Thursday, March 12, 2015

Mar2015: Alliance against PTI

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
صلیب وقت کی پکار
اِس سے زیادہ تعمیری بات بھلا اُور کیا ہوسکتی ہے کہ حکمراں جماعت کی قیادت نے اختیارات اور سرکاری وسائل کا استعمال کرنے کی بجائے قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کی سربراہی کا فیصلہ کردیا جو ملک میں سیاسی مصالحت کی کامیابی اور جمہوری سوچ کی عکاسی بھی ہے اور اِس اعتماد و بھروسے کا اظہار بھی کہ سیاسی جماعتوں نے اپنی بقاء صرف اور صرف جمہوریت ہی میں سمجھ لی ہے لیکن یہ اتحاد کی فضاء اور ایک دوسرے کو انتہاء تک برداشت کرنے جیسی روش کہیں پاکستان تحریک انصاف کا راستہ روکنے کے لئے تو نہیں‘ جس کی نظریں آئندہ عام انتخابات پر لگی ہوئی ہیں اور اگر پیپلزپارٹی و نواز لیگ سینیٹ کے موقع پر قائم ہونے والے اتحاد کو آئندہ عام انتخابات تک قائم رکھ لیتے ہیں تو تحریک انصاف کے لئے ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا‘ اگرچہ شہری علاقوں میں اُس کی مقبولیت دیگر جماعتوں سے زیادہ ہی ہو۔ ’’صلح کر لی یہ سوچ کر میں نے۔۔۔میرے دشمن نہ تھے برابر کے!‘‘

اہم سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے ساتھ ظہرانے کی دعوت کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پی پی پی رہنما رضا ربانی کی بطور چیئرمین سینیٹ نامزدگی کی توثیق کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ نگاروں کو حیران کردیا‘ جو سمجھ بیٹھے تھے کہ ملک کی دو بڑی جماعتوں میں گھمسان کا رن پڑنے والا ہے۔ اگرچہ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دے رہا ہے لیکن وزیراعظم کے قریبی حلقوں کا ماننا ہے کہ سینیٹ کی سربراہی پلیٹ میں رکھ کر پیپلزپارٹی کو پیش کرنے کی حکمت عملی کا اعلان ’’بھاری دل‘‘ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ حکمران جماعت سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی نشستیں اپنے نام کرنے کے لئے کوشاں تھی جس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے درمیان طویل عرصے بعد ہونے والا ٹیلیفونک رابطہ بھی شامل تھا‘ درحقیقت راتوں رات پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے طاقت کے اظہار نے نواز لیگ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ اشاروں کنائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی آئندہ حکومت کرنے کے لئے ہوم ورک مکمل کر چکی ہے اور اس سلسلے میں حزب اختلاف کا کردار نبھانے کے لئے نواز لیگ نے جس رضامندی کا اظہار کیا ہے وہ سخت گیر انتخابی عمل کی وجہ سے ہے کیونکہ ہر الیکشن دوسرے سے زیادہ شفاف ہوتا جا رہا ہے اور اگر پیپلزپارٹی و نواز لیگ اپنی انتخابی حکمت عملی مل بیٹھ کر طے نہیں کرتی تو تحریک انصاف کے لئے کامیابی آسان ہو سکتی ہے جس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اُس کے پاس انتخابی سیاست کی سمجھ بوجھ و تقاضوں کو سمجھنے یعنی کامیاب ہونے والے اُمیدوار (electables) نہیں!

وزیراعظم کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار کی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے حمایت کے فیصلے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک تو تحریک انصاف آنکھوں میں چبھ رہی ہے اور دوسرا نواز لیگ کچھ ایسی قانون سازی کی خواہاں ہے جس سے سرمایہ دار طبقات کے مفادات اور مستقبل کا سیاسی کردار وابستہ ہے۔ کون نہیں جانتا کہ تحریک انصاف کس قسم کی طاقتور جماعت ہے جس کے بارے میں کوئی بھی اندازہ قائم کرنے والوں کو ایک سو یا یک سو نہیں بلکہ ہزار بار سوچنا پڑتا ہے اور چیئرمین عمران خان پہلے ہی رواں سال کو عام انتخابات کا سال قرار دے چکے ہیں۔ بھلا پیپلزپارٹی اور نواز لیگ اِس اعلان کو کیسے درخوراعتناء سمجھ سکتے ہیں‘ جنہیں عمران خان کی صداقت‘ جذبے‘ جنون اور عوام کو جمع کرنے کا ہنر آتا ہے۔ 126 کا احتجاج بھلا کون فراموش کرسکتا ہے جس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مثال تک نہیں ملتی۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں (پیپلزپارٹی اور نواز لیگ) نے سمجھ لیا ہے کہ کمزور پارلیمینٹ عام انتخابات کی تاریخ کو قریب لا سکتی ہے‘ اور یہی وجہ ہے کہ باہمی اختلافات یکے بعد دیگرے ختم کئے جا رہے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیار ولی خان کے اصرار نے بھی وزیراعظم پر کچھ نہ کچھ اثرات ضرور مرتب کئے ہوں گے جو مشترکہ طور پر آئندہ کی خیبرپختونخوا حکومت میں کلیدی کردار ادا کرنے کا عزم رکھتی ہیں لیکن اگر تحریک انصاف نے یکایک ایک اور احتجاجی تحریک شروع کردی تو پھر کیا ہوگا؟ کیا ایسی صورت میں سینیٹ کے تناظر میں منظرعام پر آنے والے ’باسہولت اتحاد‘ سے خاطرخواہ نتائج حاصل کئے جا سکیں گے؟ بنیادی بات یہ ہے کہ نواز لیگ کے لئے یہ بات زندگی وموت جیسی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ مارچ دو ہزار اٹھارہ تک رواں قانون سازی کے عمل کو مکمل کرے جبکہ اُس وقت آئندہ عام انتخابات میں بھی چند ماہ ہی باقی ہوں۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں نپی تلی ٹائمنگ بڑی اہم ہے۔ حکمراں جماعت کے ایک رکن پارلیمنٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے لئے سخت مقابلہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرنے کے لئے کافی تھا۔ رضا ربانی کا غیرمتنازع سیاسی پس منظر جو کہ حقیقی جمہوریت پسند کی شہرت بھی رکھتے ہیں‘ نے بھی نواز لیگ کو اس نامزدگی کو منظور کرنے کے لئے تیار کیا۔

رضا ربانی متعدد مواقعوں پر اپنی پارٹی کی حکومت پر بھی تنقید کرچکے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ حکمران جماعت کے اندر بھی متعدد افراد نے انہیں ایک اچھا امیدوار قرار دیا۔ طاقتور وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار جن کے رضا ربانی سے جمہوریت کی بحالی کے لئے اتحاد کے دنوں سے اچھے تعلقات ہیں‘ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہوں نے بھی اس فیصلے کی حمایت اور اسے منظور کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب پیپلزپارٹی‘ متحدہ‘ عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں یکجا ہو گئیں تھیں تو پھر نواز لیگ کے پاس ’مصالحتی پوزیشن‘ کے سوا کوئی دوسرا ’آپشن‘ باقی نہیں رہ جاتاتھا۔ جو بھی ہوا‘ بہت اچھا لیکن کیا بات صرف عددی برتری ہی کی تھی جس کی وجہ سے نواز لیگ ایک قدم پیچھے ہٹی ہے‘ اگر نہیں تو پاکستان میں ایک حقیقی حزب اختلاف کی ضرورت کل سے زیادہ آج محسوس کی جارہی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو چاہئے کہ وہ قومی اسمبلی سے باہر رہنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں‘ کیونکہ صرف وہی ایک ایسی جماعت ہے‘ جو حزب اختلاف کا کردار ادا بھی کر سکتی ہے اور اِس بات کی اہل بھی ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے شفاف انعقاد کی ضمانت بنے۔ سیاست اِسی کو کہتے ہیں کہ جس میں کوئی بھی مؤقف ’حرف آخر‘نہ ہو!
PMLN and PPP alliance against PTI, do we have a opposition party in Pakistan

No comments:

Post a Comment