Showing posts with label Jerusalem. Show all posts
Showing posts with label Jerusalem. Show all posts

Friday, December 8, 2017

Dec 2017: Unity is the answer to the problems facing Ummah!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ مقصود کیا ہے!؟
چھ دسمبر کی یخ بستہ رات جب ہر طرف ’ہو کا عالم‘ تھا‘ تو پاکستان سمیت دنیا کی نظریں ’وائٹ ہاؤس‘ سے براہ راست نشریات پر ٹکی تھیں۔ قریب گیارہ منٹ جاری رہنے والی یہ نشریات پاکستانی وقت کے مطابق گیارہ بج کر پندرہ منٹ پر اختتام پذیر ہوئیں جس کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ پر ہنگامہ برپا ہو گیا کیونکہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اسرائیل کی تعریف میں کہتے اور جذبات کی رو میں بہتے چلے گئے! 

ٹرمپ نے کہا کہ ’’ماضی کے امریکی صدور میں ہمت نہیں تھی کہ وہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرتے لیکن بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘ ٹرمپ جس چیز کو ’’وقت آگیا ہے‘‘ کہہ رہے تھے‘ اُس سے صاف ظاہر تھا کہ اِس اعلان سے قبل انہوں نے مسلمان ممالک کی جانب سے ممکنہ مزاحمت (ردعمل) کا حساب کتاب لگا رکھا تھا اور تعجب خیز نہیں ہوگا اگر بعدازاں ثابت ہوا‘ کہ امریکہ امہ کی قیادت کرنے والے مسلمان حکمرانوں کو اعتماد میں لے چکے تھے کیونکہ بصورت دیگر کسی امریکہ صدر کی بھلا یہ جرأت ہو سکتی تھی کہ اسرائیلی مؤقف کی یوں حمایت کرتے ہوئے حکم صادر فرماتے! 

امریکی صدر نے اپنے متنازع فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کو تسلی بھی دی اور کہا کہ ’’یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لئے کاوشیں جاری رہیں گی۔‘‘ حالانکہ جب تک اسرائیل کا ’’ناجائز وجود‘‘ برقرار ہے‘ اُس وقت عرب خطے میں ’امن و سلامتی‘ کے قیام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اور امن کے لئے مسلمانوں‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔‘‘ امریکہ کو ’مشرق وسطی‘ سے زیادہ اپنے اور اسرائیل کے مستقبل کی فکر کرنی چاہئے کیونکہ قابض اسرائیل کی موجودگی میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ’مڈل ایسٹ‘ کا ’مستقبل‘ روشن ہو‘ یقیناًامریکہ کے صدر نے وہی کچھ کیا جو اُن کے بہترین مفاد میں ہے لیکن کیا یہی بات مسلمان ممالک کے سربراہان کے سامنے بھی زیرغور ہے کہ اُن کا ’بہترین مفاد‘ کس امر میں ہے؟ اِس پورے معاملے پر اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیم حماس کا فوری ردعمل لائق توجہ ہے کہ ’’امریکہ کے صدر نے جہنم کے دروازے کھول دیئے ہیں!‘‘ 

کیا یہ امریکی صدر کا بیان اور حماس کا ردعمل مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرے گا؟ ’’ہماری تہذیب کے مظاہر جمیل بھی تھے‘ جلیل بھی تھے: اگر تھے ابربہار اپنے قلم تو تیغ اصیل بھی تھے ۔۔۔ مگر بتدریج اپنی عظمت کے ان منازل سے ہٹ گئے ہم: بہت سے اوہام اور اباطیل کے گروہوں میں بٹ گئے ہم!‘‘

محاورہ ہے کہ ’وہ مکا جو لڑائی کے بعد یاد آئے تو اُسے اپنے منہ پر مارنا چاہئے۔‘ مسلمان ممالک کو پوری قوت کے ساتھ ردعمل کا مظاہرہ اُس وقت کرنا چاہئے تھا جب ’’8نومبر 1995ء‘‘ کو امریکہ کے قانون سازوں نے ’’یروشلیم ایمبیسی ایکٹ‘‘ نامی قانون منظور کیا تاہم اِس پر عمل درآمد کرنے کی کسی بھی امریکی صدر کو جرأت نہ ہوسکی اُور وہ اِسے ٹالتے رہے۔ ٹرمپ کے اعلان کے خلاف مسلم دنیا کا ردعمل ’’قابل دید‘‘ اُور ’’حاصل دید‘‘ ہے! 

پاکستان کی جانب سے امریکی صدر کے اعلان کے فوراً بعد فلسطین سے ’’اظہار یک جہتی‘‘کا بیان جاری کرنے پر اکتفا کافی نہیں۔ فلسطینی جماعت حماس نے ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف تین روزہ احتجاجی مہم کا اعلان کیا ہے جبکہ غزہ سمیت کئی شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ رات ہی سے شروع ہو چکا تھا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کیا۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرن امریکی فیصلے کو ’’افسوس ناک‘‘ کہا اور اعلان کیا کہ فرانس اس کی توثیق نہیں کرے گا۔‘‘ فلسطینی حکام کے علاؤہ ترکی‘ پاکستان‘ ایران سمیت مسلم دنیا کی جانب سے امریکہ کے ممکنہ متنازع فیصلے کا اعلان سامنے آنے سے قبل بھی اِس کی مخالفت میں بیانات جاری کر چکے ہیں۔ 

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کی حمایت کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے اس معاملے پر ’او آئی سی‘ فیصلے کی توثیق کی جبکہ ترک صدر رجب طیب اژدگان نے ’او آئی سی‘ کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے معاملے پر سنجیدگی سے گفت وشنید کا مطالبہ کیا اور امریکی فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’یروشلم‘ یا بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی کاروائی یا دباؤ اور طاقت کے استعمال کو غیر قانونی قرار دینے اور اس سے گریز کرنے کے حوالے سے اسرائیل مخالف قرارداد منظور ہو چکی ہے‘ جو اُن میڈیا رپورٹس کے بعد پیش کی گئی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس قرار داد کے حق میں سب سے زیادہ 151ممالک نے ووٹ دیا جبکہ چھ ممالک امریکہ‘ کینیڈا‘ مائیکرونیزیا کی وفاقی ریاستوں‘ اسرائیل‘ جزائر مارشل اور ناورو نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔ اس کے علاوہ نو ممالک آسٹریلیا‘ کیمرون‘ وسطی جمہوری افریقہ‘ ہونڈراس‘ پاناما‘ پاپوا نیو گنی‘ پیراگوائے‘ جنوبی سوڈان اور ٹوگو نے قرارداد پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ صورتحال واضح ہے لیکن امریکہ ایک بڑا انتشار چاہتا ہے۔ 

مسلم و غیرمسلم ممالک کی اکثریت یروشلیم سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف ہے لیکن طاقت کے نشے میں امریکہ کی سیاسی قیادت پر ’’کلام نرم و نازک‘‘ کا اثر نہیں ہو رہا تو ایسی صورتحال میں مسلم دنیا کو ’اقوام متحدہ‘ کے غیرمؤثر ’پلیٹ فارم‘ سے علیحدہ ہو کر فلسطینی مسئلے کے بارے میں ایک ایسی متفقہ حکمت عملی وضع کرنا ہوگی‘ جس سے نہ صرف مسلم ممالک کی بلکہ ’دنیا کی تقدیر بدل جائے۔‘ یہ امر بھی زیرغور لانا ضروری ہے کہ ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب و اثرات‘‘ کیا ہیں اور نیند سے بیداری (لاشرقیہ لاغربیہ‘ اسلامیہ اسلامیہ) ضروری ہے کیونکہ مزید غفلت کی گنجائش باقی نہیں رہی! 
مسلمانوں کو اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینی ہوگی کیونکہ اُمہ کی زندگی کسی معجزے سے نہیں بلکہ صرف اُور صرف ’عمل‘ سے تبدیل ہوگی۔ 

تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملت آدم
مکے نے دیا خاک جنیوا کو یہ پیغام
جمعیت اقوام کہ جمعیت آدم؟ (علامہ اِقبالؒ )
۔

Friday, July 10, 2015

Jul2015: Quds Day

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
یوم قدس: مسلمان کدھر جائے!؟
دنیا بھر کے ’روزہ دار مسلمانوں‘ نے بناء کسی تفریق رنگ و نسل اور عقائد کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ’عالمی یوم القدس‘ بھرپور جوش و خروش سے منایا اور اِس موقع پر مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی اور صیہونی حکومت کے خلاف اپنی نفرت کے اظہار میں جس اخلاص پر مبنی ’اتحادواتفاق‘ کا شاندار مظاہرہ کیاگیا‘ اگر وہ اخلاص برقرار رہتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ’اتحاد بین المسلمین‘ جیسا ہدف حاصل ہونے کے ساتھ اِسلام دشمن طاقتوں بالخصوص اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والی ’اَمریکی و برطانوی لابی‘ کے دانت کھٹے کر دیئے جائیں۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی عالمی نام نہاد طاقتوں کو یقیناًیہ پیغام مل چکا ہے کہ انہیں فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وجبر ختم کرنا ہوگا بصورت دیگر اُن کایہ عمل مسلم امہ کو اس طرح یک جان کر دے گا‘ کہ اس تحریک کو پھر پٹھو حکمران کے ذریعے نہ تو دبایا اُور نہ کچلا جا سکے گا۔ کاش ذوالفقار علی بھٹو‘ شاہ فیصل اور امام خمینی جیسے خیرخواہوں کی قیادت مسلم اُمہ کو پھر سے میسر آ جائے!

مسلم دنیا کو ’’مرگ بر امریکہ اُور مرگ بر اسرائیل‘‘ جیسی مدبرانہ سوچ دینے والے بانی انقلاب اسلامی ایران امام خمینی نے رمضان المبارک کے ہر آخری جمعے کو عالمی یوم القدس کا نام دیا اور اِس مرتبہ چونکہ آخری جمعہ پاکستان میں اُنتیس اور بیشتر ممالک میں یکم شوال کو ہوگا‘ اِس لئے رہبر اسلامی ایران سیّد علی خامنہ آئی نے ’عالمی یوم قدس‘ ایک ہفتہ قبل یعنی دس جولائی کو منانے کا اعلان کیا جس پر پوری دنیا میں لبیک کہا گیا۔

اللہ تعالیٰ کی توحید اور آخری پیغمبر کی رسالت پر یقین رکھنے والا اگر کسی دوسرے ’کلمہ گو‘ پر ہونے والے ظلم و زیادتی پر خاموش رہتا ہے تو اِس عمل کو ایک حدیث پاک کے مفہوم میں دعائیں قبول نہ ہونے کی راہ میں حائل رکاوٹ قراردیا گیا ہے لہٰذا ’یوم قدس‘ کو کسی ایک ملک کی ایجاد نہیں بلکہ یہ ہر ایک مسلمان اور کلمہ گو کی آواز ہونی چاہئے۔ ’’اِس بات کو اب فاش کر اے روح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): آیات الٰہی کا نگہباں کدھر جائے؟ (علامہ اقبالؒ )‘‘۔۔۔ یہ بات ہمارے اِیمان کا حصہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے اِسلامی بھائی کے دکھ درد اور مشکلات میں اُس کی مدد کرے۔ ہمارے سامنے ہجرت مدینہ کے موقع پر ’مؤاخات‘ کی مثالیں موجود ہیں کہ کس طرح مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو بن گئے! کیا اسلامی تاریخ میں ہمارے لئے تفکر کے ابواب موجود نہیں؟ کیا ہمیں اپنی ہی تاریخ پر غور و خوض نہیں کرنا چاہئے؟ اگر فلسطین کے مسلمانوں کو اِس مرحلے پر تنہا چھوڑ دیا گیا تو اسلام دشمن طاقتیں عرب دنیا اور بعدازاں مسلمانوں کی اکثریت والے ممالک کو حیلوں بہانوں سے یکے بعد دیگرے ظلم وستم کا نشانہ بنائیں گے اُور ایک خدا و ایک رسول کو ماننے والوں پر ’عرصۂ حیات‘ تنگ کردیا جائے گا! دنیا کی نظروں میں اگر پاکستان کی جوہری صلاحیت اور ایران کے جوہری عزائم کھٹک رہے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ ’غاصب اسرائیل‘ کے دفاع کے علاؤہ کچھ نہیں۔یوم القدس ’سوچ اُور عمل کی ترغیب‘ کا دوسرا نام ہے کہ ماننے والوں کو اسلام کے جسد واحد سے منسلک ہر ایک عضو کی حفاظت کے لئے کیا تدابیر اختیار کرنی چاہیءں۔ یاد رہے کہ ’روز جہانی قدس‘ کا آغاز 1979ء میں انقلاب جمہوری اسلامی ایران کی کامیابی کے ساتھ ہی کیا گیا‘ جو تاحال ہرسال باقاعدگی سے منایا جاتاہے۔

یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ ’یوم القدس‘ غاصبوں کے لئے ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو چکا ہے۔ رواں سال بھی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا‘ جسے صرف مغرب ہی نہیں بلکہ ہمارے ہاں کے خود فریب‘ مغرب نواز ذرائع ابلاغ نے زیادہ توجہ اُور اہمیت نہیں دی‘ تو اِس کی وجہ اور پس پردہ محرک منطقی ہے۔ عالمی یوم القدس نامی تحریک کے جلوسوں کے لئے نعرے کا انتخاب ’’علاقائی صورتحال اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش حالات‘‘ کے مد نظر کیا گیا۔ فیصلہ ہوا کہ رواں برس ’’عالمی یوم القدس‘ فلسطینی اہداف کا مظہر‘ ماڈرن (یک طرفہ جدیدیت کی دلدادہ) جاہلیت اور غزہ سے یمن و کشمیر تک بچوں کے قتل عام کے خلاف ملت اسلامیہ کے اتحاد کی آواز‘‘ کے نعرے لگائے گئے جن سے اسلام دشمنوں کے مظالم کے بارے میں بیداری عام کی گئی۔ پرجوش ’یوم القدس‘ سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اسلامی ممالک کے عوام کی اکثریت امریکہ اور صیہونی حکومت کو ہی اپنا مشترکہ دشمن سمجھتی ہے اور عراق‘ شام‘ یمن و کشمیر سمیت بعض اسلامی ممالک کے المناک حالات اسے اسلامی دنیا کے سب سے اہم مسئلے اور عالم اسلام کی ترجیح یعنی مسئلہ فلسطین سے غافل نہیں کر سکے اور نہ کبھی غافل کر سکیں گے!

عالمی یوم القدس فلسطینیوں کی حد تک ہی مختص نہیں اُور نہ ہی اسے محدود کر کے پیش کیا جانا چاہئے بلکہ اِس اہم دن کا تعلق ساری اسلامی دنیا سے ہے اور اسلام کے دشمن اور بالخصوص صیہونی اسی بات سے ہراساں ہیں کہ قدس کہیں مسلم امہ کے اتحاد کی تحریک ہی نہ بن جائے! بانی انقلاب اسلامی نے بیت المقدس کو اس وجہ سے اہمیت دی تھی کہ ’’بیت المقدس اور فلسطین ملت اسلامیہ کی طاقت کا سرچشمہ ہیں‘‘ اُور یہ دن صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے جملہ حریت پسندوں کی جانب سے ظلم اور ناانصافی کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔ اگر ’یوم القدس‘ کی روح کو سمجھ لیا جاتا ہے تو فلسطین کی مظلوم قوم اور دوسری مظلوم اقوام کی حمایت سے متعلق تحریک نہ صرف ’نتیجہ خیز‘ ثابت ہوگی بلکہ انشاء اللہ عزوجل مظلوم فلسطینی آزادی کی نعمت سے بھی ہمکنار ہوں گے۔

 سوچئے کہ اگر اسلام دشمن طاقتیں اسرائیل کی پشت پناہی کے لئے اعلانیہ و غیراعلانیہ طور پر متحد ہوسکتی ہیں تو مسلم اُمہ کو کس بات‘ کس مجبوری اور کس مصلحت نے ’اتحاد واتفاق‘ سے روک رکھا ہے؟ ’’جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دل۔۔۔تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقد دشوار۔ ترکان جفا پیشہ کے پنجے سے نکل کر۔۔۔بے چارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار! (علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ) ‘‘