Tuesday, March 10, 2015

TRANSLATION: Senate Verdict

The Senate verdict
سینیٹ نتائج
ذرائع اَبلاغ کی مؤثر موجودگی اور فعالیت کے سبب اِس مرتبہ سینیٹ اِنتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹوں کی خریدوفروخت (تجارت) ماضی کی طرح نہ ہو سکی۔ اگرچہ پیسے کا کہیں نہ کہیں استعمال تو ہوا ہوگا لیکن یہ فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرسکا اور جہاں کہیں بھی ایسی لین دین ہوئی ہوگی وہ بھی نہایت ہی خفیہ اور خوف کے عالم میں ہوئی ہو گی۔ یہ بات سچ ہے کہ ذرائع ابلاغ نے سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت کے امکانات سے متعلق اطلاعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس کی وجہ سے یہ معاملہ مکتبہ فکر کے درمیان موضوع بحث بنا رہا اور سب کی نظریں پاکستان کے اُس معزز قانون ساز ایوان بالا پر ٹکی رہیں‘ جس کے انتخابات پانچ مارچ کے روز مقررہ وقت کے بعد نصف شب کے قریب اختتام پذیر ہوئے۔ وجہ یہ تھی کہ ہر کوئی احتیاط سے کام لے رہا تھا اور سیاسی جماعتوں کا یہ طرز عمل غیرمعمولی اور پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا۔

سینیٹ کے انتخابات پیچیدہ نہیں بلکہ سادہ ہیں۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق سیاسی جماعتیں قومی و صوبائی اسمبلی میں اپنی نمائندگی کے تناسب سے سینیٹ کے لئے اُمیدوار نامزد کرتی ہیں لیکن ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی یہ ہوا کہ سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے اراکین کی حقیقی تعداد کو خاطر میں لانے کی بجائے زیادہ اُمیدوار نامزد کئے‘ تاکہ اُن کی سینیٹ میں پوزیشن مستحکم ہو۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ تعداد سے زیادہ اراکین کے نامزد ہوتے رہے جو کامیابی کے لئے مطلوبہ تعداد میں ووٹ خرید کر حاصل کرتے ہوں گے کیونکہ جن جماعتوں سے وہ تعلق رکھتے تھے اُن کی ایوانوں میں موجودگی حسب ضرورت اراکین کی تعداد کے مطابق نہیں تھی۔ یہ ایک خوش آئند بات تھی کہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں پیسے کی طاقت فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرسکی ہے۔

یہ کہنا بھی کلی طور پر بجا نہیں ہوگا کہ سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے قانون ساز ایوانوں کے تمام اراکین نے اپنی اپنی جماعت کے نظم وضبط کی مکمل پابندی کی ہوگی۔ کچھ ایسے بھی تھے جن کے لئے پیسوں کی بھاری پیشکش ٹھکرانا آسان نہیں رہا ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سرمایہ دار اُمیدواروں نے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اس قدر پیسہ دیا کہ وہ اپنے ہی اراکین کو ادائیگیاں کریں تاکہ وہ کسی دوسرے اُمیدوار کی پیشکش کی جانب آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ اب ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر آن پڑی ہے کہ وہ ایسے عناصر کی نشاندہی اور اُن کا احتساب کریں کہ جنہوں نے کسی محرک کی وجہ سے اپنا ووٹ پارٹی نظم وضبط یا ہدایات کے مطابق نہیں دیا۔ اگر ماضی کی روایات کو دیکھا جائے تو ایسی مثالیں نہیں ملتیں کہ جس میں سیاسی جماعتوں نے سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت کا خاطرخواہ نوٹس لیا ہو اور ایسے عناصر کا احتساب کیا ہو‘ جنہوں نے ایوان بالا ہی کا نہیں بلکہ جملہ قانون سازاداروں کا وقار مجروح کیا۔

سینیٹ انتخابات کے لئے نامزد اُمیدواروں کے بارے میں اراکین اسمبلی کی اپنی اپنی الگ رائے بھی ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے داخلی تنازعات‘ نامزد اُمیدواروں کی ساکھ اور پارٹی سربراہ کی نذر میں اُن کی حیثیت جیسے محرکات کی وجہ سے اراکین صوبائی اسمبلی اپنی جماعتوں کی جانب سے جاری کردہ نظم وضبط کی پرواہ نہیں کرتے۔ سیاسی جماعتوں کو جانب سے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو سینیٹ کے ٹکٹ دینے کو بھی اراکین صوبائی اسمبلی کی اکثریت نے پسند نہیں کیا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رحمان ملک اور متحدہ قومی موومنٹ کے میاں عتیق کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا لیکن اُنہوں نے صوبہ سندھ کی اسمبلی سے سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے نہال ہاشمی اور سلیم ضیاء کا تعلق سندھ سے تھا لیکن اُنہیں پنجاب سے میدان میں اُتارا گیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے بیرسٹر سیف کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا لیکن وہ سندھ سے سینیٹ کے لئے لڑے۔ وجہ یہ تھی کہ ان میں سے کسی بھی اُمیدوار کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے اپنے آبائی صوبوں سے متعلقہ اسمبلی سے انتخاب میں حصہ لیتے اُور کامیاب بھی ہو جاتے۔ جس سیاسی جماعت کا اثرورسوخ جس کسی بھی صوبے میں تھا‘ اُس نے اپنے منظور نظر افرادکو اُسی صوبے سے سینیٹ انتخابات کے لئے نامزد و کامیاب کرایا۔

سینیٹ کی اُن نشستوں پر انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ (ووٹوں کی خریدوفروخت) ممکن نہیں تھی جن کا تعلق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تھا کیونکہ ایوان زیریں میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی اکثریت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز لیگ کی جانب سے اقبال ظفر جھگڑا اور راحیلہ مگسی نے سینیٹ انتخابات میں باآسانی کامیابی حاصل کر لی۔ اسلام آباد چونکہ پاکستان کے چاروں صوبوں کا ترجمان اور نمائندہ اِکائی ہے‘ اِس لئے وہاں سے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھنے والا سینیٹ انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔

صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی اکثریت ہے‘ اس لئے وہاں سے آنے والے نتائج بھی نواز لیگ ہی کے حق میں رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن نے کامیابی حاصل کی اور اپنی جماعت کے اراکین کی تعداد سے زیادہ ووٹ حاصل کئے لیکن پھر بھی پنجاب سے زیادہ تر نشستیں نواز لیگ ہی کے حق میں رہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی اُن غیرمعمولی کوششوں کا ذکرضروری ہے جو اُنہوں نے 312 اراکین اسمبلی کو راضی رکھنے کے لئے کیں۔

صوبہ سندھ میں صورتحال بڑی حد تک واضح ہی رہی جہاں سے حکمراں پیپلزپارٹی اور شہری علاقوں میں اکثریت رکھنے والی متحدہ قومی موومنٹ نے انتخاب لڑی جانے والی سینیٹ نشستوں پر باآسانی کامیابی حاصل کی۔ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والے اُمیدوار عمادالدین شوقین نے نواز لیگ کی حمایت سے ایک نشست حاصل کرنے کے لئے کھینچا تانی کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ سندھ اسمبلی کی طرح خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی ہوئی پولنگ باکسز میں سے خالی ووٹ برآمد ہوئے جس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ اراکین اسمبلی نے اپنا ووٹ پول کرنے کی بجائے خالی کاغذ ڈال دیا اور اپنا ووٹ ہمراہ باہر لے آئے جہاں اُنہوں نے پارٹی کے نمائندوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لئے دکھایا ہوگا اور بعدازاں وہ ووٹ پول کروا دیا گیا ہوگا۔

بلوچستان اسمبلی سے آزاد اُمیدوار میر یوسف بدنی کی کامیابی حیران کن تھی جنہوں نے نواز لیگ کے سردار یعقوب ناصر کو ایک ایسی صورتحال میں شکست دی جبکہ اُن کی حمایت کرنے والی نواز لیگ کی ایوان میں اکثریت تھی۔

خیبرپختونخوا میں صورتحال زیادہ دلچسپ رہی جہاں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے پارٹی ہدایات کے مطابق ہی ووٹ دیئے۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں یہ پارٹی کے چیئرمین عمران خان کا یہ بیان شامل تھا کہ اگر خیبرپختونخوا اسمبلی میں ووٹوں کی خریدوفروخت ہوئی تو وہ اسمبلی تحلیل کر کے غداری کرنے والے اراکین اسمبلی کے خلاف مقدمات قائم کریں گے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے نواز لیگ کے ساتھ معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے اُمیدواروں کی حمایت کی اور درحقیقت اُنہوں نے ایک تیر سے دو شکار کئے۔ انہوں نے اپنے اور اپنی اتحادی جماعتوں (جماعت اسلامی و عوامی جمہوری اتحاد پاکستان) کے لئے مجموعی طور پر سات نشستیں حاصل کیں۔ ان کی حکمت عملی کی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن کا نامزد اُمیدوار اور اپنے عہدے کی مدت مکمل کرنے والے سینیٹر وقار احمد خان کے بھائی عمار احمد خان کامیاب نہ ہوسکے۔ اگر اجتماعی طور پر خیبرپختونخوا سے سینیٹ انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑی کامیابی تحریک انصاف جبکہ سب سے بڑی ناکامی قومی وطن پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے حصے  میں آئی۔
 
قبائلی علاقے ہر لحاظ سے پیچھے ہی رہتے ہیں۔ سینیٹ اِنتخابات میں بھی قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اَراکین قومی اسمبلی کو ووٹ دینے سے روک دیا گیا اور انتخابات ملتوی کر دیئے گئے جس کی وجہ وہ خصوصی آئین سازی کی کوشش تھی جو نہایت ہی کم وقت میں تیز رفتاری سے کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ آزاد حیثیت رکھنے والے قبائلی اراکین اسمبلی اپنے ووٹوں کی خریدوفروخت نہ کرسکیں۔ یہ معاملہ اب عدالت میں زیرغور ہے۔ جس کا بہتر حل یہی ہوگا کہ قبائلی علاقوں کی سینیٹ میں مخصوص نشستوں پر بھی انتخابات ملک کے دیگر حصوں کے لئے رائج قوانین و قواعد کے مطابق ہی کئے جائیں۔ بارہ قبائلی اراکین قومی اسمبلی چار سینیٹرز کا انتخاب کر سکتے ہیں‘ اور فی ووٹ کی قیمت اِس قدر آسمان سے باتیں کر رہی ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

No comments:

Post a Comment