Monday, March 16, 2015

Mar2015: TRANSLATION RUY Company he seeks

The Company he seeks
پیسکو: بحران وجوہات
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) میں بحران کا نکتۂ آغاز گذشتہ برس دسمبر میں اُس وقت سے ہوا جب فرض شناس چیف ایگزیکٹو آفیسر بریگیڈئر (ریٹائرڈ) طارق سدوزئی کو بطور چیئرمین ’نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)‘ تعینات کردیا گیا۔ اُس وقت پیسکو کے بورڈ نے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے لئے تین نام وفاقی وزارت برائے پانی و بجلی کو ارسال کئے جن میں پیسکو کے چیف کمرشل آفیسر میاں مسرت گل‘ جنرل منیجر فنانس انوار الحق یوسفزئی اُور ندیم انور کے نام شامل تھے لیکن وفاقی حکومت نے اِن تین ناموں کی بجائے پرویز اختر شاہ کو تعینات کر دیا جو گریڈ اُنیس کے اہلکار ہیں اور بطور سپرٹینڈنٹ انجنیئر پیسکو سے وابستہ ہیں۔ مبینہ طور پر اِس تعیناتی کے درپردہ ایک سیاسی شخصیت کا اثرورسوخ تھا‘ جن کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور وہ وزیراعظم نواز شریف کے اتحادی ہونے کی وجہ سے اُن تک رسائی رکھتے ہیں۔

پرویز شاہ کی بطور ’چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ تعیناتی اُن کے ملازمتی تجربے اور گریڈ کے کم سے کم معیار پر پورا نہیں اُترتی تھی‘ جس کی وجہ سے ’پیسکو‘ کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے اعلیٰ انتظامی اہلکاروں میں تشویش کی لہر دور گئی اور ملازمین کی یونین اِس تعیناتی پر سراپا احتجاج بن گئی۔ ’’آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین‘ خیبرپختونخوا‘‘ سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے صوبے بھر میں پیسکو دفاتر کی تالہ بندی کردی اور بشمول صوبائی دارالحکومت پشاور دیگر اضلاع میں اِحتجاجی مظاہرے کئے۔ یونین کے چیئرمین گوہر تاج کے بقول پرویز شاہ نے ماضی میں بھی ’پیسکو‘ کو نقصان پہنچایا تھا۔ اُن پر الزام رہا ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور وہ بہت سے دیگر ملازمین سے جونیئر ہیں۔‘‘ اِن الزامات کے جواب میں پرویز شاہ نے پیسکو ملازمین کی نمائندہ یونین کے صدر گوہر تاج کے خلاف ’ڈسپلن‘ کی خلاف ورزی کرنے پر محکمانہ کارروائی کاحکم دیا اور ساتھ اُن کے زیراستعمال اُس گاڑی (سہولت) کو بھی واپس لینے کا حکم صادر کیا‘ جو گوہرتاج کے زیراستعمال تھی۔

صرف ملازمین کی یونین ہی نہیں بلکہ پیسکو کے نگرانوں (’بورڈ آف ڈائریکٹرز‘) نے بھی پرویز شاہ کی تعیناتی کی مخالفت کی اور اُنہوں نے اپنے مشترکہ مؤقف سے وفاقی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ بھی کیا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ محمد آصف اور سیکرٹری (پانی و بجلی) یونس داغا کے نام تحریر میں اُس مذمتی قرارداد کا متن ارسال کیا گیا جس میں پرویز شاہ کی تعیناتی کو محکمانہ قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے غیرآئینی کہا گیا تھا۔ اُس مذمتی قرارداد میں ’بورڈ آف ڈائریکٹرز‘ نے اِس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ’’پیسکو مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اگر پرویز شاہ کی تعیناتی کا فیصلہ ایک ہفتے کے اندر واپس نہ لیا گیا تو اِس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

پرویز شاہ نے ہرممکنہ کوشش کی کہ وہ اپنی تعیناتی کو بچا سکے۔ اُنہوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظور کردہ قرارداد تک کی آئینی حیثیت پر سوال اُٹھایا۔ اُنہوں نے ایک ڈایکٹر ناصر خان موسیٰ زئی کی حمایت بھی حاصل کر لی‘ جن کی سیاسی وابستگی پاکستان مسلم لیگ (نواز)سے ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے کل آٹھ میں سے پانچ ڈائریکٹرز نے پرویز شاہ کی تعیناتی کی حمایت کی ہے۔ یہ دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں تھا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اکثریت نے پرویز شاہ کی تعیناتی کو تسلیم کرلیا تھا کیونکہ کسی بھی ڈائریکٹر نے ایسا تسلیم نہیں کیا۔ اِس صورتحال میں پرویز شاہ نے ذرائع ابلاغ میں بطور پیسکو سربراہ اپنی کارکردگی کے تشہیری مہم شروع کر دی۔ انہوں نے پیسکو کے مختلف دفاتر بشمول ہزارہ سرکل کا دورہ بھی کیا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ایک ملاقات بھی کی‘ تاکہ اپنی تعیناتی کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے خود کو جائز و اہل نگران ثابت کرسکیں۔انہوں نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی ’پیغام یونین‘ کی حمایت بھی حاصل کر لی‘ جو ’آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین‘ کی روائتی حریف ہے اور ہر اُس معاملے میں اِن کی مخالف رہی ہے جس کی وہ حمایت کر رہی ہو لیکن یہ سبھی حربے کارگر ثابت نہ ہوسکے اور پیسکو اہلکاروں کی تالہ بندی اِس حد تک مؤثر ثابت ہوئی کہ پرویز شاہ اپنے دفتر صرف ہفتے میں ایک روز ہی آسکتے یا پھر اُنہیں دفتری اوقات کے بعد شام کو دفتر میں بیٹھنے کی چھوٹ دی گئی! بالآخر وفاقی حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ پرویز شاہ کی تعیناتی سے اُس کی ساکھ متاثر ہورہی ہے اور پیسکو معاملات بھی الجھ رہے ہیں۔ پرویز شاہ کو اُن کے عہدے پر دس روز تعینات رہنے کے بعد ’چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ کی اضافی ذمہ داریوں سے الگ کردیا گیا اُور اُن کی جگہ ایک سینیئر اہلکار سیّد حسن فاضل کو تعینات کیا گیا لیکن اُن کی مشکلات ختم نہ ہوئیں اوراپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مالی بدعنوانیوں کے تحت اُن کے خلاف مقدمات قائم ہوئے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اُن اور اُن کے بیوی بچوں کے نام 109 بینک اکاونٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ مالی خردبرد جیسے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ پرویزشاہ کو گرفتار کیا گیا اور عدالت نے اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

پیسکو سربراہ کے انتخاب میں جس طرح سیاسی ترجیحات کو ترجیح دی گئی‘ اس سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ فیصلہ سازی کے مراحل میں اگر ذمہ داری اور انصاف پسندی کے ساتھ قواعد پر عملدرآمد کی روش اختیار کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں ایسی صورتحال پیش نہ آئے جس سے نہ صرف محکمانہ کارکردگی متاثر ہوئی بلکہ فیصلہ سازوں کو بھی ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی حکومت نے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا تھا جس پر مالی بدعنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق الزامات موجود تھے۔ سیاسی پسند و ناپسند کو فیصلہ سازی سے الگ رکھنا سرکاری اداروں کی کارکردگی‘ ساکھ اور مستقبل کے لئے بھی ضروری ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

No comments:

Post a Comment