یا اُس کی قدر میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ ملک گیر سطح پر قیمتوں کو اعتدال پر لانے کی کوئی بھی کوشش اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اِس کی نگرانی کرنے والے حکومتی اِدارے کاروباری طبقات کی بجائے ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کے مفادات کا تحفظ کریں اور اُن تمام (جملہ) محرکات پر نظر رکھیں جن کی وجہ سے بالخصوص کھانے پینے کی اشیاء اور بنیادی ضروریات کی قیمتیں اچانک یا بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اقتصادیات کا سیدھا سادا اصول ہے کہ کسی بھی جنس کی طلب اُور رسد (مارکیٹ میں فراہمی) کے درمیان اُونچ نیچ کا فوری اثر ’’پرچون قیمتوں‘‘ پر پڑتا ہے۔ 

دو سے چار جون (تین دن) ملک گیر سطح پر شروع ہونے والی مہم میں ’’پھل (فروٹ) خریدنے سے انکار‘‘ کے ثمرات اور اثرات چاہے معمولی ہی ہوں لیکن غیرمعمولی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ’’صارفین کے حقوق کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش‘‘ کا آغاز اور بتدریج کامیابی ایک ایسے ’نئے پاکستان‘ کی بھی نوید ہے‘ جس میں اِنٹرنیٹ اور سماجی رابطہ کاری کے وسائل استعمال کرنے والے رنگ‘ نسل‘ قوم‘ قبیلے‘ مذہب و مسلک اور دیگر امتیازات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک قومی مسئلے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں! ’فروٹ بائیکاٹ‘ کے حوالے سے دو جون کو شائع ہونے والے کالم میں ’جنگل کی اِسی آگ‘ کو متعارف کرایا گیا تھا‘ جو آندھی کی صورت پھل و سبزی کی قیمتوں پر حاوی ناجائز منافع خور آڑھتیوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد دیگر غذائی اجناس کے ذخیرہ اندوزوں اور بعدازاں اُس طرزحکمرانی پر مبنی متعصب (سیاسی و انتظامی) نظام کو بھسم کرنے کی (بھرپور) صلاحیت رکھتا ہے‘ جس کی وجہ سے کم آمدنی اور متوسط طبقات کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رمضان کے آغاز (اٹھائیس مئی) سے ٹماٹر بیس کی بجائے پچاس اور ساٹھ روپے‘ کیلا سو روپے سے ایک سو اسی۔ سیب ایک سو پچاس سے تین سو پچاس‘ چین سے درآمد سیب دوسو سے تین سو اور اسی طرح دیگر پھلوں کی قیمتوں میں بھی پچاس سے ڈیڑھ سو فیصد اچانک اضافے کی وجوہات سوائے ناجائز منافع خوری اُور کچھ نہیں ہوسکتا۔

اقتصادی اصطلاح ’فری اکنامی (آزاد معیشت)‘ کے مفہوم اور عملی اطلاق کا جس بدترین انداز میں ہمارے ہاں استعمال کیا جا رہا ہے‘ اُس کی مثال شاید ہی کسی دوسرے ملک میں ملتی ہو۔ باغبانوں‘ کسانوں اُور بالخصوص چھوٹے کاشتکاروں کو اُن کی محنت و سرمایہ کاری (فصل) کی اُتنی قیمت بھی نہیں ملتی جس سے اُن کی اصل لاگت ہی وصول ہو سکے اور یہی سبب ہے کہ موجودہ حکومت کے چار سالہ دور میں زراعت مسلسل گرواٹ کا شکار رہی اور اب صورتحال یہ ہے کہ زراعت نہ تو منافع بخش پیشہ رہا ہے اور نہ ہی اِس سے وابستہ ’خون پسینہ ایک کرنے والوں کا مستقبل محفوظ دکھائی دے رہا ہے اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے زمینداروں اور پھل سبزی و دیگر اجناس کی منڈیوں کو کنٹرول کرنے والے آڑھتیوں (بڑے تاجروں) کے ایک جیسے کاروباری مفادات پر حکومت ضرب نہیں لگاتی۔ بات صرف ماہ رمضان المبارک یا عید الفطر و دیگر خوشی و غم کے مواقعوں پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا نہیں بلکہ اُس معیار کا بھی ہے‘ جس کی وجہ سے صارفین کی اکثریت کو گھی‘ کولنگ آئل‘ آٹا‘ چینی‘ دودھ‘ ادویات‘ مصالحہ جات‘ خشک چائے اور دیگر ڈبہ بند یا میدہ و ٹھوس حالتوں میں اجناس خالص تو کیا حفظان صحت کے کم ترین (قابل قبول) درجے پر بھی نہیں مل پا رہیں! پھل سبزی یا دیگر غذائی اجناس کی قیمتیں اور مارکیٹ پر اثرانداز ہونے والے عوامل (حسب قانون و قواعد) کنٹرول کرنے کی سراسر ذمہ داری حکومت کی ہے‘ جس نے اِس پوری صورتحال میں تجاہل عارفانہ اختیار کر رکھا ہے! 

یہی سبب ہے کہ سیاسی فیصلہ سازوں (قانون ساز ایوانوں) میں کیا ہوتا ہے‘ کون خطاب کر رہا ہے اور کون احتجاج‘ اِس سے عام آدمی (ہم عوام) کو دلچسپی نہیں رہی۔ آج کی تاریخ میں جس ایک بات پر ملک گیر سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے منتخب حکومت کی دلچسپی اور کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیا جمہوریت اِسی طرز حکمرانی کا نام (خلاصہ ہوتا) ہے‘ جس میں عہدوں کے ساتھ جڑی ذمہ داریاں کا ادراک و اطلاق نہ ہوتا ہو؟ جس میں حکمران دروغ بیانی سے کام لیں۔ جس میں انتخابات سے دوسرے عام انتخابات تک عوام پر ایسے قوانین‘ قواعد اور انتظامیہ مسلط کی جائے‘ جو اُن کے مفادات کی محافظ نہ ہو؟ نئے پاکستان کا ’بیانیہ‘ تشکیل پا رہا ہے‘ جس میں شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ حکومت کرنے والوں کو نہ صرف جوابدہ ہونا پڑے گا بلکہ اُنہیں سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازی کے اُن منفی اثرات کی ذمہ داری عائد کرنے کے ساتھ ’قصوروار‘ بھی ٹھہرایا جائے گا کہ کس طرح سیاسی‘ ذاتی اُور منجملہ انتخابی مفادات کے لئے اُنہوں نے عام آدمی (ہم عوام) کو منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور دور بیٹھے عام آدمی کی لوٹ مار کا تماشا دیکھ رہے ہیں!

Friday, June 2, 2017

Jun2017: Fruit boycott - Social Media Drive!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مہنگائی کا علاج!
’سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) کے ذریعے ملک گیر سطح پر تین روزہ مہم آج (دو جون) سے شروع ہو رہی ہے‘ جس کا عام فہم بنیادی خیال (مطالبہ) یہ ہے کہ ’’تین دن پھل (فروٹ) نہ خریدے جائیں۔‘‘ 

مہنگائی کی ’حوصلہ شکنی‘ کرنے کے لئے اپنی نوعیت کی اِس منفرد (انوکھی) مہم کا تصور کراچی سے شروع ہوا‘ جہاں ماہ رمضان المبارک کے دوران پھل و سبزی کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن مہنگائی کا یہ رجحان صرف کراچی کی حد تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اِس میں ملک کے دیگر حصوں بشمول خیبرپختونخوا سے ’سوشل میڈیا فعالیت پسند (ایکٹوسٹ) بھی احتجاجی تحریک‘ کا حصہ بن گئے ہیں اور مرکزی شہری و دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اِن سوشل میڈیا صارفین کے پیغامات اور بڑھتی ہوئی حمایت (عزم) سے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ ’پاکستان کی تاریخ کی یہ پہلی ہڑتال (بائیکاٹ) اگر سوفیصد کامیاب نہ بھی ہو لیکن اِس کے مثبت اثرات ضرور ظاہر ہوں گے۔ سوفیصد کامیابی نہ ہونے وجہ اِس تحریک سے کسی کا اختلاف نہیں بلکہ پھل و سبزی کے تمام خریداروں کا ’سوشل میڈیا‘ سے منسلک نہ ہونا ہے۔ اِس سلسلے میں نجی ٹیلی ویژن چینلز اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز (الیکٹرانک میڈیا) کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے جہاں سردست قومی سیاست سے متعلق موضوعات رواں ہفتے بھی حاوی دکھائی و سنائی دے رہے ہیں اور جب سے ’پانامہ کیس‘ کے سلسلے میں وزیراعظم کے صاحبزادوں کو تحقیقاتی کمیشن نے طلب کیا ہے تب سے ’فوکس‘ وہ مقدمہ بن گیا ہے‘ جس کا فیصلہ آنے تک قوم کو صبر کرنا چاہئے اور اگر مگر سے شروع ہونے والی خبروں اور تبصروں پر کان دھرنے کی بجائے اُن امور کی جانب توجہات مبذول کرنی چاہیءں‘ جن سے وہ ’لٹ‘ رہے ہیں اور ناجائز منافع خور ملک کی ابتر سیاسی حالات (غیریقینی) کا مسلسل فائدہ اُٹھا رہے ہیں!

صرف تین روز پھل نہ خریدنے سے کیا ہوگا؟ پورا سال مہنگائی کی منصوبہ بندی اور مارکیٹ (اجناس کی طلب و رسد) کنٹرول کرنے والوں (اڑھتیوں) کا تجربہ دہائیوں پر محیط ہے اور وہ پھلوں کی ’شیلف لائف (عمر)‘ بڑھانے کے لئے ادویات اور سردخانوں کا استعمال بھی کرتے ہیں‘ چونکہ تین روزہ مہم اعلان کرکے شروع کی گئی ہے‘ اِس عرصے میں سردخانوں اور ذخیروں سے مارکیٹ میں پھل مارکیٹ میں نہیں لائے جائیں گے اور سارے کا سارا نقصان چھوٹے پیمانے پر پھل فروش ہتھ ریڑھی بانوں اور دکانداروں کا برداشت کرنا ہوگا۔ عوام چاہے جتنے بھی متحد اور باشعور ہو جائیں اُور چاہے سوشل میڈیا کے ذریعے طوفان در طوفان بھی برپا کر دے لیکن جب تک ضلعی انتظامیہ (کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ محکمۂ فوڈ‘ انسداد بدعنوانی وغیرہ) کے دفاتر و محکمے (عوام کے حق میں) فعال نہیں ہوں گے‘ جب تک منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور ایوان بالا کے اراکین عوام کے شانہ بشانہ کھڑے نہیں ہوں گے‘ اُس وقت تک مہنگائی کے خلاف ایسی کوئی بھی مہم خاطرخواہ انداز میں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی۔ 

آخر کوئی یہ سوال کیوں نہیں اُٹھا رہا کہ مہنگائی کے معلوم اسباب (مصنوعی قلت کے ذریعے طلب و رسد میں فرق پیدا کرنے کے ذمہ دار) معلوم ہونے کے باوجود بھی یہ کردار قانون کی گرفت میں نہیں لائے جا رہے؟ عام آدمی (ہم عوام) کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ہر سال ماہ رمضان اور مہنگائی کے آپسی تعلق کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ 

سوشل میڈیا کے ذریعے صارفین کے حقوق کی تحریک کو پلیٹ فارم (پھلنے پھولنے کا وسیلہ) ضرور ملا ہے لیکن اِس کی وساطت سے ملنے والی کامیابی کا حجم اگرچہ کم لیکن نہ ہونے سے بہتر ثابت ہوگا۔ سوشل میڈیا نے ایک سوچ دی ہے‘ ایک سمت معین کرکے گویا پورے پاکستان کو متحد کردیا ہے اور سارا سال ماہ رمضان المبارک کا انتظار کرنے والے ’ناجائز منافع خوروں‘ کے خلاف اگر عوامی سطح پر اتحاد ہو سکتا ہے اور یہ تین روزہ ہڑتال کسی بھی درجے کامیاب ہو جاتی ہے تو اِس سے دیگر شعبوں میں فیصلہ سازی اور بالخصوص صارفین کے حقوق کی ذیل میں ایسی نمایاں کامیابیاں حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا‘ جن کا تعلق کم و بیش سبھی اجناس کی قیمتوں اور معیار سے ہے۔ 

باعث خیروبرکت ہے کہ بالآخر عام آدمی (ہم عوام) نے متحد ہونے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو عین ممکن ہے کہ سوشل میڈیا کا اگلا نشانہ انتہاء پسندی‘ فروعی اختلافات کو ہوا دینے اور مذہبی یا نسلی لسانی بنیادوں پر منافرت پھیلانے والے ہوں جو داخلی طور پر ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔