Showing posts with label Ramazan. Show all posts
Showing posts with label Ramazan. Show all posts

Thursday, May 17, 2018

May 2018: Break downs!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
بریک ڈاؤن!
پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے ’مئی دوہزارتیرہ‘ کے عام اِنتخابات کے موقع پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا‘ لیکن عرصہ 5 سال (قریب) مکمل ہونے کے باوجود بھی طلب اُور رسد کے درمیان فرق بدستور (جوں کا توں) موجود ہے۔ علاؤہ ازیں بجلی کا پیداواری اُور ترسیلی نظام بھی قابل بھروسہ نہیں‘ جس پر دھند‘ بارش‘ گرمی یا شدید سردی جیسے بیرونی دباؤ ایک عرصے سے مسلسل اثرانداز ہو رہے ہیں۔ نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی اور نواز لیگ ہی کے موجودہ تاحیات قائد نواز شریف نے اپنی اپنی وزارت عظمیٰ کے اَدوار میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کیا‘ لیکن اِس کے باوجود نہ صرف لوڈشیڈنگ برقرار رہی بلکہ آئے روز ’بریک ڈاؤنز‘ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران ایسے 3 بڑے ’بریک ڈاؤن‘ ہوئے ہیں‘ جن کی وجہ سے پاکستان کے دو یا دو سے زائد صوبوں میں گھریلو اُور صنعتی صارفین حتی کہ ہسپتال بھی بیک وقت متاثر ہوئے۔

چار نومبر دوہزار سترہ: حکومت کی جانب سے ’فرنس آئل‘ سے چلنے والے پیداواری پلانٹس کی بندش کے فیصلے کے بعد پنجاب اُور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ’بجلی کا طویل‘ غیرمعمولی اور خوفناک بریک ڈاؤن‘ ہوا۔ متاثرہ پاور پلانٹس میں حبکو پاور پلانٹ (950میگاواٹ)‘ مظفر گڑھ پاور پلانٹ(1000میگاواٹ)‘ جامشورو پاور پلانٹ (400میگاواٹ) اور کیپکو کا پاور پلانٹ (700میگاواٹ) شامل تھے۔ علاؤہ ازیں چھوٹے پاور پلانٹس نشاط پاور‘ نشاط چھنیاں پاور‘ لبرٹی‘ حبکو‘ ناروال‘ اٹلس اور کیل پاور پلانٹس جو مجموعی طور پر بارہ سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ اُن سے بھی بجلی حاصل ہونا بند ہوئی۔
یکم مئی دوہزار اٹھارہ: ’نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی‘ کی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کرنے سے ’چھ ہزار میگاواٹ‘ کی کمی سے ’بحران‘ پیدا ہوا‘ جس کی بنیادی وجہ صوبہ پنجاب میں حویلی بہادر شاہ‘ بلوکی اور بھکی میں موجود ’تین ہزار چھ سو میگاواٹ‘ کے تین ’ایل این جی‘ پاور پلانٹس تھے‘ جنہوں نے اچانک کام کرنا چھوڑ دیا۔ جس کے بعد لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ فیڈرز پر بھی چھ سے آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی گئی۔ بعداز تحقیق پتہ چلا کہ موسم کی تبدیلی اور درجۂ حرارت (گرمی) میں اِضافے کے باعث بجلی کی طلب اچانک بڑھ گئی تھی‘ جس کی وجہ سے بریک ڈاؤن ہوا۔

سولہ مئی دوہزار اٹھارہ:تربیلا‘ منگلا اُور دیگر پاور پلانٹس میں ’’فنی خرابی‘‘کے باعث ایک مرتبہ پھر ’بریک ڈاؤن‘ ہوا‘ جس سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی اچانک منقطع ہوگئی۔ ماہ رمضان المبارک (1439ہجری) کے آغاز سے ایک روز قبل ہوئے اِس ’بریک ڈاؤن‘ نے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی افواہیں بھی گردش کرنے لگیں کہ رواں برس ماہ رمضان کے دوران بالخصوص خیبرپختونخوا کے صارفین تاریخ کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کریں گے!

پاکستان میں ہنگامی حالات (ایمرجنسی) سے نمٹنے کی کوئی ایسی جامع حکمت عملی موجود نہیں‘ جس کے ذریعے عوام کو فوری طور پر اصل حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر اگر بجلی کا ’بریک ڈاؤن‘ ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں ’ایف ایم ریڈیو‘ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ قومی یا صوبائی ’ڈیزاسٹر مینجمنٹ‘ کے ادارے موبائل فون کے مختصر پیغامات (ایس ایم ایس) جاری کر کے عوام کی تشویش میں کمی لا سکتے ہیں۔ ’پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے)‘ کے ذریعے فوری طور پر ہر موبائل نمبر پر پیغام ارسال کر کے بھی تشویش میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اگر عوام کو معلومات فراہم کرکے اور اعتماد میں لیکر درپیش بحرانوں کا حل تلاش کیا جائے تو یہ زیادہ پائیدار اور مفید عمل ثابت ہوگا۔ بجلی کی پیداوار اور فراہمی وفاقی حکومت نے اپنے ذمے لے رکھی ہے تو کسی بھی وجہ سے ہونے والے بریک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی ’ہنگامی صورتحال کی وضاحت‘ بھی وفاق ہی کو کرنی ہے۔ شرپسند عناصر اور بناء تحقیق افواہوں کو آگے پھیلانے (شیئر کرنے والے) ایسے مواقعوں کا فائدہ اٹھا کر انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تو حکومت کی جانب سے برق رفتار ’ذرائع ابلاغ‘ کے جملہ وسائل سے بھرپور اِستفادہ ہونا چاہئے۔
بجلی کی کمی سے پاکستان میں معمولات زندگی اُور بالخصوص کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اِس سلسلے میں صرف ایک مثال سے پوری صورتحال کو سمجھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بجلی بحران اُن صنعتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے جو روزگار کی فراہمی اُور پاکستانی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی جیسی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ ’’آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن‘‘ کے رہنماؤں نے ہنگامی پریس کانفرنس میں ماہ رمضان المبارک کے دوران صنعتوں کے لئے جاری کئے گئے بجلی اُور گیس کی فراہمی کے اُوقات کار (شیڈول) بارے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ ۔۔۔ ’’اگر صنعتوں کے لئے روزانہ دس گھنٹے بجلی بند ہوئی اور ہفتے میں صرف دو روز گیس فراہم کی گئی تو اِس سے ’’10لاکھ افراد‘‘ بے روزگار ہو جائیں گے۔‘‘ 

کون نہیں جانتا کہ ’وافر مقدار‘ میں بجلی و گیس کی فراہمی صنعتوں کی فعالیت (باالفاظ دیگر بے روزگاری میں کمی) کے لئے ضروری ہے لیکن پاکستان نہ تو بجلی و گیس کی اپنی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ کر سکا ہے اور نہ ہی ہمسایہ ملک جمہوری اسلامی ایران سے بجلی اور گیس حاصل کی گئی‘ جبکہ حالات موافق تھے اور ایران پر عالمی اقتصادی پابندیاں قدرے نرم (لچکدار) تھیں! فیصلہ سازوں کے ’تجاہل عارفانہ‘ کی بدولت بجلی میں کمی اُور توانائی کا بحران شدت اِختیار کر کے اُس انتہاء کو پہنچ چکا ہے کہ جہاں اب حکومتوں کا بننا اُور مٹنا (عام انتخابات کے نتائج) اِس سے جڑ گئے ہیں۔ ’سال دوہزارتیرہ‘ کا عام انتخاب ’’لوڈشیڈنگ خاتمے‘‘ کے نعرے پر لڑا گیا اور بجلی کی طلب اور رسد میں فرق صفر پر لانے‘ پیداواری لاگت میں کمی (سستی بجلی)‘ ترسیل اُور تقسیم کے عمل میں ہونے والے نقصانات‘ بجلی چوری کم کرنے جیسے بلند بانگ دعوے کئے گئے۔ اقتدار میں آنے کے بعد نواز لیگ کی قیادت نے متعدد مواقعوں پر ملک میں وافر بجلی موجود ہونے کی نوید بھی سنائی لیکن ایک طرف طلب سے زائد (سرپلس) بجلی کی پیداوار کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو دوسری طرف رمضان المبارک میں صنعتوں کے لئے بجلی اور گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے‘ جو کہ حکومتی دعوؤں کی سراسر نفی اور قول و فعل کا ’’کھلا تضاد‘‘ ہے۔ 
رستہ مرا تضاد کی تصویر ہو گیا
دریا بھی بہہ رہا تھا‘ جہاں پر تضاد تھا (یاسمین حمید)۔
۔۔۔

Friday, June 2, 2017

Jun2017: Fruit boycott - Social Media Drive!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مہنگائی کا علاج!
’سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) کے ذریعے ملک گیر سطح پر تین روزہ مہم آج (دو جون) سے شروع ہو رہی ہے‘ جس کا عام فہم بنیادی خیال (مطالبہ) یہ ہے کہ ’’تین دن پھل (فروٹ) نہ خریدے جائیں۔‘‘ 

مہنگائی کی ’حوصلہ شکنی‘ کرنے کے لئے اپنی نوعیت کی اِس منفرد (انوکھی) مہم کا تصور کراچی سے شروع ہوا‘ جہاں ماہ رمضان المبارک کے دوران پھل و سبزی کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن مہنگائی کا یہ رجحان صرف کراچی کی حد تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اِس میں ملک کے دیگر حصوں بشمول خیبرپختونخوا سے ’سوشل میڈیا فعالیت پسند (ایکٹوسٹ) بھی احتجاجی تحریک‘ کا حصہ بن گئے ہیں اور مرکزی شہری و دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اِن سوشل میڈیا صارفین کے پیغامات اور بڑھتی ہوئی حمایت (عزم) سے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ ’پاکستان کی تاریخ کی یہ پہلی ہڑتال (بائیکاٹ) اگر سوفیصد کامیاب نہ بھی ہو لیکن اِس کے مثبت اثرات ضرور ظاہر ہوں گے۔ سوفیصد کامیابی نہ ہونے وجہ اِس تحریک سے کسی کا اختلاف نہیں بلکہ پھل و سبزی کے تمام خریداروں کا ’سوشل میڈیا‘ سے منسلک نہ ہونا ہے۔ اِس سلسلے میں نجی ٹیلی ویژن چینلز اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز (الیکٹرانک میڈیا) کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے جہاں سردست قومی سیاست سے متعلق موضوعات رواں ہفتے بھی حاوی دکھائی و سنائی دے رہے ہیں اور جب سے ’پانامہ کیس‘ کے سلسلے میں وزیراعظم کے صاحبزادوں کو تحقیقاتی کمیشن نے طلب کیا ہے تب سے ’فوکس‘ وہ مقدمہ بن گیا ہے‘ جس کا فیصلہ آنے تک قوم کو صبر کرنا چاہئے اور اگر مگر سے شروع ہونے والی خبروں اور تبصروں پر کان دھرنے کی بجائے اُن امور کی جانب توجہات مبذول کرنی چاہیءں‘ جن سے وہ ’لٹ‘ رہے ہیں اور ناجائز منافع خور ملک کی ابتر سیاسی حالات (غیریقینی) کا مسلسل فائدہ اُٹھا رہے ہیں!

صرف تین روز پھل نہ خریدنے سے کیا ہوگا؟ پورا سال مہنگائی کی منصوبہ بندی اور مارکیٹ (اجناس کی طلب و رسد) کنٹرول کرنے والوں (اڑھتیوں) کا تجربہ دہائیوں پر محیط ہے اور وہ پھلوں کی ’شیلف لائف (عمر)‘ بڑھانے کے لئے ادویات اور سردخانوں کا استعمال بھی کرتے ہیں‘ چونکہ تین روزہ مہم اعلان کرکے شروع کی گئی ہے‘ اِس عرصے میں سردخانوں اور ذخیروں سے مارکیٹ میں پھل مارکیٹ میں نہیں لائے جائیں گے اور سارے کا سارا نقصان چھوٹے پیمانے پر پھل فروش ہتھ ریڑھی بانوں اور دکانداروں کا برداشت کرنا ہوگا۔ عوام چاہے جتنے بھی متحد اور باشعور ہو جائیں اُور چاہے سوشل میڈیا کے ذریعے طوفان در طوفان بھی برپا کر دے لیکن جب تک ضلعی انتظامیہ (کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ محکمۂ فوڈ‘ انسداد بدعنوانی وغیرہ) کے دفاتر و محکمے (عوام کے حق میں) فعال نہیں ہوں گے‘ جب تک منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور ایوان بالا کے اراکین عوام کے شانہ بشانہ کھڑے نہیں ہوں گے‘ اُس وقت تک مہنگائی کے خلاف ایسی کوئی بھی مہم خاطرخواہ انداز میں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی۔ 

آخر کوئی یہ سوال کیوں نہیں اُٹھا رہا کہ مہنگائی کے معلوم اسباب (مصنوعی قلت کے ذریعے طلب و رسد میں فرق پیدا کرنے کے ذمہ دار) معلوم ہونے کے باوجود بھی یہ کردار قانون کی گرفت میں نہیں لائے جا رہے؟ عام آدمی (ہم عوام) کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ہر سال ماہ رمضان اور مہنگائی کے آپسی تعلق کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ 

سوشل میڈیا کے ذریعے صارفین کے حقوق کی تحریک کو پلیٹ فارم (پھلنے پھولنے کا وسیلہ) ضرور ملا ہے لیکن اِس کی وساطت سے ملنے والی کامیابی کا حجم اگرچہ کم لیکن نہ ہونے سے بہتر ثابت ہوگا۔ سوشل میڈیا نے ایک سوچ دی ہے‘ ایک سمت معین کرکے گویا پورے پاکستان کو متحد کردیا ہے اور سارا سال ماہ رمضان المبارک کا انتظار کرنے والے ’ناجائز منافع خوروں‘ کے خلاف اگر عوامی سطح پر اتحاد ہو سکتا ہے اور یہ تین روزہ ہڑتال کسی بھی درجے کامیاب ہو جاتی ہے تو اِس سے دیگر شعبوں میں فیصلہ سازی اور بالخصوص صارفین کے حقوق کی ذیل میں ایسی نمایاں کامیابیاں حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا‘ جن کا تعلق کم و بیش سبھی اجناس کی قیمتوں اور معیار سے ہے۔ 

باعث خیروبرکت ہے کہ بالآخر عام آدمی (ہم عوام) نے متحد ہونے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو عین ممکن ہے کہ سوشل میڈیا کا اگلا نشانہ انتہاء پسندی‘ فروعی اختلافات کو ہوا دینے اور مذہبی یا نسلی لسانی بنیادوں پر منافرت پھیلانے والے ہوں جو داخلی طور پر ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔

Monday, May 29, 2017

TRANSLATION: Has Poplazai been vindicated this time? by Rahimullah Yusufzai


Moon-sighting: Has Poplazai been vindicated this time

رویت ہلال: اصولی مؤقف!
ستائیس مئی کی شام غروب آفتاب کے ساتھ ہی ماہ رمضان المبارک کا ’روشن اور واضح‘ چاند آسمان میں نمایاں طور پر دکھائی دے رہا تھا جسے دیکھ کر خیبرپختونخوا میں اُن تمام لوگوں نے اطمینان محسوس کیا جنہوں نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی اعلان سے ایک روز قبل قدرے ہکچاہٹ میں روزہ رکھا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کی شام مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان میں کہیں بھی نئے اسلامی مہینے کا چاند دکھائی نہیں دیا‘ اِس لئے پہلا روزہ بروز اتوار اٹھائیس مئی کو ہوگا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا یہ فیصلہ ہفتہ کی شام نمودار ہونے والے چاند کو دیکھتے ہوئے غلط محسوس ہوا کیونکہ چاند کی عمر ایک دن سے زیادہ دکھائی دے رہی تھی اور یقیناًایسی صورت میں ممکن تھا کہ چھبیس مئی (جمعہ) کی شام بھی تیز نظر اور دلچسپی رکھنے والے چاند کی رویت کر لیتے۔ 



روایت رہی ہے کہ غیرسرکاری ’رویت ہلال کمیٹی‘ کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی ہر سال پشاور کی مسجد قاسم علی خان میں ’چاند دیکھنے کے لئے کمیٹی‘ کا اجلاس طلب کرتے ہیں اور ستائیس مئی کو یکم رمضان المبارک کا تعین کرنے کے فیصلے پر مہر تصدیق ہفتے کی شام نمودار ہونے والے ’چمکتے دمکتے‘ چاند نے ثبت کر دی۔ مذکورہ غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر آنے کا فیصلہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے تن تنہا نہیں کیا بلکہ معتبر علماء پر مشتمل ایک جماعت نے شہادتوں کی جانچ پڑتال کے شرعی اصولوں اور تسلی بخش تصدیق کے بعد رمضان کے چاند نظر آنے پر اتفاق رائے کیا۔ یقینی طور پر یہ ایک غیرمعمولی اور حساس مذہبی ذمہ داری ہے اور یہ فیصلہ کسی بھی صورت آسانی سے نہیں کیا ہوگا بالخصوص ایک ایسی صورتحال میں جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر نہ آنے کا اعلان جلدی میں کر دیا گیا۔ 

حسب معمول مفتی منیب الرحمن اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اُن کے ساتھیوں پر مشتمل ’سرکاری رویت ہلال کمیٹی‘ نے خیبرپختونخوا سے چاند نظر آنے کی شہادتوں کا انتظار کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ حتی کہ سرکاری حیثیت رکھنے والی ’زونل رویت ہلال کمیٹی‘ کا اجلاس جو کہ پشاور میں ہوا‘ اُنہوں نے بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو اُن 12 افراد کی شہادتوں سے مطلع نہیں کیا جو اُن کے روبرو چھبیس مئی (بروز جمعہ) کی شام پیش ہوئے تھے۔ درحقیقت خیبرپختونخوا کی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد ہی نہیں کرتی اور اِن کے مقابلے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی قیادت میں غیرسرکاری اور غیرقانونی طور پر کام کرنے والی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ اِس غیرسرکاری کمیٹی سے خیبرپختونخوا و متصل قبائلی علاقہ جات کے قریب سبھی علاقوں سے علماء اور عام لوگ رابطہ کرتے ہیں اور اپنے اپنے علاقے میں چاند کے نظر آنے کی شہادتیں پیش کرتے ہیں جو شرعی طور پر نئے اسلامی مہینے کے چاند دکھائی دینے کے طریقۂ کار کا حصہ ہے۔ اگر کمیٹی کے اراکین کو تسلی ہو جائے کہ شہادت مصدقہ اور ٹھوس ہے تو وہ بخوشی رمضان المبارک یا شوال المکرم کا چاند نظر آنے کا اعلان کر دیتے ہیں جو بعدازاں گاؤں گاؤں مساجد کے لاؤڈاسپیکرز اور دیگر ذرائع سے پہنچ جاتا ہے۔



اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور اُن کی کمیٹی کی جانب سے نئے اسلامی مہینے کے چاند نظر آنے یا نہ آنے کے اعلان پر پورے خیبرپختونخوا اور قبائلی میں عمل درآمد نہیں کیا جاتا اور بالخصوص ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں رہنے والوں کی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر اعتماد کرتی ہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کی بڑی تعداد کو ’مفتی شہاب الدین پوپلزئی‘ کے اعلان کا انتظار ہوتا ہے اور نظریں مسجد قاسم علی خان پر لگی رہتی ہیں۔ 

نئے اسلامی مہینے کے چاند نظر آنے یا نہ آنے کے معاملے پر افراق و تفریق اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وفاقی حکومت رویت ہلال کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کو کسی ایسے فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر رضامند نہیں کر لیتی جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے بارے میں یہ منفی تاثر بھی زائل ہوا ہے کہ اُن پر غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد نہ کرنے کے لئے حکومتی دباؤ ہے اور اِس قسم کی اطلاعات بھی زیرگردش رہیں کہ کسی سمجھوتے کے تحت وہ اس سال مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے برخلاف اعلان نہیں کریں گے۔ 

رویت ہلال کے غیرسرکاری اعلان سے اُن تمام افراد کو مایوسی ہوئی جن کی خواہش تھی کہ ملک بھر میں ماہ رمضان المبارک ایک ہی دن شروع ہوتا۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اتوار کی بجائے ہفتے کے روز ’رمضان المبارک‘ کے آغازکو درست اقدام سمجھتا ہے کیونکہ ہفتہ کی شام نمودار ہونے والا روشن اور واضح چاند کسی بھی طرح ایک دن سے زیادہ عمر کا تھا اور اِسی بنیاد پر اُن کی یہ منطقی دلیل بھی سامنے آئی کہ پاکستان بھر ماہ رمضان المبارک کا آغاز ’ہفتہ‘ کے دن ہونا چاہئے تھا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, July 10, 2015

Jul2015: Quds Day

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
یوم قدس: مسلمان کدھر جائے!؟
دنیا بھر کے ’روزہ دار مسلمانوں‘ نے بناء کسی تفریق رنگ و نسل اور عقائد کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ’عالمی یوم القدس‘ بھرپور جوش و خروش سے منایا اور اِس موقع پر مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی اور صیہونی حکومت کے خلاف اپنی نفرت کے اظہار میں جس اخلاص پر مبنی ’اتحادواتفاق‘ کا شاندار مظاہرہ کیاگیا‘ اگر وہ اخلاص برقرار رہتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ’اتحاد بین المسلمین‘ جیسا ہدف حاصل ہونے کے ساتھ اِسلام دشمن طاقتوں بالخصوص اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والی ’اَمریکی و برطانوی لابی‘ کے دانت کھٹے کر دیئے جائیں۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی عالمی نام نہاد طاقتوں کو یقیناًیہ پیغام مل چکا ہے کہ انہیں فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وجبر ختم کرنا ہوگا بصورت دیگر اُن کایہ عمل مسلم امہ کو اس طرح یک جان کر دے گا‘ کہ اس تحریک کو پھر پٹھو حکمران کے ذریعے نہ تو دبایا اُور نہ کچلا جا سکے گا۔ کاش ذوالفقار علی بھٹو‘ شاہ فیصل اور امام خمینی جیسے خیرخواہوں کی قیادت مسلم اُمہ کو پھر سے میسر آ جائے!

مسلم دنیا کو ’’مرگ بر امریکہ اُور مرگ بر اسرائیل‘‘ جیسی مدبرانہ سوچ دینے والے بانی انقلاب اسلامی ایران امام خمینی نے رمضان المبارک کے ہر آخری جمعے کو عالمی یوم القدس کا نام دیا اور اِس مرتبہ چونکہ آخری جمعہ پاکستان میں اُنتیس اور بیشتر ممالک میں یکم شوال کو ہوگا‘ اِس لئے رہبر اسلامی ایران سیّد علی خامنہ آئی نے ’عالمی یوم قدس‘ ایک ہفتہ قبل یعنی دس جولائی کو منانے کا اعلان کیا جس پر پوری دنیا میں لبیک کہا گیا۔

اللہ تعالیٰ کی توحید اور آخری پیغمبر کی رسالت پر یقین رکھنے والا اگر کسی دوسرے ’کلمہ گو‘ پر ہونے والے ظلم و زیادتی پر خاموش رہتا ہے تو اِس عمل کو ایک حدیث پاک کے مفہوم میں دعائیں قبول نہ ہونے کی راہ میں حائل رکاوٹ قراردیا گیا ہے لہٰذا ’یوم قدس‘ کو کسی ایک ملک کی ایجاد نہیں بلکہ یہ ہر ایک مسلمان اور کلمہ گو کی آواز ہونی چاہئے۔ ’’اِس بات کو اب فاش کر اے روح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): آیات الٰہی کا نگہباں کدھر جائے؟ (علامہ اقبالؒ )‘‘۔۔۔ یہ بات ہمارے اِیمان کا حصہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے اِسلامی بھائی کے دکھ درد اور مشکلات میں اُس کی مدد کرے۔ ہمارے سامنے ہجرت مدینہ کے موقع پر ’مؤاخات‘ کی مثالیں موجود ہیں کہ کس طرح مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو بن گئے! کیا اسلامی تاریخ میں ہمارے لئے تفکر کے ابواب موجود نہیں؟ کیا ہمیں اپنی ہی تاریخ پر غور و خوض نہیں کرنا چاہئے؟ اگر فلسطین کے مسلمانوں کو اِس مرحلے پر تنہا چھوڑ دیا گیا تو اسلام دشمن طاقتیں عرب دنیا اور بعدازاں مسلمانوں کی اکثریت والے ممالک کو حیلوں بہانوں سے یکے بعد دیگرے ظلم وستم کا نشانہ بنائیں گے اُور ایک خدا و ایک رسول کو ماننے والوں پر ’عرصۂ حیات‘ تنگ کردیا جائے گا! دنیا کی نظروں میں اگر پاکستان کی جوہری صلاحیت اور ایران کے جوہری عزائم کھٹک رہے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ ’غاصب اسرائیل‘ کے دفاع کے علاؤہ کچھ نہیں۔یوم القدس ’سوچ اُور عمل کی ترغیب‘ کا دوسرا نام ہے کہ ماننے والوں کو اسلام کے جسد واحد سے منسلک ہر ایک عضو کی حفاظت کے لئے کیا تدابیر اختیار کرنی چاہیءں۔ یاد رہے کہ ’روز جہانی قدس‘ کا آغاز 1979ء میں انقلاب جمہوری اسلامی ایران کی کامیابی کے ساتھ ہی کیا گیا‘ جو تاحال ہرسال باقاعدگی سے منایا جاتاہے۔

یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ ’یوم القدس‘ غاصبوں کے لئے ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو چکا ہے۔ رواں سال بھی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا‘ جسے صرف مغرب ہی نہیں بلکہ ہمارے ہاں کے خود فریب‘ مغرب نواز ذرائع ابلاغ نے زیادہ توجہ اُور اہمیت نہیں دی‘ تو اِس کی وجہ اور پس پردہ محرک منطقی ہے۔ عالمی یوم القدس نامی تحریک کے جلوسوں کے لئے نعرے کا انتخاب ’’علاقائی صورتحال اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش حالات‘‘ کے مد نظر کیا گیا۔ فیصلہ ہوا کہ رواں برس ’’عالمی یوم القدس‘ فلسطینی اہداف کا مظہر‘ ماڈرن (یک طرفہ جدیدیت کی دلدادہ) جاہلیت اور غزہ سے یمن و کشمیر تک بچوں کے قتل عام کے خلاف ملت اسلامیہ کے اتحاد کی آواز‘‘ کے نعرے لگائے گئے جن سے اسلام دشمنوں کے مظالم کے بارے میں بیداری عام کی گئی۔ پرجوش ’یوم القدس‘ سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اسلامی ممالک کے عوام کی اکثریت امریکہ اور صیہونی حکومت کو ہی اپنا مشترکہ دشمن سمجھتی ہے اور عراق‘ شام‘ یمن و کشمیر سمیت بعض اسلامی ممالک کے المناک حالات اسے اسلامی دنیا کے سب سے اہم مسئلے اور عالم اسلام کی ترجیح یعنی مسئلہ فلسطین سے غافل نہیں کر سکے اور نہ کبھی غافل کر سکیں گے!

عالمی یوم القدس فلسطینیوں کی حد تک ہی مختص نہیں اُور نہ ہی اسے محدود کر کے پیش کیا جانا چاہئے بلکہ اِس اہم دن کا تعلق ساری اسلامی دنیا سے ہے اور اسلام کے دشمن اور بالخصوص صیہونی اسی بات سے ہراساں ہیں کہ قدس کہیں مسلم امہ کے اتحاد کی تحریک ہی نہ بن جائے! بانی انقلاب اسلامی نے بیت المقدس کو اس وجہ سے اہمیت دی تھی کہ ’’بیت المقدس اور فلسطین ملت اسلامیہ کی طاقت کا سرچشمہ ہیں‘‘ اُور یہ دن صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے جملہ حریت پسندوں کی جانب سے ظلم اور ناانصافی کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔ اگر ’یوم القدس‘ کی روح کو سمجھ لیا جاتا ہے تو فلسطین کی مظلوم قوم اور دوسری مظلوم اقوام کی حمایت سے متعلق تحریک نہ صرف ’نتیجہ خیز‘ ثابت ہوگی بلکہ انشاء اللہ عزوجل مظلوم فلسطینی آزادی کی نعمت سے بھی ہمکنار ہوں گے۔

 سوچئے کہ اگر اسلام دشمن طاقتیں اسرائیل کی پشت پناہی کے لئے اعلانیہ و غیراعلانیہ طور پر متحد ہوسکتی ہیں تو مسلم اُمہ کو کس بات‘ کس مجبوری اور کس مصلحت نے ’اتحاد واتفاق‘ سے روک رکھا ہے؟ ’’جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دل۔۔۔تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقد دشوار۔ ترکان جفا پیشہ کے پنجے سے نکل کر۔۔۔بے چارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار! (علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ) ‘‘

Sunday, June 28, 2015

Jun2015: VIP culture & the verdict!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قومی راز!
پاکستان میں آمدنی پر محصول (ٹیکس) اَدا کرنے والوں کی اکثریت اُن ملازمین پر مشتمل ہے جن کی ماہانہ تنخواہوں سے ’ایٹ سورس‘ ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے اُور اُن کے پاس اِس ٹیکس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو حسب آمدن ٹیکس ادا نہیں کرتا اور وفاقی وزارت خزانہ (ایف بی آر) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق ’’بیس کروڑ آبادی کے پاکستان میں صرف 0.5فیصد لوگ اِنکم ٹیکس اَدا کرتے ہیں۔‘‘ اگرچہ ’ایف بی آر‘ نے خطے کے دیگر ممالک میں انکم ٹیکس ادا کرنے کی شرح کا ذکر نہیں کیا لیکن اگر بھارت پر نظر کی جائے تو وہاں دو سے تین فیصد جبکہ چین کی کل آبادی کا 20فیصد اپنے حصے کا انکم ٹیکس ادا کرتا ہے۔ عجب ہے کہ پاکستان کے 1070 قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین میں سے نصف تعداد ایسی ہے جن کا ادا کردہ انکم ٹیکس درجۂ چہارم کے ملازمین سے بھی کم ہوتا ہے لیکن اُن کی ٹھاٹھ باٹھ اور شاہانہ رہن سہن کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسی صورت میں جبکہ مسلط طبقات قومی وسائل کو ذاتی اثاثوں میں منتقل کرنے اور اپنی مشتبہ آمدنی کے وسائل پر ’انکم ٹیکس‘ ادا نہ کرنے کا رجحان رکھتے ہیں‘ عام آدمی کا اِس پورے نظام پر اعتماد نہیں رہا جسے بحال کرنے کی ایک کوشش اگرچہ پوری طرح کامیاب نہیں ہوئی لیکن ’سپرئم کورٹ‘ کی جانب سے ایک مثبت بات سامنے آئی ہے کہ ’’وزیراعظم ہاؤس‘ ایوان صدر‘ گورنروں کی سرکاری رہائشگاہوں‘ اِن سے وابستہ افراد (ملازمین و مشیروں) کے اخراجات اور عوام کے پیسوں پر حکومتی اہلکاروں کی مراعات سے متعلق تفصیلات اب خفیہ نہیں رکھی جا سکیں گی اور انہیں حکومتی پالیسی کا حصہ و سیاسی معاملہ قرار دے دیا گیا ہے۔‘‘ جسٹس عظمت سعید نے فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’سپرئم کورٹ عام طور پر ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی لیکن سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں۔‘‘ افسوسناک ہے کہ پاکستان لائرز فورم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے درخواست گزار کے دلائل چاہیں کتنے ہی وزن دار (منطقی) کیوں نہ ہوں‘ عدالت خود کو اس معاملے میں ملوث نہیں کرسکتی! یاد رہے کہ ’ستائیس نومبر دو ہزار دو‘ کو بھی لاہور ہائی کورٹ نے اسی طرح کی ایک درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ اکتیس مارچ دو ہزار پندرہ کو دیئے گئے مختصر فیصلے میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس مشیر عالم بھی شامل تھے‘ جنہوں نے اہلیت پر نہ ہونے کی بنیاد پر درخواست کو مسترد (واپس) کیا تھا۔ درخواست گزار کی طرف سے پیش ہونے والے ’اے کے ڈوگر‘ نے مؤقف اختیار کیا کہ ’’سرکاری اہلکاروں کو مہنگی گاڑیوں‘ بڑے بڑے گھر اور دیگر سہولیات کے ذریعے پرتعیش طرز زندگی فراہم کرنا نہ صرف غیر اسلامی اور غیر آئینی ہے بلکہ یہ پاکستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ ریاست کے تمام اثاثے‘ فنڈز اور جائیداد (پراپرٹی) پاکستان کی عوام کے مفاد کے لئے ہیں‘ سرکاری اہلکاروں کے لئے نہیں‘ انہیں یہ سب صرف اس لئے سپرد کیا جاتا ہے کہ وہ عوام کو فائدہ پہنچائیں!‘‘ سماعت کے دوران کونسل کا مؤقف تھا کہ سرکاری حکام پر خرچ ہونے والی رقم کو عوام کے مفاد میں استعمال میں ہونی چاہئے۔ ان کے مطابق سرکاری حکام اور پاکستان کے ایک عام آدمی کے لائف اسٹائل میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے جو کہ امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور اس سے عام آدمی کی عزت نفس بھی متاثر ہوتی ہے۔

 چھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں سپرئم کورٹ نے اعتراف کیا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عوامی پراپرٹی پبلک ٹرسٹ ہے جو سرکاری حکام کے ہاتھ میں ہے تاہم عدالت نے کہا کہ سرکاری حکام کو مراعات دینے کا معاملہ حکومتی پالیسی کا حصہ ہے اور عدالت عام طور پر اس میں مداخلت نہیں کرتی۔ جب تک ہم اِس بات کا فیصلہ نہیں کر لیتے کہ سرکاری وسائل ایک امانت ہیں اور اُن سے بطور حکمراں استفادہ کرنے والوں کو دیانت کا مظاہرہ کرنا چاہئے اُس وقت تک انکم ٹیکس کے نظام سمیت سرکاری اداروں کی خدمات کے شعبے میں بہتری نہیں آئے گی۔ اب اگر سوال یہ ہے کہ صادق و امین قیادت کہاں سے آئے گی تو اس کے لئے ’الیکشن کمیشن‘ کے قواعد واضح ہیں‘ جس میں انتخابی اُمیدواروں کی اہلیت کی کڑی شرائط موجود ہیں لیکن اُن پر خاطرخواہ عمل درآمد نہیں کیا جاتا! اگر سپرئم کورٹ جیسا معزز ادارہ ’صداقت و امانت‘ کی وضاحت کرنے میں مصلحت کا شکار ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ خود بھی مراعات یافتہ طبقات میں شامل ہے لیکن اگر اُمید کی کوئی ایک کرن ہے تو ’الیکشن کمیشن‘ کی خودمختاری یقینی بنانے کے لئے پاکستان تحریک انصاف اپنی ہم خیال سول سوسائٹی کے ذریعے جدوجہد کرے تو اِس کے زیادہ مفید نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

پس تحریر: خالصتاً رضائے الٰہی کے لئے بھوک و پیاس کی شدت کے باوجود ’صبر و استقامت‘ اختیار کرنے کا نام ’روزہ‘ ہے‘ جسے شعوری‘ فکری اُور عملی طور پر اختیار کرنے کے الگ الگ تقاضے ہیں۔ روزے کا ایک مقصد اُن لوگوں کی بھوک پیاس اور محرومیوں کا احساس بھی کرنا ہے جو محض مالی وسائل نہ ہونے کے سبب کھانے پینے جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں لیکن عمومی طور پر مشاہدہ یہی ہے کہ سب سے زیادہ اشیائے خوردونوش ماہ رمضان کے دوران ضائع ہوتی ہیں۔ دو روز متواتر گھر سے باہر افطاری کا موقع ملا تو دسترخوان پر ہر اُس نعمت کو موجود پایا جس کے بارے میں تصور ممکن تھا۔ انواع و اقسام کے ذائقے اور لذت کا بطور خاص اہتمام اس بات کا ثبوت تھا کہ میزبان کی مالی حیثیت کسی بھی طرح معمولی نہیں تھی لیکن یہی سب کچھ بہت سادگی اور ایک تہائی سے بھی کم اخراجات میں ممکن تھا۔

اسلامی عبادات کا مقصد اجتماعیت اور اجتماعیت کا حاصل سماج سے اجنبیت کا نام ونشان ختم کرنا ہے لیکن ہم نہ تو ’اجنبیوں‘ کو اپنے دسترخوان (مائدہ) کے قریب آنے دیتے ہیں اور نہ ہی رب تعالیٰ کے فضل سے حاصل کردہ نعمتوں کو مل بانٹنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ فطرانہ ادا کرتے ہوئے بھی کم سے کم شرح معلوم کرنے کوشش کرتے ہیں اور پھر اُسی محترم کی تقلید کرتے ہیں جو دوسروں کے مقابلے سب سے کم فطرانہ مقرر کرے۔ وسیع القلبی کے ساتھ عبادات کی روح پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ اطمینان اور خوشحالی کے لئے ہر کس و ناکس سرگرداں ہے اور بھٹکتا ہی رہے گا جب تک کہ ’حئی علی الفلاح‘ میں پنہاں مفہوم کو سمجھ نہیں لیا جاتا! ’’یہ مال و دولتِ دنیا یہ رشتہ پیوند۔۔۔بتان وہم و گماں‘ لا الہ الا اللہ!‘‘

Thursday, June 25, 2015

Jun2015: Anger as tool of reform the governance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
رمضان اُور غصہ
پوری قوم جلالی ہے۔ کسی کے پاس وقت نہیں لیکن اگر پوچھو کہ کیا کام ہے تو یہی کام بتایا جائے گا کہ کوئی کام نہیں! اس پر عجب یہ کہ ہر کسی کے ناک پر غصہ دھرا دکھائی دیتا ہے۔ قیمتی گاڑی میں بیٹھے ہوئے شخص کے ماتھے پر سلوٹیں دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے جبکہ کوئی سواری ملنے کے انتظار میں کھڑے لوگ خود اپنا ہی بوجھ اُٹھانے سے قاصر ہونے کے باعث اگر نہ مسکرائیں تو وجہ سمجھ میں آتی ہے لیکن جو ایک بات وثوق سے مختلف نظر آتی ہے وہ ماہ رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں تو ہر کس و ناکس کا ’غصہ‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں آخر اس قدر غصہ آتا کیوں ہے؟ طبی نکتۂ نظر سے چائے‘ کافی‘ مشروبات‘ سگریٹ‘ نسوار‘ پان‘ چھالیہ وغیرہ کے عادی افراد جب کھانا پینا اور چبانا ترک کرتے ہیں تو اُن کے مزاج و بول چال پر چڑچڑا پن حاوی ہو جاتا ہے جبکہ یہی روزہ ایسے افراد کے مزاج میں تحمل کو نمایاں کر دیتا ہے‘ جو سال کے باقی گیارہ ماہ اسلامی تعلیمات کا انتخاب جزوی نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کے لئے کلی طور پر کرتے ہیں۔

سمجھ لیجئے کہ ’غصہ ایک فطری عمل اور ہیجانات کی ایک قسم ہے جو اگر ایک حد میں ہو تو نقصان نہیں لیکن حد سے بڑھ جائے تو دین اور دنیا کے لئے خسارے کا باعث بن جاتا ہے لیکن غصہ پر قابو بھی تو پایا جاسکتا ہے‘ اسے ’ضبط‘ بھی کیا جاسکتا ہے اُور بہادر وہی کہلاتا ہے جو غصے کی حالت میں دوسرے کو درگزر کردے۔ اس عمل کے بارے میں خالق کائنات نے پسندیدگی کا اظہار بھی فرمایا ہے۔ کتب احادیث (بخاری‘ ترمذی‘ موطا امام مالک) میں درج ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُن ایک ساتھی (صحابی) نے عرض کیا:(ترجمہ): ’’کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے‘‘ تو سرور کونین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ’’غصہ مت کیا کرو‘‘ انہوں نے تین مرتبہ یہی سوال کیا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر بار یہی جواب ارشاد فرمایا کہ ’’غصہ مت کیا کرو۔‘‘ غصے (اشتعال) میں لڑائی جھگڑے سے بچنے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ جب کسی شخص کو غصہ آرہا ہو اور اندیشہ ہو کہ وہ آپے سے باہر ہوکر کوئی خلاف شریعت فعل کر بیٹھے گا یا کسی کے حق میں زیادتی کا مرتکب ہو گا یا مارپیٹ (فساد) تک نوبت جا پہنچے گی تو ایسے وقت میں ’درود شریف‘ پڑھ لینا چاہئے۔ عرب کے لوگوں میں آج تک یہ روایت چلی آرہی ہے کہ جہاں کہیں دو آدمیوں میں تکرار اور لڑائی کی نوبت آتی ہے تو اُن میں کوئی ایک یا کوئی تیسرا شخص باآواز بلند کہتا ہے کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو۔‘‘ اس کے جواب میں وہ خود ہی بلند آواز میں درودشریف پڑھنا شروع کردیتا ہے اور اُسی وقت غصہ تحلیل ہو کر ’عقل بحال‘ ہو جاتی ہے!

سوال یہ بھی ہے کہ آخر ہمیں غصہ ایسی باتوں پر کیوں نہیں آتا جو ظلم و زیادتی پر مبنی ہیں؟ مثال کے طور پر دودھ میں پانی کی ملاوٹ عام ہو چکی ہے۔ ہم ملاوٹ شدہ بہت سی اشیاء خریدتے ہیں اور کبھی بھی اِس بات پر غصے کا اظہار نہیں کرتے کہ ہماری جان ومال سے کھیلنے والوں کو کیوں من مانی کرنے کی چھوٹ دی گئی ہے؟ رمضان سمیت خاص ایام کے مواقعوں پر اشیائے خوردونوش کی مصنوعی قلت کے باعث مہنگائی کر دی جاتی ہے لیکن ہم اِس پر بھی خاموش رہتے ہیں اُور معاشرے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کی حرص و طمع کا نشانہ بنتے ہیں؟ سیاسی شخصیات آمدورفت یا اپنی رہائش گاہوں کے آس پاس شاہراہ عام بند کر دیتے ہیں لیکن ہمیں اِس پر غصہ نہیں آتا۔ ہمارے دیکھا دیکھی‘ بناء محنت یا کاروبار بدعنوانی کے ذریعے لوگ راتوں رات امیر بن جاتے ہیں لیکن ہمیں ایسے نام نہاد رہنماؤں پر غصہ نہیں آتا۔ سیاسی جماعتیں وعدے کرتی ہیں جنہیں انتخابات کے بعد پورا نہیں کیا جاتا لیکن ووٹ ڈالتے ہوئے ہم غصے کے ذریعے احتساب نہیں کرتے آخر کیوں؟

 القصہ مختصر ایسے بہت سی محل موجود ہیں جہاں غصے کا اِظہار ہونا چاہئے اُور اگر کوئی بندۂ خدا ظلم و زیادتی پر ’ناپسندیدگی کا برملا‘ اظہار کرتا بھی ہے تو سب اُسے ’تعجب کی نظر‘ سے دیکھتے ہیں جیسا کہ وہ کوئی مکروہ فعل کا مرتکب ہو رہا ہو! مسئلہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تو ہم نے بحیثیت مجموعی ’غصے‘ کی کیفیت و اہمیت کو نہیں سمجھا کہ آخر اِسے کیوں انسانی طبیعت (مزاج) کا حصہ بنایا گیا ہے۔ دوسری ضرورت غصے پر قابو پانے اور اس سے تعمیری و مثبت انداز میں استفادے کی ہے تو اِس سلسلے میں خاطرخواہ رہنمائی موجود نہیں۔ ہمیں نہ تو نصاب اور نہ ہی مسجد و منبر سے غصے کے ’جائز‘ اظہار کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے۔

 غصے کے عملی تقاضوں کو اگر عوام و خواص نہیں سمجھ پا رہے تو اس کے لئے وہ قصور وار نہیں کیونکہ قدرت کی جانب سے عطا کردہ اُن تمام صلاحیتوں کا کماحقہ ادراک ہی نہیں رکھتے‘ جن سے ’اصلاح ذات و معاشرہ‘ ممکن ہے۔ ذرا سوچئے کہ سچ ہمیشہ دوسروں کے متعلق کیوں بولا جاتا ہے اور اکثریت غصہ بھی ہمیشہ دوسروں پر ہی کیوں اُتارتی ہے؟ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہم اپنی ذات میں پائی جانے والی خامیوں کے بارے میں حقیقت پسندی سے کام لیں اور دوسروں کو اپنے آپ سے بہتر سمجھیں؟ دوسروں کی غلطیاں اِس لئے کیوں معاف نہیں کرتے کہ ایسی ہی غلطیاں تو ہم سے بھی سرزد ہو سکتیں ہیں ہو چکی ہیں؟

 کیا یہ حق نہیں بنتا کہ کبھی کبھار میں اُور آپ اپنے آپ پر بھی غصہ کریں کہ کوئی ایسا کام جو ہمیں نہیں کرنا چاہئے تھا‘ لیکن چونکہ وہ ہم سے سرزد ہوگیا‘اِس لئے غصہ کرتے ہوئے خود سے عزم کریں کہ آئندہ وہ غلطی نہیں دہرائیں گے! تزکیۂ نفس ہو یا رہنمائی‘ اپنی ذات ہو یا اجتماعی مفاد‘ ہر لحاظ سے ماہ رمضان کی بابرکت ساعتیں شاندار موقع ہے۔ یہ فرصت‘ مصروفیت اُور مہلت غنیمت ہے‘ اِس سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔ ’غصے‘ کی کیفیت سے جڑی اچھائیوں‘ برائیوں اُور تقاضوں کو اگر شعوری طور پر سمجھ کر اُور اِن کے بجا‘ درست اور ’مفید عملی استعمال‘ کے لئے دانستہ کوششیں کی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اسی عمل سے ہماری زندگی و آخرت دونوں سنور جائیں!
Anger management for betterment