Showing posts with label Budget. Show all posts
Showing posts with label Budget. Show all posts

Sunday, October 29, 2017

Translation: Economic warfare by Dr. Farrukh Saleem

Economic warfare
اِقتصادی (مسلط) جنگ!
اٹھارہویں صدی میں ’مخصوص فوجی لباس (یونیفارم) پہنے سپاہی جنگ لڑا کرتے تھے۔ اُس عہد میں زیادہ سے زیادہ مسلح اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی تھی‘ جس پر عموماً اختیار نہیں رہتا تھا اور اِن جنگوں میں حصہ لینے والے دونوں فریقین کے وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوا کرتے تھے۔ یہی ہوتی کہ ’پہلی قسم (فرسٹ جنریشن)‘ کی اِس ’’دور‘‘ میں ’’جنگ کی تباہ کاریوں‘‘ سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا تھا۔ اُنیسویں صدی عیسوی میں صف بندی کرکے ایک دوسرے کے آمنے سامنے سینہ سپر ہو کر جسمانی طاقت کے بل بوتے پر لڑنے والا جنگی دور اختتام پذیر ہوا اُور اِس کی جگہ آتش گیر مادے سے دور تک مار کرنے والی ایک ایسی بندوق اور اسلحے نے لے لی جس میں ہر بار بارود ڈالنا پڑتا تھا۔ تیسری قسم (تھرڈ جنریشن) کی لڑائی میں حملہ آور برق رفتاری‘ خود کو پوشیدہ رکھنے اُور اچانک حملہ کرنے جیسے حکمت عملیوں سے کام لیتے رہے۔ تیسری قسم کی اِس جنگ میں فضائیہ‘ ٹینک اور بھاری گولہ باری (آرٹلری) کا استعمال کیا جاتا رہا۔

جنگیں آج کے زمانے میں لڑی جاتی ہیں لیکن حکمت عملی تبدیل ہو چکی ہے۔ موجودہ دور میں چوتھی قسم (فورتھ جنریشن) کی جنگیں لڑی جاتی ہیں جن میں روائتی و غیرروائتی ہتھیاروں کی بجائے کسی ملک کے اقتصادی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے اُس کی اقتصادیات کو اِس حد تک کمزور (ناتواں) کر دیا جاتا ہے کہ وہ خود اپنے آپ میں تحلیل ہو جائے کیونکہ جب کوئی ملک اقتصادی طور پر کمزور ہوگا تو وہ اپنے دفاع پر خاطرخواہ اخراجات بھی نہیں کر پائے گا اور یہی حکمت عملی ہے کہ بڑے پیمانے پر خون خرابہ کرنے کی بجائے ایسے طریقے اختیار کئے جائیں جس سے جنگ کے اہداف حاصل ہوں۔

سال 1970ء میں امریکہ کے صدر نکسن (Richard Nixon) نے سنٹرل انٹلی جنس ایجنسی (CIA) کو حکم دیا کہ وہ ’’(دشمن ملک چلی) کو اقتصادی طور پر ناتواں کر دو۔‘‘ سی آئی اے نے حسب حکم ایسا ہی کیا۔ اِسی طرح امریکہ نے پچاس سال لگا کر کیوبا کو اقتصادی طور پر نقصان پہنچایا۔ سال1990ء میں امریکہ نے عراق اور شمالی کوریا کے خلاف اقتصادی جنگ کا آغاز کیا تاکہ یہ دونوں ممالک اپنے وسائل دفاعی طاقت بڑھانے کے لئے استعمال نہ کرسکیں۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں عالمی طاقت امریکہ نے اقتصادی حربوں کے ذریعے اپنے مخالفین کو نقصان پہنچایا۔ 1947ء سے 1991ء کے عرصے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممال نے سوویت یونین کے خلاف اقتصادی جنگ لڑی۔ سوویت یونین کے پاس سات ہزار جوہری ہتھیار تھے لیکن اِن کے باوجود بھی وہ 1991ء میں پندرہ ٹکڑوں (آرمینیا‘ آذربائیجان‘ بیلاروس‘ ایستونیا‘ جورجیا‘ قازقستان‘ کرغستان‘ لاتھیا‘ لیتھونیا‘ مولداویا‘ رشیا‘ تاجکستان‘ ترکمنستان‘ یوکرئن اُور اُزبکستان) میں تقسیم ہونے سے خود کو نہ بچا سکا۔

آج کی دنیا میں قرض بھی ایک ہتھیار ہے اور سرمایہ دار ممالک ’قرض‘ دینے کے ذریعے ممالک پر اجارہ داری قائم کرتے ہیں۔ کسی ملک کو قرض پر قرض دیئے جانے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے قابل نہ رہے۔ اگر ہم اِس تناظر میں پاکستان کا جائزہ لیں تو سال 2001ء میں ملک کی کل خام پیداوار (جی ڈی پی) کا 4.6فیصد حصہ دفاع پر خرچ کر رہے تھے جس میں بتدریج کمی ہوتے یہ اخراجات جی ڈی پی کے مساوی 2.3 فیصد ہو چکے ہیں کیونکہ اِس عرصے کے دوران (سال دوہزار ایک سے) پاکستان کا قرض 3 ہزار 684ارب روپے سے بڑھ کر 25 ہزار 62 ارب روپے ہو چکا ہے۔ قومی قرضوں کا منفی اثر براہ راست دفاعی اخراجات پر پڑتا ہے اور جیسے جیسے قرض بڑھتا ہے دفاع پر اخراجات کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقتصادی جنگ مسلط کرنے والے کرنسی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں!

کسی ملک کی آمدن و اخراجات کے درمیان عدم توازن (بجٹ خسارہ) مجبور کرتا ہے کہ قرض لیا جائے۔ پاکستان کے سالانہ بجٹ کا خسارہ قریب 2 کھرب روپے ہے یعنی پاکستان کی کل سالانہ آمدنی 2 کھرب روپے سے کم ہے اور اس خسارے کو پورا کرنے کے لئے پاکستانی کرنسی کی قدر کم کرنا پڑے گی۔ بجٹ کا یہ خسارہ بھی جنگی ہتھیار ہے جس کی موجودگی میں پاکستان اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ نہیں کرسکتا۔ درحقیقت پاکستان پر اقتصادی جنگ مسلط کر دی گئی ہے جس میں بظاہر جانی نقصانات (خون خرابہ) نہیں ہو رہا کیونکہ زیراستعمال ہتھیار تبدیل ہیں۔ نئی جنگ کا ہتھیار قرض‘ عالمی تجارت‘ کرنسی‘ بجٹ خسارہ‘ ناپائیدار اِقتصادیات اور صحت و تعلیم کے علاؤہ ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری ہے‘ جن کے تکمیل یا اُن سے وابستہ اہداف عملاً حاصل کرنا ممکن نہ ہوں۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, June 11, 2017

June2017: Development scenario and budget after the budgets!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاق و سباق: بالائے طاق!
خیبرپختونخوا کے لئے ’مالی سال دوہزار سترہ اٹھارہ‘ کے دوران آمدن واخراجات کا میزانیہ (بجٹ) پیش کرتے ہوئے ہر شعبے کے لئے اضافی مالی وسائل مختص کرنے کو بڑھا چڑھا کر (سیاق و سباق سے ہٹ کر) پیش کیا گیا ہے جس نے اِس سوال کی گنجائش پیدا کر دی ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے لیکر ترقیاتی عمل کے لئے درکار (مزید) مالی وسائل (آمدنی) کہاں سے آئے گی؟ 

عام آدمی کے لئے شاید بجٹ کے اعدادوشمار سمجھنا آسان نہ ہو اور اِسی ’ناخواندگی‘ کا فائدہ ہر حکومت کی طرح موجودہ صوبائی حکومت بھی دل کھول کر اُٹھا رہی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت دوہزار اٹھارہ میں مکمل ہونے والی ہے اور وقت مقررہ یا قبل اَز مدت ’عام اِنتخابات‘ کے انعقاد کی صورتوں میں موجودہ بجٹ ہی ’ترجیحات کا خلاصہ‘ اور ’آخری کارکردگی‘ ثابت ہوگی۔ کیا صوبائی حکومت اِن اعدادوشمار کو یکسر مسترد کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے کہ اختتام پذیر ہونے جا رہے مالی سال میں آمدنی کے جس قدر اہداف مقرر کئے گئے تھے وہ حاصل نہیں ہو سکے! مثال کے طور پر گذشتہ مالی سال (دوہزارسولہ سترہ) کے لئے صوبائی حکومت نے آمدنی کا ہدف 49.5 ارب روپے مقرر کیا تھا لیکن دس ماہ کے دوران (مئی دوہزارسترہ تک) صرف 20.9 اَرب اکٹھا کئے جا سکے! اِسی طرح آئندہ مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے لئے ٹیکس اور بناء ٹیکس ذرائع سے متوقع آمدنی 45.2 ارب روپے بیان کی گئی ہے جسے حاصل کرنا ممکن نہیں لیکن اگر صوبائی حکومت آمدنی سے متعلق اپنے ہی مقرر کردہ اہداف حاصل کر بھی لیتی ہے تو یہ رقم صوبائی بجٹ کے تناسب سے صرف 7.4فیصد ہی ہوگی۔ 

مالی سال دوہزارسولہ سترہ اور سترہ اٹھارہ کی بجٹ دستاویزات کا موازنہ کرنے سے باآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف آنے والی صوبائی حکومت کے لئے مالی ذمہ داریوں کا انبار لگا رہی ہے یعنی اگر آئندہ صوبائی حکومت تحریک انصاف کے (چھوڑے ہوئے) اَدھورے کام مکمل کرتی ہے اور اِس دوران کوئی بھی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کرتی تو اُسے کم وبیش ’4 چار سال 5ماہ‘ صرف اُن ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے لئے درکار ہوں گے‘ جن کی منصوبہ بندی اور اِس کے لئے مالی وسائل مختص کرنے والوں نے اُس مدت کو زیادہ اہمیت نہیں دی‘ جس پر اُس سے عام آدمی (ہم عوام) کی زندگی میں بہتری کا آغاز ہوگا۔ 

کیا یہ ممکن ہوگا کہ تحریک انصاف کے علاؤہ اگر کوئی دوسری جماعت خیبرپختونخوا میں آئندہ حکومت بنائے اور وہ اپنے انتخابی منشور و ترجیحات کو پس پشت ڈالتے ہوئے تمام تر مالی وسائل صرف اور صرف تحریک انصاف کی وضع کردہ ترقیاتی حکمت عملی پر خرچ کر دے؟ خیبرپختونخوا میں ترقی کا عمل پہلے سے زیادہ مشکوک اور ماضی سے زیادہ ’ناپائیدار‘ دکھائی دے رہا ہے‘ جو تضاد سے بھرے اعدادوشمار اور برسرزمین حقائق سے عیاں ہے اور باوجود کوشش بھی اِس مالی نظم وضبط اور ترقیاتی حکمت عملی کا دفاع ممکن نہیں‘ جس میں صوبائی خزانے سے ’ہم جماعت‘ اراکین قومی اسمبلی کو مالی وسائل فراہم کئے جا رہے ہوں! اگر ماضی کی حکمرانوں نے اپنے صوابدیدی اختیارات کا (بے دریغ) استعمال کرتے ہوئے ایسی (ناگوار) مثالیں چھوڑی ہیں‘ جن کا تعلق جماعتی‘ سیاسی‘ انتخابی یا پھر ذاتی ترجیحات سے تھا تو ’تبدیلی کی علمبردار‘ ایک تحریک کو قطعی طور پر یہ بات زیب نہیں دیتی تھی کہ وہ اُس دلدلی زمین پر پاؤں رکھتی‘ جس میں سوائے دھنستے چلے جانے کچھ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا۔

عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے بجٹ دستاویز کے ہر صفحے اور ہر سطر کے ذریعے مالی نظم و ضبط یا ترقی کا جو نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ زمینی حقائق میں فوری تبدیلی (بہتری) کا مؤجب نہیں بنے گا‘ تاوقتیکہ تحریک انصاف کے ہاتھ کوئی ’کرامت (جادو)‘ آجائے کیونکہ چار سالہ مالی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات ناممکن حد تک دشوار دکھائی دے رہی ہے کہ ترقی کے جو اہداف چار سال کے عرصے میں حاصل نہیں ہوسکے وہ یک بیک آئندہ مالی سال (دوہزارسترہ اٹھارہ) کے دوران حاصل کر لئے جائیں گے! 

یاد رہے کہ صوبائی حکومت یہ دعویٰ بھی رکھتی ہے کہ اُسے محصولات (ٹیکسوں) سے 22.3 اور بناء ٹیکس آمدنی کے ذریعے 22.9 ارب روپے حاصل ہوں گے اور بناء ٹیکس لگائے جس آمدنی کا ذکر کیا گیا ہے وہ ’حکومتی اثاثوں‘ کی نجکاری ہے‘ جو کوئی نیا تصور (آئیڈیا) نہیں بلکہ یہ حکمت عملی (خواب) اِس سے قبل بھی پیش کیا جا چکا ہے بالخصوص خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں (بشمول ہزارہ ڈویژن) میں سیاحتی مقامات کو ترقی دینے اور نئے سیاحتی مقامات بنانے کے ذریعے صوبائی آمدنی میں اضافہ ہونے کی نوید سنائی گئی لیکن جو اہداف (کام) چار سال میں مکمل تو کیا شروع بھی نہ ہو سکا‘ وہ محض کسی ایک مالی سال میں کس طرح مکمل کر لیا جائے گا؟ 

اِس مرحلۂ فکر پر جنگلات کی ترقی اُور شجرکاری مہمات سے برسرزمین حقائق میں تبدیلی کا بطور خاص ذکر ضروری ہے‘ جس کا احتساب کرتے ہوئے اگر چیئرمین عمران خان اُن تمام کرداروں کے ذاتی اثاثوں اور رہن سہن میں تبدیلی کی چھان بین (احتساب) کریں تو حقیقت آشکارہ ہو جائے کہ ’ایک ارب درختوں پر مبنی شجرکاری مہم‘ کی بدولت ترقی کس قدر محدود اور متعلقہ فیصلہ سازوں کی ذاتی زندگیوں (رہن سہن) میں تبدیلی کا مظہر ثابت ہوئی ہے! 

خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے بعد سے جس قدر ترقی اور تبدیلی تحریک انصاف کے وزیروں مشیروں اور اُن کے آگے پیچھے ہاتھ باندھے ’فوج ظفر موج‘ کی زندگیوں میں آئی ہے‘ اُس جیسی ’’آشنا مثالیں‘‘ دیگر سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا بھی (مذمتی) بیان ہے۔ خودفریبی کی انتہاء ہے کہ خیبرپختونخوا کے مالی نظم وضبط کا ایک پہلو ایسا بھی ہے‘ جسے روشن اُور مثالی قرار دیا جا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب گذشتہ مالی سال (دوہزارسولہ سترہ) کا اختتام ہو رہا تھا تو صوبائی خزانے میں 11.8 ارب روپے تھے اور اِس مرتبہ نئے مالی سال (دوہزار سترہ اٹھارہ) میں داخل ہوتے وقت صوبائی خزانے میں 24.8 ارب روپے ’ذخیرہ‘ ہیں! کیا صوبائی حکومت کا کام ’بچت‘ کرنا تھا یا (مینڈیٹ تھا کہ) دستیاب مالی وسائل کا استعمال کرکے وہ ’باسہولت بہتری (تبدیلی)‘ لائی جائے‘ ایک ایسی ’فقیدالمثال تبدیلی‘ جس کی خیبرپختونخوا آج بھی راہ دیکھ رہا ہے!

Saturday, June 10, 2017

June2017: Budget & Education - Financial Resources not just enough!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
کارکردگی: حاوی حقائق!
برسرزمین حقائق کا تقاضا یہ ہے کہ ’انسانی وسائل کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی‘ جیسی ترجیحات سرفہرست رکھی جائیں۔ خیبرپختونخوا کے بجٹ برائے مالی سال دوہزار سترہ اٹھارہ سے وابستہ توقعات بھلا کیسے پوری ہو سکتی ہیں جبکہ اُن جملہ امور کا خاتمہ نہیں کیا گیا‘ جن کے باعث گذشتہ مالی سالوں کے دوران مختص وسائل ضائع ہوتے رہے ہیں۔ ’سفررائیگاں‘ کے عنوان سے ’نو جون‘ کو ’نئے مالی سال اُور بلدیاتی نظام‘ کے حوالے سے جائزہ پیش کیا گیا‘ تاکہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو اُن کا یہ انتخابی وعدہ یاد دلایا جا سکے کہ ۔۔۔ ’’قانون ساز اَراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری نہیں کئے جائیں گے اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔‘‘ لیکن اگر ایسا عملاً نہیں ہو پا رہا تو فکروعمل کی اصلاح ضروری ہے۔

مالی سال دوہزارسترہ اٹھارہ کے لئے خیبرپختونخوا حکومت نے ’شعبۂ تعلیم‘ کے لئے 136 ارب روپے مختص کئے جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے ’’پندرہ فیصد‘‘ زیادہ ہیں! قابل ذکر ہے کہ صوبے کی مجموعی ترقیاتی حکمت عملی (اے ڈی پی) کا حجم 208ارب روپے میں سے 9.77 فیصد (بیس اعشاریہ بتیس ارب روپے) پرائمری اور ہائر ایجوکیشن میں ترقیاتی کاموں کے لئے مختص کئے گئے ہیں! 

سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے مالی وسائل مختص کرنے میں ’بہادری (فراخدلی) کا مظاہرہ‘ کرنے میں موجودہ صوبائی حکومت کا جواب نہیں لیکن کیا اب تک کے تجربات سے ثابت نہیں ہوا کہ محض مالی وسائل پانی کی طرح بہانے ہی سے بہتری نہیں لائی جا سکتی؟ تعلیم کے لئے مختص مالی وسائل کا بڑا حصہ جن تین مدوں میں خرچ ہو رہا ہے اُن کا تعلق غیرترقیاتی اخراجات سے ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں و مراعات اور دیگر اخراجات مختص مالی وسائل کے قریب نوے فیصد کو چھو رہے ہیں! پرائمری (بنیادی) تعلیم کے شعبے میں اساتذہ کی بذریعہ برطانوی ادارے ’برٹش کونسل‘ پندرہ روزہ تربیت پر ایک ارب روپے سے زائد رقم خرچ کرنا اور تربیتی عمل مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے آنے والے وقت میں ایک ایسا ’اسکینڈل‘ ثابت ہوگا‘ جس میں بڑے بڑے نام ’ملوث پائے جائیں گے۔‘ حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی تعلیمی پالیسی اور مختص مالی وسائل سے یا تو براہ راست ’برٹش کونسل‘ یا پھر ’برٹس کونسل‘ سے وابستہ رہے ملازمین کو زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے خیبرپختونخوا کے تعلیمی ڈھانچے کی بہتری کے لئے جس قدر ذیلی شعبے تخلیق کئے اُن میں حیرت انگیز طور پر برٹش کونسل سے سابق اور حاضر سروس ملازمین کی خدمات بھاری تنخواہوں اور مراعات کے عوض حاصل کی گئیں۔ حتیٰ کہ تشہیری مہمات کو ڈیزائن (تخلیق) کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی قرار دی جاسکتی ہے!؟ سوال یہ ہے کہ ماضی میں اساتذہ کی تربیت پر ایک ارب سے زائد خرچ کرنے سے کیا نتائج حاصل ہوئے اور نئے مالی سال میں 30 کروڑ (300ملین) روپے مزید مختص کرنے سے کیا بہتری آئے گی؟ دوسروں پر تنقید اور بلند بانگ دعوؤں پر مبنی بیانات جاری کرنے سے ایک ’سیاسی ضرورت‘ تو ’بخوبی پوری‘ ہو رہی ہے لیکن اگر خیبرپختونخوا کے سیاسی فیصلہ ساز کبھی اپنے آپ سے بھی باتیں کریں تو اُن کے علم میں اضافہ ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کار ’محمود جان بابر‘ سے اگر یہ نتیجۂ خیال مستعار لیا جائے کہ ’’تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی قیادت نے چیئرمین عمران خان کو ’اَندھیرے میں رکھتے ہوئے‘ ترقی اور تبدیلی کا جو نقشہ اُن کے سامنے پیش کیا ہے‘ وہ سوفیصد حقائق پر مبنی نہیں اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود اگر بہتری کے لئے عملی کوشش کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو پا رہے تو ’’طرزحکمرانی کی اصلاح‘ اِحتساب اُور تبدیلی‘‘ کے نام پر برسراِقتدار آنے والوں کو اپنے طرزفکروعمل پر غور کرنا چاہئے کہ ’حائل رکاوٹیں‘ کیا ہیں اور اُن سے چھٹکارہ پانے کے لئے کیا تدابیر اختیار کی جانی چاہیءں لیکن جو ایک بنیادی سوال نہیں اُٹھایا جا رہا وہ یہ ہے کہ ’’کیا چیئرمین عمران خان کی خیبرپختونخوا کے امور میں دلچسپی اُسی درجے (مقام بلند) پر فائز ہے جو مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے (حیران کن) نتائج کے وقت تھی؟‘‘ 

تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے بناء ’ہیوی ویٹ (ایلیکٹ ایبلز)‘ مئی دوہزارتیرہ کا انتخابی معرکہ اپنے نام کیا لیکن کیا آئندہ بھی ایسا کر پائے گی جبکہ تحریک انصاف کا تنظیمی ڈھانچہ اور کارکنوں کے آپسی اختلافات و تعلقات (بداعتمادی) کم ترین درجے پر ہے!؟ 

صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سیاسی معاملہ فہمی‘ بصیرت اور قدکاٹھ اپنی جگہ لیکن خیبرپختونخوا کی زیرنگرانی ’’تعلیم‘ صحت اُور بلدیاتی نظام‘‘ کا قبلہ بطور ترجیح درست کئے بناء ہر سال زیادہ سے زیادہ‘ بلکہ اور بھی زیادہ مالی وسائل سے کام لینا اُس وقت تک ’کارگر ثابت نہیں ہو گا‘ جب تک تعریف و توصیف کی ماہر ’افسرشاہی‘ کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے دھوکے (سراب) سے بچا نہیں جاتا‘ جب تک خود کو ’عقل کل‘ سمجھنے کی بجائے مشاورتی عمل کو وسعت نہیں دی جاتی‘ اور جب تک بلدیاتی نظام کو مضبوط و توانا نہیں کیا جاتا کیونکہ مسائل اور دستیاب وسائل (جمع پونجی) کا اِدارک رکھتے ہوئے فیصلہ سازی کے منصب پر فائز کردار ’نمائشی اقدامات‘ سے گریز کئے بناء ترقی کو پائیدار و معیاری نہیں بنایا جا سکے گا! 

تندوتلخ سہی لیکن حقیقت پر حقیقت (حاوی) ہی رہے گی کہ ’’خوش رنگ اقتدار کے ساتھ جڑی ذمہ داریوں کا ذائقہ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے!‘‘

Friday, May 26, 2017

May2017: Tracking budget with a sense of responsibility!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِصلاح اَحوال: ذمہ داریاں!
جمہوریت کے لغوی معنی ’’لوگوں کی حکمرانی‘‘ کے ہیں۔ یہ اصطلاح دو یونانی الفاظ ڈیمو (Demo) یعنی لوگ اور کراٹوس (Kratos) یعنی حکومت کا مجموعہ ہے۔ یونانی مفکر ہیروڈوٹس (Herodotus) کے بقول ’’جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں۔‘‘ امریکہ کے صدر ابراہم لنکن کی دانش میں ’’عوام کی حاکمیت‘ عوام کے ذریعے اور عوام پر ہوتی ہے‘‘ لیکن جمہوریت کو ’شفاف‘ اور ’جوابدہ‘ بنانے کے لئے دنیا کے ہر جمہوری ملک کے اپنے تجربات اور اُن کے حاصل ہونے والے نتائج الگ الگ ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت سے جڑی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے غیرملکی امداد سے کئی تنظیمیں (این جی اُوز) کام کر رہی ہیں جن کی ’’سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (سی پی ڈی آئی)‘‘ بھی شامل ہے‘ جس نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی آمدن واخراجات کے میزانیئے (بجٹ) کی معلومات کو موبائل فون ایپ (اینڈروائڈ سافٹ وئر) کے ذریعے عوام تک پہنچانے کا وسیلہ مہیا کیا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی منفرد ’موبائل ایپلی کیشن‘ کے ذریعے گویا سمندر کو ایک کوزے میں بند کر دیا گیا ہو۔ کم و بیش پانچ میگابائٹس کی ’بجٹ ٹریکر‘ (Budget Tracker) نامی بلاقیمت ’ایپلی کیشن‘ درجہ بندی کے لحاظ سے ’ایپل سٹور‘ کے ’شعبۂ تعلیم‘ میں رکھی گئی ہے‘ جہاں سے اِسے تین ماہ کے دوران ایک سو سے زائد افراد ’ڈاؤن لوڈ‘ کر چکے ہیں جن میں سے 66 صارفین نے 5 میں سے 4.9 سٹارز دے کر پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ یہ ’نئی ایپلی کیشن‘ انگریزی زبان میں تخلیق کی گئی ہے جس سے استفادہ کرنے کے لئے صارف کا بنیادی انگریزی سے خواندہ ہونا ضروری ہے اور چونکہ دفتری زبان بالخصوص اقتصادی اصطلاحات ابھی اُردو یا علاقائی زبانوں میں ترجمہ (ٹرانسلیٹ) نہیں ہوئیں‘ اِس لئے تکنیکی اور فنی وجوہات کی بناء پر عام الرائج ’انگریزی‘ زبان ہی اِس موقع پر درست (دانشمندانہ) انتخاب (فیصلہ) ہے لیکن سب کچھ زیادہ ٹھیک اور مثالی بھی نہیں!

خیبرپختونخوا کے لئے ’سی پی ڈی آئی‘ کے صوبائی کورآرڈینیٹر شمس الہادی کے بقول بجٹ کے اعدادوشمار موبائل فون کے ذریعے عوام تک پہنچانے کا تصور کئی سال سے زیرغور تھا لیکن اِس کے لئے درکار مالی وسائل دستیاب ہونے کے بعد سافٹ وئر کی تیاری میں ’چار ماہ‘ لگے۔ کسی سافٹ وئر کی تخلیق سے زیادہ اُس کے بیٹا (beta) ورژنز کی جانچ کے لئے وقت درکار ہوتا ہے اور اگر ’بجٹ ٹریکر‘ کی تیاری میں بھی عجلت سے کام نہ لیا گیا ہوتا 1: مذکورہ ایپلی کیشن اینڈرائرڈ کے تمام سافٹ وئرز کے لئے قابل استعمال ہوتی۔ پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے زمینی حقائق پیش نظر رکھنا ضروری تھے‘ کیونکہ لازمی نہیں کہ ہر موبائل صارف کے پاس غیرملکی امداد سے خریدے یا تحفتاً ملنے والا کوئی ’جدید موبائل فون‘ ہی ہو! پرانے ماڈل کے اینڈرائڈ فونز رکھنے والوں پر مشتمل اکثریت کا بھی خیال کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ بجٹ اعدادوشمار عوام سے زیادہ صحافیوں کے لئے کارآمد ہو سکتے ہیں‘ جن کے لئے ہر وقت اپ ڈیٹ رہنا‘ مختلف دفاتر کے چکر اور سالہا سال کے اعدادوشمار ہر وقت ساتھ رکھنا ممکن نہیں ہوتا لیکن اگر ایسے صحافیوں کے پاس جدید انڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم نہ ہوئے اور اُن کا موبائل فون چند سال پرانے ماڈل کا ہوا تو ’بجٹ ٹریکر‘ سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اِسی طرح عام آدمی کے لئے بجٹ کے اعدادوشمار سمجھنا مشکل ہوتا ہے جنہیں صحافی خاص مہارت سے آسان بناتے ہیں تو اگر ’بجٹ ٹریکر‘ میں ’نیوز رپورٹس‘ اور ’بلاگز‘ کو بھی شامل کر لیا جائے تو اِنہیں اعدادوشمار سے لنک کر دیا جائے تو صارفین کو تکنیکی اصطلاحات یا بجٹ میں مختص مالی وسائل کے دیگر متعلقہ پہلوؤں سے بھی آگاہی ہو گی اگر وہ مزید جاننے کا خواہشمند ہو۔ 2: بجٹ ٹریکر ایپلی کیشن اینڈرائڈ سسٹم کے لئے بنائی گئی ہے جبکہ اِسے بیک وقت آئی فونز‘ آئی پیڈز اُور ونڈوز آپریٹنگ سسٹمز رکھنے والوں کے لئے تخلیق کیا جاسکتا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر اِس حکمت عملی کو کسی دوسرے مرحلے (شاید مزید فنڈنگ) تک کے لئے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ 

سمجھا جا سکتا ہے کہ ’این جی اُوز‘ کے ہاتھ پاؤں بندھے بھی ہوتے ہیں انہیں ڈونر ایجنسیوں کو متاثر کرنے کے لئے بھی بہت کچھ نمائشی طور سے کرنا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں بہت سے ’این جی اوز‘ صرف اِس لئے فعال دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اُن کے پاس ’رپورٹ رائٹنگ‘ کرنے کی مہارت ہوتی ہے! این جی اُوز معروف (مہنگے) ہوٹلوں میں تقاریب کا انعقاد کر کے اپنی کارکردگی اصلاً کی بجائے واجبی اور رپورٹوں کی صورت دکھانا کی حد تک محدود رہتے ہیں تو اِس میں بھی مجبوری (ضرورت) کا عنصر شامل ہوتا ہے لیکن ’سی پی ڈی آئی‘ کاغذی شیر نہیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ نمائشی محرکات (ضروریات) کے باعث ’بجٹ ٹریکر‘ بنانے والوں نے ’عجلت‘ کا غیرضروری مظاہرہ کیا وگرنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ مختلف ’پلیٹ فارمز‘ پر موافقت (compatibility) کی جانچ کئے بناء ’ایپلی کیشن‘ پنجاب (لاہور) کے بعد خیبرپختونخوا (پشاور) میں لانچ کی جاتی۔ 

یہ اَمر بھی افسوسناک ہے کہ لاہور میں متعارف (لانچنگ) کرنے کے 2 ہفتوں بعد پشاور میں ’فخریہ پیشکش‘ تک کے عرصے میں کہیں سے بھی فیڈبیک میں ’موافقت‘ کی بات سامنے نہیں آئی۔ دیکھنا ہوگا کہ جن عام صارفین نے ’بجٹ ٹریکر‘ کو انتہائی پسندیدگی سے نوازہ ہے وہ کہیں سافٹ وئر ڈویلپئرز یا ’سی پی ڈی آئی‘ کے ملازمین ہی تو نہیں! جس طرح ہم حکومت اور سرکاری ملازمین سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرض شناس ثابت ہوں بالکل اِسی طرح غیرسرکاری تنظیموں سے بھی ذمہ دارانہ طرزعمل کی توقع کرتے ہوئے اُمید ہے کہ بیرونی امداد سے ملنے والی ہر ایک پائی کو عام آدمی (ہم عوام) کی امانت سمجھتے ہوئے خرچ کیا جائے گا۔ صحافیوں کی جانب سے بازگیری (فیڈبیک) نہ ملنے کی بنیادی وجہ بھی غورطلب ہے کہ پاکستان میں ’ٹیکنالوجی سے متعلق صحافت (جنرلزم)‘ پروان نہیں چڑھی۔ اُردو اخبارات پر سیاسی موضوعات حاوی رہتے ہیں اور ٹیکنالوجی جیسی بوریت کے لئے اشاعتوں بھی ایجادات متعارف کرانے تک محدود رہتی ہیں۔ 

خوش آئند ہے کہ ’سی پی ڈی آئی‘ کی جانب سے ملک کے دیگر حصوں کی طرح خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع صحافیوں کے لئے حفاظتی تدابیر سے آگاہی‘ غیرمعمولی حالات میں صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی‘ صحافتی اصولوں اور اقدار سے متعلق وقتاً فوقتاً تعارفی و تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے لیکن اگر آئندہ تربیتی ورکشاپوں کا نصاب (لائحہ عمل) مرتب کرتے وقت ٹیکنالوجی اور مرکوزیت (convergence)‘ کے مضامین کو بھی نصاب میں شامل کر لیا جائے تو اِس سے الیکٹرانک میڈیا اور صحافت کے بدلتے اسلوب و مستقبل پر دور رس (مثبت) اثرات مرتب ہوں گے۔

Wednesday, May 10, 2017

May2017: Primary education in KP as prime-priority & last opportunity too!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
آخری سال!
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت اپنی آئینی مدت کے آخری مالی سال (دوہزارسترہ اور اٹھارہ) کے لئے آمدن و اخراجات کا میزانیہ (بجٹ) تیار کر رہی ہے اور اب تک کی مشاورت سے حاصل ہونے والی ابتدائی سفارشات سے معلوم ہوتا ہے کہ ترجیحات کو مزید ترجیح دیتے ہوئے سب سے آئندہ مالی سال سب سے زیادہ توجہ ’بنیادی و ثانوی (پرائمری اینڈ سیکنڈری) تعلیم‘ پر ہی مرکوز رہے گی جس کے لئے قریب 17فیصد زائد مالی مختص کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ 

آئندہ مالی سال کے لئے سرکاری ’پرائمری اور سیکنڈری تعلیمی اداروں‘ کے حصے میں کم سے کم ’138 ارب روپے‘ آئیں گے۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ ’خیبرپختونخوا‘ کی سیاسی تاریخ میں کبھی بھی سرکاری پرائمری تعلیمی اداروں کے لئے اِس قدر رقم مختص نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت کے آخری مالی سال (دوہزار بارہ تیرہ) میں تعلیم کے لئے صرف 61 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور اگر ہم ماضی کے قوم پرستوں کا موازنہ جنون اور تبدیلی کی بنیاد پر اصلاحات کی دعویدار موجودہ صوبائی حکومت سے کریں تو یہ اضافہ ’’126 فیصد‘‘ بنتا ہے! لیکن سوال یہ ہے کہ ایک سو چھبیس فیصد سے زائد مالی وسائل مختص کرنے کے باوجود بھی اگر سرکاری پرائمری وسیکنڈری تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور حاصل ہونے والے نتائج وہی کے وہی ہیں تو فائدہ (حاصل) کیا!

پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ زیادہ مالی وسائل مختص کرنا ہی کافی ہے جبکہ صورتحال یہ رہی کہ ماضی کی طرح حال میں بھی مختص بجٹ کا بڑا حصہ (قریب نوے فیصد یا اس سے زیادہ) تنخواہوں اور مراعات کی ادائیگی جبکہ مالی سال کے آخری تین ماہ باوجود کوشش اور تیزرفتار اخراجات کے بھی مختص مالی وسائل سے پوری طرح استفادہ نہیں ہوسکا! تو اِس بات پر کس قدر اظہار مسرت کرنا چاہئے کہ صوبائی حکومت نے گذشتہ مالی سال کے مقابلے ’’سترہ فیصد‘‘ زیادہ مالی وسائل پرائمری وسکینڈری تعلیم کے لئے مختص کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا بڑا حصہ غیرترقیاتی اخراجات (تنخواہوں) کی نذر ہو جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ پرائمری و سیکنڈری ایجوکیشن کے لئے مالی سال 2016-17ء کے دوران 118 ارب مختص کئے گئے تھے جنہیں بڑھا کر 138 ارب روپے کیا جا رہا ہے! ذہن نشین رہے کہ صوبائی حکومت نے چالیس ہزار اساتذہ بھرتی کئے اور نئے مالی سال میں مزید پندرہ ہزار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے۔ صوبائی حکومت اساتذہ کی تربیت پر بھی ریکارڈ اخراجات کر رہی ہے اور اب تک 80کروڑ روپے جس تربیت پر خرچ ہو چکے ہیں‘ اُس کا فائدہ نجانے کون سی عینک پہن کر نظر آئے گا‘ معلوم نہیں! 

ماضی میں سکولوں کے ناموں پر جو کچھ تعمیر ہوا‘ اُس کا حال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو چار لاکھ کرسیاں فراہم کرنا پڑیں اور سکولوں کے نام پر تعمیر ہونے والے ڈھانچوں میں سہولیات کی فراہمی پر 7 ارب روپے خرچ کرنا پڑے۔

سرکاری تعلیمی اِداروں کا معیار جانچنے کی واحد اکائی ’امتحانات‘ ہیں‘ جن کے لئے نصاب چاہے جتنا بھی وسیع اور جامع بنانے کی کوشش کی جائے وہ محدود ہی رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نئے مالی سال کے دوران ’ذیابیطس (شوگر)‘ کے بارے میں اسباق بھی نصاب میں شامل کرے گی کیونکہ ہری پور اور کرک کے اضلاع میں کئے گئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اِن دو اضلاع کی اُنیس فیصد سے زیادہ آبادی شوگر میں مبتلا ہے اور صوبے کے دیگر تیئس اضلاع میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہ ہونے کا یقین رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں غیرمحتاط کھانے پینے کی عادات اور کیمیائی مادوں پر مشتمل اشیائے خوردونوش کے سبب انواع و اقسام کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ سب سے زیادہ خطرہ بچوں کو لاحق ہے جو ذرائع ابلاغ میں پرکشش اشتہارات سے ملنے والی رغبت کی بنیاد پر ایسی اشیاء کھاتے ہیں‘ جن سے اُن کی صحت عمر بڑھنے کے ساتھ خراب ہوتی چلی جاتی ہے۔ کیا سرکاری و نجی سکولوں کے اندر یا اُن کے آس پاس کیمیائی مادوں سے بنی ہوئے ایسی ذائقہ دار اشیاء فروخت ہونی چاہیئں‘ جو انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں؟ نصاب کے ذریعے آگہی اپنی جگہ اہم لیکن تمباکو نوشی کے رجحان میں اُس وقت تک کمی نہیں آئے گی جب تک اِس کی ہر عمر کے لئے سرعام دستیابی ختم نہیں کی جاتی۔ 

خیبرپختونخوا حکومت پرائمری سیکنڈری ہائی اور ہائرسیکنڈری تعلیم کی ضروریات اور تقاضوں کو الگ الگ کر کے دیکھ رہی ہے‘ جبکہ اِن سب کے درمیان ایک کمزور ہوتا تعلق بھی ہے‘ جس کی کھوج اور جس کی مضبوطی کے لئے بھی عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیا ہمارے ہاں معلم بچوں کے لئے ’رول ماڈل (ہر لحاظ سے قابل تقلید ہستی)‘ ہے؟ جاپان کے ایک سکول کا دورہ کرنے والے صحافیوں نے عجیب عمل دیکھا کہ برآمدے سے گزرنے والے بچے چلتے چلتے ایک خاص مقام پر پہنچ کر چھلانگ لگاتے جبکہ فرش ٹھیک تھا اور گیلا بھی نہیں تھا کہ پھسلنے کا خطرہ یا امکان ہوتا۔ جب سکول کے انتظامی نگران سے اِس کا سبب پوچھا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ غور کیجئے وہاں ایک معلم کھڑا ہے جس کے سائے پر پاؤں رکھنا طالب علم توہین سمجھتے ہیں‘‘ یقیناًجاپان کے بچوں کو ایسا کرنے کی اُنہیں تربیت (تلقین) دی جاتی ہوگی کیونکہ بناء تربیت درس و تدریس کے عمل سے جو کچھ بھی حاصل ہو گا وہ ’’آداب فرزندی‘‘ جیسی خصوصیات کا مرکب نہیں ہو سکتا!

Saturday, September 3, 2016

Sept2016: District Peshawar Budget

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمامبلدیاتی نظام: روحانی حیات!
خیبرپختونخوا حکومت نے جس گرمجوشی اور بلندبانگ دعوؤں کے ساتھ ’تین سطحی بلدیاتی نظام‘ متعارف کرایا تھا‘ اُس سے وابستہ منتخب نمائندوں اور عام آدمی (ہم عوام) کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں تو کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں کہ نظام کو ناکام بنانے والے عناصر‘ سوچ اور ہتھکنڈوں کا یکساں شاطرانہ انداز سے مقابلہ کیا جائے۔ اِس سلسلے میں تازہ ترین مثال پشاور کی ضلعی حکومت کی دی جاسکتی ہے جس کے منظور کردہ بجٹ کو ’ضلعی انتظامیہ‘ نے ’غیرقانونی (غیرحقیقی)‘ قرار دینے کے علاؤہ مسترد بھی کر دیا ہے۔ صوبائی محکمۂ خزانہ نے تو ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے بجٹ کی تیاری کے مراحل اور اِس کی تکمیل و منظوری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سلسلے میں فنانس ڈیپارٹمنٹ (محکمہ خزانہ) کی جانب سے سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی (لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ) کو تحریر کردہ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ’’ضلعی ناظم نے بجٹ کی تیاری میں قواعد کی خلاف ورزی کی۔‘‘ مکتوب میں اِس بات کی بھی سفارش کی گئی ہے کہ ’لوکل گورنمنٹ کمیشن‘ سے رجوع کرتے ہوئے ضلعی ناظم کے خلاف کاروائی کی جائے۔ یاد رہے کہ ضلع کونسل پشاور میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین پہلے ہی ’پشاور ہائی کورٹ‘ سے رجوع کر چکے ہیں جن کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں بجٹ کی تیاری اور اس کا پیش کرنا درحقیقت قواعد کی خلاف ورزی ہے تاہم اِس سلسلے میں ابھی ’پشاور ہائی کورٹ‘ کا کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

بلدیاتی نظام میں کسی بھی ضلع کا ڈپٹی کمشنر وہاں کے بلدیاتی نظام کے مالی امور کا نگران (پرنسپل اکاونٹنگ آفیسر) ہوتا ہے۔ ڈسٹرکٹ بجٹ رولز 2016ء کے مطابق بجٹ کی دستاویزات کی تیاری یا پیش کئے جانے سے قبل اُس سے مشاورت یا اتفاق ضروری ہوتا ہے۔ اِسی طرح ’رولز آف بزنس 2015ء‘ کے تحت ڈپٹی کمشنر صوبائی اسمبلی اور دیگر محکموں کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے اُور انہی قواعد کو جواز بنا کر ضلعی حکومت کے تیارکردہ و منظور شدہ بجٹ کو غیرقانونی قرار دیا جا رہا ہے!

قوانین اُور قواعد کی اہمیت اپنی جگہ لیکن کیا ضلع ناظم پشاور اپنے گھر یا کسی ذاتی کاروبار سے ہونے والی آمدنی و اخراجات کا میزانیہ (بجٹ) پیش کرنے جیسے جرم کا مرتکب ہوا ہے؟ اگر بات پشاور اُور اجتماعی بہبود بطور ترجیح سے متعلق ہے تو اِس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ بجٹ کس طرح اور کس نے بنایا ہے بلکہ زور تو اِس بات پر ہونا چاہئے کہ کیا اِس کی تیاری میں پشاور کے مفادات کو پیش نظر رکھا گیا ہے یا نہیں۔ اگر ہم قواعد کی پٹڑی پر ہی چلتے رہے تو ماضی کی طرح تعمیروترقی کے نام پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ 

صوبائی حکومت کو چاہئے کہ بلدیاتی نظام کی سرپرستی کرے اور افسرشاہی کے خدشات ختم کرنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرے کیونکہ اگر پشاور میں ترقی کا عمل بلدیاتی نظام آنے کے بعد بھی شروع نہ ہوسکا تو خسارہ صوبائی حکومت کا ہوگا جس سے وابستہ توقعات پہلے ہی پوری نہیں ہو رہیں اور رہی سہی کسر بلدیاتی نظام کو مفلوج بنا کر پوری کرنے کی سازش کی جا رہی ہے! بلدیاتی نظام کی ظاہری باطنی اور روحانی حیات کے علاؤہ دیکھ بھال بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور جب تک یہ نظام پوری طرح اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہوجاتا اُس وقت تک اِسے ہر قسم کی ’آفات وبلیات‘ سے محفوظ رکھنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, June 5, 2016

Jun2016: Poverty Defination need to be review!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خط غربت؟
عالمی سطح پر غربت کے کا تعین کرنے کے لئے بنایا گیا پیمانہ ’کم سے کم آمدنی‘ کی بنیاد پر یہ وضع کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق کسی بھی شخص کی آمدنی اگر ایک مقررہ حد سے کم ہے تو وہ ’’غریب‘‘ کہلائے گا۔ اکتوبر 2015ء میں ’عالمی بینک‘ نے یومیہ آمدنی کی کم سے کم حد 1.90 ڈالر کی تھی جو سال 2005ء سے قبل ایک ڈالر بعدازاں 1.25 ڈالر یومیہ مقرر کی گئی۔ دنیا بھر کے ماہرین اِقتصادیات کم یا زیادہ اختلاف کے ساتھ ’خط غربت‘کے پیمانے سے اتفاق کرتے ہیں جو کسی فرد واحد کی ’قوت خرید‘ کی عکاسی تو کرتا ہے لیکن کیا یہ پیمانہ پاکستان جیسے ملک میں غربت کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے؟

خط غربت کے موجودہ عالمی پیمانے کو اگر پاکستانی روپے میں تبدیل کیا جائے تو یہ ’’199 روپے 3 پیسے‘‘ بنتے ہیں یعنی ہر وہ پاکستانی ’’غریب‘‘ ہے جو یومیہ کم و بیش 200 روپے کما رہا ہے اور اِس حساب سے 6ہزار روپے سے کم آمدنی والا غریب کہلائے گا جو سراسر غلط اور پاکستانی معاشرے کے حساب سے بے بنیاد تصور ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان کا قومی یا صوبائی بجٹ تشکیل دیتے وقت بھی غریبوں کا شمار اِسی ’خط غربت‘ پر کیا جاتا ہے جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک شخص کو اُس کے خاندان کی کفالت کے لحاظ سے شمار کیا جانا چاہئے۔ اگر ہم پاکستان میں کم سے کم مقررہ تنخواہ کہ جسے تین جون کو پیش کئے گئے بجٹ میں ایک ہزار روپے بڑھا کر چودہ ہزار کر دیا گیا ہے اور درحقیقت یہی ’خط غربت‘ ہے!

حکومت کی جانب سے مقرر کی جانے والی کم سے کم تنخواہ کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن اِس کی ادائیگی کے لئے حکومت (اپنے ہی حکم پر عمل درآمد) سختی سے نہیں کراتی۔ ایسے نجی اِداروں کا شمار اُنگلیوں پر ممکن نہیں‘ جو وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے کم سے کم تنخواہ کے مطابق ماہانہ ادائیگیاں نہیں کرتے۔ بھلا حکومت ایسے دلاسے دیتی ہی کیوں ہے جبکہ مزدوروں بالخصوص دیہاڑی (یومیہ محنت مزدوری) کرنے والوں کو کم سے کم چودہ یا پندرہ ہزار روپے ماہانہ اُجرت نہیں دلا سکتی!؟
خط غربت میں کمی اُس وقت تک عملاً ممکن نہیں ہوگی جب تک اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوتے اُور اُس وقت تک طرزحکمرانی پر اُٹھنے والے غیرترقیاتی اخراجات میں کمی نہیں کی جاتی جب تک کہ آمدن میں اضافہ نہ ہو۔ اقتصادی سروے رپورٹ 2015-16ء کے مطابق کپاس کی فصل خراب ہونے سے رواں مالی سال کیلئے معاشی ترقی کا پانچ اعشاریہ پانچ فیصد کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا۔ یہ مسلسل تیسرا موقع ہے کہ حکومت اپنے بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اقتصادی سروے اور بجٹ کی روشنی میں سامنے آنے والی صورتحال کسی طرح خوش کن اور اطمینان بخش قرار نہیں دی جاسکتی۔ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی ترقی اور صنعت کا پہیہ بنیادی طور پر زرعی سیکٹر سے جڑا ہوا ہے جو بدقسمتی سے شروع دن سے حکومت کی عدم توجہ اور عدم دلچسپی کا شکار ہے۔

کیا ہم نہیں جانتے کہ زراعت سے وابستہ روزگار کا تناسب 80فیصد سے زیادہ ہے لیکن اِس شعبے پر ’حکومتی نظرکرم‘ خاطرخواہ نہیں۔ بجٹ تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ نے کھاد کی بوری کی قیمت کم کرنے کا اعلان کیا تو اُن کی اطلاع کے لئے عرض میں پاکستان میں کھاد کی جو بوری رعایت کے بعد 1400 روپے میں بطور خاص عنایت دی جارہی وہی بھارت میں 700 روپے فی بوری ہے اور اگر کرنسی کا فرق نکال دیا جائے تو بھارت میں کھاد کی ایک بوری 900 روپے جبکہ پاکستان میں اگر 1400 روپے ہوگی تو اِس میں کمال ہی کیا ہے؟ رواں مالی سال میں زرعی سیکٹر میں ترقی کی منفی 0.19فیصد شرح ہے جو گزشتہ پچیس برسوں میں پہلی بار سامنے آئی ہے۔ کپاس‘ چاول] مکئی اور گندم ہماری اہم نقد آور اجناس ہیں ان کی پیداوار میں کمی سے ملکی برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور اب تو یہ بات خود حکومت بھی تسلیم کر رہی ہے۔ کیا ہم یہ بات بھی فراموش کر دیں کہ ’خط غربت‘ سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی اکثریت اُن محنت کشوں کی ہے جو کسی نہ کسی ذریعے زراعت سے وابستہ ہیں۔

 زرعی سیکٹر پوری طرح فعال ہونا چاہئے۔ کھاد‘ ٹریکٹر‘ پانی‘ تصدیق شدہ اچھے بیج اور دوسری مطلوبہ سہولیات ارزاں نرخوں پر مہیا کرنے کے ساتھ زرعی ماہرین کی رہنمائی فراہم ہونی چاہئے۔ معاشی اہداف کاحصول ممکن بنانے کے لئے بڑے زمینداروں کی آمدن اور چھوٹے کاشتکاروں کو سبسڈی دینا ہوگی۔ زرعی سیکٹر کے علاؤہ جنگلات‘ فشریز‘ لائیو سٹاک بجلی گیس اور تعمیرات کے شعبوں کا احوال بھی ناقابل بیان ہے۔ ہر شعبے میں ترقی اور نمو کی شرح مختلف ہے‘ کہیں کم کہیں زیادہ تاہم اس سے حکومت کی مجموعی کارکردگی پر کوئی اچھا اور مثبت تاثر نہیں اُبھرتا۔ اقتصادی فیصلہ سازوں کو ’خط غربت‘ کے عالمی معیار کا پاکستان پر اطلاق کرتے ہوئے زمینی حقائق اور اُن منفی محرکات پر غور کرنا چاہئے کہ بڑے زمیندار‘ صنعتکار اور تاجروں کی نمائندگی ہر منتخب ایوان میں موجود ہے لیکن عام آدمی (ہم عوام) جو کہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 90فیصد سے زیادہ ہیں‘ اُن کی بات کہنے اور اُن کے مفادات کا تحفظ کرنے والا کوئی نہیں! کیا یہ بات دل کو لگتی ہے کہ ملک کا صدر‘ وزیراعظم اور تمام ججوں کی ماہانہ تنخواہیں ٹیکس سے مستثنیٰ لیکن خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے اگر ایک عدد ماچس بھی خریدیں یا ایک یونٹ بجلی بھی خرچ کریں تو اُنہیں ٹیکس ادا کرنا پڑے۔ محصولات کی وصولی کے طریقۂ کار (نظام) کو بدلنا ہوگا‘ جس میں زیادہ آمدنی والوں سے کم لیکن کم آمدنی والوں سے نسبتاً زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے!
Poverty line need to be redefine

TRANSLATION: Budget

Budget
بجٹ
یہ ایک معقول بجٹ ہے کیونکہ ہم پوری کی پوری حکومتی مشینری کا جائزہ لیں تو کسی بھی ادارے کی یہ استعداد نہیں رہی کہ وہ اپنی اصلاح کرسکے۔
کسی بھی ملک کا بجٹ دو چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اُس کی آمدنی اور اُس کے اخراجات کا میزانیہ۔ ہماری ضرورت نہ صرف آمدن کی بلکہ اخراجات کی بھی اصلاح کرنا ہے اور اگر ہم اصلاحات نہیں لاتے تو مسائل و مشکلات اور بحران کم نہیں ہوں گے۔ محاورہ ہے کہ اگر آپ کہیں بھی جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تو سفری وسائل کا ہونا کافی نہیں ہوتا۔ اِس محاورے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کا قومی بجٹ حساب کتاب کرنے کی ایک روایت اور اچھی مشق ہے جو ہرسال کی طرح ایک مرتبہ پھر دہرائی گئی ہے۔

بجٹ تیار کرنے کا سہرا ’وزارت خزانہ‘ کو جاتا ہے جنہوں نے آٹھ برس میں بلند ترین قومی پیداوار حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ افراط زر کو دس برس کی کم ترین شرح پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر بھی ماضی کے مقابلے زیادہ بلکہ ریکارڈ زیادہ ہیں۔ ٹیکس کی وصولی میں بھی بے پناہ کامیابیاں حاصل کی گئیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان گذشتہ چالیس سال میں سب سے کم ترین شرح سود کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کاہدف مسلسل تیسری مرتبہ بھی حاصل نہیں کیا جاسکا۔گذشتہ پچیس برس میں زرعی پیداوار کم ترین سطح پر ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات اور پاکستان میں سرمایہ کاری جیسے اہم شعبوں میں خطرناک حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

قومی بجٹ صرف حساب کتاب کی مشق ہی نہیں ہونا چاہئے۔ وزارت خزانہ سمیت دیگر حکومتی اداروں کو بھی نہ صرف پاکستان کی موجودہ بلکہ مستقبل کی ضروریات کا بھی ادراک ہونا چاہئے اور پھر اِنہی ضروریات کے مطابق ایک ایسا بجٹ تشکیل دینا چاہئے جس سے قومی ترقی و بہود کے اہداف حاصل کرنا ممکن ہو سکے۔ ہمارے اہم ترین ضرورت ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنا تھا یعنی ہر سال پندرہ لاکھ نئی ملازمتیں۔ پاکستان کی آنے والی نسلوں کی بہتری کے لئے ضروری ہے کہ ہم کم سے کم قرضوں کا بوجھ چھوڑیں لیکن بجٹ 2016-17 اِن تمام ضروریات کا احاطہ نہیں کرتا۔

اگر حکومتی ادارے اپنی اصلاح نہیں کر رہے تو اس کے لئے یکساں ذمہ دار حزب اختلاف کے اراکین بھی ہیں جو بالکل بھی اپنا کردار چاہے وہ جو بھی ہے ادا نہیں کر رہے۔ یہ بات ریکارڈ پر رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو بجٹ میں ٹھوس اصلاحات کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ گذشتہ برس تحریک انصاف نے بھی اسی قسم کی ایک کوشش کی تھی لیکن اِس سال اُن کی طرف سے ایسا کچھ بھی سننے میں نہیں آ رہا۔
توانائی کے محاذ پر‘ یہ بات قابل حیرت ہے کہ سال 2014-15ء میں 23 ہزار 212 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت تھی جو سال 2015-16ء میں کم ہو کر 23ہزار 101 میگاواٹ ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے سال 2013ء میں 480 ارب روپے کا گردشی قرض ادا کیا تھا اور پھر سال 2014ء میں 260 ارب‘ سال 2015ء میں 248 ارب روپے توانائی کے پیداواری شعبے کے لئے مختص کئے تھے۔ اگر ہم تین برس کا حساب لگائیں تو 988 ارب روپے بنتے ہیں لیکن اِس قدر خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود بھی توانائی کے پیداواری شعبے کی صلاحیت کم ہوئی ہے۔

جب ہم زرعی شعبے کی کارکردگی دیکھتے ہیں تو گذشتہ 25برس میں یہ کم ترین اور بدترین کارکردگی ہے۔ بجٹ میں کھاد کی سستے داموں فراہمی کی بات کہی گئی ہے جس پر حکومت کو 10ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑے گی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ 6 کھرب روپے ہے جسے دی جانے والی سبسڈی 10 ارب روپے کس طرح کافی قرار دی جاسکتی ہے اور اِس قدر بڑے شعبے کو پھر سے منافع بخش بنانے کے لئے کیا 10 ارب روپے کی سبسڈی کافی قرار دی جاسکتی ہے؟ زرعی شعبے کو ایک اُور مد میں بھی رعائت دینے کا بجٹ میں ذکر ملتا ہے۔ زرعی ٹیوب ویلوں کو دی جانے والی بجلی پر رعائت دی جائے گی لیکن جب ہم کھاد اور زرعی ٹیوب ویلوں پر دی جانے والی سبسڈی کو اکٹھا کرتے ہیں تو یہ قومی پیداوار کے تناسب سے قریب 0.6 فیصد بنتی ہے!

برآمدات کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ پیداواری لاگت کم کی جائے لیکن بجٹ میں اِس بارے ہمیں زیادہ کچھ نہیں ملتا۔

غربت کے خاتمے کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جس کا حجم بڑھا کر 115 ارب روپے کردیا گیا ہے اور یہ ایک درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 56لاکھ خاندانوں کو مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام انتظامی لحاظ سے بہترین ہے جسے سائنسی بنیادوں پر منظم رکھا گیا ہے اور یہ غربت سے نمٹنے کا مؤثر ہتھیار ہے۔

بجٹ میں ترقیاتی حکمت عملی (پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام) کے حجم میں 21فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور یہ بھی ایک درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے لیکن ترقی کے نام پر مختص مالی وسائل بدعنوانی کی نذر نہ ہو جائیں اس کے لئے سخت انتظامی اقدامات کرنا ہوں گے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ کے گھر سے 73 کروڑ روپے برآمد ہوئے!

آخری بات یہ ہے کہ مالی سال 2016-17ء اراکین اسمبلیوں کے لئے بہت اچھا ثابت ہوا کیونکہ اُن کی تنخواہیں و مراعات 80ہزار روپے سے بڑھا کر 4لاکھ 70 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہیں جو کہ 500 فیصد یکمشت اضافہ ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی نتخواہوں میں 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ 40 گھنٹوں میں بجٹ منظور کر لیں گے اور آنے والے دنوں میں ہر رکن قومی اسمبلی کو سالانہ 6 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈز ملیں گے جو وہ اپنی من پسند ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر سکیں گے۔ مبارک ہو۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ و تلخیص: شبیر حسین اِمام)

Tuesday, July 21, 2015

Jul2015: Agriculture need attention

ژرف نگاہ ۔۔۔شبیر حسین اِمام
دوا کرے کوئی!
زراعت پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے اور ایسا ہونا ضروری بھی ہے کیونکہ ملک کی مجموعی خام قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ بیس فیصد سے زیادہ ہی رہا ہے۔ لوگوں کی بھوک مٹانے والی‘ پاکستان کو خوراک میں خود کفیل بنانے والی‘ بنیادی سہولیات سے محروم لوگوں کو بھی نان شبنہ کھلانے والی زراعت کو ترقی دلوانا کبھی بھی ہماری پہلی ترجیح نہیں بن پائی! زرعی اداروں میں بجٹ کی تقسیم ہو یا زراعت کے شعبے میں تحقیق‘ کہیں بھی خاطرخواہ مالی وسائل دستیاب نہیں ہوتے۔ جب کبھی بھی پاکستان میں کسی قسم کی کوئی اضافی ڈیوٹی دینا مقصود ہو تو اساتذہ کے ساتھ ساتھ جس محکمے کو بیگار کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے وہ محکمہ زراعت ہی ہے!
کوئی تو بتائے کہ اس محکمۂ زراعت کا اصل کام ہے کیا؟ ایک زراعت آفیسر کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ پاکستان کا محکمہ زراعت آخر کس مرض کی دوا ہے؟ کیا یہ خود ہی کام نہیں کرنا چاہتے یا ان کو کام کرنے ہی نہیں دیا جاتا؟ جو بجٹ ان کو ملتا ہے اس کا 90فیصد تو ملازمین کی تنخواہوں میں نکل جاتا ہے۔ باقی 10فیصد سے کیا ترقی یا تحقیق ممکن ہو سکتی ہے؟ ہمارے زرعی ادارے کتنے بھی بدحال ہوں لیکن پاکستان کا کسی حد تک اپنی خوراک کی ضروریات میں خود کفیل ہونا انہی زرعی اداروں کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ ہاں اس بات سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں پیداوار کا تناسب بہت بڑھایا جا سکتا ہے‘ اور اِن اداروں میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے لیکن پھر بھی اگر صرف ایک زرعی ادارے ’نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر‘ کی کارکردگی کا تھوڑا سا جائزہ لیا جائے تو بخوبی ایسے کسی بھی ادارے کی اہمیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک تحقیقی مقالے کے مطابق ’قومی زرعی ترقیاتی ادارہ‘ دنیا بھر کے زرعی تحقیقی اداروں سے رابطے کا ایک ذریعہ ہے اور زراعت کی تحقیق کے بین الاقوامی اداروں کے لئے کیمپ آفس کا کام سر انجام دیتا ہے۔

زراعت کے شعبے میں ہونے والی عالمی تحقیق ایسے ہی اداروں کی وجہ سے پاکستان میں داخل ہوئی۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بین الاقوامی زرعی تحقیق کا پاکستانی دروازہ یہی پاکستانی ادارہ ہے۔ اس ادارے نے گندم کو سٹے کی بیماریوں سے بچانے کے لئے جو محفوظ اقسام تیار کیں‘ اس سے ہونے والی بچت کا تخمینہ اٹھاون ارب روپے سالانہ ہے۔ تیس سے زائد اقسام کے زرعی آلات اسی ادارے نے تیار کیے اور پاکستان کے کسانوں تک پہنچائے۔ پاکستان سے باہر پاکستان کی زرعی مصنوعات کی تصدیق اور تشہیر کے لیے انمول خدمات سر انجام دیں۔ بین الاقوامی معیار کا ایک جین بینک قائم کیا جس میں پینتیس ہزار اقسام کے پودوں کے جینیاتی مادے کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ پاکستان کو برڈ فلو نامی بیماری سے نجات کا راستہ بھی اسی ادارے سے ہو کر نکلا۔ سورج مکھی‘ گندم اور چارے کے نئے بیچ ہوں یا صحت بخش کنولا بیج کی پیدوار‘ اس ادارے نے زراعت کی سبھی سمتوں میں پاکستان کی معاونت کی ہے۔

سرکاری جنگلات کٹنے کی کہانیاں آپ نے سن رکھی ہوں گی‘ سرکاری زمینوں پر قبضے کی داستانیں بھی آئے دن کی کہانیاں ہیں۔ اب تازہ معرکہ اسلام آباد میں نیشنل ایگری کلچر ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) اسلام آباد کی زمین پر لڑا جائے گا۔ سی ڈے اے کی طرف سے وزیرِ اعظم کو جو سمری بھیجی ہے‘ جس میں کہا گیا ہے کہ این اے آر سی کے زیر استعمال بارہ سو ایکڑ زمین پر رہائشی کالونیاں بنا کر ایک سو پچاس ارب روپے کمائے جاسکتے ہیں! جو ادارہ کبھی اسلام آباد کے مضافات میں تھا‘ شہر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ شہر کا دل بن گیا ہے۔ ایسی زمین پر کسی کا دل للچا جانا سمجھ آتا ہے لیکن سیاسی ارباب اختیار کو یہ سوچنا ہو گا کہ ان کومرغی ذبح کرنی ہے یا انڈوں کا انتظار کرنا ہے؟ پاکستان کی بین الاقوامی پہچان کا حامل یہ ادارہ جو دنیا بھر کے بڑے بڑے اداروں کے سب سینٹرز کا درجہ بھی رکھتا ہے‘ کیا اپنے بدن سے محروم کر دیا جائے گا؟ وہ جین بینک جس کو بنانے کے لئے ایک صدی کی محنت درکار ہوا کرتی ہے‘ نادر نباتاتی اقسام کا قبرستان بن کر رہ جائے گا؟ زرخیز زرعی زمینوں کی لاشوں پر انسانی بستیاں بسانے والوں کو ایک لمحے کے لئے سوچنا ہو گا کہ اپنے خوابوں کی بستیاں تو وہ تعمیر کر لیں گے مگر ان میں بسنے والے انسانوں کے پیٹ کیونکر بھر پائیں گے؟ لیکن سی ڈی اے اور ایک زرعی ادارے کے درمیان جنگ کا نتیجہ معلوم کرنے کے لیے کسی علم قیافہ شناسی کی بھی ضرورت نہیں۔ مجھے معلوم ہے یہ بے جان سا ادارہ اپنی بقا کی جنگ لڑنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

 پاکستان میں تحقیق کی اہمیت سمجھنے والے کوئی آواز ہی نہیں رکھتے۔ کسی کو معلوم تک نہ ہو گا کہ زرعی تحقیق کے نام لکھی یہ زمین کیسے ان سے چھن گئی۔ ایک بے بس ادارے کے بے بس سرکاری افسر یہ لڑائی کیونکر لڑ پائیں گے؟ ایک مشہور مقولہ ہے کہ ہم جب دنیا سے آخری درخت تک کاٹ ڈالیں گے‘ تب خوراک کے یہ ذرائع اجاڑ دینے کے بعد ہمیں اندازہ ہوگا کہ دولت نہیں کھائی جا سکتی۔ کیا ہم خوراک کے ذرائع پر دولت کو ترجیح دے کر اس مقولے کو خود پر سچ ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

Monday, June 29, 2015

Jun2015: Eough, not enough

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کافی‘ ناکافی!
خود ستائش پر مبنی اطمینان اور حقیقت پسندی دو الگ چیزیں ہیں؟ تعلیم کے شعبے میں پائیدار ترقی اور خواندگی کے ہمارے اپنے ہی مقرر کردہ اہداف کس حد تک قابل بھروسہ ہیں‘ کیونکہ سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم یا پرائمری کی سطح پر فارغ التحصیل ہونے والوں کو خواندہ شمار تو کر لیا جاتا ہے لیکن ایسے بہت سے بچے ہمارے درمیان موجود ہیں‘ جنہیں چند فقرے پڑھنے یا اپنا نام لکھنے میں دشواری پیش آتی ہے! بہت کچھ کرنے کی لگن میں ’آگے دوڑ اور پیچھے چھوڑ‘ والی صورتحال درپیش ہے لیکن اِس میں صرف صوبائی حکومت کو ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جہاں سرکاری اداروں کے اَساتذہ کی اکثریت درس و تدریس سے جڑی اپنی حساس ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی سے زیادہ ’ملازمت‘ مراعات اُور اپنی سہولت‘ کی فکر میں رہتی ہو‘ وہاں حاصل ہونے والے ’تعلیمی و غیرتعلیمی نتائج‘ بھلا کیسے مختلف (برآمد) ہو سکتے ہیں!

مالی سال 2015-16ء کا کل (یکم جولائی) سے آغاز ہونے والا ہے اور نئے مالی سال میں خیبرپختونخوا نے دیگر صوبوں پر سبقت لیجاتے ہوئے پرائمری سکولوں میں طالب علموں کو اشیائے خوردونوش فراہم کرنے کے لئے 10 کروڑ (ایک سو ملین) روپے مختص کئے ہیں۔ یہ ضرورت اِس لئے پیش آئی ہے کیونکہ اگرچہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ’غربت‘ زیادہ ’سنگین‘ نہیں لیکن برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ جو والدین اپنے بچوں کو سرکاری پرائمری سکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں‘ اُن کی اکثریت کے پاس صبح کے ناشتے کے لئے مالی وسائل نہیں ہوتے! اور کئی ایک اضلاع سے متعلقہ حکام کو بتایا گیا کہ پرائمری سکول کے بچے بھوک و پیاس کی شدت کے باعث بے ہوش ہو جاتے ہیں! لیکن کیا خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے 10کروڑ روپے مختص کرنا کافی ہوگا جبکہ پرائمری سکولوں میں کم و بیش 30لاکھ بچے زیرتعلیم ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ حکومت اپنے تیسرے مالی سال کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ پہلے اُور دوسرے مالی سال میں تعلیم و صحت کے شعبے میں اربوں روپے مختص کئے گئے (ماشاء اللہ) لیکن سال کے اختتام تک خرچ نہیں کئے جاسکے (انا للہ وانا علیہ راجعون)۔ ایسے بہت سے شعبے ہیں جن کے لئے فراخدالانہ انداز میں مالی وسائل مختص کئے جاتے ہیں لیکن جب بات پرائمری کی سطح پر بچوں کو خوراک فراہم کرنے کی تھی تو اِس قدر واجبی رقم مختص کی گئی ہے جو مضحکہ خیز حد تک کم بھی ہے اور ناکافی بھی! بہرکیف رابطہ کرنے پر بنیادی و ثانوی تعلیم کے محکمے کی جانب سے وضاحت پیش کی گئی ہے کہ ’’پرائمری کی سطح پر بچوں کو ’ہائی انرجی بسکٹ‘ اُور جوس فراہم کئے جائیں گے جس پر فی بچہ چالیس روپے لاگت آئے گی۔‘‘ حکام کو توقع نہیں بلکہ یقین ہے کہ ’’رواں برس موسم گرما کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد جب سکول کھلیں گے تو مفت کتابوں اور دیگر سہولیات کے ساتھ بچوں کو مفت خوراک کی کشش سکول کی طرف راغب کرے گی اور وہ بچے جو کسی وجہ سے پرائمری سکول نہیں جارہے وہ بھی بڑی تعداد میں سکولوں کا رُخ کریں گے۔‘‘ اگر ہم اِس منطق کو درست تسلیم کرلیں تو سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بچوں کی موجودہ تعداد کے پیش نظر مختص کی جانے والی رقم کافی نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ بچوں کو مصنوعی ذائقوں اور رنگ والا جوس فراہم کیا جائے گا‘ جو کسی بھی صورت کم عمروں کی صحت کے لئے مفید نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو پرائمری کی سطح پر اگر خوراک دی جاتی ہے تو وہ مصنوعی اجزأ سے پاک ہوتی ہے اور بچوں کی جسمانی نشوونما و دیگر ضروریات بطور خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ’ہائی انرجی بسکٹ‘ کی بجائے اگر سرخ لوبیا‘ آلو‘ کیلا اُور ملاوٹ سے پاک میٹھے دودھ کا ایک گلاس یا پینے کا ’وہی‘ صاف پانی فراہم کیا جائے جو اکثر حکومتی اجلاسوں کے دوران سیاست دانوں کے سامنے ڈھکن لگی ہوئی بوتلوں میں پڑا ہوتا ہے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ منرل واٹر کی بوتلیں محکمہ تعلیم سے متعلق فیصلہ سازوں کے لئے تو ہیں لیکن بچوں کے لئے نہیں‘ آخر کیوں؟

محکمہ بنیادی و ثانوی تعلیم کی ویب سائٹ پر موجودہ سال 2013-14ء کے اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں تیس لاکھ سے زیادہ بچے پرائمری سکولوں میں زیرتعلیم ہیں لیکن یہ اعدادوشمار حکومت کی جانب سے اُس بڑے پیمانے پر شروع کی گئی ’داخلہ مہم‘ سے پہلے کے ہیں‘ جس کی کامیابی کے بلند بانگ دعوؤں کو اگر درست مان لیا جائے تو کم اَز کم مزید پانچ سے دس لاکھ بچے صوبے کے طول و عرض کے پرائمری سکولوں میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ختم ہو رہے مالی سال کے دوران ’گھر آیا اُستاد‘ نامی حکمت عملی کے تحت 8 لاکھ بچوں کو سکول لانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا اُور اگرچہ ہمیں سرکاری پرائمری سکولوں میں زیرتعلیم بچوں کی موجودہ مستند تعداد کا علم نہیں لیکن یقیناًیہ تعداد پینتیس لاکھ سے زیادہ ہوگی۔ ہمارے ہاں تعلیمی سال (تین سو پینسٹھ کا نہیں) بلکہ زیادہ سے زیادہ 200 دن کا ہوتا ہے۔ پرائمری سکول کے بچوں کی تعداد اُور مختص رقم کا تناسب دیکھا جائے تو صرف 12 ہزار پانچ سو بچوں کو 200دن تک ’بسکٹ اُور جوس‘ دیا جاسکے گا۔ اگر حکومت تیس لاکھ کی بجائے انتہائی پسماندہ اضلاع میں صرف پچاس ہزار پرائمری سکول میں زیرتعلیم بچوں کے لئے ایک وقت کی خوراک کا بندوبست کرے تو چھبیس دنوں کے مہینے کے لئے 5 کروڑ 20 لاکھ روپے درکار ہوں گے جبکہ ایک لاکھ بچوں کے لئے 10کروڑ چالیس لاکھ روپوں کی ضرورت ہوگی جو مختص رقم سے زیادہ ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا بچوں کو صرف اُسی وقت خوراک دی جائے جبکہ وہ سکول جائیں لیکن جب سکول کی چھٹی ہو یا طویل تعطیلات ہوں تو اُس دوران بچوں کی خوردنی ضروریات کا خیال کون رکھے گا جبکہ والدین پہلے ہی کفالت کرنے سے عملاً معذوری کا اظہار کر چکے ہیں! اِس بات کی ضمانت (گارنٹی) کون دے گا کہ دور دراز اضلاع کے دیہی علاقوں میں جو خوراک پرائمری سکول کے بچوں کے لئے ارسال کی جائے گی‘ وہ مستحق بچوں تک پہنچ پائے گی؟ ہمارا ماضی ایسا بدنما مثالوں سے بھرا پڑا ہے جب زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے لئے اِمدادی سازوسامان میں خوب خردبرد کی گئی۔

صوبائی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ حکمت عملی وضع کرنے سے زیادہ اُس کی تکمیل اور شفافیت بھی یکساں ضروری و لازمی حاجتیں ہیں۔

یاد رہے کہ مالی سال 2015-16ء کے لئے خیبرپختونخوا حکومت نے بنیادی (پرائمری) و ثانوی (سیکنڈری) تعلیم کے شعبے میں 71 منصوبوں کے لئے 10.2 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ اِس رقم میں سے 2.24 ارب روپے 22 نئے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے اُور حکومت مصمم ارادہ رکھتی ہے کہ نئے مالی سال کے دوران 150نئے پرائمری سکول‘ 100نئے سیکنڈری سکول‘ 50مڈل سکولوں کی اپ گریڈیشن اور طالبات کے لئے 50 ہائی سکول تعمیر کرے گی۔ علاؤہ ازیں کمپیوٹر لیبارٹریز اور نئی کیمونٹی سکولز بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ ایک ایسی صورتحال جس میں پرائمری سکولوں کے لئے مختص مالی وسائل کافی بھی ہیں اور بیک وقت ناکافی بھی تو کیا اَرباب اِختیار ’شعبۂ تعلیم‘ سے ’حقیقی و معنوی انصاف‘ کر رہے ہیں؟
Allocation for food in the primary schools is good initiative but not sufficient

Tuesday, June 16, 2015

The KP Budget

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
’بہت خاص‘ بجٹ؟
بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں۔ توقعات بہت‘ وقت کم اُور مقابلہ سخت نہ ہوتا تو انتخابی وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے ’تحریک انصاف‘ کا تیسرا بجٹ زیادہ مختلف ثابت ہوتا۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ تنخواہوں اور دیگر مراعات و سہولیات کی مد میں فیصلہ سازوں پر ہی خرچ ہونے ہیں تو آخر ’ترقی‘ کا لفظ استعمال ہی کیوں کیا جاتاہے؟ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کے لئے تاریخ کے سب سے بڑے ’عام انتخابات‘ کا انعقاد ہوتا ہے اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کی تسلی تشفی کے لئے پندرہ جون کو پیش کردہ صوبائی بجٹ کا بڑا حصہ مقامی حکومتوں کے نام کردیا جاتا ہے‘ تو کیا ایسا کرنا ہیکافی سمجھا جائے؟

’چارکھرب ستاسی ارب پچاسی کروڑ چالیس لاکھ روپے‘ کے بجٹ میں کم و بیش 175 ارب روپے ’سالانہ ترقیاتی پروگراموں‘ کے لئے مختص کئے گئے جن میں سے 42 ارب روپے مقامی حکومتوں کو دیئے جائیں گے۔ اس کے علاؤہ 102 ارب روپے سے زائد کی رقم مقامی حکومتوں کے دیگر اخراجات کے لئے مختص کرنے سے بلدیاتی نظام کو ملنے والے مالی وسائل کا حجم 144 ارب روپے سے زیادہ ہو جاتا ہے! جس کا 10فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرنے کو مشروط کرنا تبدیلی کے تناظر میں مرتب ہونے والی حکمت عملی کو بہت خاص بنا دیتی ہے۔ خواب ہے کہ آئندہ ایک سال کے دوران اضلاع کی سطح پر ہر مقامی حکومت 6 ارب روپے خرچ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ شہری و دیہی علاقوں میں اِس ’ترقیاتی انقلاب‘ کے ثمرات ظاہر نہ ہوں۔ تیس مئی کو خیبرپختونخوا کے 24 اضلاع (ایبٹ آباد‘ بنوں‘ بٹ گرام‘ بونیر‘ چارسدہ‘ چترال‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ہنگو‘ ہری پور‘ کرک‘ کوہاٹ‘ لکی مروت‘ لوئر دیر‘ مالاکنڈ‘ مانسہرہ‘ مردان‘ نوشہرہ‘ پشاور‘ شانگلہ‘ صوابی‘ سوات‘ ٹانک‘ تورغر اُور اپر دیر)کی 978 یونین کونسلوں میں بلدیاتی عام انتخابات کا انعقاد ہوا‘ جہاں کے بلدیاتی اداروں کو مضبوط و فعال بنانے کے ساتھ چند اضلاع کے لئے صوبائی حکومت نے الگ سے ترقیاتی پیکجز کا اعلان بھی کیا جیسا کہ ضلع پشاور جس کی 92 یونین کونسلوں کے لئے خصوصی پیکج کسی بھی طرح معمولی نہیں۔ تعلیم و صحت جیسے کلیدی شعبے کے ساتھ ثقافت‘ سیاحت اور آثارقدیمہ پر توجہ خوش آئندہے۔

 گذشتہ مالی سال کے مقابلے ’42 فیصد‘ زیادہ ترقیاتی بجٹ مختص کرنے سے ثابت ہوا ہے کہ ’تحریک انصاف‘ کے فیصلہ سازوں نے خیبرپختونخوا میں ترقی کے معطل عمل کو زیادہ تیزی سے شروع کرنے کا عزم کر لیا ہے۔ یہ ایک ایسی ضرورت تھی‘ جس کا مطالبہ ایک عرصے سے کیا جارہا تھا لیکن افسوس کہ ’سیاست برائے سیاست‘ کرنے والی حزب اختلاف نے اُن اچھے اقدامات کو بھی احتجاج کی نذر کر دیا‘ جن کا مطالبہ خود اُن کی طرف سے بھی آ رہا تھا۔ کیا پشاور کا ماسٹر پلان جس میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور خوبصورتی کے ساتھ سب سے اہم ضرورت یونیورسٹی روڈ کی توسیع اور ’رنگ روڈ‘ کے منصوبے کی تکمیل شامل ہے کسی بھی طرح معمولی ہیں؟یاد رہے کہ مالی سال دو ہزار پندرہ سولہ کے لئے پشاور کے لئے جو ’ملٹی سیکٹورل ڈویلمپنٹ پروگرام‘ تشکیل دیا گیا ہے اس میں 43منصوبے شامل ہیں جن پر 5ارب سے زائد لاگت آئے گی جبکہ پورے صوبے میں پانی کے ترسیلی بوسیدہ پائپ تبدیل کرنے کے لئے بھی 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس کا بڑا حصہ بھی پشاور ہی پر خرچ ہوگا کیونکہ پشاور کی طرح کسی دوسرے ضلع میں پانی کا اِس قدر وسیع ترسیلی نظام موجود نہیں۔ پشاور کو ایک عرصے سے تعمیر و ترقی کی ضرورت تھی‘ جس کا ادراک کرنے میں اگرچہ تاخیر ہوئی لیکن صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آ جائے تو اُسے بھولا نہیں کہتے لیکن عجب ہے کہ بلدیاتی اداروں کے مختص بجٹ کا بڑا حصہ غیرترقیاتی اخراجات کی نذر ہو جائے گا۔

مقامی حکومتوں کے لئے مختص 144 ارب روپے میں سے 98 ارب روپے تنخواہوں اور پانچ ارب روپے بناء تنخواہوں اخراجات کی مد میں خرچ ہوں گے۔ باقی ماندہ پیسوں میں سے 13 ارب روپے دیہی و ہمسائیگی کونسلوں اور 8 ارب روپے ضلع و تحصیل کی کونسلوں کو دیئے جائیں گے۔ فی ضلع ایک ارب روپے سے کم مالی وسائل کی فراہمی سے اراکین صوبائی اسمبلی کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ بلدیاتی ادارے اور مقامی حکومتیں اپنا وجود رکھیں گی لیکن اُن کے پاس ترقیاتی کاموں کے لئے مالی وسائل نہیں ہوں گے۔ اگر بلدیاتی نظام مرتب و تشکیل کر دیا گیا ہے تو پھر قانون ساز اسمبلی کے اراکین کو ترقیاتی فنڈز کیوں دیئے جاتے ہیں اور اگر ترقیاتی فیصلے صوبائی اراکین اسمبلی نے ہی کرنے ہیں تو پھر بلدیاتی اداروں کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے؟ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے بلدیاتی ادارے ایک نئے بوجھ کی صورت ایک ایسی ذمہ داری بن گئے ہیں‘ جن سے درد کی کیفیت میں آرام تو ہوگا لیکن یہ ترقیاتی عمل کے تعطل سے پیدا ہونے والے پیچیدہ امراض کا علاج نہیں۔

صرف مقامی حکومتیں ہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں پولیس کے لئے مختص 90فیصد مالی وسائل بھی تنخواہوں کی (غیرترقیاتی) مد میں خرچ ہو جائیں گے! پولیس کے لئے مختص رقم میں سے 28.57 ارب روپے تنخواہوں جبکہ 4.18ارب روپے آپریشنل اخراجات جبکہ تین کروڑ سے کم روپے ترقیاتی اَخراجات کے لئے اَدا ہونے کے بعد جو کچھ رہ جائے گا‘ اُس سے صرف منصوبہ بندی ہی ممکن ہو سکے گی! ایک طرف خیبرپختونخوا کو دہشت گردی متاثر قرار دے کر ہر سال پولیس کے بجٹ میں اوسطاً پندرہ فیصد اضافہ کیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں دیکھا جاتا کہ مختص رقم کا بڑا حصہ تو غیرترقیاتی اخراجات کی نذر ہو رہا ہے! اگر ہمیں مستعد و مؤثر پولیسنگ کی ضرورت ہے جس کے پاس فعال قسم کا بم ڈسپوزل سکواڈ ہو‘ جس کے پاس جیل خانہ جات میں قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش اور تفتیش میں استعمال ہونے والے جدید ترین آلات (ٹیکنالوجی) گاڑیاں و ہتھیار ہوں تو یقیناًبجٹ پر نظرثانی کے عمل میں نومنتخب مقامی حکومتوں اور محکمۂ پولیس کے لئے مختص مالی وسائل میں اضافہ ہونا چاہئے۔

Monday, June 15, 2015

Jun2015: Health Reforms & issues

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
شعبۂ صحت: انتظامی اصلاحات
خیبرپختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال 2015-16ء کے لئے آمدنی و اخراجات کا میزانیہ (بجٹ) مرتب کرتے ہوئے صحت کے شعبے کو خاص توجہ دی ہے‘ جو اگرچہ حسب حال و ضرورت کافی نہیں لیکن اُمید ہے کہ اگر 10فیصد اضافی مالی وسائل فراہم کرنے سے صحت کی موجودہ سہولیات میں بہتری آئے گی اور اگر اِس مرتبہ سرکاری ہسپتالوں میں فراہم کئے جانے والے علاج کے معیار پر توجہ دی جائے‘ طبی و معاون طبی عملے کو خوش اخلاقی کی تلقین کی جائے‘ سرکاری وسائل کا دردمندی سے استعمال کرنے کی ترغیب و تلقین کی جائے‘ سرکاری ہسپتالوں میں خراب طبی آلات (مشینری) کی مرمت و بحال کئے جائیں اور نجی علاج گاہوں کی طرح سرکاری ہسپتالوں سے رجوع کرنے والوں کو بھی اطمینان قلبی میسر ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کے حسب توقع بہتر و عملی طور پر نمایاں نتائج سامنے آئیں۔

نئے مالی سال کے بجٹ کا بڑا حصہ ترقیاتی حکمت عملیوں کے لئے مختص کرنے کا مقصد وہ تنقید ہو سکتی ہے جو تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت پر کی جاتی ہے۔ صوبائی بجٹ کا مجموعی حجم لگ بھگ پانچ سو ارب روپے میں سے شعبۂ صحت کا ترقیاتی بجٹ کم و بیش 9 ارب روپے غیرمعمولی رقم ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ مالی سال دوہزار چودہ پندرہ میں صحت کا ترقیاتی بجٹ 8.2 ارب روپے تھا اور چونکہ آبادی کے تناسب اور دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کے مراکز کی اشد ضرورت ہے‘ تاکہ ضلعی ہیڈکواٹرز اور مرکزی ہسپتالوں سے رجوع کرنے والے مریضوں کا بوجھ کم ہو سکے‘ لیکن اِس ضرورت کو ختم ہوئے مالی سال میں خاطرخواہ اہمیت نہیں دی گئی۔ اگر ہم گذشتہ مالی سال میں مختص کئے گئے مالی وسائل کے استعمال کا جائزہ لیں تو صحت کے لئے 8.2 ارب روپے مختص تو کر دیئے گئے لیکن پانچ جون تک اِس میں سے صرف 3.7 ارب روپے خرچ کئے گئے تھے جبکہ صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے ملنے والی غیرملکی امداد کا بھی صرف 63فیصد حصہ ہی باوجود کوشش و خواہش استعمال کیا جاسکا۔ تو معلوم ہوا کہ صحت کی سہولیات حسب ضرورت نہ ہونے سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مالی وسائل مختص کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ سرکاری اداروں کی صلاحیت و استعداد ہی نہیں کہ وہ طبی سہولیات کے معیار اور اُن کی توسیع جیسے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دستیاب مالی و دیگر وسائل بروئے کار لا سکیں۔ مستقل تنخواہوں اور مراعات پر نظر رکھنے والوں کے پیش نظر عام آدمی کی مشکلات نہیں۔ اگر بذریعہ قانون جملہ سرکاری ملازمین اُور اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں بشمول سینیٹرز صاحبان کو اِس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ صرف اور صرف سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروائیں گے تو یقیناًدنیا بھر سے جدید ترین مشینری اور علاج کی بہتر سے بہتر سہولیات کا بندوبست ہونا شروع ہو جائے گا۔ سینئر و جونیئر معالجین اپنی تنخواہوں اور مراعات کے حق میں مظاہرے کرتے ہیں‘ ہڑتال کر کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کا پورا نظام ٹھپ کر دیا جاتا ہے لیکن آج تک کسی ڈاکٹر صاحب کو اِس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ متعلقہ ہسپتال میں سہولیات کی کمی کو موضوع بنا کر احتجاج کرے یا کم سے کم اِحتجاج کرنے کا اعلان ہی کردے تاکہ حکومت کی توجہ اِس شعبے کی اُن خامیوں کی طرف ہو سکے‘ جس کا تعلق زیادہ تر ’انتظامی بے قاعدگیوں‘ سے ہے!

خیبرپختونخوا میں شعبۂ صحت سے متعلق فیصلہ سازی کے مراحل سے آگاہ ایک اعلیٰ انتظامی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حکومت کو نجی علاج گاہوں کا بغور مطالعہ (سٹڈی) کرنا چاہئے جو انتہائی کم مالی وسائل میں علاج کی زیادہ بہتر سہولیات فراہم کر رہے ہیں لیکن سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب سے خراب تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ معالج (ڈاکٹر) اور معاون طبی عملہ (پیرامیڈیکس) اپنی اپنی جگہ مطمئن نہیں اور نہ ہی سرکاری علاج گاہوں سے رجوع کرنے والے مطمئن ہیں تو آخر اِن اداروں کی کارکردگی ایک ایسی سیاسی حکومت کے لئے کس طرح ’اِطمینان بخش‘ ہو سکتی ہے جو تبدیلی اُور انقلاب و احتساب کے وعدوں کے ساتھ حکومت میں آئی ہو؟‘‘ ضلع پشاور ہی کی مثال لیں کہ یہاں 102 سرکاری (چھوٹی بڑی) علاج گاہیں ہیں لیکن اِن میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جس کی عمارت میں کوئی نہ کوئی کمی بیشی نہ ہو۔ توسیع کی ضرورت نہ ہو۔ طبی عملہ اور اَدویات وافر مقدار میں دستیاب ہوں اور سب سے بڑھ کر خون کے تجزیئے کی فوری سہولیات یا ایکسرے جیسی ضرورت ہر طبی سہولت کا حصہ نہیں۔ کیا ہم اِس عزم کا اظہار کرسکتے ہیں کہ نئے مالی سال کے دوران تمام سرکاری ہسپتالوں میں خراب پڑی ہوئی مشینری مرمت یا تبدیل کرکے فعال کر دی جائے گی؟ ایک لمبی مسافت چھلانگیں مار کر نہیں بلکہ قدم قدم چلتے ہوئے ہوئے طے کی جا سکتی ہے جسے ’ہنوز دلی دور است‘ کی طرح ہمارے تجاہل عارفانہ نے ’ترجیحاتی نظروں‘ سے اُوجھل کر رکھا ہے۔

ختم ہوئے مالی سال کی ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ شعبہ صحت میں انگوٹھے کے نشان سے حاضری متعارف کرائی گئی۔ وہ ڈاکٹر اور طبی عملہ جو کبھی وقت پر سرکاری ہسپتالوں میں تشریف نہیں لاتے تھے‘ کم از کم جسمانی طور پر حاضر ہونے لگے۔ یہ معاملہ شہری علاقوں میں بڑی حد تک کامیاب (کارگر) ثابت ہوا جبکہ دور دراز دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ و بجلی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ’بائیومیٹرک حاضری کا طریقۂ کار‘ نافذ نہیں کیا جاسکا۔ سب سے زیادہ ڈاکٹروں کی موجودگی جہاں ضروری تھی‘ وہاں تاحال ممکن نہیں بنائی جاسکی! محکمۂ صحت کے زیراستعمال گاڑیوں کا غیرسرکاری یا نجی مقاصد کے لئے استعمال بھی تاحال کنٹرول نہیں کیا جاسکا۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہمارے پاس ایمبولینس گاڑیوں کے لئے مالی وسائل کم ہیں لیکن انتظامی عہدوں پر فائز صاحبان اُور اُن کے اہل خانہ کے لئے نہ تو گاڑیوں کی کمی ہے اور نہ ہی ایندھن کی! تجویز ہے کہ تمام سرکاری گاڑیوں کو سبز یا لال رنگ کر دیا جائے تاکہ اُن کی شناخت ممکن ہو سکے اور صرف یہی ایک صورت باقی بچی ہے کہ دفتری اوقات کے علاؤہ سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے (مال مفت دل بے رحم) کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ ڈاکٹروں اُور اَدویات ساز اِداروں کے درمیان تعلق داری‘ ایک دوسرے سے ’حسب حال و ضرورت تعاون‘کے بارے میں غوروفکر ہونا چاہئے۔ نجی علاج گاہوں میں ’فارمیسی شاپس (ادویات فروشی)‘ پر پابندی ہونی چاہئے لیکن کیا ایسا عملاً ممکن ہے کیونکہ خیبرپختونخوا کا ایک بڑا ہسپتال ایسا بھی ہے جہاں ’فارمیسی شاپ‘ گذشتہ کئی برس سے قائم ہے اور باوجود اجارے کی مدت ختم ہونے کے بھی (خاکم بدہن) یہ ’بے قاعدگی باقاعدگی‘ سے جاری ہے!

Friday, June 12, 2015

Jun2015: Obsrving the Budget session

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صحافت‘ سیاست اُور وحشت !
ایک ایسا ملک جس کی معیشت اندرونی و بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی‘ اُس کے فیصلہ ساز ایوان کی ٹھاٹھ باٹھ کو غیرضروری اُور مصنوعی کہا جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ چکمدار فرش‘ جس پر پھونک پھونک کر قدم رکھنے کے باوجود پھسلنے کا گمان ہوتا ہو۔ ائرکنڈیشن راہداریاں اور اُن سے زیادہ ٹھنڈے کمروں میں یخ بستہ نرم و گداز صوفے۔ دیواروں پر لگی ہوئی تصاویر‘ جابجا قرآنی آیات کی خطاطی عمارت کے حسن کو چارچاند لگا رہی ہو یقیناًخوف خدا‘ حقوق العباد‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر‘ علم کی اہمیت‘ علم میں اضافے کی دعا‘ انصاف اور انسانی حقوق کے احترام کے علاؤہ مساوات و فرض شناسی جیسے پیغامات اِن راہداریوں سے گزرنے والوں کے لئے آویزاں کئے گئے ہوں گے جن کی حقیقت و سچائی اُور ضرورت سے تو انکار یا بحث کی گنجائش نہیں لیکن اگر اِن پر عمل نہیں ہورہا تو اس کی وجہ ایک ہی سمجھ میں آتی ہے کہ عربی زبان کے ساتھ آیات کا اُردو ترجمہ نہیں لکھا گیا بلکہ اگر صرف اُردو ترجمہ ہی جلی حروف میں لکھ دیا جاتا تو بھی مفید نتائج برآمد ہونے کی توقع کی جاسکتی تھی۔ قومی اسمبلی آمد پر خوش آمدید‘ بجٹ اجلاس کی کاروائی کا مشاہدہ کرنے والے مہمانوں میں اکثریت اَراکین اسمبلی کے اِنتخابی حلقوں سے آئے ہوئے مہمانوں یا اُن کے معاون عملے کی تھی‘ جن کے لئے شاید یہی بات اطمینان بخش تھی کہ وہ یخ بستہ‘ مصنوعی روشنیوں سے منور اُور آرام دہ نشستوں پر اُس ایک چھت تلے بیٹھے تھے جس میں قوم کی قسمت کے فیصلوں سے متعلق بحث ہونا تھی۔ ابھی اجلاس شروع نہیں ہوا تھا کہ چند اراکین اسمبلی تشریف لائے اور اُن کے چہروں پر نہ تو ایک دوسرے کو دیکھ کر اجنبیت تھی اور نہ ہی وہ غم و غصہ جو اُن کے تند و تلخ بیانات میں ہوتا ہے۔

حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے اراکین کے درمیان تمیز صرف اُس وقت ہوئی جب اجلاس کی باضابطہ کاروائی کا آغاز قرآن کریم سے منتخب آیات کی تلاوت سے ہوا۔ سب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔ تلاوت کے دوران اور بعد میں آنے والے اشاروں سے ایک دوسرے کو سلام کرکے مسکراہٹوں کا تبادلہ کر رہے تھے۔ خوشگوار ماحول تھا۔ مہانوں کو موبائل فون لیجانے کی اجازت نہیں تھی لیکن چند اراکین اپنے موبائل فونز پر مصروف دکھائی دیئے جس سے ظاہر تھا کہ قانون ساز اِیوان زریں میں داخلے کے حقوق بھی محفوظ تھے اور منتخب اراکین کا استحقاق اُس عام آدمی سے کہیں گنا زیادہ تھا‘ جو اِس ایوان کی ہر ایک بنیادی سہولت اُور آسائش کا بوجھ اُٹھائے ہوئے تھا!

’’جناب سپیکر! بجٹ اعدادوشمار کا گورگھ دھندا ہے‘ جس سے عام آدمی کی معاشی و اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہوگا‘ مہنگائی بڑھے گی جو پہلے ہی انتہا کو چھو رہی ہے۔ بجٹ دستاویز بنانے والوں نے ایک مرتبہ پھر ایسے خواب دکھائے ہیں جن کی تعبیر ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ہمیں ایک ایسے حقیقت پسندانہ بجٹ کی ضرورت ہے‘ جس سے خواص کی نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئے۔‘‘ حزب اِختلاف سے تعلق رکھنے والے ایک معزز رکن قومی اسمبلی نے سرنامہ کلام ہی میں بجٹ پر کڑی تنقید کی اُور یہ اُس دن ہونے والی درجن بھر تقاریر کے مشترکہ نکات تھے۔ بجٹ پر تنقید اُن سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی آ رہی تھی جو خود وفاق میں حکومت کر چکی ہیں اُور اُن کا پیش کردہ بجٹ زیادہ مختلف نہیں تھا جس کے بارے میں موجودہ حکمراں جماعت کے اراکین کی وہی رائے ہوا کرتی تھی جو آج حزب اختلاف کی تھی۔ پارلیمینٹ کی رپورٹنگ کرنے والے ایک بزرگ صحافی کے بقول ’’یہاں جو نظر آتا ہے وہ اصل نہیں۔ جو باتیں کہی جاتی ہیں اُن میں حقیقت نہیں ہوتی۔ ہر کوئی اپنی اپنی سیاسی جماعت کے وجود کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

درون خانہ سب کو معلوم ہے کہ بجٹ آئندہ چند روز میں واجبی تبدیلیوں (ترامیم) کے ساتھ ’من و عن‘ منظور کر لیا جائے گا۔ یہ بحث و مباحثے‘ اعتراضات اور تحفظات رسمی ہیں۔ اِن اراکین اسمبلی میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو صبح گھر کے لئے دودھ‘ روٹی اور انڈے لایا ہو۔ انہیں سبزی کے نرخ معلوم نہیں کیونکہ یہ کبھی سبزی خریدنے عام آدمی کی طرح مارکیٹ نہیں جاتے۔ انہیں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کے مسائل و پریشانیوں کا اندازہ نہیں کیونکہ یہ سب کے سب ذاتی و سرکاری گاڑیاں رکھتے ہیں۔‘‘ اُن کی سانس پھول رہی تھی‘ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولے ’’وہ دیکھو‘ یہ فیروزی رنگ کی چغہ نما قیمیض پہنے ہوئے رکن قومی اسمبلی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے ماہر ہیں۔ اِن کی جماعت گھاٹے کا سودا کرتی ہی نہیں بلکہ ہمیشہ اُس سیاسی جماعت کے ساتھ رہتی ہے‘ جو برسراقتدار ہو۔ جن اراکین اسمبلی کا سیاسی قبلہ ہی نہ ہو‘ اُن سے بھلا کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ملک و قوم کے لئے بہتر ثابت ہوں گے!‘‘

پارلیمینٹ میں مؤذن کے علاؤہ کسی دوسرے شخص کو بناء اجازت لئے بولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ بلند چوبارے پر سپیکر کے اختیارات دیکھ کر عقل حیران ہوتی ہے کہ ہر حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سپیکر سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ غیرجانبدار رہے گا جبکہ اُس کا انتخاب ممکن ہی نہیں ہوتا جب تک ایوان میں اکثریتی جماعت کے اراکین اُسے منتخب نہ کریں اور پھر اُسے ہٹانے کا اختیار بھی انہی اکثریت رکھنے والوں کے پاس ہوتا ہے۔ کیا سپیکر و ڈپٹی سپیکر (ایوان کے نگرانوں) کا انتخاب اراکین اسمبلی میں سے ہونا ضروری ہے جبکہ وہ دیگر اراکین کی طرح قانون سازی کے حوالے سے بحث و مباحثے میں حصہ نہیں لے سکتے اور اُن کے زریں خیالات و تجاویز شامل نہ ہونے سے قانون سازی کا عمل جامعیت سے محروم ہو جاتا ہے! سیاست کو اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کاموں تک محدود کرنے والوں کی ترجیحات نے ’جمہوری عمل‘ اُور ایک ’جمہوری ادارے‘ کی اہمیت و افادیت کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔

 آخر کسی مالی سال کے لئے آمدن و اخراجات کے تعین سمیت قانون سازی کے مراحل میں منتخب اراکین کے علاؤہ مختلف شعبوں کے تکنیکی ماہرین سے مشاورت کیوں نہیں کی جاتی؟ سوچتے ہوئے قدم خودبخود اُس سردخانے سے باہر نکلنے کی راہ پر ہو لئے‘ جہاں کی دیدنی رونقوں سے عام آدمی کا کیا لینا دینا! ’’ایسی ویرانی میں کرتے بھی تو کیا۔۔۔یہ بھی کچھ ہم ہے کہ وحشت کی ہے!‘‘

Monday, June 8, 2015

Jun2015: Suplementary Budget 2015-16

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بجٹ: تیکنیکی تخصیص نو!
بجٹ کے جاری اجلاس میں حکمراں جماعت کی جانب سے پیش کردہ ’آمدن و اخراجات‘ کے حساب کتاب کی منظوری کا مرحلہ وار عمل حسب توقع ’تیزرفتاری‘ سے جاری ہے۔ ایک طرف غیرترقیاتی اخراجات کم کرنے کا اعلان ہے جس کے تحت ’سادگی‘ اختیار کرنے کی نوید سنائی گئی تو دوسری جانب نئے مالی سال کے لئے پارلیمنٹ سے 139ارب روپے مالیت کی ’ریگولر سپلیمنٹری بجٹ‘ کی پوسٹ فیکٹو منظوری حاصل کی جا رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کے غیرترقیاتی اخراجات اعلان کردہ مقررہ حد سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے نئے مالی سال 2015-16ء کے لئے غیرترقیاتی اخراجات 114 فیصد زیادہ رکھے گئے ہیں!

پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی گئی بجٹ کی دستاویز کے مطابق 205.348 ارب روپے کی ’سپلیمنٹری (ضمنی) گرانٹ (مالی مدد)‘ اس فہرست میں شامل ہے۔ جن کی نوعیت تیکنیکی ہے‘ تاہم 139ارب روپے جیسے خطیر اخراجات کا بڑھنا‘ قومی خزانے پر اضافی بوجھ ہوگا۔ ان اخراجات میں سے کچھ اراکین کابینہ کی صوابدیدی تقسیم‘ اشتہارات‘ پرآسائش گاڑیوں کی خریداری‘ اراکین اسمبلی کے لئے مراعات‘ جج صاحبان کی رہائشگاہوں کی تزئین و آرائش اور خفیہ اداروں کے غیرواضح (خفیہ) اخراجات شامل ہیں۔ داخلی امور سے واقف کاروں کا کہنا ہے کہ ’سپلیمنٹری گرانٹ‘ پچھلے دو برس کے دوران خاصی بڑھی ہے تاہم اس بجٹ کے بعد ضمنی طور پر ’تیکنیکی تخصیص نو‘ کے طور پر شامل کیا گیا تھا‘ جس سے بجٹ پر الگ سے منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے تھے تاہم پچھلے مالی سال کے بجٹ پر ’ریگولر سپلیمنٹری گرانٹس‘ نے 65ارب روپے کے اضافہ اثرات مرتب کیے جبکہ اس سال یہ رقم 114فیصد بڑھ کر 139ارب روپے کر دی گئی ہے۔ ان سپلیمنٹری گرانٹس میں سے زیادہ تر وفاق کے محفوظ فنڈز میں سے خرچ کی جاتی ہے‘ جسے پارلیمنٹ کے سامنے محض اطلاع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور بغیر ووٹنگ کے اس کی منظوری حاصل کرلی جاتی ہے۔ سادہ الفاظ میں پارلیمنٹ اسے مسترد نہیں کرسکتی اس لئے کہ یہ رقم پہلے ہی خرچ کی جاچکی ہوتی ہے! مثال کے طور پر رعائت (سبسڈیز) میں کمی حکومت کے متعدد دعوؤں کے باوجود نہیں کی جاسکی جو لگ بھگ 63ارب روپے سے تجاوز کرگئی اُور اب اسے بجٹ ہی سے وصول کیا جارہا ہے۔ باقی اکسٹھ ارب روپے کی ’سپلیمنٹری گرانٹس‘ کو قریب سے دیکھا جائے تو یہ ’اسراف‘ کی عمدہ مثالیں ہیں! مثال کے طور پر گذشتہ مالی سال میں ’4.1 ارب روپے‘ وفاقی وزرأ‘ وزرائے مملکت‘ وزیراعظم کے مشیر اور خصوصی معاون کے ایڈہاک ریلیف پر خرچ کئے گئے! 2 کروڑ 10لاکھ کی ایک غیرمنظور شدہ رقم تفریحات‘ وزیراعظم کی جانب سے دیئے گئے تحائف‘ خوراک اور ادویات پر خرچ ہوئے۔ وزیراعظم کے ’انسپکشن کمیشن‘ بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہا اور اس نے ایک کانفرنس پر پانچ لاکھ روپے جبکہ وزیر مملکت برائے مواصلات و پوسٹل سروسیز کے لئے دو گاڑیوں کی خریداری کے لئے 76لاکھ روپے کی غیرمنظور شدہ رقم خرچ کی گئی! تقریباً 2کروڑ 26لاکھ روپے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمے کرنے کے لئے بطور فیس قومی خزانے سے ادا کیے گئے اور ایک اعشاریہ سات ارب روپے طورخم جلال آباد روڈ کی تعمیر پر خرچ ہوئے۔ بیس ارب روپے کے اضافی اخراجات پاکستان آرمی کی صلاحیت میں اضافے‘ دفاع کے لئے جدید آلات کی درآمد‘ پاکستان نیوی اور پاکستان نیوی کے رہائشی منصوبوں کی نذر ہوئے۔ علاؤہ ازیں ’وی وی آئی پی گلف اسٹیم ائرکرافٹ‘ کو اپ گریڈ کروانے اور دوبارہ ادائیگی پر تیرہ کروڑ چالیس لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ ایک اعشاریہ ایک ارب روپے کی رقم وزیرخزانہ کی خصوصی سبسڈیز کے طور پر ایک سیکیورٹی ایجنسی کو دیئے گئے۔ حکومت نے اُنیس ارب روپے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو‘ چار ارب روپے کراچی الیکٹرک کمپنی اور پندرہ ارب روپے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کاروائی ’ضرب عضب‘ کے لئے دفاعی بجٹ کے علاؤہ الگ سے فراہم کیے۔43کروڑ کی رقم لیبیا میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی پر خرچ کی گئی اور چالیس کروڑ کی رقم اسلام آباد میں قازغستان اور تاجکستان کے سفارتخانوں کی تعمیر اور زمین کی الاٹمنٹ پر خرچ ہوئی۔ کیا یہ اخراجات دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کسی ایسے ملک کے اخراجات کا حوالہ دے رہے ہیں جس کی اقتصادی صورتحال توانائی بحران تلے دبی ہوئی ہے اور اندرونی و بیرونی قرضہ جات کا بوجھ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے نہیں دے رہا! کیا ہم اپنے پاؤں اپنی چادر کے مطابق پھیلا رہے ہیں! کیا قومی خزانے کا استعمال کرتے ہوئے اُس عام آدمی کی حالت زار کے بارے میں بھی سوچا جاتا ہے جس کی آمدنی و اخراجات میں توازن نہیں رہا!

میاں بیوی اور 2 بچوں پر مشتمل کسی گھرانے کے کم سے کم ماہانہ اخراجات 16 ہزار 500 روپے سے زیادہ ہیں جس میں یومیہ گھی (90 روپے)‘ آٹا (100 روپے)‘ سبزی دال (100 روپے)‘ چینی (17 روپے)‘ چائے پتی (30 روپے)‘ دودھ (150روپے) اُور اگر 15 روپے کے مصالحہ جات استعمال کئے جائیں تو کل خرچ 502 روپے ہو گا‘ جس کا ماہانہ میزانیہ 15 ہزار 60روپے ہوا۔ گیس و بجلی کا بل اگر اوسط دو ہزار روپے لگایا جائے تو اِس گھرانے کے کل ماہانہ اخراجات سولہ ہزار پانچ سو روپے سے تجاوز کر جائیں گے جبکہ تنخواہ دار طبقے کی اُوسط تنخواہ آٹھ سے بارہ یا زیادہ سے زیادہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ ہوتی ہے۔ اِن اخراجات میں کپڑے‘ ادویات‘ برتن و دیگر ضروریات کے علاؤہ سماجی تعلق داری پر اُٹھنے والے اَخراجات شامل نہیں۔ کیا اَیسے کم آمدنی والے طبقات کی معاشی مشکلات کے بارے میں میں بھی کچھ غور ہونا چاہئے؟

Wednesday, May 13, 2015

May2015: Expectations from next budget

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بجٹ 2015-16ء
کیا ہم اس بات کو خوش آئند قرار دے سکتے ہیں کہ ہمارے وزیرخزانہ اور مشروط قرض دینے والے عالمی اداروں بالخصوص عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پالیسی سازوں کے درمیان فکروعمل کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے؟ یاد رہے کہ ’آئی ایم ایف‘ نے حال ہی میں پاکستان سے متعلق اپنا ساتواں جائزہ مکمل کیا جس میں حکومت کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔ پاکستان کی مجموعی شرح نمو 0.2 فیصد سے 4.1فیصد تک لانے میں آئی ایم ایف کے دباؤ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور آئندہ مالی سال میں اس میں زیادہ مستحکم شرح نمو عام آدمی کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔ نئے مالی سال 2015-16ء کے لئے بجٹ کی تیاری کا عمل جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق حکومت شرح نمو 4.3 فیصد تک لیجانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اضافے سے اُس غیرمعمولی 130 ارب روپے کے اخراجات کے بارے سوچنا ہوگا جو اندرون ملک مختلف فوجی کاروائیوں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کاموں کے لئے مالی وسائل مختص کرنا زیرغور ہیں جس سے نہ صرف زیادہ ملازمتیں پیدا ہوں گی بلکہ اس سے نجی شعبہ بھی ترقی کرے گا۔

پاکستان کی اقتصادی ترقی کا انحصار محصولات (ٹیکسوں) سے مشروط ہے اور آئندہ مالی سال میں بھی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کسی بھی طرح 3.2 کھرب روپے سے زیادہ حاصل ہونے کی توقع نہیں۔ یہ لمحۂ فکریہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ’ٹیکس نیٹ‘ بڑھایا جائے اور ان طبقات سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جائے جو شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں لیکن اُن کے پاس حکومت کو دینے کے لئے کچھ نہیں۔ قانون ساز اداروں کے اراکین خود کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں‘ اس بات کو بیان کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ بھلا کسی ملک کے حکمران جب خود ٹیکس ادا نہ کررہے ہوں تو وہ عوام و خواص سے کس طرح اس بات کی توقع کس طرح کر سکتے ہیں کہ وہ بھی اپنے حصے کا ٹیکس ادا کریں۔

آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ کی تیاری میں اعلان کردہ کم سے کم اُجرت کے حکمنامے پر بھی عمل درآمد ہونا چاہئے۔ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کے لحاظ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن میں اضافہ خوش آئند ہے لیکن چونکہ ملازمتوں کی اکثریت غیرسرکاری وسائل پر انحصار کرتی ہے اس لئے نجی شعبے کو مراعات یا نجی شعبے کے لئے ملازمین کے لئے ’بہبود فنڈ‘ کا اجرأ ضروری ہے۔ حکومت کی جانب سے کم سے کم اجرت کی حد مقرر کر دی گئی ہے لیکن اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرکے یہ پورا معاملہ عرصہ دراز سے التوأ کا شکار ہے۔ اگر نئے مالی سال کے بجٹ میں کم سے کم اجرت پر نظرثانی کرکے اسے زیادہ حقیقت پسندانہ بنایا جائے اور نجی شعبے کو پابند کیا جائے کہ وہ ملازمین کے حقوق ادا کرے تو یہ ایک خاص مہربانی ہوگی۔ سردست مسئلہ قوانین و قواعد کی کمی کا نہیں بلکہ اِن پر اطلاق نہیں ہورہا۔ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے ادارے تو موجود ہیں لیکن اُن کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سرمایہ دار طبقات اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے عام انتخابات میں سرمایہ کاری کے ذریعے اُس فیصلہ ساز منصب پر فائز ہوجاتے ہیں جہاں اُن پر قانون ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ بلاامتیاز قانون و قواعد کا اطلاق اور مزدوروں‘محنت کشوں کے حقوق کی ادائیگی عملاً ممکن بنانے کے لئے ’عوام دوست بجٹ‘ کی ضرورت ہمیشہ ہی سے رہی ہے اور اِس مرتبہ بھی بہتری کی صرف توقع ہی کی جاسکتی ہے۔

مالی سال 2014-15ء اختتام پذیر ہونے والا ہے جس کے دس ماہ کے دوران وصول ہونے والوں محصولات کی شرح 2ہزار 560ارب روپے ہے اور وفاقی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر موجود اعدادوشمار پر اگر بھروسہ کیا جائے تو حکومت اس بات کے قریب ہے کہ وہ 13فیصد اضافی ٹیکس وصول کرنے کا ہدف حاصل کر لے لیکن یاد رہے کہ سیلزٹیکس کی مدمیں حکومت 118 ارب روپے واپس بھی کرے گی‘ جس سے محصولات سے حاصل ہونے والے پچیس سو ساٹھ ارب روپے کا عدد مزید سکڑ جائے گا۔

عام آدمی ماچس کی ایک ڈبی سے فی یونٹ بجلی استعمال کرنے تک ہر شے پر فراخدلی سے ٹیکس ادا کررہا ہے جبکہ اُس کی آمدنی (تنخواہ) سے بھی ٹیکس ادائیگی سے قبل ہی منہا کر لیا جاتا ہے۔ ٹیکس ادا نہ کرنے کی روش غریب و متوسط طبقات میں نہیں بلکہ اعلی و تعلیم یافتہ حکمراں طبقات میں پائی جاتی ہے جو ملک کے زیادہ سے زیادہ وسائل سے استفادہ تو کرتے ہیں لیکن حسب مقام و منصب اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کر رہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایک سو سے ایک سو پچاس ارب روپے گردشی قرضہ جات کی ادائیگی اور سیکورٹی آپریشنز کے لئے مختص کئے جا سکتے ہیں اور اگر ہم آمدنی و اخراجات کے میزانیئے (بجٹ) میں پائے جانے والے خسارے کو کم کرنا چاہتے ہیں جو پہلے ہی 180 سے230 ارب روپے کے درمیان معلق ہے تو ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ سیکورٹی کے لئے رسک بننے والوں سے محتاط معاملہ کرنے کی بجائے اگر کالعدم تحریکیوں سے وابستگیاں رکھنے والے اُن ایک ہزار سے کم افراد سے سخت معاملہ کیا جائے‘ جو پورے ملک کے لئے دردسر بنے ہوئے ہیں۔ کراچی سے پشاور تک سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری اُس وقت تک نہیں آسکتی جب تک قبائلی علاقوں کی حیثیت بندوبستی علاقوں کے مساوی نہیں کر دی جاتی۔ قبائلی علاقوں کے لئے ایک سے زیادہ مرتبہ مرتب کی جانے والی اصلاحات عملی اطلاق چاہتی ہیں اُور بس۔

قومی سطح پر آمدن و اخراجات میں توازن کے لئے ہمیں اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا ہوگا۔ غیرترقیاتی اخراجات کم کرنے اور سادگی پر مبنی طرز حکمرانی اختیار کرنے کے سوا بھی چارہ نہیں۔ قومی سطح پر سادگی اپنانے اور قومی بچت کی عادت عام کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ حال ہی میں تعینات ہونے والے گورنر پنجاب نے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے کہ وہ سرکاری رہائش گاہ دفتری اوقات کے علاؤہ استعمال نہیں کریں گے۔ اگر پنجاب کا گورنر ایسا کرسکتا تو دیگر صوبوں کے گورنرز ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ بجٹ کا خسارہ اور اقتصادی مشکلات سے نمٹنے کے لئے عوام سے مزید قربانیوں کی توقع کرنے کی بجائے حکمراں طبقات کو اپنی کارکردگی اور سرکاری وسائل کے استعمال میں احتیاط برتنا ہوگی۔ انہیں صادق و امین بن کر عوام کے ٹیکسوں سے وصول ہونے والی ہر ایک پائی کا دانشمندانہ اور کفایت شعاری پر مبنی استعمال کرنا ہوگا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بجلی کے صارفین سے ’پاکستان ٹیلی ویژن‘ کی لائسینس فیس بصورت ’بھتہ‘ وصول کی جائے لیکن اِس قومی ادارے کے کردار و فعالیت کو ہر دور میں صرف اور صرف حکمرانوں کی تعریف و توصیف تک ہی محدود رکھا جائے! اقتصادی بہتری سماجی اور سیاسی محاذوں پر اسراف ختم کئے بناء ممکن نہیں‘ جس کے لئے خوداحتسابی سے زیادہ کوئی دوسرا حربہ کارگر و کامیاب نہیں ہوسکتا۔

Monday, April 20, 2015

Apr2015: Agriculture as priority in budget

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
زراعت: محروم توجہ؟
وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2015-16ء تیاریوں کے آخری مرحلے سے گزر رہا ہے اور آئندہ مالی سال کے لئے حکومتی ترجیحات کا تعین نیز کسی شعبے کے لئے ترقیاتی حکمت عملیاں مرتب کرنے کے لئے مشاورتی اجلاس ہو رہے ہیں۔ اِسی سلسلے میں رواں ہفتے ’زرعی شعبے‘ سے تعلق رکھنے والوں سے مشاورت کی جائے گی‘ جس کے لئے ماہرین کو مطلع کر دیا گیا ہے‘ اُمید ہے کہ ہرسال کی طرح اِس مرتبہ بھی زراعت اور مال مویشیوں (لائیوسٹاک) سے متعلق سوچ بچار میں خیبرپختونخوا کے معروضی حالات کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا‘ جس کے بیشتر علاقوں میں زراعت متاثر ہونے کے اسباب میں عسکریت پسندی‘ قدرتی آفات‘ موسمی تبدیلیاں اور پیداواری ضروریات کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ‘ ٹیکس اور اُن کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں‘ اجناس کی منڈیوں تک رسائی میں مشکلات چھوٹے بڑے کاشتکاروں کے لئے مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے جن علاقوں کی آب و ہوا پھلوں کے باغات کے لئے موزوں ہے وہاں سے خاطرخواہ استفادہ نہیں کیا جارہا۔ پھلوں کی پراسیسنگ اور اُن کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لئے آئندہ مالی سال میں غیرمعمولی رقم مختص کی جائے تو کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ دودھ اور اس سے بننے والی اشیاء کی مارکیٹنگ اگر غیرملکی ادارہ کرکے ہمارے وسائل سے اربوں روپے سالانہ کما رہا ہے تو یہی کام حکومت کیوں نہیں کرسکتی؟

خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع بالخصوص قبائلی علاقہ جات اور اِن سے متصل بندوبستی علاقوں میں تیلدار اجناس (زیتون اُور سورج مکھی) کی کاشت کے وسیع امکانات موجود ہیں‘ جنہیں ترقی دینے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی زد میں آنے والے ’’آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ‘‘ کی خاطرخواہ سرپرستی بھی اشد ضروری ہے‘ جس کے شکستہ دل ماہرین کی صلاحیتوں کو زنگ لگ رہا ہے اور وہ ایک صدمہ جھیلنے کے بعد تاحال نفسیاتی طور پر (مکمل) بحال نہیں ہوئے۔ بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ پاکستان جیسے زرعی ملک کہ جس کی سترفیصد سے زیادہ معیشت کا انحصار زراعت پر ہو‘ وہاں بیک جنبش قلم ایک ایسے زرعی تحقیقی شعبے ہی کو ختم کر دیا جائے جو تیلدار اجناس کی ترقی وتحقیق کے عمل سے جڑا ہو! ہمارے فیصلہ سازوں کو اِس بات پر بڑا فخر محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہر سال اَربوں ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کریں لیکن اپنے ہاں تیلدار اجناس کی پیداوار کی ترقی انہیں مقصود نہیں کیونکہ درآمدات میں بھاری کمیشن کے امکانات بہرحال موجود ہوتے ہیں! خیبرپختونخوا میں ایسے علاقوں کی کمی نہیں جہاں زیتون کی کاشت ممکن ہے لیکن افسوس کہ زیتون کی ترقی کے لئے بنائے گئے تحقیقاتی فارمز پر بااثر افراد نے قبضہ کرکے وہ محکمہ ہی تحلیل کروا دیا‘ جو ’زیتون فارمنگ‘ میں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر شہرت کا حامل تھا!

خوش آئند ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف متوجہ ہیں اُور زرعی شعبے کی ترقی کے لئے آئندہ مالی سال زیادہ ’عملی اقدامات‘ چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے وفاقی وزیر تحفظ خوراک و تحقیق سکندر حیات بوسان سے ایک خصوصی ملاقات بھی کی ہے اور (اگر اطلاعات پر بھروسہ کیا جائے تو اُنہوں نے) ہدایت دی ہے کہ ’’آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زرعی شعبے کے لئے زیادہ بڑے پیمانے پر عملی اقدامات کئے جائیں۔‘‘ اگرچہ اِس خبر کو قومی اخبارات نے زیادہ اہمیت نہیں دی لیکن بہرحال اُمید ہو چلی ہے کہ وزیراعظم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وفاقی وزیر (ماضی کی طرح) صرف صوبہ پنجاب ہی کی حد تک نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں بھی زراعت کی ترقی پر توجہ دیں گے اُور اب بھی اگر ٹھوس اقدامات کی بجائے ’روائتی اعلانات‘ پر اکتفا کیا گیا تو یہ ایک ایسی غلطی دہرانے کے مترادف اقدام ہوگا‘ جو ہمیں غذائی خودکفالت اور تحفظ خوراک جیسی منزل سے دور کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا بھی ادراک کرنا ہے اور موسمی (قدرتی) و غیرموسمی (غیرفطری) منفی اثرات سے بھی زرعی شعبے کو بچانا ہے‘ جو ہر طرف سے دباؤ کا شکار ہے!

آئندہ مالی سال کے لئے کاشتکاروں کے مطالبات میں شامل ہے کہ 1: زرعی پیداواری ضروریات پر عائد ’سیلز ٹیکس‘ کی شرح میں کمی لائی جائے۔عجب ہے کہ سارے کا سارا منافع یا تو ٹیکسوں کی مد میں ادا ہو جاتا ہے یا پھر بجلی کے بل ادا کرنے کے بعد فصل کی اصل قیمت سے زائد اُس پر اخراجات آ جاتے ہیں۔ 2: زرعی شعبے کے زیراستعمال بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کمی لائی جائے تاکہ ٹیوب ویل کے ذریعے آبپاشی کے وسائل سے استفادہ کیا جاسکے۔ 3: دوست ممالک سے زرعی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ 4: بیرون ملک زرعی تعلیم کے لئے طالبعلموں کو ترجیحی بنیادوں پر بھیجا جائے۔ 5: فارغ التحصیل زرعی گریجویٹس کو غیرآباد زمینیں اور آسان شرائط پر قرضے دے کر پیداوار بڑھائی جائے۔ 6: زرعی شعبے کی انشورنس حکومتی سرپرستی میں متعارف کرائی جائے۔ 7: زرعی شعبے میں ’شمسی طاقت سے چلنے والے ٹیوب ویل متعارف کرائے جائیں۔‘ اِس سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت کو بھی توجہ دینی ہے جو سٹریٹ لائٹس کے لئے تو ’شمسی وسائل‘ استعمال کرتی ہے لیکن شمسی زرعی ٹیوب ویلوں کے بارے میں ترجیح نہیں رکھتی‘ یقیناًہم سٹریٹ لائٹس کے بغیر زندگی بسر کرسکتے ہیں لیکن اگر غذائی خودکفالت اور خوراک کا تحفظ (فی ایکڑ زیادہ پیداوار‘ تبدیل ہوتے موسم کی سختیاں برداشت کرنے والے بیج‘ آبپاشی کے سائنسی طریقوں پر عمل‘ کاشتکاروں کی رہنمائی کے لئے ذرائع ابلاغ کا مؤثر استعمال‘ فصلوں پر ادویات اور کیمیائی کھادوں کا غیرضروری استعمال ترک کرنے) جیسے عملی اقدامات بروقت نہیں کئے جاتے‘ تو ترقی کا ہر ہدف ثمربار ثابت نہیں ہوگا۔

ہمیں زراعت گریز اپنے طرز فکر و عمل کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر خیبرپختونخوا کی 70سے 80فیصد آبادی کا روزگار فنون لطیفہ (گائیگی‘ اداکاری‘ موسیقی‘ فلم یا شوبز وغیرہ) یا اِن سے متعلقہ کسی دوسرے شعبے سے نہیں لیکن صوبائی‘ علاقائی اور قومی سطح پر شائع ہونے والے اخبارات‘ نجی و سرکاری ٹیلی ویژن اُور (اے ایم‘ ایف ایم) ریڈیو چینلز کی نشریات اور پرنٹ میڈیا میں ہر روز پورے کے پورے صفحات ملکی و غیرملکی فنکاروں سے متعلق خوش گپیوں سے لبالب ملتے ہیں جبکہ زراعت کے لئے ایک گھنٹہ‘ منٹ یا سکینڈ اور اخبارات و جرائد میں ایک صفحہ بھی مختص نہیں ملتا۔ زرعی جامعات تو موجود ہیں‘ زراعت پر تحقیقی مقالے بھی لکھے جارہے ہیں لیکن متعلقہ دانشور (جو زرعی شعبے سے ماہانہ تنخواہیں اور مراعات وصول کرتے ہیں) تحقیق خود ہی پڑھ کر‘ پڑھا کر اور سن کر محظوظ ہونے کے بعد اسے الماریوں میں دفن کر دیتے ہیں۔ ایسے پروفیسر‘ ملازم اور طالبعلم ہمیں آج تک نہیں ملے جنہوں نے زراعت کے حق میں ’بھوک ہڑتال‘ کی ہو! یہ ’بے رخی‘ ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ زرعی شعبے کو روزمرہ بحث کا موضوع بنائے بغیر ملک کی معیشت و اقتصادیات کو بہتر بنانے اور گدائی کا کشکول توڑنے کی کوئی دوسری صورت باقی نہیں رہی۔ زراعت کے بارے میں سوچتے سوچتے سونے اور خواب دیکھ کر اُنہیں عملی جامعہ پہنانے کے لئے جاگنے کی روایت ڈالنے کی ضرورت ہے۔ بھارت ہی کی مثال لیں جہاں سرکاری ٹیلی ویژن (دور درشن) کے ایک درجن سے زائد سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینلز مختلف زبانوں میں شام چار سے رات آٹھ بجے تک پروگرام نشر کرتے ہیں۔ زرعی شعبے کی ترقی بڑے کاشتکاروں اور زمینداروں کے مفادات کا تحفظ کرکے ممکن نہیں۔ زراعت سے اربوں روپے کی آمدنی رکھنے والے ٹیکسوں سے مستثنیٰ شاہانہ زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن چھوٹے کاشتکاروں‘ مزدوروں اور محنت کشوں پر ہر ایک فصل کے بعد قرض کے بوجھ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے زرعی شعبے کو لاحق امراض اور جملہ خطرات کو دیکھتے ہوئے یہ شعبہ رعائت کا مستحق ہی نہیں بلکہ حقدار ہے اور وقت آ گیا ہے کہ ’’ترس کھا کر نہیں‘‘ بلکہ واجب الادأ حق سمجھ کر ’زرعی محنت کشوں کا حکومت کے ذمے قرض چکایا اُور ملک سنوارہ‘ جائے۔
Hopes of small farmers for upcoming budget