Showing posts with label Mufti Shahabuddin Popalzai. Show all posts
Showing posts with label Mufti Shahabuddin Popalzai. Show all posts

Monday, May 29, 2017

TRANSLATION: Has Poplazai been vindicated this time? by Rahimullah Yusufzai


Moon-sighting: Has Poplazai been vindicated this time

رویت ہلال: اصولی مؤقف!
ستائیس مئی کی شام غروب آفتاب کے ساتھ ہی ماہ رمضان المبارک کا ’روشن اور واضح‘ چاند آسمان میں نمایاں طور پر دکھائی دے رہا تھا جسے دیکھ کر خیبرپختونخوا میں اُن تمام لوگوں نے اطمینان محسوس کیا جنہوں نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی اعلان سے ایک روز قبل قدرے ہکچاہٹ میں روزہ رکھا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کی شام مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان میں کہیں بھی نئے اسلامی مہینے کا چاند دکھائی نہیں دیا‘ اِس لئے پہلا روزہ بروز اتوار اٹھائیس مئی کو ہوگا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا یہ فیصلہ ہفتہ کی شام نمودار ہونے والے چاند کو دیکھتے ہوئے غلط محسوس ہوا کیونکہ چاند کی عمر ایک دن سے زیادہ دکھائی دے رہی تھی اور یقیناًایسی صورت میں ممکن تھا کہ چھبیس مئی (جمعہ) کی شام بھی تیز نظر اور دلچسپی رکھنے والے چاند کی رویت کر لیتے۔ 



روایت رہی ہے کہ غیرسرکاری ’رویت ہلال کمیٹی‘ کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی ہر سال پشاور کی مسجد قاسم علی خان میں ’چاند دیکھنے کے لئے کمیٹی‘ کا اجلاس طلب کرتے ہیں اور ستائیس مئی کو یکم رمضان المبارک کا تعین کرنے کے فیصلے پر مہر تصدیق ہفتے کی شام نمودار ہونے والے ’چمکتے دمکتے‘ چاند نے ثبت کر دی۔ مذکورہ غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر آنے کا فیصلہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے تن تنہا نہیں کیا بلکہ معتبر علماء پر مشتمل ایک جماعت نے شہادتوں کی جانچ پڑتال کے شرعی اصولوں اور تسلی بخش تصدیق کے بعد رمضان کے چاند نظر آنے پر اتفاق رائے کیا۔ یقینی طور پر یہ ایک غیرمعمولی اور حساس مذہبی ذمہ داری ہے اور یہ فیصلہ کسی بھی صورت آسانی سے نہیں کیا ہوگا بالخصوص ایک ایسی صورتحال میں جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر نہ آنے کا اعلان جلدی میں کر دیا گیا۔ 

حسب معمول مفتی منیب الرحمن اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اُن کے ساتھیوں پر مشتمل ’سرکاری رویت ہلال کمیٹی‘ نے خیبرپختونخوا سے چاند نظر آنے کی شہادتوں کا انتظار کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ حتی کہ سرکاری حیثیت رکھنے والی ’زونل رویت ہلال کمیٹی‘ کا اجلاس جو کہ پشاور میں ہوا‘ اُنہوں نے بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو اُن 12 افراد کی شہادتوں سے مطلع نہیں کیا جو اُن کے روبرو چھبیس مئی (بروز جمعہ) کی شام پیش ہوئے تھے۔ درحقیقت خیبرپختونخوا کی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد ہی نہیں کرتی اور اِن کے مقابلے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی قیادت میں غیرسرکاری اور غیرقانونی طور پر کام کرنے والی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ اِس غیرسرکاری کمیٹی سے خیبرپختونخوا و متصل قبائلی علاقہ جات کے قریب سبھی علاقوں سے علماء اور عام لوگ رابطہ کرتے ہیں اور اپنے اپنے علاقے میں چاند کے نظر آنے کی شہادتیں پیش کرتے ہیں جو شرعی طور پر نئے اسلامی مہینے کے چاند دکھائی دینے کے طریقۂ کار کا حصہ ہے۔ اگر کمیٹی کے اراکین کو تسلی ہو جائے کہ شہادت مصدقہ اور ٹھوس ہے تو وہ بخوشی رمضان المبارک یا شوال المکرم کا چاند نظر آنے کا اعلان کر دیتے ہیں جو بعدازاں گاؤں گاؤں مساجد کے لاؤڈاسپیکرز اور دیگر ذرائع سے پہنچ جاتا ہے۔



اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور اُن کی کمیٹی کی جانب سے نئے اسلامی مہینے کے چاند نظر آنے یا نہ آنے کے اعلان پر پورے خیبرپختونخوا اور قبائلی میں عمل درآمد نہیں کیا جاتا اور بالخصوص ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں رہنے والوں کی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد کرتی ہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کی بڑی تعداد کو ’مفتی شہاب الدین پوپلزئی‘ کے اعلان کا انتظار ہوتا ہے اور نظریں مسجد قاسم علی خان پر لگی رہتی ہیں۔ 

نئے اسلامی مہینے کے چاند نظر آنے یا نہ آنے کے معاملے پر افراق و تفریق اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وفاقی حکومت رویت ہلال کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کو کسی ایسے فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر رضامند نہیں کر لیتی جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے بارے میں یہ منفی تاثر بھی زائل ہوا ہے کہ اُن پر غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد نہ کرنے کے لئے حکومتی دباؤ ہے اور اِس قسم کی اطلاعات بھی زیرگردش رہیں کہ کسی سمجھوتے کے تحت وہ اس سال مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے برخلاف اعلان نہیں کریں گے۔ 

رویت ہلال کے غیرسرکاری اعلان سے اُن تمام افراد کو مایوسی ہوئی جن کی خواہش تھی کہ ملک بھر میں ماہ رمضان المبارک ایک ہی دن شروع ہوتا۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اتوار کی بجائے ہفتے کے روز ’رمضان المبارک‘ کے آغازکو درست اقدام سمجھتا ہے کیونکہ ہفتہ کی شام نمودار ہونے والا روشن اور واضح چاند کسی بھی طرح ایک دن سے زیادہ عمر کا تھا اور اِسی بنیاد پر اُن کی یہ منطقی دلیل بھی سامنے آئی کہ پاکستان بھر ماہ رمضان المبارک کا آغاز ’ہفتہ‘ کے دن ہونا چاہئے تھا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔