Monday, March 9, 2015

Mar2015: Reforms needed

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
چہرے نہیں نظام بدلو!
خیبرپختونخوا حکومت نے کابینہ میں چوتھی مرتبہ ردوبدل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا مقصد اِداروں کی ’کارکردگی بہتر بنانا‘ جبکہ خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لئے وزیراعلیٰ کے دو خصوصی معاونین اور ایک مشیر کی خدمات سے استفادہ ختم کیا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں ہوئے فیصلوں کی حتمی منظوری تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان دیں گے‘ جن کا آئندہ ہفتے دورہ متوقع ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ گیارہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں کامیابی سے حکومت سازی اور بعدازاں ترقیاتی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے اُن انتخابی وعدوں کو بہت کم اہمیت دی گئی‘ جو پورے وثوق اور دلجمعی سے کئے جاتے رہے اور اِس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ تحریک انصاف ذہنی طور پر صرف ایک صوبے یعنی خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے لئے تیار نہیں تھی۔ مثال کے طورپر دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز نے قومی اسمبلی کی 270 نشستوں کے لئے 220 اُمیدواروں کو نامزد کیا جن میں سے 125 کامیاب رہے اور انہوں نے مجموعی طورپر ایک کروڑ سینتالیس لاکھ چورانوے ہزار ایک سو اٹھاسی ووٹ حاصل کئے جبکہ ’پاکستان تحریک انصاف‘ نے 232 اُمیدواروں کو قومی اسمبلی کے ٹکٹ دیئے جن میں سے ستائیس کامیاب ہونے والے اُمیدواروں نے مجموعی ووٹ 75 لاکھ 63 ہزار 504 ووٹ حاصل کئے۔ اِس تناسب سے تحریک انصاف ووٹ حاصل کرنے والی ملک کی دوسری بڑی جماعت کا اعزاز رکھتی ہے لیکن 68 لاکھ 22 ہزار 958 ووٹوں کے ساتھ پیپلزپارٹی نے 31 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انتخابی حکمت عملی‘ انتخابی جلسے‘ عمومی مقبولیت اور حاصل کردہ ووٹ الگ الگ مراحل ہیں‘ جن کا آپسی توازن رکھنے کا تجربہ ہی ’سیاست‘ کہلاتا ہے‘ اُور تحریک انصاف ’پولنگ ڈے اسکیم‘ نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی عذرداریوں کے جال و جنجھال میں جا پھنسی۔

کامیاب ’انتخابی سیاست‘ کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں جن میں سرفہرست ترقیاتی حکمت عملیوں کی رفتار تیز کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ملازمتوں کے مواقع بڑھائے جاتے ہیں۔ اچھے طرز حکمرانی کے ذریعے عام آدمی کو ملنے والی سہولیات اور مراعات میں اضافہ کیا جاتا ہے اور عام آدمی کے لئے ٹیکسوں (محصولات)‘ یوٹیلٹی بلز کی شرح میں کمی لائی جاتی ہے۔ یہ سب ایسے معاملات ہیں جن کا صوبائی حکومت سے بہت کم تعلق بنتا ہے۔ رواں ہفتے وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ اُن تمام طبقات سے آمدنی و رہن سہن کی بنیاد پر ٹیکس وصول کیا جائے جو شاہانہ زندگی تو بسر کرتے ہیں لیکن ’ٹیکس چوری‘ کے زمرے میں آتے ہیں یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن وفاقی وزارت خزانہ میں ہونے والے فیصلوں سے آگاہ ایک اہلکار نے بتایا کہ ’ٹیکس نیٹ‘ بڑھانے کا فیصلہ تو کر لیا گیا ہے لیکن بااثر افراد اِس کی ’زد‘ میں نہیں آئیں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کا صرف 9.5 فیصد ٹیکسوں سے وصول ہوتا ہے جو کہ دنیا بھر میں سب سے کم شرح ہے لیکن جن کم آمدنی رکھنے والے جن طبقات سے پاکستان ٹیکس وصول کیا جاتا ہے‘ اُن سے بیرون ملک نرمی کا سلوک برتا جاتا ہے۔ ماہانہ تنخواہوں‘ بجلی و گیس کے بلوں حتیٰ کہ ایک ماچس کی خریداری کرنے والوں کو بھی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے لیکن اربوں روپے کمانے والے حساب کتاب کے ایسے ماہرین کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں جو اُنہیں ’غریبوں‘ میں شمار کرنے کے لئے دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں۔ اِسی بے قاعدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے جن شرائط پر سختی سے عمل درآمد کا تقاضا کیا گیا ہے‘ اس سلسلے میں ڈھائی لاکھ ایسے افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے جن سے آئندہ مالی سال کے دوران کم و بیش 14 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے عام انتخابات میں اِس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آنے کی صورت میں اُن طبقات سے زیادہ ٹیکس وصول کرے گی جو حقیقی آمدنی چھپائے بیٹھے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزارت خزانہ نے مجموعی قومی آمدنی میں محصولات کی شرح نو سے پندرہ فیصد کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی سے متعلق کوئی رائے قائم کرنے سے قبل ہمیں مجموعی قومی آمدنی اور محصولات کی صورتحال پر نگاہ کرنا ہوگی۔ وہ معاملات جو صوبائی حکومت کے اختیار میں نہیں بھلا کیسے ان کی کارکردگی کا ثبوت ہو سکتے ہیں لیکن بہتر طرز حکمرانی کے قیام اور غیرترقیاتی اخراجات میں کمی لانے کے جو وعدے کئے تھے‘ عام انتخابات سے قبل کئے گئے تھے‘ اُن کی تعمیل میں جو اَمر بھی مانع ہے‘ اُس کا منطق سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔

 ترقیاتی حکمت عملیوں پر سست روی سے عمل درآمد ہونے کی وجہ سے کئی ایک ضروری شعبے متاثر ہو رہے ہیں بالخصوص صوبے کے اُن تمام بالائی حصوں میں مواصلات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا نظام برفباری کی وجہ سے درہم برہم ہو چکا ہے۔ اگر بروقت ترقیاتی حکمت عملیوں کے لئے مالی وسائل فراہم کئے جاتے تو بالائی علاقوں کے رہنے والوں کو یوں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ صوبائی کابینہ میں چہروں کی تبدیلی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اُن ترجیحات پر ترجیحاً نظرثانی کی ضرورت ہے جنہیں سردخانے کی نذر کر دیا گیا ہے۔ ہزارہ ڈویژن کے بالائی علاقے بالخصوص نتھیاگلی سے مری کو ملانے والی شاہراہ برفباری کی وجہ سے گذشتہ ایک ہفتے سے بند ہے‘ سیاح مشکلات کا شکار جبکہ مقامی افراد کی بنیادی سہولیات اور علاج معالجے کے لئے مرکزی شہروں تک رسائی ممکن نہیں رہی۔ ہرسال کی طرح اِس مرتبہ بھی برف ہٹانے کا کام خرابیوں کا مجموعہ ہے‘ جس پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ چہرے نہیں بلکہ موجودہ نظام کی تبدیلی پر زیادہ توجہ دی جائے!

No comments:

Post a Comment