Showing posts with label Android. Show all posts
Showing posts with label Android. Show all posts

Wednesday, December 27, 2017

Dec 2017: Roshan Pakistan - Android App

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
روشن پاکستان!
طرزحکمرانی کی اصلاح ہی ملک میں حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے‘ جس میں کم خرچ ’اِی گورننس‘ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ خوش آئند ہے کہ ’(وفاقی) وزارت برائے توانائی‘ کے ’پاور ڈویژن‘ نے ایک ’موبائل فون ایپلی کیشن‘ تخلیق کی ہے‘ جس کی رونمائی ’چھبیس دسمبر (دوہزارسترہ)‘ کے روز کی گئی اُور اِس ’’موبائل فون سافٹ وئر‘‘ کو ’’روشن پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

بال کی کھال اُتارنے کی ضرورت نہیں کہ آج کا پاکستان کتنا روشن ہے؟ اور کیا کسی موبائل فون سافٹ وئر کی تخلیق سے ملک میں جاری بجلی کی کمی دور ہو جائے گی؟ حکومت کا مؤقف ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اُنہی علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں اِس کی چوری زیادہ ہو‘ لیکن کیا بجلی چوری رپورٹ کرنے کے لئے کوئی ایسا طریقۂ کار (آپشن) وضع کیا جا سکتا ہے‘ جسے استعمال کرنے والوں کے لئے اپنی شناخت خفیہ رکھنا ممکن ہو اور بجلی چوری کی رپورٹ کرتے ہوئے خود کو محفوظ بھی سمجھیں؟ 

فی الوقت یہ بات بھی غنیمت ہے کہ بجلی کی تقسیم کار اور منتظم دس کمپنیوں (واپڈا‘ لاہور الیکٹرک‘ گوجرانولہ الیکٹرک‘ فیصل آباد الیکٹرک‘ اسلام آباد الیکٹرک‘ پشاور الیکٹرک‘ حیدرآباد الیکٹرک‘ سکھر الیکٹرک‘ کوئٹہ الیکٹرک‘ ٹرائبل ایریاز الیکٹرک سپلائی کمپنی) کے صارفین کی پریشانیوں اور بنیادی ہی سہی لیکن سہولیات فراہم کرنے کا کسی کو تو خیال آیا۔ بھلے ہی ’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ سے پاکستان روشن نہ ہو لیکن اِسے اَندھیروں میں رکھنے کے اُوقات تو ’کم سے کم‘ معلوم ہو ہی جائیں گے اُور یہ بھی کسی غنیمت سے کم نہیں۔ مثال کے طور پر صارفین اپنے ہاں خوشی یا غم کی تقریب کے لئے اُوقات کا تعین کرنے میں اِس ’سافٹ وئر‘ کی مدد لے سکتے ہیں اُور بجلی کی فراہمی کے اُوقات کے مطابق معمولات طے کر سکتے ہیں لیکن اِس بات کی ضمانت (گارنٹی) کون دے گا کہ دیئے گئے اُوقات کار حتمی (قابل بھروسہ) ہوں گی!؟ 

’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ تمام سمارٹ فونز جن میں ’اینڈرائڈ (Android)‘ اُور ’آئی اُو ایس (iOS)‘ آپریٹنگ سسٹمز شامل ہیں پر پر اِستعمال کیا جا سکتا ہے‘ لیکن اِس کے لئے انٹرنیٹ (ڈیٹا کنکشن یا وائی فائی نیٹ) سے منسلک ہونا لازمی (ضروری) ہے۔ سافٹ وئر کو محدود رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے جس کے ذریعے کسی بھی صارف کو بلاقیمت اور کسی بھی وقت چار بنیادی سہولیات (معلومات) فراہم کی جاتی ہیں۔ 1: کسی بھی علاقے میں لوڈشیڈنگ کا شیڈول (معمولات) کیا ہیں؟ 2: متبادل ماہانہ بجلی بل حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 3: نیٹ میٹرنگ (استعمال شدہ بجلی) کے بارے معلومات اور 4: بجلی کی فی یونٹ قیمت کی بنیاد پر اوسط ماہانہ بل حاصل کرنا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ ماضی میں یہ کام بناء متعلقہ تقسیم کار دفتر کا دورہ کئے بناء ممکن نہیں ہوتا تھا۔

وزارت توانائی کے ذیلی اِدارے ’پاور اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (لاہور)‘ کا تخلیق کردہ یہ پہلا سافٹ وئر نہیں بلکہ اِس سے قبل ’بجلی میٹر ریڈنگ‘ بذریعہ اینڈرائڈ موبائل فون جیسے ’انقلابی سافٹ وئر‘ سے یوٹیلٹی بلز بارے صارفین کی بڑی شکایت کا اَزالہ ہو چکا ہے اور عموماً میٹرریڈرز جس انداز میں گھر بیٹھے خرچ ہونے والے بجلی یونٹس کا اندراج کر دیا کرتے تھے یا کسی سب ڈویژن میں بجلی کے چوری شدہ یونٹ پورا کرنے کے لئے صارفین کے بلوں میں یونٹس کا اضافہ کرنا ایک معمول ہوا کرتا تھا تو اب یہ شکایات ممکن نہیں رہیں کیونکہ ہر صارف پر اُس کے میٹر کی ریڈنگ سے متعلق تصویر پرنٹ ہوتی ہے۔ ’روشن پاکستان ایپ‘ کے ذریعے اگر صارفین کو اپنے بجلی میٹروں کی تصاویر اِرسال کرنے کی سہولت بھی دے دی جائے تو اِس سے اُن شکایات کی ’داد رسی‘ ہوگی‘ جن کے بلوں پر تصاویر (پرنٹنگ کی وجہ سے) پڑھنے کے قابل نہیں ہوتیں۔ 

اِسی طرح ماہانہ بل کی اقساط کروانے اور آخری تاریخ کے بعد جمع کئے جانے والے بلوں کا مرکزی ڈیٹابیس میں اندارج کرنے کی سہولت ہونی چاہئے۔ بجلی کے نئے کنکشن کی درخواست ‘ کنکشن عارضی یا مستقل معطل کرنے اور صارف کے کوائف میں تبدیلی کے بارے میں سہولیات اور طریقۂ کار بارے معلومات بھی اگر آن لائن فراہم کر دی جائیں تو اِس سے متعلقہ دفاتر سے رجوع کرنے والے صارفین کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔

پاکستان میں ’بجلی کا ترسیلی نظام‘ سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے۔ اِس بارے میں ’قومی سطح پر جائزہ‘ ضروری ہے۔ بجلی کی بوسیدہ تاریں نہ صرف برقی رو کی ’بلارکاوٹ ترسیلی مراحل‘ کی راہ میں حائل رہتی ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں بالخصوص جب ہم خیبرپختونخوا کے شہری اُور بالائی علاقوں کی بات کرتے ہیں جہاں موسم سرما میں شدید برفباری‘ مٹی کے تودے گرنے اور موسم گرما میں ملک کے دیگر حصوں کی نسبت زیادہ بارشیں اور اِن سے پیدا ہونے والے سیلاب یا ندی نالوں میں طغیانی پیدا ہوتی ہے‘ جس کا پہلا منفی اثر بجلی کی فراہمی پر مرتب ہوتا ہے۔ 

بجلی کا نظام یوں تو سارا سال ہی کسی نہ کسی صورت متاثر (کمی بیشی کا شکار) رہتا ہے لیکن ایسے علاقوں کے بجلی صارفین کو بالخصوص بذریعہ ’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ حکام تک رسائی دی جاسکتی ہے جو برقی رو کی کمی نہیں بلکہ ترسیلی نظام کی بوسیدگی کے باعث مشکلات سے دوچار ہیں۔ 

وزارت توانائی کو چاہئے کہ وہ خیبرپختونخوا میں ’بجلی کے ترسیلی نظام‘ کی وسعت و اصلاح کے لئے بھی کچھ مالی وسائل مختص کرے۔ بطور خاص ’جاری میگا ترقیاتی منصوبوں‘ کی مثالیں موجود ہیں‘ جہاں بجلی کا ترسیلی نظام جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جارہا جیسا کہ پشاور کی میٹرو بس (ریپیڈ بس ٹرانزٹ ’آر بی ٹی‘) کے لئے بجلی کے کھمبوں کو اکھاڑ کر دوبارہ ننگی تاریں آہنی کھمبوں پر آویزاں کر دی گئی ہیں۔ 

گھنٹہ گھر سے گورگٹھڑی (تحصیل) تک ’ہیرئٹیج ٹریل‘ کے لئے بھی ’بجلی کی تاریں بصورت جال (گھچے) بڑا چیلنج ہیں جبکہ مسجد مہابت خان سے متصل صرافہ بازار اُور اندرون شہر کے جملہ گلی محلے‘ کوچے اور تجارتی مراکز میں بجلی کے ’اڑھے ترچھے‘ تار ’پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو)‘ کی کارکردگی (سوچ بچار) کا منہ بولتا ثبوت ہیں! اگر ’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ کے ذریعے بجلی صارفین کی شکایت اُور تاثرات (فیڈ بیک) حاصل کرنے کی سبیل بھی مہیا کر دی جائے تو اِس سے بناء کسی اضافی خرچ یا کوشش گرانقدر معلومات (ڈیٹا) حاصل کیا جا سکے گا۔

بجلی کے وہ صارفین جو سمارٹ فونز‘ انٹرنیٹ اور اِی میل سے لیس ہیں‘ اُنہیں پرنٹ شدہ بل اِرسال کرنے کی بجائے الیکٹرانک بلوں کی ترسیل سے کروڑوں کی بچت الگ سے ممکن ہے۔ ’اِی گورننس‘ کا اطلاق جس قدر زیادہ اور جس قدر وسیع پیمانے پر کیا جائے گا‘ اِس سے اُتنے ہی ماحول دوست مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔ آزمائش شرط ہے۔
۔۔

Friday, May 26, 2017

May2017: Tracking budget with a sense of responsibility!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِصلاح اَحوال: ذمہ داریاں!
جمہوریت کے لغوی معنی ’’لوگوں کی حکمرانی‘‘ کے ہیں۔ یہ اصطلاح دو یونانی الفاظ ڈیمو (Demo) یعنی لوگ اور کراٹوس (Kratos) یعنی حکومت کا مجموعہ ہے۔ یونانی مفکر ہیروڈوٹس (Herodotus) کے بقول ’’جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں۔‘‘ امریکہ کے صدر ابراہم لنکن کی دانش میں ’’عوام کی حاکمیت‘ عوام کے ذریعے اور عوام پر ہوتی ہے‘‘ لیکن جمہوریت کو ’شفاف‘ اور ’جوابدہ‘ بنانے کے لئے دنیا کے ہر جمہوری ملک کے اپنے تجربات اور اُن کے حاصل ہونے والے نتائج الگ الگ ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت سے جڑی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے غیرملکی امداد سے کئی تنظیمیں (این جی اُوز) کام کر رہی ہیں جن کی ’’سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (سی پی ڈی آئی)‘‘ بھی شامل ہے‘ جس نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی آمدن واخراجات کے میزانیئے (بجٹ) کی معلومات کو موبائل فون ایپ (اینڈروائڈ سافٹ وئر) کے ذریعے عوام تک پہنچانے کا وسیلہ مہیا کیا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی منفرد ’موبائل ایپلی کیشن‘ کے ذریعے گویا سمندر کو ایک کوزے میں بند کر دیا گیا ہو۔ کم و بیش پانچ میگابائٹس کی ’بجٹ ٹریکر‘ (Budget Tracker) نامی بلاقیمت ’ایپلی کیشن‘ درجہ بندی کے لحاظ سے ’ایپل سٹور‘ کے ’شعبۂ تعلیم‘ میں رکھی گئی ہے‘ جہاں سے اِسے تین ماہ کے دوران ایک سو سے زائد افراد ’ڈاؤن لوڈ‘ کر چکے ہیں جن میں سے 66 صارفین نے 5 میں سے 4.9 سٹارز دے کر پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ یہ ’نئی ایپلی کیشن‘ انگریزی زبان میں تخلیق کی گئی ہے جس سے استفادہ کرنے کے لئے صارف کا بنیادی انگریزی سے خواندہ ہونا ضروری ہے اور چونکہ دفتری زبان بالخصوص اقتصادی اصطلاحات ابھی اُردو یا علاقائی زبانوں میں ترجمہ (ٹرانسلیٹ) نہیں ہوئیں‘ اِس لئے تکنیکی اور فنی وجوہات کی بناء پر عام الرائج ’انگریزی‘ زبان ہی اِس موقع پر درست (دانشمندانہ) انتخاب (فیصلہ) ہے لیکن سب کچھ زیادہ ٹھیک اور مثالی بھی نہیں!

خیبرپختونخوا کے لئے ’سی پی ڈی آئی‘ کے صوبائی کورآرڈینیٹر شمس الہادی کے بقول بجٹ کے اعدادوشمار موبائل فون کے ذریعے عوام تک پہنچانے کا تصور کئی سال سے زیرغور تھا لیکن اِس کے لئے درکار مالی وسائل دستیاب ہونے کے بعد سافٹ وئر کی تیاری میں ’چار ماہ‘ لگے۔ کسی سافٹ وئر کی تخلیق سے زیادہ اُس کے بیٹا (beta) ورژنز کی جانچ کے لئے وقت درکار ہوتا ہے اور اگر ’بجٹ ٹریکر‘ کی تیاری میں بھی عجلت سے کام نہ لیا گیا ہوتا 1: مذکورہ ایپلی کیشن اینڈرائرڈ کے تمام سافٹ وئرز کے لئے قابل استعمال ہوتی۔ پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے زمینی حقائق پیش نظر رکھنا ضروری تھے‘ کیونکہ لازمی نہیں کہ ہر موبائل صارف کے پاس غیرملکی امداد سے خریدے یا تحفتاً ملنے والا کوئی ’جدید موبائل فون‘ ہی ہو! پرانے ماڈل کے اینڈرائڈ فونز رکھنے والوں پر مشتمل اکثریت کا بھی خیال کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ بجٹ اعدادوشمار عوام سے زیادہ صحافیوں کے لئے کارآمد ہو سکتے ہیں‘ جن کے لئے ہر وقت اپ ڈیٹ رہنا‘ مختلف دفاتر کے چکر اور سالہا سال کے اعدادوشمار ہر وقت ساتھ رکھنا ممکن نہیں ہوتا لیکن اگر ایسے صحافیوں کے پاس جدید انڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم نہ ہوئے اور اُن کا موبائل فون چند سال پرانے ماڈل کا ہوا تو ’بجٹ ٹریکر‘ سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اِسی طرح عام آدمی کے لئے بجٹ کے اعدادوشمار سمجھنا مشکل ہوتا ہے جنہیں صحافی خاص مہارت سے آسان بناتے ہیں تو اگر ’بجٹ ٹریکر‘ میں ’نیوز رپورٹس‘ اور ’بلاگز‘ کو بھی شامل کر لیا جائے تو اِنہیں اعدادوشمار سے لنک کر دیا جائے تو صارفین کو تکنیکی اصطلاحات یا بجٹ میں مختص مالی وسائل کے دیگر متعلقہ پہلوؤں سے بھی آگاہی ہو گی اگر وہ مزید جاننے کا خواہشمند ہو۔ 2: بجٹ ٹریکر ایپلی کیشن اینڈرائڈ سسٹم کے لئے بنائی گئی ہے جبکہ اِسے بیک وقت آئی فونز‘ آئی پیڈز اُور ونڈوز آپریٹنگ سسٹمز رکھنے والوں کے لئے تخلیق کیا جاسکتا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر اِس حکمت عملی کو کسی دوسرے مرحلے (شاید مزید فنڈنگ) تک کے لئے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ 

سمجھا جا سکتا ہے کہ ’این جی اُوز‘ کے ہاتھ پاؤں بندھے بھی ہوتے ہیں انہیں ڈونر ایجنسیوں کو متاثر کرنے کے لئے بھی بہت کچھ نمائشی طور سے کرنا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں بہت سے ’این جی اوز‘ صرف اِس لئے فعال دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اُن کے پاس ’رپورٹ رائٹنگ‘ کرنے کی مہارت ہوتی ہے! این جی اُوز معروف (مہنگے) ہوٹلوں میں تقاریب کا انعقاد کر کے اپنی کارکردگی اصلاً کی بجائے واجبی اور رپورٹوں کی صورت دکھانا کی حد تک محدود رہتے ہیں تو اِس میں بھی مجبوری (ضرورت) کا عنصر شامل ہوتا ہے لیکن ’سی پی ڈی آئی‘ کاغذی شیر نہیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ نمائشی محرکات (ضروریات) کے باعث ’بجٹ ٹریکر‘ بنانے والوں نے ’عجلت‘ کا غیرضروری مظاہرہ کیا وگرنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ مختلف ’پلیٹ فارمز‘ پر موافقت (compatibility) کی جانچ کئے بناء ’ایپلی کیشن‘ پنجاب (لاہور) کے بعد خیبرپختونخوا (پشاور) میں لانچ کی جاتی۔ 

یہ اَمر بھی افسوسناک ہے کہ لاہور میں متعارف (لانچنگ) کرنے کے 2 ہفتوں بعد پشاور میں ’فخریہ پیشکش‘ تک کے عرصے میں کہیں سے بھی فیڈبیک میں ’موافقت‘ کی بات سامنے نہیں آئی۔ دیکھنا ہوگا کہ جن عام صارفین نے ’بجٹ ٹریکر‘ کو انتہائی پسندیدگی سے نوازہ ہے وہ کہیں سافٹ وئر ڈویلپئرز یا ’سی پی ڈی آئی‘ کے ملازمین ہی تو نہیں! جس طرح ہم حکومت اور سرکاری ملازمین سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرض شناس ثابت ہوں بالکل اِسی طرح غیرسرکاری تنظیموں سے بھی ذمہ دارانہ طرزعمل کی توقع کرتے ہوئے اُمید ہے کہ بیرونی امداد سے ملنے والی ہر ایک پائی کو عام آدمی (ہم عوام) کی امانت سمجھتے ہوئے خرچ کیا جائے گا۔ صحافیوں کی جانب سے بازگیری (فیڈبیک) نہ ملنے کی بنیادی وجہ بھی غورطلب ہے کہ پاکستان میں ’ٹیکنالوجی سے متعلق صحافت (جنرلزم)‘ پروان نہیں چڑھی۔ اُردو اخبارات پر سیاسی موضوعات حاوی رہتے ہیں اور ٹیکنالوجی جیسی بوریت کے لئے اشاعتوں بھی ایجادات متعارف کرانے تک محدود رہتی ہیں۔ 

خوش آئند ہے کہ ’سی پی ڈی آئی‘ کی جانب سے ملک کے دیگر حصوں کی طرح خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع صحافیوں کے لئے حفاظتی تدابیر سے آگاہی‘ غیرمعمولی حالات میں صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی‘ صحافتی اصولوں اور اقدار سے متعلق وقتاً فوقتاً تعارفی و تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے لیکن اگر آئندہ تربیتی ورکشاپوں کا نصاب (لائحہ عمل) مرتب کرتے وقت ٹیکنالوجی اور مرکوزیت (convergence)‘ کے مضامین کو بھی نصاب میں شامل کر لیا جائے تو اِس سے الیکٹرانک میڈیا اور صحافت کے بدلتے اسلوب و مستقبل پر دور رس (مثبت) اثرات مرتب ہوں گے۔