Life returns to Waziristan
وزیرستان: زندگی معمول پر!
وزیرستان: زندگی معمول پر!
جنوبی اور شمالی وزیرستان کے علاقے شاکئی‘ شوال اور سپین وام معروف نام ہیں
جہاں عسکریت پسندی کو کچلنے کے لئے فوجی کاروائیاں کی گئیں لیکن خاص بات
یہ ہے کہ اِن دور دراز مقامات پر تبدیلی کا نیا دور امن کی بحالی‘ ترقیاتی
عمل اور تعمیر نو کی صورت ظاہر ہو رہا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے (آئی ایس پی آر) کے ہمراہ اِن مقامات کی سیر کا موقع ملا جس کے لئے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اِن مقامات پر لیجایا گیا۔ جنوبی وزیرستان میں شاکئی کے مقام پر نئی تعمیر ہونے والی شاہراہ دور دراز کے علاقوں کو ملانے کے علاؤہ تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکز کو قریب لے آئی ہے جس سے علاقے میں تعلیم کے فروغ اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شمالی وزیرستان کی وادئ شوال اپنے مکینوں کی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہے جہاں فوجی کاروائی کے ذریعے علاقے کو عسکریت پسندوں کے وجود سے پاک کر دیا گیا ہے اور اب یہ علاقہ تعمیر وترقی کا دور شروع ہونے کی راہ بھی دیکھ رہا ہے جس کے لئے حکمت عملی کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ اسی طرح شاملی وزیرستان کا علاقہ سپین ورم گرم میدانی علاقے پر مشتمل ہے میں معمولات زندگی معمول پر آ گئے ہیں اور مقامی قبائل کا مطالبہ ہے کہ تعمیراتی ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں اور ان کا مطالبات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بجلی و گیس ککی فراہمی‘ سڑکیں اور ہسپتال تعمیر کئے جائیں۔
شاکئی میں پاک فوج کے 9ویں ڈویژن سے تعلق رکھنے والے کرنل عامر اور کرنل عمران نے جنوبی وزیرستان میں ترقیاتی عمل کے حوالے سے معلومات فراہم کیں جس کے لئے وفاقی حکومت اور غیرملکی مالی امداد استعمال کی گئی ہے۔ تین قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی کئی مثالوں سے سمجھی جاسکتی ہے جیسا کہ 335 کلومیٹر طویل سڑک جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراؤں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ تین آرمی پبلک سکول کی شاخیں جہاں اُسی معیار کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے جیسا کہ ملک کے بڑے شہروں میں ہے۔ وانا اُور سپین کئی راغزئی میں دو کیڈٹ کالجوں اُور فنی وتکنیکی علوم حاصل کرنے کے لئے وکیشنل سنٹرز کے قیام سے قبائلی عوام کو جدید تعلیم و ہنر سیکھنے کے مواقع میسر آ گئے ہیں۔ اسی طرح سرکاری سکول و مساجد کی بحالی بھی کر دی گئی ہے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ خریدوفروخت کے مراکز‘ پینے کے صاف پانی کے منصوبے‘ چھوٹے پن بجلی کے منصوبے‘ بچوں کے گیارہ پارک اور ہر تحصیل میں سپورٹس سٹیڈیم (کھیل کود کی سہولیات) فراہم کی گئیں ہیں۔ علاقے میں بجلی کی کمی کا مسئلہ شمسی توانائی کے استعمال سے پورا کیا گیا ہے۔ شولام کے مقام پر متحدہ عرب امارات کے مالی تعاون سے شیخہ فاطمہ بن مبارک ہسپتال قائم کیا گیا ہے جس کا عنقریب افتتاح ہو جائے گا۔ امریکہ کے امدادی ادارے ’یوایس ایڈ‘ کے مالی تعاون سے گومل زام ڈیم تعمیر کیا گیا ہے جو فعال ہے اور 17.4 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے ایک وسیع علاقے میں آبپاشی کی ضروریات بھی پوری کی جا رہی ہیں۔
جنوبی وزیرستان سے 71 ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کی جن کی اکثریت کا تعلق محسود قبیلے سے تھا اور اِن لوگوں کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع ہے۔ شمالی وزیرستان کا علاقہ ’سپین وام‘ موسم کے لحاظ سے مختلف مزاج رکھتا ہے۔ جون 2014ء میں یہاں کے رہنے والوں نے فوجی کاروائی ’ضرب عضب‘ کے دوران اپنے علاقوں سے نقل مکانی نہیں کی کیونکہ انہیں ایسا کرنے کو نہیں کہا گیا۔ اس علاقے میں زیادہ نقصانات بھی نہیں ہوئے۔ سپین وام میں آخری دفعہ دہشت گرد حملہ دو ہزار گیارہ میں ہوا تھا و ایک خودکش حملہ تھا اور اس میں ایک فوجی دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ بریگیڈئر شازوالحق جنجوعہ کے بقول اُن کی کمانڈ کے علاقے میں قبائلی عوام کی سوچ میں انقلابی تبدیلی آئی ہے اور ایک تو انہوں نے اپنی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے اور دوسرا ’سپین وام‘ میں دو سے تین ہزار اسلحہ بھی رجسٹرڈ کرایا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ان علاقوں میں اب عسکریت پسندی کا رجحان نہیں پایا جاتا۔ قبائلی اپنے ہمراہ اسلحہ لیکر نہیں گھومتے جو پہلے مقامی اور غیرملکی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے لیکن اب ترقی کے عمل میں معاون اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بریگیڈئر شازوالحق جنجوعہ کے بقول سپین وام سے براستہ کاکا زیارت افغانستان کے صوبہ خوست کو پولٹری مصنوعات کی بالخصوص اسمگلنگ میں کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ سرحد کو بند کرنا ہے۔ شمالی وزیرستان کے اس علاقے میں مال مویشیوں کی علاج گاہیں تعمیر کی گئیں ہیں جن سے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوشحالی گاؤں میں گیس کے ذخائر بھی ہیں اور شمالی وزیرستان میں کرومائٹ کی کان کنی اور گیس سے علاقے میں تعمیر وترقی و اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور اس سے خوشحالی آ سکتی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جنوبی وزیرستان میں طالبات کے ایک تعلیمی ادارے بھی لیجایا گیا شاکئی میں ’آرمی پبلک سکول‘ کی معلمہ ملائکہ وزیر نے بطور معلمہ اپنی عملی زندگی کے آغاز کو درست فیصلہ قرار دیا اور وہ ایک معلمہ کا کردار ادا کرنے پر مسرور تھیں۔ وہ اُردو اور پشتو زبانوں میں سوالات کا جواب نہایت ہی اعتماد سے دے رہی تھی۔ انہوں نے طالبات میں پائے جانے والے جوش اور علوم سیکھنے سے متعلق دلچسپی کا بطور خاص ذکر کیا۔ انہوں نے پاک فوج کے کردار کو سراہا جنہوں نے شاکئی میں طلباء و طالبات کے لئے الگ الگ ’آرمی پبلک سکولز‘ کا قیام عمل میں لایا ہے تاکہ اِس دور دراز قبائلی علاقے کے عوام کو بھی معیاری تعلیم حاصل ہو سکے۔ ملائکہ وزیر پہلی جماعت میں زیرتعلیم بچیوں کو درس دیتے ہوئے کبھی اُردو تو کبھی وزیرستانی لہجے میں پشتو زبان کا سہارا لیتیں تاکہ بچوں کو اسباق کا متن منتقل کیا جاسکے۔ دوران درس وہ اُردو اور پشتو میں ملا جلا خطاب کر رہی تھیں کیونکہ بچیوں کی اکثریت اُردو زبان سے آشنا نہیں تھیں۔ ملائکہ وزیر وقتاً فوقتاً انگریزی زبان کے الفاظ بھی استعمال کرتیں۔ اُن کی زیرشفقت طالبات نہایت گرمجوشی سے ہر لفظ کو ادا کرتے ہوئے پڑھائی میں حصّہ لے رہی تھیں اور معلمہ کے الفاظ بلند آواز میں دہراتے ہوئے ثابت کر رہی تھیں کہ اُن کی معلمہ کی محنت رائیگاں نہیں جا رہی۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ و تلخیص : شبیر حسین اِمام)
پاک فوج کے ترجمان ادارے (آئی ایس پی آر) کے ہمراہ اِن مقامات کی سیر کا موقع ملا جس کے لئے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اِن مقامات پر لیجایا گیا۔ جنوبی وزیرستان میں شاکئی کے مقام پر نئی تعمیر ہونے والی شاہراہ دور دراز کے علاقوں کو ملانے کے علاؤہ تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکز کو قریب لے آئی ہے جس سے علاقے میں تعلیم کے فروغ اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شمالی وزیرستان کی وادئ شوال اپنے مکینوں کی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہے جہاں فوجی کاروائی کے ذریعے علاقے کو عسکریت پسندوں کے وجود سے پاک کر دیا گیا ہے اور اب یہ علاقہ تعمیر وترقی کا دور شروع ہونے کی راہ بھی دیکھ رہا ہے جس کے لئے حکمت عملی کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ اسی طرح شاملی وزیرستان کا علاقہ سپین ورم گرم میدانی علاقے پر مشتمل ہے میں معمولات زندگی معمول پر آ گئے ہیں اور مقامی قبائل کا مطالبہ ہے کہ تعمیراتی ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں اور ان کا مطالبات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بجلی و گیس ککی فراہمی‘ سڑکیں اور ہسپتال تعمیر کئے جائیں۔
شاکئی میں پاک فوج کے 9ویں ڈویژن سے تعلق رکھنے والے کرنل عامر اور کرنل عمران نے جنوبی وزیرستان میں ترقیاتی عمل کے حوالے سے معلومات فراہم کیں جس کے لئے وفاقی حکومت اور غیرملکی مالی امداد استعمال کی گئی ہے۔ تین قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی کئی مثالوں سے سمجھی جاسکتی ہے جیسا کہ 335 کلومیٹر طویل سڑک جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراؤں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ تین آرمی پبلک سکول کی شاخیں جہاں اُسی معیار کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے جیسا کہ ملک کے بڑے شہروں میں ہے۔ وانا اُور سپین کئی راغزئی میں دو کیڈٹ کالجوں اُور فنی وتکنیکی علوم حاصل کرنے کے لئے وکیشنل سنٹرز کے قیام سے قبائلی عوام کو جدید تعلیم و ہنر سیکھنے کے مواقع میسر آ گئے ہیں۔ اسی طرح سرکاری سکول و مساجد کی بحالی بھی کر دی گئی ہے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ خریدوفروخت کے مراکز‘ پینے کے صاف پانی کے منصوبے‘ چھوٹے پن بجلی کے منصوبے‘ بچوں کے گیارہ پارک اور ہر تحصیل میں سپورٹس سٹیڈیم (کھیل کود کی سہولیات) فراہم کی گئیں ہیں۔ علاقے میں بجلی کی کمی کا مسئلہ شمسی توانائی کے استعمال سے پورا کیا گیا ہے۔ شولام کے مقام پر متحدہ عرب امارات کے مالی تعاون سے شیخہ فاطمہ بن مبارک ہسپتال قائم کیا گیا ہے جس کا عنقریب افتتاح ہو جائے گا۔ امریکہ کے امدادی ادارے ’یوایس ایڈ‘ کے مالی تعاون سے گومل زام ڈیم تعمیر کیا گیا ہے جو فعال ہے اور 17.4 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے ایک وسیع علاقے میں آبپاشی کی ضروریات بھی پوری کی جا رہی ہیں۔
جنوبی وزیرستان سے 71 ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کی جن کی اکثریت کا تعلق محسود قبیلے سے تھا اور اِن لوگوں کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع ہے۔ شمالی وزیرستان کا علاقہ ’سپین وام‘ موسم کے لحاظ سے مختلف مزاج رکھتا ہے۔ جون 2014ء میں یہاں کے رہنے والوں نے فوجی کاروائی ’ضرب عضب‘ کے دوران اپنے علاقوں سے نقل مکانی نہیں کی کیونکہ انہیں ایسا کرنے کو نہیں کہا گیا۔ اس علاقے میں زیادہ نقصانات بھی نہیں ہوئے۔ سپین وام میں آخری دفعہ دہشت گرد حملہ دو ہزار گیارہ میں ہوا تھا و ایک خودکش حملہ تھا اور اس میں ایک فوجی دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ بریگیڈئر شازوالحق جنجوعہ کے بقول اُن کی کمانڈ کے علاقے میں قبائلی عوام کی سوچ میں انقلابی تبدیلی آئی ہے اور ایک تو انہوں نے اپنی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے اور دوسرا ’سپین وام‘ میں دو سے تین ہزار اسلحہ بھی رجسٹرڈ کرایا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ان علاقوں میں اب عسکریت پسندی کا رجحان نہیں پایا جاتا۔ قبائلی اپنے ہمراہ اسلحہ لیکر نہیں گھومتے جو پہلے مقامی اور غیرملکی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے لیکن اب ترقی کے عمل میں معاون اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بریگیڈئر شازوالحق جنجوعہ کے بقول سپین وام سے براستہ کاکا زیارت افغانستان کے صوبہ خوست کو پولٹری مصنوعات کی بالخصوص اسمگلنگ میں کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ سرحد کو بند کرنا ہے۔ شمالی وزیرستان کے اس علاقے میں مال مویشیوں کی علاج گاہیں تعمیر کی گئیں ہیں جن سے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوشحالی گاؤں میں گیس کے ذخائر بھی ہیں اور شمالی وزیرستان میں کرومائٹ کی کان کنی اور گیس سے علاقے میں تعمیر وترقی و اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور اس سے خوشحالی آ سکتی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جنوبی وزیرستان میں طالبات کے ایک تعلیمی ادارے بھی لیجایا گیا شاکئی میں ’آرمی پبلک سکول‘ کی معلمہ ملائکہ وزیر نے بطور معلمہ اپنی عملی زندگی کے آغاز کو درست فیصلہ قرار دیا اور وہ ایک معلمہ کا کردار ادا کرنے پر مسرور تھیں۔ وہ اُردو اور پشتو زبانوں میں سوالات کا جواب نہایت ہی اعتماد سے دے رہی تھی۔ انہوں نے طالبات میں پائے جانے والے جوش اور علوم سیکھنے سے متعلق دلچسپی کا بطور خاص ذکر کیا۔ انہوں نے پاک فوج کے کردار کو سراہا جنہوں نے شاکئی میں طلباء و طالبات کے لئے الگ الگ ’آرمی پبلک سکولز‘ کا قیام عمل میں لایا ہے تاکہ اِس دور دراز قبائلی علاقے کے عوام کو بھی معیاری تعلیم حاصل ہو سکے۔ ملائکہ وزیر پہلی جماعت میں زیرتعلیم بچیوں کو درس دیتے ہوئے کبھی اُردو تو کبھی وزیرستانی لہجے میں پشتو زبان کا سہارا لیتیں تاکہ بچوں کو اسباق کا متن منتقل کیا جاسکے۔ دوران درس وہ اُردو اور پشتو میں ملا جلا خطاب کر رہی تھیں کیونکہ بچیوں کی اکثریت اُردو زبان سے آشنا نہیں تھیں۔ ملائکہ وزیر وقتاً فوقتاً انگریزی زبان کے الفاظ بھی استعمال کرتیں۔ اُن کی زیرشفقت طالبات نہایت گرمجوشی سے ہر لفظ کو ادا کرتے ہوئے پڑھائی میں حصّہ لے رہی تھیں اور معلمہ کے الفاظ بلند آواز میں دہراتے ہوئے ثابت کر رہی تھیں کہ اُن کی معلمہ کی محنت رائیگاں نہیں جا رہی۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ و تلخیص : شبیر حسین اِمام)