Showing posts with label Peshawar Electric Supply Company. Show all posts
Showing posts with label Peshawar Electric Supply Company. Show all posts

Monday, May 29, 2017

May2017: BELATED RESPONSE: The Power Projects in KP!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
محدود و مشکوک ترقی!
خیبرپختونخوا میں سستی (پن) بجلی کے پیداواری منصوبوں کے لاتعداد امکانات کی موجودگی سے زیادہ یہ بات ’خبر‘ ہے کہ حکومت کو اِس بات کا احساس ہو گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت آئندہ مالی سال میں توانائی بحران کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار اِس کا حل پیش کرنے کی صورت قوم کے سامنے رکھنا چاہتی ہے لیکن مسئلہ مالی وسائل کی کمی اور وفاق کے سوتیلے پن کا ہے۔ 

خیبرپختونخوا میں پن بجلی کے منصوبوں سمیت جملہ تعمیروترقی کے لئے مالی وسائل کی فراہمی اور تکنیکی سرپرستی کی بجائے ’وفاقی حکومت‘ کا رویہ شروع دن ہی سے ’غیرشاعرانہ‘ رہا ہے اور بالخصوص جب سے ’پانامہ پیپرز‘ کی صورت حکمراں خاندان کی مشکوک مالی حیثیت کے بارے عدالتوں میں سوالات اُٹھے ہیں تب سے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (نواز) کے درمیان اختلاف کی خلیج میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اختیارات اور حدود میں کس طرح عام آدمی (ہم عوام) کے مفادات پس پشت رکھ سکتی ہیں‘ لیکن اگر ’سیاسی عناد‘ (مخالفت) کے سبب ایسا ہو رہا ہے تو کم سے کم اِس خواہش کا اظہار تو کیا جا سکتا ہے کہ ’برائے مہربانی ایسا نہ کیا جائے!‘ 

خیبرپختونخوا کو سزا دینے والوں میں خود ’تحریک انصاف‘ کی صوبائی قیادت بھی پیش پیش ہے‘ جس نے پارٹی کی قومی پالیسی کے آگے ’سب سے قیمتی شے‘ کی قربانی پیش کر دی اور اب اُسے ’پانامہ کیس‘ کے کسی ایسے فیصلے کا انتظار ہے جو آئندہ عام انتخابات کا نعرہ بن سکے۔ خیبرپختونخوا کو درپیش مسائل اور بالخصوص امن و امان کی صورتحال اس بات کی متقاضی تھی کہ کسی دوسرے صوبے میں مرکز اور قومی امور میں سیاسی دلچسپیاں رکھنے والوں کی اندھا دھند تقلید نہ کی جائے بلکہ صوبے کے اپنے وسائل اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی ایسا درمیانی راستہ تلاش کرنے میں عافیت تھی جس سے وفاقی حکومت سے تصادم کی بجائے ’افہام و تفہیم‘ اور ’باہمی احترام‘ کی بنیادوں پر اُس ’نئے خیبرپختونخوا‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا جو کسی صوبے یا وفاق کے خلاف سازش کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط و مستحکم پاکستان کی آج بھی اولین ضرورت ہے۔

آئندہ ’مالی سال برائے 2017-18ء کے صوبائی بجٹ‘ میں تعلیم و صحت کے بعد بجلی کے پیداواری منصوبوں کو اہمیت دی گئی ہے اور اِس مقصد کے لئے کل 57 ترقیاتی منصوبوں کو خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کیا گیا ہے جن میں چوبیس نئے اور تینتیس جاری منصوبوں کے لئے ’دوسو ارب روپے‘ سے زائد مختص کئے گئے ہیں‘ ان میں 50ارب جاری اور 159 ارب روپے ایسے نئے منصوبوں کے لئے جاری ہوں گے جن سے خیبرپختونخوا کو مستقبل میں آمدنی کا ایک پائیدار ذریعہ بھی حاصل ہوگا۔ ماضی میں ’ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ‘ کا محکمہ ’خیبرپختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ فنڈ‘ کے نام سے کام کر رہا ہے جو صوبائی خزانے اور غیرملکی وسائل سے حاصل ہونے والے سرمائے سے بجلی کے پیداواری منصوبوں کی کھوج اور انہیں عملی جامہ پہنانے جیسی ذمہ داریاں رکھتا ہے۔ 

تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت کی آئینی مدت کے آخری مالی سال کے بجٹ میں جس انداز کا ’ترقیاتی نقشہ‘ پیش کیا گیا ہے اگر یہی فکروعمل‘ جذبہ‘ توانائی‘ جنون اُور کارکردگی پہلے مالی سال سے دیکھنے کو ملتی‘ تو آج جس 1123 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی اُمیدیں ظاہر کی جا رہی ہیں آج ہم اِن اہداف کے حصول کے بہت قریب ہو چکے ہوتے! بہرحال حکمت عملی بجلی کے صوبائی پیداواری مجوزہ منصوبوں میں پن بجلی‘ تیل و گیس اور شمسی توانائی سے استفادہ کیا جائے گا۔ قابل ذکر پن بجلی کے تین بڑے منصوبوں میں 300میگاواٹ کا بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ‘ 47میگاواٹ کا بریکوٹ پیٹراک ہائیڈرو پراجیکٹ اور 22 میگاواٹ کا پٹراک شیرنگل ہائیڈرو پاور شامل ہیں جن میں سے بالاکوٹ منصوبے کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک 80فیصد جبکہ دیگر دو منصوبوں کی مالی ضروریات کے لئے ورلڈ بینک کل اخراجات کا 80فیصد ادا کرے گا۔ نئے مالی سال میں خیبرپختونخوا حکومت ایک ہزار مساجد کو شمسی توانائی سے روشن کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جس کے لئے 96 ارب سے زیادہ (967.6ملین) روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔

اٹھائیس مئی کو پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر انجنیئر امیر مقام نے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے سوال کیا کہ ’’صوبائی حکومت اُس ایک میگاواٹ بجلی کے بارے میں پہلے بتائیں جو اُنہوں نے چار سال میں تیار کی ہے!‘‘ یہ ایک چھبتا ہوا سوال (اعتراض) ہے اور اب صوبائی حکومت کے فیصلہ سازوں کو احساس ہو رہا ہوگا کہ اُنہوں نے کس قدر تیزی سے وقت ضائع کیا! ترقی کا کوئی بھی خاکہ (تصور) اور کسی بھی درجے کی حکمت عملی کے خاطرخواہ عملی نتائج کا تعلق اُن کی حسب منصوبہ بندی تکمیل پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ جس طرح ماضی کے کئی ترقیاتی منصوبوں کو موجودہ صوبائی حکومت نے جاری رکھنا مناسب نہیں سمجھا‘ بالکل اسی روش پر چلتے ہوئے مستقبل کی حکومتیں بھی اُن تمام منصوبوں کی بساط لپیٹ سکتی ہیں‘ جو تحریک انصاف کے انتخابی منشور کا حصہ ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ہاں طرز حکمرانی ہر پہلو سے اِس حد تک ’سیاسی‘ ہو چکاہے کہ اِس نے ترقی کے عمل اور اِس کے بارے میں پرخلوص کوششوں کو بھی مشکوک و محدود بنا کر رکھ دیا ہے۔

Monday, March 16, 2015

Mar2015: TRANSLATION RUY Company he seeks

The Company he seeks
پیسکو: بحران وجوہات
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) میں بحران کا نکتۂ آغاز گذشتہ برس دسمبر میں اُس وقت سے ہوا جب فرض شناس چیف ایگزیکٹو آفیسر بریگیڈئر (ریٹائرڈ) طارق سدوزئی کو بطور چیئرمین ’نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)‘ تعینات کردیا گیا۔ اُس وقت پیسکو کے بورڈ نے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے لئے تین نام وفاقی وزارت برائے پانی و بجلی کو ارسال کئے جن میں پیسکو کے چیف کمرشل آفیسر میاں مسرت گل‘ جنرل منیجر فنانس انوار الحق یوسفزئی اُور ندیم انور کے نام شامل تھے لیکن وفاقی حکومت نے اِن تین ناموں کی بجائے پرویز اختر شاہ کو تعینات کر دیا جو گریڈ اُنیس کے اہلکار ہیں اور بطور سپرٹینڈنٹ انجنیئر پیسکو سے وابستہ ہیں۔ مبینہ طور پر اِس تعیناتی کے درپردہ ایک سیاسی شخصیت کا اثرورسوخ تھا‘ جن کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور وہ وزیراعظم نواز شریف کے اتحادی ہونے کی وجہ سے اُن تک رسائی رکھتے ہیں۔

پرویز شاہ کی بطور ’چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ تعیناتی اُن کے ملازمتی تجربے اور گریڈ کے کم سے کم معیار پر پورا نہیں اُترتی تھی‘ جس کی وجہ سے ’پیسکو‘ کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے اعلیٰ انتظامی اہلکاروں میں تشویش کی لہر دور گئی اور ملازمین کی یونین اِس تعیناتی پر سراپا احتجاج بن گئی۔ ’’آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین‘ خیبرپختونخوا‘‘ سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے صوبے بھر میں پیسکو دفاتر کی تالہ بندی کردی اور بشمول صوبائی دارالحکومت پشاور دیگر اضلاع میں اِحتجاجی مظاہرے کئے۔ یونین کے چیئرمین گوہر تاج کے بقول پرویز شاہ نے ماضی میں بھی ’پیسکو‘ کو نقصان پہنچایا تھا۔ اُن پر الزام رہا ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور وہ بہت سے دیگر ملازمین سے جونیئر ہیں۔‘‘ اِن الزامات کے جواب میں پرویز شاہ نے پیسکو ملازمین کی نمائندہ یونین کے صدر گوہر تاج کے خلاف ’ڈسپلن‘ کی خلاف ورزی کرنے پر محکمانہ کارروائی کاحکم دیا اور ساتھ اُن کے زیراستعمال اُس گاڑی (سہولت) کو بھی واپس لینے کا حکم صادر کیا‘ جو گوہرتاج کے زیراستعمال تھی۔

صرف ملازمین کی یونین ہی نہیں بلکہ پیسکو کے نگرانوں (’بورڈ آف ڈائریکٹرز‘) نے بھی پرویز شاہ کی تعیناتی کی مخالفت کی اور اُنہوں نے اپنے مشترکہ مؤقف سے وفاقی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ بھی کیا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ محمد آصف اور سیکرٹری (پانی و بجلی) یونس داغا کے نام تحریر میں اُس مذمتی قرارداد کا متن ارسال کیا گیا جس میں پرویز شاہ کی تعیناتی کو محکمانہ قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے غیرآئینی کہا گیا تھا۔ اُس مذمتی قرارداد میں ’بورڈ آف ڈائریکٹرز‘ نے اِس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ’’پیسکو مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اگر پرویز شاہ کی تعیناتی کا فیصلہ ایک ہفتے کے اندر واپس نہ لیا گیا تو اِس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

پرویز شاہ نے ہرممکنہ کوشش کی کہ وہ اپنی تعیناتی کو بچا سکے۔ اُنہوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظور کردہ قرارداد تک کی آئینی حیثیت پر سوال اُٹھایا۔ اُنہوں نے ایک ڈایکٹر ناصر خان موسیٰ زئی کی حمایت بھی حاصل کر لی‘ جن کی سیاسی وابستگی پاکستان مسلم لیگ (نواز)سے ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے کل آٹھ میں سے پانچ ڈائریکٹرز نے پرویز شاہ کی تعیناتی کی حمایت کی ہے۔ یہ دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں تھا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اکثریت نے پرویز شاہ کی تعیناتی کو تسلیم کرلیا تھا کیونکہ کسی بھی ڈائریکٹر نے ایسا تسلیم نہیں کیا۔ اِس صورتحال میں پرویز شاہ نے ذرائع ابلاغ میں بطور پیسکو سربراہ اپنی کارکردگی کے تشہیری مہم شروع کر دی۔ انہوں نے پیسکو کے مختلف دفاتر بشمول ہزارہ سرکل کا دورہ بھی کیا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ایک ملاقات بھی کی‘ تاکہ اپنی تعیناتی کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے خود کو جائز و اہل نگران ثابت کرسکیں۔انہوں نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی ’پیغام یونین‘ کی حمایت بھی حاصل کر لی‘ جو ’آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین‘ کی روائتی حریف ہے اور ہر اُس معاملے میں اِن کی مخالف رہی ہے جس کی وہ حمایت کر رہی ہو لیکن یہ سبھی حربے کارگر ثابت نہ ہوسکے اور پیسکو اہلکاروں کی تالہ بندی اِس حد تک مؤثر ثابت ہوئی کہ پرویز شاہ اپنے دفتر صرف ہفتے میں ایک روز ہی آسکتے یا پھر اُنہیں دفتری اوقات کے بعد شام کو دفتر میں بیٹھنے کی چھوٹ دی گئی! بالآخر وفاقی حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ پرویز شاہ کی تعیناتی سے اُس کی ساکھ متاثر ہورہی ہے اور پیسکو معاملات بھی الجھ رہے ہیں۔ پرویز شاہ کو اُن کے عہدے پر دس روز تعینات رہنے کے بعد ’چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ کی اضافی ذمہ داریوں سے الگ کردیا گیا اُور اُن کی جگہ ایک سینیئر اہلکار سیّد حسن فاضل کو تعینات کیا گیا لیکن اُن کی مشکلات ختم نہ ہوئیں اوراپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مالی بدعنوانیوں کے تحت اُن کے خلاف مقدمات قائم ہوئے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اُن اور اُن کے بیوی بچوں کے نام 109 بینک اکاونٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ مالی خردبرد جیسے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ پرویزشاہ کو گرفتار کیا گیا اور عدالت نے اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

پیسکو سربراہ کے انتخاب میں جس طرح سیاسی ترجیحات کو ترجیح دی گئی‘ اس سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ فیصلہ سازی کے مراحل میں اگر ذمہ داری اور انصاف پسندی کے ساتھ قواعد پر عملدرآمد کی روش اختیار کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں ایسی صورتحال پیش نہ آئے جس سے نہ صرف محکمانہ کارکردگی متاثر ہوئی بلکہ فیصلہ سازوں کو بھی ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی حکومت نے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا تھا جس پر مالی بدعنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق الزامات موجود تھے۔ سیاسی پسند و ناپسند کو فیصلہ سازی سے الگ رکھنا سرکاری اداروں کی کارکردگی‘ ساکھ اور مستقبل کے لئے بھی ضروری ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)