ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ظلم کادستور‘ تقدیر اُور اَندیش بابا
ظلم کادستور‘ تقدیر اُور اَندیش بابا
اَقوام متحدہ کے ذیلی اِدارے ’یونیسیف‘ کی جاری کردہ رپورٹ میں اِس
اِنسانیت سوز فعل پر گہری تشویش کا اِظہار کیا گیا ہے کہ ’’قبائلی علاقوں
سے تعلق رکھنے والے نوعمرافراد سے قیدخانوں میں اچھا سلوک روا نہیں رکھا
جاتا جبکہ انہیں بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔‘‘ المیہ یہ
ہے کہ جب تک ہمارے معاشرے میں ہونے ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پائمالی
کے خلاف کوئی عالمی ادارہ تشویش کا اظہار نہ کرے اور جب تک پوری دنیا میں
پاکستان کا نام ایسی خبروں کے ساتھ جوڑ کر پیش نہ کیا جائے کہ جن پر آہوں‘
سسکیوں اور خون کے چھینٹے و دھبے لگے ہوئے ہوں‘ ہمارے ارباب اختیار کے کان
پر جوں تک نہیں رینگتی۔ خلاؤں پر نظر رکھنے جیسی روش کی بدولت ہمیں اپنے
پاؤں دکھائی نہیں دے رہے۔
پاکستان میں بچوں کی حالت (زار) کے عنوان سے جاری یونیسیف (UNICEF) کی رپورٹ میں نوعمر افراد سے متعلق آئین اور قواعد کی اُن شقوں کا گہرائی سے جائزہ لیاگیا ہے‘ جو بنیادی انسانی حقوق اور خود پاکستان کے قوانین سے متصادم ہیں۔ سال 2000ء کے ایک خاص قانون میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی وفاقی محتسب کا ادارہ بھی کر چکا ہے‘ جن کی کئی ایک مثالیں چاروں صوبوں میں معمولی جستجو سے مل جاتی ہیں لیکن رپورٹ میں بالخصوص قبائلی علاقوں کو موضوع بنایا گیا ہے جہاں ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر)‘ کے قواعد اِس حد تک ’’امتیازی‘ ظالمانہ (استبدادانہ‘ سخت گیر و سفاکانہ)‘‘ ہیں‘ کہ اِن کا اطلاق سات سال کی عمر تک کے بچوں پر بھی ہوتا ہے۔ ’ایف سی آر‘ کے تحت گرفتار ہونے والے افراد بشمول بچوں سے سخت قسم کی مشقت لی جاتی ہے جو پاکستان کے بچوں کے حقوق اور جرائم کی صورت اُن سے روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یاد رہے کہ بچوں کے لئے انصاف کا قانون مجریہ 2000ء (جوویلین جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000ء) کا اطلاق ایک صدارتی حکمنامے کے تحت اُن قبائلی علاقوں پر 20 اکتوبر 2004ء سے کر دیا گیا ہے جو صوبائی حکومت کے زیرکنٹرول (پاٹا) ہیں۔ اِس آرڈیننس کا دائرۂ کار بعدازاں وفاق کے زیرکنٹرول قبائلی علاقوں تک بھی پھیلا دیا گیا لیکن اِس پر خاطرخواہ عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی ایک عالمی رپورٹ میں کی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں سے بات چیت کی جائے تو وہ اِس قدر خوفزدہ پائے جاتے ہیں کہ ’ایف سی آر‘ سے متعلق سوال کا جواب ’ہوں یا ہاں‘ سے زیادہ میں نہیں دے پاتے۔ ’آف دی ریکارڈ‘ بات کی جائے تو اُن کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ زبان لڑکھڑانے لگتی ہے اور یہ الفاظ بمشکل ادا ہوتے ہیں کہ ’’ظلم کا دستور اور قبائلی تقدیر نہ جانے کب بدلے گی!‘‘
حقیقت حال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کو بنیادی سہولیات تو دور کی بات وہ آئینی حقوق بھی حاصل نہیں جو بندوبستی (باقی ماندہ پاکستانی) علاقوں میں رہنے والوں کو حاصل ہیں۔ کیا وفاق پاکستان (کسی ایک اکائی) نے قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کے حقوق کی ادائیگی سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے تو پھر بھی بہت دور ہیں‘ قبائلی علاقہ جات سے متصل پشاور کا رویہ بھی قابل ذکر نہیں۔ قبائلی علاقوں کی اپنی روایات واقدار کا بہانہ بنا کر اُن پر جو حکمران مسلط کئے جاتے ہیں‘ اُن کی اکثریت کا تعلق ’اِن علاقوں سے نہیں ہوتا!‘ حتیٰ کہ اُن میں سے چند ایک ایسے بھی ہیں جو قبائلی لب و لہجے میں تو کیا‘ میدانی علاقوں کی پشتو زبان بھی روانی سے نہیں بول سکتے! سب کی نظریں قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے مالی وسائل پر ہیں‘ افغانستان کے ساتھ باضابطہ و بے ضابطہ تجارت سے مالی فوائد اُٹھانے والوں میں اعلیٰ و ادنی سرکاری اہلکار ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کے نام آتے ہیں! اِن درآمدی حکمرانوں‘ متعصب فیصلہ سازوں اور حاکمانہ طرز عمل رکھنے والے منتظمین (پولیٹیکل ایڈمنسٹریشن) کے ذریعے جن انسانوں کو غلام بنا کر رکھا گیا‘ وہ محب وطن اور عزت نفس جیسی غیرت سے مالا مال نہ ہوتے تو کب کے پاکستان سے علیحدگی اختیار کر چکے ہوتے۔
طبقات کو محروم و محکوم کرنے کی حکمت عملی اگر برطانوی راج نے مرتب کی گئی تھی تو اِس میں تبدیلی ناگزیر حد تک ضروری ہے کیونکہ بات صرف انسانی حقوق کی پائمالی ہی کی نہیں بلکہ منظم جرائم پیشہ‘ عسکریت پسند اور انتہاء پسند گروہوں کی بھی ہے جو ’ایف سی آر‘ جیسے امتیازی قواعد و ضوابط کی آڑ لئے ہوئے ہیں۔ 2 ہزار 640کلومیٹر (1640 میل) پر پھیلے پاک افغان سرحد سے متعلق 1893ء میں ایک معاہدہ برطانوی سفارتکار سر مارٹیمر ڈیورنڈ اور افغان امیر عبدالرحمن خان کے درمیان ہوا تھا‘ جس کے تحت افغانستان کے برطانوی راج سے تعلقات و تجارت جیسے معاملات طے کرتے ہوئے طاقت کے نشے میں دھت برطانوی راج نے افغان کو ایک آزاد حیثیت کے طور پر تسلیم کیا اور پختون و بلوچ مقامی قبائل کو تقسیم کرتے ہوئے جو سرحد بنائی گئی‘ اُس سے متصل سات قبائلی علاقے اور چھ فرنٹیئر ریجنز (نیم قبائلی علاقوں) پر مشتمل ہے۔ برطانوی راج کے مفادات کے تحفظ کے لئے بعدازاں ’ایف سی آر‘ نامی قواعد تشکیل دیئے گئے‘ جو ترامیم کے بعد 1901ء سے موجودہ شکل میں رائج ہیں اور ان میں وقتاًفوقتاً ترامیم بھی ہوتی رہتی ہیں جیسا کہ 1947ء میں ہوئی ایک ترمیم کے مطابق کسی بھی قبائلی علاقے کے رہنے والے کو گرفتار کیا جاسکتا ہے اگرچہ اُس نے کوئی بھی جرم نہ کیا ہو!
پس تحریر: پشتو زبان کے معروف شاعر‘ ادیب اور دانشور شمس القمر اَندیش آٹھ مارچ کی شب خالق حقیقی سے جاملے۔ ’اَندیش بابا‘ کی رحلت سے پشتو ادب ایک علمی شخصیت سے محروم ہوا ہے‘ جو اپنی ذات میں ایک تحریک تھے۔ آپ ’اُولسی اَدبی ٹولنہ مردان‘ کے بانی اَراکین میں شمار کئے جاتے ہیں اور آپ کا تعلق ضلع مردان کے ’مایار‘ نامی گاؤں سے تھا۔ اُن کی شاعری و علمی اَدبی شہ پارے غیرمطبوعہ ہیں جبکہ وہ اپنی زندگی میں ایک ہی کتاب شائع کرنے میں کامیاب ہوسکے جس کا نام ’فخر اَفغان‘ تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے ’پاکستان کا بہترین شاعر‘ ہونے کا اِعزاز رکھنے والے ’اَندیش بابا‘ 1933ء میں پیدا ہوئے اور اپنے آبائی علاقے میں ایک میڈیکل سٹور چلا کر گزر بسر کرتے تھے۔ اَلمیہ ہے کہ ہمارے ہاں شاعر و ادیب اور دانشوروں کے کلام وکام کو اُس وقت سراہا جاتا ہے جب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہتے۔ آج بھی کئی ایک شاعر‘اَدیب‘ مفکر اور دانشور زندہ ہیں‘ جن کی خدمات کو سراہا جائے تو اس سے نہ صرف اَدبی شعبے میں اِس خطے کی سوچ و کارکردگی نمایاں ہو سکے گی‘ بلکہ اَمن کا وہ پیغام بھی عام ہو سکے گا‘ جو پورے ملک کی ضرورت ہے۔ اپنی زبان و ثقافت پر فخر اُور ’خدائی خدمتگار تحریک‘ کی فکر کو توانا کرنے میں ’اندیش بابا‘ کی ادبی و عملی پرخلوص خدمات ہمیشہ زندہ اور یاد رکھی جائیں گے۔
پاکستان میں بچوں کی حالت (زار) کے عنوان سے جاری یونیسیف (UNICEF) کی رپورٹ میں نوعمر افراد سے متعلق آئین اور قواعد کی اُن شقوں کا گہرائی سے جائزہ لیاگیا ہے‘ جو بنیادی انسانی حقوق اور خود پاکستان کے قوانین سے متصادم ہیں۔ سال 2000ء کے ایک خاص قانون میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی وفاقی محتسب کا ادارہ بھی کر چکا ہے‘ جن کی کئی ایک مثالیں چاروں صوبوں میں معمولی جستجو سے مل جاتی ہیں لیکن رپورٹ میں بالخصوص قبائلی علاقوں کو موضوع بنایا گیا ہے جہاں ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر)‘ کے قواعد اِس حد تک ’’امتیازی‘ ظالمانہ (استبدادانہ‘ سخت گیر و سفاکانہ)‘‘ ہیں‘ کہ اِن کا اطلاق سات سال کی عمر تک کے بچوں پر بھی ہوتا ہے۔ ’ایف سی آر‘ کے تحت گرفتار ہونے والے افراد بشمول بچوں سے سخت قسم کی مشقت لی جاتی ہے جو پاکستان کے بچوں کے حقوق اور جرائم کی صورت اُن سے روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یاد رہے کہ بچوں کے لئے انصاف کا قانون مجریہ 2000ء (جوویلین جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000ء) کا اطلاق ایک صدارتی حکمنامے کے تحت اُن قبائلی علاقوں پر 20 اکتوبر 2004ء سے کر دیا گیا ہے جو صوبائی حکومت کے زیرکنٹرول (پاٹا) ہیں۔ اِس آرڈیننس کا دائرۂ کار بعدازاں وفاق کے زیرکنٹرول قبائلی علاقوں تک بھی پھیلا دیا گیا لیکن اِس پر خاطرخواہ عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی ایک عالمی رپورٹ میں کی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں سے بات چیت کی جائے تو وہ اِس قدر خوفزدہ پائے جاتے ہیں کہ ’ایف سی آر‘ سے متعلق سوال کا جواب ’ہوں یا ہاں‘ سے زیادہ میں نہیں دے پاتے۔ ’آف دی ریکارڈ‘ بات کی جائے تو اُن کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ زبان لڑکھڑانے لگتی ہے اور یہ الفاظ بمشکل ادا ہوتے ہیں کہ ’’ظلم کا دستور اور قبائلی تقدیر نہ جانے کب بدلے گی!‘‘
حقیقت حال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کو بنیادی سہولیات تو دور کی بات وہ آئینی حقوق بھی حاصل نہیں جو بندوبستی (باقی ماندہ پاکستانی) علاقوں میں رہنے والوں کو حاصل ہیں۔ کیا وفاق پاکستان (کسی ایک اکائی) نے قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کے حقوق کی ادائیگی سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے تو پھر بھی بہت دور ہیں‘ قبائلی علاقہ جات سے متصل پشاور کا رویہ بھی قابل ذکر نہیں۔ قبائلی علاقوں کی اپنی روایات واقدار کا بہانہ بنا کر اُن پر جو حکمران مسلط کئے جاتے ہیں‘ اُن کی اکثریت کا تعلق ’اِن علاقوں سے نہیں ہوتا!‘ حتیٰ کہ اُن میں سے چند ایک ایسے بھی ہیں جو قبائلی لب و لہجے میں تو کیا‘ میدانی علاقوں کی پشتو زبان بھی روانی سے نہیں بول سکتے! سب کی نظریں قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے مالی وسائل پر ہیں‘ افغانستان کے ساتھ باضابطہ و بے ضابطہ تجارت سے مالی فوائد اُٹھانے والوں میں اعلیٰ و ادنی سرکاری اہلکار ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کے نام آتے ہیں! اِن درآمدی حکمرانوں‘ متعصب فیصلہ سازوں اور حاکمانہ طرز عمل رکھنے والے منتظمین (پولیٹیکل ایڈمنسٹریشن) کے ذریعے جن انسانوں کو غلام بنا کر رکھا گیا‘ وہ محب وطن اور عزت نفس جیسی غیرت سے مالا مال نہ ہوتے تو کب کے پاکستان سے علیحدگی اختیار کر چکے ہوتے۔
طبقات کو محروم و محکوم کرنے کی حکمت عملی اگر برطانوی راج نے مرتب کی گئی تھی تو اِس میں تبدیلی ناگزیر حد تک ضروری ہے کیونکہ بات صرف انسانی حقوق کی پائمالی ہی کی نہیں بلکہ منظم جرائم پیشہ‘ عسکریت پسند اور انتہاء پسند گروہوں کی بھی ہے جو ’ایف سی آر‘ جیسے امتیازی قواعد و ضوابط کی آڑ لئے ہوئے ہیں۔ 2 ہزار 640کلومیٹر (1640 میل) پر پھیلے پاک افغان سرحد سے متعلق 1893ء میں ایک معاہدہ برطانوی سفارتکار سر مارٹیمر ڈیورنڈ اور افغان امیر عبدالرحمن خان کے درمیان ہوا تھا‘ جس کے تحت افغانستان کے برطانوی راج سے تعلقات و تجارت جیسے معاملات طے کرتے ہوئے طاقت کے نشے میں دھت برطانوی راج نے افغان کو ایک آزاد حیثیت کے طور پر تسلیم کیا اور پختون و بلوچ مقامی قبائل کو تقسیم کرتے ہوئے جو سرحد بنائی گئی‘ اُس سے متصل سات قبائلی علاقے اور چھ فرنٹیئر ریجنز (نیم قبائلی علاقوں) پر مشتمل ہے۔ برطانوی راج کے مفادات کے تحفظ کے لئے بعدازاں ’ایف سی آر‘ نامی قواعد تشکیل دیئے گئے‘ جو ترامیم کے بعد 1901ء سے موجودہ شکل میں رائج ہیں اور ان میں وقتاًفوقتاً ترامیم بھی ہوتی رہتی ہیں جیسا کہ 1947ء میں ہوئی ایک ترمیم کے مطابق کسی بھی قبائلی علاقے کے رہنے والے کو گرفتار کیا جاسکتا ہے اگرچہ اُس نے کوئی بھی جرم نہ کیا ہو!
پس تحریر: پشتو زبان کے معروف شاعر‘ ادیب اور دانشور شمس القمر اَندیش آٹھ مارچ کی شب خالق حقیقی سے جاملے۔ ’اَندیش بابا‘ کی رحلت سے پشتو ادب ایک علمی شخصیت سے محروم ہوا ہے‘ جو اپنی ذات میں ایک تحریک تھے۔ آپ ’اُولسی اَدبی ٹولنہ مردان‘ کے بانی اَراکین میں شمار کئے جاتے ہیں اور آپ کا تعلق ضلع مردان کے ’مایار‘ نامی گاؤں سے تھا۔ اُن کی شاعری و علمی اَدبی شہ پارے غیرمطبوعہ ہیں جبکہ وہ اپنی زندگی میں ایک ہی کتاب شائع کرنے میں کامیاب ہوسکے جس کا نام ’فخر اَفغان‘ تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے ’پاکستان کا بہترین شاعر‘ ہونے کا اِعزاز رکھنے والے ’اَندیش بابا‘ 1933ء میں پیدا ہوئے اور اپنے آبائی علاقے میں ایک میڈیکل سٹور چلا کر گزر بسر کرتے تھے۔ اَلمیہ ہے کہ ہمارے ہاں شاعر و ادیب اور دانشوروں کے کلام وکام کو اُس وقت سراہا جاتا ہے جب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہتے۔ آج بھی کئی ایک شاعر‘اَدیب‘ مفکر اور دانشور زندہ ہیں‘ جن کی خدمات کو سراہا جائے تو اس سے نہ صرف اَدبی شعبے میں اِس خطے کی سوچ و کارکردگی نمایاں ہو سکے گی‘ بلکہ اَمن کا وہ پیغام بھی عام ہو سکے گا‘ جو پورے ملک کی ضرورت ہے۔ اپنی زبان و ثقافت پر فخر اُور ’خدائی خدمتگار تحریک‘ کی فکر کو توانا کرنے میں ’اندیش بابا‘ کی ادبی و عملی پرخلوص خدمات ہمیشہ زندہ اور یاد رکھی جائیں گے۔

No comments:
Post a Comment