Showing posts with label PESCO. Show all posts
Showing posts with label PESCO. Show all posts

Sunday, November 11, 2018

TRANSLATION: The power sector by Dr. Farrukh Saleem

The power sector
حقائق نامہ: پاکستان میں بجلی کا پیداواری شعبہ اور کارکردگی!

پہلی حقیقت: سال 2013ء کے دوران پاکستان میں توانائی کی کل پیداواری صلاحیت 20 ہزار 774 میگاواٹ سے بڑھا کر 2018ء تک 33 ہزار 801 میگاواٹ کر دی گئی یعنی سال 2013ء سے سال 2018ء کے درمیان (پانچ سال کے عرصے میں) بجلی کی پیداوار میں ’63فیصد‘ جیسا غیرمعمولی اضافہ ہوا۔

دوسری حقیقت: پاکستان میں بجلی کی قیمت کا شمار دنیا کی مہنگی ترین بجلی قیمتوں میں ہوتا ہے۔

تیسری حقیقت: سال 2000ء میں پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 14 ہزار 444 میگاواٹ تھی جو سال 2017ء کے اختتام پر 28 ہزار 172 میگاواٹ تھی یعنی اِس میں 13 ہزار 728میگاواٹ کا اضافہ کیا گیا اور یہ پیداوار میں 95فیصد اضافہ بنتا ہے۔

چوتھی حقیقت: سال 2000ء میں پاکستان میں بجلی کا ترسیلی نظام 42 ہزار 544 کلومیٹرز پر پھیلا ہوا تھا جس میں 2017ء تک 10 ہزار 911 کلومیٹرز کا اضافہ کرکے سال 2017ء تک 53 ہزار 455 کلومیٹرز کر دیا گیا۔ یہ اضافہ 26 فیصد تھا۔

پانچویں حقیقت: پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جاتا رہا لیکن بجلی کے ترسیلی نظام میں خاطرخواہ اضافہ نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے پیداواری صلاحیت بے معنی ہو کر رہ گئی کیونکہ ترسیلی نظام میں اِس قدر صلاحیت ہی موجود نہیں تھی کہ وہ اضافی پیدا ہونے والی بجلی صارفین تک منتقل کر سکتا۔ اِس (پیداواری اور ترسیلی) عدم توازن کی وجہ سے بجلی کا بحران موجود رہا۔

چھٹی حقیقت: سال 2000 کے دوران پاکستان میں بجلی کی پیداوار 14 ہزار 444 میگاواٹ تھی جس میں سال 2017ء کے اختتام تک اضافہ کرکے 28 ہزار 172 میگاواٹ کر دیا گیا اور یہ اضافہ قریب 95 فیصد تھا۔ اِسی عرصے کے دوران ترسیلی نام میں قریب 36 فیصد اضافہ کیا گیا۔

ساتویں حقیقت: سال 2010ء میں بجلی کے مختلف پیداواری اداروں کی جانب سے 84ہزار 375 یونٹ بجلی ’سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی‘ کو دیئے گئے جن میں سے 68 ہزار 878 یونٹ فروخت کئے جا سکے اور اِسی عرصے میں ترسیلی نظام کی خرابی‘ دیگر وجوہات بشمول بجلی کی چوری 18 فیصد رہی۔

نویں حقیقت: سال 2017ء میں ’سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی‘ کو 1 لاکھ 4 ہزار 330 یونٹ بجلی دی گئی جس میں میں 86 ہزار 763 یونٹ فروخت ہو سکے اور سال 2017ء میں ترسیلی نظام کی خرابیوں کی وجہ سے 17 فیصد بجلی ضائع ہوئی۔

دسویں حقیقت: بجلی کا ترسیلی نظام فرسود ہے‘ جس میں سال 2010ء سے 2017ء کے درمیان کوئی خاص توسیع یا اصلاح نہیں کی گئی۔

11ویں حقیقت: سال 2013ء میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار کے تناسب سے 32 فیصد تھی۔ سال 2018ء میں یہ تناسب کم ہو کر 29فیصد رہ گیا۔

12ویں حقیقت: سال 2013ء ایندھن کے ذریعے نجی بجلی گھروں سے 40فیصد بجلی حاصل ہو رہی تھی۔ سال 2018ء میں یہ تناسب بڑھ کر 45فیصد ہو گیا۔

13ویں حقیقت: پاکستان میں بجلی کی پیداوار کو سستے ذریعے یعنی پانی سے بنانے کی بجائے مہنگے ذریعے یعنی درآمدی ایندھن کے ذریعے بنانے پر توجہ دی گئی۔

14ویں حقیقت: دنیا بھر میں شمسی (سولر) اور ہوا کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی (ونڈ انرجی) کی قیمت میں وقت گزرنے کے ساتھ غیرمعمولی اور تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی لیکن پاکستان میں شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی مہنگی ترین جنس بنی رہی۔

15ویں حقیقت: پاکستان نے سال 2021ء کے بعد سے ’سولر‘ اور ’ونڈ‘ انرجی کے ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں بتدریج کمی کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

16ویں حقیقت: پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے لائن لاسیز (ترسیلی نظام کی خرابیاں اور بجلی چوری) کی شرح 31.95 فیصد ہے جو ملک میں بجلی کی کسی بھی تقسیم کار کمپنی کی سب سے خراب کارکردگی ہے کہ اُس کو ملنے والی بجلی کا اکتیس فیصد سے زائد حصہ ہرسال چوری ہو رہا ہے!

17ویں حقیقت: بجلی کی تقسیم کار کمپنی ’’اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)‘‘ کے لائن لاسیز سب سے کم یعنی 8.65فیصد ہیں۔

18ویں حقیقت: قانون کے مطابق بجلی کی خودمختار پیداواری کمپنیوں کو اجازت کہ وہ پیداوار کی لاگت کے علاؤہ اخراجات بھی بجلی کی قیمت کا حصہ بنائیں لیکن قوانین اور قواعد پر اُن کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔

19ویں حقیقت: بجلی کی تقسیم کار ’’کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کوئیسکو)‘‘ بجلی بلوں کی وصولی میں سب سے آگے ہے اور اِس کے صارفین کے ذمے وصولیاں 43.5فیصد ہیں جو کہ 9 تقسیم کار کمپنیوں میں سب سے کم ہیں۔

20ویں حقیقت: اِسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) اپنے تمام صارفین (100فیصد) سے بجلی کے بل وصول کرتی ہے اور بجلی کی کل 9 تقسیم کار کمپنیوں میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Wednesday, December 27, 2017

Dec 2017: Roshan Pakistan - Android App

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
روشن پاکستان!
طرزحکمرانی کی اصلاح ہی ملک میں حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے‘ جس میں کم خرچ ’اِی گورننس‘ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ خوش آئند ہے کہ ’(وفاقی) وزارت برائے توانائی‘ کے ’پاور ڈویژن‘ نے ایک ’موبائل فون ایپلی کیشن‘ تخلیق کی ہے‘ جس کی رونمائی ’چھبیس دسمبر (دوہزارسترہ)‘ کے روز کی گئی اُور اِس ’’موبائل فون سافٹ وئر‘‘ کو ’’روشن پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

بال کی کھال اُتارنے کی ضرورت نہیں کہ آج کا پاکستان کتنا روشن ہے؟ اور کیا کسی موبائل فون سافٹ وئر کی تخلیق سے ملک میں جاری بجلی کی کمی دور ہو جائے گی؟ حکومت کا مؤقف ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اُنہی علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں اِس کی چوری زیادہ ہو‘ لیکن کیا بجلی چوری رپورٹ کرنے کے لئے کوئی ایسا طریقۂ کار (آپشن) وضع کیا جا سکتا ہے‘ جسے استعمال کرنے والوں کے لئے اپنی شناخت خفیہ رکھنا ممکن ہو اور بجلی چوری کی رپورٹ کرتے ہوئے خود کو محفوظ بھی سمجھیں؟ 

فی الوقت یہ بات بھی غنیمت ہے کہ بجلی کی تقسیم کار اور منتظم دس کمپنیوں (واپڈا‘ لاہور الیکٹرک‘ گوجرانولہ الیکٹرک‘ فیصل آباد الیکٹرک‘ اسلام آباد الیکٹرک‘ پشاور الیکٹرک‘ حیدرآباد الیکٹرک‘ سکھر الیکٹرک‘ کوئٹہ الیکٹرک‘ ٹرائبل ایریاز الیکٹرک سپلائی کمپنی) کے صارفین کی پریشانیوں اور بنیادی ہی سہی لیکن سہولیات فراہم کرنے کا کسی کو تو خیال آیا۔ بھلے ہی ’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ سے پاکستان روشن نہ ہو لیکن اِسے اَندھیروں میں رکھنے کے اُوقات تو ’کم سے کم‘ معلوم ہو ہی جائیں گے اُور یہ بھی کسی غنیمت سے کم نہیں۔ مثال کے طور پر صارفین اپنے ہاں خوشی یا غم کی تقریب کے لئے اُوقات کا تعین کرنے میں اِس ’سافٹ وئر‘ کی مدد لے سکتے ہیں اُور بجلی کی فراہمی کے اُوقات کے مطابق معمولات طے کر سکتے ہیں لیکن اِس بات کی ضمانت (گارنٹی) کون دے گا کہ دیئے گئے اُوقات کار حتمی (قابل بھروسہ) ہوں گی!؟ 

’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ تمام سمارٹ فونز جن میں ’اینڈرائڈ (Android)‘ اُور ’آئی اُو ایس (iOS)‘ آپریٹنگ سسٹمز شامل ہیں پر پر اِستعمال کیا جا سکتا ہے‘ لیکن اِس کے لئے انٹرنیٹ (ڈیٹا کنکشن یا وائی فائی نیٹ) سے منسلک ہونا لازمی (ضروری) ہے۔ سافٹ وئر کو محدود رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے جس کے ذریعے کسی بھی صارف کو بلاقیمت اور کسی بھی وقت چار بنیادی سہولیات (معلومات) فراہم کی جاتی ہیں۔ 1: کسی بھی علاقے میں لوڈشیڈنگ کا شیڈول (معمولات) کیا ہیں؟ 2: متبادل ماہانہ بجلی بل حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 3: نیٹ میٹرنگ (استعمال شدہ بجلی) کے بارے معلومات اور 4: بجلی کی فی یونٹ قیمت کی بنیاد پر اوسط ماہانہ بل حاصل کرنا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ ماضی میں یہ کام بناء متعلقہ تقسیم کار دفتر کا دورہ کئے بناء ممکن نہیں ہوتا تھا۔

وزارت توانائی کے ذیلی اِدارے ’پاور اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (لاہور)‘ کا تخلیق کردہ یہ پہلا سافٹ وئر نہیں بلکہ اِس سے قبل ’بجلی میٹر ریڈنگ‘ بذریعہ اینڈرائڈ موبائل فون جیسے ’انقلابی سافٹ وئر‘ سے یوٹیلٹی بلز بارے صارفین کی بڑی شکایت کا اَزالہ ہو چکا ہے اور عموماً میٹرریڈرز جس انداز میں گھر بیٹھے خرچ ہونے والے بجلی یونٹس کا اندراج کر دیا کرتے تھے یا کسی سب ڈویژن میں بجلی کے چوری شدہ یونٹ پورا کرنے کے لئے صارفین کے بلوں میں یونٹس کا اضافہ کرنا ایک معمول ہوا کرتا تھا تو اب یہ شکایات ممکن نہیں رہیں کیونکہ ہر صارف پر اُس کے میٹر کی ریڈنگ سے متعلق تصویر پرنٹ ہوتی ہے۔ ’روشن پاکستان ایپ‘ کے ذریعے اگر صارفین کو اپنے بجلی میٹروں کی تصاویر اِرسال کرنے کی سہولت بھی دے دی جائے تو اِس سے اُن شکایات کی ’داد رسی‘ ہوگی‘ جن کے بلوں پر تصاویر (پرنٹنگ کی وجہ سے) پڑھنے کے قابل نہیں ہوتیں۔ 

اِسی طرح ماہانہ بل کی اقساط کروانے اور آخری تاریخ کے بعد جمع کئے جانے والے بلوں کا مرکزی ڈیٹابیس میں اندارج کرنے کی سہولت ہونی چاہئے۔ بجلی کے نئے کنکشن کی درخواست ‘ کنکشن عارضی یا مستقل معطل کرنے اور صارف کے کوائف میں تبدیلی کے بارے میں سہولیات اور طریقۂ کار بارے معلومات بھی اگر آن لائن فراہم کر دی جائیں تو اِس سے متعلقہ دفاتر سے رجوع کرنے والے صارفین کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔

پاکستان میں ’بجلی کا ترسیلی نظام‘ سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے۔ اِس بارے میں ’قومی سطح پر جائزہ‘ ضروری ہے۔ بجلی کی بوسیدہ تاریں نہ صرف برقی رو کی ’بلارکاوٹ ترسیلی مراحل‘ کی راہ میں حائل رہتی ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں بالخصوص جب ہم خیبرپختونخوا کے شہری اُور بالائی علاقوں کی بات کرتے ہیں جہاں موسم سرما میں شدید برفباری‘ مٹی کے تودے گرنے اور موسم گرما میں ملک کے دیگر حصوں کی نسبت زیادہ بارشیں اور اِن سے پیدا ہونے والے سیلاب یا ندی نالوں میں طغیانی پیدا ہوتی ہے‘ جس کا پہلا منفی اثر بجلی کی فراہمی پر مرتب ہوتا ہے۔ 

بجلی کا نظام یوں تو سارا سال ہی کسی نہ کسی صورت متاثر (کمی بیشی کا شکار) رہتا ہے لیکن ایسے علاقوں کے بجلی صارفین کو بالخصوص بذریعہ ’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ حکام تک رسائی دی جاسکتی ہے جو برقی رو کی کمی نہیں بلکہ ترسیلی نظام کی بوسیدگی کے باعث مشکلات سے دوچار ہیں۔ 

وزارت توانائی کو چاہئے کہ وہ خیبرپختونخوا میں ’بجلی کے ترسیلی نظام‘ کی وسعت و اصلاح کے لئے بھی کچھ مالی وسائل مختص کرے۔ بطور خاص ’جاری میگا ترقیاتی منصوبوں‘ کی مثالیں موجود ہیں‘ جہاں بجلی کا ترسیلی نظام جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جارہا جیسا کہ پشاور کی میٹرو بس (ریپیڈ بس ٹرانزٹ ’آر بی ٹی‘) کے لئے بجلی کے کھمبوں کو اکھاڑ کر دوبارہ ننگی تاریں آہنی کھمبوں پر آویزاں کر دی گئی ہیں۔ 

گھنٹہ گھر سے گورگٹھڑی (تحصیل) تک ’ہیرئٹیج ٹریل‘ کے لئے بھی ’بجلی کی تاریں بصورت جال (گھچے) بڑا چیلنج ہیں جبکہ مسجد مہابت خان سے متصل صرافہ بازار اُور اندرون شہر کے جملہ گلی محلے‘ کوچے اور تجارتی مراکز میں بجلی کے ’اڑھے ترچھے‘ تار ’پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو)‘ کی کارکردگی (سوچ بچار) کا منہ بولتا ثبوت ہیں! اگر ’روشن پاکستان سافٹ وئر‘ کے ذریعے بجلی صارفین کی شکایت اُور تاثرات (فیڈ بیک) حاصل کرنے کی سبیل بھی مہیا کر دی جائے تو اِس سے بناء کسی اضافی خرچ یا کوشش گرانقدر معلومات (ڈیٹا) حاصل کیا جا سکے گا۔

بجلی کے وہ صارفین جو سمارٹ فونز‘ انٹرنیٹ اور اِی میل سے لیس ہیں‘ اُنہیں پرنٹ شدہ بل اِرسال کرنے کی بجائے الیکٹرانک بلوں کی ترسیل سے کروڑوں کی بچت الگ سے ممکن ہے۔ ’اِی گورننس‘ کا اطلاق جس قدر زیادہ اور جس قدر وسیع پیمانے پر کیا جائے گا‘ اِس سے اُتنے ہی ماحول دوست مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔ آزمائش شرط ہے۔
۔۔

Monday, May 29, 2017

May2017: BELATED RESPONSE: The Power Projects in KP!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
محدود و مشکوک ترقی!
خیبرپختونخوا میں سستی (پن) بجلی کے پیداواری منصوبوں کے لاتعداد امکانات کی موجودگی سے زیادہ یہ بات ’خبر‘ ہے کہ حکومت کو اِس بات کا احساس ہو گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت آئندہ مالی سال میں توانائی بحران کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار اِس کا حل پیش کرنے کی صورت قوم کے سامنے رکھنا چاہتی ہے لیکن مسئلہ مالی وسائل کی کمی اور وفاق کے سوتیلے پن کا ہے۔ 

خیبرپختونخوا میں پن بجلی کے منصوبوں سمیت جملہ تعمیروترقی کے لئے مالی وسائل کی فراہمی اور تکنیکی سرپرستی کی بجائے ’وفاقی حکومت‘ کا رویہ شروع دن ہی سے ’غیرشاعرانہ‘ رہا ہے اور بالخصوص جب سے ’پانامہ پیپرز‘ کی صورت حکمراں خاندان کی مشکوک مالی حیثیت کے بارے عدالتوں میں سوالات اُٹھے ہیں تب سے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (نواز) کے درمیان اختلاف کی خلیج میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اختیارات اور حدود میں کس طرح عام آدمی (ہم عوام) کے مفادات پس پشت رکھ سکتی ہیں‘ لیکن اگر ’سیاسی عناد‘ (مخالفت) کے سبب ایسا ہو رہا ہے تو کم سے کم اِس خواہش کا اظہار تو کیا جا سکتا ہے کہ ’برائے مہربانی ایسا نہ کیا جائے!‘ 

خیبرپختونخوا کو سزا دینے والوں میں خود ’تحریک انصاف‘ کی صوبائی قیادت بھی پیش پیش ہے‘ جس نے پارٹی کی قومی پالیسی کے آگے ’سب سے قیمتی شے‘ کی قربانی پیش کر دی اور اب اُسے ’پانامہ کیس‘ کے کسی ایسے فیصلے کا انتظار ہے جو آئندہ عام انتخابات کا نعرہ بن سکے۔ خیبرپختونخوا کو درپیش مسائل اور بالخصوص امن و امان کی صورتحال اس بات کی متقاضی تھی کہ کسی دوسرے صوبے میں مرکز اور قومی امور میں سیاسی دلچسپیاں رکھنے والوں کی اندھا دھند تقلید نہ کی جائے بلکہ صوبے کے اپنے وسائل اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی ایسا درمیانی راستہ تلاش کرنے میں عافیت تھی جس سے وفاقی حکومت سے تصادم کی بجائے ’افہام و تفہیم‘ اور ’باہمی احترام‘ کی بنیادوں پر اُس ’نئے خیبرپختونخوا‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا جو کسی صوبے یا وفاق کے خلاف سازش کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط و مستحکم پاکستان کی آج بھی اولین ضرورت ہے۔

آئندہ ’مالی سال برائے 2017-18ء کے صوبائی بجٹ‘ میں تعلیم و صحت کے بعد بجلی کے پیداواری منصوبوں کو اہمیت دی گئی ہے اور اِس مقصد کے لئے کل 57 ترقیاتی منصوبوں کو خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کیا گیا ہے جن میں چوبیس نئے اور تینتیس جاری منصوبوں کے لئے ’دوسو ارب روپے‘ سے زائد مختص کئے گئے ہیں‘ ان میں 50ارب جاری اور 159 ارب روپے ایسے نئے منصوبوں کے لئے جاری ہوں گے جن سے خیبرپختونخوا کو مستقبل میں آمدنی کا ایک پائیدار ذریعہ بھی حاصل ہوگا۔ ماضی میں ’ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ‘ کا محکمہ ’خیبرپختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ فنڈ‘ کے نام سے کام کر رہا ہے جو صوبائی خزانے اور غیرملکی وسائل سے حاصل ہونے والے سرمائے سے بجلی کے پیداواری منصوبوں کی کھوج اور انہیں عملی جامہ پہنانے جیسی ذمہ داریاں رکھتا ہے۔ 

تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت کی آئینی مدت کے آخری مالی سال کے بجٹ میں جس انداز کا ’ترقیاتی نقشہ‘ پیش کیا گیا ہے اگر یہی فکروعمل‘ جذبہ‘ توانائی‘ جنون اُور کارکردگی پہلے مالی سال سے دیکھنے کو ملتی‘ تو آج جس 1123 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی اُمیدیں ظاہر کی جا رہی ہیں آج ہم اِن اہداف کے حصول کے بہت قریب ہو چکے ہوتے! بہرحال حکمت عملی بجلی کے صوبائی پیداواری مجوزہ منصوبوں میں پن بجلی‘ تیل و گیس اور شمسی توانائی سے استفادہ کیا جائے گا۔ قابل ذکر پن بجلی کے تین بڑے منصوبوں میں 300میگاواٹ کا بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ‘ 47میگاواٹ کا بریکوٹ پیٹراک ہائیڈرو پراجیکٹ اور 22 میگاواٹ کا پٹراک شیرنگل ہائیڈرو پاور شامل ہیں جن میں سے بالاکوٹ منصوبے کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک 80فیصد جبکہ دیگر دو منصوبوں کی مالی ضروریات کے لئے ورلڈ بینک کل اخراجات کا 80فیصد ادا کرے گا۔ نئے مالی سال میں خیبرپختونخوا حکومت ایک ہزار مساجد کو شمسی توانائی سے روشن کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جس کے لئے 96 ارب سے زیادہ (967.6ملین) روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔

اٹھائیس مئی کو پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر انجنیئر امیر مقام نے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے سوال کیا کہ ’’صوبائی حکومت اُس ایک میگاواٹ بجلی کے بارے میں پہلے بتائیں جو اُنہوں نے چار سال میں تیار کی ہے!‘‘ یہ ایک چھبتا ہوا سوال (اعتراض) ہے اور اب صوبائی حکومت کے فیصلہ سازوں کو احساس ہو رہا ہوگا کہ اُنہوں نے کس قدر تیزی سے وقت ضائع کیا! ترقی کا کوئی بھی خاکہ (تصور) اور کسی بھی درجے کی حکمت عملی کے خاطرخواہ عملی نتائج کا تعلق اُن کی حسب منصوبہ بندی تکمیل پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ جس طرح ماضی کے کئی ترقیاتی منصوبوں کو موجودہ صوبائی حکومت نے جاری رکھنا مناسب نہیں سمجھا‘ بالکل اسی روش پر چلتے ہوئے مستقبل کی حکومتیں بھی اُن تمام منصوبوں کی بساط لپیٹ سکتی ہیں‘ جو تحریک انصاف کے انتخابی منشور کا حصہ ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ہاں طرز حکمرانی ہر پہلو سے اِس حد تک ’سیاسی‘ ہو چکاہے کہ اِس نے ترقی کے عمل اور اِس کے بارے میں پرخلوص کوششوں کو بھی مشکوک و محدود بنا کر رکھ دیا ہے۔

Sunday, May 28, 2017

May2017: KP Govt vs PTI on Power Load Shedding!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاست و اَنا کے کرشمے!
برداشت کی ’آخری حد‘ بھی عبور ہو چکی ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو قانون بنانے والے یوں قانون ہاتھ میں نہ لیتے۔ گرمی کی شدت کے ساتھ بڑھنے والی بجلی کی طلب اُور رسد کے درمیان فرق ’لوڈشیڈنگ‘ کی صورت ظاہر ہوا تو شہری علاقوں کے رہنے والے تڑپ اُٹھے حالانکہ دیہی علاقوں میں بجلی کی زیادہ طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے لیکن وہاں کا رہن سہن‘ کیمیائی اجزأ کی ملاوٹ سے پاک خوراک اور مکانات و تعمیرات موسمی اثرات کی شدت سے بچاؤ میں مدد دیتی ہیں جبکہ شہری علاقوں میں ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی سیمنٹ اور لوہے سے کثیرالمنزلہ زیادہ مضبوط و پائیدار گھر تو بنا لئے گئے ہیں لیکن نہ تو زمین کو سانس لینے کے لئے جگہ میسر ہے اور نہ ہی زرخیز مٹی کی قدروقیمت کا احساس کیا گیا ہے! اگرچہ یہ ایک ضمنی موضوع ہے لیکن اِس مرحلۂ فکر پر بطور تعارف و حوالہ عرض ہے کہ زندگی کی ہر ضرورت اور آسائش کا برقی رو پر انحصار سے پیدا ہونے والی صورتحال ایک ایسے ملک کو تو بالکل بھی زیب نہیں دیتی جہاں نہ تو بجلی حسب ضرورت (طلب) دستیاب ہے اور نہ ہی قیمت کے لحاظ سے یہ ایک سستا ذریعہ (نعمت) ہے۔ اگر ہمارے ہاں بڑے آبی ذخائر بنانے کی ضرورت پر سیاسی اتفاق رائے نہیں تو وہی (سیاسی) کردار جواب دیں کہ قوم مہنگے ایندھن (تیل و کوئلے) سے بننے والی جنس کس بھاؤ خریدے اُور اُس کے استعمال کی زیادہ سے زیادہ حد (احتیاط) کیا ہونی چاہئے! 

سیاست کا اصطلاحی مفہوم اور اِس کی دانش رکھنے والا ’سیاست دان‘ وہ ہوتا ہے جو معاشرے کی عمومی و خصوصی سطح پر پائے جانے والی اختلافات ختم کرے لیکن ہمارے ہاں سیاست ایک ایسے طرزفکروعمل (فن) کا نام ہے‘ جس میں اِختلافات کو ہوا دینے اُور تنازعات بڑھانے میں مہارت ہونی چاہئے۔ عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر میں بھی ’اصل رہنما‘ وہی ’شعلہ بیاں‘ ہے یعنی جس کے زبان و بیان سے ہر وقت آگ اُگلتی رہے!

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے خلاف اِحتجاج کی قیادت کرنے کی پاداش میں اراکین صوبائی اسمبلی فضل الہٰی (پی کے چھ) اُور عارف یوسف (پی کے فور) کے خلاف پولیس سے رجوع کیا گیا لیکن چھبیس مئی (بروز جمعہ) پیش آنے والے اِن واقعات میں ملوث افراد کے خلاف چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی قانونی کاروائی نہیں ہوسکی۔ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی سے زیادہ قانون کی سمجھ بوجھ اُور کسے ہو سکتی ہے۔ پیسکو ترجمان کے مطابق چھبیس مئی سے درجنوں جرائم کا ارتکاب کرنے والوں نے ’’1: تین گرڈ اسٹیشنوں پر حملہ بشمول یونیورسٹی گرڈ اسٹیشن پر رات بھر قبضہ کئے رکھا۔ 2: قابضین نے اُن علاقوں کو بجلی کی فراہمی بحال رکھی جہاں چوری (لائن لاسیز) کے اعدادوشمار غیرمعمولی ہیں۔ 3: اندیشہ ہے کہ وفاقی حکومت کی تنصیبات پر سیاسی کارکنوں کے مزید حملوں (دراندازی) کا سلسلہ جاری رہے گا۔ 4: سادہ لوح عوام کو غنڈہ گردی اور قانون ہاتھ میں لینے کے لئے اکسایا جا رہا ہے جبکہ تصادم کی صورت خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ 5: اراکین صوبائی اسمبلی کی قیادت میں پرتشدد احتجاج کا جاری سلسلہ (رجحان) کی وجہ سے صورتحال گھمبیر شکل اختیار کر سکتی ہے۔ 6: قانون کو ہاتھ میں لینے کی روش مثالی نہیں اور صوبائی حکومت اگر راست اقدامات نہیں کرتی تو خدانخواستہ جانی یا پیسکو تنصیبات کو کسی بھی قسم کے نقصان کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

قانون کو ہاتھ میں لینے اُور تصادم کی صورتحال کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے اگر پیسکو حکام صوبائی کابینہ اور اسمبلی کو اعتماد میں لیتی تو اِس قسم کی ’بداعتمادی‘ کا جواز ہی پیدا نہ ہوتا۔ پیسکو حکام زیادہ دانشمندی کا مظاہرہ کرتے تو جن علاقوں سے صارفین بجلی بلوں کی اِدائیگیاں نہیں کر رہے‘ وہاں کے متعلقہ اَراکین اسمبلی اُور بالخصوص تحریک انصاف کے اَثرورسوخ سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں لیکن ’پیسکو‘ اُور ’خیبرپختونخوا حکومت‘ کے درمیان فاصلے خلیج کی صورت ہر گزرتے دن بڑھ رہے ہیں۔ قومی ادارے چاہے وفاقی ہوں یا صوبائی ’تعاون و ترقی‘ کے لئے عوام کی بہتری مقصود و مطلوب ہونی چاہئے۔ پیسکو حکام کو سوچنا چاہئے کہ اُن کے خلاف احتجاج کی نوبت ہی بھلا کیوں آئی اور اگر یہ سلسلہ قومی اسمبلی کے ایک اور صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں سے شروع ہوا ہے‘ تو عوام کے منتخب نمائندوں کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ عوامی دباؤ (غم وغصے) کے آگے بند باندھ سکیں۔ افسرشاہی کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام یا عوام کے نمائندوں کو جواب دینا پسند نہیں کرتے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے معاملات رازداری کی بناء پر بگڑ رہے ہیں۔ 

وفاقی حکومت کی ممکنہ خواہش پر صوبائی حکومت کے لئے سیاسی مشکلات پیدا کرنے کی بجائے پیسکو حکام اپنے کام سے کام رکھیں اور اپنی اُس نااہلی کا اعتراف کریں جس کی وجہ سے ’سوفیصد بجلی کے بل دینے والے علاقوں کے صارفین بھی مطمئن نہیں۔‘ پیسکو کا ادارہ ترسیلی نیٹ ورک کی خرابیاں دور کرنے کے لئے خاطرخواہ سرمایہ کاری نہیں کررہا۔ قابل غور ہے کہ ’نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)‘ کی رواں برس (دوہزارسترہ) ماہ فروری میں پانچ سالہ رپورٹ شائع میں کہا کہ ’’بجلی کی فراہمی کرنے والی جملہ کمپنیاں بشمول پیسکو کی کارکردگی مثالی نہیں۔ ’لائن لاسیز (T & D losses) کی ذیل میں پیسکو کو زیادہ سے زیادہ ’26 فیصد‘ خسارہ برداشت کرنے کی اجازت ہے لیکن پیسکو کے 34.8فیصد ’لائن لاسیز‘ نیپرا کی نظر میں ناقابل قبول ہیں اور ابھی اِس ادارے کے فیصلہ سازوں کو اپنی کارکردگی (ہنر) ثابت کرنا ہے!‘‘ رمضان المبارک‘ موسم گرما اُور بجلی کی لوڈشیڈنگ الگ الگ حقیقتیں نہیں۔ رمضان میں ویسے ہی ہر کس و ناکس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے اور بجلی کی ’بحرانی کمی‘ تو کسی ایک شہر یا گاؤں کا نہیں بلکہ پورے ملک کا حل طلب مسئلہ ہے اور اِسے قومی تناظر ہی میں دیکھنا چاہئے۔ کسی بھی وفاقی یا صوبائی ادارے کو یہ بات قطعی زیب نہیں دیتی کہ وہ قومی و حساس معاملات پر سیاست کے کسی ایجنڈے کو آگے بڑھائے۔ 

تجویز ہے کہ عوامی احتجاج اور قومی تنصیبات پر مزید ممکنہ حملوں کے بارے خفیہ اطلاعات کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ صوبائی حکومت کی طرح امن و امان کے حالات مزید بگڑنے سے بچانے کی ذمہ داری ’پیسکو‘ حکام پر بھی عائد ہوتی ہے جنہیں اپنی اپنی انا اور سیاسی ترجیحات بالائے طاق رکھنا ہوں گی! اراکین اسمبلیوں کی قیادت ہو یا نہ ہو عوام سے تصادم کی بجائے ’افہام و تفہیم‘ کی راہ اختیار کرنے ہی میں عافیت ہے اور آج کی تاریخ میں دستیاب و موجود یہ موقع بھی ضائع نہیں ہونا چاہئے‘ کہ جس میں ایک دوسرے کے نکتۂ نظر اور مؤقف سے اختلافات بذریعہ بات چیت طے (حل) ہو سکتے ہیں۔

Thursday, June 18, 2015

Jun2015: Subsidy for wealthiest ones!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انوکھی منطق!
کسی حکومت کی ’غریب دوستی‘کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کم آمدنی والے طبقات کے لئے کس قدر سہولیات فراہم کرتی ہے اور ٹیکسوں کا بوجھ غریبوں پر کم سے کم ڈالنے جبکہ زیادہ آمدنی رکھنے والوں سے زیادہ ٹیکس وصول کرتی ہے۔ اسی طرح وہ سبھی کردار جو سرکاری اِداروں کے مقروض یا نادہندہ ہوتے ہیں‘ اُن سے رعائت نہ کرنا بھی ایک طرح کی ’غریب دوستی‘ ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ کیا ہم اپنے نام نہاد رہنماؤں (اصلاح کاروں) سے اِس بات کی توقع بجا رکھ سکتے ہیں کہ وہ عام آدمی کے دُکھ سکھ کا اِحساس کریں گے اور اگر کہیں رعائت یا چھوٹ دینا ہوگی تو اُس طبقے کو ترجیح دی جائے گی جس کے پاس اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے خاطرخواہ وسائل نہیں۔

وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بجلی کے بل ادا نہ کرنے والے ایسے ہزاروں نادہندگان کو ’تیس فیصد‘ چھوٹ دی جائے جو اگلے مہینے اپنے بقایاجات کی (یکمشت یا اقساط کی صورت) مکمل ادائیگی کرنے پر آمادہ ہوں یقیناًیہ فیصلہ بجلی کے ایسے تمام صارفین کے ساتھ ناانصافی ہے‘ جو باقاعدگی کے ساتھ اپنے ماہانہ بل ادا کر رہے ہیں اور اگر حکومت یہ چاہتی ہے کہ کوئی بھی اپنے بل ادا نہ کرے اور بعدازاں انہیں تیس فیصد چھوٹ دے دی جائے گی تو یہ کوئی منطقی و مثبت سوچ نہیں بلکہ اس فیصلے سے یہ غلط تاثر بھی جاتا ہے کہ حکومت امرأ کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ جن نادہندگان سے واجبات کی ایک ایک پائی وصول کی جانی چاہئے تھی‘ اُنہیں رعائت دی جا رہی ہے اور جن کے پاس ادا کرنے کے ایک پائی بھی نہیں اُنہیں نچوڑ کر ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں!

سال 2009ء سے 2012ء تک بجلی بلوں کے نادہندہ افراد کے خلاف چھاپہ مار کاروائی ہونی چاہئے تھی اور انہیں دیگر صارفین کے لئے نشان عبرت بنایا جائے ناکہ اُنہیں رعائت کا یوں مستحق قرار دیا گیا کہ جیسے اُنہوں نے بروقت بل ادا نہ کرکے کوئی جرم یا بطور صارف معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ یہ اُن کا احسان عظیم ہے کہ بجلی استعمال کرنے کے بعد کسی وجہ سے سالہا سال تک ماہانہ بجلی بل ادا نہیں کر سکے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ جب کوئی عام آدمی ایک مہینے بل ادا نہ کرے تو اُسے ’ڈس کنکشن‘ کا ’نوٹس‘ ارسال کر دیا جاتا ہے لیکن بااثر افراد سالہا سال سے بجلی بل ادا نہیں کر رہے اور نہ تو اُن کی صنعتوں اور نہ ہی عدم ادائیگی کی وجہ سے اُن کی رہائشگاہوں کے بجلی کنکشن کاٹے جاتے ہیں۔ قواعد کے اطلاق کا یہ معیار حکومتی دعوؤں اور اصلاحات کے عملی اطلاق کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ ہے۔ کیا یہ امر تعجب خیز نہیں کہ جولائی 2009ء سے جولائی 2012ء کے عرصہ میں نجی صارفین کے ذمے بجلی کے ’182 ارب روپے‘ واجب الادأ ہیں! ابتدأ میں تو پچاس فیصد رعائت دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا تھا لیکن نجانے کس خوف کے تحت یہ رعائت تیس فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ توجہ طلب امر یہ بھی ہے کہ باقی ماندہ وصول ہونے والے بل کا دس فیصد حصہ بجلی کی ترسیلی کمپنیوں کے ملازمیں اور پانچ فیصد حصہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دینے کی سفارش کی گئی ہے کیونکہ وہ بلوں کی وصولی کے لئے کوشش کریں گے حالانکہ یہ ملازمین تنخواہ اور مراعات ہی اِس لئے حاصل کرتے رہے ہیں کہ وہ بجلی بلوں کی سو فیصد وصولی یقینی بنائیں گے۔ عجیب حال ہے کہ اب سرکاری ملازمین کو تنخواہ کے علاؤہ مزید مراعات اِس لئے دی جائیں گی تاکہ وہ اپنے فرائض منصبی ادا کریں! یہ سفارش کسی بھی صورت وفاقی حکومت کے شایان شان نہیں کہ وصول ہونے والی رقم کا دس فیصد بجلی کی ترسیلی کمپنیوں کے ملازمین جبکہ پانچ فیصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دے۔ تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سرکاری ایجنسیوں کے اہلکاروں کے لئے بھاری نقد انعام کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور قابل ذکر وصولی کے لئے صرف بجلی کی کمپنیوں کو پانچ فیصد ترغیبی رقم دینے کی منظوری دی ہے۔ پیکج کے تحت ایسے نادہندگان جو رواں سال 31جولائی تک مکمل بجلی بلوں کی مکمل ادائیگی پر آمادہ ہوں انہیں تیس فیصد‘ جو اپنے بقایاجات کی مکمل ادائیگی اگست میں کریں انہیں پچیس فیصد جبکہ ستمبر کے مہینے میں اپنے بقایاجات ادا کرنے والوں کو بیس فیصد چھوٹ دی جائے گی!

 الاماشاء اللہ وفاقی حکومت نے ایک اور فیصلے میں چینی اور گندم پر درآمدی ڈیوٹی میں بھی اضافہ کیا ہے‘ تاکہ مارکیٹ میں ان اجناس کی قیمتیں برقرار رکھی جا سکیں۔ چینی کی قیمت اگر کم ہوتی تو اس سے فائدہ عام آدمی کا تھا لیکن چونکہ شوگرملز مالکان کے بھی مفادات ہیں‘ اِس لئے عوام کو درآمد ہونے والی سستی چینی کی بجائے اپنے ہی ملک میں‘ اپنے ہی گنے کی پیداوار سے حاصل ہونے والی چینی مہنگے داموں خریدنا پڑے گی۔ اگر وفاقی حکومت بجلی کے اکثریتی صارفین سے انصاف نہیں کر رہی تو اُن کاشتکاروں کو بھی شوگر ملز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جنہیں اپنی فصل کا معاوضہ نہ تو بروقت ملتا ہے اُور نہ ہی حکومت کے اعلان کردہ نرخوں کے مطابق صلہ مل پاتا ہے۔ ایک طرف بندۂ مزدور کے تلخ حالات ہیں تو دوسری طرف کاشتکار کے لئے خون پسینے ایک کرنا بھی سودمند نہیں۔ المیہ ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک سیاسی سرمایہ کار مافیا نے ملک کو جھکڑ رکھا ہے۔ چینی‘ گھی و خوردنی تیل‘ دال چاول‘ سبزی فروٹ اُور آٹے جیسی اجناس و ضروریات پر خاص طبقے کی اجارہ داری ہے‘ جن کے لئے حکومتوں کے دل میں نرم گوشے کے سبب نجانے ہم عوام کی کتنی نسلوں کو محروم ومحکوم رہنا پڑے گا! ’’اک لہر مجھے کھینچ کے لے آئی بھنور میں۔۔۔ وہ لہر‘ جسے میں نے کنارے سے اُٹھایا!‘‘
Discount on electricity bills, why not to come up with something to benefit the low income consumers

Monday, March 16, 2015

Mar2015: TRANSLATION RUY Company he seeks

The Company he seeks
پیسکو: بحران وجوہات
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) میں بحران کا نکتۂ آغاز گذشتہ برس دسمبر میں اُس وقت سے ہوا جب فرض شناس چیف ایگزیکٹو آفیسر بریگیڈئر (ریٹائرڈ) طارق سدوزئی کو بطور چیئرمین ’نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)‘ تعینات کردیا گیا۔ اُس وقت پیسکو کے بورڈ نے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے لئے تین نام وفاقی وزارت برائے پانی و بجلی کو ارسال کئے جن میں پیسکو کے چیف کمرشل آفیسر میاں مسرت گل‘ جنرل منیجر فنانس انوار الحق یوسفزئی اُور ندیم انور کے نام شامل تھے لیکن وفاقی حکومت نے اِن تین ناموں کی بجائے پرویز اختر شاہ کو تعینات کر دیا جو گریڈ اُنیس کے اہلکار ہیں اور بطور سپرٹینڈنٹ انجنیئر پیسکو سے وابستہ ہیں۔ مبینہ طور پر اِس تعیناتی کے درپردہ ایک سیاسی شخصیت کا اثرورسوخ تھا‘ جن کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور وہ وزیراعظم نواز شریف کے اتحادی ہونے کی وجہ سے اُن تک رسائی رکھتے ہیں۔

پرویز شاہ کی بطور ’چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ تعیناتی اُن کے ملازمتی تجربے اور گریڈ کے کم سے کم معیار پر پورا نہیں اُترتی تھی‘ جس کی وجہ سے ’پیسکو‘ کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے اعلیٰ انتظامی اہلکاروں میں تشویش کی لہر دور گئی اور ملازمین کی یونین اِس تعیناتی پر سراپا احتجاج بن گئی۔ ’’آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین‘ خیبرپختونخوا‘‘ سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے صوبے بھر میں پیسکو دفاتر کی تالہ بندی کردی اور بشمول صوبائی دارالحکومت پشاور دیگر اضلاع میں اِحتجاجی مظاہرے کئے۔ یونین کے چیئرمین گوہر تاج کے بقول پرویز شاہ نے ماضی میں بھی ’پیسکو‘ کو نقصان پہنچایا تھا۔ اُن پر الزام رہا ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور وہ بہت سے دیگر ملازمین سے جونیئر ہیں۔‘‘ اِن الزامات کے جواب میں پرویز شاہ نے پیسکو ملازمین کی نمائندہ یونین کے صدر گوہر تاج کے خلاف ’ڈسپلن‘ کی خلاف ورزی کرنے پر محکمانہ کارروائی کاحکم دیا اور ساتھ اُن کے زیراستعمال اُس گاڑی (سہولت) کو بھی واپس لینے کا حکم صادر کیا‘ جو گوہرتاج کے زیراستعمال تھی۔

صرف ملازمین کی یونین ہی نہیں بلکہ پیسکو کے نگرانوں (’بورڈ آف ڈائریکٹرز‘) نے بھی پرویز شاہ کی تعیناتی کی مخالفت کی اور اُنہوں نے اپنے مشترکہ مؤقف سے وفاقی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ بھی کیا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ محمد آصف اور سیکرٹری (پانی و بجلی) یونس داغا کے نام تحریر میں اُس مذمتی قرارداد کا متن ارسال کیا گیا جس میں پرویز شاہ کی تعیناتی کو محکمانہ قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے غیرآئینی کہا گیا تھا۔ اُس مذمتی قرارداد میں ’بورڈ آف ڈائریکٹرز‘ نے اِس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ’’پیسکو مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اگر پرویز شاہ کی تعیناتی کا فیصلہ ایک ہفتے کے اندر واپس نہ لیا گیا تو اِس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

پرویز شاہ نے ہرممکنہ کوشش کی کہ وہ اپنی تعیناتی کو بچا سکے۔ اُنہوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظور کردہ قرارداد تک کی آئینی حیثیت پر سوال اُٹھایا۔ اُنہوں نے ایک ڈایکٹر ناصر خان موسیٰ زئی کی حمایت بھی حاصل کر لی‘ جن کی سیاسی وابستگی پاکستان مسلم لیگ (نواز)سے ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے کل آٹھ میں سے پانچ ڈائریکٹرز نے پرویز شاہ کی تعیناتی کی حمایت کی ہے۔ یہ دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں تھا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اکثریت نے پرویز شاہ کی تعیناتی کو تسلیم کرلیا تھا کیونکہ کسی بھی ڈائریکٹر نے ایسا تسلیم نہیں کیا۔ اِس صورتحال میں پرویز شاہ نے ذرائع ابلاغ میں بطور پیسکو سربراہ اپنی کارکردگی کے تشہیری مہم شروع کر دی۔ انہوں نے پیسکو کے مختلف دفاتر بشمول ہزارہ سرکل کا دورہ بھی کیا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ایک ملاقات بھی کی‘ تاکہ اپنی تعیناتی کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے خود کو جائز و اہل نگران ثابت کرسکیں۔انہوں نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی ’پیغام یونین‘ کی حمایت بھی حاصل کر لی‘ جو ’آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین‘ کی روائتی حریف ہے اور ہر اُس معاملے میں اِن کی مخالف رہی ہے جس کی وہ حمایت کر رہی ہو لیکن یہ سبھی حربے کارگر ثابت نہ ہوسکے اور پیسکو اہلکاروں کی تالہ بندی اِس حد تک مؤثر ثابت ہوئی کہ پرویز شاہ اپنے دفتر صرف ہفتے میں ایک روز ہی آسکتے یا پھر اُنہیں دفتری اوقات کے بعد شام کو دفتر میں بیٹھنے کی چھوٹ دی گئی! بالآخر وفاقی حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ پرویز شاہ کی تعیناتی سے اُس کی ساکھ متاثر ہورہی ہے اور پیسکو معاملات بھی الجھ رہے ہیں۔ پرویز شاہ کو اُن کے عہدے پر دس روز تعینات رہنے کے بعد ’چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ کی اضافی ذمہ داریوں سے الگ کردیا گیا اُور اُن کی جگہ ایک سینیئر اہلکار سیّد حسن فاضل کو تعینات کیا گیا لیکن اُن کی مشکلات ختم نہ ہوئیں اوراپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مالی بدعنوانیوں کے تحت اُن کے خلاف مقدمات قائم ہوئے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اُن اور اُن کے بیوی بچوں کے نام 109 بینک اکاونٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ مالی خردبرد جیسے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ پرویزشاہ کو گرفتار کیا گیا اور عدالت نے اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

پیسکو سربراہ کے انتخاب میں جس طرح سیاسی ترجیحات کو ترجیح دی گئی‘ اس سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ فیصلہ سازی کے مراحل میں اگر ذمہ داری اور انصاف پسندی کے ساتھ قواعد پر عملدرآمد کی روش اختیار کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں ایسی صورتحال پیش نہ آئے جس سے نہ صرف محکمانہ کارکردگی متاثر ہوئی بلکہ فیصلہ سازوں کو بھی ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی حکومت نے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا تھا جس پر مالی بدعنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق الزامات موجود تھے۔ سیاسی پسند و ناپسند کو فیصلہ سازی سے الگ رکھنا سرکاری اداروں کی کارکردگی‘ ساکھ اور مستقبل کے لئے بھی ضروری ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)