Showing posts with label RUY. Show all posts
Showing posts with label RUY. Show all posts

Friday, September 10, 2021

Remembering Rahimullah Yusufzai

 ژرف نگاہ.... شبیرحسین اِمام

نایاب ہستیاں: رحیم اللہ یوسفزئی

صائب الرائے تجزیہ کار اُور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی (پیدائش دس ستمبر اُنیس سو چون۔ وفات نو ستمبر دوہزاراکیس) دارِفانی سے کوچ کر گئے۔ آپ ایک عرصے سے سرطان (کینسر) کے مرض میں مبتلا تھے‘ جس کا مقابلہ کرتے ہوئے جانبر نہ ہو سکے۔ انا للہ و انا علیہ راجعون۔ 

اَفغانستان میں روس (سوویت یونین) کی فوجی مداخلت (24 دسمبر 1979ءسے 15 فروری 1989ئ) کے دوران اُور اِس فوج کشی کو ختم کرنے کے لئے شروع ہونے والی مزاحمتی تحریک کا دور کمپیوٹر‘ انٹرنیٹ‘ موبائل فون اُور سوشل میڈیا جیسی ترسیلی سہولیات کا حامل نہیں تھا۔ خبر نگاری تجزیہ کاری سے زیادہ مشقت و محنت طلب کام اُسے ارسال کرنا ہوتا تھا جس کے لئے ایڈروڈز کالج کے سامنے پوسٹ آفس میں غیرملکی اداروں کے لئے کام کرنے والے صحافیوں کی قطاریں لگی ہوتی تھیں جو اپنے اپنے دفاتر ’وائر‘ کے ذریعے خبریں اُور ڈرم اسکینگ کے ذریعے تصاویر بھیجتے تھے۔ اُس دور میں جبکہ گوگل (google) کے ذریعے تلاش ممکن نہیں تھی اُور عالمی معیار کے مطابق صحافت کرنے سے بھی ہر کس و ناکس آشنا نہیں تھا تب رحیم اللہ یوسفزئی نے کراچی‘ اسلام آباد اُور پشاور کے اخبارات میں کام کرنے کے تجربے‘ تعلق اُور موقع سے استفادہ کرتے ہوئے افغان امور کے بارے میں اِس انداز سے خبرنگاری کی کہ اُن کے تجزئیات کی روشنی میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلم ممالک کی خارجہ پالیسی کے خدوخال درست (فائن ٹیوننگ) کئے جاتے تھے۔ اب جبکہ ہر طرف ’صحافی‘ دکھائی دیتے ہیں اُور پشاور کے ایوان ہائے صحافت کی رونقیں عروج پر ہیں تو خیبرپختونخوا میں صحافتی اقدار کو متعارف اُور صحافتی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے میں بھی رحیم اللہ یوسفزئی کے کردار کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا جن کا ثانی نہ ہے اُور نہ ہی کبھی ہوگا۔ 

افغانستان کے عسکریت پسند رہنماؤں بشمول القاعدہ تنظیم کے سعودی عرب نژاد سربراہ اسامہ بن لادن اُور افغان طالبان تحریک کے بانی رہنما ملا عمر سے بات چیت کے ذریعے رحیم اللہ یوسفزئی نے عالمی شہرت پائی۔ ایک وقت تھا جب مغربی ذرائع ابلاغ اُور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے علاو¿ہ غیرملکی سفارتخانوں کے لئے رحیم اللہ یوسفزئی سے زیادہ افغان امور سے متعلق صائب الرائے شخص کوئی دوسرا نہیں تھا اُور یہی وہ دور تھا جب رحیم اللہ یوسفزئی درجنوں ملکی و غیرملکی نشریاتی و اشاعتی اداروں کے لئے باقاعدگی سے اُور بے تھکان لکھتے تھے لیکن صحافت سے اُن کی وابستگی اُور لگاو¿ صرف ملازمت ہی کی حد تک محدود نہیں رہا اُور وہ دیگر صحافیوں کی طرح روایت پسند (لکیر کے فقیر) بھی نہیں رہے بلکہ اُنہوں نے صحافت میں آنے والی تبدیلیوں اُور ابلاغ کے جدید ترین وسائل (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے برق رفتار اسلوب پر نظر رکھی اُور سنسنی خیزی کی بجائے ہمیشہ تحمل کو اہمیت دی۔ فوری خبر کی دور میں سچائی و غیرجانبداری پر سمجھوتہ نہیں کیا اُور صحافت کی چاشنی‘ تازگی و اقدار کے بہرصورت علمبردار رہے اُور تنقیدی صحافت سے الگ رہے کیونکہ وہ شروع دن سے جانتے تھے کہ تنقیدی نظریات میں کوئی فلسفیانہ سچائی نہیں ہوتی کہ جسے مجرد فلسفیانہ طور پر ثابت کیا جا سکے اُور یہی نظریہہ اُن کی پوری عملی زندگی پر حاوی اُور صحافتی کامیابی کا نچوڑ ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی مرحوم اپنی ذات میں ایک جامعہ تھے۔ اُن کے علاو¿ہ راقم کو کسی ایسے ’ریذیڈنٹ ایڈیٹر‘ کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملا جو اپنی ٹیم کے ہر رکن کی کمزوریوں اُور صلاحیتوں (پوٹینشل) کو مدنظر رکھتے ہوئے اُس کی انفرادی اُور پوری ٹیم کی اجتماعی تربیت کا اہتمام نہ کرتا ہو۔ خبرنگاری میں عالمی صحافتی اسلوب کے قواعد و ضوابط اُور انگریزی لغت کے مطابق الفاظ کا درست انتخاب و موزوں استعمال شاید ہی اُن کے علاؤہ کسی دوسرے کے ہاں اِس قدر اہتمام کے ساتھ ملے۔ صرف 2 مثالوں سے اُن کی باریک بینی اُور انگریزی زبان کے قواعد کا لحاظ رکھنے میں دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا کہ رپورٹروں کی ہفتہ وار میٹنگ میں وہ اکثر انگریزی زبان میں شخصیات‘ مقامات یا القابات کا تعین کرنے والے (determiner) ’The‘ اُور سنگل اُور ڈبل ’کوٹیشن مارکس (Quotation marks)‘ کے درست استعمال کو مثالوں سے بیان کرتے جو بظاہر چھوٹی بات لگتی ہے لیکن جب ہم انگریزی صحافت کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلی درست چیز اِس زبان کی قواعد و ضوابط پر عمل ہونا چاہئے۔ رحیم اللہ یوسفزئی بار بار غلطی کرنے پر بار بار اصلاح کرتے اُور یہ بھی آپ ہی کا خاصہ (بڑا پن) تھا کہ ناراضگی یا غصے کا اظہار کبھی بھی آپ کے چہرے یا خطاب سے عیاں نہ ہوتا۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے ساتھ دو برس چند ماہ ایک ہی ادارے (اخبار دی نیوز) میں کام کرنے کے دوران متعدد مرتبہ اُن کے ہمراہ افغانستان سفر کرنے کا اتفاق ہوا‘ جن سے متعلق یاداشتوں کو چند سطور میں بیان کرنا ممکن نہیں‘ البتہ صرف ایک واقعہ قارئین کو اُن کی شخصیت کے ایک خاص پہلو سے روشناس کرانے اُور رحیم اللہ یوسفزئی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کی محمد عمر نامی شخص سے قندھار میں پہلی ملاقات اُن کے ملا عمر بننے یعنی تحریک طالبان (افغانستان) کی بنیاد رکھنے سے کئی برس پہلے ہوئی تھی۔ فروری 1995ءمیں تحریک طالبان افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں میں قئام کی گئی جن ملا عمر 35 برس کے تھے اُور ملاعمر نے اُنہیں بتایا تھا کہ وہ اُن دنوں مدرسے میں زیرتعلیم تھے لیکن روس (سوویت یونین) کے خلاف جہاد کے لئے اُنہوں نے مدرسے میں جاری تعلیمی عمل کو خیرباد کہا اُور اپنے لئے ’طالب‘ کا لقب پسند کیا‘ جس کا مطلب علم کا متلاشی ہوتا ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کی ایک مرتبہ نہیں بلکہ ملا عمر سے کئی ملاقاتیں رہیں اُور چونکہ ملا عمر تصویر نہیں بنواتے تھے اُور نہ ہی وہ دور ایسا تھا کہ جب ہر شخص کی جیب میں کیمرے والا موبائل ہوا کرتا تھا۔ دنیا ملا عمر کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی اُور اِس میں مدد کرنے کے لئے رحیم اللہ یوسفزئی ہی واحد ایسی غیرملکی شخصیت تھے‘ جن کا اُن سے نہ صرف ملاقاتوں بلکہ بعدازاں بھی رابطوں کا سلسلہ رہا۔ 

روس کی شکست کے بعد ایک مرحلہ وہ آیا جب امریکہ اُور اتحادی افواج نے افغانستان پر فوج کشی کر دی اُور یہ وہ وقت تھا جب رحیم اللہ یوسفزئی دل کے عارضے میں مبتلا تھے اُور آپ نے خاص دفتری امور کے علاو¿ہ دیگر معمولات ترک کر دیئے تھے۔ ڈاکٹروں نے زیادہ مشقت حتی کہ ہوائی جہاز کے سفر سے بھی منع کیا تھا کہ اُنہیں ملا عمر کی طرف سے ملاقات کی خواہش کا پیغام ملا تو اُن کے چہرے پر سنجیدگی مزید بڑھ گئی تھی جس سے متعلق پوچھنے پر بتایا کہ اگرچہ میرا ہوائی سفر کرنا میری زندگی کے لئے خطرہ ہے لیکن مجھے کوئٹہ اُور وہاں سے براستہ سڑک قندھار جانا پڑے گا لیکن ”آپ کی صحت اتنا طویل اُور پرخطر سفر کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی؟“ میرے اِس سوال پر اُنہوں نے کہا کہ ”ایک وقت تھا جب دنیا ملاعمر سے بات کرنا چاہتی تھی اُور اُس وقت اُنہوں نے مجھ پر اعتماد کیا کہ میں اُن کے موقف کو پوری ایمانداری سے پیش کروں گا اُور اب جبکہ دنیا اُن سے کترا رہی ہے اُور میں خرابی صحت کے جواز پر اُن سے ملاقات نہ کروں تو کہیں میری صحافتی ایمانداری اُور غیرجانبداری سے متعلق اُن کی رائے تبدیل نہ ہو جائے اُور پھر وہ اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر ہوائی و زمینی سفر پر گئے جو اپنی جگہ سیکورٹی خطرات سے بھی بھرپور تھا اُور ایک ایسے وقت میں جبکہ خلائی سیاروں اُور ڈرون طیاروں سے ہر راہداری کی نگرانی ہو رہی تھی اُور رحیم اللہ یوسفزئی جیسی شخصیات کے پیچھے سائے کی طرح خفیہ اِداروں کے اہلکار جڑے رہتے تھے تو افغانستان کا دورہ اُن کی مہم جو طبیعت کا عکاس تھا۔ وہ ایک نہایت ہی مشکل پسند اُور مستقل مزاج انسان تھے۔

اہل خانہ اُور اہل خاندان کے لئے آسائشوں کا بندوبست کیا لیکن اپنی بودوباش انتہائی سادہ اُور متوازن رکھی۔ وہ ترک دنیا کی عجیب و غریب مثال تھے کہ بیماری کی شدت کے آخری چند ماہ (دوہزاراکیس کے آغاز سے 9 ستمبر تک) کے علاوہ اُنہوں نے کبھی بھی لکھنا ترک نہیں کیا۔ دی نیوز میں اُن کی آخری تحریر ’21 جون 2021ئ‘ کے روز شائع ہوئی جو ’نیشنل الیکٹرسٹی پالیسی‘ سے متعلق تھی جبکہ ہفتہ وار اشاعت ’دی نیوز آن سنڈے (TNS)‘ کے لئے اُن کی آخری تحریر ’7 فروری 2021ئ‘ کے روز شائع ہوئی جو عسکریت پسند رہنما منگل باغ کی ہلاکت سے متعلق ماضی و حال کی اطلاعات کے جائزے پر مشتمل تجزیہ تھا۔ 

روزنامہ آج کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ رحیم اللہ یوسفزئی کی تحریروں کو ’دی نیوز‘ سے ترجمہ اُور تلخیص کرکے شائع کیا جاتا رہا‘ جن کے لئے اُنہوں نے ’دامن تاتارا سے‘ کا عنوان منتخب کیا تھا۔ یہ تراجم روزنامہ آج کی ویب سائٹ (dailyaaj.com.pk) کی ذیل میں کالم نگاروں (columnisit) کے شعبے میں رحیم اللہ یوسفزئی (rahimullah-yousafzai) کی تلاش سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کا قومی اعزاز ”ستارہ امتیاز“ عالمی سطح پر نمایاں خدمات یا ملک کے لئے سفارتکاری کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی بھی ”ستارہ امتیاز“ کے حامل تھے‘ جن کی رحلت سے ایک ستارہ غروب ہوا ہے اُور اِس پر نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ قومی سطح پر صحافتی حلقے اداس ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے لیکر سیاسی جماعتوں کے قائدین اُور صحافیوں کی قومی نمائندہ تنظیم (فیڈریل یونین آف جرنلسٹس) کی جانب سے تعزیتی بیانات جاری ہوئے ہیں۔ التماس دعا ہے کہ قارئین اوّل آخر درود شریف (صلوة) کے ساتھ ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اُور تین مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت (فاتحہ) کا ہدیہ ایصال ثواب کریں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم و مغفور کے درجات بلند سے بلند فرمائے اُور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)۔

....


Sunday, July 2, 2017

TRANSLATION: Life in captivity - a tale of couple!

Life in captivity
مغوئیوں کی کہانی!
عسکریت پسند اکثر ایسی شخصیات کو اغوأ کرتے ہیں جن کی اہمیت ہوتی ہے اور پھر اُن مغوئیوں کی ویڈیو جاری کرکے حکومت سے اپنے مطالبات تسلیم کروانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اغوأ ہوتے ہیں ایک نہایت ہی مشکل زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ اِس بارے میں زیادہ کچھ بیان نہیں کر سکتے۔ اُن کے چہروں کو ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے اور اُن پر مسلح افراد پہرہ دے رہے ہوتے ہیں جب اُن کے پیغامات ریکارڈ کئے جا رہے ہوتے ہیں۔ ظاہری سی بات ہے کہ ایسے پیغامات کا مقصد مغوئیوں کے اہل خانہ اور متعلقہ حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے تاکہ وہ اغوأکاروں کے مطالبات من و عن تسلیم کر لیں۔ عسکریت پسندی میں اضافے کے ساتھ پاکستان اور افغانستان میں اغوأ کا کاروبار بڑھا۔ جن علاقوں میں قانون کی حاکمیت کمزور ہوتی ہے وہاں یہ آسان و نفع بخش کاروبار خوب چمکتا ہے۔ پیشہ ور اغوأ کار عموماً عسکریت پسندوں سے مل جاتے ہیں اور بھاری معاوضے کے عوض اپنی مہارت کی بنیاد پر وارداتیں کرتے ہیں۔ مغوئیوں کی رہائی کے بدلے بھاری تاوان یا پھر زیرحراست ساتھیوں کی رہائی جیسے مطالبات پیش کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر واقعات میں مغوئیوں کی رہائی بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی عمل میں آتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلی یہ آئی ہے کہ مغوئیوں کے اہل خانہ بھی ویڈیو پیغامات جاری کرتے ہیں جن میں اغوأ کاروں سے انسانیت کے نام پر اپیل کی جاتی ہے کہ وہ بے گناہ افراد کو رہا کردیں لیکن اس کوشش کا خاطرخواہ نتیجہ دیکھنے میں نہیں آتا کہ جس سے اغوأ کاروں کے دل نرم پڑ جائیں اور وہ مغوئیوں کو بناء کسی تاوان کی وصولی یا اپنے ساتھیوں کی رہائی وغیرہ جیسے مطالبات منظور ہوئے بغیر رہا کردیں۔ ایسی ایک ویڈیو کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے پیٹرک بوئل (Patrick Boyle) اُور لینڈا بوئل (Patrick Boyle) کی سامنے آئی ہے جو انگریزی زبان میں ہے تاہم اِس پر اُردو اُور پشتو زبانوں کے ’سب ٹائٹل‘ بھی لگائے گئے ہیں۔ والدین کی جانب سے یہ ویڈیو پیغام اُن کے بیٹے جوشوا بوئل (Joshua Boyle)‘ اُن کی اہلیہ کیٹلان کول مین (Caitlan Coleman) اُور دو بچوں کی غیرمشروط و فوری رہائی کے لئے انسانیت کی بنیاد پر اپیل ہے۔ یہ دونوں بچے اِس عرصے کے دوران پیدا ہوئے ہیں جبکہ اُن کے والدین اغوأ کاروں کے چنگل میں ایک غیریقینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو پیغام رمضان المبارک کے اختتام کے موقع پر جاری کیا گیا جب عیدالفطر قریب تھی اور اس کا مقصد یہی ہوگا کہ مسلمان چونکہ ماہ صیام کے دوران سال کے دیگر ایام کی نسبت زیادہ عبادات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو رحم کی اِس اپیل کا خاطرخواہ مثبت جواب سامنے آئے گا۔

33 سالہ جوشوا کینیڈا کا باشندہ ہے جبکہ اُس کی 31 سالہ اہلیہ کیٹلان امریکن ہیں جنہیں اکتوبر 2012ء میں اُس وقت اغوأ کیا گیا جبکہ وہ ’وردک کابل شاہراہ‘ پر سفر کر رہے تھے۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیروتفریح کر رہے تھے۔ افغانستان جیسے ملک کا سیروتفریح کے لئے انتخاب پرخطر ثابت ہونا تعجب خیز نہیں۔ اغوأ کے ایک عرصہ بعد معلوم ہوا کہ دونوں میاں بیوی ’حقانی نیٹ ورک‘ کے قبضے میں ہیں۔ یہ گروہ افغان تحریک طالبان کا حصہ ہے جس کی بانی سراج الدین حقانی ہیں۔ حالیہ چند برس میں حقانی افغان طالبان تحریک کے نائب سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک (اغوأ کاروں) کی جانب سے اب تک چند ویڈیوز جاری ہوئی ہیں جن میں میاں بیوی اور اُن کے دو بچوں کو دکھایا گیا ہے اور اِس کا مقصد کینیڈا اور امریکہ کی حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے قیدیوں کی رہائیوں ممکن بنائیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ عام نہیں ہوا لیکن مغوئیوں کے اہل خانہ اور کینیڈا و امریکہ کی حکومتوں کے درمیان رابطہ کاری کرنے والوں کی جانب سے یہی کہا گیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک نے پہلے 10 قیدیوں کی رہائی مطالبہ کیا جو تمام کے تمام افغانستان میں قید ہیں۔ بعدازاں اِس فہرست کو کم کرکے آٹھ کر دیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ اِن آٹھ زیرحراست افراد میں سے تین نہایت ہی اہم ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اُس وقت تک مغوئیوں کو رہا نہیں کرے گا جب تک اِن تینوں کو بھی رہا نہیں کردیا جاتا۔ اِن تینوں میں شامل انس حقانی بھی ہیں جو سراج الدین حقانی کے بھای اور افغان مجاہدین رہنما مولوی جلال الدین حقانی کے بیٹے ہیں جنہیں امریکی حکام نے بحرین سے گرفتار کیا جبکہ وہ قطر کا دورہ کر کے واپس لوٹ رہے تھے۔ اُنہیں بعدازاں افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا جہاں ایک عدالتی سماعت کے بعد اُنہیں سزائے موت سنائی گئی۔ صدر اشرف غنی کی حکومت نے تاحال اُنہیں پھانسی تو نہیں دی حالانکہ اُن پر کچھ سیاسی گروہوں کا دباؤ بھی ہے۔ اگر افغان حکومت مولوی جلال الدین حقانی کو عدالت کے حکم پر پھانسی دے دیتی ہے تو اِس کا ردعمل منطقی ہے اور اس میں کئی مغوئیوں کی رہائی کے امکانات اور مستقبل بھی تاریک ہو جائیں گے جن میں جوشوا اور کیٹلان شامل ہیں۔ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے جس دوسرے اہم قیدی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ قاری رشید ہیں جن انس حقانی کے ساتھ قطر گئے تھے اور انہیں بھی بحرین سے امریکیوں نے گرفتار کیا۔ تیسرے اہم قیدی حاجی ملی خان ہیں جو سراج الدین کے قریبی عزیز ہیں اور گذشتہ کئی برس سے افغان حکومت کی زیرحراست ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کی قید میں کینیڈین اور امریکن میاں بیوی اور اُن کے دو بچوں کی رہائی کے لئے والدین نے اپنی اپیل میں اگرچہ انس حقانی کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے اپنے تیءں اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اُن کا خاندان ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے اور وہ افغان حکومت پر اثرورسوخ سے دباؤ بھی ڈالے گا کہ وہ اُن کے بھائی کو پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہ کریں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اُن کی جانب سے افغانستان کینیڈا اور امریکہ کے سینئر حکام سے تحریری درخواست بھی کی گئی ہے کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد نہ کریں۔

عیدالفطر کے قریب جاری ہونے والے ویڈیو پیغام میں تحریک طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اور سراج الدین حقانی سے انسانیت کے نام پر اپیل کرتے ہوئے افغانستان کے حالات پر بھی محتاط تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس ماضی و حال کی غلطیوں کا خاتمہ اور ازالہ مغوئیوں کو نقصان پہنچانے سے ممکن نہیں۔ اگرچہ اِس اپیل کا تاحال حقانی نیٹ ورک یا افغان طالبان کی جانب سے کوئی جواب (ردعمل) سامنے نہیں آیا لیکن حقانی نیٹ ورک ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک انس حقانی‘ حاجی ملی خان‘ قاری رشید و دیگر کو رہا نہیں کردیا جاتا اُس وقت اِن میاں بیوی اور اُن کے بچوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Monday, May 29, 2017

TRANSLATION: Has Poplazai been vindicated this time? by Rahimullah Yusufzai


Moon-sighting: Has Poplazai been vindicated this time

رویت ہلال: اصولی مؤقف!
ستائیس مئی کی شام غروب آفتاب کے ساتھ ہی ماہ رمضان المبارک کا ’روشن اور واضح‘ چاند آسمان میں نمایاں طور پر دکھائی دے رہا تھا جسے دیکھ کر خیبرپختونخوا میں اُن تمام لوگوں نے اطمینان محسوس کیا جنہوں نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی اعلان سے ایک روز قبل قدرے ہکچاہٹ میں روزہ رکھا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کی شام مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان میں کہیں بھی نئے اسلامی مہینے کا چاند دکھائی نہیں دیا‘ اِس لئے پہلا روزہ بروز اتوار اٹھائیس مئی کو ہوگا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا یہ فیصلہ ہفتہ کی شام نمودار ہونے والے چاند کو دیکھتے ہوئے غلط محسوس ہوا کیونکہ چاند کی عمر ایک دن سے زیادہ دکھائی دے رہی تھی اور یقیناًایسی صورت میں ممکن تھا کہ چھبیس مئی (جمعہ) کی شام بھی تیز نظر اور دلچسپی رکھنے والے چاند کی رویت کر لیتے۔ 



روایت رہی ہے کہ غیرسرکاری ’رویت ہلال کمیٹی‘ کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی ہر سال پشاور کی مسجد قاسم علی خان میں ’چاند دیکھنے کے لئے کمیٹی‘ کا اجلاس طلب کرتے ہیں اور ستائیس مئی کو یکم رمضان المبارک کا تعین کرنے کے فیصلے پر مہر تصدیق ہفتے کی شام نمودار ہونے والے ’چمکتے دمکتے‘ چاند نے ثبت کر دی۔ مذکورہ غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر آنے کا فیصلہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے تن تنہا نہیں کیا بلکہ معتبر علماء پر مشتمل ایک جماعت نے شہادتوں کی جانچ پڑتال کے شرعی اصولوں اور تسلی بخش تصدیق کے بعد رمضان کے چاند نظر آنے پر اتفاق رائے کیا۔ یقینی طور پر یہ ایک غیرمعمولی اور حساس مذہبی ذمہ داری ہے اور یہ فیصلہ کسی بھی صورت آسانی سے نہیں کیا ہوگا بالخصوص ایک ایسی صورتحال میں جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر نہ آنے کا اعلان جلدی میں کر دیا گیا۔ 

حسب معمول مفتی منیب الرحمن اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اُن کے ساتھیوں پر مشتمل ’سرکاری رویت ہلال کمیٹی‘ نے خیبرپختونخوا سے چاند نظر آنے کی شہادتوں کا انتظار کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ حتی کہ سرکاری حیثیت رکھنے والی ’زونل رویت ہلال کمیٹی‘ کا اجلاس جو کہ پشاور میں ہوا‘ اُنہوں نے بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو اُن 12 افراد کی شہادتوں سے مطلع نہیں کیا جو اُن کے روبرو چھبیس مئی (بروز جمعہ) کی شام پیش ہوئے تھے۔ درحقیقت خیبرپختونخوا کی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد ہی نہیں کرتی اور اِن کے مقابلے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی قیادت میں غیرسرکاری اور غیرقانونی طور پر کام کرنے والی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ اِس غیرسرکاری کمیٹی سے خیبرپختونخوا و متصل قبائلی علاقہ جات کے قریب سبھی علاقوں سے علماء اور عام لوگ رابطہ کرتے ہیں اور اپنے اپنے علاقے میں چاند کے نظر آنے کی شہادتیں پیش کرتے ہیں جو شرعی طور پر نئے اسلامی مہینے کے چاند دکھائی دینے کے طریقۂ کار کا حصہ ہے۔ اگر کمیٹی کے اراکین کو تسلی ہو جائے کہ شہادت مصدقہ اور ٹھوس ہے تو وہ بخوشی رمضان المبارک یا شوال المکرم کا چاند نظر آنے کا اعلان کر دیتے ہیں جو بعدازاں گاؤں گاؤں مساجد کے لاؤڈاسپیکرز اور دیگر ذرائع سے پہنچ جاتا ہے۔



اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور اُن کی کمیٹی کی جانب سے نئے اسلامی مہینے کے چاند نظر آنے یا نہ آنے کے اعلان پر پورے خیبرپختونخوا اور قبائلی میں عمل درآمد نہیں کیا جاتا اور بالخصوص ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں رہنے والوں کی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد کرتی ہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کی بڑی تعداد کو ’مفتی شہاب الدین پوپلزئی‘ کے اعلان کا انتظار ہوتا ہے اور نظریں مسجد قاسم علی خان پر لگی رہتی ہیں۔ 

نئے اسلامی مہینے کے چاند نظر آنے یا نہ آنے کے معاملے پر افراق و تفریق اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وفاقی حکومت رویت ہلال کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کو کسی ایسے فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر رضامند نہیں کر لیتی جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے بارے میں یہ منفی تاثر بھی زائل ہوا ہے کہ اُن پر غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد نہ کرنے کے لئے حکومتی دباؤ ہے اور اِس قسم کی اطلاعات بھی زیرگردش رہیں کہ کسی سمجھوتے کے تحت وہ اس سال مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے برخلاف اعلان نہیں کریں گے۔ 

رویت ہلال کے غیرسرکاری اعلان سے اُن تمام افراد کو مایوسی ہوئی جن کی خواہش تھی کہ ملک بھر میں ماہ رمضان المبارک ایک ہی دن شروع ہوتا۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اتوار کی بجائے ہفتے کے روز ’رمضان المبارک‘ کے آغازکو درست اقدام سمجھتا ہے کیونکہ ہفتہ کی شام نمودار ہونے والا روشن اور واضح چاند کسی بھی طرح ایک دن سے زیادہ عمر کا تھا اور اِسی بنیاد پر اُن کی یہ منطقی دلیل بھی سامنے آئی کہ پاکستان بھر ماہ رمضان المبارک کا آغاز ’ہفتہ‘ کے دن ہونا چاہئے تھا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, June 5, 2016

TRANSLATION: Life returns to Waziristan

Life returns to Waziristan
وزیرستان: زندگی معمول پر!
جنوبی اور شمالی وزیرستان کے علاقے شاکئی‘ شوال اور سپین وام معروف نام ہیں جہاں عسکریت پسندی کو کچلنے کے لئے فوجی کاروائیاں کی گئیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ اِن دور دراز مقامات پر تبدیلی کا نیا دور امن کی بحالی‘ ترقیاتی عمل اور تعمیر نو کی صورت ظاہر ہو رہا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان ادارے (آئی ایس پی آر) کے ہمراہ اِن مقامات کی سیر کا موقع ملا جس کے لئے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اِن مقامات پر لیجایا گیا۔ جنوبی وزیرستان میں شاکئی کے مقام پر نئی تعمیر ہونے والی شاہراہ دور دراز کے علاقوں کو ملانے کے علاؤہ تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکز کو قریب لے آئی ہے جس سے علاقے میں تعلیم کے فروغ اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شمالی وزیرستان کی وادئ شوال اپنے مکینوں کی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہے جہاں فوجی کاروائی کے ذریعے علاقے کو عسکریت پسندوں کے وجود سے پاک کر دیا گیا ہے اور اب یہ علاقہ تعمیر وترقی کا دور شروع ہونے کی راہ بھی دیکھ رہا ہے جس کے لئے حکمت عملی کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ اسی طرح شاملی وزیرستان کا علاقہ سپین ورم گرم میدانی علاقے پر مشتمل ہے میں معمولات زندگی معمول پر آ گئے ہیں اور مقامی قبائل کا مطالبہ ہے کہ تعمیراتی ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں اور ان کا مطالبات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بجلی و گیس ککی فراہمی‘ سڑکیں اور ہسپتال تعمیر کئے جائیں۔

شاکئی میں پاک فوج کے 9ویں ڈویژن سے تعلق رکھنے والے کرنل عامر اور کرنل عمران نے جنوبی وزیرستان میں ترقیاتی عمل کے حوالے سے معلومات فراہم کیں جس کے لئے وفاقی حکومت اور غیرملکی مالی امداد استعمال کی گئی ہے۔ تین قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی کئی مثالوں سے سمجھی جاسکتی ہے جیسا کہ 335 کلومیٹر طویل سڑک جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراؤں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ تین آرمی پبلک سکول کی شاخیں جہاں اُسی معیار کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے جیسا کہ ملک کے بڑے شہروں میں ہے۔ وانا اُور سپین کئی راغزئی میں دو کیڈٹ کالجوں اُور فنی وتکنیکی علوم حاصل کرنے کے لئے وکیشنل سنٹرز کے قیام سے قبائلی عوام کو جدید تعلیم و ہنر سیکھنے کے مواقع میسر آ گئے ہیں۔ اسی طرح سرکاری سکول و مساجد کی بحالی بھی کر دی گئی ہے۔

بیان کیا جاتا ہے کہ خریدوفروخت کے مراکز‘ پینے کے صاف پانی کے منصوبے‘ چھوٹے پن بجلی کے منصوبے‘ بچوں کے گیارہ پارک اور ہر تحصیل میں سپورٹس سٹیڈیم (کھیل کود کی سہولیات) فراہم کی گئیں ہیں۔ علاقے میں بجلی کی کمی کا مسئلہ شمسی توانائی کے استعمال سے پورا کیا گیا ہے۔ شولام کے مقام پر متحدہ عرب امارات کے مالی تعاون سے شیخہ فاطمہ بن مبارک ہسپتال قائم کیا گیا ہے جس کا عنقریب افتتاح ہو جائے گا۔ امریکہ کے امدادی ادارے ’یوایس ایڈ‘ کے مالی تعاون سے گومل زام ڈیم تعمیر کیا گیا ہے جو فعال ہے اور 17.4 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے ایک وسیع علاقے میں آبپاشی کی ضروریات بھی پوری کی جا رہی ہیں۔
جنوبی وزیرستان سے 71 ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کی جن کی اکثریت کا تعلق محسود قبیلے سے تھا اور اِن لوگوں کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع ہے۔ شمالی وزیرستان کا علاقہ ’سپین وام‘ موسم کے لحاظ سے مختلف مزاج رکھتا ہے۔ جون 2014ء میں یہاں کے رہنے والوں نے فوجی کاروائی ’ضرب عضب‘ کے دوران اپنے علاقوں سے نقل مکانی نہیں کی کیونکہ انہیں ایسا کرنے کو نہیں کہا گیا۔ اس علاقے میں زیادہ نقصانات بھی نہیں ہوئے۔ سپین وام میں آخری دفعہ دہشت گرد حملہ دو ہزار گیارہ میں ہوا تھا و ایک خودکش حملہ تھا اور اس میں ایک فوجی دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ بریگیڈئر شازوالحق جنجوعہ کے بقول اُن کی کمانڈ کے علاقے میں قبائلی عوام کی سوچ میں انقلابی تبدیلی آئی ہے اور ایک تو انہوں نے اپنی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے اور دوسرا ’سپین وام‘ میں دو سے تین ہزار اسلحہ بھی رجسٹرڈ کرایا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ان علاقوں میں اب عسکریت پسندی کا رجحان نہیں پایا جاتا۔ قبائلی اپنے ہمراہ اسلحہ لیکر نہیں گھومتے جو پہلے مقامی اور غیرملکی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے لیکن اب ترقی کے عمل میں معاون اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بریگیڈئر شازوالحق جنجوعہ کے بقول سپین وام سے براستہ کاکا زیارت افغانستان کے صوبہ خوست کو پولٹری مصنوعات کی بالخصوص اسمگلنگ میں کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ سرحد کو بند کرنا ہے۔ شمالی وزیرستان کے اس علاقے میں مال مویشیوں کی علاج گاہیں تعمیر کی گئیں ہیں جن سے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوشحالی گاؤں میں گیس کے ذخائر بھی ہیں اور شمالی وزیرستان میں کرومائٹ کی کان کنی اور گیس سے علاقے میں تعمیر وترقی و اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور اس سے خوشحالی آ سکتی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جنوبی وزیرستان میں طالبات کے ایک تعلیمی ادارے بھی لیجایا گیا شاکئی میں ’آرمی پبلک سکول‘ کی معلمہ ملائکہ وزیر نے بطور معلمہ اپنی عملی زندگی کے آغاز کو درست فیصلہ قرار دیا اور وہ ایک معلمہ کا کردار ادا کرنے پر مسرور تھیں۔ وہ اُردو اور پشتو زبانوں میں سوالات کا جواب نہایت ہی اعتماد سے دے رہی تھی۔ انہوں نے طالبات میں پائے جانے والے جوش اور علوم سیکھنے سے متعلق دلچسپی کا بطور خاص ذکر کیا۔ انہوں نے پاک فوج کے کردار کو سراہا جنہوں نے شاکئی میں طلباء و طالبات کے لئے الگ الگ ’آرمی پبلک سکولز‘ کا قیام عمل میں لایا ہے تاکہ اِس دور دراز قبائلی علاقے کے عوام کو بھی معیاری تعلیم حاصل ہو سکے۔ ملائکہ وزیر پہلی جماعت میں زیرتعلیم بچیوں کو درس دیتے ہوئے کبھی اُردو تو کبھی وزیرستانی لہجے میں پشتو زبان کا سہارا لیتیں تاکہ بچوں کو اسباق کا متن منتقل کیا جاسکے۔ دوران درس وہ اُردو اور پشتو میں ملا جلا خطاب کر رہی تھیں کیونکہ بچیوں کی اکثریت اُردو زبان سے آشنا نہیں تھیں۔ ملائکہ وزیر وقتاً فوقتاً انگریزی زبان کے الفاظ بھی استعمال کرتیں۔ اُن کی زیرشفقت طالبات نہایت گرمجوشی سے ہر لفظ کو ادا کرتے ہوئے پڑھائی میں حصّہ لے رہی تھیں اور معلمہ کے الفاظ بلند آواز میں دہراتے ہوئے ثابت کر رہی تھیں کہ اُن کی معلمہ کی محنت رائیگاں نہیں جا رہی۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ و تلخیص : شبیر حسین اِمام)

Sunday, April 24, 2016

TRANSLATION: Who are Punjabi Taliban?

Who are Punjabi Taliban
پنجابی طالبان کون ہیں؟
صوبہ پنجاب میں جہاں کہیں دہشت گردی رونما ہوتی ہے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے تو ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا عموماً استعمال ہوتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب کے ضلع راجن پور میں ’چھوٹو گینگ‘ نامی ایک جرائم پیشہ گروہ کے خلاف کاروائی کی گئی جس میں ’پنجابی طالبان‘ کا نام آیا۔ اگرچہ ’چھوٹو گینگ‘ ایک جرائم پیشہ گروہ ہے لیکن اِس قسم کی افواہیں امکانات پر بیان کی جاتی ہیں کہ عسکریت پسندوں نے ممکنہ طور پر جرائم پیشہ عناصر سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہو یا پھر انہوں نے دریا کنارے ’کچا جمال‘ کی پٹی میں پناہ لے رکھی ہو جو راجن پور کی تحصیل روجھان کا علاقہ ہے۔ ابھی تک اس بات کے شواہد نہیں ملے ہیں کہ غلام رسول المعروف چھوٹو کے عسکریت پسندوں کے کسی ’نیٹ ورک‘ کے ساتھ روابط تھے یا پھر اُس نے بلوچی‘ سندھی یا دیگر عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کی یا انہیں اسلحے کی فراہمی میں ملوث رہا ہو۔ درحقیقت چھوٹو نے اپنے آپ کو فوج کے حوالے کرنے سے قبل مبینہ طور پر اُن رابطہ کار پولیس حکام بارہا کہا کہ اُسے طالبان کے طور پر ظاہر کرنا غلط ہے۔ اُس سے منسوب یہ بیان بھی ہے کہ میں مسلمان ہوں نہ کہ طالبان۔

پنجابی طالبان کی زیراستعمال اصطلاح کا کافی دلچسپ پس منظر ہے۔ سال 2001ء کے آخری دنوں میں جب پنجابی بولنے والے عسکریت پسند افغانستان پر غیرملکی جارحیت کے خلاف لڑنے کے لئے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں پہنچے تو اُن کے لئے یہ اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ یہ پنجابی طالبان باجوڈ‘ مہمند‘ خیبر‘ کم اور اورکزئی کے قبائلی علاقں میں مقیم ہوئے یا پھر شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں روپوش ہوئے اور یہیں انہوں نے عسکری تربیت حاصل کی تاکہ وہ افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ جاری مزاحمت میں حصہ لے سکیں۔ مقامی پختون عسکریت پسندوں نے بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اپنے اِن ساتھیوں کو ’پنجابی طالبان‘ پکارنا شروع کر دیا۔ پنجابی طالبان کی پختون اکثریتی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلق سے لسانی رنگینیاں بھی پیدا ہوئیں جیسا کہ خان سید نامی اہم عسکریت پسند رہنما کو ’سجنا‘ کہہ کر مخاطب کیا جانے لگا۔ چونکہ خان سید کا پنجابی طالبان کے ساتھ رویہ دوستانہ تھا اِس لئے اُسے ’سجنا‘ کا لقب دیا گیا جو اصل نام کے مقابلے زیادہ معروف ہوگیا۔ خان سید نے خود کو سجنا کہلانے پر کبھی بھی اعتراض نہیں کیا حالانکہ اُس کا اپنا اختیار کردہ لقب ’خالد محسود‘ تھا۔ طالبان کی بہت سی قسمیں ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے الگ شناخت کے طور پر مختلف نام دینا بھی ایک ضرورت ہی تھی۔ لفظ ’طالب‘ جس سے ’طالبان‘ بنا کا لغوی معنی ایک ایسے شخص کے ہیں جو طالب علم ہے اور یہ اصطلاح اصلاً 1994ء میں اُس وقت سے زیراستعمال ہے جب افغانستان کے سابق دارالحکومت شہر قندھار سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما ’ملا محمد عمر‘ نے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ پھر جب دسمبر 2007ء میں جنوبی وزیرستان (قبائلی علاقے) میں بیت اللہ محسود نے ’تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)‘ کی بنیاد رکھی جو کہ افغانستان کے طالبان ہی کی طرز پر پاکستانی شاخ تھی تو اُس وقت افغان طالبان کی اصطلاح متعارف ہوئی تاکہ طالبان کے اِن دونوں گروہوں کے درمیان تمیز کی جاسکے۔ دریں اثناء پاکستانی طالبان جن کے ایک دھڑے کی شناخت کے لئے پنجابی طالبان استعمال ہونے لگا ’پختون عسکریت پسندوں‘ کی اکثریت والی تنظیم کا حصہ بنتے چلے گئے۔ یہ بات دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ پختون عسکریت پسندوں کو کبھی بھی ’پختون طالبان‘ نہیں کہا گیا جیسا کہ بعد میں شامل ہونے والوں کے لئے ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ عسکریت پسندوں میں کوئی ایسا خاص دھڑا یا دستہ نہیں کہ جسے ’پنجابی طالبان‘ کہا جاتا ہے بلکہ صرف لسانی بنیادوں پر یعنی پنجابی زبان بولنے کی وجہ سے ایسے عسکریت پسند پنجابی طالبان کہلائے۔ جہادی تنظیمیں نظریاتی وجوہات یا قیادت کرنے والی شخصیات کی ذاتی حیثیت و مقام سے اختلاف یا ٹکراؤ کی بناء پر گروہوں میں تقسیم ہوئیں اور ان میں سے بہت سی تحریک طالبان پاکستان سے اتحادی ہوئیں کیونکیہ یہ سب سے طاقتور ایک ایسا گروہ تھا جو قبائلی علاقوں پر بھی کنٹرول رکھتا تھا اور اس میں یہ صلاحیت بھی تھی کہ حسب ضرورت اُن مقامی یا غیرملکی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور تحفظ فراہم کرسکتا تھا‘ جنہیں مدد کی ضرورت ہوتی تھی۔ عسکریت پسندوں کی اکثریت مختلف گروپوں میں تقسیم ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کو شخصی طورپر جانتی تھی کیونکہ وہ افغانستان و پاکستان میں اکٹھے کاروائیاں کرتے رہے تھے یا پھر اکٹھے تربیت حاصل کرچکے تھے اور جب وہ نے تحریک طالبان پاکستان میں شامل یا اس کے اتحادی بنے تو اُن کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط ہوگئے۔ پنجابی طالبان کے کچھ دھرے ایسے تھے جنہوں نے اِس اصطلاح کا اپنے لئے عمومی استعمال کیا یا پھر ایسے مواقعوں پر اِس اصطلاح کا استعمال کیا گیا جبکہ کاروائی کو شناخت کرنے کی ضرورت پیش رہی۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال میں بھی ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا استعمال ہو چکا ہے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جب پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت بنی تو اُس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک کی جانب سے ’پنجابی طالبان‘ کی اِصطلاح اِستعمال کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے باقاعدہ اِحتجاج کیا تھا اور یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ ’پنجابی طالبان‘ نامی کسی ایسے مبینہ دھڑے کا وجود نہیں۔ تکنیکی طور پر اگر دیکھا جائے تو شہباز شریف اپنے اِس دعوے میں سچے تھے کیونکہ اُس وقت تحریک طالبان پاکستان میں ایسے کسی دستے کا وجود نہیں تھا جو ’پنجابی طالبان‘ ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاہے جس نام سے بھی پکارا جائے لیکن ’پنجابی طالبان‘ کا وجود تحریک طالبان پاکستان میں اَہم و فعال ہے۔

پاکستان کے حکمراں طبقے کی اکثریت جس کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے پنجابی طالبان کے وجود کا انکار کرتے رہے اُس وقت تک جبکہ گلشن اقبال پارک لاہور میں خودکش حملہ ہوا‘ جس سے بھاری جانی نقصانات ہوئے۔ مذکورہ دہشت گرد حملے کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت جس کی قیادت پاکستان مسلم لیگ (نواز) کر رہی ہے نے پنجاب بالخصوص جنوبی اضلاع میں موجود عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کی مطالبہ کیا۔ قبل ازیں بڑے عسکریت پسند رہنما ملک اسحاق اور اُن کے ساتھی مارے گئے یا پولیس مقابلے میں قتل ہوئے لیکن یہ کاروائی اُسی مطالبے کا عملی نمونہ تھی۔پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیاسی مخالفت کرنے والی جماعتیں جن میں خیبرپختونخوا‘سندھ و بلوچستان کی حکمراں جماعتیں اور اِن صوبوں کی قوم پرست جماعتیں بھی شامل تھیں پنجاب کے عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرنے میں پیش پیش تھے۔ ’چھوٹو گینگ‘ کی مزاحمت‘ کئی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور پولیس و بعدازاں فوج کی کاروائی جیسے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں یا پھر جس قدر بہتر بیان کی جاتی ہے حقیقت میں ویسی نہیں۔ پنجابی طالبان کی اصطلاح معرض وجود میں آئی اور یہ باقی رہے گی لیکن برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ عسکریت پسند کسی بھی نام یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں کمزور ہوئے ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کی طاقت کے مراکز ماضی کے مقابلے منتشر دکھائی دیتے ہیں۔ پاک فوج کی کاروائی اور امریکہ کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں اُن کے قدم قبائلی علاقوں سے بھی اکھڑنے کے بعد اُن کی اکثریت یا تو افغانستان چلی گئی ہے یا پھر پاکستان کے طول و عرض میں روپوش ہو گئی ہے۔ پنجابی طالبان کے نام سے شہرت رکھنے والے باقی ماندہ عسکریت پسند ایک خطرہ تو ہیں لیکن اُن کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت و استعداد بڑی حد تک کم (تقلیل) ہو گئی ہے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Wednesday, May 6, 2015

May2015: TRANSLATION: Changed Afghan Policy

The changed Afghan policy
نئی اَفغان پالیسی
افغانستان میں تحریک طالبان نامی مزاحمت کاروں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے نئی حکمت عملی کے تحت کاروائیوں کا آغاز کر دیا ہے جس کی تیس اپریل کو پاکستان کی جانب سے مذمت سامنے آئی ہے۔ اگرچہ پاکستان کے لئے ایسا کرنا آسان نہیں کہ وہ خود کو افغانستان کی تحریک طالبان سے اپنی ماضی کی وابستگی سے انکار کرسکے لیکن تیس اپریل کو پاکستان کی جانب سے جو اعلان کیا گیا وہ اسلام آباد کے دیرینہ مؤقف سے متصادم اُور باعث حیرت ضرور ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لئے مفاہمتی کوششوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ افغانستان میں داخلی طورپر اور عالمی سطح پر جاری مفاہمتی کوششوں میں اگرچہ پاکستان کو شریک نہیں کیا گیا لیکن پاکستان کی طرف سے متعدد مرتبہ نیک خواہشات کا اظہار کیا جاچکا اور اِن مفاہمتی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اپنا دیرینہ مؤقف دہرایا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پر قیام امن کا خواہاں ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان کی جانب سے افغان حکومت کے اس الزام کی بھی تردید سامنے آئی ہے کہ حال ہی طالبان کی جانب سے افغانستان میں جو مزاحمتی تحریک کے جاری سلسلے کی نئی کاروائیوں کا آغاز ہوا ہے‘ اس میں سرحد پار یعنی پاکستان سے آنے والے عسکریت پسند بھی شریک ہیں۔ پاکستان افغانستان میں امن کے مذاکراتی عمل پر منفی اثرات مرتب کرنے والے جملہ عوامل کی مذمت کرتا آیا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر عسکری کاروائیاں ہوتی رہیں تو اِس سے مفاہمتی مذاکراتی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

تحریک طالبان نے افغانستان کے مختلف حصوں میں ’عزم‘ کے نام سے ’موسم بہار‘ کے آغاز پر تازہ دم حملوں کا آغاز کر رکھا ہے جس کی وجہ سے بہت سے علاقوں سے مقامی افراد نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے ہیں بالخصوص صوبہ قندوز میں صورتحال زیادہ کشیدہ ہے۔ افغان طالبان کی اِن حالیہ پرزور عسکری کاروائیوں کے منفی اثرات پاک افغان تعلقات پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں کیونکہ افغان حکام و حکمرانوں کا مسلسل اِس بات پر اصرار رہا ہے کہ پاکستان سرحد پار عسکریت پسندی کو ہوا دے رہا ہے۔ افغانستان کی وزارت داخلہ نے اشرف غنی احمدزئی کے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد 29 ستمبر 2014ء کے بعد سے یہ مؤقف اپنایا ہے اور ماضی ہی کی طرح پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ وہ افغان طالبان قیادت کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے آمادہ اور عملاً تیار کر سکے لیکن یہ سبھی کوششیں رنگ نہیں لائیں۔ قطر میں جاری ’پگواش کانفرنس‘ میں اَفغان سیاسی دھڑوں اور حکومت کے ساتھ طالبان فریق بھی شریک ہیں لیکن یہ محض ایک میل جول ہے‘ امن مذاکرات نہیں جیسا کہ دنیا کو باور کرایا جارہا ہے۔ افغان حکومت اُمید رکھتی تھی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات مارچ کی ابتدأ میں شروع ہوں گے جس میں پاکستان بھی بطور ثالث شریک ہوگا۔ حال ہی میں افغان حکومت کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران اُنہوں نے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور خفیہ ادارے ’انٹرسروسیز انٹلی جنس (آئی ایس آئی)‘ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی جانب سے اِس یقین دہانی کا ذکر کیا کہ مستقبل میں افغان طالبان صدر اشرف غنی کی حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ اِس بارے میں پاکستان حکومت یا فوج کی جانب سے کوئی بات کھلے عام نہیں کی گئی کہ آیا انہوں نے ایسی کوئی ضمانت دی ہے یا نہیں اور شاید افغان حکام اسی وجہ سے مایوس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اسلام آباد نے مبینہ طور پر اُن سے کئے ہوئے ’وعدے‘ تاحال پورے نہیں کئے۔افغان حکام اپنے ملک کی داخلی صورتحال میں پاکستان کے کردار بارے حقیقت پسندانہ انداز سے نہیں سوچ رہے اور سمجھ رہے ہیں کہ شاید افغان طالبان کو اگر پاک فوج کی جانب سے کہا جائے کہ وہ اپنی جدوجہد ترک کر دیں تو وہ ایسا ہی کریں گے۔ یہ کلی طور پر درست تاثر نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کا تحریک طالبان افغانستان کے سربراہ ملا محمد عمر پر کچھ اثر ہے لیکن وہ پاکستان کے فرمان تابع نہیں اور نہ ہی پاکستان کا اُن کی فیصلہ سازی یا عمل میں اختیار ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لئے اَپنا کردار اَدا کرے اُور اَفغانستان سے مثالی تعلقات اِستوار کئے جائیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کی خدمات اور کوششیں قابل ذکر و ستائش ہیں جنہوں نے حال ہی میں افغان طالبان سے درخواست کی ہے کہ وہ موسم بہار میں شروع کی جانے والی ’عزم‘ کاروائیوں کو روکیں۔ حال ہی میں جرمنی کے ایک ادارے ’فریڈرچ ایلبرٹ اسٹیفنگ‘ کے زیراہتمام اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد ہوا‘ جس کا موضوع ’ افغانستان و پاکستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کے ساتھ خطے میں قیام امن و خوشحالی‘ بھی تھی اور اِس موقع پر اعزاز چوہدری نے جو خطاب کیا وہ بہت ہی پرمغز تھا لیکن افغانستان کے بارے میں منعقد ہونے والی اِس اہم نشست کے بارے میں ذرائع ابلاغ نے زیادہ تشہیر نہیں کی۔ ایک اہم نکتہ اُن کی تقریر کا یہ بھی تھا کہ عین ممکن ہے کہ طالبان موسم بہار کی کاروائی کا آغاز نہ کریں بلکہ یہ مہم چند ایسے افراد کی جانب سے کی جائے جو نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن کو موقع ملنا چاہئے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
The Changed Afghan policy by Rahimullah Yusufzai

Monday, May 4, 2015

TRANSLATION: Man from Mardan

Man from Mardan
مرد مردان
پاکستان میں رنگارنگ سیاستدان دیکھنے میں آئے اور کہا جاسکتا ہے کہ محمد اعظم خان ہوتی بھی حالیہ چند برس میں سیاسی افق پر پھیلنے والی اُس قوس قزاح کا حصہ رہے‘ جن کی شخصیت کے بہت سے رنگ اور بہت سے پہلو تھے۔ اعظم ہوتی گلے کے سرطان میں مبتلا تھے اُور اسی مرض سے 69 برس کی عمر میں اُن کا انتقال ہوا‘ جنہیں 16 اپریل کو اُن کے آبائی قبرستان میں اپنی والدہ ماجدہ کی قبر کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔ (اناللہ و انا علیہ راجعون)۔

قوم پرست نظریات رکھنے والے اعظم ہوتی کی زندگی کے آخری ایام نشیب و فراز کا شکار رہے۔ اُنہوں نے ایک جوانسال خاتون سے شادی کی‘ جسے اُن کے اہل خانہ بشمول صاحبزادوں نے دل سے قبول نہیں کیا اور اِس نئے رشتے کی وجہ سے وہ گھریلو تنازعات کی زد میں آگئے۔ اگرچہ اُن کے تنازعات خیرخواہوں کے عمل دخل سے بہت حد تک ختم ہو گئے اور وہ اُس گھر میں آنے جانے لگے جس کا نام ’مردان ہاؤس‘ رکھا تھا اور اُنہوں نے اپنی نگرانی بھی بڑی چاہ سے تعمیر کروایا تھا لیکن اُن کا بیشتر وقت پشاور والے گھر ہی میں بسر ہونے لگا اور یہیں بسترعلالت پر تکلیف دہ بیماری کا مقابلہ کرتے ہوئے اُن کے آخری ایام گزرے۔

وہ سبھی لوگ جو اعظم ہوتی کو قریب سے جانتے تھے‘ اُنہیں معلوم تھا کہ وہ ایک ذہین‘ حاضرجواب‘ باعلم اور وسیع مطالعہ رکھنے والی ایسی شخصیت تھے‘ جن کی شخصی خداداد صلاحیتوں کا شمار ممکن نہیں تھا۔ آپ نواز شریف کے دونوں ادوار حکومتوں کے دوران وفاقی وزیر برائے مواصلات (کیمونیکیشن) رہے اور اِسی دور میں جبکہ اُن کے پاس دو مرتبہ وفاقی وزارتوں کے قلمدان تھے تو اُن کی سماجی حلقوں میں مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا لیکن اِس دور سے جڑی ہوئی شہرت بھی عارضی ثابت ہوئی اور اُنہیں ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ نے اِن الزامات پر گرفتار کیا کہ اُنہوں نے بحیثیت وفاقی وزیر مواصلات اپنے عہدے اُور اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ اُن پر مالی بدعنوانیوں کے بھی الزامات عائد کئے گئے اور یہ وہ محرکات تھے جس نے اُن کی شہرت و ساکھ پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے۔

اعظم ہوتی کی شخصیت اُس وقت بھی متنازعہ بنی جب اُن کے صاحبزادے امیر حیدر خان ہوتی سال 2008ء سے 2013ء کے دوران خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ رہے۔ نوجوان وزیراعلیٰ کے والد نے اپنے بیٹے کی وزارت اعلیٰ کے عہد میں فعال کردار ادا کیا اور بہت سے اختیارات اپنے پاس رکھے۔ اگرچہ اُس وقت کی صوبائی حکومت میں اعظم ہوتی کے پاس کوئی باضابطہ قلمدان یا عہدہ نہیں تھا لیکن اُن کی رائے اور نکتۂ نظر حکومتی فیصلوں میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی تھی لیکن حقیقت یہ تھی کہ سیاسی طاقت کا مرکز تھے بالخصوص مردان اور اس کے ملحقہ اضلاع جن میں بونیر بھی شامل تھا۔

یہ حقیقت ہماری ’تلخ سیاسی تاریخ‘ کا ایک باب ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری اہلکار ہر شام باقاعدگی سے اعظم ہوتی کی عدالت میں پیش ہوتے اور وہیں سے اُنہیں احکامات ملتے یا اُنہیں اپنے دن بھر کی کارکردگی پیش کرنا ہوتی۔ وہ سبھی موقع شناس جنہیں کلیدی عہدوں پر تعیناتی چاہئے ہوتی تھی یا جنہیں صوبے کے ترقیاتی کاموں میں بطور ٹھیکہ دار حصہ داری چاہئے ہوتی تھی یا اکثر سرکاری ملازمتیں اعظم ہوتی ہی کے آشیرباد و سفارش سے تقسیم ہوا کرتی تھیں لیکن اِن سبھی الزامات کی حقیقت سے اعظم ہوتی مسلسل انکار کرتے رہے اور اپنے خلاف عائد الزامات کے بارے میں ثبوت طلب کیا کرتے تھے۔ وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی کے دور میں مردان میں اس قدر ترقیاتی کام ہوئے کہ یہ صوبائی دارالحکومت پشاور کے بعد خیبرپختونخوا کا دوسرا بڑا شہر بن گیا۔ یہ اعزاز بھی اعظم ہوتی ہی کو جاتا ہے کہ اُنہوں نے پشاور اسلام آباد موٹروے کی تعمیر کو اس انداز میں مکمل کرایا کہ یہ پانچ اضلاع‘ صوابی‘ مردان‘ نوشہرہ‘ چارسدہ اور پشاور کو چھوتی ہوئی گزری۔

اعظم ہوتی ایک دردمند دل رکھنے والے انسان تھے۔ وہ سینکڑوں افراد کو ملازمتوں تک رسائی کا سبب بنے اور یہی وجہ ہے کہ ایسے سبھی افراد اور اُن کے اہل خانہ اعظم ہوتی کے مشکور و ممنون رہے۔ خدائی خدمتگار تحریک میں بانی خان عبدالغفار خان (باچا خان) کے ہمراہ جدوجہد و قربانیاں دینے والے بقیدحیات افراد کی تلاش اور مستحقین کی پہلی مرتبہ مالی مدد بھی اعظم ہوتی ہی کے کارہائے نمایاں میں سے ایک ہے۔ اعظم ہوتی ’عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)‘ کے دیرینہ کارکنوں کو اُن کے نام سے جانتے تھے اور جب کبھی بھی خوشی یا غم کا کوئی موقع ہوتا تو وہ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر دیرینہ سیاسی کارکنوں سے جاملتے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بیک وقت امرأ اور غرباء میں مقبول تھے کہ محل نما مکانات سے لیکر غرباء کی جھونپڑیوں کے فرش پر بیٹھنے میں ججھک محسوس نہیں کرتے تھے۔

مردان ہوتی دو ہوتی خاندانوں کا شہر ہے‘ جہاں سے تعلق رکھنے والے ’اعظم ہوتی‘ معروف سیاسی شخصیت خاندان کا حصہ تھے۔ اُن کے والد امیر محمد خان برطانوی راج کے خلاف ’تحریک آزادی‘ کے ہراوّل دستے کا حصہ تھے جنہوں نے باچا خان کے ساتھ اصلاحی و سیاسی عملی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اُنہوں نے لاہور کے ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی اور 1967ء میں پاک فوج کا حصہ بطور ’کیپٹن‘ بنے۔ فوج سے علیحدگی سے قبل اُنہوں نے بھارت کے ساتھ ہوئی ایک جنگ میں بھی حصہ لیا۔ اُن کی عسکری تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ اُنہوں نے نیشنل عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ’سرخ پوش رضاکاروں‘ کا دستہ مرتب کیا جنہیں ’زلمے پختون‘ کہا جاتا ہے۔ وہ اِس دستے کے سالار (کمانڈر) تھے اور کبھی کبھار خود بھی سرخ لباس اُور ٹوپی بڑے فخر سے زیب تن کیا کرتے تھے۔

اعظم ہوتی نے 1973ء میں خودساختہ جلاوطنی بھی اختیار کی اور وہ افغانستان چلے گئے۔ یہ جلاوطنی راولپنڈی کے لیاقت باغ میں منعقدہ ایک جلسۂ عام میں ہوئی فائرنگ اور بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی جانب سے سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کے لئے ریاستی وسائل کا استعمال ہونے لگا۔ یاد رہے کہ لیاقت باغ جلسۂ عام میں خان عبدالولی خان‘ اجمل خٹک اور دیگر رہنما بال بال بچ گئے تھے اور اِس قاتلانہ حملے کا الزام بھی اُس وقت ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ہی پر عائد کیا گیا تھا۔ اُس وقت کے بلوچ اور پختون رہنما افغانستان جلاوطن ہو گئے اور وہیں سے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے فعال ہوگئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اُنہیں پاکستان میں رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد کی آزادی نہیں تھی اور وہ اپنے حقوق کے لئے بغاوت کے راہ پر چل نکلے۔

اعظم ہوتی نے بھرپور سیاسی و نجی زندگی بسر کی اور اُن کے کچھ اقدامات نے اُنہیں رنج و غم میں بھی مبتلا کیا۔ اُنہیں اپنا گھر ’مردان ہاؤس‘ چھوڑنا پڑا کیونکہ اُن کے اپنے صاحبزادوں حیدر ہوتی اُور غزن ہوتی سے اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ اُنہیں ایک موقع پر ’اے این پی‘ سے بھی الگ کر دیاگیا۔ وہ ترک دنیا جیسی زندگی بسر کرنے لگے۔ ایک فراموش انسان کی۔ اُن کی صحت بھی رفتہ رفتہ خاندان کے لوگوں کی طرح اُن کا ساتھ چھوڑتی رہی اور حالت یہ ہوگئی کہ ایک وقت کا خوبرو جوان اِس قدر لاغر ہوا‘ کہ اُس کی پہچان ہی ممکن نہ رہی۔ ایک بھرپور محبتوں بھری زندگی بسر کرنے والے اعظم ہوتی کا تنہائی و بیماری سے شکست کھاتے ہوئے اختتام افسوسناک اور دردبھرا ہے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Monday, March 16, 2015

Mar2015: TRANSLATION RUY Company he seeks

The Company he seeks
پیسکو: بحران وجوہات
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) میں بحران کا نکتۂ آغاز گذشتہ برس دسمبر میں اُس وقت سے ہوا جب فرض شناس چیف ایگزیکٹو آفیسر بریگیڈئر (ریٹائرڈ) طارق سدوزئی کو بطور چیئرمین ’نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)‘ تعینات کردیا گیا۔ اُس وقت پیسکو کے بورڈ نے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے لئے تین نام وفاقی وزارت برائے پانی و بجلی کو ارسال کئے جن میں پیسکو کے چیف کمرشل آفیسر میاں مسرت گل‘ جنرل منیجر فنانس انوار الحق یوسفزئی اُور ندیم انور کے نام شامل تھے لیکن وفاقی حکومت نے اِن تین ناموں کی بجائے پرویز اختر شاہ کو تعینات کر دیا جو گریڈ اُنیس کے اہلکار ہیں اور بطور سپرٹینڈنٹ انجنیئر پیسکو سے وابستہ ہیں۔ مبینہ طور پر اِس تعیناتی کے درپردہ ایک سیاسی شخصیت کا اثرورسوخ تھا‘ جن کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور وہ وزیراعظم نواز شریف کے اتحادی ہونے کی وجہ سے اُن تک رسائی رکھتے ہیں۔

پرویز شاہ کی بطور ’چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ تعیناتی اُن کے ملازمتی تجربے اور گریڈ کے کم سے کم معیار پر پورا نہیں اُترتی تھی‘ جس کی وجہ سے ’پیسکو‘ کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے اعلیٰ انتظامی اہلکاروں میں تشویش کی لہر دور گئی اور ملازمین کی یونین اِس تعیناتی پر سراپا احتجاج بن گئی۔ ’’آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین‘ خیبرپختونخوا‘‘ سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے صوبے بھر میں پیسکو دفاتر کی تالہ بندی کردی اور بشمول صوبائی دارالحکومت پشاور دیگر اضلاع میں اِحتجاجی مظاہرے کئے۔ یونین کے چیئرمین گوہر تاج کے بقول پرویز شاہ نے ماضی میں بھی ’پیسکو‘ کو نقصان پہنچایا تھا۔ اُن پر الزام رہا ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور وہ بہت سے دیگر ملازمین سے جونیئر ہیں۔‘‘ اِن الزامات کے جواب میں پرویز شاہ نے پیسکو ملازمین کی نمائندہ یونین کے صدر گوہر تاج کے خلاف ’ڈسپلن‘ کی خلاف ورزی کرنے پر محکمانہ کارروائی کاحکم دیا اور ساتھ اُن کے زیراستعمال اُس گاڑی (سہولت) کو بھی واپس لینے کا حکم صادر کیا‘ جو گوہرتاج کے زیراستعمال تھی۔

صرف ملازمین کی یونین ہی نہیں بلکہ پیسکو کے نگرانوں (’بورڈ آف ڈائریکٹرز‘) نے بھی پرویز شاہ کی تعیناتی کی مخالفت کی اور اُنہوں نے اپنے مشترکہ مؤقف سے وفاقی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ بھی کیا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ محمد آصف اور سیکرٹری (پانی و بجلی) یونس داغا کے نام تحریر میں اُس مذمتی قرارداد کا متن ارسال کیا گیا جس میں پرویز شاہ کی تعیناتی کو محکمانہ قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے غیرآئینی کہا گیا تھا۔ اُس مذمتی قرارداد میں ’بورڈ آف ڈائریکٹرز‘ نے اِس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ’’پیسکو مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اگر پرویز شاہ کی تعیناتی کا فیصلہ ایک ہفتے کے اندر واپس نہ لیا گیا تو اِس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

پرویز شاہ نے ہرممکنہ کوشش کی کہ وہ اپنی تعیناتی کو بچا سکے۔ اُنہوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظور کردہ قرارداد تک کی آئینی حیثیت پر سوال اُٹھایا۔ اُنہوں نے ایک ڈایکٹر ناصر خان موسیٰ زئی کی حمایت بھی حاصل کر لی‘ جن کی سیاسی وابستگی پاکستان مسلم لیگ (نواز)سے ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے کل آٹھ میں سے پانچ ڈائریکٹرز نے پرویز شاہ کی تعیناتی کی حمایت کی ہے۔ یہ دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں تھا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اکثریت نے پرویز شاہ کی تعیناتی کو تسلیم کرلیا تھا کیونکہ کسی بھی ڈائریکٹر نے ایسا تسلیم نہیں کیا۔ اِس صورتحال میں پرویز شاہ نے ذرائع ابلاغ میں بطور پیسکو سربراہ اپنی کارکردگی کے تشہیری مہم شروع کر دی۔ انہوں نے پیسکو کے مختلف دفاتر بشمول ہزارہ سرکل کا دورہ بھی کیا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ایک ملاقات بھی کی‘ تاکہ اپنی تعیناتی کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے خود کو جائز و اہل نگران ثابت کرسکیں۔انہوں نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی ’پیغام یونین‘ کی حمایت بھی حاصل کر لی‘ جو ’آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین‘ کی روائتی حریف ہے اور ہر اُس معاملے میں اِن کی مخالف رہی ہے جس کی وہ حمایت کر رہی ہو لیکن یہ سبھی حربے کارگر ثابت نہ ہوسکے اور پیسکو اہلکاروں کی تالہ بندی اِس حد تک مؤثر ثابت ہوئی کہ پرویز شاہ اپنے دفتر صرف ہفتے میں ایک روز ہی آسکتے یا پھر اُنہیں دفتری اوقات کے بعد شام کو دفتر میں بیٹھنے کی چھوٹ دی گئی! بالآخر وفاقی حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ پرویز شاہ کی تعیناتی سے اُس کی ساکھ متاثر ہورہی ہے اور پیسکو معاملات بھی الجھ رہے ہیں۔ پرویز شاہ کو اُن کے عہدے پر دس روز تعینات رہنے کے بعد ’چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ کی اضافی ذمہ داریوں سے الگ کردیا گیا اُور اُن کی جگہ ایک سینیئر اہلکار سیّد حسن فاضل کو تعینات کیا گیا لیکن اُن کی مشکلات ختم نہ ہوئیں اوراپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مالی بدعنوانیوں کے تحت اُن کے خلاف مقدمات قائم ہوئے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اُن اور اُن کے بیوی بچوں کے نام 109 بینک اکاونٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ مالی خردبرد جیسے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ پرویزشاہ کو گرفتار کیا گیا اور عدالت نے اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

پیسکو سربراہ کے انتخاب میں جس طرح سیاسی ترجیحات کو ترجیح دی گئی‘ اس سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ فیصلہ سازی کے مراحل میں اگر ذمہ داری اور انصاف پسندی کے ساتھ قواعد پر عملدرآمد کی روش اختیار کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں ایسی صورتحال پیش نہ آئے جس سے نہ صرف محکمانہ کارکردگی متاثر ہوئی بلکہ فیصلہ سازوں کو بھی ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی حکومت نے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا تھا جس پر مالی بدعنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق الزامات موجود تھے۔ سیاسی پسند و ناپسند کو فیصلہ سازی سے الگ رکھنا سرکاری اداروں کی کارکردگی‘ ساکھ اور مستقبل کے لئے بھی ضروری ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Tuesday, March 10, 2015

TRANSLATION: Senate Verdict

The Senate verdict
سینیٹ نتائج
ذرائع اَبلاغ کی مؤثر موجودگی اور فعالیت کے سبب اِس مرتبہ سینیٹ اِنتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹوں کی خریدوفروخت (تجارت) ماضی کی طرح نہ ہو سکی۔ اگرچہ پیسے کا کہیں نہ کہیں استعمال تو ہوا ہوگا لیکن یہ فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرسکا اور جہاں کہیں بھی ایسی لین دین ہوئی ہوگی وہ بھی نہایت ہی خفیہ اور خوف کے عالم میں ہوئی ہو گی۔ یہ بات سچ ہے کہ ذرائع ابلاغ نے سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت کے امکانات سے متعلق اطلاعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس کی وجہ سے یہ معاملہ مکتبہ فکر کے درمیان موضوع بحث بنا رہا اور سب کی نظریں پاکستان کے اُس معزز قانون ساز ایوان بالا پر ٹکی رہیں‘ جس کے انتخابات پانچ مارچ کے روز مقررہ وقت کے بعد نصف شب کے قریب اختتام پذیر ہوئے۔ وجہ یہ تھی کہ ہر کوئی احتیاط سے کام لے رہا تھا اور سیاسی جماعتوں کا یہ طرز عمل غیرمعمولی اور پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا۔

سینیٹ کے انتخابات پیچیدہ نہیں بلکہ سادہ ہیں۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق سیاسی جماعتیں قومی و صوبائی اسمبلی میں اپنی نمائندگی کے تناسب سے سینیٹ کے لئے اُمیدوار نامزد کرتی ہیں لیکن ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی یہ ہوا کہ سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے اراکین کی حقیقی تعداد کو خاطر میں لانے کی بجائے زیادہ اُمیدوار نامزد کئے‘ تاکہ اُن کی سینیٹ میں پوزیشن مستحکم ہو۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ تعداد سے زیادہ اراکین کے نامزد ہوتے رہے جو کامیابی کے لئے مطلوبہ تعداد میں ووٹ خرید کر حاصل کرتے ہوں گے کیونکہ جن جماعتوں سے وہ تعلق رکھتے تھے اُن کی ایوانوں میں موجودگی حسب ضرورت اراکین کی تعداد کے مطابق نہیں تھی۔ یہ ایک خوش آئند بات تھی کہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں پیسے کی طاقت فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرسکی ہے۔

یہ کہنا بھی کلی طور پر بجا نہیں ہوگا کہ سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے قانون ساز ایوانوں کے تمام اراکین نے اپنی اپنی جماعت کے نظم وضبط کی مکمل پابندی کی ہوگی۔ کچھ ایسے بھی تھے جن کے لئے پیسوں کی بھاری پیشکش ٹھکرانا آسان نہیں رہا ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سرمایہ دار اُمیدواروں نے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اس قدر پیسہ دیا کہ وہ اپنے ہی اراکین کو ادائیگیاں کریں تاکہ وہ کسی دوسرے اُمیدوار کی پیشکش کی جانب آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ اب ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر آن پڑی ہے کہ وہ ایسے عناصر کی نشاندہی اور اُن کا احتساب کریں کہ جنہوں نے کسی محرک کی وجہ سے اپنا ووٹ پارٹی نظم وضبط یا ہدایات کے مطابق نہیں دیا۔ اگر ماضی کی روایات کو دیکھا جائے تو ایسی مثالیں نہیں ملتیں کہ جس میں سیاسی جماعتوں نے سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت کا خاطرخواہ نوٹس لیا ہو اور ایسے عناصر کا احتساب کیا ہو‘ جنہوں نے ایوان بالا ہی کا نہیں بلکہ جملہ قانون سازاداروں کا وقار مجروح کیا۔

سینیٹ انتخابات کے لئے نامزد اُمیدواروں کے بارے میں اراکین اسمبلی کی اپنی اپنی الگ رائے بھی ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے داخلی تنازعات‘ نامزد اُمیدواروں کی ساکھ اور پارٹی سربراہ کی نذر میں اُن کی حیثیت جیسے محرکات کی وجہ سے اراکین صوبائی اسمبلی اپنی جماعتوں کی جانب سے جاری کردہ نظم وضبط کی پرواہ نہیں کرتے۔ سیاسی جماعتوں کو جانب سے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو سینیٹ کے ٹکٹ دینے کو بھی اراکین صوبائی اسمبلی کی اکثریت نے پسند نہیں کیا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رحمان ملک اور متحدہ قومی موومنٹ کے میاں عتیق کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا لیکن اُنہوں نے صوبہ سندھ کی اسمبلی سے سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے نہال ہاشمی اور سلیم ضیاء کا تعلق سندھ سے تھا لیکن اُنہیں پنجاب سے میدان میں اُتارا گیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے بیرسٹر سیف کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا لیکن وہ سندھ سے سینیٹ کے لئے لڑے۔ وجہ یہ تھی کہ ان میں سے کسی بھی اُمیدوار کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے اپنے آبائی صوبوں سے متعلقہ اسمبلی سے انتخاب میں حصہ لیتے اُور کامیاب بھی ہو جاتے۔ جس سیاسی جماعت کا اثرورسوخ جس کسی بھی صوبے میں تھا‘ اُس نے اپنے منظور نظر افرادکو اُسی صوبے سے سینیٹ انتخابات کے لئے نامزد و کامیاب کرایا۔

سینیٹ کی اُن نشستوں پر انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ (ووٹوں کی خریدوفروخت) ممکن نہیں تھی جن کا تعلق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تھا کیونکہ ایوان زیریں میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی اکثریت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز لیگ کی جانب سے اقبال ظفر جھگڑا اور راحیلہ مگسی نے سینیٹ انتخابات میں باآسانی کامیابی حاصل کر لی۔ اسلام آباد چونکہ پاکستان کے چاروں صوبوں کا ترجمان اور نمائندہ اِکائی ہے‘ اِس لئے وہاں سے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھنے والا سینیٹ انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔

صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی اکثریت ہے‘ اس لئے وہاں سے آنے والے نتائج بھی نواز لیگ ہی کے حق میں رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن نے کامیابی حاصل کی اور اپنی جماعت کے اراکین کی تعداد سے زیادہ ووٹ حاصل کئے لیکن پھر بھی پنجاب سے زیادہ تر نشستیں نواز لیگ ہی کے حق میں رہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی اُن غیرمعمولی کوششوں کا ذکرضروری ہے جو اُنہوں نے 312 اراکین اسمبلی کو راضی رکھنے کے لئے کیں۔

صوبہ سندھ میں صورتحال بڑی حد تک واضح ہی رہی جہاں سے حکمراں پیپلزپارٹی اور شہری علاقوں میں اکثریت رکھنے والی متحدہ قومی موومنٹ نے انتخاب لڑی جانے والی سینیٹ نشستوں پر باآسانی کامیابی حاصل کی۔ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والے اُمیدوار عمادالدین شوقین نے نواز لیگ کی حمایت سے ایک نشست حاصل کرنے کے لئے کھینچا تانی کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ سندھ اسمبلی کی طرح خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی ہوئی پولنگ باکسز میں سے خالی ووٹ برآمد ہوئے جس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ اراکین اسمبلی نے اپنا ووٹ پول کرنے کی بجائے خالی کاغذ ڈال دیا اور اپنا ووٹ ہمراہ باہر لے آئے جہاں اُنہوں نے پارٹی کے نمائندوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لئے دکھایا ہوگا اور بعدازاں وہ ووٹ پول کروا دیا گیا ہوگا۔

بلوچستان اسمبلی سے آزاد اُمیدوار میر یوسف بدنی کی کامیابی حیران کن تھی جنہوں نے نواز لیگ کے سردار یعقوب ناصر کو ایک ایسی صورتحال میں شکست دی جبکہ اُن کی حمایت کرنے والی نواز لیگ کی ایوان میں اکثریت تھی۔

خیبرپختونخوا میں صورتحال زیادہ دلچسپ رہی جہاں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے پارٹی ہدایات کے مطابق ہی ووٹ دیئے۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں یہ پارٹی کے چیئرمین عمران خان کا یہ بیان شامل تھا کہ اگر خیبرپختونخوا اسمبلی میں ووٹوں کی خریدوفروخت ہوئی تو وہ اسمبلی تحلیل کر کے غداری کرنے والے اراکین اسمبلی کے خلاف مقدمات قائم کریں گے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے نواز لیگ کے ساتھ معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے اُمیدواروں کی حمایت کی اور درحقیقت اُنہوں نے ایک تیر سے دو شکار کئے۔ انہوں نے اپنے اور اپنی اتحادی جماعتوں (جماعت اسلامی و عوامی جمہوری اتحاد پاکستان) کے لئے مجموعی طور پر سات نشستیں حاصل کیں۔ ان کی حکمت عملی کی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن کا نامزد اُمیدوار اور اپنے عہدے کی مدت مکمل کرنے والے سینیٹر وقار احمد خان کے بھائی عمار احمد خان کامیاب نہ ہوسکے۔ اگر اجتماعی طور پر خیبرپختونخوا سے سینیٹ انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑی کامیابی تحریک انصاف جبکہ سب سے بڑی ناکامی قومی وطن پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے حصے  میں آئی۔
 
قبائلی علاقے ہر لحاظ سے پیچھے ہی رہتے ہیں۔ سینیٹ اِنتخابات میں بھی قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اَراکین قومی اسمبلی کو ووٹ دینے سے روک دیا گیا اور انتخابات ملتوی کر دیئے گئے جس کی وجہ وہ خصوصی آئین سازی کی کوشش تھی جو نہایت ہی کم وقت میں تیز رفتاری سے کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ آزاد حیثیت رکھنے والے قبائلی اراکین اسمبلی اپنے ووٹوں کی خریدوفروخت نہ کرسکیں۔ یہ معاملہ اب عدالت میں زیرغور ہے۔ جس کا بہتر حل یہی ہوگا کہ قبائلی علاقوں کی سینیٹ میں مخصوص نشستوں پر بھی انتخابات ملک کے دیگر حصوں کے لئے رائج قوانین و قواعد کے مطابق ہی کئے جائیں۔ بارہ قبائلی اراکین قومی اسمبلی چار سینیٹرز کا انتخاب کر سکتے ہیں‘ اور فی ووٹ کی قیمت اِس قدر آسمان سے باتیں کر رہی ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)