Showing posts with label FBR. Show all posts
Showing posts with label FBR. Show all posts

Thursday, November 2, 2017

Jan 2018: Reasons for inflation!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
منطق‘ دلیل اور مہنگائی!
جیسا کہ ہر بات کی کوئی نہ کوئی تمہید ہوتی ہے بالکل اِسی طرح ’’مہنگائی‘‘ کا براہ راست تعلق (تعارف) ’پیٹرولیم مصنوعات‘ کی قیمتیں ہیں‘ جن میں معمولی ردوبدل کا روزمرہ اشیاء پر کئی سو گنا اثر ہوتا ہے تو جہاں ’فی لیٹر‘ پیسوں کا اضافہ بھی ناقابل برداشت حدوں کو چھوئے‘ وہاں اگر روپوں میں قیمتیں بڑھیں تو صورتحال کی سنگینی کا اَندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ) اور احتساب مقدمات کا سامنا کرنے والی وفاقی حکمراں جماعت نے عوام کے صبر کا ’کڑے امتحان‘ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ماہ قبل (تیس ستمبر) وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اُور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ’دو روپے فی لیٹر‘ اضافہ کیا گیا اور چند ہفتوں بعد اکتیس اکتوبر کے دن یہ اعلان سامنے آیا کہ ’’آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اِتھارٹی (اُوگرا)‘‘ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ’پانچ روپے اُنیس پیسے‘ تک اضافہ کرنے کی سفارش کو منظور کر لیا گیا‘ جس کے بعد ’مٹی کے تیل (کیروسین آئل) جیسی اُس بنیادی ضرورت کی قیمت بھی ’’چار روپے فی لیٹر‘‘ بڑھ گئی ہے‘ جس سے غریبوں کے گھر کا چولہا جلتا ہے! اسی طرح اشیائے خوردونوش کی نقل حمل میں اِستعمال ہونے والا ایندھن ’’لائٹ ڈیزل‘‘دو روپے فی لیٹر مہنگا کرنے سے بنیادی ضروریات کی ہر شے مہنگی ہو جائے گی! تصور کیجئے ایک طرف ہمارے حکمران ہیں کہ جن کی بیماریوں کا علاج بیرون ملک ہوتا ہے۔ جس عمر میں پاکستانیوں کے بچے اپنا نام نہیں لکھ سکتے اُس میں حکمراں خاندانوں کی اُولادیں بیرون ملک اربوں کھربوں روپے کے اثاثہ جات کی مالک بن جاتی ہے۔ ایک طرف غربت ہے جو‘ ہر گھڑی بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف سرمایہ دار ہیں جن کے اثاثہ جات میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے اور انہیں پاکستان میں مہنگائی کی شرح تو کیا یہاں بنیادی سہولیات کے فقدان سے بھی کوئی غرض نہیں!

پیٹرولیم مصنوعات میں قیمتوں کا منفی اثر ملک کی مجموعی قومی خام پیداوار (جی ڈی پی) پر نمایاں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ توانائی کی کمی سے پیدا ہونے والا بحران اپنی جگہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے مسلسل انکار سے قومی اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہیں۔ 

رواں ہفتے پاکستان میں تعینات جمہوری اسلامی ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے ’ہنرمندی سے زیادہ دانشمندی سے کام لیتے ہوئے‘ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق اور اسلام آباد ایوانہائے صنعت و تجارت کے اراکین سے ملاقاتوں میں مؤقف دہرایا کہ ’’اگر پاکستان چاہے اور معاہدہ کرے تو ایران پاکستان کو فوری طور پر ’’ایک ہزار سے تین ہزار میگاواٹ‘‘ (سستی) بجلی فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ ایران کا گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے توانائی بحران پر قابو پانے کا فوری حل ہے‘‘ لیکن ہمارے حکمران ’میڈ اِن ایران‘ حسب ضرورت بجلی خریدنے کے لئے بھی تیار نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے امریکی صدر ٹرمپ کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہو سکتی ہیں جو پہلے دھمکیاں دے رہے ہیں! پاکستان توانائی کے بحران میں اِس قدر شدت سے مبتلا ہوا کہ اس سے نکلنے کے لئے اب تک زبانی کلامی ہی کوشاں ہے۔ 

حکمراں جانتے ہیں کہ توانائی کے بغیر صنعتی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا‘ لیکن وہ صنعتی ترقی کے بارے بلندبانگ دعوے کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے! توانائی میں گیس اُور بجلی کو یکساں اِہمیت حاصل ہے اور یہ دونوں ضرورتیں بردار ہمسایہ ملک سے پوری ہو سکتی ہیں۔ پٹرولیم کی شکل میں ایندھن کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پٹرول اور گیس کے پاکستان میں ذخائر ضرور موجودہیں جو ضروریات سے کم ہیں۔ ذخائر کو دریافت کرنے کی ہمارے پاس مہارت بین الاقوامی سطح کی نہیں۔ یوں ہم اپنے ہی وسائل سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے جبکہ توانائی کا بحران سرمایہ کاری کے راستے میں دہشت گردی ہی کی طرح رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ بجلی کی پیداوار میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے مگر اب بھی ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ ایسے میں ایران کی بجلی کی فراہمی کی پیشکش پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے مابین گیس پائپ لائن کا معاہدہ موجود اپنی جگہ اور سردخانے میں پڑا ہوا ہے۔ 

ایران نے اپنی طرف سے کروڑوں ڈالر کی لاگت سے گیس پائپ لائن بچھا دی ہے تاہم امریکہ کے دباؤ پر اس معاہدے کی تکمیل سے بھی گریزاں ہیں۔ 

امریکہ نے ایران پر عائد پابندیاں اُٹھا لیں۔ اس کے اربوں ڈالر کے اثاثے واگزار کر دیئے مگر ہم ایران کے ساتھ معاہدوں کی تکمیل سے قاصر رہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں آج بھی ہے لیکن اگر اِس وسیع ترمفاد (ضرورت) کو (قومی ضرورت کے تناظر میں) سمجھا جائے مگر ایران سے بجلی و گیس اور سستے داموں پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کو پس پشت ڈال کر’’تاپی منصوبے‘‘ کی تکمیل جیسے سراب میں حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ تاجکستان‘ افغانستان‘ پاکستان‘ بھارت ’’تاپی منصوبے‘‘ کا حصہ ہیں اور جہاں بھارت ہوگا‘ وہاں پاکستان کے لئے خیرخواہی کی توقع کرنا ہی گمراہی ہے۔ امن و امان اور بھارت دوستی میں آخری حد تک جانے والے افغانستان کے مخدوش داخلی حالات کی وجہ سے ’’تاپی پائپ لائن منصوبہ‘‘ کبھی بھی محفوظ نہیں ہوگا تو کسی ایسے منصوبے میں کیونکر اُمیدوں اور توقعات کی بھی سرمایہ کاری کرکے خود کو دھوکہ دیا جارہا ہے جو عملاً ممکن ہی نہیں۔ ہم سب دل سے جانتے ہیں کہ افغانستان سے گزرنے والی ’’تاپی پائپ لائن‘‘ کبھی محفوظ نہیں رہ سکے گی اور پھر بھارت کا اس منصوبے میں شامل ہونا منصوبے کے ناقابل عمل ہونے کی بڑی دلیل ہے۔ پاکستان کی بہتری اور فوری طورپر توانائی ضروریات ایران کے ساتھ ’’گیس پائپ لائن معاہدے‘‘ کو بلاتاخیر انجام تک پہنچانا ہے اور جہاں ایران کی جانب سے سستی بجلی کی فراہمی کی پیشکش کی جا رہی ہے تو ایسی کسی پیشکش سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جا رہا؟ ایسا صرف اُسی صورت ممکن ہے جب ہماری داخلہ اور خارجی پالیسیاں قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کی جائیں اور ایسا کرنا صرف مشکل نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت کے لئے ناممکن ہے جو عدالتوں میں بدعنوانی کے ’پے در پے‘ الزامات کا سامنا کر رہی ہو۔ 

قوم کو آخر کس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ ایک حکمراں خاندان کے مشکوک ذرائع آمدنی اُور اثاثہ جات کی ملکیت ثابت کرنے کو سیاسی انتقام اور سازش بنا دیا گیا ہے۔ کیا جمہوریت ایک ایسے نظام کو کہتے ہیں جس میں ایک مرتبہ منتخب ہونے والے عوام کے نمائندے تاحیات قانون سے بالاتر تصور کئے جائیں؟ اگر احتساب کے قوانین اور قواعد کا اطلاق عام آدمی پر ہوتا ہے تو اِس سے حکمراں جماعت کے اَراکین کیسے (کس اَصول و منطق کی بنیاد پر) مستثنیٰ قرار دیئے جا سکتے ہیں!؟
۔

Friday, April 28, 2017

Apr2017: Economic Terrorism!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اقتصادی دہشت گرد: عمدہ حل!

پاکستان میں قوانین کا احترام نہ کرنے سے لیکر اُنہیں توڑ مروڑ کر اپنے حق میں استعمال کرنے جیسی مثالوں کا شمار ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹیکس ادائیگی کا بوجھ بھی صرف اُنہی طبقات پر مرکوز ہے‘ جو اپنی آمدن (ایٹ سورس) سے لیکر ہر چھوٹی بڑی خریداری پر سب سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں لیکن اِس کے باوجود معاشرے کے سب سے زیادہ محروم وہی پاکستانی ہیں جو بروقت اور زیادہ ٹیکس ادا کرنے کی صورت اپنا پیٹ کاٹ رہے ہیں۔ عجیب صورتحال ہیں جو لوگ بیرون ملک جا کر ٹریفک قواعد کا احترام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بیرون ملک پبلک مقامات پر تمباکو نوشی سے لیکر پبلک مقامات پر دوسروں کے حقوق (پرائیوسی) حتیٰ کہ صفائی کا خیال رکھنے والے جیسے ہی پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں اُن کے معیار ہی بدل جاتے ہیں۔ سرکاری تنصیبات اُور اثاثوں کو خیال نہیں رکھا جاتا۔ پاکستان کے بارے میں پڑھے لکھے‘ سرمایہ داروں کی اکثریت کے رویئے لمحۂ فکریہ ہیں! 

بیس کروڑ کی آبادی میں ایسے افراد کا شمار شاید انگلیوں پر بھی ممکن نہ ہو کہ جو ’’پاکستان کے (قومی) حقوق‘‘ ادا کرنے میں سنجیدہ دکھائی دیں! اِس نتیجۂ خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کی بے بسی و بے حسی ملاحظہ کیجئے کہ اپنی آمدنی سے متعلق غلط بیانی کے ذریعے ٹیکس چوری کرنے والے ’بااثر‘ دیدہ دلیروں سے ’حسب قواعد‘ نمٹنا گویا اِس کی ذمہ داری ہی نہ ہو۔ حال ہی میں قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ٹیکس نادہندگان کے شناختی کارڈز بلاک کرنے کی سفارش کی تو اِس کی مخالفت بھی کسی اُور نے نہیں بلکہ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ’’ایسا کرنے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔‘‘ عجیب صورتحال ہے کہ پاکستان میں قوانین پر عمل درآمد کرنے کے لئے بھی قانون سازی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے!

مسئلہ صرف حسب آمدنی ٹیکس کی خاطرخواہ وصولی ہی نہیں بلکہ وفاقی محکمہ خزانہ (ایف بی آر) میں مالی نظم و ضبط بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ہم ’ایف بی آر‘ اِن لینڈ ریوینیو (قومی محصولات) کی آڈٹ رپورٹ برائے ’سال دوہزار تیرہ چودہ‘ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ رپورٹ میں 169ارب 74کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں ہیں جبکہ ’اِن لینڈ ریوینیو‘ سے متعلق چھبیس ارب سینتیس کروڑ روپے مالیت کے بائیس کیسز عدالتوں میں زیر التواء ہیں! 

’ایف بی آر‘ کے قانونی مشاورت (لیگل ڈیپارٹمنٹ) میں اگر اصلاحات کی ضرورت ہے تو یہ کام کون کرے گا؟ جب اربوں روپے کے کیسز کی پیروی کرنے والے وکلأ کو ’بیس سے تیس ہزار روپے‘ ماہانہ دیئے جائیں گے تو نتیجہ یہی نکلے گا اور اسی کم ادائیگی کو جواز بناتے ہوئے ’ایف بی آر‘ ہر وکیل کو مقدمات کی پیروی کے لئے ماہانہ پینسٹھ ہزار روپے اَدا کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ زیر اِلتواء مقدمات سے متعلق ’پی اے سی‘ قانون سازی کروائے اُور زیر التوأ کیسز کی جلد پیروی کے لئے اٹارنی جنرل کے ذریعے عدلیہ سے رابطہ کیا جائے۔ ٹیکس نادہندگان اداروں کے مالکان اور افراد کے قومی شناختی کارڈ بلاک کرنا ایک ایسا ’’عمدہ حل‘‘ ہو سکتا ہے جس کا فوری نتیجہ برآمد ہوگا بلکہ بڑے پیمانے پر ٹیکس نادہندگان کے صرف قومی شناختی کارڈز ہی نہیں بلکہ پاسپورٹس بھی بلاک ہونے چاہیءں اور اگرچہ اس سے متعلق کوئی براہ راست قانون نہیں لیکن حسب آمدنی ٹیکس ادا نہ کرنے والوں ’معاشی و اقتصادی دہشت گردوں‘ شمار کرنا چاہئے اور ’نئے فنانس بل‘ میں یہ شق شامل کی جائے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ٹیکس نادہندگان اور کیسز کی پیروی نہ کرنے والوں کے شناختی کارڈز بلاک کر نے کی سفارش کر دی ہے اور کسی بھی صورت فراڈ کرنے والوں کو کسی بھی صورت معاف نہیں کرنا چاہئے۔

Wednesday, May 13, 2015

May2015: Expectations from next budget

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بجٹ 2015-16ء
کیا ہم اس بات کو خوش آئند قرار دے سکتے ہیں کہ ہمارے وزیرخزانہ اور مشروط قرض دینے والے عالمی اداروں بالخصوص عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پالیسی سازوں کے درمیان فکروعمل کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے؟ یاد رہے کہ ’آئی ایم ایف‘ نے حال ہی میں پاکستان سے متعلق اپنا ساتواں جائزہ مکمل کیا جس میں حکومت کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔ پاکستان کی مجموعی شرح نمو 0.2 فیصد سے 4.1فیصد تک لانے میں آئی ایم ایف کے دباؤ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور آئندہ مالی سال میں اس میں زیادہ مستحکم شرح نمو عام آدمی کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔ نئے مالی سال 2015-16ء کے لئے بجٹ کی تیاری کا عمل جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق حکومت شرح نمو 4.3 فیصد تک لیجانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اضافے سے اُس غیرمعمولی 130 ارب روپے کے اخراجات کے بارے سوچنا ہوگا جو اندرون ملک مختلف فوجی کاروائیوں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کاموں کے لئے مالی وسائل مختص کرنا زیرغور ہیں جس سے نہ صرف زیادہ ملازمتیں پیدا ہوں گی بلکہ اس سے نجی شعبہ بھی ترقی کرے گا۔

پاکستان کی اقتصادی ترقی کا انحصار محصولات (ٹیکسوں) سے مشروط ہے اور آئندہ مالی سال میں بھی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کسی بھی طرح 3.2 کھرب روپے سے زیادہ حاصل ہونے کی توقع نہیں۔ یہ لمحۂ فکریہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ’ٹیکس نیٹ‘ بڑھایا جائے اور ان طبقات سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جائے جو شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں لیکن اُن کے پاس حکومت کو دینے کے لئے کچھ نہیں۔ قانون ساز اداروں کے اراکین خود کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں‘ اس بات کو بیان کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ بھلا کسی ملک کے حکمران جب خود ٹیکس ادا نہ کررہے ہوں تو وہ عوام و خواص سے کس طرح اس بات کی توقع کس طرح کر سکتے ہیں کہ وہ بھی اپنے حصے کا ٹیکس ادا کریں۔

آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ کی تیاری میں اعلان کردہ کم سے کم اُجرت کے حکمنامے پر بھی عمل درآمد ہونا چاہئے۔ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کے لحاظ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن میں اضافہ خوش آئند ہے لیکن چونکہ ملازمتوں کی اکثریت غیرسرکاری وسائل پر انحصار کرتی ہے اس لئے نجی شعبے کو مراعات یا نجی شعبے کے لئے ملازمین کے لئے ’بہبود فنڈ‘ کا اجرأ ضروری ہے۔ حکومت کی جانب سے کم سے کم اجرت کی حد مقرر کر دی گئی ہے لیکن اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرکے یہ پورا معاملہ عرصہ دراز سے التوأ کا شکار ہے۔ اگر نئے مالی سال کے بجٹ میں کم سے کم اجرت پر نظرثانی کرکے اسے زیادہ حقیقت پسندانہ بنایا جائے اور نجی شعبے کو پابند کیا جائے کہ وہ ملازمین کے حقوق ادا کرے تو یہ ایک خاص مہربانی ہوگی۔ سردست مسئلہ قوانین و قواعد کی کمی کا نہیں بلکہ اِن پر اطلاق نہیں ہورہا۔ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے ادارے تو موجود ہیں لیکن اُن کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سرمایہ دار طبقات اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے عام انتخابات میں سرمایہ کاری کے ذریعے اُس فیصلہ ساز منصب پر فائز ہوجاتے ہیں جہاں اُن پر قانون ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ بلاامتیاز قانون و قواعد کا اطلاق اور مزدوروں‘محنت کشوں کے حقوق کی ادائیگی عملاً ممکن بنانے کے لئے ’عوام دوست بجٹ‘ کی ضرورت ہمیشہ ہی سے رہی ہے اور اِس مرتبہ بھی بہتری کی صرف توقع ہی کی جاسکتی ہے۔

مالی سال 2014-15ء اختتام پذیر ہونے والا ہے جس کے دس ماہ کے دوران وصول ہونے والوں محصولات کی شرح 2ہزار 560ارب روپے ہے اور وفاقی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر موجود اعدادوشمار پر اگر بھروسہ کیا جائے تو حکومت اس بات کے قریب ہے کہ وہ 13فیصد اضافی ٹیکس وصول کرنے کا ہدف حاصل کر لے لیکن یاد رہے کہ سیلزٹیکس کی مدمیں حکومت 118 ارب روپے واپس بھی کرے گی‘ جس سے محصولات سے حاصل ہونے والے پچیس سو ساٹھ ارب روپے کا عدد مزید سکڑ جائے گا۔

عام آدمی ماچس کی ایک ڈبی سے فی یونٹ بجلی استعمال کرنے تک ہر شے پر فراخدلی سے ٹیکس ادا کررہا ہے جبکہ اُس کی آمدنی (تنخواہ) سے بھی ٹیکس ادائیگی سے قبل ہی منہا کر لیا جاتا ہے۔ ٹیکس ادا نہ کرنے کی روش غریب و متوسط طبقات میں نہیں بلکہ اعلی و تعلیم یافتہ حکمراں طبقات میں پائی جاتی ہے جو ملک کے زیادہ سے زیادہ وسائل سے استفادہ تو کرتے ہیں لیکن حسب مقام و منصب اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کر رہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایک سو سے ایک سو پچاس ارب روپے گردشی قرضہ جات کی ادائیگی اور سیکورٹی آپریشنز کے لئے مختص کئے جا سکتے ہیں اور اگر ہم آمدنی و اخراجات کے میزانیئے (بجٹ) میں پائے جانے والے خسارے کو کم کرنا چاہتے ہیں جو پہلے ہی 180 سے230 ارب روپے کے درمیان معلق ہے تو ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ سیکورٹی کے لئے رسک بننے والوں سے محتاط معاملہ کرنے کی بجائے اگر کالعدم تحریکیوں سے وابستگیاں رکھنے والے اُن ایک ہزار سے کم افراد سے سخت معاملہ کیا جائے‘ جو پورے ملک کے لئے دردسر بنے ہوئے ہیں۔ کراچی سے پشاور تک سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری اُس وقت تک نہیں آسکتی جب تک قبائلی علاقوں کی حیثیت بندوبستی علاقوں کے مساوی نہیں کر دی جاتی۔ قبائلی علاقوں کے لئے ایک سے زیادہ مرتبہ مرتب کی جانے والی اصلاحات عملی اطلاق چاہتی ہیں اُور بس۔

قومی سطح پر آمدن و اخراجات میں توازن کے لئے ہمیں اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا ہوگا۔ غیرترقیاتی اخراجات کم کرنے اور سادگی پر مبنی طرز حکمرانی اختیار کرنے کے سوا بھی چارہ نہیں۔ قومی سطح پر سادگی اپنانے اور قومی بچت کی عادت عام کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ حال ہی میں تعینات ہونے والے گورنر پنجاب نے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے کہ وہ سرکاری رہائش گاہ دفتری اوقات کے علاؤہ استعمال نہیں کریں گے۔ اگر پنجاب کا گورنر ایسا کرسکتا تو دیگر صوبوں کے گورنرز ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ بجٹ کا خسارہ اور اقتصادی مشکلات سے نمٹنے کے لئے عوام سے مزید قربانیوں کی توقع کرنے کی بجائے حکمراں طبقات کو اپنی کارکردگی اور سرکاری وسائل کے استعمال میں احتیاط برتنا ہوگی۔ انہیں صادق و امین بن کر عوام کے ٹیکسوں سے وصول ہونے والی ہر ایک پائی کا دانشمندانہ اور کفایت شعاری پر مبنی استعمال کرنا ہوگا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بجلی کے صارفین سے ’پاکستان ٹیلی ویژن‘ کی لائسینس فیس بصورت ’بھتہ‘ وصول کی جائے لیکن اِس قومی ادارے کے کردار و فعالیت کو ہر دور میں صرف اور صرف حکمرانوں کی تعریف و توصیف تک ہی محدود رکھا جائے! اقتصادی بہتری سماجی اور سیاسی محاذوں پر اسراف ختم کئے بناء ممکن نہیں‘ جس کے لئے خوداحتسابی سے زیادہ کوئی دوسرا حربہ کارگر و کامیاب نہیں ہوسکتا۔

Tuesday, December 9, 2014

Dec2014: Landmark of downfall

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
زوال کی نشانیاں
وفاقی اِدارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق چار دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے تک مہنگائی کی شرح کمی ہوئی ہے اور اگر چار دسمبر کے ہفتے کا موازنہ اگر گذشتہ ہفتے سے کیا جائے تو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کی مجموعی شرح 0.67 فیصد رہی۔ حکومتی اِدارے کا کہنا ہے کہ ’’چار دسمبر تک آلو‘ پیٹرول‘ ٹماٹروں‘ ڈیزل‘ مٹی کے تیل‘ پیاز‘ مائع گیس (ایل پی جی) سلینڈر‘ چینی‘ گھی‘ گڑ‘ انڈے‘ گندم کے آٹے‘ میدہ دالیں‘ کھانے کا تیل‘ باسمتی چاول‘ سرسوں کے تیل‘ گندم اور کیلے کی قیمت میں کمی جبکہ پکی ہوئی اشیائے خوردونوش‘ مسور کی دال‘ مرچ کے پاوڈر‘ جلانے کی لکڑی اور فارمی مرغی کی قیمتیں بڑھی ہیں اور باقی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔‘‘

حکومتی ادارے جب مہنگائی یا اشیاء و کارکردگی کے معیار کی بابت کوئی رپورٹ جاری کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے رپورٹ مرتب کرنے والے کسی دوسرے ملک کے باسی ہوں یا وہ بیرون ملک بیٹھ کر ایسی رپورٹیں بنا رہے ہوں۔ کیا اُنہیں برسرزمین حقائق کا علم نہیں کہ مسئلے کا حل ’مہنگائی کے ایک فیصد سے بھی کم ہونے کا نہیں‘ بلکہ عام آدمی کی قوت خرید کا ہے‘ جو ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتی جارہی ہے۔

حکومت کی جانب سے کم سے کم ماہانہ تنخواہ (اُجرت) مقرر تو کر دی گئی ہے لیکن اِس پر عمل درآمد کون کرائے گا‘ اِس بارے میں طریقۂ کار واضح نہیں۔ بڑے بڑے سرمایہ دار اور جاگیردار عام انتخابات میں سرمایہ کاری کے ذریعے قانون ساز ایوانوں کے رکن منتخب ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد قانون و قواعد پر عمل درآمد اُن کی مرضی سے ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا قانون موجود نہیں جس میں یہ لکھا ہو اِس کا اطلاق صرف اور صرف غریب‘ بے اختیار اور معاشرے کے کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والوں پر ہوگا لیکن عمومی مشاہدہ ہے کہ کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والوں کی شکایت پر ’ایف آئی آر‘ تک درج نہیں ہوتی۔ دنیا کا کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں جہاں کے وفاقی و صوبائی سربراہان مملکت پر قتل اور دہشت گردی میں ملوث ہونے والی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہوں لیکن وہ نہ تو گرفتار ہوں‘ نہ اُن کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور نہ ہی وہ اخلاقی جواز کے طور پر اعلیٰ و ادنی انتظامی عہدوں سے علیحدہ ہوں۔ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ’حکومت کفر سے تو چل سکتی ہے لیکن ناانصافی سے نہیں۔‘

بجلی کی فی یونٹ قیمت‘ اَنواع و اقسام کے ٹیکس عائد کرنے کے بعد قابل برداشت نہیں رہتی اور اِس سلسلے میں کم یونٹ خرچ کرنے والے گھریلو صارفین سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں جنہیں ریلیف دینے کے لئے ہر حکومت متواتر اعلانات کرتی ہے لیکن عملی اِقدامات کون کرے گا۔ زندگی کا کوئی ایک ایسا شعبہ بھی نہیں‘ جس پر مہنگائی کے منفی اثرات حاوی نہ ہوں بلکہ قوت خرید کم ہونے کے سبب کم آمدنی والے طبقات شدید مشکلات کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ حال ہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی لیکن اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ سکے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور مال برداری میں اِستعمال ہونے والے اِیندھن کے مقابلے پرتعیش گاڑیوں کو رواں دواں رکھنے والی مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ کمی ہوئی! جب تک ہم اِس حقیقت کا ادراک نہیں کرتے کہ مسئلہ ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام میں اُن گیارہ کروڑ نفوس کا ہے جو ’خط غربت سے نیچے‘ زندگی بسر کررہے ہیں اور اُن کی یومیہ آمدنی اِس حد تک کم ہے کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی بنیادی ضروریات بشمول کھانے پینے‘ تعلیم و علاج پر اُٹھنے والے اخراجات پورے نہیں کرسکتے‘ تب تک ہر حکمت عملی کے منفی اثرات زیادہ رونما ہوں گے۔ مثال کے طورپر حکومت کی جانب سے مالی امداد دینے کا ایک طریقہ کار موجود ہے‘ جس سے مستحق افراد میں نقد رقومات تقسیم کی جاتی ہیں لیکن اِس نظام میں سیاسی مداخلت اور مانگ کر ضروریات پوری کرنے والے ’پیشہ ور مداریوں‘ کی وجہ سے پورا نظام بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ ہر سیاسی حکومت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے نظریاتی ساتھیوں کی ضروریات پوری کرے۔ اس مقصد کے لئے حکمت عملیاں مرتب کی جاتی ہیں لیکن چونکہ اِن کا مقصد مخصوص طبقے کو نوازنا ہوتا ہے اِس لئے وہ پائیدار ثابت نہیں ہوتیں۔

ماضی میں ’اے ٹی ایم کارڈز‘ (بینکوں) کے خودکار نظام کے ذریعے مالی مدد دینے کی حکمت عملی وضع کی گئی‘ جسے موجودہ حکومت نے بھی جاری و ساری رکھا لیکن اِس حکمت عملی سے مستفید ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق ’حیرت انگیز طور پر‘ اُسی سیاسی جماعت سے ہے‘ جس نے یہ منصوبہ شروع کیا تھا۔ چونکہ ہمارے ہاں ’عجائبات‘ اور ’ذہانت‘ کی کمی نہیں تھی اِس لئے ایک ہی گھر اور خاندان کی ہر خاتون کو الگ الگ امداد ملنے لگی‘ جو سلسلہ آج بھی جاری ہے اور یہی وجہ ہے کہ سرکاری خزانے سے ادائیگیاں کرکے سیاسی جماعتیں زندہ ہیں اور اُن کے رہنماؤں کے بارے میں یہ نعرے سننے کو ملتے ہیں کہ وہ بھی زندہ ہیں! اپنے گردوپیش پر نگاہ ڈالیں۔ ترقیاتی عمل اور اس کے معیار کو دیکھیں۔ وہ گلیاں‘ سڑکیں‘ نالے نالیاں اور تعمیرات جو کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئیں ایک بارش کا بہاؤ اور ہلکے سے زلزلے کے جھٹکے بھی نہیں سہہ پائیں۔ پاکستان کو مالی طور پر جس قدر نقصان جمہوریت کا لبادا اوڑھنے والوں نے پہنچایا ہے‘ اس کی مثل مثال اور جواز کہیں اور نہیں ملتا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مغربی ممالک کی طرح کم آمدنی رکھنے والے طبقات کے لئے ’فوڈ اِسٹمپس‘ جاری نہیں کئے جاتے؟ شرح مہنگائی کے مقابلے قوت خرید بڑھانے کے لئے مزدور کی کم سے کم اُجرت کی اَدائیگی سے متعلق قانون پر عمل درآمد نہیں کیا ہو رہا۔ آخر کیا سبب ہے کہ ہمارے ہاں نہ تو ملازمتوں کا تحفظ ہے اُور نہ ہی مزدور طبقے کی اَکثریت ’سماجی تحفظ (سوشل سیکورٹی)‘ کی چھتری تلے آتی ہے۔ پینشن کے لئے دفاتر کے دھکے کھانے والوں کا دُکھ اپنی جگہ اور قطار میں لگ کر پینشن حاصل کرنے والے پریشان حال اپنی جگہ خاموش ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب نے استحصال‘ تعصب اور اِداروں میں سیاسی مداخلت کی بنیاد پر ہونے والے امتیازات کو دل سے ’بہ رضا و رغبت‘ قبول کر لیا ہے‘ بس یہی اُن قوموں کے زوال کی کھلی نشانی ہوتی ہے‘ جنہیں اپنی حالت خود بدلنے کا خیال نہیں ہوتا۔