Wednesday, March 18, 2015

Mar2015: Honesty, the best policy

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
دیانت کے تقاضے
پاکستان تحریک انصاف کی قسمت یہ ہے کہ اسے ایک کے بعد ایک کھٹن مرحلے اور پہلے زیادہ مشکل امتحان سے گزرنا پڑتا ہے‘ جس کا ادراک‘ شدت و گہرائی کا اندازہ پارٹی کی مرکزی قیادت یا اُن کے قریبی حلقوں کو اِس بے چین کئے ہوئے ہے کہ اِس بارے ’آن دی ریکارڈ‘ بات کرنا پسند نہیں کی جاتی‘ کہ معاملہ غیردانستہ طور پر مزید نہ اُلجھ جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بانی اراکین میں شمار ہونے والے سابق سیکرٹری اطلاعات اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک درخواست دی ہے‘ جس میں تحریک انصاف کو ملنے والے چندے‘ عطیات (فنڈز) میں مبینہ طور پر خردبرد کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اِس درخواست پر چار رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جس کی سربراہی چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کر رہے ہیں۔ اب تک ہوئی سماعتوں میں بات اِس حد تک پہنچی ہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو حکم دیا ہے کہ یکم اپریل کو سماعت کے وقت سالانہ حسابات کا میزانیہ (آڈٹ رپورٹ) پیش کی جائے۔

درخواست گزار کو مؤقف ہے کہ امریکہ کے محکمہ انصاف کی ویب سائٹ پر درج اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ دو برس کے دوران امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے تحریک انصاف کے مختلف اکاونٹس میں 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم بھیجوائی گئی‘ جس کا مصرف سے متعلق تفصیلات ظاہر نہیں کی جا رہیں‘ جس میں ہوئی بدعنوانی کو خارج اَز اِمکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جب اکبر ایس بابر کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بارے میں اُن کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ مالی طورپر بدعنوان نہیں تو ایسے میں مالی خردبرد کے الزامات کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ تو اُن کا جواب تھا کہ ’’جسٹس (ر) وجیہہ الدین یہ کہہ چکے ہیں کہ جماعتی انتخابات میں پیسے کا استعمال ہوا‘ اُور ان کے نتائج دھاندلی سے مرتب ہوئے۔ لیکن داخلی معاملات سے متعلق تحقیقات کے لئے اُن افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جنہوں نے سال 2012-13ء میں ہوئے جماعتی انتخابات میں دھاندلی کا حصہ رہے تھے۔ میں ذاتی طور پر یقین رکھتا ہوں کہ عمران خان تحریک انصاف کے اندر ہونے والی بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کو نظرانداز کرتے ہوئے اُنہیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں جس کی وجہ سے تحریک انصاف میں بدعنوانی خوفناک حد تک پھیل چکی ہے! تبدیلی کے نام پر کروڑوں کے عطیات (فنڈ) آ رہے ہیں‘ جن میں خردبرد ہوئی ہے!‘‘

امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کو داخلی طور پر ’مکمل جمہوری‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی کمی یا خامی موجود ہے لیکن اِن خامیوں کو حاوی ہونے نہیں دیا جاتا۔ ظاہر ہے سبھی جماعتیں انسانوں پر مشتمل ہے‘ جو خطا کا پتلا ہے بالخصوص جب معاملہ ’مالی وسائل‘ کا ہو لیکن تحریک انصاف سبھی کی نظروں میں اِس لئے چبھ رہی ہے کیونکہ اِس پرکار کا مرکزی نکتہ (چیئرمین) ملک میں ایسی آئینی اصلاحات چاہتے ہیں جن کی بدولت بیرون ملک منتقل کی جانے والی قومی دولت لائی جاسکے۔ عام انتخابات شفاف انداز میں ہوں اور سماجی و قانونی انصاف قابل خریدوفروخت جنس نہ ہو لیکن تحریک انصاف کے شانوں پر جماعتی انتخابات کا بوجھ کسی صورت نہیں اُتر رہا۔ اب جبکہ تحریک نئے جماعتی انتخابات کے بارے میں سوچ رہی ہے اور بیس فروری تک بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے والوں سے درخواستیں بھی طلب کر لی گئیں ہیں تو ایسے مرحلے پر اگر مالی امور میں خیانت سے متعلق الیکشن کمیشن کسی ایسے نتیجے پر پہنچ جائے جس سے بدعنوانی ثابت ہو جائے تو یہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کے لئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر بیرون ملک پارٹی کی ساکھ ہے‘ جس پر فی الوقت انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔

تحریک کی مرکزی قیادت یوں تو ہر معاملے پر تبصرہ کرتی ہے لیکن مالی معاملات میں خردبرد کے حوالے سے الزامات کے حوالے سے کوئی مؤقف سامنے آنا چاہئے۔ اگر پارٹی رہنما براہ راست بات چیت کرنے مین ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ بذریعہ ویب سائٹ مفصل جواب بمعہ دستاویزی ثبوت کارکنوں کے سامنے رکھیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے زیادہ تحریک کا اپنے کارکنوں کی نظروں میں بلند مقام اور مرتبہ کسی صورت متاثر نہیں ہونا چاہئے بالخصوص بلدیاتی انتخابات جیسی اِس نازک گھڑی تو ہر قدم زیادہ احتیاط بلکہ پھونک پھونک کر رکھنے کے متقاضی ہے۔

تحریک انصاف کے جماعتی انتخابات کا تجربہ انتہائی کامیاب لیکن نتائج کے بعد اٹھنے والے تنازعات کی وجہ سے انتہائی غیرمتنازعہ رہا۔ یہاں تک کہ عام انتخابات اور بعدازاں ضمنی انتخابات کے مراحل میں کئی مقامات پر ٹھوکریں بھی اسی وجہ سے کھانی پڑی ہیں کہ کچھ مفاد پرست عناصر نے ایک جمہوری عمل کو بے معنی بنا کر رکھ دیا۔ نتائج اور حاصل جو بھی رہا ہو لیکن پاکستان تحریک انصاف کو یہ اعزاز ہمیشہ حاصل رہے گا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اُس نے جمہوریت کی ابتدأ اپنے گھر سے کی ہے اور اِس بات کا ’کریڈٹ‘ دیتے ہوئے سیاسی وغیرسیاسی‘ روائتی و غیرروائتی مصلحت‘ کنجوسی یا بخل سے کام نہیں لینا چاہئے۔

No comments:

Post a Comment