Showing posts with label Social Issue. Show all posts
Showing posts with label Social Issue. Show all posts

Saturday, April 1, 2017

Apr2017: Scatter thoughts!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بھیکاری!
جو لوگ کچھ بھی کھا لیتے ہیں‘ کچھ بھی پہن لیتے ہیں اور کچھ بھی پی کر اپنی پیاس بجھا سکتے ہیں اُن کے لئے زندگی سے زیادہ خوبصورت (متبادل) کوئی دوسری نعمت ہو ہی نہیں سکتی تھی لیکن اگر وسائل کی تقسیم منصفانہ ہوتی۔ جو لوگ کچھ بھی نہیں کھا سکتے بلکہ اُنہیں کوئی ایسی خاص خوراک اور وہ بھی نہایت ہی کم مقدار میں لینا پڑتی ہے کہ جو بناء چینی نمک یا مصالحہ (ذائقے)‘ گھی (چکناہٹ)‘ کے ہو۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو باوجود مالی سکت رکھنے کے بھی ہر قیمتی کپڑا نہیں نہیں پہن سکتے اور اُن کی مجبوری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ہر مشروب پی بھی نہیں سکتے تو ایسے افراد کو ’اِمتحان کی گھڑی‘ میں خود سے پوچھنا اُور اِس بارے سوچنا چاہئے کہ غلطی کہاں ہوئی‘ اُس کی ’بھاری قیمت‘ ادا کرنے کے باوجود بھی اگر خلاصی نہیں ہو رہی تو اِس کا ازالہ کیونکر ممکن ہے۔ 

جمعۃ المبارک کی (ہفتہ وار) نماز کے لئے مسجد کا رخ کرنے والوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ رش کا یہ عالم ہوتا ہے کہ جامع مسجد کے داخلی راستوں پر دھکم پیل کی نوبت آ جاتی ہے۔ معلوم نہیں ہوسکا کہ وسیع و عریض اور کئی منزلہ مساجد تعمیر کرنے والے اُس کے دروازے چھوٹے اور سیڑھیاں تنگ کیوں بناتے ہیں!؟ جمعۃ المبارک کے لئے الگ یا خدانخواستہ کسی ہنگامی صورتحال کے لئے محفوظ اور بڑے متبادل راستے کیوں نہیں بنائے جاسکتے!؟ 

بلڈنگ کوڈز کا اطلاق مساجد پر کیوں نہیں ہوتا‘ جن کی اپنی پارکنگ عمارت کا حصہ نہیں بنائی جاتی!؟ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مساجد کے آس پاس سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں‘ جس سے نماز کے لئے آنے والوں اور شاہراہ یا راستہ استعمال کرنے والوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔ باوجود کوشش یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ جمعۃ المبارک کا لباس شلوار قیمض کیوں ہے جبکہ جو لوگ ہفتے کے باقی دن پینٹ کوٹ اور ٹائی پہنتے ہیں‘ اُنہیں ایک دن کے لئے ’ڈریس کوڈ‘ تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے!؟ 

مساجد سے مستقل رجوع کرنے والوں کے لئے لاکرز کیوں فراہم نہیں کئے جا سکتے جہاں وہ اپنی بنیادی ضروریات کی اشیاء (مسواک‘ تولیہ‘ صابن‘ کنگھی‘ ناخن تراش‘ عطر‘ سرمہ‘ کپڑے وغیرہ) رکھ سکیں‘ 

بہرحال ہر ہفتے‘ جمعۃ المبارک کے موقع پر‘ عمومی و خصوصی مصروفیات ترک کر کے عبادت کی طرف رجوع کرنے والوں کا جوش و خروش دیکھ کر یہ اُمید اُور خواہش جاگ اُٹھتی ہے کہ آج مسجد کے در و دیوار سے لگ کر بیٹھے ہوئے حاجت مندوں (مرد و خواتین) کی تمام دنیاوی ضروریات پوری ہو جائیں گی۔ اُن کے چہرے بھی کھل اُٹھیں گے۔ اُن کی دلی مرادیں بھی پوری ہو جائیں گی کیونکہ یہ ناممکن نہیں بلکہ سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ’نماز جمعہ‘ ادا کرنے والے اگر عزم کر لیں تو نہ صرف یہ ممکن ہے کہ درجنوں کی تعداد میں بھیکاری باعزت روزگار شروع کر سکیں گے بلکہ وہ ملازمتوں پر فائز ہو کر دوسروں کی طرح معاشرے کی تعمیروترقی اُور سہولیات کی فراہمی کے ’نیٹ ورک‘ کا فعال حصہ (جز) بن سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو کسی وجہ سے معاشرے سے کٹ کر الگ ہو گئے ہیں‘ اُنہیں معاشرے سے جوڑنا نہ تو مشکل ہے اُور نہ ہی ناممکن لیکن اگر ایسا کرنے کی خواہش کسی طرح عزم جیسی تحریک میں تبدیل ہو جائے۔ اِنسانوں کے سامنے دست سوال دراز کرنے والوں اُور مسجد کے اندر دعا کے لئے اُٹھے ہوئے ہاتھوں میں فرق کیا ہے؟ دونوں اپنی اپنی جگہ قبولیت کے متمنی اور دونوں اپنی اپنی منتظر ہیں کہ ’’قدرت‘‘ اُن کی جانب متوجہ ہو!

بھیک مانگنے والے پیشہ ور ہوں یا اُن کی جسمانی معذوری‘ کسی بیماری کی شدت یا کنبے کی کفالت کا بوجھ نے اُنہیں اِس حد تک مجبور و لاچار کر دیا ہو کہ وہ نہ صرف انسان ہو کر انسان ہی سے مانگ رہے ہوں بلکہ جس سے سب مانگنے جا رہے ہوں اُس کی جانب متوجہ نہ ہوں تو درحقیقت اُنہیں رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ’’وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے۔۔۔ ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات۔ (اِقبالؒ )‘‘ 

ریاست‘ منبر اُور معاشرے کے سرخرو (منتخب) نمائندہ افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی اپنی حیثیت (انفرادی طور) اُور مل بیٹھ کر (اجتماعی طور) سے (غوروخوض کے ذریعے) بھیک مانگنے والوں کے بارے میں کوئی ’لائحہ عمل‘ طے کریں۔ اُنہیں سہارا دینے اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی ہمت کریں۔ ہر سال حج اور ہر چند ماہ بعد عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں کو اُس انسان کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے جس کی حرمت (جان‘ حیثیت‘ عزت نفس‘ رتبہ‘ مقام اُور حاجات) کعبے کی حرمت سے زیادہ اہم ہیں! ہم گردوپیش میں ایسی درجنوں ’غیرسرکاری تنظیموں (این جی اُوز)‘ کو فعال دیکھتے ہیں‘ جو معاشرے میں اور معاشرت میں پیدا ہونے والی خرابیاں دور کرنے کے لئے عمدگی اور نظم وضبط سے تگ و دو کر رہی ہوتی ہیں جنہیں اِس سماجی عدم توازن کی جانب بھی توجہ دینی چاہئے‘ کہ جس میں چاہے کسی بھی وجہ اور محرک کی بناء پر بھیک مانگی جا رہی ہے اور باوجود بھیک مانگنے کے بھی انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کے کام نہیں آ رہا تو اب چاہے انسان چاند ستاروں اور خلاؤں میں جہاں چاہے ٹھکانہ بنا لے اُس کی ’’دربہ دری‘‘ ختم نہیں ہوگی کیونکہ اِس انسان نے اپنے انسان ہونے کا حق ادا نہیں کیا اور اپنے ہی آس پاس انسانیت کی تذلیل جیسی بکھری مثالوں پر نظر نہیں کر رہا۔

کون بھیکاری نہیں؟ 
کس کا ’’دامنِ عمل‘‘ گناہوں سے داغدار نہیں؟ 
بقول شان الحق حقی ’’ڈال دوزخ میں نامۂ اَعمال۔۔۔میرا‘ اقرارِمختصر ہے کہ ہاں!‘‘ 

جمعۃ المبارک (اکتیس مارچ) کی صبح‘ حسب معمول نیک تمناؤں کے پیغامات میں ’فیس بک‘ کی ایک پوسٹ (خیال) نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا‘ جس میں ’صحافی محمود جان بابر‘ نے تعجب کا اظہار کیا کہ ’’پانامہ کے فیصلے کا اِنتظار کرنے والی پوری ’’پارسا‘‘ اُور ’’دیانتدار‘‘ قوم کچھ ایسی بے صبری کا مظاہرہ کر رہی ہے کہ جیسے کرپشن (مالی و انتظامی بدعنوانیاں) تو صرف ملک کے وزیراعظم ہی سے سرزد ہوئی ہیں!‘‘ اُن کی طویل پوسٹ (پیغام) کا مقصد معاشرے کے ہر فرد کو اپنے اپنے کردار پر غور کرنے کی دعوت ہے کہ دوسروں پر تنقید اُور دوسروں سے اصلاح احوال کا مطالبہ (تقاضا) کرنے کی بجائے اگر ہم میں سے ہر کوئی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے تو ایک ایسا انقلاب برپا ہو سکتا ہے‘ جو ’اِسلامی تعلیمات‘ کا نچوڑ اُور مقصد (خلاصہ) ہے۔ ہمیں عبادات کے مفہوم (اِن کے تربیتی پہلو) پر (بھی) غور کرنا ہوگا۔ ہمیں اُن دینی تعلیمات کو ’نصاب کا حصہ‘ بنانا ہوگا‘ جن سے اِنسان اور عظمت انسان کی اہمیت اُجاگر ہو۔ ہمیں ’’عمل‘‘ کی جانب راغب ہونا ہوگا کیونکہ اِسی ’’عمل کی بدولت‘‘ غیرامتیازی‘ غیراستحصالی اور ترقی کے وسائل کی منصفانہ تقسیم سے یکساں مواقع پیدا ہوں گے۔ اِسی ’’عمل‘‘ سے ایک ایسی زندگی تشکیل پائے گی‘ جس کی بنیاد پر ہمارے اِنجام (سزأ و جزأ) یعنی جنت اُور جہنم کا فیصلہ ہوگا۔

The self accountability

Thursday, June 25, 2015

Jun2015: Anger as tool of reform the governance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
رمضان اُور غصہ
پوری قوم جلالی ہے۔ کسی کے پاس وقت نہیں لیکن اگر پوچھو کہ کیا کام ہے تو یہی کام بتایا جائے گا کہ کوئی کام نہیں! اس پر عجب یہ کہ ہر کسی کے ناک پر غصہ دھرا دکھائی دیتا ہے۔ قیمتی گاڑی میں بیٹھے ہوئے شخص کے ماتھے پر سلوٹیں دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے جبکہ کوئی سواری ملنے کے انتظار میں کھڑے لوگ خود اپنا ہی بوجھ اُٹھانے سے قاصر ہونے کے باعث اگر نہ مسکرائیں تو وجہ سمجھ میں آتی ہے لیکن جو ایک بات وثوق سے مختلف نظر آتی ہے وہ ماہ رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں تو ہر کس و ناکس کا ’غصہ‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں آخر اس قدر غصہ آتا کیوں ہے؟ طبی نکتۂ نظر سے چائے‘ کافی‘ مشروبات‘ سگریٹ‘ نسوار‘ پان‘ چھالیہ وغیرہ کے عادی افراد جب کھانا پینا اور چبانا ترک کرتے ہیں تو اُن کے مزاج و بول چال پر چڑچڑا پن حاوی ہو جاتا ہے جبکہ یہی روزہ ایسے افراد کے مزاج میں تحمل کو نمایاں کر دیتا ہے‘ جو سال کے باقی گیارہ ماہ اسلامی تعلیمات کا انتخاب جزوی نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کے لئے کلی طور پر کرتے ہیں۔

سمجھ لیجئے کہ ’غصہ ایک فطری عمل اور ہیجانات کی ایک قسم ہے جو اگر ایک حد میں ہو تو نقصان نہیں لیکن حد سے بڑھ جائے تو دین اور دنیا کے لئے خسارے کا باعث بن جاتا ہے لیکن غصہ پر قابو بھی تو پایا جاسکتا ہے‘ اسے ’ضبط‘ بھی کیا جاسکتا ہے اُور بہادر وہی کہلاتا ہے جو غصے کی حالت میں دوسرے کو درگزر کردے۔ اس عمل کے بارے میں خالق کائنات نے پسندیدگی کا اظہار بھی فرمایا ہے۔ کتب احادیث (بخاری‘ ترمذی‘ موطا امام مالک) میں درج ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُن ایک ساتھی (صحابی) نے عرض کیا:(ترجمہ): ’’کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے‘‘ تو سرور کونین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ’’غصہ مت کیا کرو‘‘ انہوں نے تین مرتبہ یہی سوال کیا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر بار یہی جواب ارشاد فرمایا کہ ’’غصہ مت کیا کرو۔‘‘ غصے (اشتعال) میں لڑائی جھگڑے سے بچنے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ جب کسی شخص کو غصہ آرہا ہو اور اندیشہ ہو کہ وہ آپے سے باہر ہوکر کوئی خلاف شریعت فعل کر بیٹھے گا یا کسی کے حق میں زیادتی کا مرتکب ہو گا یا مارپیٹ (فساد) تک نوبت جا پہنچے گی تو ایسے وقت میں ’درود شریف‘ پڑھ لینا چاہئے۔ عرب کے لوگوں میں آج تک یہ روایت چلی آرہی ہے کہ جہاں کہیں دو آدمیوں میں تکرار اور لڑائی کی نوبت آتی ہے تو اُن میں کوئی ایک یا کوئی تیسرا شخص باآواز بلند کہتا ہے کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو۔‘‘ اس کے جواب میں وہ خود ہی بلند آواز میں درودشریف پڑھنا شروع کردیتا ہے اور اُسی وقت غصہ تحلیل ہو کر ’عقل بحال‘ ہو جاتی ہے!

سوال یہ بھی ہے کہ آخر ہمیں غصہ ایسی باتوں پر کیوں نہیں آتا جو ظلم و زیادتی پر مبنی ہیں؟ مثال کے طور پر دودھ میں پانی کی ملاوٹ عام ہو چکی ہے۔ ہم ملاوٹ شدہ بہت سی اشیاء خریدتے ہیں اور کبھی بھی اِس بات پر غصے کا اظہار نہیں کرتے کہ ہماری جان ومال سے کھیلنے والوں کو کیوں من مانی کرنے کی چھوٹ دی گئی ہے؟ رمضان سمیت خاص ایام کے مواقعوں پر اشیائے خوردونوش کی مصنوعی قلت کے باعث مہنگائی کر دی جاتی ہے لیکن ہم اِس پر بھی خاموش رہتے ہیں اُور معاشرے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کی حرص و طمع کا نشانہ بنتے ہیں؟ سیاسی شخصیات آمدورفت یا اپنی رہائش گاہوں کے آس پاس شاہراہ عام بند کر دیتے ہیں لیکن ہمیں اِس پر غصہ نہیں آتا۔ ہمارے دیکھا دیکھی‘ بناء محنت یا کاروبار بدعنوانی کے ذریعے لوگ راتوں رات امیر بن جاتے ہیں لیکن ہمیں ایسے نام نہاد رہنماؤں پر غصہ نہیں آتا۔ سیاسی جماعتیں وعدے کرتی ہیں جنہیں انتخابات کے بعد پورا نہیں کیا جاتا لیکن ووٹ ڈالتے ہوئے ہم غصے کے ذریعے احتساب نہیں کرتے آخر کیوں؟

 القصہ مختصر ایسے بہت سی محل موجود ہیں جہاں غصے کا اِظہار ہونا چاہئے اُور اگر کوئی بندۂ خدا ظلم و زیادتی پر ’ناپسندیدگی کا برملا‘ اظہار کرتا بھی ہے تو سب اُسے ’تعجب کی نظر‘ سے دیکھتے ہیں جیسا کہ وہ کوئی مکروہ فعل کا مرتکب ہو رہا ہو! مسئلہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تو ہم نے بحیثیت مجموعی ’غصے‘ کی کیفیت و اہمیت کو نہیں سمجھا کہ آخر اِسے کیوں انسانی طبیعت (مزاج) کا حصہ بنایا گیا ہے۔ دوسری ضرورت غصے پر قابو پانے اور اس سے تعمیری و مثبت انداز میں استفادے کی ہے تو اِس سلسلے میں خاطرخواہ رہنمائی موجود نہیں۔ ہمیں نہ تو نصاب اور نہ ہی مسجد و منبر سے غصے کے ’جائز‘ اظہار کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے۔

 غصے کے عملی تقاضوں کو اگر عوام و خواص نہیں سمجھ پا رہے تو اس کے لئے وہ قصور وار نہیں کیونکہ قدرت کی جانب سے عطا کردہ اُن تمام صلاحیتوں کا کماحقہ ادراک ہی نہیں رکھتے‘ جن سے ’اصلاح ذات و معاشرہ‘ ممکن ہے۔ ذرا سوچئے کہ سچ ہمیشہ دوسروں کے متعلق کیوں بولا جاتا ہے اور اکثریت غصہ بھی ہمیشہ دوسروں پر ہی کیوں اُتارتی ہے؟ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہم اپنی ذات میں پائی جانے والی خامیوں کے بارے میں حقیقت پسندی سے کام لیں اور دوسروں کو اپنے آپ سے بہتر سمجھیں؟ دوسروں کی غلطیاں اِس لئے کیوں معاف نہیں کرتے کہ ایسی ہی غلطیاں تو ہم سے بھی سرزد ہو سکتیں ہیں ہو چکی ہیں؟

 کیا یہ حق نہیں بنتا کہ کبھی کبھار میں اُور آپ اپنے آپ پر بھی غصہ کریں کہ کوئی ایسا کام جو ہمیں نہیں کرنا چاہئے تھا‘ لیکن چونکہ وہ ہم سے سرزد ہوگیا‘اِس لئے غصہ کرتے ہوئے خود سے عزم کریں کہ آئندہ وہ غلطی نہیں دہرائیں گے! تزکیۂ نفس ہو یا رہنمائی‘ اپنی ذات ہو یا اجتماعی مفاد‘ ہر لحاظ سے ماہ رمضان کی بابرکت ساعتیں شاندار موقع ہے۔ یہ فرصت‘ مصروفیت اُور مہلت غنیمت ہے‘ اِس سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔ ’غصے‘ کی کیفیت سے جڑی اچھائیوں‘ برائیوں اُور تقاضوں کو اگر شعوری طور پر سمجھ کر اُور اِن کے بجا‘ درست اور ’مفید عملی استعمال‘ کے لئے دانستہ کوششیں کی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اسی عمل سے ہماری زندگی و آخرت دونوں سنور جائیں!
Anger management for betterment

Saturday, May 23, 2015

TRANSLATION: Weddings & our society!

Social Issues & weddings
شادی بیاہ رسومات اور خرابیاں
’’سارہ! بیٹا تیار ہو جاؤ‘ تمہاری خالہ لڑکے والوں کو لے کر آتی ہی ہوں گی۔ دیکھو کتنی دیر ہوچکی ہے‘ اوپر سے کھانے پینے کے انتظامات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔‘‘ گذشتہ نا خوشگوار تجربوں سے اکتائی ہوئی سارہ کہتی ہے: ’’جی امی! ہوجاتی ہوں تیار۔ ان لوگوں نے کون سا مجھے دیکھتے ہی پسند کرلینا ہے‘ ہر بار کی طرح آئیں گے‘ اپنی تواضع کروائیں گے‘ اور پھر کوئی نہ کوئی خامی نکال کر چلے جائیں گے۔‘‘ ایک سارہ ہی نہیں جو آئے روز اس قسم کے حالات کا مقابلہ کرتی ہے اور رشتے کے لئے آنے والوں کے چبھتے سوالات کے نشتر سہتی ہے۔

پاکستان کا متوسط طبقہ (مڈل کلاس) گھرانوں میں یہ رجحان تعلیم اور ترقی کے باوجود ختم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اگر جائزہ لیا جائے تو لڑکیوں کے ان حالات سے گزرنے کی مختلف وجوہ ہوتی ہیں‘ جن میں سے ایک اہم وجہ پاکستان میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہونا بھی ہے۔ اسی لئے یہاں لڑکیوں کی شادیاں مناسب وقت پر ہونا اور ان کے لئے مناسب رشتے کی تلاش کرنا لڑکی کے ماں باپ کے لئے کٹھن ترین مرحلہ ہوتا ہے اور کم و بیش ہر گھر میں ہی لڑکیوں کو ان دشوار اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑتا ہے‘ جو لڑکی اور اس کے گھر والوں کے لئے شدید کوفت کا باعث بنتے ہیں۔

لڑکی دیکھنے کے لئے آنے والوں کے سوالات بھی ایسے ہوتے ہیں جیسے فوج میں سپاہی بھرتی کرنے آئے ہیں: ’’کتنی عمر ہے‘ قد کتنا ہے‘ تعلیم کہاں تک حاصل کی ہے۔‘‘ اس موقع پر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے بیٹے کے لئے لڑکی دیکھنے آئے ہیں‘ کسی پلاٹ یا گاڑی کا سودا طے کرنے نہیں! ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ لڑکیوں کی مائیں اس موقع پر اپنی بیٹی کی خوبیاں گنوانے میں پیش پیش ہوتی ہیں‘ جبکہ دوسری جانب لڑکوں کی مائیں بھی اپنے فرزند کو کسی شہزادے سے کم نہیں سمجھتیں۔ شہزادے کے لئے شہزادی کی تلاش میں وہ لڑکیوں کا ہر زاویے سے جائزہ لیتی ہیں اور اس جانچ پڑتال میں وہ ذرا بھی شرم یا عار محسوس نہیں کرتیں۔ لڑکی پر ایسے ایسے سوالات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے جو بعض اوقات اسے شرم سے پانی پانی کردیتے ہیں۔ لڑکی پسند کرنے کے دوران نہ صرف لڑکے کے اہل خانہ‘ بلکہ خود لڑکے کا بھی دماغ بھی آسمان پر ہوتا ہے۔ اس سوچ کو دوہرا معیار کہیں یا خودپسندی کہ لڑکا کتنا ہی نکما‘ بدشکل‘ یا ان پڑھ ہو‘ اسے ہونے والی دلہن خوب صورت اور تعلیم یافتہ چاہئے ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے اور بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق لوگوں نے اپنی سوچ کو بھی ڈھال لیا ہے‘ مگر لڑکی پسند کرنے کے پیمانے پر نظر ڈالیں تو بدقسمتی سے ہم آج بھی اسی پرانی روایتی سوچ پر قائم ہیں۔

ہمارے اس قدامت پسند معاشرے میں لڑکے کی ماں ہونا اعزاز کی بات سمجھا جاتا ہے اور وہ عورت لڑکے کی ماں ہونے کے زعم میں یہ تک بھول جاتی ہے کہ جو امتحان وہ دوسروں کی بیٹیوں کے لے رہی ہے‘ ان کا سامنا ماضی میں وہ خود بھی کرچکی ہے‘ جنہیں نہ بھولتے ہوئے دوسروں کی بیٹیوں کو آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہئے مگر یہاں لڑکے کی ماں کا اپنے ماضی کے تجربوں کو دہراتے ہوئے مطالبہ ہوتا ہے: ’’میری ہونے والی بہو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہر طرح کے گھریلو امور میں طاق ہونی چاہئے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر شوہر کے ساتھ معاشی معاملات میں بھی ہاتھ بٹا سکے‘ مگر عمر کی زائد نہ ہو۔‘‘ ذرا ہوش کے ناخن لیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی کم عمر بھی ہو؟ یہ تضاد نجانے کتنی ہی لڑکیوں کے سروں میں سیاہی سے سفیدی لے آتا ہے اور وہ والدین کے گھر میں ہی بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لڑکے والوں کا یہ حوصلہ شکن رویہ بے بس والدین کی اپنی بیٹی بیاہنے کی خواہش کو ماند کرتا چلا جاتا ہے! بعض دفعہ لڑکے کے والدین بے رحم خریدار کی شکل میں لڑکی کا وزن‘ قد‘ اور چہرے کے خدوخال کا معائنہ کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ بھولتے ہوئے کہ ان کا بیٹا کوہ قاف سے آیا شہزادہ نہیں‘ یا اس لڑکی نے اپنے خدوخال خود تخلیق نہیں کیے ہیں جو اس کا اتنا کڑا امتحان لیا جارہا ہے۔اگر لڑکے والے اپنی کڑی شرائط پر پورا اترنے والی لڑکی پسند کر بھی لیتے ہیں‘ تو اس کے بعد اگلا مرحلہ لڑکی کے والدین کے لئے پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

 شادی کے انتظامات کی طویل فہرست ان کے سپرد کر دی جاتی ہے‘ جسے ممکن بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے لہٰذا بیٹی کو رخصت کرنے کے لئے والدین قرض لیتے ہیں‘ یا اپنی عمر بھر کی جمع پونجی بیچ دیتے ہیں‘ اس بات کا ڈر دل میں بٹھائے کہ کہیں ان کی بیٹی گھر نہ بیٹھی رہ جائے‘ زمانہ کیا کہے گا‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس موقع پر مجبور والدین کا مقصد ہر مشرقی سوچ رکھنے والے ماں باپ کی طرح جلد از جلد بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہونا اور اسے اپنے گھر آباد دیکھنا ہوتا ہے۔ اگر ہمیں اپنے معاشرے سے اس فرسودہ طریقے سے لڑکی پسند کرنے کی سوچ کو بدلنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں خود سے شروعات کرنی ہوگی‘ کیونکہ یہ فرسودہ سوچ ہمارے معاشرے کو صحت مند معاشرہ بنانے کے بجائے مزید تنزلی کی جانب لے جارہی ہے۔

لڑکے والوں کے ان اقدامات کی حوصلہ شکنی کے لئے پہلا قدم لڑکی کے والدین کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہیں چاہئے کہ اپنی بیٹی کو شو پیس (نمائشی چیز) کی طرح سجا کر لڑکے والوں کے سامنے پیش نہ کریں۔ لڑکے والوں کو اس بات کا اندازہ اچھی طرح ہوتا ہے کہ زیادہ تر لڑکیوں کے ماں باپ کسی بھی صورت میں جلد سے جلد لڑکی کی شادی چاہتے ہیں‘ لہٰذا وہ بھی ہر طرح کا جائز و ناجائز مطالبہ منوانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اس لئے بیٹی کو بوجھ کے بجائے رحمت سمجھیں‘ جب اس کی شادی کا درست وقت آئے گا‘ تو خدا کی مدد سے یہ مرحلہ بخوبی سر ہوجائے گا۔دوسری جانب لڑکے والوں کو بھی اپنا لڑکی پسند کرنے کا پیمانہ تبدیل کرنا چاہئے۔ انہیں اپنے گھر کی بہو اور بیٹے کی بیوی تلاش کرتے یہ پہلو مدِ نظر رکھنا چاہئے کہ ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے‘ لہٰذا لڑکی کے منفی پہلوؤں کے بجائے مثبت پر زیادہ غور کریں‘ اسی سوچ پر چل کر ان کا گھرانہ ایک خوشگوار زندگی بسر کر سکے گا اور ان کی آنے والی نسلیں بلند اخلاق اور اعلیٰ روایات کی حامل ہوں گی۔
 
(بشکریہ: ڈان۔ تحریر: مدیحہ خالد۔ ترجمہ:شبیر حسین اِمام)