Showing posts with label Ramadan. Show all posts
Showing posts with label Ramadan. Show all posts

Monday, April 17, 2023

Peshawar Kahani: Ramadan Memories

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: اپنی یادوں سے کہو‘ اِک دن کی چھٹی دے مجھے 

رمضان کیسے گزر رہا ہے؟ آخری عشرے کے اِختتام سے قبل یہ سوال عموماً پوچھا جاتا ہے اُور جب ’پشوری‘ حلقہئ احباب میں تبادلہ خیال کا آغاز اِس گردان سے کرتے ہیں تو لامحالہ ذہن میں ماضی کی کھڑی کھل جاتی ہے اُور ایک تازہ ہوا کا جھونکا یادوں کو معطر و مسرور کرتے ہوئے ایک ایسے ماضی کی یاد دلاتا ہے جسے گزرے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن وقت کو جیسے پر لگ گئے ہیں اُور یہ ہاتھوں سے نکلنے کی صورت اُڑے جا رہا ہے! کیا وقت تھا کہ جب وقت کا احساس ہوا کرتا تھا۔ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی چابی والی گھڑی (ٹائم پیس جسے عرف عام میں ٹئیم پیس کہا جاتا تھا) کی مرمت کروائی جاتی تاکہ گھر کی خواتین سحری کے لئے بروقت اُٹھ سکیں۔ یہ وہ وقت تھا جب رمضان المبارک گرمی کے ہوں یا سردی کے رات کو چند گھنٹے نیند ضرور کی جاتی تھی اُور سحری کے لئے اُٹھنے کے مقررہ اوقات میں جگانے والوں کے الگ الگ انداز تھے۔ کوئی ڈھول بجاتے بجاتے گزر جاتا‘ تو کوئی خوش الحانی کے ساتھ نعتیہ کلام پڑھتا۔ گلے میں ڈھولکی اُور باجا لٹکائے دو افراد پر مشتمل سحری جگانے والوں کی قوال ٹیمیں بھی ہوا کرتی تھیں جبکہ اندرون شہر کے یکہ توت سے کریم پورہ اُور ہشتنگری تک علاقے میں سحری جگانے والے (سالار) خادم حسین اعوان مرحوم کو بھلا کیسے بُھلایا جا سکتا ہے۔ سحری جگانے کے لئے پشاور چھاؤنی اُور تھانہ جات کی حدود میں وہ سائرن بھی بجائے جاتے جنہیں جنگ کے دوران شہریوں کو دشمن کے فضائی حملے سے خبردار کرنے کے نصب کیا گیا تھا لیکن رفتہ رفتہ اِن سائرنز کی مخصوص آواز مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز میں نصب کر دی گئی اُور اب گلی گلی سائرن سحری کے آغاز اُور اِس کے محتاط اختتام کی حد پر بجائے جاتے ہیں جس کے چند لمحے بعد فجر کی آذانیں ہوتی ہیں لیکن دوسری مرتبہ سائرن کی آواز کھانا پینا ترک کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اُور اگرچہ یہ بندوبست اعلانیہ نہیں لیکن روایت کے طور پر ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی رواج پا گیا ہے۔ سحری سے قبل چند گھنٹے کی نیند کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا کہ ’تہجد کی نماز (جسے نماز شب بھی کہا جاتا ہے)‘ کی ایک مستحب شرط پوری ہو جاتی کہ تھوڑی نیند کے بعد اُٹھ کر تہجد کے نوافل ادا کرنا بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے البتہ سارا سال عبادت کرنے والے جب عشا سے فجر کی نماز ادا کرنے کی سکت و عادت رکھتے ہوں تو اُن کے لئے ’نماز ِشب‘ میں نیند نہ کرنے کی رعایت موجود ہے۔ پشاور کے کیا دن اُور کیا راتیں ہوا کرتی تھیں کہ جب ریڈیو‘ ٹیپ ریکارڈرز اُور ٹیلی ویژن کے آنے سے پہلے گھر گھر سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی آوازیں آتی تھیں۔ گلی محلوں سے سر جھکائے گزرنے والے جانتے تھے کہ تلاوت قرآن مجید کس کے گھر سے ہو رہی ہے۔ تب ’سٹریٹ کرائمز‘ کا نام و نشان نہیں تھا۔ ہر دوسرا شخص ایک دوسرے سے مانوس یا کسی نہ کسی رشتے اُور تعلق کا عکس لئے گھوم رہا ہوتا۔ اہل پشاور کی پہچان اُن کے لباس کی تراش خراش‘ سر پر پہنی ہوئی ٹوپی‘ کندھے پر رکھے ہوئے رومال‘ پاؤں میں پہنی ہوئی جوتی حتیٰ کہ قیمیض اُور آستینوں کے بٹن کھلے یا بند رکھنے سے بھی ہو جاتی تھی۔ اِسی طرح سحری کے جگانے والے بھی اجنبی نہ ہوتے۔ اندرون شہر کے چند علاقوں میں ’دعوت اسلامی‘ کی جانب سے ’صدائے مدینہ‘ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی اتباع اُور بزرگوں کے طرزعمل کی پیروی کرتے ہوئے لگائی جاتی ہے لیکن اَب پشاور بدل گیا ہے اُور اِس کے سحری و افطار سے لیکر رمضان المبارک میں کھانے پینے کے معمولات اُور دسترخوانوں پر سجی وہ مخصوص اشیائے خوردونوش بھی نہیں رہیں جو خاصا ہوا کرتی تھیں اُور جن بودوباش کے معمولات کے ساتھ کئی ایک حکمتیں اُور سب سے بڑھ کر ایک خاص قسم کی سادگی و انکساری جڑی ہوتی تھی۔

پشاور خاموش ہوا کرتا تھا۔ شہر میں بیٹھ کر چھاؤنی کے ریلوے اسٹیشن سے گاڑی کی آمدورفت کو سنا جاتا تھا۔ گھنٹہ گھر سے وقت کے بارے میں اعلان شہر سے صدر تک سُنا جاتا۔ بجلی کی سٹریٹ لائٹس آئیں تو آسمان کی تاریکی دھندلی اُور دودھیا ہو گئی ہے ورنہ سیاہ و تاریک آسمان پر ستاروں کو شمار کرتے نیند آ جایا کرتی تھی۔ سحری کے لئے جگانے والوں کے منفرد لیکن روائتی انداز اُور روائتی کلام ہوا کرتے تھے۔ نماز تراویح کی ادائیگی کے دوران اعلیٰ حضرت بریلوی کا نعتیہ کلام پڑھنے والے ایک نابینا شخص کی آواز کان پڑتی جو آج بھی سماعتوں میں محفوظ ہے کہ ”اہلِ سُنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ ِحضور (رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین) …… نجم ہیں اُور ناؤ ہے عترت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی۔“ غلام اُستاد کی برق رفتار تراویح کی بیس رکعتیں اُور پوری نماز عشا بمعہ تراویح اُور وتر زیادہ سے زیادہ پینتیس منٹ میں ادا کرنے کے بعد صرف اُتنی ہی مٹرگشت ہوتی جو بستر تک لے جائے۔ ریڈیو‘ ٹیپ ریکارڈر‘ ٹیلی ویژن‘ وی سی آر‘ کیبل نیٹ ورک اُور انٹرنیٹ سے جڑے موبائل فونز نے جن نئے معمولات و مصروفیات کو جنم دیا ہے اُن کا ماضی سے کوئی تعلق نہیں اُور نہ ہی اُن کا کوئی مستقبل دکھائی دیتا ہے کیونکہ جس انداز سے برق رفتار انٹرنیٹ (فائیو جی) اُور پاؤں پھیلاتے ’مصنوعی ذہانت‘ کا انتظار کیا جا رہا ہے تو وہ وقت بھی زیادہ دور نہیں جب انٹرنیٹ ہی کے اوقات استعمال ہوں گے جن کی ایجاد ہو چکی ہے۔ اگر کسی کے ذہن میں یہ ضمنی سوال ہو کہ ’انٹرنیٹ ٹائم کیا چیز ہے؟‘ تو جان لیجئے کہ وقت کے موجودہ نظام جسے مجازی حقیقی دن کہا جاتا ہے اُور یہ چوبیس گھنٹے اور ساٹھ منٹ فی گھنٹہ کے حساب سے وقت کا تعین کرتا ہے جبکہ انٹرنیٹ ٹائم میں وقت کی گھنٹے اُور منٹوں میں تقسیم کی بجائے‘ ٹائم سسٹم کے تحت ہر دن ”ایک ہزار بیٹس beats“ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر بیٹ کے پیمانے کو دل کی دھڑکن سے تشبیہ دی جا سکتی ہے اُور بیٹ کا مطلب ’ایک منٹ 26.4 سیکنڈ ہوتا ہے۔“

پشاور ’وقت کے شور‘ میں گم ہو گیا ہے جبکہ وقت کی جمع ’اُوقات‘ ہے۔ باغات کی سیر نہیں رہی تو ہر محلے میں کوئی نہ کوئی بیھٹک (مرکزی جگہ) بھی نہیں رہی جہاں ہم خیال اکٹھا ہوں۔ زمیندار (اعوان برادری) گھرانے فصیل شہر کے باہر فصلیں‘ باغات اُور مال مویشیوں کی مصروفیات رکھتے۔ اِن کے پاس ٹانگے (یکہ) بھی ہوتے جن پر عمومی ایام میں ہفتہ وار جبکہ رمضان المبارک میں عصر سے بعداز عصر تک سیروتفریح کے لئے پورے اہتمام یعنی بن سنور کر جایا جاتا اُور یہ سب کچھ ایک ایسی رفتار سے ہو رہا ہوتا کہ رمضان المبارک کے گزرنے کا پتہ ہی نہ چلتا کہ کب سحری ہوئی‘ دن چڑھا اُور دن ڈھلا کہ جس کے آخری پہر میں تندور پر دیسی گھی والا برتن اُور روغنی و پراٹھوں کی تعداد کے بارے ایک پرچی لکھ کر مطلع کرنا ہوتا تھا۔ ٹیلی ویژن اپنے ساتھ رمضان ٹرانسمیشنز لایا جس کی وجہ سے ہر دن ’متنازعہ موضوعات‘ پر مختصر دورانیئے کی ’وائرل ویڈیوز‘ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چلتے پھرتے‘ سوتے جاگتے‘ کھاتے پیتے اُور بولتے سنتے مواصلاتی وسائل کا استعمال حیران کن ہے جس نے ہر خوبی کمال اُور ہر روایت کو ’تفریح‘ بنا دیا ہے۔ پشاور کے معمولات رمضان میں تغیرات کے جملہ اسباب میں مہنگائی‘ سٹریٹ کرائمز میں اضافہ اُور چھوٹے بڑوں میں ہر وقت ’آن لائن‘ رہنے کا شوق بھی شامل ہے۔ پشاور کی یادیں اُور پشاور کا عشق تاریخ کے نہیں بلکہ نسلوں کو منتقل کرنے کے لئے اُنہی وسائل اُور ذرائع کا استعمال کرنا پڑے گا‘ جو رفتہ رفتہ ہر خوبی پر حاوی ہوتے چلے جا رہے ہیں بقول منور رانا ”اپنی یادوں سے کہو اِک دن کی چھٹی دے مجھے …… عشق کے حصے میں بھی اتوار ہونا چاہئے۔“

……




Thursday, May 17, 2018

May 2018: Break downs!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
بریک ڈاؤن!
پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے ’مئی دوہزارتیرہ‘ کے عام اِنتخابات کے موقع پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا‘ لیکن عرصہ 5 سال (قریب) مکمل ہونے کے باوجود بھی طلب اُور رسد کے درمیان فرق بدستور (جوں کا توں) موجود ہے۔ علاؤہ ازیں بجلی کا پیداواری اُور ترسیلی نظام بھی قابل بھروسہ نہیں‘ جس پر دھند‘ بارش‘ گرمی یا شدید سردی جیسے بیرونی دباؤ ایک عرصے سے مسلسل اثرانداز ہو رہے ہیں۔ نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی اور نواز لیگ ہی کے موجودہ تاحیات قائد نواز شریف نے اپنی اپنی وزارت عظمیٰ کے اَدوار میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کیا‘ لیکن اِس کے باوجود نہ صرف لوڈشیڈنگ برقرار رہی بلکہ آئے روز ’بریک ڈاؤنز‘ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران ایسے 3 بڑے ’بریک ڈاؤن‘ ہوئے ہیں‘ جن کی وجہ سے پاکستان کے دو یا دو سے زائد صوبوں میں گھریلو اُور صنعتی صارفین حتی کہ ہسپتال بھی بیک وقت متاثر ہوئے۔

چار نومبر دوہزار سترہ: حکومت کی جانب سے ’فرنس آئل‘ سے چلنے والے پیداواری پلانٹس کی بندش کے فیصلے کے بعد پنجاب اُور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ’بجلی کا طویل‘ غیرمعمولی اور خوفناک بریک ڈاؤن‘ ہوا۔ متاثرہ پاور پلانٹس میں حبکو پاور پلانٹ (950میگاواٹ)‘ مظفر گڑھ پاور پلانٹ(1000میگاواٹ)‘ جامشورو پاور پلانٹ (400میگاواٹ) اور کیپکو کا پاور پلانٹ (700میگاواٹ) شامل تھے۔ علاؤہ ازیں چھوٹے پاور پلانٹس نشاط پاور‘ نشاط چھنیاں پاور‘ لبرٹی‘ حبکو‘ ناروال‘ اٹلس اور کیل پاور پلانٹس جو مجموعی طور پر بارہ سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ اُن سے بھی بجلی حاصل ہونا بند ہوئی۔
یکم مئی دوہزار اٹھارہ: ’نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی‘ کی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کرنے سے ’چھ ہزار میگاواٹ‘ کی کمی سے ’بحران‘ پیدا ہوا‘ جس کی بنیادی وجہ صوبہ پنجاب میں حویلی بہادر شاہ‘ بلوکی اور بھکی میں موجود ’تین ہزار چھ سو میگاواٹ‘ کے تین ’ایل این جی‘ پاور پلانٹس تھے‘ جنہوں نے اچانک کام کرنا چھوڑ دیا۔ جس کے بعد لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ فیڈرز پر بھی چھ سے آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی گئی۔ بعداز تحقیق پتہ چلا کہ موسم کی تبدیلی اور درجۂ حرارت (گرمی) میں اِضافے کے باعث بجلی کی طلب اچانک بڑھ گئی تھی‘ جس کی وجہ سے بریک ڈاؤن ہوا۔

سولہ مئی دوہزار اٹھارہ:تربیلا‘ منگلا اُور دیگر پاور پلانٹس میں ’’فنی خرابی‘‘کے باعث ایک مرتبہ پھر ’بریک ڈاؤن‘ ہوا‘ جس سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی اچانک منقطع ہوگئی۔ ماہ رمضان المبارک (1439ہجری) کے آغاز سے ایک روز قبل ہوئے اِس ’بریک ڈاؤن‘ نے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی افواہیں بھی گردش کرنے لگیں کہ رواں برس ماہ رمضان کے دوران بالخصوص خیبرپختونخوا کے صارفین تاریخ کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کریں گے!

پاکستان میں ہنگامی حالات (ایمرجنسی) سے نمٹنے کی کوئی ایسی جامع حکمت عملی موجود نہیں‘ جس کے ذریعے عوام کو فوری طور پر اصل حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر اگر بجلی کا ’بریک ڈاؤن‘ ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں ’ایف ایم ریڈیو‘ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ قومی یا صوبائی ’ڈیزاسٹر مینجمنٹ‘ کے ادارے موبائل فون کے مختصر پیغامات (ایس ایم ایس) جاری کر کے عوام کی تشویش میں کمی لا سکتے ہیں۔ ’پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے)‘ کے ذریعے فوری طور پر ہر موبائل نمبر پر پیغام ارسال کر کے بھی تشویش میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اگر عوام کو معلومات فراہم کرکے اور اعتماد میں لیکر درپیش بحرانوں کا حل تلاش کیا جائے تو یہ زیادہ پائیدار اور مفید عمل ثابت ہوگا۔ بجلی کی پیداوار اور فراہمی وفاقی حکومت نے اپنے ذمے لے رکھی ہے تو کسی بھی وجہ سے ہونے والے بریک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی ’ہنگامی صورتحال کی وضاحت‘ بھی وفاق ہی کو کرنی ہے۔ شرپسند عناصر اور بناء تحقیق افواہوں کو آگے پھیلانے (شیئر کرنے والے) ایسے مواقعوں کا فائدہ اٹھا کر انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تو حکومت کی جانب سے برق رفتار ’ذرائع ابلاغ‘ کے جملہ وسائل سے بھرپور اِستفادہ ہونا چاہئے۔
بجلی کی کمی سے پاکستان میں معمولات زندگی اُور بالخصوص کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اِس سلسلے میں صرف ایک مثال سے پوری صورتحال کو سمجھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بجلی بحران اُن صنعتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے جو روزگار کی فراہمی اُور پاکستانی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی جیسی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ ’’آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن‘‘ کے رہنماؤں نے ہنگامی پریس کانفرنس میں ماہ رمضان المبارک کے دوران صنعتوں کے لئے جاری کئے گئے بجلی اُور گیس کی فراہمی کے اُوقات کار (شیڈول) بارے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ ۔۔۔ ’’اگر صنعتوں کے لئے روزانہ دس گھنٹے بجلی بند ہوئی اور ہفتے میں صرف دو روز گیس فراہم کی گئی تو اِس سے ’’10لاکھ افراد‘‘ بے روزگار ہو جائیں گے۔‘‘ 

کون نہیں جانتا کہ ’وافر مقدار‘ میں بجلی و گیس کی فراہمی صنعتوں کی فعالیت (باالفاظ دیگر بے روزگاری میں کمی) کے لئے ضروری ہے لیکن پاکستان نہ تو بجلی و گیس کی اپنی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ کر سکا ہے اور نہ ہی ہمسایہ ملک جمہوری اسلامی ایران سے بجلی اور گیس حاصل کی گئی‘ جبکہ حالات موافق تھے اور ایران پر عالمی اقتصادی پابندیاں قدرے نرم (لچکدار) تھیں! فیصلہ سازوں کے ’تجاہل عارفانہ‘ کی بدولت بجلی میں کمی اُور توانائی کا بحران شدت اِختیار کر کے اُس انتہاء کو پہنچ چکا ہے کہ جہاں اب حکومتوں کا بننا اُور مٹنا (عام انتخابات کے نتائج) اِس سے جڑ گئے ہیں۔ ’سال دوہزارتیرہ‘ کا عام انتخاب ’’لوڈشیڈنگ خاتمے‘‘ کے نعرے پر لڑا گیا اور بجلی کی طلب اور رسد میں فرق صفر پر لانے‘ پیداواری لاگت میں کمی (سستی بجلی)‘ ترسیل اُور تقسیم کے عمل میں ہونے والے نقصانات‘ بجلی چوری کم کرنے جیسے بلند بانگ دعوے کئے گئے۔ اقتدار میں آنے کے بعد نواز لیگ کی قیادت نے متعدد مواقعوں پر ملک میں وافر بجلی موجود ہونے کی نوید بھی سنائی لیکن ایک طرف طلب سے زائد (سرپلس) بجلی کی پیداوار کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو دوسری طرف رمضان المبارک میں صنعتوں کے لئے بجلی اور گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے‘ جو کہ حکومتی دعوؤں کی سراسر نفی اور قول و فعل کا ’’کھلا تضاد‘‘ ہے۔ 
رستہ مرا تضاد کی تصویر ہو گیا
دریا بھی بہہ رہا تھا‘ جہاں پر تضاد تھا (یاسمین حمید)۔
۔۔۔

Friday, June 2, 2017

Jun2017: Fruit boycott - Social Media Drive!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مہنگائی کا علاج!
’سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) کے ذریعے ملک گیر سطح پر تین روزہ مہم آج (دو جون) سے شروع ہو رہی ہے‘ جس کا عام فہم بنیادی خیال (مطالبہ) یہ ہے کہ ’’تین دن پھل (فروٹ) نہ خریدے جائیں۔‘‘ 

مہنگائی کی ’حوصلہ شکنی‘ کرنے کے لئے اپنی نوعیت کی اِس منفرد (انوکھی) مہم کا تصور کراچی سے شروع ہوا‘ جہاں ماہ رمضان المبارک کے دوران پھل و سبزی کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن مہنگائی کا یہ رجحان صرف کراچی کی حد تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اِس میں ملک کے دیگر حصوں بشمول خیبرپختونخوا سے ’سوشل میڈیا فعالیت پسند (ایکٹوسٹ) بھی احتجاجی تحریک‘ کا حصہ بن گئے ہیں اور مرکزی شہری و دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اِن سوشل میڈیا صارفین کے پیغامات اور بڑھتی ہوئی حمایت (عزم) سے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ ’پاکستان کی تاریخ کی یہ پہلی ہڑتال (بائیکاٹ) اگر سوفیصد کامیاب نہ بھی ہو لیکن اِس کے مثبت اثرات ضرور ظاہر ہوں گے۔ سوفیصد کامیابی نہ ہونے وجہ اِس تحریک سے کسی کا اختلاف نہیں بلکہ پھل و سبزی کے تمام خریداروں کا ’سوشل میڈیا‘ سے منسلک نہ ہونا ہے۔ اِس سلسلے میں نجی ٹیلی ویژن چینلز اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز (الیکٹرانک میڈیا) کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے جہاں سردست قومی سیاست سے متعلق موضوعات رواں ہفتے بھی حاوی دکھائی و سنائی دے رہے ہیں اور جب سے ’پانامہ کیس‘ کے سلسلے میں وزیراعظم کے صاحبزادوں کو تحقیقاتی کمیشن نے طلب کیا ہے تب سے ’فوکس‘ وہ مقدمہ بن گیا ہے‘ جس کا فیصلہ آنے تک قوم کو صبر کرنا چاہئے اور اگر مگر سے شروع ہونے والی خبروں اور تبصروں پر کان دھرنے کی بجائے اُن امور کی جانب توجہات مبذول کرنی چاہیءں‘ جن سے وہ ’لٹ‘ رہے ہیں اور ناجائز منافع خور ملک کی ابتر سیاسی حالات (غیریقینی) کا مسلسل فائدہ اُٹھا رہے ہیں!

صرف تین روز پھل نہ خریدنے سے کیا ہوگا؟ پورا سال مہنگائی کی منصوبہ بندی اور مارکیٹ (اجناس کی طلب و رسد) کنٹرول کرنے والوں (اڑھتیوں) کا تجربہ دہائیوں پر محیط ہے اور وہ پھلوں کی ’شیلف لائف (عمر)‘ بڑھانے کے لئے ادویات اور سردخانوں کا استعمال بھی کرتے ہیں‘ چونکہ تین روزہ مہم اعلان کرکے شروع کی گئی ہے‘ اِس عرصے میں سردخانوں اور ذخیروں سے مارکیٹ میں پھل مارکیٹ میں نہیں لائے جائیں گے اور سارے کا سارا نقصان چھوٹے پیمانے پر پھل فروش ہتھ ریڑھی بانوں اور دکانداروں کا برداشت کرنا ہوگا۔ عوام چاہے جتنے بھی متحد اور باشعور ہو جائیں اُور چاہے سوشل میڈیا کے ذریعے طوفان در طوفان بھی برپا کر دے لیکن جب تک ضلعی انتظامیہ (کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ محکمۂ فوڈ‘ انسداد بدعنوانی وغیرہ) کے دفاتر و محکمے (عوام کے حق میں) فعال نہیں ہوں گے‘ جب تک منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور ایوان بالا کے اراکین عوام کے شانہ بشانہ کھڑے نہیں ہوں گے‘ اُس وقت تک مہنگائی کے خلاف ایسی کوئی بھی مہم خاطرخواہ انداز میں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی۔ 

آخر کوئی یہ سوال کیوں نہیں اُٹھا رہا کہ مہنگائی کے معلوم اسباب (مصنوعی قلت کے ذریعے طلب و رسد میں فرق پیدا کرنے کے ذمہ دار) معلوم ہونے کے باوجود بھی یہ کردار قانون کی گرفت میں نہیں لائے جا رہے؟ عام آدمی (ہم عوام) کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ہر سال ماہ رمضان اور مہنگائی کے آپسی تعلق کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ 

سوشل میڈیا کے ذریعے صارفین کے حقوق کی تحریک کو پلیٹ فارم (پھلنے پھولنے کا وسیلہ) ضرور ملا ہے لیکن اِس کی وساطت سے ملنے والی کامیابی کا حجم اگرچہ کم لیکن نہ ہونے سے بہتر ثابت ہوگا۔ سوشل میڈیا نے ایک سوچ دی ہے‘ ایک سمت معین کرکے گویا پورے پاکستان کو متحد کردیا ہے اور سارا سال ماہ رمضان المبارک کا انتظار کرنے والے ’ناجائز منافع خوروں‘ کے خلاف اگر عوامی سطح پر اتحاد ہو سکتا ہے اور یہ تین روزہ ہڑتال کسی بھی درجے کامیاب ہو جاتی ہے تو اِس سے دیگر شعبوں میں فیصلہ سازی اور بالخصوص صارفین کے حقوق کی ذیل میں ایسی نمایاں کامیابیاں حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا‘ جن کا تعلق کم و بیش سبھی اجناس کی قیمتوں اور معیار سے ہے۔ 

باعث خیروبرکت ہے کہ بالآخر عام آدمی (ہم عوام) نے متحد ہونے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو عین ممکن ہے کہ سوشل میڈیا کا اگلا نشانہ انتہاء پسندی‘ فروعی اختلافات کو ہوا دینے اور مذہبی یا نسلی لسانی بنیادوں پر منافرت پھیلانے والے ہوں جو داخلی طور پر ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔

Monday, May 29, 2017

TRANSLATION: Has Poplazai been vindicated this time? by Rahimullah Yusufzai


Moon-sighting: Has Poplazai been vindicated this time

رویت ہلال: اصولی مؤقف!
ستائیس مئی کی شام غروب آفتاب کے ساتھ ہی ماہ رمضان المبارک کا ’روشن اور واضح‘ چاند آسمان میں نمایاں طور پر دکھائی دے رہا تھا جسے دیکھ کر خیبرپختونخوا میں اُن تمام لوگوں نے اطمینان محسوس کیا جنہوں نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی اعلان سے ایک روز قبل قدرے ہکچاہٹ میں روزہ رکھا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کی شام مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان میں کہیں بھی نئے اسلامی مہینے کا چاند دکھائی نہیں دیا‘ اِس لئے پہلا روزہ بروز اتوار اٹھائیس مئی کو ہوگا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا یہ فیصلہ ہفتہ کی شام نمودار ہونے والے چاند کو دیکھتے ہوئے غلط محسوس ہوا کیونکہ چاند کی عمر ایک دن سے زیادہ دکھائی دے رہی تھی اور یقیناًایسی صورت میں ممکن تھا کہ چھبیس مئی (جمعہ) کی شام بھی تیز نظر اور دلچسپی رکھنے والے چاند کی رویت کر لیتے۔ 



روایت رہی ہے کہ غیرسرکاری ’رویت ہلال کمیٹی‘ کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی ہر سال پشاور کی مسجد قاسم علی خان میں ’چاند دیکھنے کے لئے کمیٹی‘ کا اجلاس طلب کرتے ہیں اور ستائیس مئی کو یکم رمضان المبارک کا تعین کرنے کے فیصلے پر مہر تصدیق ہفتے کی شام نمودار ہونے والے ’چمکتے دمکتے‘ چاند نے ثبت کر دی۔ مذکورہ غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر آنے کا فیصلہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے تن تنہا نہیں کیا بلکہ معتبر علماء پر مشتمل ایک جماعت نے شہادتوں کی جانچ پڑتال کے شرعی اصولوں اور تسلی بخش تصدیق کے بعد رمضان کے چاند نظر آنے پر اتفاق رائے کیا۔ یقینی طور پر یہ ایک غیرمعمولی اور حساس مذہبی ذمہ داری ہے اور یہ فیصلہ کسی بھی صورت آسانی سے نہیں کیا ہوگا بالخصوص ایک ایسی صورتحال میں جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر نہ آنے کا اعلان جلدی میں کر دیا گیا۔ 

حسب معمول مفتی منیب الرحمن اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اُن کے ساتھیوں پر مشتمل ’سرکاری رویت ہلال کمیٹی‘ نے خیبرپختونخوا سے چاند نظر آنے کی شہادتوں کا انتظار کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ حتی کہ سرکاری حیثیت رکھنے والی ’زونل رویت ہلال کمیٹی‘ کا اجلاس جو کہ پشاور میں ہوا‘ اُنہوں نے بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو اُن 12 افراد کی شہادتوں سے مطلع نہیں کیا جو اُن کے روبرو چھبیس مئی (بروز جمعہ) کی شام پیش ہوئے تھے۔ درحقیقت خیبرپختونخوا کی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد ہی نہیں کرتی اور اِن کے مقابلے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی قیادت میں غیرسرکاری اور غیرقانونی طور پر کام کرنے والی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ اِس غیرسرکاری کمیٹی سے خیبرپختونخوا و متصل قبائلی علاقہ جات کے قریب سبھی علاقوں سے علماء اور عام لوگ رابطہ کرتے ہیں اور اپنے اپنے علاقے میں چاند کے نظر آنے کی شہادتیں پیش کرتے ہیں جو شرعی طور پر نئے اسلامی مہینے کے چاند دکھائی دینے کے طریقۂ کار کا حصہ ہے۔ اگر کمیٹی کے اراکین کو تسلی ہو جائے کہ شہادت مصدقہ اور ٹھوس ہے تو وہ بخوشی رمضان المبارک یا شوال المکرم کا چاند نظر آنے کا اعلان کر دیتے ہیں جو بعدازاں گاؤں گاؤں مساجد کے لاؤڈاسپیکرز اور دیگر ذرائع سے پہنچ جاتا ہے۔



اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور اُن کی کمیٹی کی جانب سے نئے اسلامی مہینے کے چاند نظر آنے یا نہ آنے کے اعلان پر پورے خیبرپختونخوا اور قبائلی میں عمل درآمد نہیں کیا جاتا اور بالخصوص ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں رہنے والوں کی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد کرتی ہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کی بڑی تعداد کو ’مفتی شہاب الدین پوپلزئی‘ کے اعلان کا انتظار ہوتا ہے اور نظریں مسجد قاسم علی خان پر لگی رہتی ہیں۔ 

نئے اسلامی مہینے کے چاند نظر آنے یا نہ آنے کے معاملے پر افراق و تفریق اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وفاقی حکومت رویت ہلال کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کو کسی ایسے فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر رضامند نہیں کر لیتی جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے بارے میں یہ منفی تاثر بھی زائل ہوا ہے کہ اُن پر غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد نہ کرنے کے لئے حکومتی دباؤ ہے اور اِس قسم کی اطلاعات بھی زیرگردش رہیں کہ کسی سمجھوتے کے تحت وہ اس سال مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے برخلاف اعلان نہیں کریں گے۔ 

رویت ہلال کے غیرسرکاری اعلان سے اُن تمام افراد کو مایوسی ہوئی جن کی خواہش تھی کہ ملک بھر میں ماہ رمضان المبارک ایک ہی دن شروع ہوتا۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اتوار کی بجائے ہفتے کے روز ’رمضان المبارک‘ کے آغازکو درست اقدام سمجھتا ہے کیونکہ ہفتہ کی شام نمودار ہونے والا روشن اور واضح چاند کسی بھی طرح ایک دن سے زیادہ عمر کا تھا اور اِسی بنیاد پر اُن کی یہ منطقی دلیل بھی سامنے آئی کہ پاکستان بھر ماہ رمضان المبارک کا آغاز ’ہفتہ‘ کے دن ہونا چاہئے تھا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔