Sunday, March 8, 2015

Mar2015: Rain & Police Stations

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بارش: قطرہ قطرہ موت!
موسم کی اَنگڑائی کے سبب خیبرپختونخوا کے میدانی و بالائی علاقے بہار میں قدم رکھنے کے بعد پھر سے سردی کی طرف لوٹ رہے ہیں‘ ماحولیاتی تنوع میں بگاڑ کے سبب موسمیاتی مزاج میں اِس قسم کا غیرمتوقع اور فوری و شدید ردوبدل خوش آئند نہیں بالخصوص زراعت پر انحصار کرنے والی ساٹھ فیصد سے زائد معیشت ہی کے لئے نہیں بلکہ کچی و پختہ تعمیرات کے لئے بھی بارش کا یہ وقفوں وقفوں سے جاری سلسلہ‘ برفباری اور بناء گرج چمک بادل کی آمدورفت نقصان کا باعث ہیں‘ کاش ہم ماحولیات کے تحفظ اور اپنی ذمہ داریوں کا ادارک اِس مرحلے پر بھی کر لیں کہ صنعتی ترقی بطور ترجیح‘ ماحول دشمن گیسیوں کا اخراج بغرض ضرورت اور شجرکاری بصورت احتیاط کرنے کی بجائے درختوں کی کٹائی بشمول اُن تمام محرکات پر قابو پانا ضروری ہے‘ جو ہمارے دانستہ روئیوں یعنی ’ماحول دشمنی‘ کا عملی اِظہار ہیں۔

حالیہ بارشوں کے سلسلے نے اُن تمام اقدامات و انتظامات کا بھرم بھی بیچ چوراہے توڑ دیا ہے جو پشاور جیسے مرکزی شہر سے متعلق تھے۔ مثال کے طورپر صوبائی دارالحکومت کا ہر باشندہ امن و سکون سے رہنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں محکمۂ پولیس سے توقعات وابستہ کئے ہوئے اِس بات کی دھیان نہیں کر رہا کہ فرائض و ذمہ داریوں کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو کیا کچھ سہولیات دی گئیں ہیں مثال کے طور پر بارش سے بچنے کے لئے کیا وسائل مہیا کئے گئے ہیں۔ تھانہ جات اور پولیس چوکیوں کی چند ایک عمارتیں اتنی عمررسیدہ ہو چکی ہیں کہ اب اُن کا کسی بھی مقصد بالخصوص رہائش کے لئے استعمال محفوظ نہیں۔

المیہ ہے کہ پولیس کو فراہم کئے جانے والے یونیفارم اور ہیلمٹ (ٹوپیاں) اگر گولہ بارود سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں تو جن چھتوں تلے پولیس اہلکار بارہ سے پندرہ گھنٹے ڈیوٹی دینے کے بعد چند گھنٹے نیند جیسی فطری ضرورت پوری کرتے ہیں وہ بھی قرار واقعی محفوظ نہیں۔ یادش بخیر پشاور کے نواحی علاقے ماشوگگڑ میں ایک چیک پوسٹ بنائی گئی تھی جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس پر گولہ بارود اثر نہیں کرے گا لیکن مذکورہ پولیس پوسٹ میں قیام کرنے والوں کو اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں وہ اِس چوکی کے ملبے تلے ہی دب کر ہلاک نہ ہو جائیں۔

 ماشوگگڑ پولیس پوسٹ کے ایک اہلکار کے بقول ’’دو برس قبل اگر یہ چیک پوسٹ گولہ بارود کے اثرات سے محفوظ بنائی گئی تھی تو پھر دہشت گرد حملوں سے متاثر کیوں ہوئی؟‘‘ پولیس اعلیٰ و ادنی اہلکاروں سے بات کی جائے تو ’آف دی ریکارڈ‘ وہ کچھ سننے کوملتا ہے جسے بیان کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ حکمراں خاندانوں کوپولیس صرف ذاتی حفاظت کے لئے درکار ہے اُور اگر ایسا نہ ہوتا تو محکمہ پولیس کی حالت یہ نہ ہوتی کہ اعلیٰ ترین اہلکار اسلحے و دیگر ضروریات کی خریداری میں بدعنوانی کے مرتکب پایا جاتا۔ ایسے تمام سیاسی و سرکاری اہلکار جن کے مقدمات ’قومی احتساب بیورو‘ کے پاس ہیں اور جنہوں نے اربوں روپے کی بدعنوانی کے عوض کروڑوں روپے ادا کرکے ’مفاہمت‘ کرنے کی سہولت سے فائدہ بھی اُٹھا لیا ہے‘ معاف نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ انہوں نے صرف سرکاری خزانے ہی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سینکڑوں اہلکاروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔

 روایت ہے کہ افسرشاہی اپنے ہم منصب رہے اہلکاروں سے رعائت برتتی ہے اور سیاسی حکمراں بدعنوانی کے اُن معاملات کو زیادہ کریدنا پسند نہیں کرتے جس سے اُن کے ہم منصب رہے سیاست دانوں کے مکروہ چہرے اور افعال قوم پر ظاہر ہوں۔

جس شہر کے پولیس تھانہ جات اور چوکیاں موسلادھار قطرہ قطرہ بارش کو نہ سہہ سکتی ہوں وہ بھلا دہشت گردوں کے آندھی و طوفان جیسے حملوں کے سامنے کیسے کھڑی رہ پائیں گی؟

اگر ہمیں یاد ہو تو دو مارچ کے روز متنی کی حدود میں واقع ’جانی کھوڑ‘نامی پولیس پوسٹ اِسی طرح کی ایک بارش کی نذر ہو گئی تھی‘ جس میں چار ایف سی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔وہ پولیس پوسٹ ایک کرائے کے مکان میں تعمیر کی گئی تھی جس کا استعمال پولیس‘ ایف سی اور حتیٰ کہ فوجی اہلکار بھی کرتے تھے کیونکہ متنی کا علاقہ پشاور سے جڑے قبائلی علاقوں کی سرحد پر واقع ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک دوسرے کے وسائل سے استفادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح بڈھ بیر کے علاقوں سپین قبر‘ مالی خیل‘ شہاب خیل‘ ماشوگگڑ اور چوکی ممریز اس حد تک بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ اپنے ہی بوجھ تلے دب سکتی ہیں۔

 میرا متنی پولیس پوسٹ کی حالت بھی زیادہ قابل اعتبار نہیں۔ ایس پی رورل شاکر بنگش کی جانب سے پشاور پولیس کے سربراہ اعجاز احمد خان کو تحریری طورپر پولیس پوسٹوں کی مخدوش حالت کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے اُور اُمید ہے کہ تین مارچ کو ارسال کردہ تحریر میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے اُن پر ہمدردی سے غور کیا جائے گا۔

پشاور پولیس کو مالی وسائل کے لئے حکومت پر انحصار کرنے کی بجائے نجی شعبے (صنعتکاروں‘ کاروباری افراد‘ تنظیموں اور اُن جاگیرداروں و سرمایہ داروں) سے رابطہ کرنا چاہئے‘ جن کے لئے پولیس کی فعالیت کئی لحاظ سے زیادہ معنی خیز ہے۔ ’سوشل رسپانسبیلٹی (سماجی ذمہ داریوں) کی ذیل میں کم و بیش ہر ادارہ ہی کچھ نہ کچھ پس و پیش رکھتا ہے اور بخوشی تھانہ جات و چوکیوں کی مضبوط تعمیرات میں تکنیکی و مالی معاونت پیش کرے گا لیکن اگر اِس سلسلے میں کوشش کی جائے۔ شہری علاقوں کی نسبت پشاور کے دیہی متھرا‘ اڑمر‘ متنی‘ بڈھ بیر (رنگ روڈ‘ چارسدہ روڈ‘ جی ٹی روڈ) کے ملحقہ علاقے زیادہ توجہ چاہتے ہیں۔

 حال ہی میں خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی نے شمشتو پولیس پوسٹ (اڑمر) کے اچانک دورے کے دوران عمارت کی مخدوش حالت اور وہاں دستیاب بنیادی سہولیات کی کمی کا نوٹس لیا اور چلتے بنے! جب پولیس اہلکاروں کو ہم اپنی طرح کا انسان نہیں سمجھتے کہ جنہیں بھوک‘ پیاس‘ تھکاوٹ اُور سردی گرمی ستاتی ہوگی تو بھلا کیسے اُور کیونکر (خودفریبی پر مبنی) یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ ہمارے آرام وسکون کی ضمانت بنیں گے! پولیس تھانوں اور چیک پوسٹوں میں گرم پانی‘ صاف ستھرے باتھ رومز‘ پینے کے صاف پانی‘ محفوظ درودیوار جیسی ’آسائش‘ نہ سہی کم سے کم اتنا بندوبست تو ہونا ہی چاہئے کہ پولیس اہلکاروں کی قبروں میں تبدیل نہ ہوں! دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے تن من دھن کی بازی لگانے والوں کی جب اپنی ہی زندگیاں محفوظ نہیں۔
Rain and Police Stations

No comments:

Post a Comment