Economic warfare
اِقتصادی (مسلط) جنگ!
اٹھارہویں صدی میں ’مخصوص فوجی لباس (یونیفارم) پہنے سپاہی جنگ لڑا کرتے تھے۔ اُس عہد میں زیادہ سے زیادہ مسلح اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی تھی‘ جس پر عموماً اختیار نہیں رہتا تھا اور اِن جنگوں میں حصہ لینے والے دونوں فریقین کے وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوا کرتے تھے۔ یہی ہوتی کہ ’پہلی قسم (فرسٹ جنریشن)‘ کی اِس ’’دور‘‘ میں ’’جنگ کی تباہ کاریوں‘‘ سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا تھا۔ اُنیسویں صدی عیسوی میں صف بندی کرکے ایک دوسرے کے آمنے سامنے سینہ سپر ہو کر جسمانی طاقت کے بل بوتے پر لڑنے والا جنگی دور اختتام پذیر ہوا اُور اِس کی جگہ آتش گیر مادے سے دور تک مار کرنے والی ایک ایسی بندوق اور اسلحے نے لے لی جس میں ہر بار بارود ڈالنا پڑتا تھا۔ تیسری قسم (تھرڈ جنریشن) کی لڑائی میں حملہ آور برق رفتاری‘ خود کو پوشیدہ رکھنے اُور اچانک حملہ کرنے جیسے حکمت عملیوں سے کام لیتے رہے۔ تیسری قسم کی اِس جنگ میں فضائیہ‘ ٹینک اور بھاری گولہ باری (آرٹلری) کا استعمال کیا جاتا رہا۔
جنگیں آج کے زمانے میں لڑی جاتی ہیں لیکن حکمت عملی تبدیل ہو چکی ہے۔ موجودہ دور میں چوتھی قسم (فورتھ جنریشن) کی جنگیں لڑی جاتی ہیں جن میں روائتی و غیرروائتی ہتھیاروں کی بجائے کسی ملک کے اقتصادی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے اُس کی اقتصادیات کو اِس حد تک کمزور (ناتواں) کر دیا جاتا ہے کہ وہ خود اپنے آپ میں تحلیل ہو جائے کیونکہ جب کوئی ملک اقتصادی طور پر کمزور ہوگا تو وہ اپنے دفاع پر خاطرخواہ اخراجات بھی نہیں کر پائے گا اور یہی حکمت عملی ہے کہ بڑے پیمانے پر خون خرابہ کرنے کی بجائے ایسے طریقے اختیار کئے جائیں جس سے جنگ کے اہداف حاصل ہوں۔
سال 1970ء میں امریکہ کے صدر نکسن (Richard Nixon) نے سنٹرل انٹلی جنس ایجنسی (CIA) کو حکم دیا کہ وہ ’’(دشمن ملک چلی) کو اقتصادی طور پر ناتواں کر دو۔‘‘ سی آئی اے نے حسب حکم ایسا ہی کیا۔ اِسی طرح امریکہ نے پچاس سال لگا کر کیوبا کو اقتصادی طور پر نقصان پہنچایا۔ سال1990ء میں امریکہ نے عراق اور شمالی کوریا کے خلاف اقتصادی جنگ کا آغاز کیا تاکہ یہ دونوں ممالک اپنے وسائل دفاعی طاقت بڑھانے کے لئے استعمال نہ کرسکیں۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں عالمی طاقت امریکہ نے اقتصادی حربوں کے ذریعے اپنے مخالفین کو نقصان پہنچایا۔ 1947ء سے 1991ء کے عرصے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممال نے سوویت یونین کے خلاف اقتصادی جنگ لڑی۔ سوویت یونین کے پاس سات ہزار جوہری ہتھیار تھے لیکن اِن کے باوجود بھی وہ 1991ء میں پندرہ ٹکڑوں (آرمینیا‘ آذربائیجان‘ بیلاروس‘ ایستونیا‘ جورجیا‘ قازقستان‘ کرغستان‘ لاتھیا‘ لیتھونیا‘ مولداویا‘ رشیا‘ تاجکستان‘ ترکمنستان‘ یوکرئن اُور اُزبکستان) میں تقسیم ہونے سے خود کو نہ بچا سکا۔
آج کی دنیا میں قرض بھی ایک ہتھیار ہے اور سرمایہ دار ممالک ’قرض‘ دینے کے ذریعے ممالک پر اجارہ داری قائم کرتے ہیں۔ کسی ملک کو قرض پر قرض دیئے جانے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے قابل نہ رہے۔ اگر ہم اِس تناظر میں پاکستان کا جائزہ لیں تو سال 2001ء میں ملک کی کل خام پیداوار (جی ڈی پی) کا 4.6فیصد حصہ دفاع پر خرچ کر رہے تھے جس میں بتدریج کمی ہوتے یہ اخراجات جی ڈی پی کے مساوی 2.3 فیصد ہو چکے ہیں کیونکہ اِس عرصے کے دوران (سال دوہزار ایک سے) پاکستان کا قرض 3 ہزار 684ارب روپے سے بڑھ کر 25 ہزار 62 ارب روپے ہو چکا ہے۔ قومی قرضوں کا منفی اثر براہ راست دفاعی اخراجات پر پڑتا ہے اور جیسے جیسے قرض بڑھتا ہے دفاع پر اخراجات کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقتصادی جنگ مسلط کرنے والے کرنسی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں!
کسی ملک کی آمدن و اخراجات کے درمیان عدم توازن (بجٹ خسارہ) مجبور کرتا ہے کہ قرض لیا جائے۔ پاکستان کے سالانہ بجٹ کا خسارہ قریب 2 کھرب روپے ہے یعنی پاکستان کی کل سالانہ آمدنی 2 کھرب روپے سے کم ہے اور اس خسارے کو پورا کرنے کے لئے پاکستانی کرنسی کی قدر کم کرنا پڑے گی۔ بجٹ کا یہ خسارہ بھی جنگی ہتھیار ہے جس کی موجودگی میں پاکستان اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ نہیں کرسکتا۔ درحقیقت پاکستان پر اقتصادی جنگ مسلط کر دی گئی ہے جس میں بظاہر جانی نقصانات (خون خرابہ) نہیں ہو رہا کیونکہ زیراستعمال ہتھیار تبدیل ہیں۔ نئی جنگ کا ہتھیار قرض‘ عالمی تجارت‘ کرنسی‘ بجٹ خسارہ‘ ناپائیدار اِقتصادیات اور صحت و تعلیم کے علاؤہ ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری ہے‘ جن کے تکمیل یا اُن سے وابستہ اہداف عملاً حاصل کرنا ممکن نہ ہوں۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)






