Showing posts with label E Governance. Show all posts
Showing posts with label E Governance. Show all posts

Wednesday, December 27, 2017

Dec 2017: Roshan Pakistan - Android App

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
روشن پاکستان!
طرزحکمرانی کی اصلاح ہی ملک میں حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے‘ جس میں کم خرچ ’اِی گورننس‘ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ خوش آئند ہے کہ ’(وفاقی) وزارت برائے توانائی‘ کے ’پاور ڈویژن‘ نے ایک ’موبائل فون ایپلی کیشن‘ تخلیق کی ہے‘ جس کی رونمائی ’چھبیس دسمبر (دوہزارسترہ)‘ کے روز کی گئی اُور اِس ’’موبائل فون سافٹ وئر‘‘ کو ’’روشن پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

بال کی کھال اُتارنے کی ضرورت نہیں کہ آج کا پاکستان کتنا روشن ہے؟ اور کیا کسی موبائل فون سافٹ وئر کی تخلیق سے ملک میں جاری بجلی کی کمی دور ہو جائے گی؟ حکومت کا مؤقف ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اُنہی علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں اِس کی چوری زیادہ ہو‘ لیکن کیا بجلی چوری رپورٹ کرنے کے لئے کوئی ایسا طریقۂ کار (آپشن) وضع کیا جا سکتا ہے‘ جسے استعمال کرنے والوں کے لئے اپنی شناخت خفیہ رکھنا ممکن ہو اور بجلی چوری کی رپورٹ کرتے ہوئے خود کو محفوظ بھی سمجھیں؟ 

فی الوقت یہ بات بھی غنیمت ہے کہ بجلی کی تقسیم کار اور منتظم دس کمپنیوں (واپڈا‘ لاہور الیکٹرک‘ گوجرانولہ الیکٹرک‘ فیصل آباد الیکٹرک‘ اسلام آباد الیکٹرک‘ پشاور الیکٹرک‘ حیدرآباد الیکٹرک‘ سکھر الیکٹرک‘ کوئٹہ الیکٹرک‘ ٹرائبل ایریاز الیکٹرک سپلائی کمپنی) کے صارفین کی پریشانیوں اور بنیادی ہی سہی لیکن سہولیات فراہم کرنے کا کسی کو تو خیال آیا۔ بھلے ہی ’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ سے پاکستان روشن نہ ہو لیکن اِسے اَندھیروں میں رکھنے کے اُوقات تو ’کم سے کم‘ معلوم ہو ہی جائیں گے اُور یہ بھی کسی غنیمت سے کم نہیں۔ مثال کے طور پر صارفین اپنے ہاں خوشی یا غم کی تقریب کے لئے اُوقات کا تعین کرنے میں اِس ’سافٹ وئر‘ کی مدد لے سکتے ہیں اُور بجلی کی فراہمی کے اُوقات کے مطابق معمولات طے کر سکتے ہیں لیکن اِس بات کی ضمانت (گارنٹی) کون دے گا کہ دیئے گئے اُوقات کار حتمی (قابل بھروسہ) ہوں گی!؟ 

’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ تمام سمارٹ فونز جن میں ’اینڈرائڈ (Android)‘ اُور ’آئی اُو ایس (iOS)‘ آپریٹنگ سسٹمز شامل ہیں پر پر اِستعمال کیا جا سکتا ہے‘ لیکن اِس کے لئے انٹرنیٹ (ڈیٹا کنکشن یا وائی فائی نیٹ) سے منسلک ہونا لازمی (ضروری) ہے۔ سافٹ وئر کو محدود رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے جس کے ذریعے کسی بھی صارف کو بلاقیمت اور کسی بھی وقت چار بنیادی سہولیات (معلومات) فراہم کی جاتی ہیں۔ 1: کسی بھی علاقے میں لوڈشیڈنگ کا شیڈول (معمولات) کیا ہیں؟ 2: متبادل ماہانہ بجلی بل حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 3: نیٹ میٹرنگ (استعمال شدہ بجلی) کے بارے معلومات اور 4: بجلی کی فی یونٹ قیمت کی بنیاد پر اوسط ماہانہ بل حاصل کرنا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ ماضی میں یہ کام بناء متعلقہ تقسیم کار دفتر کا دورہ کئے بناء ممکن نہیں ہوتا تھا۔

وزارت توانائی کے ذیلی اِدارے ’پاور اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (لاہور)‘ کا تخلیق کردہ یہ پہلا سافٹ وئر نہیں بلکہ اِس سے قبل ’بجلی میٹر ریڈنگ‘ بذریعہ اینڈرائڈ موبائل فون جیسے ’انقلابی سافٹ وئر‘ سے یوٹیلٹی بلز بارے صارفین کی بڑی شکایت کا اَزالہ ہو چکا ہے اور عموماً میٹرریڈرز جس انداز میں گھر بیٹھے خرچ ہونے والے بجلی یونٹس کا اندراج کر دیا کرتے تھے یا کسی سب ڈویژن میں بجلی کے چوری شدہ یونٹ پورا کرنے کے لئے صارفین کے بلوں میں یونٹس کا اضافہ کرنا ایک معمول ہوا کرتا تھا تو اب یہ شکایات ممکن نہیں رہیں کیونکہ ہر صارف پر اُس کے میٹر کی ریڈنگ سے متعلق تصویر پرنٹ ہوتی ہے۔ ’روشن پاکستان ایپ‘ کے ذریعے اگر صارفین کو اپنے بجلی میٹروں کی تصاویر اِرسال کرنے کی سہولت بھی دے دی جائے تو اِس سے اُن شکایات کی ’داد رسی‘ ہوگی‘ جن کے بلوں پر تصاویر (پرنٹنگ کی وجہ سے) پڑھنے کے قابل نہیں ہوتیں۔ 

اِسی طرح ماہانہ بل کی اقساط کروانے اور آخری تاریخ کے بعد جمع کئے جانے والے بلوں کا مرکزی ڈیٹابیس میں اندارج کرنے کی سہولت ہونی چاہئے۔ بجلی کے نئے کنکشن کی درخواست ‘ کنکشن عارضی یا مستقل معطل کرنے اور صارف کے کوائف میں تبدیلی کے بارے میں سہولیات اور طریقۂ کار بارے معلومات بھی اگر آن لائن فراہم کر دی جائیں تو اِس سے متعلقہ دفاتر سے رجوع کرنے والے صارفین کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔

پاکستان میں ’بجلی کا ترسیلی نظام‘ سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے۔ اِس بارے میں ’قومی سطح پر جائزہ‘ ضروری ہے۔ بجلی کی بوسیدہ تاریں نہ صرف برقی رو کی ’بلارکاوٹ ترسیلی مراحل‘ کی راہ میں حائل رہتی ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں بالخصوص جب ہم خیبرپختونخوا کے شہری اُور بالائی علاقوں کی بات کرتے ہیں جہاں موسم سرما میں شدید برفباری‘ مٹی کے تودے گرنے اور موسم گرما میں ملک کے دیگر حصوں کی نسبت زیادہ بارشیں اور اِن سے پیدا ہونے والے سیلاب یا ندی نالوں میں طغیانی پیدا ہوتی ہے‘ جس کا پہلا منفی اثر بجلی کی فراہمی پر مرتب ہوتا ہے۔ 

بجلی کا نظام یوں تو سارا سال ہی کسی نہ کسی صورت متاثر (کمی بیشی کا شکار) رہتا ہے لیکن ایسے علاقوں کے بجلی صارفین کو بالخصوص بذریعہ ’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ حکام تک رسائی دی جاسکتی ہے جو برقی رو کی کمی نہیں بلکہ ترسیلی نظام کی بوسیدگی کے باعث مشکلات سے دوچار ہیں۔ 

وزارت توانائی کو چاہئے کہ وہ خیبرپختونخوا میں ’بجلی کے ترسیلی نظام‘ کی وسعت و اصلاح کے لئے بھی کچھ مالی وسائل مختص کرے۔ بطور خاص ’جاری میگا ترقیاتی منصوبوں‘ کی مثالیں موجود ہیں‘ جہاں بجلی کا ترسیلی نظام جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جارہا جیسا کہ پشاور کی میٹرو بس (ریپیڈ بس ٹرانزٹ ’آر بی ٹی‘) کے لئے بجلی کے کھمبوں کو اکھاڑ کر دوبارہ ننگی تاریں آہنی کھمبوں پر آویزاں کر دی گئی ہیں۔ 

گھنٹہ گھر سے گورگٹھڑی (تحصیل) تک ’ہیرئٹیج ٹریل‘ کے لئے بھی ’بجلی کی تاریں بصورت جال (گھچے) بڑا چیلنج ہیں جبکہ مسجد مہابت خان سے متصل صرافہ بازار اُور اندرون شہر کے جملہ گلی محلے‘ کوچے اور تجارتی مراکز میں بجلی کے ’اڑھے ترچھے‘ تار ’پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو)‘ کی کارکردگی (سوچ بچار) کا منہ بولتا ثبوت ہیں! اگر ’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ کے ذریعے بجلی صارفین کی شکایت اُور تاثرات (فیڈ بیک) حاصل کرنے کی سبیل بھی مہیا کر دی جائے تو اِس سے بناء کسی اضافی خرچ یا کوشش گرانقدر معلومات (ڈیٹا) حاصل کیا جا سکے گا۔

بجلی کے وہ صارفین جو سمارٹ فونز‘ انٹرنیٹ اور اِی میل سے لیس ہیں‘ اُنہیں پرنٹ شدہ بل اِرسال کرنے کی بجائے الیکٹرانک بلوں کی ترسیل سے کروڑوں کی بچت الگ سے ممکن ہے۔ ’اِی گورننس‘ کا اطلاق جس قدر زیادہ اور جس قدر وسیع پیمانے پر کیا جائے گا‘ اِس سے اُتنے ہی ماحول دوست مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔ آزمائش شرط ہے۔
۔۔

Tuesday, May 23, 2017

May2017: Social Media as Crime!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جبر مسلسل!
کبھی کبھار ’شاعرانہ تخیل‘ حقیقت کے اِظہار و بیان میں ضرب المثل بن جاتا ہے۔ ساغر صدیقی (وفات اُنیس جولائی اُنیس سو چوہتر) کا یہ مصرعہ شاید اَحباب نے بہت دن سے نہ پڑھا ہو کہ ’’جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں!‘‘ اور اِس تخیل کی تمہید میں ایک ایسے ’جبرمسلسل‘ کا ذکر جوڑ دیا گیا‘ جو بطور سزا تجویز کرنے والوں نے گویا زندگی کے معنی و مفہوم ہی بدل کر رکھ دیئے ہوں۔ بالکل اِسی قسم کی ’خوف و دہشت پر مبنی صورتحال کا سامنا پاکستان میں ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل استعمال کرنے والوں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائمز ونگ اور کاونٹر ٹریرازم ونگ سے درپیش ہے۔ عجب ہے کہ گذشتہ چند روز میں ملک بھر سے بائیس ایسے سوشل میڈیا صارفین کو طلب (گرفتار) اور سبھی کو بعدازاں بناء کسی سزا رہا کیا گیا‘ جنہوں نے پاکستان کے فوجی سربراہ اور فوج کے ادارے پر تنقید کی تھی۔ پاکستان کے آئین کی رو سے بیک وقت اِس بات کی آزادی بھی حاصل ہے کہ ہر پاکستانی جس کسی موضوع کے بارے میں اظہار خیال کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے اور اِسی آئین ہی میں کی گئی ایک ترمیم ضمنی طور پر ریاست کی نظر سے ناپسندیدہ اظہار رائے کرنے والا ’مجرم‘ کہلاتا ہے کیونکہ اگر ریاست کسی تبصرے پر ’معترض‘ ہوا تو یہ ایسا اظہار رائے قابل گرفت و سزا جرم بن جائے گا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے پہلے تو قانون کی تشریح اور پھر اُن تمام اَلفاظ‘ جملوں اُور اِستعاروں کے بارے میں وضاحت ہونی چاہئے کہ جن کا استعمال کرتے ہوئے اگر کوئی صارف تنقید کے نشتر چلائے گا‘ تو وہ ’مجرم‘ تصور ہوگا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ پر اکاونٹ بنانے کے لئے بالغ ہونے کی شرط ہوتی ہے لیکن کسی بھی ’فرضی نام‘ سے اکاونٹ (کھاتہ) تخلیق کرنے والے اپنی عمر کے بارے جھوٹ بول کر بھی ایک ایسی تیزرفتار دنیا کے باشندے بن جاتے ہیں جہاں کے باسی ’ہر ایک سکینڈ‘ میں چھ ہزار سے زائد پیغامات (ٹوئٹس) کا تبادلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رہے کسی ایک دن‘ فی سکینڈ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ پیغامات ’’1لاکھ 43 ہزار 999 ٹوئٹس‘‘ سال دوہزار تیرہ میں ریکارڈ ہوئے جبکہ عمومی حالات میں ہر دن اُوسطاً (کم سے کم) 50 کروڑ ٹوئٹر پیغامات اِرسال کئے جاتے ہیں اور یہی ٹوئٹر پاکستان کی حکومت کے لئے ’درد سر‘ بنا ہوا ہے‘ جس کا اِستعمال ہر سطح کے سیاست دانوں سے لیکر افسرشاہی اُور قومی اِداروں کی ترجمانی کرنے والے کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی طرح دوسروں کو یہ حق دینے کو تیار نہیں کہ وہ اُن سے اختلاف رائے کا اظہار کر سکیں۔ 

بنیادی مسئلہ اُور غلط فہمی اَلفاظ کے غلط چناؤ کی وجہ سے پیش آ رہی ہے۔ ہمارے ہاں نظام تعلیم کی خامی (کمزوری) یہ ہے کہ اِس میں الفاظ کا اِستعمال تو سکھایا جاتا ہے لیکن الفاظ کے ’’معنی و مفہوم اُور اَثرات‘‘ کے بارے طلباء و طالبات کو ’بہرہ مند‘ نہیں کیا جاتا۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور اپنے تعارف میں تعلیمی اسناد کی فہرستیں گردان کرنے والوں کے ہاں بھی الفاظ کا مضحکہ خیز استعمال سننے کو ملتا ہے تو تعلیمی نصاب کے گرد طواف کرنے والے بیچارے عام طلباء و طالبات سے کس طرح اُمیدیں (توقعات) وابستہ کی جا سکتیں کہ وہ ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولیں گے یا ٹوئٹر سمیت سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے خاطرخواہ احتیاط کا مظاہرہ کریں گے۔ 

وفاقی وزارت داخلہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ زمانہ تبدیل ہو گیا ہے اور انٹرنیٹ صارفین کی حفظ مراتب کے لحاظ سے درجہ بندی نہیں کی جاسکتی ہے تو بہتری اِسی میں ہے کہ متنازعہ امور کو ہوا دینے والوں سے ’منطق (عقلی دلیل)‘ سے بات کی جائے اُور اگر کوئی صارف متفق نہ بھی ہو تب بھی حکومت پاکستان کا مؤقف ہر پیغام کے ساتھ منسلک ہوتا چلا جائے گا‘ جس سے عالمی سطح پر پاکستان یا قومی اداروں اور اہم شخصیات (بالخصوص پاک فوج کے سربراہ) کے بارے پھیلنے والا تاثر زائل کرنے میں مدد ملے گی یا پھر حکومت کے نکتۂ نظر سے جو حقائق ہیں اُنہیں عام کیا جا سکے گا۔ سماجی رابطہ کاری کے وسائل یا اظہار رائے پر پابندی عائد کرنے کی بجائے وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو فعال ’سوشل میڈیا حکمت عملیاں‘ تشکیل دینا پڑیں گی تاکہ ہر حملے کا بروقت (مستعدی) اُور پوری طرح مقابلہ (دفاع) عملاً ممکن بنایا جا سکے۔

منظرنامہ ملاحظہ کیجئے کہ پاکستان میں سماجی رابطہ کاری کے وسائل سے اِستفادہ کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق ’تحریک انصاف‘ سے ہے یا وہ قومی سلامتی سمیت ریاستی اِداروں کے بارے میں وہی رائے رکھتے ہیں یا اُنہی ملتے جلتے نظریات کا پرچار کرتے ہیں‘ جن کی تحریک انصاف تائید کرتی ہے۔ پاکستان میں سخت گیر مالی نظم و ضبط کے قیام‘ احتساب‘ مالی و انتظامی امور میں بدعنوانیوں کے خاتمے اور طرزحکمرانی کی اِصلاح پر مبنی ’تحریک انصاف‘ کے مؤقف (سیاسی منشور) کی تائید کرنے والے کی بڑی تعداد ہر وقت ٹوئٹر اور فیس بک پر ’حاضر جناب (آن لائن)‘ رہتی ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی صارف تحریک انصاف کے حق یا اس کے خلاف کچھ لکھے اور اُسے ترکی بہ ترکی (فوراً) جواب نہ ملے۔ 

وفاقی حکمراں جماعت ’نواز لیگ‘ کو سوشل میڈیا پر فعال (متحرک) ہونے میں اگرچہ دیر ہوئی تاہم اُن کا ’سوشل میڈیا سیل‘ زیادہ منظم اور ہر دن پھل پھول رہا ہے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے ’سوشل میڈیا شعبے‘ ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے لئے جس طرح سرگرم ہیں اور جس طرح رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ’سوشل میڈیا وسائل‘ میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اُسے مدنظر رکھتے ہوئے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں ’سوشل میڈیا‘ بھی ذرائع ابلاغ کے دیگر وسائل کی طرح کسی فرد یا جماعت کو ہیرو یا زیرو بنانے میں غیرمعمولی کردار ادا کریں گے۔ 

سوشل میڈیا کو پاکستان کی سیاست میں وہ مقام مل چکا ہے جہاں اِس کے ’’معنوی وجود‘‘ سے نہ تو انکار ممکن ہے اور نہ ہی اِسے غیراہم قرار دیتے ہوئے ’نظرانداز‘ کیا جاسکتا ہے‘ لہٰذا بہتری (عافیت) اِسی میں ہے کہ عصری تقاضوں (تبدیلیوں) کا (کماحقہ) ادراک کیا جائے۔ قواعد و ضوابط کے اطلاق میں سختی اور پابندیاں عائد کرنے کی بجائے ’سوشل میڈیا صارفین‘ کی تعلیم و رہنمائی کے لئے تربیت کا اہتمام و انتظام کیا جائے۔ ’سوشل میڈیا‘ خیر محض ہے جس کا تعمیری (اپنے حق میں) استعمال کا لائحہ عمل وقت کی ضرورت اُور اس کے ذریعے ’شرارت‘ تخریب کاری‘ یا معصومیت میں خطا کاروں کی نیت (پس پردہ عزائم) بھی پیش نظر رہنی چاہئے!

Saturday, June 27, 2015

Jun2015: Dream of E Governance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اِی گورننس: جاگتے خواب
ٹیکنالوجی کے ذریعے طرز حکمرانی بالخصوص سرکاری اِداروں کو مستعد و فعال اُور مجموعی کارکردگی و ساکھ بہتر بنانے کے لئے ’اِی گورننس‘ کی ضرورت و اہمیت اُجاگر کرنے کا ’مقصد‘ اُس عام آدمی کی مشکلات کم کرنی ہیں‘ جس کی قسمت میں سوائے دھتکار اگر کچھ ہے تو تسلیاں اور جاگتی آنکھوں کے خواب۔ اِس سلسلے میں ستائیس جون کو شائع ہونے والے کالم سے متعلق ’جناب غازی خان‘ نے بذریعہ اِی میل چند ایسے اضافی اَمور کی نشاندہی کی ہے‘ جن کا اشارتاً ذکر تو موجود ہے لیکن اُن کی وضاحت طوالت سے گریز کے سبب بصورت تشنگی محسوس کی گئی ہے۔

طویل کلام (فیڈبیک) کا خلاصہ یہ ہے کہ
’’سرکاری اِداروں میں حاضری کا واجبی سا نظام تو موجود ہے لیکن اِس پر اعلیٰ و ادنی ملازمین الگ الگ طریقوں سے عمل کرتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے مثال دی ہے کہ ۔۔۔ ’’جس طرح سکول میں اساتذہ کی حاضری کا رجسٹر ملتا ہے جس میں پرنسپل کے علاؤہ باقی سبھی عملہ باقاعدگی سے اپنے حاضر ہونے کی سند درج کرتا ہے۔اسی طرح دیگر سرکاری دفاتر میں بھی حاضری لگانے کا عمل صرف اور صرف ماتحت عملے کی حد تک ہی محدود ہے جن کی جسمانی موجودگی کا دفتری اُوقات میں حساب کتاب رکھا جاتا ہے اور دفتر کے انتظامی سربراہ کی عدم موجودگی (غیرحاضری) پر سوال اُٹھایا جائے تو کہا جاتا ہے کہ ’صاحب یا تو میٹنگ یا پھر دورے (سائٹ) پر گئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔‘‘ یہ حقیقت بھی راز نہیں رہی کہ اگر کوئی فرض شناس اہلکار اپنے نگران و انتظامی افسر کی ’من مانیوں‘ یا سرکاری وسائل کے بیجا اِستعمال (اِسراف) کے خلاف آواز اُٹھائے تو اُس کے خلاف محکمانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا جاتا ہے اُور اُسے ’مس فٹ‘ بلکہ ’اَن فٹ‘ قرار دینے کے لئے وجوہات بڑی محنت سے ایک ایک کرکے جمع کی جاتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ فرائض منصبی ادا کرنے میں ایمانداری و دیانت کے اصول پیش نظر رکھنے کا عزم لے کر سرکاری ملازمت اختیار کرنے والوں کا جوش و جذبہ اور حب الوطنی چند ہی مہینوں میں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے اُور وہ بھی اُسی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں‘ جس میں اہلیت پر سفارش اور قواعد پر تعلق حاوی دکھائی دیتا ہے۔ عوام تو کیا کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنما سے پوچھ لیجئے‘ وہ سرکاری اداروں اور اہلکاروں کی کارکردگی سے مطمئن دکھائی نہیں دے گا لیکن اگر اُن سے یہ پوچھا جائے کہ ماضی و حال میں اِس کی بہتری کے لئے کیا اقدامات کئے گئے تو اُن کے جواب کا لب لباب یہی ہوگا کہ ’’بہتری کی گنجائش بہرحال موجود رہتی ہے۔‘‘ ہم جاگتی آنکھوں سے سرکاری وسائل کا ضیاع دیکھتے ہیں اور پھر بھی نہیں دیکھتے! ہم سنتے کانوں سے مالی بدعنوانیوں اور رشوت ستانی کی مثالیں بیان کرنے والوں سے اختلاف نہیں کرتے لیکن پھر بھی اِس گھناؤنے فعل کے مرتکب اہلکاروں کو کیفرکردار تک نہیں پہنچاتے۔ فیصلہ سازی کے منصب پر فائز عوام کے جملہ منتخب نمائندے جواب دیں کہ ۔۔۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہر سرکاری دفتر میں ’بائیومیٹرکس (اُنگلیوں کے نشانات سے شناخت)‘ پر مبنی ’حاضری (اٹینڈننس)کا نظام‘ متعارف نہیں کرایا جاسکتا؟‘‘
بائیومیٹرکس کا سب سے بڑا فائدہ (ایڈوانٹیج) یہ ہے کہ اِس سے کسی ملازم یا تمام اہلکاروں کی حاضری نہ صرف خودکار اَنداز میں درج (ریکارڈ) ہو سکتی ہے بلکہ اُس کے ساتھ دفتر میں آنے اور جانے کا وقت بھی ریکارڈ (محفوظ) ہو جاتا ہے اور اگر زیادہ شفافیت مقصود ہو تو خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں شمسی توانائی کی طاقت سے چلنے والے بائیومیٹرکس شناختی آلات ہر دفتر میں نصب کی جاسکتی ہیں۔ جن کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں رکھے ہوئے مرکزی نظام سے جوڑا جا سکتا ہے اور اگر کوئی اہلکار بناء اطلاع غیرحاضر رہنے کا ’عادی مجرم‘ ہے یا دفتری اُوقات کے دوران کم اَز کم جسمانی طور پر اپنی نشست پر نہیں پایا جاتا تو اُس کی ماہانہ تنخواہ اور مراعات کی اَزخود اَدائیگی کمپیوٹر کی مدد سے روکی جا سکتی ہے۔ دفاتر میں استعمال ہونے والے بجلی و ٹیلی فون کے ماہانہ بلوں کی نگرانی (مانیٹرنگ) کے لئے بھی ’ای گورننس‘ کارآمد ’ہتھیار (ٹول)‘ ہے اور اگر کسی دفتر میں اچانک بجلی زیادہ استعمال ہونے لگے تو کمپیوٹر ہزاروں میں سے ایسے کسی ایک بجلی کنکشن کی بھی نشاندہی کرسکتا ہے‘ جو اپنی اوسط سے زیادہ یونٹ خرچ کر رہا ہو۔ کیا یہ بات تعجب خیز نہیں کہ جن سکولوں کالجوں اور جامعات (تعلیمی اداروں) میں موسم گرما کی تعطیلات ہیں‘ وہاں کے یوٹیلٹی بلز بھی ہزاروں میں آ رہے ہیں؟
کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی اور کبھی نہ کبھی ہر سرکاری ملازم وسائل و اختیارات کا غلط استعمال ضرور کرتا ہے کیونکہ اُس کی نگرانی کا نظام کمزور ہے۔ کیونکہ سزا و جزا کا تصور عملی طور پر موجود نہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سرکاری ملازم بننے کے بعد اُس کے خلاف زیادہ سے زیادہ یہی محکمانہ کاروائی ہو سکتی ہے کہ اُس کی خدمات کسی دور دراز ضلع کو بھیج دی جائیں گی اُور چونکہ سرکاری ملازمین کی اکثریت اِس قدر یتیم نہیں ہوتی کہ اُن پر کسی سیاست دان کے ہاتھ کا سایہ نہ ہو‘ اِس لئے معاون سے لیکر سیکرٹری تک خیبرپختونخوا کے کم وبیش چار لاکھ سرکاری ملازمین اُس تاخیر (وقفے) سے بھرپور فائدہ اُٹھا رہے ہیں‘ جو ’ای گورننس‘ کے رائج ہونے کی راہ میں حائل ہے۔

جب ایک نہ ایک دن اور کسی نہ کسی نے مکمل طور پر ’ای گورننس‘ رائج کرنی ہی ہے اور ٹیکنالوجی دوست ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی صوبائی حکومت بائیومیٹرکس تنصیب کا مرحلہ وار آغاز بھی کر چکی ہے تو نظام مرتب کرتے ہوئے اِس بات کا خیال رکھا جائے کہ اِس میں وسعت (ایکسپینشن) کی گنجائش موجود رہے اور تمام سرکاری ملازمین چاہے اُن کا تعلق کسی بھی محکمے سے ہو‘ فنانس اور آڈیٹر جنرل آفسیز کو اُن کی کم از کم حاضری کا تو علم ہونا ہی چاہئے لیکن جہاں ’نظام کو بہتر بنانے کے لئے سوچ بچار اُور پوچھنے (استفسار کرنے) والوں کی اپنی توجہات اُور اپنی ذات یا سیاسی مفادات کے گرد گھومنے والی ترجیحی ترجیحات ہوں‘ وہاں سرکاری اِداروں کی ناقص کارکردگی اُور سرکاری وسائل (دفاتر میں فراہم کردہ سہولیات‘ رہائشگاہوں‘ گاڑیوں) کا یوں بیجا استعمال ہونے پر تعجب کا اظہار بذات خود ’تعجب خیز‘ ہے۔

سرکاری ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانا تو دُور کی بات صرف معمول پر لانے ہی کو اگر ہدف بنا لیا جائے تو اِس ہدف کا ہرممکن و ہرممکنہ و بہرصورت حصول ضروری ہے ’بہتر طرز حکمرانی (گڈ گورننس)‘ کے خواب کی تعبیر بناء ٹیکنالوجی (ای گورننس) ممکن نہیں۔
E Governance a dream yet to make reality

Friday, June 26, 2015

Jun2015: Economic is E-GOVERNANCE

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سردست: اِی گورننس
بظاہر دیکھنے سے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ کسی سرکاری دفتر کے اہلکار اِس قدر فرض شناس بھی ہوسکتے ہیں کہ اپنے مقررہ وقت کے بعد بھی نشستوں سے چپک کر بیٹھے رہیں! جیسے حکومت نے ایمرجنسی (ہنگامی حالت) نافذ کردی ہو اور اُنہیں کوئی بہت ہی ضروری‘ فوری نوعیت کا ایسا کام نمٹانا ہو‘ جس میں آنے والا دن کا انتظار نہیں ہوسکتا۔ یوں تو ہر میز پر ایک عدد کمپیوٹر موجود تھا لیکن کونے میں بیٹھے ہوئے شخص ’فیس بک‘ پر کسی بہت ہی ’نازک مسئلے‘ کی تفصیلات کا باریک بینی سے مطالعہ کر رہے تھے۔ باقی کمپیوٹرز پر کیا ’چل رہا تھا‘ کانوں میں لگے ہوئے ہیڈفونز اور سکرین پر جمی ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔ ٹیلی فون کو کریڈل سے اُٹھا کر نیچے رکھا گیا تھا تاکہ باوجود خواہش بھی کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔ ہر میز پر فائلیں تہہ در تہہ رکھی ہوئی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا کہ جس کے پاس زیادہ فائلیں ہوں گی وہ بالحاظ عہدہ اُس دفتر میں سب سے بڑا افسر ہوگا۔ دروازے کے قریب ترین بیٹھے صاحب کے سامنے جب عرض پیش کی گئی تو اُنہوں نے اِرشاد فرمایا کہ ’’2 بجے چھٹی ہو جاتی ہے!‘‘ لیکن آپ سب لوگ تو بہ نفس نفیس موجود ہیں! اُنہوں نے بحث میں الجھے بناء درخواست لی اُور بناء مطالعہ فرمایا ’’کل صبح آنا۔‘‘ یقیناًخیبرپختونخوا کے ’سول سیکرٹریٹ‘ کے ’دفتری معمولات (آفس ٹائمنگ)‘ میں ہرسال کی طرح اِس رمضان بھی تبدیلی کر دی گئی تھی لیکن دفتر مقررہ وقت پر بند نہیں ہوا تھا اور نہ ہی ائرکنڈیشن اور پنکھے دفتری وقت کے بعد ’آف‘ کئے گئے تھے۔ چونکہ بجلی کی قیمت قومی خزانے سے اَدا ہو رہی تھی اِس لئے کسی کو داخلی دروازہ مکمل طور پر بند کرنے کا احساس بھی نہیں تھا اُور نہ ہی برف کی طرح ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے ہوئے ’روزہ داروں‘ کو اِس بات میں کوئی منطق نظر آ رہی تھی کہ وہ چلچلاتی دھوپ میں گھر جائیں! آخر ایسا کیوں ممکن نہیں کہ سرکاری دفاتر کی بجلی ٹیلی فون اور دیگر یوٹیلٹیز وقت مقررہ کے بعد بند کر دی جائیں اور ہر دفتر کے باہر ایک میٹر لگا ہو‘ جس کے ساتھ ماہانہ بجلی کے اخراجات کی تفصیلات بھی درج ہوں کہ اِس دفتر کے لوگ دیگر وسائل کے ساتھ کتنی بجلی ’کھا‘ رہے ہیں؟ ایک طرف عوام ہے جو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور دوسری طرف سرکاری دفتر ہے جہاں برقی رو کا متبادل انتظام بذریعہ ’یو پی ایس‘ بھی ہے اور جنریٹرز بھی رکھے گئے ہیں! اتنا تضاد ’طرز حکمرانی (گورننس)‘ کی اُن خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔

کہانی ہر جگہ ایک ہی ہے۔ خیبرپختونخوا کا کوئی ضلع ہو یا صوبائی دارالحکومت کے سرکاری دفاتر‘ اِن میں ایک قدر مشترک ’فرنٹ ڈیسک (استقبالیہ)‘ کی عدم موجودگی ہوتی ہیہو اُور نہ ہی کسی دیوار پر ’سائل‘ کے لئے ہدایات ہوتی ہیں۔ شکایات کی صورت کس سے رجوع کرنا ہے‘ یہ بھی معلوم نہیں ہوتا اور جب سرکاری دفاتر کے نمبر مشتہر کئے جاتے ہیں تو وہ لینڈلائن (پی ٹی سی ایل) نمبرز ہوتے ہیں‘ جو یا تو آپ کو مسلسل مصروف (اینگیج) ملیں گے یا پھر اُنہیں کوئی اُٹھائے گا ہی نہیں۔ دونوں صورتوں کے علاؤہ اگر نمبر اُٹھا بھی لیا جائے اُور آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ مسئلے کی بابت کس صاحب سے بات کرنی ہے تو بھی فون کا رابطہ کارآمد نہیں۔ اصولی طور پر جملہ سرکاری دفتروں کا ایک رابطہ دفتر ہونا چاہئے جہاں کسی مسئلے کی درخواست جمع کرانے کے بعد ایک عدد ’حوالہ (ریفرنس) نمبر‘ جاری کر دیا جائے اُور درخواست کا اُسی شناختی نمبر سے پیچھا (ٹریک) کیا جا سکے۔ حق تو یہ ہے کہ دفتری کاروائی کے جملہ مراحل بھی اَزخود طے ہونے چاہیءں۔ سرکاری اہلکاروں کی جسمانی طور پر حاضری یقینی بنانے اور اُنہیں کسی درجے ’نظم و ضبط کا پابند‘ بنانے کا ہدف بڑی حد تک تو حاصل کر لیا گیا ہے لیکن اِس کے کامیابی کے خاطرخواہ ثمرات حاصل نہیں ہوسکے۔ شاید نہیں بلکہ یقینی طور پر اِس کی وجہ یہ ہے کہ پشاور میں مختلف محکموں کے مرکزی صدر دفاتر کے لئے ملازمین کی اکثریت مقامی (پشاور سے تعلق) ہونے کی بجائے چارسدہ اور مردان یا اِن کے گردونواحی علاقوں سے ہے‘ جنہیں گھر پہنچنے کی فکر پشاور اُترتے ہی لاحق ہو جاتی ہے۔ اِن ملازمین کو لانے لیجانے کی بسوں پر ہوئے متعدد دہشت گرد حملوں کے بعد ملازمین نے آپس میں مل بانٹ کر گاڑیاں خرید لی ہیں اور ایک بڑی تعداد نے اگرچہ اکٹھے سفر کرنا ترک کردیا ہے لیکن پھر بھی سرکاری ملازمین کی ایسی بسیں دیکھی جا سکتی ہیں جو لبالب بھری ہوں! پشاور سے ہونے والی صرف یہی ایک ’حق تلفی‘ نہیں کہ اِسے (صوبائی فنانس کمیشن کے تحت وسائل کی تقسیم کے اصول) 1: حسب آبادی‘ 2: حسب غربت‘ 3: حسب آمدن اور 4: عارضی سکونت رکھنے والوں کی تعداد کے مطابق ’فنانس ایوارڈ‘ سے ترقیاتی فنڈز نہیں ملے بلکہ یہ سوچی سمجھی‘ دانستہ ناانصافی بھی ہوئی کہ یہاں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو تعلیمی قابلیت کے باوجود ملازمتوں میں اُن کا خاطرخواہ حصہ نہیں مل سکا۔

بہرکیف سرکاری اِداروں کی کارکردگی ’اِی گورننس‘ سے بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ ایک ایسا مرکزی دفتر (استقبالیہ) مقرر کیا جا سکتا ہے جہاں پٹوار خانے سے لیکر میونسپل کارپوریشن تک ہر اُس کام کے لئے رجوع کیا جاسکے‘ جس میں درخواست گزار کے جسمانی طور پر پیش ہونے کی حاجت نہ آئے۔ درخواست گزار کی تصویر اور اُنگلیوں کے نشانات (بائیومیٹرکس) کے ساتھ درخواست وصول کر کے اُسے متعلقہ محکموں کو ’الیکٹرانک (سکین شدہ)‘ یا ’ٹائپ شدہ‘ حالت (فارمیٹ) میں اِرسال کر دیا جائے‘ جہاں سے وصولی کی رسید سے بذریعہ ’ایس ایم ایس‘ درخواست گزار بھی آگاہ ہو اُور خودکار نظام کے تحت درخواست کو فوری نمٹانا بھی صرف اِسی صورت ممکن ہوسکتا ہے کہ عوامی شکایات یا روزمرہ کام نمٹانے میں غیرضروری تاخیر کے مرض کا اِس دوائی سے علاج کیا جائے۔ ضروری نہیں کہ ہر درخواست گزار کے پاس موبائل فون نمبر ہو اُور ’الاٹ‘ ہونے والے درخواست پرکاروائی کی تفصیلات بذریعہ ’ویب سائٹ‘ دیکھنے کے وسائل رکھتا ہو‘ اِس لئے کسی ’مرکزی دفتر‘ سے رجوع کرنا نہ صرف آسان ہوگا بلکہ اگر کسی درخواست کو ایک سے زیادہ محکموں کا چکر لگانا ہے تو معمول کے اِس جھنجھٹ سے بھی ’العارض‘ کی گلوخلاصی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ابتدأ میں ’اِی گورننس‘ سے بھلے ہی سوفیصد نتائج حاصل نہ ہوں لیکن اگر ہم ’سردست ٹیکنالوجی‘ کے استعمال پر آمادگی کا اِظہار کرلیں تو اِس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ کمپیوٹرز کبھی ہڑتال نہیں کرتے۔ بیمار نہیں پڑتے۔ کسی ضروری کام کا بہانہ بنا کر اچانک رخصت پر نہیں چلے جاتے۔ بناء اطلاع غائب بھی نہیں ہوتے۔ اِنہیں سالانہ تعطیلات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اِن کا کوئی آبائی علاقہ نہیں ہوتا کہ جہاں انہیں تعیناتی کی ضرورت ہو۔ یہ قواعد و ضوابط میں موجود سقم اور اختیارات سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش میں ہر لمحے سوچ و بچار نہیں کرتے۔ اُن کی سالانہ تنخواہیں و مراعات بڑھانے کی ضرورت نہیں ہوتی اُور انہیں ہر سال ترقی دے کر قومی خزانے پر پہلے سے پہاڑ جتنے ’غیرترقیاتی اخراجات‘ کے بوجھ میں اِضافہ بھی نہیں ہوگا!
E Governance is the solution for complex problems and financial management