Showing posts with label FCR. Show all posts
Showing posts with label FCR. Show all posts

Tuesday, March 7, 2017

Mar2017: Human cost of security!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اعزازت اور امتیازات!
دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اِداروں کا ’قابل فخر کردار‘ یکساں سراہا جانا چاہئے۔ جو مختلف محاذوں پر ڈٹ کا اُن بیرونی قوتوں کے آلۂ کاروں کا مقابلہ کر رہے ہیں جو پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جوہری صلاحیت رکھنے والا ملک غیرذمہ دار ہے جو قومی (داخلہ) سلامتی کے عالمی معیار پر پورا نہیں اُترتا۔ پاکستان کو درپیش لاتعداد خطرات میں یہ سب سے زیادہ منظم سازش ہے‘ جس سے نمٹنے کے لئے زیادہ سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ اصولی طور پر قانون نافذ کرنے والا ہر ادارہ اور ہر اہلکار اہم ہے کیونکہ سبھی کے فرائض منصبی ایک جیسے ہیں‘ جن کی ادائیگی (خدمات) اور ایک جیسی جانی و مالی قربانیوں کا صلہ بھی ایک جیسا ہی ہونا چاہئے لیکن اگر کہیں ایک جیسی مراعات اور خدمات کا ایک جیسا اعتراف نہیں ہورہا تو اعزازات کی معنوی تکمیل بھی ضروری ہے۔ 

خیبرپختونخوا کہ ضلع بنوں میں تعینات ’فرنٹیئر کانسٹبلری‘ کے ایک جوان (جس کا نام صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے) نے بذریعہ ’ای میل‘ یہ بات متعلقہ حکام کے گوش گزار کرنے کی درخواست کی ہے کہ ’’پاک فوج اور پولیس کی طرح فرنٹیئر کانسٹبلری کے لئے یکساں بنیادوں پر سروس اسٹکچر اور مراعات کی فراہمی کے لئے موجودہ طریقۂ کار پر نظرثانی کی جائے۔‘‘ یاد رہے کہ رواں برس جنوری کے پہلے ہفتے میں بھارت کے کئی فوجیوں نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر اپنے ساتھ جاری امتیازی سلوک کی شکایات نشر کی تھیں‘ جس کی وجہ سے بھارت کی فوج اور حکومت کو شرمندگی اٹھانا پڑی اور سوشل میڈیا پر آج بھی اُن ویڈیوز کی تشہیر جاری ہے‘ جس سے بھارتی اور غیربھارتی ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے مطالب اخذ کئے ہیں لیکن تصور کیجئے کہ اگر پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلح افواج کا کوئی اہلکار ایسی ہی شکایت سوشل میڈیا پر جاری کرے تو اِس فعل سے پاکستان کی کتنی بدنامی ہوگی اور بھارتی ذرائع ابلاغ اِس بات کو کتنا اچھالیں گے۔ سوال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے چاہے وفاقی یا صوبائی ہوں اُن کے اہلکاروں میں احساس محرومی یا منتظمین کے بارے میں تحفظات نہیں ہونے چاہیئں۔ 

بنوں سے تعلق رکھنے والے ’فرنیٹئر کانسٹبلری‘ اہلکار کے مطالبات اور تحفظات جائز ہیں‘ جن پر غور ہونا چاہئے جیسا کہ اُن کا یہ مطالبہ کہ ’’فرنٹیئر کانسٹیبلری کو ’ریگولر پولیس‘ کا درجہ دینے کے ساتھ جدید ہتھیاروں سے لیس کیا جائے۔ ایف سی کی تمام پلاٹونز کو اُن کی اقوام کے حساب سے اپنے اپنے علاقوں کی لائنوں میں مستقل تعینات کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے مالی وسائل کی بچت بھی ہوگی۔ علاؤہ ازیں فرنیٹئر کانسٹیبلری میں خفیہ معلومات یکجا کرنے کے لئے ’انٹلیجنس ونگ‘ کا قیام اور اِس اہم فورس کی عصری تقاضوں کے مطابق ’اپ گریڈیشن‘ کی جائے۔‘‘

سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کے لئے یکساں مراعات اور انہیں عصری تقاضوں کے مطابق اسلحے سے لیس کرنے کی ضرورت کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں بلکہ اِس ضرورت سے ایک قدم آگے سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں میں پائی جانے والی تشویش اور اپنے مستقبل کو لیکر بے یقینی کا خاتمہ بھی یکساں اہم ہے۔ جرمنی کے معروف سماجی امور کے ماہر مایکس ویبر (Max Weber) نے ’سیاست بطور طرز زندگی (پیشہ)‘ کے عنوان سے مقالے میں کہا تھا کہ انسانی معاشرے کی معلوم حدود میں طاقت کے جائز استعمال سے بہتری آتی ہے۔‘‘ اگر ہم قانون نافذ کرنے والے جملہ اِداروں کی ساخت و کارکردگی کا احاطہ کریں تو اِن سبھی کامقصد ریاست کی عمل داری قائم رکھنا اور اسے مضبوط بنانا ہے اور اسی ضرورت کا تقاضا ہے کہ سیکورٹی اداروں میں سیاسی عمل دخل کم سے کم لیکن اُنہیں قانون کے اطلاق اور ملک و معاشرے کو شرپسند عناصر سے محفوظ بنانے کے لئے ترجیحات کا تعین کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ 

وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا اعلان سب سے زیادہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ’چیلنج‘ ہے جس میں ’فرنٹیئر کانسٹبلری‘ بھی شامل ہے اور جب تک ’فرنٹیئر کانسٹبلری‘ کے ادنیٰ اہلکاروں کی صفوں میں پائی جانے والی تشویش اور بے چینی (حق تلفی)کا ازالہ نہیں کیا جاتا اُس وقت تک قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے نفاذ کی کوششیں اور قیام امن کے لئے ہر سو کھلے محاذوں پر کامیابی (فتح) یقینی تو کیا ممکن بھی نہیں ہوگی۔ (جائز) حقوق کی ادائیگی کے بناء ترقی اور امن کے تصورات دھندلے ہی رہیں گے اور ہمارے فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ خواب دیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن خوابوں کی دنیا میں رہنا نہیں چاہئے۔

Sunday, March 22, 2015

Mar2015: Justice delayed is justice denied

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
قانون و انصاف: فوری اُور حسب حال
پندرہ جون دو ہزار چودہ سے شمالی وزیرستان (قبائلی علاقے) میں آغاز ہوئے ’آپریشن ضرب عضب‘ کے لئے مالی سال 2014-15ء میں 700 ارب روپے مختص کئے گئے لیکن اِس قدر خطیر رقم اور فوجی کاروائی کا دائرہ کار دیگر قبائلی علاقوں تک پھیلانے سے صرف چند ایک درجے ہی اطمینان حاصل ہو پایا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2013-14ء کے عرصہ میں کم و بیش چھ ہزار افراد ہلاک ہوئے‘ جن میں سویلین اور سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔ سال دو ہزار پندرہ کے پہلے تین ماہ (تیئس مارچ تک) 315ہلاکتیں ہو چکی ہیں‘ جن میں لاہور کے گرجا گھر پر حملہ بھی شامل ہے جس میں ایک ہی دن 14افراد قتل کر دیئے گئے۔ ملک میں دہشت گرد واقعات کے اِس تسلسل کے دوران خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہے۔ سال 2014ء کے دوران 9 دہشت گرد حملوں میں خیبرپختونخوا کے 196 افراد ہلاک ہوئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق آنے والے دنوں‘ ہفتوں اور مہینوں میں بھی خیبرپختونخوا کے مختلف بڑے شہر (جن میں سے سات کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے) بشمول پشاور پر مزید دہشت گرد حملے ہو سکتے ہیں‘ جن سے بچاؤ کے لئے پولیس حکام سوچ بچار کے عمل میں اُن امکانات کے خاتمے اور آسان اہداف کو محفوظ بنانے کے لئے خفیہ معلومات پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں‘ جو مستقل خطرہ بھی ہیں اور سیکورٹی کے انتظامات پر سوالیہ نشان بھی۔
پشاور میں داخل اور خارج ہونے کے کل 390 راستے شمار کئے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک کی خاطرخواہ نگرانی سے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے پولیس حکام کا اصرار ہے کہ موجودہ افرادی و تکنیکی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے اِن تمام راستوں سے ہر آنے اُور جانے والے کی نگرانی و جانچ ممکن نہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر پولیس کے اعلیٰ آفیسر نے اُن چند خطرات کا بھی ذکر کیا جو پشاور کو ’داخلی طور پر لاحق ہیں‘ اُور جن کا بھی انگلیوں پر شمار ممکن نہیں! ’’تین اطراف میں قبائلی علاقوں سے گھرے ہوئے صوبائی دارالحکومت کو خارجی اور داخلی طور پر خطرات سے متعلق کم و بیش ہرروز ہی خفیہ اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں اُور ہر ایک ایسی اطلاع ملنے کے بعد پشاور پولیس پہلے سے زیادہ فعال ہو جاتی ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ دشمن کہیں نہ کہیں حفاظتی انتظامات میں کوتاہی یا غفلت کی تاک میں ہے اور اُسے وار کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا لیکن آخر کب تک‘ پولیس اہلکار اِس اعصاب شکن نفسیاتی و عملی جنگ کا مقابلہ کب تک جاری رکھ پائے گی جبکہ دشمن کے پاس وقت اُور آسان اہداف کی کوئی کمی بھی نہیں! آخر سیاسی فیصلہ سازوں میں قبائلی و نیم علاقوں کی امتیازی حیثیت ختم کرنے میں اتفاق رائے کیوں نہیں پایا جاتا؟ آخر وہ سب سے ضروری بات ہماری ترجیح کیوں نہیں‘ جس کا تعلق ہمارے مستقبل سے ہے؟‘‘

پشاور پولیس کے پاس افرادی وسائل کی کمی ہے۔ جدید ہتھیاروں‘ گشتی (موبائل) گاڑیوں حتیٰ کہ ایندھن جیسی ضرورت وافر مقدار میں دستیاب نہیں۔ گولہ بارود ناکارہ بنانے والوں اور خواتین پولیس اہلکاروں کی ضروریات الگ سے پوری نہیں ہورہیں۔ تھانہ جات کی کمی اور چوکیاں کی خستہ حالی دور کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ پشاور کو سیکورٹی کے لحاظ سے چھ حصوں میں تقسیم کرکے افرادی و تکنیکی وسائل کی ازسرنو تقسیم کے ساتھ داخلی و خارجی راستوں کی تعداد میں کمی لائی جائے۔ جیسا کہ فصیل شہر کا اندرونی حصہ ماضی کی طرح چودہ‘ سولہ یا بیس راستوں پر مشتمل ہو اور ’شہر‘ کہلانے والے اِس حصے کی حدود کے لئے ایک ہی مرکزی تھانہ جبکہ ہر داخلی و خارجی راستے پر چوکیاں اور مقرر کی جائیں‘ جو نگران بھی ہوں اور مقررہ اُوقات کے علاؤہ آمدورفت کی سختی سے جانچ کریں۔ مثال کے طور پر نصف شب سے فجر تک فصیل شہر کے اندرونی حصوں میں داخلے کا حق صرف اُنہیں افراد کو حاصل ہو‘ جن کے پاس پشاور میں رہائش کمپیوٹررائزڈ قومی شناختی کارڈ میں درج پتے سے ثابت کی جا سکے۔ مہمان کی آمد یا ہنگامی حالات کی صورت میزبان کے کوائف کمپیوٹرائزڈ ڈیٹابیس میں منتقل کردیئے جائیں جو شہر کے سبھی داخلی و خارجی راستوں کے علاؤہ پولیس کے اُس صدر دفتر کو بھی منتقل ہو جائیں جس کا خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے بھی رابطہ رہتا ہے اور کسی بھی مشکوک شخص یا انتہائی مطلوب شخص کی اُس کے کوائف (انگوٹھے کے نشان) یا سبھی اداروں کو اطلاع ہو سکے گی۔ پشاور کے مشرقی‘ مغربی‘ شمالی اور جنوبی حصوں میں شہری و دیہی علاقوں کی تمیز بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ختم ہو رہی ہے۔ رنگ روڈ (پشاور کے جنوبی حصے) کی پٹی حیات آباد تک پھیلی ہوئی ہے‘ جس کے اطراف میں جس تیزی سے رہائشی بستیاں اور تجارتی مراکز قائم ہوئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی اور یہی وہ علاقے ہیں جو درہ آدم خیل اور خیبرایجنسی کے قبائلی علاقوں سے ملتے ہیں‘ جہاں (خیبرٹو نامی) فوجی کاروائی کا مرحلہ جاری ہے۔ تہکال سے یونیورسٹی ٹاؤن‘ راحت آباد‘ اور حیات آباد سے ملنے والا زون (سرکلز) پہلے ہی کنٹونمنٹ حدود کی طرح الگ ہے جبکہ ڈیفنس‘ شامی روڈ‘ چارسدہ روڈ کی پٹی مغربی حصہ اور چغل پورہ‘ موٹروے‘ رنگ روڈ کا جنوبی حصہ جو قدرتی طور پر سرحد کا کام دے سکتا ہے۔ نگرانی کے لئے ٹیکنالوجی پر انحصار‘ سیکورٹی کے لئے پشاور کو پانچ زونز اور ایک کنٹونمنٹ کی حدود میں تقسیم کر دیا جائے تو نگرانی کا عمل نسبتاً آسان اور ایک زون کے افرادی و تکنیکی وسائل کم وقت میں دوسرے کے استعمال کے لئے باآسانی دستیاب ہو سکیں گے۔ ہر زون کی رہائشی بستیوں اور تجارتی مراکز کی نگرانی چوکیوں کے ذریعے زیادہ فعال انداز سے ہو سکے گی کیونکہ موجودہ نظام کے تحت جب جرم کسی ایسے علاقے میں رونما ہوتاہے جہاں دو تھانہ جات کی حدود آپس میں ملتی ہیں تو ’ایف آئی آر‘ کے اندراج سے لیکر تفیشی عمل میں پیچیدگیاں اور رکاوٹیں آڑے آتی ہیں۔

پشاور پولیس کے لئے ایک چیلنج ’منظم جرائم پیشہ گروہ‘ بھی ہیں جنہیں بااثر افراد اور خطرناک مطلوب مجرموں کی پشت پناہی حاصل ہے‘ یہ عناصر پولیس کی توجہ زیادہ بڑے خطرے (دہشت گردی) کی جانب مبذول ہونے کا بھرپور فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں اگر منظم و غیرمنظم جرائم پیشہ عناصر سے الگ الگ معاملہ کیا جائے‘ تو یہ معمہ بھی نسبتاً زیادہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دیوانی (جائیداد سے متعلق) مقدمات کے ذریعے تھانہ کچہری میں سالہا سال اُلجھانے والے کئی گروہ پشاور میں فعال ہیں۔ اگر عدالتوں کے ذریعے انصاف کی فراہمی کا صبرآزما اور طویل طریقۂ کار تبدیل کرنے کے لئے صوبائی حکومت خاطرخواہ قانون سازی کرتی ہے تو اِس سے پولیس کے لئے ’آدھا سر درد‘ بنا معاملہ ختم ہو سکتا ہے۔ پولیس حکام قوانین میں پائے جانے والے سقم سے بیزار ہیں کہ جن پیشہ وروں پر ہاتھ ڈالا جائے‘ انہیں عدالتوں سے ضمانتیں کروانے زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اِس منظرنامے میں پولیسنگ سے توقعات اُس وقت تک پوری نہیں ہو سکتیں جب تک قوانین میں موجود سقم دور نہیں ہو جاتے اُور صرف دہشت گردی ہی میں ملوث کرداروں کا نہیں بلکہ ہر مجرم و جرم سے معاملہ کرنے میں فوری انصاف کا طریقۂ کار وضع نہیں کر لیا جاتا۔

کیا عام آدمی کو فوری انصاف دینا اور دلانان ترجیحات کا حصہ ہے؟ القصہ مختصر ۔۔۔ جہاں قانون ساز اِدارے تماشائی اور اِنصاف کی ضامن عدالتوں کے پاس فوری فیصلے کرنے کی فرصت نہ رہی ہو‘ وہاں کے حفاظتی انتظامات قابل دید تو ہو سکتے ہیں‘ لیکن اُن پر کلی بھروسہ (توکل) نہیں کیا جاسکتا۔
Governance can't survive without providing quick justice & dispute resolution

Tuesday, March 10, 2015

Mar2015: UNICEF Report on FCR

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ظلم کادستور‘ تقدیر اُور اَندیش بابا
اَقوام متحدہ کے ذیلی اِدارے ’یونیسیف‘ کی جاری کردہ رپورٹ میں اِس اِنسانیت سوز فعل پر گہری تشویش کا اِظہار کیا گیا ہے کہ ’’قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوعمرافراد سے قیدخانوں میں اچھا سلوک روا نہیں رکھا جاتا جبکہ انہیں بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔‘‘ المیہ یہ ہے کہ جب تک ہمارے معاشرے میں ہونے ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پائمالی کے خلاف کوئی عالمی ادارہ تشویش کا اظہار نہ کرے اور جب تک پوری دنیا میں پاکستان کا نام ایسی خبروں کے ساتھ جوڑ کر پیش نہ کیا جائے کہ جن پر آہوں‘ سسکیوں اور خون کے چھینٹے و دھبے لگے ہوئے ہوں‘ ہمارے ارباب اختیار کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ خلاؤں پر نظر رکھنے جیسی روش کی بدولت ہمیں اپنے پاؤں دکھائی نہیں دے رہے۔

پاکستان میں بچوں کی حالت (زار) کے عنوان سے جاری یونیسیف (UNICEF) کی رپورٹ میں نوعمر افراد سے متعلق آئین اور قواعد کی اُن شقوں کا گہرائی سے جائزہ لیاگیا ہے‘ جو بنیادی انسانی حقوق اور خود پاکستان کے قوانین سے متصادم ہیں۔ سال 2000ء کے ایک خاص قانون میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی وفاقی محتسب کا ادارہ بھی کر چکا ہے‘ جن کی کئی ایک مثالیں چاروں صوبوں میں معمولی جستجو سے مل جاتی ہیں لیکن رپورٹ میں بالخصوص قبائلی علاقوں کو موضوع بنایا گیا ہے جہاں ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر)‘ کے قواعد اِس حد تک ’’امتیازی‘ ظالمانہ (استبدادانہ‘ سخت گیر و سفاکانہ)‘‘ ہیں‘ کہ اِن کا اطلاق سات سال کی عمر تک کے بچوں پر بھی ہوتا ہے۔ ’ایف سی آر‘ کے تحت گرفتار ہونے والے افراد بشمول بچوں سے سخت قسم کی مشقت لی جاتی ہے جو پاکستان کے بچوں کے حقوق اور جرائم کی صورت اُن سے روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یاد رہے کہ بچوں کے لئے انصاف کا قانون مجریہ 2000ء (جوویلین جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000ء) کا اطلاق ایک صدارتی حکمنامے کے تحت اُن قبائلی علاقوں پر 20 اکتوبر 2004ء سے کر دیا گیا ہے جو صوبائی حکومت کے زیرکنٹرول (پاٹا) ہیں۔ اِس آرڈیننس کا دائرۂ کار بعدازاں وفاق کے زیرکنٹرول قبائلی علاقوں تک بھی پھیلا دیا گیا لیکن اِس پر خاطرخواہ عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی ایک عالمی رپورٹ میں کی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں سے بات چیت کی جائے تو وہ اِس قدر خوفزدہ پائے جاتے ہیں کہ ’ایف سی آر‘ سے متعلق سوال کا جواب ’ہوں یا ہاں‘ سے زیادہ میں نہیں دے پاتے۔ ’آف دی ریکارڈ‘ بات کی جائے تو اُن کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ زبان لڑکھڑانے لگتی ہے اور یہ الفاظ بمشکل ادا ہوتے ہیں کہ ’’ظلم کا دستور اور قبائلی تقدیر نہ جانے کب بدلے گی!‘‘

حقیقت حال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کو بنیادی سہولیات تو دور کی بات وہ آئینی حقوق بھی حاصل نہیں جو بندوبستی (باقی ماندہ پاکستانی) علاقوں میں رہنے والوں کو حاصل ہیں۔ کیا وفاق پاکستان (کسی ایک اکائی) نے قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کے حقوق کی ادائیگی سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے تو پھر بھی بہت دور ہیں‘ قبائلی علاقہ جات سے متصل پشاور کا رویہ بھی قابل ذکر نہیں۔ قبائلی علاقوں کی اپنی روایات واقدار کا بہانہ بنا کر اُن پر جو حکمران مسلط کئے جاتے ہیں‘ اُن کی اکثریت کا تعلق ’اِن علاقوں سے نہیں ہوتا!‘ حتیٰ کہ اُن میں سے چند ایک ایسے بھی ہیں جو قبائلی لب و لہجے میں تو کیا‘ میدانی علاقوں کی پشتو زبان بھی روانی سے نہیں بول سکتے! سب کی نظریں قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے مالی وسائل پر ہیں‘ افغانستان کے ساتھ باضابطہ و بے ضابطہ تجارت سے مالی فوائد اُٹھانے والوں میں اعلیٰ و ادنی سرکاری اہلکار ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کے نام آتے ہیں! اِن درآمدی حکمرانوں‘ متعصب فیصلہ سازوں اور حاکمانہ طرز عمل رکھنے والے منتظمین (پولیٹیکل ایڈمنسٹریشن) کے ذریعے جن انسانوں کو غلام بنا کر رکھا گیا‘ وہ محب وطن اور عزت نفس جیسی غیرت سے مالا مال نہ ہوتے تو کب کے پاکستان سے علیحدگی اختیار کر چکے ہوتے۔

طبقات کو محروم و محکوم کرنے کی حکمت عملی اگر برطانوی راج نے مرتب کی گئی تھی تو اِس میں تبدیلی ناگزیر حد تک ضروری ہے کیونکہ بات صرف انسانی حقوق کی پائمالی ہی کی نہیں بلکہ منظم جرائم پیشہ‘ عسکریت پسند اور انتہاء پسند گروہوں کی بھی ہے جو ’ایف سی آر‘ جیسے امتیازی قواعد و ضوابط کی آڑ لئے ہوئے ہیں۔ 2 ہزار 640کلومیٹر (1640 میل) پر پھیلے پاک افغان سرحد سے متعلق 1893ء میں ایک معاہدہ برطانوی سفارتکار سر مارٹیمر ڈیورنڈ اور افغان امیر عبدالرحمن خان کے درمیان ہوا تھا‘ جس کے تحت افغانستان کے برطانوی راج سے تعلقات و تجارت جیسے معاملات طے کرتے ہوئے طاقت کے نشے میں دھت برطانوی راج نے افغان کو ایک آزاد حیثیت کے طور پر تسلیم کیا اور پختون و بلوچ مقامی قبائل کو تقسیم کرتے ہوئے جو سرحد بنائی گئی‘ اُس سے متصل سات قبائلی علاقے اور چھ فرنٹیئر ریجنز (نیم قبائلی علاقوں) پر مشتمل ہے۔ برطانوی راج کے مفادات کے تحفظ کے لئے بعدازاں ’ایف سی آر‘ نامی قواعد تشکیل دیئے گئے‘ جو ترامیم کے بعد 1901ء سے موجودہ شکل میں رائج ہیں اور ان میں وقتاًفوقتاً ترامیم بھی ہوتی رہتی ہیں جیسا کہ 1947ء میں ہوئی ایک ترمیم کے مطابق کسی بھی قبائلی علاقے کے رہنے والے کو گرفتار کیا جاسکتا ہے اگرچہ اُس نے کوئی بھی جرم نہ کیا ہو!

پس تحریر: پشتو زبان کے معروف شاعر‘ ادیب اور دانشور شمس القمر اَندیش آٹھ مارچ کی شب خالق حقیقی سے جاملے۔ ’اَندیش بابا‘ کی رحلت سے پشتو ادب ایک علمی شخصیت سے محروم ہوا ہے‘ جو اپنی ذات میں ایک تحریک تھے۔ آپ ’اُولسی اَدبی ٹولنہ مردان‘ کے بانی اَراکین میں شمار کئے جاتے ہیں اور آپ کا تعلق ضلع مردان کے ’مایار‘ نامی گاؤں سے تھا۔ اُن کی شاعری و علمی اَدبی شہ پارے غیرمطبوعہ ہیں جبکہ وہ اپنی زندگی میں ایک ہی کتاب شائع کرنے میں کامیاب ہوسکے جس کا نام ’فخر اَفغان‘ تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے ’پاکستان کا بہترین شاعر‘ ہونے کا اِعزاز رکھنے والے ’اَندیش بابا‘ 1933ء میں پیدا ہوئے اور اپنے آبائی علاقے میں ایک میڈیکل سٹور چلا کر گزر بسر کرتے تھے۔ اَلمیہ ہے کہ ہمارے ہاں شاعر و ادیب اور دانشوروں کے کلام وکام کو اُس وقت سراہا جاتا ہے جب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہتے۔ آج بھی کئی ایک شاعر‘اَدیب‘ مفکر اور دانشور زندہ ہیں‘ جن کی خدمات کو سراہا جائے تو اس سے نہ صرف اَدبی شعبے میں اِس خطے کی سوچ و کارکردگی نمایاں ہو سکے گی‘ بلکہ اَمن کا وہ پیغام بھی عام ہو سکے گا‘ جو پورے ملک کی ضرورت ہے۔ اپنی زبان و ثقافت پر فخر اُور ’خدائی خدمتگار تحریک‘ کی فکر کو توانا کرنے میں ’اندیش بابا‘ کی ادبی و عملی پرخلوص خدمات ہمیشہ زندہ اور یاد رکھی جائیں گے۔