Showing posts with label PeshawarAttack. Show all posts
Showing posts with label PeshawarAttack. Show all posts

Wednesday, December 16, 2015

Dec2015: Ongoing thinking process!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سوچ کا جاری سفر!
سولہ دسمبر کا دن کیسے گزر سکتا ہے جب 1971ء میں پاکستان کا ایک حصہ علیحدہ ہوا۔ کون جانتا تھا کہ یہ دن اپنے دامن میں ایک اُور سانحہ بھی سموئے ہوئے ہوگا یقیناًجن قوتوں نے 1971ء میں وار کیا‘ انہی منصوبہ سازوں نے 2014ء میں پھر سے ہمیں یاد دلایا ہے کہ دیکھا کس طرح پاکستان کو شکار کیا گیا! جس طرح سقوط ڈھاکہ بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے اسی طرح سانحۂ پشاور کے حوالے سے بھی سوالات کی کمی نہیں جنہیں سولہ دسمبر کے روز کہیں دبے تو کہیں دھیمے لہجے میں اٹھایا جاتا رہا۔ اس قتلِ عام کے اسباب، سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی اور اس کا وقت، اور اِس واقعے کے حوالے سے خفیہ اطلاعات موجود تھیں؟ اور اگر موجود تھیں تو کیا سانحے کو ٹالا نہیں جاسکتا تھا؟ اس کے علاوہ بھی دیگر بڑے سوالات موجود ہیں۔ کیا واقعی دہشت گردوں کو شکست دی جاچکی ہے اور ان کی کمر توڑی جا چکی ہے؟ اور آرمی پبلک اسکول حملے میں کون سا عسکریت پسند گروپ ملوث تھا؟ کیا کشت و خون میں ملوث تمام ملزمان بشمول سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے؟ کیا اُن کے پاس اب بھی ایسی ہی بڑی کاروائی یا دیگر بڑے دہشت گردی کے حملے کرنے کی صلاحیت موجود ہے؟ اور یہ کہ آج عسکریت پسندی کے خلاف قوم کہاں کھڑی ہے اور بحیثیت قوم سقوط ڈھاکہ اور سانحۂ پشاور کے بعد کی منزل کیا ہوگی؟

سوچ کا سفر جاری رہنا چاہئے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی درس و تدریس کے شعبہ میں ’انقلابی اصلاحات‘ کے بارے میں سوچئے۔ تصور کیجئے کہ اساتذہ جب 17ویں اور 18ویں گریڈ میں ترقی پاکر اپنے تبادلے تعلیمی اداروں سے متعلقہ وزارتوں (سیکرٹریٹ) میں کراتے ہیں‘ جہاں انہیں انتظامی معاملات چلانے کا قطعی کوئی تجربہ نہیں ہوتا لیکن سیاسی اثرورسوخ اور ذاتی و خاندانی تعلق کی بنیاد پر ’سیکشن آفیسر‘ کے عہدے پر تعینات ہو جاتے ہیں تو درس و تدریس کا کتنا نقصان ہوتا ہے‘ اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں جنہیں اِس شعبے کے مسائل کا دردمندی سے احساس ہو۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے راستے مختلف محکموں میں من پسند عہدوں پر تعینات جملہ اہلکاروں کو درس و تدریس کی ذمہ داریاں واپس سونپی جائیں اور اسی طرح جو ڈاکٹر علاج معالجے کے لئے ہسپتالوں میں بھاری تنخواہوں و تاحیات مراعات کے عوض بھرتی کئے جاتے ہیں اُن کی خدمات بھی مالی و انتظامی امور کی نگرانی کرنے کی بجائے ’علاج معالجے‘ کے لئے مختص کی جائیں۔ عجب ہے کہ اُستاد بھرتی ہونے والا درس و تدریس میں دلچسپی نہیں رکھتا اور علاج معالجے کی تربیت و اعلیٰ تعلیم یافتہ دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے چکر میں ہے! المیہ نہیں تو کیا ہے کہ اُستاد کو اُستاد‘ ڈاکٹر کو ڈاکٹر اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت ایسی ہے جسے اپنے پیشے کے تقدس کا احساس نہیں! سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت کم تو ہوئی لیکن ختم نہیں کی جاسکی اور اِس کمی کے ثمرات بھی نجانے کس صدی میں ظاہر ہوں گے کیونکہ جن عہدوں پر منظورنظر افراد تعینات ہیں اُن کی گھٹی میں اہلیت اور ذہن میں عہدوں سے جڑے امانت و دیانت کے تصورات دھندلے ہیں!

سانحۂ پشاور کے بعد سال کا ہر دن جن لوگوں کے لئے ایک سال کے برابر تھا اُن میں ایسے والدین بھی ہیں‘ جنہوں نے آئے روز تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور عمومی خوف کی وجہ سے اپنے جگرگوشوں کو سکولوں سے الگ کروا لیا۔ وسائل رکھنے والوں نے انفرادی سطح پر تعلیم کا بندوبست کیا لیکن بہت جلد اُنہیں احساس ہوا کہ بچوں کے لئے تعلیمی اداروں میں معمول کے مطابق استفادہ کس حد تک ضروری ہوتا ہے اور اُن کا ہم عمر و ہم عصر بچوں سے میل جول‘ ہم نصابی سرگرمیاں اور مختلف رہن سہن کے حامل بچوں کا باہم بول چال کتنی بڑی ’’تعلیم کا ذریعہ‘‘ ہوتا ہے۔ چونکہ انسان ایک سماجی جانور ہے تو اِس کے لئے الگ تھلگ رہنا ممکن نہیں ہوتا‘ اگرچہ کوشش کر بھی لے۔ والدین کو تحفظ کا احساس دلانے کے لئے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’ٹیکنالوجی‘ کا سہارا لیا اور تعلیمی اداروں کو موبائل فون ایپ (ایپلی کیشن) سے جوڑ دیا‘ وہیں تشویش کا شکار ایک والد نے بھی اپنے وسائل سے ’’محافظ‘‘ نامی اینڈرائرڈ یا اپیل اُو ایس (آپریٹنگ سسٹم) کی ایپلی کیشن (سافٹ وئر) تیار کرکے مفت (بطور صدقہ جاریہ) عام کر دی ہے اور انٹرنیٹ سمیت سمارٹ فون رکھنے والے صارفین اس کم و بیش 6 میگابائٹس کی ایپلی کیشن کو گوگل یا اپیل سٹور سے بلاقیمت حاصل (ڈاؤن لوڈ) کر سکتے ہیں‘ جس کی خصوصیات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہنگامی (ایمرجنسی) صورتحال میں خون عطیہ کرنے والوں سے رابطہ کیا جاسکے۔ اپنے خاندان کے افراد یا دوستوں کو ایک بٹن دباتے ہی مدد کرنے کے فوری پیغامات ارسال کئے جاسکیں۔ ہنگامی صورتحال جیسا کہ آتشزدگی‘ زلزلہ‘ چوری‘ ڈاکہ‘ حادثہ یا دہشت گردی کی صورت ’’پستول کا نشان (آئیکن)‘‘ کو دبا کر آن کی آن متعلقہ افراد کو مطلع کیا جاسکے۔ پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ’فہد خان‘ کی تیار کردہ ’’محافظ موبائل ایپلی کیشن‘‘ جدید (سمارٹ) موبائل فونز کے استعمال کا تجربہ نہ رکھنے والے بھی باآسانی کر سکتے ہیں اور یہی اِس اپیلی کیشن کا سب سے نمایاں خوبی ہے کہ مفت ہونے کے ساتھ اسے ’صارف دوست‘ بنایا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں کو سمجھنا ہوگا کہ وہ کس طرح معاشرے کے لئے مفید و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ موبائل فون کے ذریعے کسی بھی صارف کا جغرافیائی محل وقوع معلوم کرنا بہت اہم ہوتا ہے اور اگر بچوں کے سکول بستوں (بیگز) یا چھاتی پر لگے سکول بیج میں ’جی پی ایس‘ (گلوبل پوزیشنگ سیٹلائٹس) کا آلہ نصب کر دیا جائے جیسا کہ مغربی دنیا میں پالتو جانوروں تک اِس ٹیکنالوجی سے لیس ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف کسی بھی بچے یا شخص کی آمدورفت میں استعمال ہونے والے راستوں (روٹس) کا ریکارڈ رکھا جاسکتا ہے بلکہ ہنگامی حالات کی صورت اسی آلے کی مدد سے بچوں کی زندگی بھی بچائی جا سکتی ہے۔ سانحۂ پشاور کا دن اگر ٹھہر گیا ہے تو اسے یادآوری کی حد تک محدود نہ سمجھا جائے‘ یہ ایک ایسا نادر موقع بھی تو ہے کہ ہمارے معاشرے میں حکومتی و نجی اداروں یا انفرادی حیثیت سے ماہرین نے جن شعبوں میں کسی بھی وجہ سے غفلت کا مظاہرہ کیا‘ اپنے قول و فعل کی اصلاح کر لیں۔

 اگر ہم ایک سال بعد بھی جہاں تھے‘ وہیں کے وہیں کھڑے ہیں یعنی تعلیمی اداروں کی دیواریں بلند کرنے اور خاردار تاروں سے اُنہیں محفوظ بنانے کا عمل ہی مکمل نہیں کر پائے تو جان لیجئے کہ پے در پے حادثات‘ سانحات اور لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا! ’’گھر ہمارا جو نہ روتے تو بھی ویراں ہوتا!۔۔۔ بحر گر بحر نہ ہوتا‘ تو بیاباں ہوتا۔‘‘

Tuesday, December 15, 2015

Dec2015: US Political scene & worries!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
روشن خیال امریکہ: خوفناک سچائی!
اَمریکہ کا سیاسی منظرنامہ تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ماضی میں معیشت اور ملازمتوں کے گرد گھومنے والا سیاسی و انتخابی بحث و مباحثے کو اب مذہب سے جڑے خوف نے یرغمال بنا لیا ہے۔ راقم کو تو اپنے جگری دوست ’سعید آغا‘ کی فکر کھائے جا رہی ہے جو نیویارک میں اقتصادی مجبوریوں سے زیادہ ضد کے باعث قیام پذیر ہے اور اُمید سے ہے کہ اُسے آئندہ چند ماہ میں امریکی شہریت مل جائے گی! امریکی معاشرے کی خوبیاں گنوانے والے ایسے بہت سے دوستوں سے حالیہ چند دنوں میں ہوئی بات چیت سے اُن کے لہجوں میں چھپی تشویش ظاہر ہوئی۔ امریکہ کو تعصبات سے پاک کہنے والے آج اگر کسی درجے خوفزدہ ہیں تو بھی انہیں وہاں کے معاشی و سیاسی‘ اقتصادی اور انصاف کے نظام میں خوبیاں ہی خوبیاں نظر آتی ہیں! حقیقت حال تو یہ ہے کہ آج کے امریکہ اور یورپی ممالک میں جس قدر مذہبی منافرت اور بالخصوص مسلمانوں سے نفرت کا اظہار عام ہو رہا ہے‘ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی! امریکہ کے معروف بزنس مین‘ چار ارب ڈالر کے اثاثہ جات کے مالک‘ 69 سالہ ڈونلڈ جان ٹرمپ (Donald John Trump) صدر بننے کے متمنی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف بیان داغا ہے کہ ’’انہیں امریکہ نہ آنے دیا جائے‘‘ تو اس کی مذمت مہذب کہلانے والے معاشرے کی اکثریت نے نہیں بلکہ اقلیت نے کی ہے۔ درحقیقت ٹرمپ اس پانچ سال کے بگڑے ہوئے بچے کی طرح ہیں جو سب کی توجہ حاصل کرنے کے لئے عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے۔ یہی حال پاکستان کے سیاست دانوں کا بھی ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام کی توجہ اپنی ذات پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں جس کے لئے دھرنے‘ مارچ اور آئے روز مظاہرے ایک ایسا معمول ہیں‘ جس سے خود اُن کی اپنی اکتاہٹ صاف جھلکتی ہے۔

مسلمانوں کی امریکی امیگریشن پر پابندی کا تصور پیش کرنے پر صدارتی اُمیدوار ٹرمپ کے خلاف جو محاذ کھل گیا ہے‘ یہ بالکل وہی ردعمل ہے جو ٹرمپ یا اُن کی قریبی ساتھی چاہتے تھے اور بدقسمتی سے مسلمان اُن کے اِس جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نسل اور میکسیکن جیسے مسائل سے توجہ مذہب کی جانب موڑ دی ہے‘ اور انتخابی کامیابی کے لئے متنازع چیزوں کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پیرس اور کیلیفورنیا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں نئی روح اور توانائی پھونک دی ہے۔ توجہ مرکوز رہے کہ ’مذہبی منافرت (بشمول فرقہ واریت)‘ کو انتہائی چالاکی سے زیادہ سے زیادہ انتخابی فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کرنا صرف امریکی سیاست ہی کی سوچ نہیں بلکہ یہ رجحان پاکستان میں بلدیاتی اداروں سے لیکر قومی و صوبائی قانون ساز ایوانواں کے لئے اُمیدواروں کے قول و فعل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک امریکہ کی بات ہے تو وہاں ایسے ’منفرد پیغامات‘ لانا الیکشن حکمت عملی کا حصہ رہا ہے جس کا مقصد مرکزی دھارے کے امریکہ میں مقبولیت حاصل کرنا ہوتی ہے تاکہ مدمقابل کو مشکل میں ڈالا جا سکے اور ٹرمپ کی کوشش ہے کہ ڈیموکریٹ ووٹ کم کیا جا سکے‘ جو دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے۔ عام حالات میں تو یہ صرف خوف کے شکار ایک شخص کے شور و غل کی طرح محسوس ہوتا لیکن یہ عام حالات نہیں ہیں۔ سیاسی تقسیم ایک انتہائی خطرناک موڑ لے کر اب امریکہ کے عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر رہی ہے جہاں دونوں ہی گروہوں کے افراد کروڑوں ہیں۔ یہ مرغوں کی ایسی لڑائی کی طرح ہے جس میں کوئی بھی زخم کھائے بغیر یا نقصان اٹھائے بغیر باہر نہیں آتا اور جو نقصان پہنچے گا‘ وہ زبردست اور نسلوں تک جاری رہنے والا ہوگا۔

امریکہ میں جیسے جیسے سال 2016ء کے لئے جاری مرکزی انتخابی مہم آگے بڑھ رہی ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے فائدے کے لئے اسے پرپیچ و خطرناک موڑ دے رہے ہیں۔ مسلمان تارکینِ وطن اور وہیں پیدا ہونے والے مسلمان شدید خوف کا شکار ہیں جیسے کہ وہ بیچ گرداب پھنس گئے ہوں اور اب انہیں اپنے بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی نہ دے رہی ہو! پیرس کے دہشت گرد حملوں سے لے کر کیلیفورنیا میں ہونے والی فائرنگ (شوٹنگ) تک‘ سارے واقعات امریکی مسلمانوں کے لئے بُرے خواب کی طرح ہیں اور دونوں ہی جانب موجود مذہبی طور پر جوشیلے افراد انتہاء کی سیاست کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ٹرمپ کی مہم مسلمان مخالف پیغام کے ساتھ جاری رہتی ہے اور کیا وہ بنیادی کامیابیاں حاصل کر لیں گے؟ اگر وہ واقعی کامیاب رہتے ہیں‘ تو مذہب اور نسل کے خلاف بیانات کو دھیما کر دیا جائے گا تاکہ ٹرمپ کلنٹن کا جم کر مقابلہ کر سکیں اور یہ بھی ایک چال ہی ہوگی۔ سردست امریکی مسلمانوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے کئی بنیادی سوالات تسلی بخش جواب چاہتے ہیں: کیا امریکہ میں واقعی آبادی کا بڑا حصہ جو اب تک تو خاموش تھا مگر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ہی (مسلمان مخالف) خیالات کا حامل ہے؟ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم صرف ایک سیاسی چال ہے یا پھر یہ مرکزی دھارے کے امریکہ کے لئے ایک خوفناک سچائی بن کر اُبھرے گی؟ کیا امریکہ اس حد تک تبدیل ہونے جا رہا ہے جو کسی صلیبی جنگ کو مسلط نہیں بلکہ اپنے ہاں سے شروع کرے گا؟
Worries about internal politics of USA

Monday, December 14, 2015

Dec215: Foggy decision making!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
باعث پریشانی تذبذب!
سولہ دسمبر کے ’سانحۂ پشاور‘ کا دُکھ ’اجتماعی شعور کے اِظہار‘ اُور ملک دشمنوں کے خلاف مثالی ’اِتحادویک جہتی‘ کے مظاہرے کا متقاضی تھا لیکن افسوس کہ ہم نے روائتی طرزعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’144 قربانیوں کو کہانیوں کا رنگ‘ دے کر خاطرخواہ شعوری خراج عقیدت و تحسین پیش نہیں کیا! بہرکیف آرمی پبلک سکول پر حملے کی پہلی برسی کی مناسبت سے صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کے لئے ’عام تعطیل‘ کا اِعلامیہ (نوٹیفیکیشن) چودہ دسمبر کے روز دفتری اوقات کے اختتام تک جاری نہیں ہوسکا اور حسب سابق اگر یہ پندرہ دسمبر کی رات گئے جاری کیا جاتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والی صورتحال والدین اور اساتذہ سمیت تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے لئے بھی شدید پریشانی کا سبب بنے گی کیونکہ ضروری نہیں کہ سبھی والدین کیبل نیٹ ورک کے ذریعے نجی ٹیلی ویژن چینلز سے جڑے ہوں یا اُن کے پاس موبائل فونز بھی ہوں۔

تعلیمی ادارے اس صورتحال میں خود کو ’بے بس‘ سمجھتے ہیں کہ راتوں رات اور بالخصوص رات کے پہلے پہر میں لاکھوں کی تعداد میں والدین کو مطلع کرنا کہ ’کل تعطیل ہو گی‘ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔ حکومتی نکتۂ نظر سے تعلیمی اداروں کی عام تعطیل کا فیصلہ حفاظتی نکتۂ نظر سے بھی کیا جاتا ہے کیونکہ اندیشہ ہے کہ سانحۂ پشاور کی برسی کے موقع پر دہشت گرد قوم کو ایک نیا زخم دینے کی کوشش کریں لیکن اگر یہ منطق درست مان بھی لی جائے تو تعطیل کا بروقت اعلان نہ کرنا درحقیقت سیکورٹی خدشات کو کم کرنے کا نہیں بلکہ اِن میں اضافے کا مؤجب بنتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں بچے صبح تیار ہو کر سکولوں کو پہنچتے ہیں‘ جہاں داخلی دروازوں پر لگے تالے اور چوکیداروں کے بیزار لہجے اُن کا خیرمقدم کرتے ہیں! کیا ضروری نہیں تھا کہ سانحۂ پشاور کی یاد میں تعطیل کی بجائے ہر تعلیمی ادارے میں ’قرآن خوانی اور فاتحہ‘ کا اہتمام کیا جاتا؟ ہر تعلیمی ادارے میں تدریسی عمل میں ایک گھنٹے کا اضافہ کرکے تعلیم دشمنوں کے جسم ہی نہیں بلکہ اُن کے نظریات پر بھی وار کئے جاتے؟

معروف سیاسی تجزیہ نگار اردشیر کاؤس جی (1926ء سے 2012ء) سرکاری تعطیلات کے انتہائی مخالف تھے اور چاہتے تھے کہ ہفتہ وار تعطیل کے علاؤہ قوم کسی دوسرے موقع پر کام کاج سے ہاتھ نہ اُٹھائے۔ اُن کی متعدد تحریروں اور انٹرویوز پاکستانی قوم کو ’ہولی نیشن (مقدس قوم)‘ قرار دیا گیا‘ اور جب اُن سے وجہ پوچھی کہ ’ہولی نیشن کیسے؟‘ تو مخصوص مسکراہٹ اور دبدبے والے لہجے میں کہا ’’بیکاز وی ہیو سو مینی ہولیڈیز (کیونکہ ہم بہت سی تعطیلات جو کرتے ہیں)۔ کاؤس جی نے انگریزی زبان کے لفظ ’ہولی (Holy)‘ کا استعمال Holi سے کیا جو زبان دانی اور انگریزی زبان پر اُن کے عبور کا عکاس تھا۔ بہرکیف سرکاری ہوں یا نجی‘ ہمارے تعلیمی انتظامی ڈھانچے میں سنجیدہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

تعلیم ایک نوکری یا کاروبار کسی صورت نہیں ہونا چاہئے اور یہ خالصتاً ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے منفی محرکات کا ازالہ کرے‘ جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ ’درس و تدریس کا عمل‘ اپنی معنویت و مقصدیت کی منزل سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے! مسئلہ یہ نہیں کہ عید کے چاند کی طرح عام تعطیل کا اعلان اس قدر تاخیر سے کرنے والے فیصلہ سازوں کو عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات کا احساس نہیں بلکہ صورتحال یہ ہے کہ سرکاری یا نجی تعلیمی اداروں کے انتظامی ڈھانچے (معاملات) کچھ اس انداز میں مرتب کئے گئے ہیں کہ ٹیوشن فیس کے علاؤہ ’یہ وہ واجبات‘ کے علاؤہ والدین کو دیگر امور سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔ یہ امر بھی لائق توجہ رہے کہ تعلیمی اداروں کی اکثریت والدین کو بذریعہ ’فون کالز‘ یا ’ایس ایم ایس‘ تعطیل سے متعلق آگاہ کرنے کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتی۔ خیبرپختونخوا کے تعلیمی منظرنامے میں ایک فریق صوبائی حکومت ہے‘ جس نے تعلیمی نصاب‘ ادارہ جاتی سطح پر بنیادی سہولیات کی ’کم سے کم‘ فراہمی کا معیار اُور انتظامی قواعد و ضوابط طے کرنے جیسی ذمہ داریاں اپنے ذمے لے رکھی ہیں‘ لیکن کیا متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں تسلی بخش انداز میں سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ماہرین تعلیم یا والدین کی تشویش پر مبنی نکتۂ نظر کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ نظام تعلیم کا دوسرا فریق ہمارے تعلیمی ادارے ہیں‘ جنہیں اگر سرکاری و نجی درجات میں تقسیم کریں تو دونوں کی سطح پر صرف والدین ہی نہیں بلکہ اساتذہ کی ذہانت سے بھی استفادہ کم ترین سطح پر دکھائی دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پورے کا پورا نظام ’نصابی اسباق‘ کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے‘ جس میں طلباء و طالبات کی اکثریت کا ویژن (بصیرت) ’رٹے رٹاے‘ جملوں کی حد تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ درس وتدریس کے عمل میں تیسرے فریق کا وجود تعلیمی عمل یا اس کے معیار سے زیادہ ’جائز و ناجائز‘ اخراجات کی بروقت ادائیگی کے بارے میں زیادہ فکر مند (ہلکان) رہتا ہے۔

 تعلیمی نظام کی اِس ’سہ فریقی تکون‘ میں طلباء و طالبات پر کئی ایسے نفسیاتی دباؤ ہیں‘ جنہیں کم کرنے کے لئے اُن سے تعلیمی اداروں (اجتماعی) یا گھر (انفرادی) کی سطح پر تبادلۂ خیال یعنی کونسلنگ نہیں کی جاتی۔ راقم الحروف نے ذاتی طور پر درجنوں والدین سے بات چیت کے دوران یہ افسوسناک نتیجہ اخذ کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو اس حد تک محدود سمجھ لیا ہے کہ بچوں کو کسی سرکاری یا نجی سکولوں سے وابستہ کرنے کی حد تک محدود سمجھ لیا ہے اور سوفیصد والدین اساتذہ کے نام اور اُن کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں واجبی معلومات بھی نہیں رکھتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ (خالص منافع کی لالچ میں) نجی تعلیمی اِداروں میں اساتذہ کے بھرتی کرنے کا معیار ’کم تنخواہ و مراعات‘ رکھا جاتا ہے جبکہ فی کلاس روم طالبعلموں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کے بارے میں بھی زیادہ دردمندی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آتا۔ تصور کیجئے کہ بطور معلم یا معلمہ کسی انسان کے لئے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تعداد میں پچیس یا تیس سے زیادہ بچوں کو مکمل توجہ دے سکے اور ایسے ’اوور لوڈ‘ اساتذہ کے لئے کسی موضوع پر درس (لیکچر) دیتے (جھاڑتے) ہوئے طالبعلموں کی ذہانت و نفسیاتی تقاضوں کو پیش نظر رکھنے کی اُمید رکھنا‘ خودفریبی ہی ہوگی! یہی سبب ہے کہ درس وتدریس کے عمل میں سوال کرنے کی حوصلہ شکنی عمومی روش ہے۔

 تعلیم اور نفسیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چیخ و پکار کے لہجے میں اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ سے سہمے ہوئے بچوں کی شخصیت سازی میں ایک نہیں بہت سے خلأ رہ جاتے ہیں۔ اِس مرحلۂ فکر پر سوچئے کہ جہاں تعطیل جیسا فیصلہ ’’بروقت‘‘ نہ ہو سکے‘ وہاں کے طالبعلم اگر اپنی عملی زندگی میں نظم و ضبط اُور خوداعتمادی کے فقدان کا چلتا پھرتا ’نمونہ‘ ثابت ہوں‘ تو اِس پر تعجب کا اظہار ہونا چاہئے؟

Tuesday, March 24, 2015

Mar2015 Technology in education

رف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
درس و تدریس: نئے اَسلوب
ہمارے اردگرد پھیلی دنیا میں تین اہم تبدیلیاں دیکھتے دیکھتے رونما ہوئیں ہیں‘ جنہیں ’ارتقائی مراحل‘ کہہ کر مخاطب کرنا زیادہ موزوں ہوگا لیکن افسوس کہ پاکستان میں ارباب اختیار اور بالخصوص شعبہ تعلیم سے وابستہ ماہرین اِس جانب توجہ نہیں فرما رہے یا شاید اُنہیں بہت سے دیگر امور سے فرصت نہیں! حقیقت حال یہ ہے کہ اگر ہم نے دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کو ترجیح نہ دی‘ تو ہم اُس دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے‘ جس میں کامیابی و کامرانی ہمیشہ جیتنے والے ہی کے حصے میں آتی ہے۔

سب سے پہلی بات تو ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت ہے یعنی جیب میں سمانے والا موبائل فون اب سمارٹ کہلانے لگا ہے اور باآسانی ہمراہ رکھے جانے والا ٹیبلیٹ اِس قدر تیزرفتاری سے معلومات کی جانچ پڑتال اور اُن کا انٹرنیٹ سے حصول کرتا ہے کہ اب اِن ایجادات سے استفادہ کرنے کا معمولی علم رکھنے والا بھی ’بڑے بڑے کام‘ کر سکتا ہے بالخصوص موبائل فون کے آپریٹنگ سسٹم ’اینڈرائرڈ (Androids)‘ کی مقبولیت و استعمال نے تو ریکارڈ ہی توڑ ڈالے ہیں۔ دوسری اہم بات برق رفتار (تھری و فور جی) ’انٹرنیٹ‘ کی مقبولیت اُور استعمال بڑھا ہے بالخصوص شعبہ تعلیم میں اِس سے استفادہ ہونے لگا ہے۔ خیبرپختونخوا میں تعلیمی اداروں کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے جو خاص سافٹ وئر تیار کیا گیا ہے‘ وہ بھی موبائل فون ہی کے ذریعے قریبی پولیس اسٹیشن اور کسی ضلع کے متعلقہ پولیس اہلکاروں کو فوری اطلاع دینے کے خودکار نظام پر مشتمل ہے اور یہ سب کچھ ٹیکنالوجی کی خیروبرکت سے ہے‘ جس کے تفریح طبع یا محض بات چیت سے زیادہ استعمال کے بارے میں پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے سوچا جانے لگا ہے۔

ٹیکنالوجی تین طرح کے عوامل پر انحصار کرتی ہے۔ ہارڈوئر یعنی آپ کے پاس وہ آلات ہونے چاہئے جن کے ذریعے انٹرنیٹ سے منسلک ہوا جا سکے۔ دوسری ضرورت سافٹ وئر یعنی ’آپریٹنگ سسٹم‘ کی ہوتی ہے جو کسی بھی آلے کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر مشتمل ’ہدایات کا مجموعہ‘ ہوتا ہے اور تیسری ضرورت بہت سے آلات کو آپس میں جوڑ کر انسانی تجربات و علوم کا باہم تبادلہ کرنے کے لئے ’انٹرنیٹ‘ نامی وسیلے کی ضرورت ہوتی ہے‘ جو پاکستان میں تیزی سے مقبول اور ہر گزرتے دن کے ساتھ کم قیمت و جدید ہو رہا ہے لیکن ضرورت ٹیکنالوجی سے خاطرخواہ استفادہ کرنے کی ہے۔ شعبۂ تعلیم کے حوالے سے بات کی جائے تو ایسی سینکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں ’ویب سائٹس‘ ہیں جن سے گھر بیٹھے استفادہ بھی ممکن ہے اور علم و دانش کے یہ لعل و گہر بناء مفت بھی دستیاب ہیں لیکن ٹیکنالوجی کا شعبہ تعلیم پر اطلاق اور اِس سے درس و تدریس کے شعبے میں آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے ہمارے ہاں بالخصوص خیبرپختونخوا میں زیادہ رجحان نہیں پایا جاتا۔

سانحۂ پشاور (سولہ دسمبر دوہزار چودہ) کے بعد حفاظتی انتظامات کے نام پر تعلیمی ادارے کئی ہفتوں بند رکھے گئے‘ جس سے طلباء و طالبات کا قیمتی وقت اور درس و تدریس کا عمل بُری طرح متاثر ہوا۔ ایک سو پچاس سے زائد طالبعلموں‘ اساتذہ اور سکول کے انتظامی و معاون عملے کا قتل کسی بھی طرح معمولی نہیں تھا‘ لیکن حملہ آور دہشت گردوں کے اہداف میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ پاکستان میں جہالت کا دور دورہ چاہتے تھے‘ وہ ہمارے تعلیمی اداروں مزید حملوں کی دھمکیاں دے کر ہمارے ہاں کے روائتی نظام کو مفلوج کرنا چاہتے تھے اور کئی ہفتوں تک وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی رہے۔ کیا خدانخواستہ سانحۂ پشاور جیسا کوئی دوسرا حملہ ہوتا ہے‘ تو ہم پھر سے پورے ملک کے سکول یونہی بند کر دیں گے؟ ذرا سوچئے کہ تعلیم کے وہ کون کون سے متبادل ذرائع ہیں جنہیں روائتی طریقۂ کار کے ساتھ جوڑ کر آہستہ آہستہ متعارف کرایا جاسکتا ہے؟

برطانوی خبررساں ادارے ’بی بی سی‘ نے سال 2010ء میں ایک جائزہ رپورٹ مرتب کی تھی جس کی رو سے ہر پانچ میں سے چار برطانوی باشندوں نے ’مفت انٹرنیٹ‘ کو ’بنیادی ضرورت‘ اور ’بنیادی حق‘ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ’انٹرنیٹ عام کرنے کے لئے مالی وسائل مختص کرے اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں ایسے منصوبوں (حکمت عملیوں) کو بھی شامل کرے‘ جن کی بدولت زیادہ سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ سے استفادہ کرسکیں۔ اِس سلسلے میں برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک میں نہ صرف عالمی انٹرنیٹ بلکہ علاقائی‘ اضلاعی اور جامعات (تعلیمی اداروں) کی سطح پر محدود رابطہ کاری ’انٹرانیٹ‘ کے وسائل کو ترقی دی گئی اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ بیرون ملک تعلیم کے لئے جانے کے خواہشمند طلباء و طالبات کو انگریزی زبان کا ایک خاص امتحان دینا پڑتا ہے‘ جس کے نگران بھاری فیس کے عوض بیرون ملک بیٹھ کر بیک وقت پاکستان سمیت کئی ممالک میں انگریزی بولنے‘ سننے‘ سمجھنے اور لکھنے میں مہارت سے متعلق امتحان دینے والوں کی علمی قابلیت کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں‘ جو سب کو یکساں قابل قبول ہوتا ہے۔

فاصلاتی نظام تعلیم (ورچوئل لرننگ اِنوائرمنٹ) مرتب کرنے کے سلسلے میں تحقیق ’کمپیوٹر کی ایجاد‘ کے ساتھ ہی پروان چڑھی لیکن دنیا کا پہلا فاصلاتی ذریعۂ تعلیم 1728ء میں سامنے آیا جب امریکہ کے شہر بوسٹن کے اخبار میں ’کالیب فلیپس (Caleb Phillipps)‘ نامی شخص کی جانب سے اشتہار دیا گیا کہ ’’شارٹ ہینڈ کی تعلیم گھر بیٹھے حاصل کیجئے۔‘‘ یہ سلسلہ چلتے چلتے 1906-07ء تک آیا‘ جب دنیا نے پہلی فاصلاتی تعلیم کی جامعہ ’’یونیورسٹی آف ویسکونسن ایکسٹینشن‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ تعلیمی مقصد کے لئے خصوصی مشینیں ایجاد ہوئیں۔ آج کی دنیا میں زبانوں کے قواعد (گرائمر) سیکھنے سے لیکر عکاسی‘ پینٹنگ حتیٰ کہ ورزش (کسرت) کرنے کے معلم بھی ’ورچوئل‘ ہی علم و حکمت منتقل کر رہے ہوتے ہیں۔ ریڈیو‘ ٹیلی ویژن کی ایجاد اور بعدازاں موبائل فونز اور خلائی سیاروں (سیٹلائٹ) کے ذریعے نشریات نے تو گویا ’درس و تدریس کے شعبے کو سکول کی چاردیواری اور روائتی کلاس روم کے تصور ہی سے آزاد کر دیا۔

خیبرپختونخوا حکومت سے اُمید ہے کہ وہ اِس بارے میں ضرور سوچ بچار کرے گی کہ ہر مالی سال کے آغاز پر شعبۂ تعلیم کے لئے پہلے سے زیادہ مالی وسائل مختص کئے جاتے ہیں لیکن ایک طرف شرح خواندگی میں اضافے کی صورت خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے اور دوسرا تعلیم ایک تجارت و صنعت بن گئی ہے‘ جس میں غیرصحت مند مقابلے کے رجحان نے علم کو ایک جنس بنا کر رکھ دیا ہے۔ شعبۂ تعلیم کو سرکاری ملازمتیں‘ مراعات‘ عہدے اُور ترقیاں حاصل کرنے کا پرکشش ذریعہ و پیشہ بنانے کی سوچ اُور اِس منفی رجحان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔
Adopting technology in education is neccesity, must add on

Sunday, March 22, 2015

Mar2015: Justice delayed is justice denied

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
قانون و انصاف: فوری اُور حسب حال
پندرہ جون دو ہزار چودہ سے شمالی وزیرستان (قبائلی علاقے) میں آغاز ہوئے ’آپریشن ضرب عضب‘ کے لئے مالی سال 2014-15ء میں 700 ارب روپے مختص کئے گئے لیکن اِس قدر خطیر رقم اور فوجی کاروائی کا دائرہ کار دیگر قبائلی علاقوں تک پھیلانے سے صرف چند ایک درجے ہی اطمینان حاصل ہو پایا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2013-14ء کے عرصہ میں کم و بیش چھ ہزار افراد ہلاک ہوئے‘ جن میں سویلین اور سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔ سال دو ہزار پندرہ کے پہلے تین ماہ (تیئس مارچ تک) 315ہلاکتیں ہو چکی ہیں‘ جن میں لاہور کے گرجا گھر پر حملہ بھی شامل ہے جس میں ایک ہی دن 14افراد قتل کر دیئے گئے۔ ملک میں دہشت گرد واقعات کے اِس تسلسل کے دوران خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہے۔ سال 2014ء کے دوران 9 دہشت گرد حملوں میں خیبرپختونخوا کے 196 افراد ہلاک ہوئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق آنے والے دنوں‘ ہفتوں اور مہینوں میں بھی خیبرپختونخوا کے مختلف بڑے شہر (جن میں سے سات کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے) بشمول پشاور پر مزید دہشت گرد حملے ہو سکتے ہیں‘ جن سے بچاؤ کے لئے پولیس حکام سوچ بچار کے عمل میں اُن امکانات کے خاتمے اور آسان اہداف کو محفوظ بنانے کے لئے خفیہ معلومات پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں‘ جو مستقل خطرہ بھی ہیں اور سیکورٹی کے انتظامات پر سوالیہ نشان بھی۔
پشاور میں داخل اور خارج ہونے کے کل 390 راستے شمار کئے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک کی خاطرخواہ نگرانی سے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے پولیس حکام کا اصرار ہے کہ موجودہ افرادی و تکنیکی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے اِن تمام راستوں سے ہر آنے اُور جانے والے کی نگرانی و جانچ ممکن نہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر پولیس کے اعلیٰ آفیسر نے اُن چند خطرات کا بھی ذکر کیا جو پشاور کو ’داخلی طور پر لاحق ہیں‘ اُور جن کا بھی انگلیوں پر شمار ممکن نہیں! ’’تین اطراف میں قبائلی علاقوں سے گھرے ہوئے صوبائی دارالحکومت کو خارجی اور داخلی طور پر خطرات سے متعلق کم و بیش ہرروز ہی خفیہ اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں اُور ہر ایک ایسی اطلاع ملنے کے بعد پشاور پولیس پہلے سے زیادہ فعال ہو جاتی ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ دشمن کہیں نہ کہیں حفاظتی انتظامات میں کوتاہی یا غفلت کی تاک میں ہے اور اُسے وار کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا لیکن آخر کب تک‘ پولیس اہلکار اِس اعصاب شکن نفسیاتی و عملی جنگ کا مقابلہ کب تک جاری رکھ پائے گی جبکہ دشمن کے پاس وقت اُور آسان اہداف کی کوئی کمی بھی نہیں! آخر سیاسی فیصلہ سازوں میں قبائلی و نیم علاقوں کی امتیازی حیثیت ختم کرنے میں اتفاق رائے کیوں نہیں پایا جاتا؟ آخر وہ سب سے ضروری بات ہماری ترجیح کیوں نہیں‘ جس کا تعلق ہمارے مستقبل سے ہے؟‘‘

پشاور پولیس کے پاس افرادی وسائل کی کمی ہے۔ جدید ہتھیاروں‘ گشتی (موبائل) گاڑیوں حتیٰ کہ ایندھن جیسی ضرورت وافر مقدار میں دستیاب نہیں۔ گولہ بارود ناکارہ بنانے والوں اور خواتین پولیس اہلکاروں کی ضروریات الگ سے پوری نہیں ہورہیں۔ تھانہ جات کی کمی اور چوکیاں کی خستہ حالی دور کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ پشاور کو سیکورٹی کے لحاظ سے چھ حصوں میں تقسیم کرکے افرادی و تکنیکی وسائل کی ازسرنو تقسیم کے ساتھ داخلی و خارجی راستوں کی تعداد میں کمی لائی جائے۔ جیسا کہ فصیل شہر کا اندرونی حصہ ماضی کی طرح چودہ‘ سولہ یا بیس راستوں پر مشتمل ہو اور ’شہر‘ کہلانے والے اِس حصے کی حدود کے لئے ایک ہی مرکزی تھانہ جبکہ ہر داخلی و خارجی راستے پر چوکیاں اور مقرر کی جائیں‘ جو نگران بھی ہوں اور مقررہ اُوقات کے علاؤہ آمدورفت کی سختی سے جانچ کریں۔ مثال کے طور پر نصف شب سے فجر تک فصیل شہر کے اندرونی حصوں میں داخلے کا حق صرف اُنہیں افراد کو حاصل ہو‘ جن کے پاس پشاور میں رہائش کمپیوٹررائزڈ قومی شناختی کارڈ میں درج پتے سے ثابت کی جا سکے۔ مہمان کی آمد یا ہنگامی حالات کی صورت میزبان کے کوائف کمپیوٹرائزڈ ڈیٹابیس میں منتقل کردیئے جائیں جو شہر کے سبھی داخلی و خارجی راستوں کے علاؤہ پولیس کے اُس صدر دفتر کو بھی منتقل ہو جائیں جس کا خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے بھی رابطہ رہتا ہے اور کسی بھی مشکوک شخص یا انتہائی مطلوب شخص کی اُس کے کوائف (انگوٹھے کے نشان) یا سبھی اداروں کو اطلاع ہو سکے گی۔ پشاور کے مشرقی‘ مغربی‘ شمالی اور جنوبی حصوں میں شہری و دیہی علاقوں کی تمیز بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ختم ہو رہی ہے۔ رنگ روڈ (پشاور کے جنوبی حصے) کی پٹی حیات آباد تک پھیلی ہوئی ہے‘ جس کے اطراف میں جس تیزی سے رہائشی بستیاں اور تجارتی مراکز قائم ہوئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی اور یہی وہ علاقے ہیں جو درہ آدم خیل اور خیبرایجنسی کے قبائلی علاقوں سے ملتے ہیں‘ جہاں (خیبرٹو نامی) فوجی کاروائی کا مرحلہ جاری ہے۔ تہکال سے یونیورسٹی ٹاؤن‘ راحت آباد‘ اور حیات آباد سے ملنے والا زون (سرکلز) پہلے ہی کنٹونمنٹ حدود کی طرح الگ ہے جبکہ ڈیفنس‘ شامی روڈ‘ چارسدہ روڈ کی پٹی مغربی حصہ اور چغل پورہ‘ موٹروے‘ رنگ روڈ کا جنوبی حصہ جو قدرتی طور پر سرحد کا کام دے سکتا ہے۔ نگرانی کے لئے ٹیکنالوجی پر انحصار‘ سیکورٹی کے لئے پشاور کو پانچ زونز اور ایک کنٹونمنٹ کی حدود میں تقسیم کر دیا جائے تو نگرانی کا عمل نسبتاً آسان اور ایک زون کے افرادی و تکنیکی وسائل کم وقت میں دوسرے کے استعمال کے لئے باآسانی دستیاب ہو سکیں گے۔ ہر زون کی رہائشی بستیوں اور تجارتی مراکز کی نگرانی چوکیوں کے ذریعے زیادہ فعال انداز سے ہو سکے گی کیونکہ موجودہ نظام کے تحت جب جرم کسی ایسے علاقے میں رونما ہوتاہے جہاں دو تھانہ جات کی حدود آپس میں ملتی ہیں تو ’ایف آئی آر‘ کے اندراج سے لیکر تفیشی عمل میں پیچیدگیاں اور رکاوٹیں آڑے آتی ہیں۔

پشاور پولیس کے لئے ایک چیلنج ’منظم جرائم پیشہ گروہ‘ بھی ہیں جنہیں بااثر افراد اور خطرناک مطلوب مجرموں کی پشت پناہی حاصل ہے‘ یہ عناصر پولیس کی توجہ زیادہ بڑے خطرے (دہشت گردی) کی جانب مبذول ہونے کا بھرپور فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں اگر منظم و غیرمنظم جرائم پیشہ عناصر سے الگ الگ معاملہ کیا جائے‘ تو یہ معمہ بھی نسبتاً زیادہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دیوانی (جائیداد سے متعلق) مقدمات کے ذریعے تھانہ کچہری میں سالہا سال اُلجھانے والے کئی گروہ پشاور میں فعال ہیں۔ اگر عدالتوں کے ذریعے انصاف کی فراہمی کا صبرآزما اور طویل طریقۂ کار تبدیل کرنے کے لئے صوبائی حکومت خاطرخواہ قانون سازی کرتی ہے تو اِس سے پولیس کے لئے ’آدھا سر درد‘ بنا معاملہ ختم ہو سکتا ہے۔ پولیس حکام قوانین میں پائے جانے والے سقم سے بیزار ہیں کہ جن پیشہ وروں پر ہاتھ ڈالا جائے‘ انہیں عدالتوں سے ضمانتیں کروانے زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اِس منظرنامے میں پولیسنگ سے توقعات اُس وقت تک پوری نہیں ہو سکتیں جب تک قوانین میں موجود سقم دور نہیں ہو جاتے اُور صرف دہشت گردی ہی میں ملوث کرداروں کا نہیں بلکہ ہر مجرم و جرم سے معاملہ کرنے میں فوری انصاف کا طریقۂ کار وضع نہیں کر لیا جاتا۔

کیا عام آدمی کو فوری انصاف دینا اور دلانان ترجیحات کا حصہ ہے؟ القصہ مختصر ۔۔۔ جہاں قانون ساز اِدارے تماشائی اور اِنصاف کی ضامن عدالتوں کے پاس فوری فیصلے کرنے کی فرصت نہ رہی ہو‘ وہاں کے حفاظتی انتظامات قابل دید تو ہو سکتے ہیں‘ لیکن اُن پر کلی بھروسہ (توکل) نہیں کیا جاسکتا۔
Governance can't survive without providing quick justice & dispute resolution

Saturday, March 21, 2015

Mar2015: Comprehensive strategy needed

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
فرائض‘ ذمہ داریاں اُور توازن
دُوسروں کو نصیحت‘ خود میاں فصیحت۔ ہم میں سے ہر کوئی ’قانون کی حکمرانی‘ چاہتا ہے لیکن وہ نہ تو قانون نافذ کرنے والے اِداروں پر اِعتماد رکھتا ہے اُور نہ ہی پولیس تھانوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اِس منطقی تقاضے اور غیرمنطقی منفی رویئے کی بڑی وجہ خود پولیس کا کردار رہا ہے‘ جن کے اعلیٰ و ادنی اہلکار پر مالی بدعنوانیوں کے مقدمات قائم ہیں۔ ظاہر ہے کہ جن افراد نے اپنی ملازمت کے دوران مالی بدعنوانیاں کیں‘ اُنہوں نے اپنے زور قلم (اختیارات) سے کتنی زیادہ اور بڑے پیمانے پر ناانصافیاں کی ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کی ساکھ‘ واجب الاحترام مقام اور معاشرے میں وہ حیثیت نہیں کہ جو ہونی چاہئے۔

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد سے تحریک انصاف نے ’تھانہ کچہری کلچر‘ تبدیل کرنے کے لئے جو عملی کوششیں کیں ہیں‘ اُنہیں اگرچہ کافی قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن تبدیلی کا آغاز بہرحال ہو چکا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اِسی تبدیلی کے ثمرات ظاہر ہوں گے۔ پولیس اور تھانے سے سفید پوش نفرت نہیں کریں گے۔ ہر خاص و عام سے قانون کی حکمرانی اور معاملہ بلاامتیاز ہوگا۔ اِس ہدف کے سہل اور تیزرفتار حصول کے لئے کسی بھی ضلع سے تعلق رکھنے والے اُن منتخب نمائندوں کا کلیدی کردار بھی نظراَنداز نہیں کرنا چاہئے جو موجودہ منظرنامے میں ’تجاہل عارفانہ‘ خود پر طاری کئے اِس پورے اصلاحاتی عمل سے علیحدہ تشریف فرما ہیں۔ درحقیقت یہ ذمہ داری منتخب نمائندوں کی ہی بنتی ہے کہ وہ معاشرے کی اِصلاح‘ حسن سلوک‘ اِدب و اِحترام‘ سماجی و اَخلاقی اَقدار‘ روایات یا کم سے کم اِنفرادی حقوق و ذمہ داریوں کے حوالے سے عوام الناس کا ہاتھ پکڑ کر رہنمائی کریں۔ خود پر قوانین لاگو کریں اور اپنے آپ کو بطور مثال پیش کریں۔ دوسری ذمہ داری مسجد و منبر اور خصوصی ایام کے دوران منعقد ہونے والے اجتماعات میں وعظ و نصیحت کرنے والوں کی بنتی ہے کہ وہ ہر معززومقدس مجلس کے اختتام سے قبل ’قانون کے اِحترام‘ دوسروں کی جان و مال‘ عزت و آبرو اور اُن قوانین و قواعد پر عمل درآمد کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے اِس بات کی تاکید کریں کہ موجودہ حالات میں قانون و قواعد کا اِحترام ضرورت سے زیادہ مجبوری بن چکی ہے اور اگر ہم ’خوداِحتسابی‘ کے ذریعے ’قانون پسندوں‘ کے منصب پر فائز نہیں ہوں گے‘ اپنے اہل و عیال کو قانون کے احترام سے آگاہ نہیں کریں گے تو اُس اِنتہاء پسندی کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے‘ جس کا بعدازاں نتیجہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی صورت برآمد ہوتا ہے اور جس نے ہمیں اندر ہی اندر سے کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔

پشاور پولیس کے لئے پہلے ہی چیلنجز کیا کم تھے کہ یکایک اَمن و اَمان کی بحالی‘ بین الاضلاعی‘ بین الصوبائی‘ قبائلی علاقوں اور ہمسایہ ممالک میں منظم جرائم پیشہ گروہوں سے نمٹتی کہ سانحہ پشاور (سولہ دسمبر) نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ترجیحات ہی تبدیل کرکے رکھ دی ہیں۔ اب پہلی ترجیح نفرت اور فرقہ واریت کو پھیلانے والے اسباب کا تدارک کرنا ہے جس کے لئے ہدایات جاری کرنے کے بعد ہر تقریر اور وعظ کی کڑی نگرانی ہو رہی ہے لیکن اُن تمام آڈیو ویڈیو کی شکل میں محفوظ مواد سے کیا معاملہ کیا جائے جو زیرگردش یا باآسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ گذشتہ بارہ ہفتوں کے دوران پشاور پولیس نے کئی ایک ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے‘ جو نفرت انگیز تقاریر کی تشہیر و فروخت میں ملوث پائے گئے۔ ایسے ہی ایک شخص کو 23 فروری کے روز بھانہ ماڑی پولیس نے گرفتار کیا تھا جو انٹرنیٹ کے ذریعے جہادی ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرکے اُن کی ’سی ڈیز‘ بنانے کا کاروبار کرتا تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ کام ’موبائل فون کے کاروبار‘ کی آڑ میں جاری تھا اور موبائل فون کے ذریعے جہادی ویڈیوز کی تشہیر و منتقلی کی جاتی تھی۔ مذکورہ ملزم ملک نواب کو گرفتار کرنے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جہاں جج صاحب سلیم جان خان نے برآمد ہونے والے مواد (سی ڈیز‘ ہارڈ ڈیسک اور یو ایس بیز) میں موجود پائی گئیں اور یہی ملزم کا جرم ثابت کرنے کے لئے کافی شواہد تھے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم ملک نواب کو 21دن کی قید اور 1000روپے جرمانہ کرنے کی سزا دی!

25 دسمبر 2014ء کو ’قومی سطح پر اپنائی گئی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی (نیشنل ایکشن پلان)‘ کے مطابق فرقہ واریت‘ انتہاء پسندی اور عدم رواداری پر مبنی مواد چاہے وہ کسی بھی صورت (الیکٹرانک یا پرنٹ) شکل میں ہو‘ کی تشہیر یا اس کی خریدوفروخت ایک قابل گرفت جرم قرار دیا گیا ہے لیکن یہ بات بہت لوگوں کو معلوم ہوگی کہ اگر وہ انٹرنیٹ (internet) کا استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ایسی ویڈیو ڈاؤن لوڈ (download) کر کے اپنے کمپیوٹر‘ موبائل فون یا یو ایس بی ڈرائیو میں محفوظ رکھتے ہیں تو یہ بھی ’جرم‘ ہی کے زمرے میں آتا ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ پر کنٹرول کرنے کے لئے وفاقی سطح پر ادارہ (پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی) موجود ہے‘ جنہیں ایسی ویب سائٹس پر پابندی عائد کرنی چاہئے جہاں سے نفرت انگیز اور شرانگیز مواد ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ اِس سلسلے میں نوجوان نسل کو آگاہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز‘ لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کو ہرطرح کے وائرس (خودکار پروگراموں) کی طرح ایسے مواد سے بھی پاک وصاف رکھیں‘ جو اِنتہاء پسندی پر مبنی ہو۔

تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔ تھری جی اور فور جی (تیزرفتار انٹرنیٹ سروسیز) خدمات کے عوض کروڑوں روپے یومیہ کمانے والی موبائل فون کمپنیوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نفرت انگیز مواد رکھنے والی ویب سائٹس تک رسائی محدود رکھیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ’اِنٹرنیٹ مادرپدر آزاد‘ ہے لیکن اِس کی مادرپدر آزادی پر قدغن لگانا دوسروں کی نہیں بلکہ خالصتاً ہماری ضرورت اور ہماری ذمہ داری بنتی ہے‘ اُور ہمیں ہی اِس ’موجود خطرے‘ سے نمٹنے کے لئے (منتخب نمائندوں‘ مسجد و منبر‘ تعلیمی اداروں اُور ذرائع ابلاغ جیسے روائتی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے) ’جامع حکمت عملی‘ تیار کرنا ہوگی‘ اِس مسئلے کو انفرادی حیثیت میں کسی ایک پولیس تھانے یا اِکیس دن کی سزا اُور ایک ہزار روپے جیسے معمولی جرمانے سے کنٹرول کرنا ممکن نہیں‘ نہ ہی یہ حربہ کارگر پائیدار اُور حسب حال کافی قرار دیا جاسکتا ہے۔
For comprehensive national action plan against terrorism, role of elected parliamentarians, mosque, education institution and media is needed

Friday, March 13, 2015

Mar2015: Afghan Refugees retun, impossible

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خام خیالی
خیبرپختونخوا کے مسائل اور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور کے جملہ وسائل پر آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا احساس کرنے والوں کے لئے یہ بات اہمیت ہی نہیں رکھتی کہ ’افغان مہاجرین کی کسی بھی صورت وطن واپسی کس قدر ضروری ہے۔‘ وفاقی سطح پر اِس بارے ہوئے بارہ مارچ کے غوروخوض میں زمینی حقائق کو جواز بنا کر اِس بات کو بناء کہے ناقابل عمل قرار دے دیا گیا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی مدت میں 31 دسمبر تک توسیع کافی نہیں۔ اگرچہ یہ نہیں کہا گیا کہ مہاجرین کے قیام میں مزید کتنی توسیع دی جارہی لیکن دی گئی حتمی تاریخ (ڈیڈ لائن) کو ’’حقیقت پسندانہ‘‘ بنانے جیسی اصطلاح کا استعمال فیصلہ سازوں کی دلی کیفیات کی عکاسی کرتا ہے‘ جنہیں اپنے ملک کے مفاد سے زیادہ بیرونی طاقتوں کی خوشنودی عزیز ہے‘ جو نہیں چاہتیں کہ تیس برس سے زائد افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ امریکہ بہادر کی تو اپنی یہ حالت ہے کہ ’ہوم لینڈ سیکورٹی‘ کے نام پر وہاں چڑیا تک پر نہیں مار سکتی لیکن پاکستان کے لئے سیکورٹی چیلنجز برقرار اور حالات کو جوں کا توں رکھنے کی حکمت غیرمنطقی اور دوغلے پن کی عکاسی کرتی ہے۔ عالمی برادری اگر افغان باشندوں کی مشکلات و مسائل پر اتنی ہی بے چینی محسوس کر رہی ہے تو اُنہیں اپنے ہاں یوں آزادانہ آمدورفت کی اجازت کیوں نہیں دیتی؟

قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت اس سے پہلے سختی سے ڈیڈلائن میں کسی توسیع کی مخالفت کرتی رہی تھی مگر اچانک بلکہ بہت ہی اچانک اس کے رویے میں لچک اس وقت نظر آئی جب افغان حکومت اُور افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) سمیت پاکستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا‘ جس کے تحت اللفظ سے یہ خوفناک بات عیاں ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی شاید 31 دسمبر کے بعد بھی ممکن نہ ہوسکے! وزیراعظم نواز شریف نے افغان وزیر برائے مہاجرین سیّد حسین علیمی بلخی سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ’’دونوں ممالک یو این ایچ سی آر کے ساتھ مل کر مہاجرین کی واپسی کا ایک حقیقت پسندانہ روڈ میپ تیار کریں گے۔‘‘ سہ فریقی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق افغانستان‘ پاکستان اور یواین ایچ سی آر نے ’’جامع لائحہ عمل‘‘ کی تیاری کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق تو کر لیا ہے لیکن حقیقت پسندی کا مطلب کیا ہوگا‘ اِس بارے میں وضاحت نہیں کی گئی! کیا یہ حقیقت پسندی نہیں کہ خیبرپختونخوا کی معیشت و معاشرت ہچکولے کھا رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم بھی اُس وقت تک مکمل نہیں ہوگا‘ جب تک خیبرپختونخوا اُور ملحقہ قبائلی علاقہ جات میں بناء دستاویزات رکھنے والوں کا بستر گول نہیں کر لیا جاتا۔ پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے اکتیس دسمبر کی ڈیڈلائن میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ یکطرفہ طور پر رواں برس جنوری میں کیا تھا اور یہ مانا جارہا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں حالیہ بہتری کے باعث اسلام آباد نے اپنا مؤقف ’غیرضروری طور پر نرم‘ کیا ہے۔ سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے روز ’آرمی پبلک سکول‘ پشاور پر حملے کے بعد صوبائی حکومت نے بھی واشگاف انداز میں کہا تھا کہ مہاجرین کی وطن واپسی ہرممکن طور سے ممکن بنائی جائے گی اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو اُنہیں کم از کم خیمہ بستیوں کی حد تک محدود کر دیا جائے گا۔‘‘ صوبائی اور وفاقی حکومت اپنے ہی بیانات کو عملی جامہ نہیں پہنا رہی۔ جن افغان مہاجرین نے جعل سازی سے پاکستان کی شہریت اور دیگر شناختی دستاویزات حاصل کر رکھی ہیں نہ تو اُن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز ہو سکا ہے اور نہ ہی نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے دفاتر سے اُن مفادپرستوں کی تطہیر ممکن ہو پائی ہے‘ جنہوں نے ذاتی مفاد کے لئے قومی سلامتی کی صورتحال کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے!

افغان مہاجرین کی تعداد کے لحاظ سے وفاقی حکومت کے مرتب کردہ اعدادوشمار کہ جن کی توثیق اقوام متحدہ بھی کرتا ہے خوفناک حد تک تشویشناک ہیں! تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان میں سولہ لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین مقیم ہیں جبکہ غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد ایک تخمینے کے مطابق دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ پشاور پولیس کے ایک انتظامی اہلکار کے مطابق صرف پشاور اور اِس کے گردونواحی علاقوں میں بیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین آباد ہیں اور ایسے مہاجرین کا شمار بھی لاکھوں میں ہے جو جعلی دستاویزات رکھتے ہیں!‘‘

وفاقی سطح پر فیصلہ سازی پر صوبائی حکومت کو بھی تشویش ہے اور اس بارے میں ایک سیاسی شخصیت کے بقول ’’افغان مہاجرین سے متعلق نئی پالیسی کو اگست تک تشکیل دی جائے گی۔‘‘ انہوں نے سہ فریقی اجلاس کے اعلامیے کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’واپسی کا پروگرام زمینی حقائق اور افغانستان کی گنجائش کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ جس کی منظوری سہ فریقی کمیشن کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ تینوں فریقین نے اکتیس دسمبر کو ختم ہونے والی معیاد سے پہلے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کے اجازت ناموں کی تجدید (ری نیو) کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ عجب ہے کہ پاکستان اِس بات پر رضامند ہوگیا ہے کہ مہاجرین کے مستقبل کے حوالے سے بروقت فیصلے کیے جائیں گے تاکہ ’’رواں سال کے اختتام پر غیریقینی صورتحال (شرمندگی‘‘ سے بچا جاسکے۔ علاؤہ ازیں غیررجسٹر مہاجرین کو دستاویزات کے معاملے پر فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان افغان حکام پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی اس کے لئے طریقہ کار مرتب کرے گی۔ کمیٹی کو دس لاکھ سے زائد غیر رجسٹر مہاجرین کو دستاویزات فراہم کرنے کے حوالے سے چار ماہ کا وقت دے دیا گیا ہے! افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے لچک کا مظاہرہ کرنے پر افغان حکومت شکرگزار دکھائی دیتی ہے۔

 افغان سفیر جنان موسیٰ زئی نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ پر پیغام (tweet) جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم پاکستان اور عوام کے شکر گزار ہیں جو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں‘ تمام افغان مہاجرین کی رضاکارانہ‘ باعزت اور بتدریج واپسی افغان حکومت کی کلیدی ترجیح ہے۔‘‘ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بیس نکاتی قومی ایکشن میں بھی افغان مہاجرین اور غیررجسٹر افغانیوں کے دستاویزات کے مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اب لگتا یہ ہے کہ قومی ایکشن پلان میں ترمیم کرنا پڑے گی۔

 دنیا جہاں کی عالمی ذمہ داریاں پاکستان کے سر ڈالنے والوں کا مؤقف ہے کہ ’’مہاجرین کے تحفظ کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جاری رکھا جائے۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ باقی ماندہ افغان مہاجرین نے بھی پاکستان کی شناختی دستاویزات جلدازجلد حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کا آغاز کر دیا ہوگا اور عنقریب ہمارے ہاں کوئی افغان مہاجر باقی ہی نہیں رہے گا یعنی نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

Monday, March 2, 2015

Mar2015: Peshawar Police Shortcomings

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پولیسنگ: کارکردگی‘ اہداف‘ مشکلات
پشاور میں اَمن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے ’سیکورٹی اِسٹیبلشمنٹ‘ کو درپیش چیلنجز‘ اُور کارکردگی کا اَجمالی جائزہ لیا جائے تو نہ صرف ’خوشگوار حیرت‘ ہوتی ہے بلکہ ’بہتری کے آثار‘ دیکھ کر اُمید ہو چلی ہے کہ ۔۔۔ ’’پشاور پولیس سے وابستہ توقعات یکے بعد دیگرے پوری ہونے میں کوئی اَمر مانع نہیں رہا‘ اُور عنقریب پھولوں کا شہر‘ اَمن کا گہوارہ بن جائے گا۔‘‘ پشاور پولیس کے سربراہ اِعجاز اَحمد خان سے ہوئی مختصر بات چیت سے معلوم ہوا کہ ’’خیبرپختونخوا حکومت قانون نافذ کرنے والے اِس اِدارے میں عملی طور پر ’مداخلت‘ نہیں کر رہی جبکہ مؤثر پولیسنگ کے اہداف حاصل کرنے میں‘ ممکنہ حد سے زیادہ تعاون کر رہی ہے‘ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔‘‘ اِعجاز خان پولیس کے صوبائی سربراہ کی رہنمائی کو بھی سراہتے ہیں‘ جن کی دردمندی‘ ذاتی دلچسپی و فرض شناسی سے ’’پولیس کو مستعد و فعال بنانے میں بڑی مدد ملی ہے۔‘‘

پشاور پولیس کیا ہے؟ دو مارچ دو ہزار پندرہ کے روز مرتب کئے جانے والے اَعدادوشمار کے مطابق پشاور میں کل 31 پولیس اِسٹیشن اور 76 چوکیاں ہیں۔ کل افرادی قوت 5800 ہے جن میں سے 1980 اہلکار بندوبستی اور قبائلی علاقوں کے سرحد پر آمدورفت (افراد و گاڑیوں کی جانچ پڑتال) کر رہے ہیں جس کی وجہ سے تھانہ جات کی نفری میں غیرمعمولی طور پر کمی آئی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق پشاور کی آبادی 67 لاکھ سے زیادہ ہے‘ جس میں قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے اُور افغان مہاجرین بھی شامل ہیں۔ منطقی ضرورت تو یہ ہے کہ ہر 350 افراد پر ایک پولیس اہلکار ہونا چاہئے اور موجودہ آبادی کے لحاظ سے پولیس کے آپریشنل اہلکاروں کی تعداد (افرادی قوت) کسی بھی طرح ’’19 ہزار‘‘ سے کم نہیں ہونی چاہئے۔ یہ ضرورت اِس وجہ سے اہم ہے کہ پشاور تین اطراف سے قبائلی علاقوں (جنہیں عرف عام میں ’علاقہ غیر‘ بھی کہا جاتا ہے) میں گھرا ہوا ہے بلکہ محصور ہے اور اگر فی الوقت بھی دیکھا جائے تو پشاور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد اِن قبائلی علاقوں کی سرحدوں پر ہی تعینات ہے۔ مؤثر پولیسنگ کا ہدف اَفرادی قوت و تکنیکی وسائل کی کمی دور کئے بناء ممکن نہیں اُور اُمید کی جا سکتی ہے کہ اِس سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت اِرسال کردہ ’ڈیمانڈ‘ کے مطابق وسائل مہیا کرے گی۔

پشاور کو آبادی کے تناسب سے نئے پولیس اسٹشینوں (تھانہ جات) کی ضرورت ہے؟ اِس رائے سے کسی حد تک فیصلہ ساز اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر مالی وسائل کم ہونے کا ادارک کرتے ہوئے فی الوقت صرف افرادی قوت میں اضافہ کیا جائے تو اس سے مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں لیکن مضافاتی و دیہی علاقوں پر مشتمل تھانہ جات بالخصوص ’تھانہ بڈھ بیر و چمکنی‘ کی حدود چونکہ وسیع علاقوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے‘ جسے دو یا تین تھانہ جات میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔ اندرون پشاور نئے تھانہ جات کے قیام کے لئے اراضی کا حصول بھی مشکل ہوگا‘ لہٰذا بہتر یہی ہوگا کہ دستیاب مالی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ’افرادی قوت‘ میں اضافہ کیا جائے۔ پشاور میں تجاوزات کے مرحلہ وار خاتمے سے متعلق عملی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے پشاور پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ’’سبزی منڈی اور چوک یادگار میں سڑک کی چوڑائی صرف پندرہ فٹ تھی جسے تجاوزات کا خاتمہ کرکے ’چالیس فٹ‘ تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اندرون پشاور کی وہ تمام سڑکیں جہاں سے پیدل گزرنا بھی ناممکن حد تک دشوار ہوا کرتا تھا‘ اُن کی کشادگی کے بعد نہ صرف ٹریفک سے جڑے مسائل کا خاتمہ ہوگا بلکہ ’سیکورٹی خدشات‘ بھی رفع ہو جائیں گے۔ اعجاز خان کہتے ہیں کہ ’’تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ اگر اہل پشاور چاہتے ہیں کہ جرائم کا خاتمہ ہو‘ تو اُنہیں انفرادی و اجتماعی حیثیتوں میں خود بھی قانون کا احترام کرنا ہوگا۔ اگر اہل پشاور چاہتے ہیں کہ ٹریفک کی روانی رہے تو اُنہیں انفرادی واجتماعی حیثیتوں میں تجاوزات ختم کرنا ہوں گی یا تجاوزات قائم کرنے والوں کو اظہار لاتعلقی کرنا ہوگا۔ حکومتی ادارے عوام کی خدمت اور معاشرے پر مسلط ہونے والے عناصر کے خلاف ڈھال کا کام کرتے ہیں لیکن اگر معاشرہ منظم ہوجائے‘ اپنے گردوپیش سے مطلع ہو‘ ہر کوئی اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھے‘ اپنی نجی (گھریلو) ذمہ داریوں کی طرح سماجی و معاشرتی فرائض کی ادائیگی کا بھی خیال کرے‘ عدل پر مبنی معاشرت اختیار کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسائل کے سراُٹھانے سے قبل ہی اُن کا حل دریافت نہ کر لیا جائے۔

سولہ دسمبر کے ’سانحۂ پشاور‘ کے بعد قبائلی علاقوں سے متصل سرحد پر 30 نئی چوکیاں بنائی گئیں ہیں‘ جہاں تعینات پولیس اِہلکار پشاور کے مختلف تھانہ جات سے چنی گئی ہے۔ اَندرون پشاور ’سیکورٹی چیلنجز‘ اپنی جگہ موجود ہیں۔ حساس تنصیبات و مقامات کی نگرانی کے لئے ’کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے‘ عوام نے اپنا پیٹ کاٹ کر نصب کئے ہیں لیکن سرشام ’سٹریٹ لائٹس‘ نہ ہونے کی وجہ سے نگرانی کا یہ عمل بھی بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ ایک طرف گلی کوچوں میں گشت کے لئے نفری موجود نہیں اور دوسری جانب ’کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن سسٹم‘ اپنا مقصد پورا نہیں کر رہے۔ حکومت کی جانب سے گورنر ہاؤس‘ پولیس لائنز‘ کورٹس‘ سنٹرل جیل‘ ایم پی اے ہاسٹل اور سول سیکرٹریٹ کے اردگرد 165 کیمرے نصب ہیں‘ جن کی نگرانی چیف سیکرٹری آفس کے تہہ خانے میں رکھی گئی ہے لیکن پشاور شہر کے اہم و مصروف بازاروں کی نگرانی کا مربوط نظام موجود نہیں۔ افرادی قوت کی کمی کے علاؤہ پشاور پولیس کی موبائل گاڑیوں کی تعداد میں بھی ہر سال کمی آ رہی ہے اور ایک کے بعد ایک گاڑی ناکارہ ہو رہی ہے۔ سال 2010-11ء کے دوران پشاور پولیس کے پاس 253 موبائل (گشتی) گاڑیاں تھیں جو خاطرخواہ مرمت نہ ہونے کی وجہ سے سال 2013ء کے دوران 237 اور سال 2014ء کے اِختتام تک 154 کارآمد حالت میں دستیاب ہیں۔ جب پشاور پولیس کے پاس خاطرخواہ اَفرادی قوت کی کمی ہو‘ گشت کے لئے گاڑیاں اور اُن کی ضروریات (اِیندھن و دیکھ بھال) پوری کرنے کے لئے مالی وسائل بھی دستیاب نہ ہوں‘ تو گلی کوچوں‘ محلوں میں رونما ہونے والی ڈکیتیوں کی روک تھام‘ دہشت گردی اور منظم جرائم کا قلع قمع محض نیک تمناؤں سے کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔
Policing in Peshawar

Tuesday, February 3, 2015

Feb2015: Tragedy within Tradegy

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ہر اک جنبش فسانہ ہے

 سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے روز ’آرمی پبلک سکول‘ پر ہوئے حملے سے متعلق تحقیقات منظرعام پر لانے کا مطالبہ اور سانحۂ پشاور کا اصل درپردہ محرک بیان کرتے ہوئے اُس سازشی نظریئے کو باضابطہ طور پر پیش کردیا گیا ہے‘ جس کے مطابق یہ حملہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کرایا گیا تاکہ اِسلام آباد میں اُس وقت جاری تحریک انصاف کا احتجاجی دھرنا ختم کیا جا سکے۔ یہ غیرمصدقہ اور بناء ثبوت نظریہ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ پر اُس وقت سے گردش کر رہا ہے جب تحریک انصاف نے پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کے غمزدہ خاندانوں سے اظہار یک جہتی کے طور پر سولہ دسمبر کے اگلے ہی روز ’ایک سو چھبیس دن‘ سے جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔2 فروری کی شام یکے بعد دیگرے منظرعام پر آنے والا ایک جائز مطالبہ لیکن ایک غیرمحتاط بیان کا تذکرہ اُس شام کے ’ٹاک شوز‘ میں نہیں کیا گیا تو اِس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ یہ دونوں بیانات اہم نہیں بلکہ ہمارے ہاں نجی ٹیلی ویژن چینلوں کا طریقۂ کار یہ ہے کہ بحث و مباحثے کے پروگراموں کے لئے اوّل تو موضوع قومی سلامتی کے ایک خاص ادارے کی جانب سے مبینہ طور پر ’تجویز‘ کئے جاتے ہیں اور ساتھ ہی اس پربحث کے لئے طلب کئے جانے والے مہمانوں کے ناموں کی سفارش بھی کردی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم وبیش گیارہ سو قانون ساز اداروں کے اراکین میں سے صرف چند چہرے ہی یہاں وہاں اچھل کود کرتے دیتے ہیں! نجی ٹیلی ویژن چینلوں کے ہاں کسی ایک موضوع کا انتخاب دن کے شروع یا ڈھلنے سے قبل کرنے کا رواج ہے۔ پھر اُس موضوع سے متعلق سوالات کی تیاری اور میزبان کے لئے ابتدائیہ و اختتامیہ تحریر کرنے کے لئے درجنوں افراد مصروف ہو جاتے ہیں اور میزبان اپنے میک اپ اور کپڑوں کی فکر کی جانب تمام تر توجہ مبذول کر لیتا ہے۔ یقین کیجئے کہ جس طرح کا فیشن اور ملبوسات ہمارے ہاں صحافتی ٹیلی ویژن اُور ٹاک شوز میں دیکھنے کو ملتا ہے‘ اِس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی۔ کم عمر‘ نوجوان‘ صحافتی اقدار و تجربات سے لفظی طور پر آشنا‘ چیخ چیخ کر باتیں کرنے یا اپنی اَداؤں اور مخصوص مسکراہٹ سے سوالات کو نرم و شیریں بنانے والے ایک سے بڑھ کر ایک اداکاری میں ماہر ہے۔ صحافتی ٹیلی ویژن میں اِس قدر بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی بحث ومباحثوں میں بطور میزبان شرکت کا عالمی اعزاز بھی غیراعلانیہ طور پر پاکستان ہی کے پاس ہے! خبر اور خبر کے درپردہ حقائق سے زیادہ لباس کی وضع قطع‘ تراش خراش پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اُن تمام ’مکروہ ڈیزائنوں‘ کے کپڑے جن کا استعمال ہوتا ہے‘ جن کا ’صحافتی ٹیلی ویژن‘ کی دنیا میں استعمال ’ممنوع‘ سمجھا جاتا ہے‘ مثال کے طور پر بناء بازو ٹی شرٹ‘ کسی تنظیم یا ادارے کی علامت سمجھے جانے والے رنگوں اور ڈیزائن کے رومال‘ مفلر یا بیجیز کا استعمال‘ وغیرہ وغیرہ۔ سرشام لگنے والے اِن فیشن شوز کی حقیقت کا احاطہ الگ موضوع کے طور پر توجہ چاہتا ہے‘ سردست موضوع ’آرمی پبلک سکول‘ کے والدین کی وہ تشویش ہے جس میں ہرگھڑی اضافہ ہو رہا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سکول پر حملے سے متعلق جو تحقیقات و تفتیش اگر کی گئی ہے‘ اُس کے مندرجات یا کم سے کم غیرحساس و حساس تفصیلات یا جزئیات قوم کے سامنے لائی جائیں۔

سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ سکول پر حملے کے لئے جس عسکریت پسند گروہ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا‘ کیا وہی اِس کے لئے ذمہ دار ہے بھی یا نہیں کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) کی سربراہ محترمہ غنویٰ بھٹو نے 2 فروری کی شام اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ’’آرمی پبلک سکول پر حملہ تحریک انصاف کا دھرنا ختم کرنے کے لئے اختیار کی گئی ایک چال تھی!‘‘ اگر اُن کے پاس اِس بات کے ثبوت ہیں تو یہ نہ صرف ’اِنتہائی دردناک‘ بات ہے بلکہ پاکستان کی تاریخ کا ایسا سب سے بڑا سکینڈل بھی ہے جس کے پیچھے سیاسی عناصر کارفرما ہیں اور اگر مکمل نہ سہی لیکن جزوی طور پر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے تو پاکستان کی کوئی ایک سیاسی جماعت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکتی ہے۔ اُس کی قیادت کو فوجی عدالتوں میں اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے دفاع کا موقع مل سکتا ہے لیکن اِس بات کا امکان بہت ہی کم ہے کہ انصاف کے تقاضوں اور عوام کی اکثریت کی توقعات کے مطابق سانحۂ پشاور کے ذمہ داروں کے ’بلیک وارنٹس‘ جاری نہ ہوں! لمحۂ فکریہ ہے کہ اب تک ہم اپنے سیاستدانوں کے بارے میں یہی سنتے آئے ہیں کہ وہ شاہانہ و ٹھاٹھ باٹھ سے بھرپور زندگی تو بسر کرتے ہیں لیکن حسب آمدن اپنے حصے کا ٹیکس اَدا نہیں کرتے۔ اُن کے بیرون ملک آثاثے ہیں اور اُن کی آمدنی یا مالی وسائل کے ذرائع مشکوک ہیں۔ وہ امانت و دیانت‘ برداشت و ایثار کے بارے میں بے تھکان بولتے تو ہیں لیکن عملی طور پر اُن کا قول و فعل اور فکر و تدبر تضادات کا مجموعہ ہوتا ہے جس میں ذاتی مالی مفادات سے زیادہ کوئی دوسری سوچ یا ترجیح شامل حال نہیں ہوتی لیکن اگر سیاستدان اِس انتہاء سے کہیں زیادہ آگے بڑھ چکے ہیں کہ وہ معصوم بچوں کے قتل جیسے گھناؤنے جرم میں بھی ملوث ہیں تو اِس ’بڑیکہانی (بگ گیم)‘ کے سبھی کرداروں اور ہدایت کاروں یا اُن کے مشیروں کے چہرے بے نقاب ہونے چاہیءں۔ اِس سلسلے میں سپرئم کورٹ یا پشاور ہائی کورٹ کو ’محترمہ غنویٰ بھٹو‘ کے بیان کا ازخود (سوموٹو) نوٹس لیتے ہوئے اُنہیں طلب کرنا چاہئے تاکہ اُن ثبوتوں یا شواہد کی جانچ سے سانحۂ پشاور کے ’اصل مجرموں‘ تک پہنچا جا سکے۔

سات ہفتے (پچاس دن) گزرنے کے باوجود نہ تو سانحۂ پشاور سے متعلق اُٹھائے گئے سوالات کے سرکاری طور پر جوابات سامنے آئے ہیں اور نہ والدین کو جاری تحقیقات و تفتیش کے حوالے سے اطمینان ہے کیونکہ انہیں کسی بھی مرحلے پر اعتماد میں نہیں لیاگیا۔ والدین چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سولہ دن میں جوڈیشل کمیشن سے تحقیقات کرانے کا اپنا وعدہ پورا کریں اور اگر انہیں سانحۂ پشاور یا خیبرپختونخوا کے دکھ درد کی پرواہ نہیں رہی تو صوبائی حکومت سے علیحدہ ہو جائیں۔

دو فروری کی شام پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بچوں کو یاد کرنے والے والدین کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اُن کے زخم تازہ ہیں۔ ’شہدأ فورم‘ کے نام سے شہید بچوں کے والدین کی جدوجہد کچھ بھی ہو سکتی لیکن یہ سیاسی نہیں۔ ماؤں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اور دکھ سیاسی نہیں ہو سکتے۔ سسکیاں آہیں اور مطالبات کا سیاسی قرار دینا زیادہ دردناک المیہ ہے۔ متاثرین ہمدردی یا مالی معاونت نہیں چاہتے بلکہ استحقاق رکھتے ہیں کہ سولہ دسمبر کے روز انسانیت کو خون کے آنسو رلانے والے حقیقی کرداروں کو بے نقاب کرکے اُنہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ ’’خمارآلود نظروں کی ہر جنبش فسانہ ہے: الہٰی ہم اُنہیں دیکھیں‘ کہ اُن کا دیکھنا دیکھیں!‘‘

Wednesday, January 28, 2015

Jan2015: Guns and teachers

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
درس و تدریس: لاحق خطرات
بس اِسی بات کی کمی باقی رہ گئی تھی۔ خیبرپختونخوا پولیس نے تعلیمی اداروں کے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں میں جس طرح دوسروں کو شریک کر لیا ہے‘ وہ اُس ’حکمت عملی‘ کا حصہ ہے جس کا ایک جز اساتذہ بالخصوص درس و تدریس سے وابستہ خواتین عملے کو مسلح کرنا اور اُنہیں خودکار اَسلحے کے مؤثر استعمال کی مرحلہ وار تربیت دینا شامل ہے۔ گویا کہ ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ’تشدد کا مقابلہ تشدد سے کریں گے۔‘ دفاع کے نام پر اسلحہ رکھنے کی اجازت تو دے گئی ہے لیکن اِس اسلحے کے استعمال پر نظر اور اجازت نامے جاری کرنے قبل بصیرت و بصارت (نفسیاتی) ٹیسٹ کرنے کو ضروری نہیں سمجھا گیا‘ تاکہ اِس بات کا تعین کیا جاسکتا کہ وہ اساتذہ جنہیں بچوں کو مار پیٹ کرنے کی اجازت نہیں لیکن اس کے باوجود پٹائی کے اکا دکا واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں تو کہیں ایسا کہ نہ ہو آئندہ چھڑی کی بجائے اساتذہ ہتھیار استعمال کرنے لگیں یا پھر ہتھیاروں کا استعمال گھریلو یا ذاتی تنازعات میں ہونے لگے ۔ کلاس روم میں مسلح استاد کی موجودگی کے نفسیاتی اثرات کیا ہوں گے‘ اِس بارے بھی خاطرخواہ غوروخوض اور متعلقہ شعبے کے ماہرین (نفسیاتی معالجین) سے مشورہ نہیں کیا گیا۔

محض چند روز کی تربیت سے کیا اساتذہ اِس قابل ہوجائیں گے کہ وہ اپنا اور اپنی کلاس یا پورے سکول کا دفاع ایسے حملہ آوروں سے کرسکیں جن کے سر پر خون سوار ہو اور جو خودکش بن کر نازل ہوئے ہوں؟ کیا ہم یہ حقیقت بھول گئے ہیں کہ سولہ دسمبر کے روز جب ’آرمی پبلک سکول‘ کو حملہ آوروں سے نجات دلانے کے پاک فوج کے خصوصی تربیت یافتہ دستے ’سپیشل سروسیز گروپ (ایس ایس جی)‘ سے تعلق رکھنے والے کمانڈوز کو طلب کیا گیا تو دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے وہ بھی زخمی ہوئے اور باوجود جسمانی طور پر چاک و چوبند‘ مستعد اور نشانہ بازی میں انتہائی درجے کی حیران کن مہارت رکھنے والوں کو بھی زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔

 ہمارا مقابلہ جس دشمن سے ہے اُس پر اپنے جیسا ہونے کا گمان کرنا دوسری بلکہ زیادہ سنگین غلطی ہوگی۔ یہ امر بھی لائق توجہ رہے کہ جس معاشرے کو انتہاء پسندی نے کھوکھلا اور دہشت گردی نے خوفزدہ کر رکھا ہے وہاں اسلحہ رکھنے کی حوصلہ افزائی اور فوری اجازت نامے مرحمت فرمانے سے زیادہ نقصانات کا اندیشہ ہے۔ سکول کی چاردیواری کے اندر اسلحہ لیجانے کی ضرورت کسی بھی صورت نہیں ہونی چاہئے۔ کیا معلوم یہی اسلحہ حملہ آوروں کے ہاتھ لگے۔ ایک منٹ میں درجن سے زائد گولیوں کی بوچھاڑ کرنے والا اسلحہ کہیں کلاس رومز پر موت جیسا سکوت طاری کرنے کا سبب نہ بن جائے۔ کیا ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے کہ وہ شہری و دیہی بندوبستی علاقوں میں دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کار بننے والوں کا قلع قمع نہیں کرسکتے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ سولہ دسمبر کے سانحۂ پشاور جیسے واقعات کے رونما ہونے سے قبل‘ اُن کی منصوبہ بندی کرنے والوں پر ہاتھ ڈالنے کی ہم میں اہلیت ہی نہیں۔ خفیہ معلومات جمع کرنے کا ہمارا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ ہم ذہنی و جسمانی طور پر اِس حد تک تھکاوٹ و نقاہت کا شکار ہوچکے ہیں کہ اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے جیسے اقدام کو بھی ’ایک قابل عمل‘ حل سمجھ رہے ہیں۔ اُمید ہے اَرباب اختیار مسلح اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے اندر اسلحہ لیجانے کی اجازت دینے سے متعلق اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں گے۔

حرف آخر: پشاور صدر کے علاقے ’نوتھیہ‘ کے رہنے والوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر اُن کے گنجان آباد مرکزی رہائشی و تجارتی علاقے سے ’فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایف ای ایف) کالج‘ دوسرے مقام پر منتقل کیا گیا تو وہ اِس ’ناانصافی‘ کے خلاف یکم فروری سے ’پریس کلب‘ کے سامنے ’احتجاج‘ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کی جائے گی۔ بذریعہ ’ایس ایم ایس پیغامات‘ طالبات اور اُن کے والدین کی جانب سے اپیل میں انتخابی وعدوں اور تعلیم دوستی کے حوالے سے اعلانات و بیانات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ’تعلیمی ایمرجنسی‘ نافذ ہے یعنی درس و تدریس کا عمل حکومت کی اوّلین ترجیح ہے اور قیام پاکستان کے بعد سے کسی بھی سیاسی دور میں موجودہ حکومت کی طرح تعلیم کے فروغ کے لئے اِس قدر مالی وسائل کبھی مختص نہیں کئے گئے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبات کے جس کالج کو محض ’کم تعداد‘ کی وجہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ اس سے اندیشہ ہے کہ نوتھیہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رہنے والی بہت سی طالبات تعلیم کے سلسلے کو جاری نہیں رکھ سکیں گی۔ یہ التجا ایک سو بیس طالبات اور اُن کے والدین کی جانب سے مشتہر کرنے والے سماجی کارکن انور خان نے اِس اندیشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ پریس کلب کے سامنے مستقل احتجاجی دھرنا سیکورٹی کے لحاظ سے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے‘ لہٰذا محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اَرباب اختیار بشمول وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اُور تحریک اِنصاف کے سربراہ عمران خان ’ایف ای ایف کا نوتھیہ کالج‘ ختم کرنے کی بجائے طالبات کے مزید تعلیمی اداروں کے قیام کا اعلان فرمائیں اور اپنی ’علم دوستی‘ کا عملی مظاہرہ کریں۔
 

Monday, January 26, 2015

Jan2015: Wrong Prioirities

ژرف نگاہ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
حکیمانہ ناسازئ حالات
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ضلع پشاور کے چودہ سو سرکاری سکولوں میں سے صرف ایک سو چودہ ہی کھولے جا سکے ہیں کیونکہ تعلیمی اداروں کے لئے مقررہ حفاظتی انتظامات مقررہ مدت میں مکمل نہیں کئے جاسکے اور یہی وجہ ہے کہ سکول پھر سے فعال کرنے کے لئے لازماً درکار ’اجازت نامہ (این اُو سی)‘ سرمائی تعطیلات میں حاصل نہیں کیا جاسکا! اِس سلسلے میں جب متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کے لئے حکومت نے 2 ارب روپے فراہم کئے تو ہیں اور اِس کا خوب چرچا بھی کیا گیا ہے لیکن اصل ضرورت 7 ارب روپے کی ہے!

سب سے آسان کام اعلان کرنا ہوتا ہے اور وہ بھی فوری اعلان۔ سیاست دان جانتے ہیں کہ قوم کا حافظہ کمزور ہے اور وہ جلد ہی بھول جائیں گے لیکن کسی سانحے کے وقت پے در پے اعلانات اور پرعزم جملوں کی تشہیر سے گریز نہیں کیا جاتا۔ لمحۂ فکریہ نہیں تو اُور کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے لئے حفاظتی انتظامات کا اعلان کرتے ہوئے اُن زمینی حقائق کا ادراک نہیں کیا گیا‘ جن کی وجہ سے اعلانات و بیانات کافی نہیں۔ مثال کے طور پر خیبرپختونخوا میں 24 فیصد سرکاری سکول ایسے ہیں جن کی چاردیواری ہی نہیں‘ ایسی صورت میں پہلے تو چاردیواری کی تعمیر کی جائے تو پھر اُس چاردیواری کی اونچائی کم سے کم آٹھ فٹ تک ہونی چاہئے‘ جس پر خاردار تاریں لگی ہوں۔ کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں کے ذریعے سکول کی نگرانی ہو رہی ہو‘ جس کے لئے الگ عملہ ہمہ وقت ٹیلی ویژن اسکرینوں پر نظریں جمائے بیٹھا رہے۔ ظاہر ہے اُستاد تو فارغ نہیں ہوں گے کہ وہ کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں سے آنے والے ’اِن پٹ (input)‘ کو دیکھتے رہیں پھر اُس ماڈل تعلیمی ادارے کے داخلی راستے پر ایک عدد مستعد و مسلح چوکیدار (گارڈ) بھی تعینات ہونا چاہئے! کیا یہ سب قابل عمل اقدامات ہیں جبکہ مالی وسائل فراہم کرنے میں غیرضروری اِحتیاط‘ تنگدلی و تنگدستی کا مظاہرہ سیاسی حکومت کی ساکھ کا حصہ ہو! جس صوبے کے چوبیس فیصد سرکاری سکول اَگر چاردیواری سے محروم ہیں اور جہاں 46 فیصد سرکاری سکولوں میں برقی رو دستیاب ہی نہیں! کہ جہاں بجلی کا ایک بلب تک نہ جل سکتا ہو وہاں نگرانی کے لئے الیکٹرانک آلات (ٹیلی ویژن کیمرے اور اُن کے ریکارڈرز) نصب تو ہو سکتے ہیں لیکن وہ کام کیسے کریں گے؟ ’’خود فریبی سی خودفریبی ہے۔۔۔ دور کے ڈھول بھی سہانے لگے!‘‘

افراتفری کا ماحول ہے۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی ادارے ہیں جنہیں حفاظتی انتظامات کے لئے خاطرخواہ مالی وسائل فراہم نہیں کئے جا رہے تو دوسری جانب نجی تعلیمی ادارے ہیں جن کی انتظامیہ فریاد کر رہی ہے کہ ’’اُنہیں کم سے کم جن حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ حکومت کا کام ہے لیکن اگر حکومت اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا ہی چاہتی ہے تو اِس کے لئے منطقی طریقہ کار اختیار کرے یعنی مالیاتی اداروں سے آسان شرائط پر قرضہ جات کی فراہمی کی جائے۔ نگرانی کرنے والے آلات کی درآمد پر عائد ٹیکس و دیگر ڈیوٹیاں ختم کی جائیں اور مقامی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ شمسی توانائی سے چلنے والے نگرانی کے آلات ایجادکریں۔‘‘ یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ ۔۔۔ ’’سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی بجائے محکمہ پولیس کی نگرانی کا نظام بہتر بنایا جائے۔‘‘ پولیس فورس کی افرادی قوت اور دیگر وسائل میں آبادی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔ شہری یا دیہی علاقوں میں غیرمتعلقہ افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لئے قومی شناختی کارڈ کی دستاویز کے بناء کرائے پر جائیداد یا دکان حاصل کرنے اور بناء قومی شناختی کارڈ سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اگر دہشت گرد اِس حد تک سرایت کر چکے ہیں کہ اُن کی شناخت مشکل ہو گئی ہے تو ہمیں اِس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ وہ آرمی پبلک سکول پر حملے جیسی کوئی دوسری کارروائی کریں گے تو تب ہی صرف حملہ آوروں کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔ آخر کیا سبب ہے کہ دہشت گردوں کے ’’سہولت کار‘‘ بننے والے کرداروں سے سخت گیر معاملہ نہیں کیا جا رہا‘ وہ کردار جو بذات خود تو دہشت گرد کارروائیوں میں حصہ نہیں لیتے لیکن مختلف طریقوں سے حملہ آوروں کی مدد کرتے ہیں‘ اُن کی اخلاقی حمایت کرتے ہیں‘ اُن کے پیغام کو پھیلاتے ہیں‘ اُن کی کارروائیوں کو مذہبی احکامات کی تشریح سے جائز قرار دیتے ہیں‘ اُنہیں کارروائی سے قبل پناہ دیتے ہیں یا اُن کے لئے اہداف سے متعلق معلومات جمع کرتے یا کرواتے ہیں تو بالخصوص ایسے تمام کرداروں پر ’بلااِمتیاز و دباؤ‘ بھی پہلی فرصت سے پہلے ہاتھ ڈالنا چاہئے۔ تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ ’’پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ باقی نہیں رہا۔‘‘ عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت تھانہ کچہری سے پناہ کی دعائیں مانگتی ہے۔

 خیبرپختونخوا کے پولیس سربراہ ناصر درانی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ بداعتمادی کے اِس ماحول کو ختم کرنے اور پولیس و عوام کے درمیان اعتماد سازی کے رشتے بحال کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔ عوام اور پولیس کے درمیان پائی جانے والی نادیدہ خلیج سے انکار کرنا ’خود فریبی‘ ہوگی‘ اِس سلسلے میں پرنٹ و الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کے وسائل سے بھرپور استفادہ ہونا چاہئے‘ یقیناًپولیس میں ملازمت کرنا‘ تنخواہ و مراعات پانے والوں کے لئے تو شان شوکت کا باعث اور فخر ہوسکتا ہے لیکن اگر کسی کے گھر پولیس اہلکار دستک دے یا راہ چلتے کسی کو روک کر راستہ ہی پوچھ لے یا کسی کو تھانے طلب کیا جائے یا کسی حاجت کے تحت متعلقہ تھانے یا چوکی سے واسطہ رکھنا پڑے تو ’سفید پوشوں‘ کے رنگ پیلے‘ ہونٹ نیلے اور ہاتھوں پر کپکپاہٹ طاری و حاوی ہو جاتی ہے! آخر ایسا کیوں ہے کہ ہمارے ہاں پولیس پر آبادی کے صرف اُس ایک طبقے کا کلی اعتماد باقی ہے جس کا تعلق جرائم پیشہ یا مجرمانہ ذہنیت و اعتقادات سے ہو! آخر کیا سبب ہے کہ دنیا بھر کی طرح ہمارے ہاں بھی خفیہ معلومات پر اکتفا نہیں کیا جاتا‘ دہشت گردی کے لئے اِنتہاء پسندی کا پرچار‘ سازشوں اور وارداتوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے عزائم‘ کسی حملے سے قبل ہی خاک میں کیوں نہیں ملائے جاتے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ تعلیمی اِدارے ہوں یا کاروباری مراکز‘ حفاظت و نگرانی کے اہداف ’مؤثر پولیسنگ‘ کے ذریعے حاصل کرنے پر غوروخوض یا زور نہیں بلکہ حقائق سے نظریں چرانا‘ اُور اپنے فرائض و ذمہ داریاں دوسروں کے سر تھوپنا ہمارا ’قومی مشغلہ‘ ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan2015: Business Minded Approach

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کاروباری ذہنیت اور حالات
خالصتاً ’کاروباری ذہنیت‘ (زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کا آزمودہ و آسان طریقہ) یہ ہے کہ گردوپیش کے سیاسی و سماجی حالات اُور تبدیلیوں پر گہری نگاہ رکھی جائے اور جس چیز (جنس) کی مانگ میں اضافہ متوقع ہو‘ اُسے ذخیرہ کر لیا جائے‘ نئی خریداری کے آرڈرز دینے یا موجودہ ذخیرے کو سانس روک کر ایک ایسے وقت میں فروخت کے لئے پیش کرنا ’کاروباری حکمت عملی‘ کہلاتی ہے تاکہ لوگوں سے اُس وقت اِضافی قیمت وصول کی جائے جبکہ وہ انتہائی مجبوری و ضرورت کے عالم میں ہوں۔

 روزمرہ اصطلاح میں ’کامیاب تاجر (دکاندار)‘ وہی کہلاتا ہے جو دوسروں کی مجبوری کا سب سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کا ہنر جانتا ہو یعنی وہ خریداری کے ’عمومی رجحانات‘ پر نظر رکھے۔ مثال کے طورپر ماہ رمضان میں قیمتوں کا بڑھنا ایک معمول بن چکا ہے یا پھر نئے ’تعلیمی سال‘ کے آغاز پر نصابی کتب کی قیمتیں میں والدین کو دھچکا دینے اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ کتابوں پر شائع شدہ قیمتوں پر اسٹکر لگا کر نئی قیمتیں درج کر دی جاتی ہیں۔ کچھ دکاندار ’مارکر (نہ مٹنے والی سیاہی)‘ پھیر کر کتاب پر شائع ہونے والی قیمت چھپا دیتے ہیں اور والدین کے پاس سوائے من مانگی قیمتیں اَدا کرنے کے چارہ نہیں ہوتا۔ آج تک کوئی ایسا منتخب نمائندہ دیکھنے اور سننے کو نہیں ملا جس نے والدین کی صورت صارفین کے اندیشوں اور تحفظات کو دردمندی سے سنا ہو‘ قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں اِس ناانصافی کے خلاف احتجاج کیا ہو‘ خودسوزی یا مستعفی ہونے کی دھمکی دی ہو! سوچئے کیا ہمارے منتخب نمائندے ہماری توقعات پر پورا اُتر رہے ہیں؟

سردست مسئلہ اُن سیکورٹی (الیکٹرانک) آلات کی مہنگائی اور عدم دستیابی کا ہے‘ جنہیں نصب کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اگر ’الیکٹرانک آلات‘ نصب نہیں کئے جائیں گے تو ایسے نجی تعلیمی اداروں کو ’کاروبار‘ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی! جس وقت حکومت کی جانب سے ’کلوزسرکٹ کیمروں‘ اور ’خاردار تاروں‘ کی تنصیب کو لازم قرار دیا جا رہا تھا‘ اُس وقت اگر مارکیٹ میں اِن اشیاء کی قیمتیں رازداری سے معلوم کر لی جاتیں اور اُن چار ہفتوں کا فائدہ اُٹھایا جاتا جبکہ تعلیمی ادارے بند تھے تو آج ’بحران در بحران‘ کی صورتحال پیش نہ آتی۔ ادارے سیکورٹی کے خاطرخواہ انتظامات کرنے کی بجائے دکھاوے سے زیادہ کام لے رہے ہیں اور خدانخواستہ کسی ہنگامی صورتحال میں اِن کیمروں سے خاطرخواہ مقاصد حاصل نہیں ہوں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ۔۔۔ کلوزسرکٹ مانیٹرنگ (نگرانی) کے لئے استعمال ہونے والے کیمرے اور ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈز (DVRs) تصویر کی کوالٹی کے لحاظ سے ساخت کئے جاتے ہیں۔ ایک کیمرے کی قیمت ’پندرہ سو روپے‘ سے لیکر ’ڈیڑھ لاکھ روپے‘ تک ہوتی ہے۔ اسی طرح ’ڈی وی آر‘ کی قیمت بھی ریکارڈنگ محفوظ رکھنے کے اوقات (گھنٹوں‘ دنوں اور مہینوں) سے لیکر اِس کے معیار تک مختلف ہو سکتی ہے۔ دوسری بات سیکورٹی کیمرے اگر مستقل لگے ہوں تو وہ سستے ہوتے ہیں لیکن اگر اُن میں 360 ڈگری پر گھومنے کی صلاحیت ہو تو اُن کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ خودکار انداز میں گھومنے اور کسی ایک مقام کے کونے کونے کو ایک سے زائد کیمروں سے کور (cover) کرنے کے لئے خصوصی ماہرین روشنی کے زوایئے ذہن میں رکھتے ہوئے آلات تجویز کرتے ہیں۔ تیسری بات کلوز سرکٹ کیمروں کی اُس خصوصیت کے بارے ہے جو وہ کم روشنی یا اندھیرے میں دیکھ سکتے ہیں تاہم یہ اضافی خصوصیت ہر کیمرے میں یکساں نہیں ہوتی بلکہ اس کا انتخاب کم روشنی (low-light) یا مکمل اندھیرے (darkness) مطابق کرنا ہوتا ہے یعنی انفراریڈ روشنی دینے والے آلات کا انتخاب سکول کے رقبے کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ چوتھی بات موشن سنسرز ہوتے ہیں‘ جو خودکار آرام سسٹم اور کیمروں کو فعال کرنے کے علاؤہ عمارت کے کسی خاص حصے یا مکمل عمارت کو روشن کردیتے ہیں تاہم اِس نظام کے لئے بجلی کا بیک اپ سسٹم یعنی ’اَن اِنٹرپٹیڈ پاور سپلائی (یو پی ایس)‘ لگانی ضروری ہوتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں بجلی کی غیراعلانیہ اور اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے اوقات ملا کر یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ بجلی کن اوقات میں نہیں ہوگی جس سے پورا سیکورٹی کا نظام دم توڑ دیتا ہے اور دہشت گرد ’ہوم ورک‘ کرنے کے ماہر ہوتے ہیں جیسا کہ حال ہی میں روالپنڈی میں ایک دھماکہ عین اُس وقت ہوا‘ جب بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوئی۔’’شعوری کوششیں منظر بگاڑ دیتی ہیں۔۔۔ وہی بھلا ہے‘ جو بے ساختہ بنا ہوا ہے!‘‘

پشاور کی مارکیٹ میں ’سی سی ٹی وی کیمرے‘ کی قیمت پندرہ سو سے بڑھ کر ڈھائی ہزار روپے جبکہ میٹل ڈیکیٹر کی قیمت ایک ہزار روپے سے چار ہزار روپے ہوچکی ہے۔ اسی طرح 35 فٹ کی خاردار تار کا بنڈل دو ہزار روپے کا مل جاتا تھا لیکن اِس کی موجودہ قیمت چھ ہزار روپے طلب کی جاتی ہے۔ ریتی بازار کہ جہاں خاردار تاروں کے بنڈل سڑک پر پڑے رہتے تھے اب بمشکل دستیاب ہوتے ہیں اور جن دکانداروں کے پاس یہ خاردار تاریں موجود بھی ہیں تو وہ من مانی قیمتوں کاتقاضا کرتے ہیں اور جب زیادہ بحث کی جائے تو کہا جاتا ہے مطلوبہ خاردار تاریں سٹاک میں نہیں!

بہ امر مجبوری تعلیمی اداروں کو الیکٹرانک آلات کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے یقیناًیہ کام حکومت کا ہے کہ وہ ناجائز منافع خوری کرنے والوں پر بھی نظر رکھے۔ ہمیں کئی ایک طرح کے دہشت گردوں کا سامنا ہے‘ کیا ایسی ذہنیت کو دہشت گردی کے زمرے میں شمار نہ کیا جائے‘ جو مجبوری اور ضرورت کے اِس ماحول‘ سیکورٹی خدشات و تقاضوں اُور بے چینی سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan2015: Flashback

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ہوئی رنگینئ شام و سحر ختم!
کچھ سفر کبھی ختم نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ مسافت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کچھ دکھوں پر وقت کا مرہم کام نہیں کرتا اور زخم ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں عزیز از جان لگائے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سفر پر سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے روز سے ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے وکیل ’اجون خان‘ رواں دواں ہیں جنہیں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران فون پر اطلاع ملی کہ ’آرمی پبلک سکول‘ پر حملہ ہوا ہے‘ جہاں اُن کا بیٹا ’اسفند خان‘ زیرتعلیم تھا۔ 17 جنوری کے روز اسفند پندرہ سال کا ہونے والا تھا‘ جو ’جماعت دہم‘کا طالبعلم اُور بات کی طرح وکالت کے شعبے سے وابستہ ہونے کا آرزو مند تھا۔ اجون خان تیز قدموں سے روانہ ہوئے اور چونکہ سکول کے راستے بند تھے تو وہ چلتے ہوئے اُس چوراہے تک جا پہنچے جہاں سے سکول کی چاردیواری تو نظر آ رہی تھی لیکن گولیوں کی گرج اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے والدین کی ہر لمحہ بڑھتی ہوئی پریشانی و تشویش دور کرنے والا کوئی ذمہ دار موجود نہیں تھا۔ سیکورٹی اہلکاروں کی تربیت میں اِس قسم کے غیرمعمولی حالات میں صرف یہی بات شامل ہوتی ہے کہ کسی کو پاس آنے نہیں دینا‘ اُن کے چہروں پر جذبات نہیں ہوتے۔ وہ مستعد‘ چوکنا اور غصے سے بھرے ہوتے ہیں اور اگر یہ سب متاثرکن ہوتا‘ تو پھر سانحے رونما ہی کیوں ہوتے۔ بہرکیف والدین کو بتایا جارہا تھا کہ وہ ’کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی اَیم اِیچ)‘ سے رجوع کریں۔ ہائی کورٹ سے ورسک روڈ اور وہاں سے براستہ فورٹ روڈ سی ایم ایچ پہنچنے پر زخمیوں میں بیٹے کو نہ پا کر والد کے قدم قطار میں رکھی لاشوں کی بڑھے تو وہ لرز رہا تھا۔ ایک کے بعد ایک چہرے پر نظر کرتے وہ اُس مقام پر رک گیا‘ جہاں اُس کے بیٹے کا چہرہ آنکھوں کے سامنے تھا۔ اُس کے ماتھے میں گولی کا نشان‘ شہادت کا سبب بنا تھا۔ باپ نے یونیفارم پر لگے خون کے دھبے یوں صاف کرنے کی کوشش کی‘ جیسے وہ اِس سے جی اُٹھے گا۔ اسفند کا ایک ہاتھ اُس کی جیب میں تھا‘ آخری لمحے وہ موبائل فون سے اطلاع کرنا چاہتا ہوگا۔ اسفند کے ایک دوست علی کے بقول ’’جب آڈیٹوریم سے چند بچے باہر کی طرف بھاگے تو اُنہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا‘ جن میں اسفند بھی شامل تھا!‘‘

سانحۂ پشاور کے کربناک 36ویں دن‘ اِیصال ثواب کی خصوصی محفل کا انعقاد اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے‘ جس سے متاثرین کو بڑی تسلی ہوئی لیکن وہ تشفی چاہتے ہیں۔ اجون خان ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ ’’اگر تعلیمی اداروں کے حفاظتی انتظامات میں ملحقہ آبادی کی مشاورت کو بھی شامل کر لیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ وہ گردونواح کے راستوں اور آبادی کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔‘‘ ایک ایسے معاشرے میں جہاں کچھ بھی محفوظ نہیں وہاں درپیش مسئلہ تعلیمی اداروں کے خاطرخواہ حفاظتی انتظامات کا ہے‘ جس کی ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں کی جاسکتی البتہ سیکورٹی کے ضوابط پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معمول سے کچھ ہٹ کر کام کرنا ہوگا۔

نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے 7 نکاتی مؤقف سامنے آیا ہے جن کا کہنا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد تعلیمی اداروں سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے اور کم وبیش ایک کروڑ بچے نجی اداروں میں زیرتعلیم ہیں۔ چار ہفتوں کی بندش سے بچوں کی پڑھائی اور بروقت نصاب کی تکمیل کو نقصان پہنچا ہے۔ 2: ادارے کھلتے ہی تعلیمی اوقات میں پولیس اہلکاروں کا سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے آمد سے تعلیمی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ 3: واک تھرو گیٹس‘ سی سی ٹی وی کیمرے‘ چار دیواری بلند کرنا‘ خاردار تاریں لگانے کے ساتھ مسلح گارڈز رکھنا محدود وسائل میں رہتے ہوئے تمام اداروں کے لئے کلی طورپر ممکن نہیں۔ 4: نامساعد حالات علم کے فروغ کے لئے کام کرنے والے ماہرین تعلیم کے ساتھ پولیس اہلکاروں کا (مبینہ طور پر) ہتک آمیز سلوک قابل قبول نہیں۔ 5: سیکورٹی خدشات کی بناء پر نجی سکولوں کو زبردستی بندکرانے سے ایک کروڑ بچوں کی تعلیم متاثر ہوگی۔6: نجی تعلیمی اداروں کو سیکورٹی انتظامات کے نام پر ہراساں کرنے کی بجائے سرکاری تعلیمی اداروں کی سکیورٹی پر بھی توجہ دی جائے۔ 7: حفاظتی انتظامات کے لئے نجی تعلیمی اداروں کو مفت اور فوری طور پر اسلحہ لائسینس جاری کئے جائیں۔‘‘ گویا نجی تعلیمی ادارے چاہتے ہیں کہ اُنہیں سیکورٹی کے کم سے کم بندوبست کرنے پر مجبور نہ کیاجائے اور جس طرح پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے بازاروں میں تجاوزات کی بھرمار ہے‘ اسی طرح نرمی کا معاملہ اُن سے بھی روا رکھا جائے۔

سب رعائت چاہتے ہیں۔ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے‘ جس میں سرمایہ کاری کا پھل بناء صبر ہی میٹھا ملتا ہے!

وقت ہے کہ ہم اپنی ذات اور اپنے مفاد کے حصار سے باہر کی دنیا کو دیکھیں۔ تعلیم کے نام پر بچوں کو ’موت کے کنویں‘ میں نہیں دھکیلا جاسکتا۔ اداروں کو اپنے وجود کا احساس دلانا ہوگا۔ قواعد اطلاق چاہتے ہیں۔ بڑے لوگوں کے بڑے بڑے فیصلوں کی صورت بڑی بڑی غلطیوں کی سزا بھگتنے والے والدین اور سانحۂ پشاور کے متاثرین کی آنکھیں ابھی خشک نہیں ہوئیں۔ اُن کے دل رو رہے ہیں۔ گھروں میں اُداسیوں کے ڈیرے اور درودیوار رو رہے ہیں۔ ہچکیاں سسکیاں اور ضبط و صبر کی تلقین کرنے والے بھی رو رہے ہیں۔ کاش وہ ایک دن گزر جائے‘ کاش ہم اُس ایک دن کی اوٹ سے پراُمید‘ روشن مستقبل کو دل کی آنکھوں سے دیکھ سکیں! ’’در منزل پہ ہوتا ہے سفر ختم: مگر ہوتی کہاں ہے رہگزر ختم۔۔۔بجھا جب دل ہوا‘ بے رنگ منظر: ہوئی رنگینئ شام و سحر ختم! (حلیم صابر)‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan2015: The Count

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تیس دن
اِٹلی کے معروف شاعر‘ ناول نگار اور عملی‘ اَدبی حلقوں میں مترجم کے طور پر معتبر صاحب فکر ’سیّازارے پاوّیسہ (Cesare Pavese)‘ کا قول ہے کہ ’’ہمیں اَیام یاد نہیں رہتے‘ ہمارے حافظوں میں لمحے محفوظ رہ جاتے ہیں۔‘‘ اِس دانشمندانہ قول کی حقیقت دیکھئے کہ سولہ دسمبر کے ’سانحۂ پشاور‘ کا دُکھ اور وہ کربناک لمحات نہ تو یادوں سے محو ہو سکے ہیں اُور نہ ہی طفل تسلیوں اور جھانسوں سے انہیں تحلیل کیا جاسکتا ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ایک ماہ (720 گھنٹے‘ 43ہزار 200 منٹ‘ 4 ہفتے 2 دن یا 25 لاکھ 92 ہزار سیکنڈز) میں ایسے کون کون سے حفاظتی اِنتظامات کئے گئے ہیں‘ جن پر اِطمینان کا اظہار کیا جا سکے۔ سانحۂ پشاور اور ذرائع ابلاغ کا کردار بھی ایک ایسا موضوع ہے جو توجہ چاہتا ہے کیونکہ اِس دوران الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں ہونے والی رپورٹنگ کا معیار اپنی جگہ تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے اور فکر کا تیسرا پہلو اُن متاثرہ خاندانوں کے جذبات‘ اِحساسات‘ تحفظات اور تاثرات ہیں‘ جنہیں ’شہدأ فورم‘ کے نام سے ایک ایسا ’پلیٹ فارم‘ بنانے کی ضرورت پڑی ہے تاکہ وہ اپنے حقوق یعنی تعلیمی اداروں کے معاملات کے حوالے سے مطالبات منوا سکیں یقیناًحقوق بخوشی دیئے نہیں جاتے بلکہ انہیں حاصل کرنا بلکہ بہت سے مواقعوں پر چھیننا بھی پڑتا ہیں اور یہی بات ایک خاص نجی سکول سے تعلق رکھنے والوں کو سمجھ آ گئی ہے۔ اِس سے قبل والدین صرف یہی سمجھتے تھے کہ اُن کی ذمہ داری ماہانہ فیسوں اور سکولوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً غیرمستقل دیگر اَخراجات کی اَدائیگی تک محدود ہے۔ آنے والے دنوں میں والدین کو زیادہ اہم‘ زیادہ بڑا اور زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ اِس مرحلۂ فکر پر صرف بچوں کے تعلیمی مستقبل ہی کا نہیں بلکہ درپیش مشکلات میں اُن کی زندگیوں کو لاحق خطرات بھی فہم و شعور سے کام لیتے ہوئے تفکر و تدبر کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ماضی میں والدین کی جانب سے خود کو باریکیوں سے الگ رکھنے کے ’طرز عمل‘ کی وجہ سے شعبۂ تعلیم ایک صنعت‘ بن گیا ہے۔ لمحۂ فکریہ نہیں تو اُور کیا ہے کہ ہمارے سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی کا معیار اِس حد تک گر چکا ہے کہ پہلے بعداز سکول ٹیوشن کی ضرورت صرف سرکاری اداروں میں زیرتعلیم طالبعلموں کو پیش آتی تھی‘ جسے عیب سمجھا جاتا تھا لیکن اب ہزاروں روپے ماہانہ فیس وصول کرنے والے نجی اداروں کے طالبعلم بھی عصر سے مغرب اور دیر رات گئے تک ٹیوشن سنٹروں میں الجھے رہتے ہیں! دنیا کا دوسرا کونسا ایسا ملک ہے جہاں کے بچوں سے اُن کا بچپن یوں تعلیم کے نام پر چھین لیا گیا ہو؟ کون پوچھے گا کہ تعلیمی اداروں میں چھ سے آٹھ گھنٹے گزارنے کے باوجود طالب علموں کو اُن نجی ’ٹیوشن سنٹروں‘سے اِستفادہ کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے‘ جنہیں ماہر و تجربہ کار کہلانے والے اساتذہ ’سائیڈ بزنس‘ کے طور پر چلا رہے ہوتے ہیں؟ کہیں اَیسا تو نہیں معزز ڈاکٹروں کی طرح اساتذہ کرام نے بھی اپنی مہارت و تجربے سے ’پورا پورا‘ فائدہ اُٹھانے کو ’حلال‘ سمجھ لیا ہے؟

چودہ دسمبر کے روز متاثرین ’سانحۂ پشاور‘ نے ’شہدأ فورم‘ کے نام سے جس جدوجہد کا باضابطہ آغاز و اعلان کیا ہے‘ اُسے زیادہ وسیع البنیاد ہونا چاہئے تھا اور دیگر سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم بچوں کے والدین کے لئے بھی گنجائش رکھنی چاہئے تھی تاکہ ہر آمدنی اور پیشے کے لحاظ سے ہر طبقے اور آمدنی کی نمائندگی ہوسکے۔ خیبرپختونخوا اور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور کی سطح پر اساتذہ کے کردار‘ تعلیم کے معیار اور بشمول تعلیمی اداروں کے انتظامی معاملات کے حوالے سے اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے ہر ایک کو شعوری کوششوں اور ’ہراوّل دستے‘کا حصہ بننا ہوگا‘ کیونکہ اجتماعی جدوجہد ہی بابرکت اور باثمر ہو سکتی ہے۔ اِس پورے منظرنامے میں منتخب عوامی نمائندے کہاں ہیں؟ اگر خود کو قانون ساز ایوانوں کا رکن کہلانے پر فخر محسوس کرنے اور مراعات پانے والوں میں احساس زندہ ہوتا تو والدین کو فکر اور جدوجہد کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ محکمۂ تعلیم اور وزارت تعلیم کے ہزاروں مراعات یافتہ ملازمین و نگران آخر کس مرض کی دوا ہیں اور اُن کی ذمہ داریاں کیوں محدود ہو کر رہ گئیں ہیں؟

ایک ماہ گزرنے کے باوجود ’سانحۂ پشاور‘ کی یاد میں نہ تو ’یادگار کا تعین یا تعمیر‘ کی جاسکی ہے اور نہ ہی اِجتماعی اَفسوس یا اِظہار یک جہتی کے لئے ہاتھ آئے ایک موقع سے خاطرخواہ فائدہ اُٹھایا جاسکا ہے۔ جس کا جی چاہتا ہے ’آرمی پبلک سکول‘ جا پہنچتا ہے جو جتنا بڑا اور اہم (’وی وی آئی پی‘) اُسی قدر حفاظتی حصار میں اُسے سکول تک لیجایا جاتا ہے کسی کو پرواہ نہیں کہ یونیورسٹی روڈ سے پشاور شہر یا بیرون پشاور جانے والی ٹریفک کے بہاؤ کتنا متاثر ہوتا ہے۔ ایک طرف امریکی سفارتخانہ ہے جس نے پوری سڑک پندرہ برس سے بند کر رکھی ہے جو حیات ایونیو کو صدر سے ملاتی تھی اور دوسری طرف ’ورسک روڈ چوک‘ پر بھی آئے روز ٹریفک معطل رہتی ہے بالخصوص دیگر تعلیمی اداروں کو جانے والے اساتذہ اور بچوں کو جس زحمت سے گزرنا پڑتا ہے‘ اِس کا احساس کرنے والوں کا تعلق انتظامیہ سے نہیں۔ کیا خدا کے نام پر التجا کی جاسکتی ہے کہ ’آرمی پبلک سکول‘ کے نمائشی دورے اور ’بچوں کے ساتھ تصاویر‘ بنوا کر سستی شہرت حاصل کرنے سے گریز کیا جائے؟ جو ہوچکا وہی نقصان و خسارہ کافی ہے۔ ہم نہیں بھول سکتے کہ جہاں ناقابل تلافی جانی نقصانات ہوئے وہیں بہت سا وقت درس و تدریس معطل رہنے کی وجہ سے بھی ضائع ہوچکا ہے۔

کیا طالب علموں کا اُن کی پڑھائی پر توجہ مبذول کرنے‘ معصوم ذہنوں پر نقش ہونے والے لمحات کی چھبن سے آزادی اور شدید نوعیت کے اعصابی صدمے سے باہر آنے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہئے؟ کیا ہمارے ’وی وی آئی پیز‘ اُن والدین کی طرح سوچ سکتے ہیں‘ جنہیں معیار تعلیم کے ساتھ بچوں کی حفاظت کی فکر اندر ہی اندر سے کھائے جا رہی ہے؟ ’’ظاہر کرے تُو جو بھی مگر دل ملول ہے۔۔۔ مجھ سے کوئی بھی بات چھپانا فضول ہے!‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan2015:Slow Learning

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
رائیگاں اَیام
سندھ حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کے لئے مرتب کی جانے والی اَٹھائیس نکاتی حکمت عملی میں درس و تدریس کے اُوقات میں ’موبائل فون‘ کے اِستعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سکول کی اِنتظامیہ کو احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ طالبعلموں اور تدریسی و دیگر متعلقہ عملے کے سے موبائل فون ہر صبح جمع کئے جائیں اور تعلیمی اداروں کے اوقات کے دوران کسی کو بھی موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ ایک ایسا حکم ہے‘ جس پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی موبائل فون اپنی ساخت کے لحاظ سے اِس حد تک خطرناک یا مضر ہیں کہ اُن کے وجود ہی سے نفرت کی جائے۔ اگر تمام طالبعلم‘ اساتذہ اور دیگر عملہ موبائل فون نہ رکھتے ہوں اور خدانخواستہ اُس سکول میں مسلح دہشت گرد گھس آئیں‘ جن کے بارے میں اطلاع دینے کی انتظامیہ کو مہلت نہ ملے تب کیا ہوگا۔ اصولی طور پر تعلیمی اداروں میں موبائل فون جیمرز (jammers) نصب کرنے چاہیءں تاکہ کوئی بھی شخص اگر موبائل فون کے ساتھ سکول کے اندر آتا ہے یا سکول کی دیوار یا اندرونی احاطے میں ایسے بم نصب کئے جاتے ہیں جن کا کنٹرول موبائل فونز کی سموں سے کیا جاتا ہے تو اِس امکان کو ختم کیا جاسکے۔ موبائل فون بطور آلہ خوبیوں اور خامیوں کا مرکب ہے اور یہ خوبیاں خامیاں ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے ہیں۔ مثال کے طور پر بارہ جنوری کے روز ایوان بالا (سینیٹ) کو بتایا گیا کہ ’’پاکستان میں دس کروڑ سے زائد ایسے کنکشن ہیں جن کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ ملک میں کل پندرہ کروڑ موبائل فون کنکشنز ہیں جن میں سے چار کروڑ کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ باقی دس کروڑ سے زائد کی ’بائیو میٹرک تصدیق‘ کا عمل آئندہ چار ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا جس کے لئے وفاقی حکومت ہرصوبے کو ایک ایک ہزار افراد پر مشتمل عملہ فراہم کرے گی۔‘‘ مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ کسی ایک بھی سینیٹر نے موبائل فون (ملٹی نیشنل) کمپنیوں کے حرص و طمع کو نشانہ نہیں بنایا جنہوں نے خالصتاً اپنے منافع کے لئے پاکستان کی داخلی و خارجی سیکورٹی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ جب ’پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے)‘ کی جانب سے موبائل فون کنکشن جاری کرنے کے لئے واضح ہدایات موجود ہیں اور کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ میں درج کوائف کی بناء تصدیق فون کنکشن نہیں دیا جاسکتا تو پھر کروڑوں کی تعداد میں موبائل فون کنکشن کیسے فروخت کر دیئے گئے؟ دوسری اہم بات موبائل فونز کی رومنگ (roaming) سے متعلق ہے‘ جب ’پی ٹی اے‘ کے واضح احکامات موجود ہیں اور دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر اضافی قواعد سے موبائل فون کمپنیوں کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ وہ بیرون پاکستان رجسٹرڈ موبائل کنکشنز کی رومنگ ختم کردیں تو اِس قاعدے پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ گلی گلی اور دکان دکان موبائل فون کی سموں فروخت ہونے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے کیونکہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال کے لئے اگر خطرہ ہے‘ تو اس سے سرمایہ داروں کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ جہاں وہ رہتے ہیں اُن علاقوں کو زونز میں تقسیم کرکے محفوظ بنا لیا گیا ہے!

خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں میں ہوئے بم دھماکوں سے متعلق خود وزارت داخلہ کی رپورٹیں اور وزیر داخلہ کے بیانات ’آن دی ریکارڈ‘ موجود ہیں کہ اُن میں موبائل فون کی سمیں استعمال کی گئیں اور منظم جرائم پیشہ گروہ بھی انہی مواصلاتی رابطوں کا استعمال دہشت گرد کارروائیوں کے لئے کر رہے ہیں تو پھر اِس تخریب کاری کے اِمکان کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا؟ سینیٹرز کیوں نہیں کہتے کہ ’’موبائل فون کمپنیاں اِس پوری صورتحال کے لئے ذمہ دار ہیں‘ جنہیں تصدیق کے جاری مرحلے کے جملہ اخراجات برداشت کرنا ہوں گے؟‘‘ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے قانون ساز ایوان بالا و زریں کے اراکین کے مفادات بھی موبائل فون کمپنیوں کے منافع سے جڑے ہوں؟

خیبرپختونخوا میں تعلیمی اِداروں کی سیکورٹی کے لئے احکامات جاری کرنے پر اکتفا مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت سیکورٹی عملاً دکھائی دینے کی ہے جس کے لئے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن پر اساتذہ‘ والدین اور بچوں کو اطمینان ہو۔ بارہ جنوری سے میدانی علاقوں میں درس و تدریس کا عمل بہت سے خدشات اور تحفظات کے ساتھ شروع کر دیا گیا ہے لیکن سرکاری تعلیمی اِداروں میں حفاظتی انتظامات کی حالت سولہ دسمبر کے روز جیسی ہی ہے‘ جب ’آرمی پبلک سکول‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ خیبرپختونخوا میں طلباء و طالبات کے لئے 23 ہزار 290 پرائمری‘ 2 ہزار 639 مڈل‘ 2 ہزار 29 ہائی اور 361 ہائر سیکنڈری سکولز ہیں۔ یاد رہے کہ مالی سال 2014-15ء کے لئے 234صفحات پر مشتمل سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں دو صفحات پر آٹھ نئے منصوبوں کے لئے مالی وسائل مختص کئے گئے اور جب یہ ترقیاتی حکمت عملی مرتب ہو رہی تھی‘ تب ’سولہ دسمبر‘ پیش آنے سے متعلق امور کسی کے دھیان میں نہیں تھے۔ فی الوقت سب سے زیادہ خطرہ سرکاری تعلیمی اداروں کو ہے‘ جہاں نہ تو دیواریں بلند ہونے کا کام مکمل ہوسکا ہے اور نہ ہی کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) کیمروں کی تنصیب ہو سکی ہے۔ سکولوں کی حفاظت کے لئے افرادی قوت بھی وہی ہے‘ جو کئی ایک مقامات پر اعلیٰ حکام کے رہائشگاہوں پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔

 یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ ’سولہ دسمبر سے بارہ جنوری‘ تک کی تعطیلات کا عرصہ ضائع کیا گیا‘ حالانکہ سکولوں کی اِن طویل تعطیلات میں ایسا بہت کچھ کیا جاسکتا تھا‘ جس سے والدین‘ اساتذہ اور سرکاری سکولوں کے ملازمین کی تشویش میں کچھ نہ کچھ‘ اُور کسی نہ کسی حد تک کمی لائی جاسکے۔ ’’آج بھی دھڑکنیں معمول پہ ہیں۔۔۔آج کا دن بھی رائیگاں گزرا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan2015: Security Lapses

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تجاہل عارفانہ: بھاری قیمت
سولہ دسمبر کے ’سانحۂ پشاور‘ نے دہشت گرد واقعات کی ترتیب و تفصیلات میں دردناک باب کا اِضافہ کیا ہے اور اگرچہ سال دو ہزار چودہ رخصت ہو چکا لیکن نئے سال میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کے ساتھ ارباب اختیار کی توجہ چند ایسے اقدامات کی جانب مبذول کرانا ضروری ہے جن کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑا ہے‘ اِس سلسلے میں اعدادوشمار مرتب کرنے میں کئی ایک غیرسرکاری اداروں نے بڑی محنت کے بعد نتیجہ دیا ہے کہ سال دو ہزار چودہ کے دوران دہشت گرد واقعات میں شدت پسندوں کے حملوں‘ فرقہ ورانہ تشدد‘ ٹارگٹ کلنگ‘ سیکورٹی آپریشنز اور ڈرون حملوں کے سبب پاکستان میں کل 7 ہزار 655 ہلاکتیں ہوئیں اور اگر سال گذشتہ کا موازنہ دو ہزار تیرہ سے کیا جائے تو سیکورٹی آپریشنز کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں تین گنا اضافہ ہوا لیکن عسکریت پسندوں کے حملوں‘ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں پندرہ فیصد کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ ارباب اختیار کی توجہ اگر عسکریت پسندوں کی جانب ہے تو انہیں انتہاء پسندوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے جن کی وجہ سے دوہزار تیرہ میں پانچ ہزار چھ سو ستاسی جبکہ گذشتہ برس فیصد اضافے کے ساتھ ہلاکتیں ہوئیں۔ جمعۃ المبارک کے روز نماز سے قبل تقاریر ہی پر نظر کی جائے تو شدت پسندی و انتہاء پسندی پھیلنے کی وجوہات سمجھ میں آ جائیں گی! ہفتہ وار یا مساجد میں تقاریر کرنے کے لئے سعودی عرب کی طرز پر موضوعات و تفصیلات کا اجرأ حکومتی ادارے کیوں نہیں کر سکتے؟ اگر ہر ضلع میں سرکاری ملازمین کے لئے یہ قانون بن سکتا ہے کہ انہیں اپنے آبائی ضلع ہی میں ملازمت دی جائے تو ایسا مساجد کے ساتھ کیوں نہیں ہوسکتا کہ وہ مقامی افراد کو بطور خطیب و پیش امام تعینات کیا جائے؟

سال گذشتہ پر نظر ڈالتے ہوئے قبائلی علاقوں میں ہوئے تین ہزار تین سو ننانوے افراد کی ہلاکتوں پر حیرت ہوتی ہے‘ ان اعدادوشمار آزاد ہوئے اور یہ تعداد دو ہزار تیرہ کی ایک ہزار چارسو ستاون ہلاکتوں کے مقابلے غیرمعمولی طور پر زیادہ ہیں۔ قبائلی علاقوں میں ’امن و امان کے قیام‘ کے لئے ضروری ہے کہ وہاں کی آئینی حیثیت میں تبدیلی لائی جائے اور قبائلی علاقوں کو جو امتیاز حاصل ہے‘ اُسے ملک کے دیگر حصوں کے مساوی لایا جائے۔

خیبرپختونخوا میں سالانہ ایک ہزار اوسطا اموات ہوتی ہیں۔ سال گذشتہ نوسو پینتالیس جبکہ دو ہزار تیرہ میں ایک ہزار اکتیس اموات ہوئیں۔ جس ملک میں ایک سال کے دوران 133 خواتین اور 270 بچوں کی اموات ہوئی ہوں‘ جہاں چالیس سکولوں اور تین کالجوں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہو جہاں تین سو پینسٹھ دنوں میں ڈیرھ سو سے زائد طالب علم‘ چھبیس پرنسپل‘ پروفیسر اور ٹیچرز ہلاک ہوئے ہوں وہاں کے فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ غلطی جہاں کہیں بھی ہو رہی ہے اور پالیسیاں جن محرکات کی وجہ سے ناکام ثابت ہو رہی ہیں‘ انہیں تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

سال دو ہزار چودہ کے دوران پشاور میں 431 ہلاکتیں ہوئیں! لمحۂ فکریہ ہے کہ جنوب ایشیاء کے سب سے قدیم زندہ تاریخی شہر میں ہر روز اوسطاً ایک سے زائد افراد ہلاک ہو رہے ہوں! پشاور کو اُس کی مسکراہٹیں‘ رونقیں اور زندگی واپس دلانے کی ضرورت ہے۔ وہ تمام علاقے جو قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں سے متصل ’نوگو ایریاز‘ بنے ہوئے ہیں وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے قدم جمانا ہوں گے۔ گلی گلی اور گھر گھر سرچ آپریشن کیوں ممکن نہیں؟ تجویز ہے کہ بغلیں جھانکنے کی بجائے پشاور کے پانچ زونز میں بالترتیب اور بیک وقت سرچ آپریشن کیا جائے۔ اگر ایک دن کے لئے پورے پشاور میں موبائل فون سروسیز معطل ہوں گی تو اس سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ اگر ایک روز کے لئے ہر قسم کی عمومی آمدروفت پر پابندی عائد کر کے صرف علاج معالجے کی ضروریات کے لئے گھر سے نکلنے کی اجازت ہو تو اسے عوامی حلقوں کی پذیرائی ملے گی کیونکہ مسئلہ سماج دشمن عناصر سے نمٹنے کا ہے جو شہری علاقوں میں موجود ہیں اور وارداتیں کرنے کے بعد روپوش ہو جاتے ہیں۔ پشاور بارود اور اسلحے کے ڈھیر پر ایستادہ ہے‘ اگر افرادی وسائل کی کمی کے سبب بیک وقت پورے پشاور میں سرچ آپریشن ممکن نہیں تو اسے رنگ روڈ سے متصل علاقوں سے ابتدأ کی جاسکتی ہے جس کی دونوں اطراف مشرومز کی طرح پھیلنے والی آبادیوں کے بارے میں حکام نہیں جانتے کہ وہاں رہائش پذیر افراد کا تعلق کن قماش سے ہے اور کہیں ایسا تو نہیں یہی علاقے اغوأ برائے تاوان کرنے والوں کا پہلا ٹھکانہ ثابت ہوتے ہیں‘ جہاں چند ہفتے رکھنے کے بعد مغویوں کو ملحقہ قبائلی علاقوں کے ذریعے اَفغانستان منتقل کردیا جاتا ہو!

پشاور کی سیکورٹی پر یہ تجاہل عارفانہ ایک سنجیدہ سوال ہے‘ اکثر مغویوں نے بازیابی یا رہائی کے بعد ’آف دی ریکارڈ‘ کہا کہ اُنہیں کئی دنوں تک جس مقام پر تہہ خانوں میں رکھا گیا‘ وہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں!‘‘ کیا یہ باتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلوم نہیں؟ کیا خفیہ اداروں کے نیٹ ورکس کو فعال کئے بناء امن وامان کی صورتحال میں بہتری لائی جاسکتی ہے؟ محض پولیس تک ’ایس اُو ایس‘ پیغام پہنچانے کے بعد ’مستعدی‘ کی توقع کرنی چاہئے جبکہ منظم جرائم پیشہ عناصر پولیس کی ناک تلے اودھم مچائے ہوئے ہیں۔ آج کے پشاور کی حقیقت تلخ‘ ناقابل بیان اور افسوسناک حدوں کو چھو رہی ہے‘ جس پر جسقدر تشویش کا اظہار کیا جائے کم ہوگا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan2015: Schools Reopen

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیمی اِدارے اُور ہوم ورک
خیبرپختونخوا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ’تعلیمی اِداروں کی تعطیلات میں مزید اضافہ نہ کرتے ہوئے میدانی علاقوں میں بارہ جنوری سے درس وتدریس کا عمل پھر سے شروع کر دیا جائے‘ جو سولہ دسمبر کے روز پشاور میں ’آرمی پبلک سکول‘ پر حملے کے بعد سے تعطل کا شکار ہے جبکہ صوبے کے بالائی (پہاڑی) علاقوں میں قبل از وقت موسم سرما کی تعطیلات مارچ کے دوسرے ہفتے تک جاری رہیں گی۔ اگرچہ دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں اور تعلیمی اداروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے متعدد اقدامات بھی کئے گئے ہیں‘ جن میں مشتبہ افراد کی تلاش وگرفتاری کی کارروائیاں‘ تعلیمی اداروں کو یہ احکامات کہ وہ عمارتیں محفوظ بنانے کے لئے دیواروں کو کم اَزکم آٹھ فٹ بلند کریں‘ کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) کیمروں کے ذریعے داخلی و خارجی راستوں اور چار دیواری کی نگرانی‘ تعلیمی اداروں اور اِن سے ملحقہ دیگر تنصیبات کی مسلح نگرانی کے لئے اسلحہ لائسینسوں کا اجرأ‘ سیکورٹی انتظامات کے لئے ریٹائرڈ پولیس و فوجی اہلکاروں کی خدمات سے استفادہ اُور کسی ہنگامی صورتحال میں پولیس کے اعلیٰ حکام و قریب ترین پولیس اسٹیشن کو مطلع کرنے کے لئے برق رفتار مواصلاتی نظام (موبائل ٹیکنالوجی) سے استفادے کی تدبیر وغیرہ جیسے درجنوں قابل ستائش و ذکر اقدامات شامل ہیں تاہم کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر ایک ماہ تک جاری رہنے والی تعطیلات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اساتذہ کو غیرمعمولی حالات سے نمٹنے کے لئے (شہری دفاع اور ابتدائی طبی امداد پہنچانے کی) تربیت دی جاتی جس سے اُن کا اعتماد بھی بحال ہوتا اور والدین کے تفکرات میں بھی کمی ہوتی کہ کوئی ہے جسے اُن کے بچوں کی فکر کھائے جا رہی ہے اور اِسی عرصے کے دوران سکول انتظامیہ‘ اساتذہ اور والدین کے درمیان ملاقاتوں کا خصوصی اہتمام ضروری تھا‘ جس میں جملہ فریق ایک دوسرے کے تحفظات و احساسات کو سمجھنے اور سیکورٹی خدشات کے مطابق ضروریات کا تعین کرنے کے لئے سوچ بچار کرتے۔ ایک دوسرے کے نکتۂ نظر کو احترام سے سنتے تو عین ممکن ہوتا کہ اعتمادسازی کے ماحول میں زیادہ چالاک و شاطر دشمن کو شکست دینے میں مدد ملتی لیکن ہمارے ہاں المیہ رہا ہے کہ ادارے نہ تو خود کو عوام کا خادم سمجھتے ہیں اور نہ ہی خود کو عوام کے سامنے جوابدہ تصور کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ تھانے‘ کچہری‘ ہسپتال سے لیکر تعلیمی اداروں تک کے نظام میں ’تعلق اور سفارش‘ کا عنصر غالب دکھائی دیتا ہے۔ ’سانحۂ پشاور‘ سے گزرنے والی قوم کو سوچنا ہوگا کہ اُن سے کہاں اور کیسی کیسی سنگین غلطیاں سرزد ہوئیں‘ جن کا خمیازہ (بعدازاں) ڈیڑھ سو سے زائد انسانی جانوں کے ضیاع و ذہنی صدمے کی صورت پوری قوم کو بھگتنا پڑی ہیں!

تعلیمی اِداروں کے معمولات اَگرچہ معمول پر آنے کے لئے ابھی مزید کئی ہفتے درکار ہوں گے لیکن سردست اَساتذہ کی تشویش ضرور کم ہوئی ہے جنہیں ماۂ فروری کے آخر اور مارچ میں ہونے والے سالانہ امتحانات کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ والدین اپنی جگہ تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ کس طرح دل پر پتھر رکھ کر اپنے بچوں کو سکول بھیجیں جبکہ اگر سکولوں کی عمارتیں محفوظ بنا بھی لی گئیں ہیں تو بچوں کی آمدروفت (سکول لانے لیجانے والی گاڑیوں) کی حفاظت کے لئے کیا کچھ اقدامات بھی کئے گئے ہیں؟ اِس بات کی ضمانت کون دے گا کہ حسب حکم تمام سرکاری و نجی سکولوں کی چاردیواریاں بلند کر لی گئیں ہیں اور ماضی کے مقابلے وہاں سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کی حسب حکم تعمیل کر لی گئی ہے؟ عمومی طور پر سکولوں کی انتظامیہ (ایڈمنسٹریشن) کے دفاتر سکولوں کے اندر ہی قائم ہوتے ہیں‘ جن تک رسائی کے لئے سرسری پوچھ گچھ کے بعد اندر جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے تجویز ہے کہ جملہ سکولوں کے لئے نئے سیکورٹی پلان کے تحت انتظامیہ کے دفاتر الگ حصے میں قائم کئے جائیں جہاں اگر زیرتعلیم بچوں یا دیگر افراد کی آمدورفت ہوتی بھی ہے تو اس سے طلبہ کے لئے خطرہ کا امکان نہ ہو۔ بچوں کو فائر الارم اور ہنگامی حالات میں کس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے؟ سکول سے نکلنے کے لئے ایک سے زائد راستوں کا تعین اور سکول میں کام کرنے والے تدریسی و غیرتدریسی عملے کے کوائف نادرا سے تصدیق شدہ کسی فارم کی بنیاد پر مرتب کرکے متعلقہ تھانے کو اس سے مطلع کیا جائے‘ تاکہ تعلیمی اداروں کے آس پاس منڈلانے یا آمدروفت کرنے والے غیرمتعلقہ افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے۔ سکولوں کے اردگرد ایسی تجارتی (کمرشل) سرگرمیوں حتیٰ کہ تیز ہارن تک بجانے پر پابندی جیسے قواعد موجود ہیں جن پر بلاامتیاز و رعائت عمل درآمد کرانے کا اِس سے مناسب وقت کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔

تجویز ہے کہ طلبہ کے آمدورفت کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں حتیٰ کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ’جی پی ایس‘ آلات نصب کرکے اُنہیں پولیس کے مرکزی کنٹرول روم سے (وائرلیس طورپر) منسلک کر دیا جائے تاکہ سکول بسوں کی مخصوص اوقات میں مقررہ روٹس پر آمدورفت پر کڑی نظر رکھی جا سکے اور اگر کوئی گاڑی اپنے مقررہ روٹ کے علاؤہ سفر کرے تو اس کی اطلاع خودکار نظام کے تحت ’مرکزی کنٹرول روم‘کو فوری طورپر ہو سکے گی۔

ہمارے ہاں نجی تعلیمی اداروں کی بسوں میں گنجائش سے زیادہ بچوں کو سوار کرنا معمول کی بات ہے‘ کسی ایک بس میں سو سے زائد بچوں کو ٹھونسنا‘ اگر ٹریفک قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے تو سیکورٹی کے نکتۂ نظر سے بھی اِس رجحان اور ناجائز منافع خوری پر مبنی علت کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے کیونکہ ابھی ’سانحۂ پشاور‘ سے لگنے والے زخم تازہ ہیں‘ جنہیں کریدنے کی دھمکیاں‘ امکانات اور جملہ ممکنہ خطرات سے مکمل طور پر نمٹا نہیں جاسکا ہے۔ یقیناًقانون نافذ کرنے والے اِداروں کے ذمے ابھی بہت سا ’ہوم ورک‘ باقی ہے‘ ابھی اُنہیں بہت سے امتحانی مراحل سے بھی گزرنا ہے‘ کیونکہ احکامات اپنی جگہ لیکن جب تک عام آدمی کو تحفظ کا عملی طورپر احساس نہیں ہوگا‘ (شنیدہ کی بود مانند دیدہ) اُس وقت تک بات نہیں بنے گی۔

اِس مرحلۂ فکر پر جملہ تعلیمی اِداروں کو سیکورٹی کے حوالے سے اَحکامات کا بہرصورت پابند بنانا اور قواعد پر بہرصورت عمل درآمد کو یقینی بنانے کی راہ میں حائل جملہ رکاوٹیں (نرمی‘ سفارش و رعائت) جیسی عمومی پریکٹس (معمول و رویئے) سے چھٹکارہ ضروری ہے۔ ہاں یاد آیا ’سانحۂ پشاور‘کو ایک ماہ تو ہونے کو ہے‘ ہمارے ہاں قانونی و غیرقانونی طورپر مقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی یا اُن کی نقل و حرکت اُور معاشرت خیمہ بستیوں تک محدود کرنے کے حوالے سے کتنی پیش رفت ہو چکی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan2015: Security Checks

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِمتحاں در اِمتحاں
سولہ دسمبر کے روز ’آرمی پبلک سکول‘ پر حملے نے جہاں ملک کے دیگر حصوں کی نسبت پشاور کے رہنے والوں کو زیادہ سوگوار اور زیادہ متاثر چھوڑا‘ وہیں درس و تدریس کا عمل معمول کے مطابق شروع ہونے کے ذکر پر والدین کے چہروں پر سنجیدگی غالب آ جاتی ہے‘ انہیں ایک طرف اپنے بچوں کی تعلیم معطل ہونے کی فکر کھائے جا رہی ہے تو دوسری جانب یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ بچوں کو سکول بھیجیں یا نہ بھیجیں! چند والدین سمجھتے ہیں کہ سکول کھلنے کے ابتدائی چند دن اگر بچوں کو حفظ ماتقدم کے طور پر نہ بھیجا جائے اور حالات کا جائزہ لیا جائے تو اِس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ جس قدر حرج ہونا تھا وہ تو پہلے ہی ہو چکا ہے! والدین کی جانب سے نجی و سرکاری سکولوں کی حفاظت کے حوالے سے انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں سے متعلق حفاظتی حکمت عملی (غیرمعمولی انتظامات) کے ساتھ سیکورٹی کے لئے ذمہ دار مقرر کرکے اُن کے حوالے خالصتاً تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کی جائے تاکہ بعدازاں کسی ناخوشگوار واقعے یا (خدانخواستہ) حادثے کی صورت ’پوچھ گچھ‘ کی جاسکے کیونکہ پولیس کا موجودہ نظام جن طورطریقوں اور حسب سہولت مرتب کیا گیا ہے‘ اُس کا حسن و جمال اور خوبی و کمال یہ ہے کہ سب سے پہلے جرائم کے اِرتکاب کا اِنتظار کیا جاتا ہے۔ پھر جب جرم سرزد ہو جائے تو اُس کے گواہوں کی تلاش کی جاتی ہے لیکن پولیس پر اعتماد کا حال یہ ہے کہ دن دیہاڑے ہونے والی وارداتوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے والے بھی صاف منکر ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے کچھ نہیں دیکھا۔ جب گواہ نہیں ملتے اُور جرم کے ثبوت جمع کرنے میں دلچسپی صرف اُس صورت لی جاتی ہے جہاں کسی صاحب ثروت یا اَثرورسوخ کے حامل افراد متاثر ہوئے ہوں تو تفتیش کا عمل بے معنی دکھائی دینے لگتا ہے‘ خیبرپختونخوا میں سالانہ اوسطاً دس فیصد وارداتوں میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کی شرح کیا اپنی جگہ لائق تشویش نہیں!؟ یہی سبب ہے کہ عام آدمی کو ’پولیسنگ‘ پر اِعتماد نہ ہونے کے برابر ہے۔ تعلیمی اِداروں کی جانب سے سیکورٹی کے لئے اِنتظامات سے متعلق والدین کو آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا اور بالخصوص سرکاری اِداروں کا تو اللہ ہی نگہبان ہے۔

تشویش بھرے اِس پورے ماحول کے تناؤ اور سنگینی کا اَندازہ ایک سرکاری سکول سے تعلق رکھنے والی فرض شناس معلمات کی جانب سے تحریر کردہ ایک مکتوب سے لگایا جاسکتا ہے‘ جس میں کئی ایک تجاویز محکمۂ تعلیم اَرباب اِختیار اور صوبائی حکومت تک پہنچانے کی درخواست کی گئی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے جس اِجتماعی مسئلے سے بات کا آغاز کیا گیا‘ وہ ماہ مارچ میں بورڈ کی سطح پر ہونے والے سالانہ اِمتحانات ہیں‘ جس کے لئے کورس مکمل نہیں ہوسکا ہے کیونکہ سولہ دسمبر سانحے کی وجہ سے ہوئی موسم سرما کی تعطیلات بڑھا دی گئیں ہیں لہٰذا کیا پشاور کا تعلیمی بورڈ اور خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں تعلیمی بورڈ مارچ میں ہونے والے سالانہ امتحانات کی تاریخیں آگے بڑھائیں گے یا اِس مرتبہ پرچہ جات بناتے ہوئے اُن اسباق کو کورس کے حصے کو منہا کر دیا جائے گا‘ جو تعطیلات کی وجہ سے طلباء و طالبات نہیں پڑھ سکے۔ محکمۂ تعلیم نجی و سرکاری سکولوں کے تدریسی و انتظامی عملے کو اس سلسلے میں خصوصی تربیت (کورس) کرائے جائیں‘ تاکہ وہ آئندہ چند ہفتوں میں باقی ماندہ نصاب کے خاص حصے یا چیدہ چیدہ موضوعات کے بارے میں ایک جیسی (یونیفارم) تدریسں مکمل کر سکیں۔ کورس (نصاب کے اَسباق) مکمل نہ ہونے اور ضائع ہونے والے تدریسی ہفتوں کا کچھ نہ کچھ نعم البدل مقرر ہونا چاہئے۔
تجویز ہے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے تدریسی عملے اور ہر ایک طالب علم کا بیمہ (انشورنس) کرایا جائے‘ جس کے لئے ملک گیر سطح پر حکومتی انشورنس کے ادارے کی خدمات سے استفادہ بہتر رہے گا۔ اِس طرح نہ صرف قومی سطح پر طالبعلموں کو بچت کے بارے میں شعور ملے گا بلکہ تعلیمی عمل مکمل ہونے پر اُن کے ہاتھ ایک خطیر رقم بھی ہاتھ آ سکے گی‘ جس سے وہ اپنی پیشہ ورانہ عملی زندگی کا آغاز یا بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکیں گے۔

تجویز ہے کہ ’سانحۂ پشاور‘ کے شہدأ کی یاد میں ’آرمی سٹیڈیم (کرنل شیر خان شہید سٹیڈیم)‘ میں یادگار تعمیر کی جائے‘ جس سے متصل ’لائبریری‘ آڈیٹوریم اور کھیل‘ کے میدان میں نجی و سرکاری سکولوں کے طالبعلموں کے مابین مقابلوں کا انعقاد معمول کے مطابق ہم نصابی سرگرمیوں کا حصہ ہونا چاہئے‘ جن بچوں نے زندگی و موت کو قریب سے دیکھا‘ بم دھماکوں‘ گولیوں کی بوچھاڑ‘ سیکورٹی اہلکاروں کی یلغار‘ زخمیوں کی چیخ وپکار‘ خون آلودہ ہم جماعت و ہم سکول ساتھیوں کی لاشیں اور ٹیلی ویژن پر بار بار دکھائے جانے والے زیادہ دردناک مناظر کو شعوری آنکھوں سے دیکھا‘ اُنہیں شدید ذہنی صدمے اور خوف سے نکالنے میں اس سے زیادہ بہتر‘ مؤثر اُور متبادل طریقۂ علاج کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ ماہرین نفسیات بھی اس بات کی تائید کریں گے بچوں کو تعطیلات دے کر مصروفیت سے الگ رکھنا اور انہیں گھروں تک محدود کردینے سے پیچیدگیوں میں اضافہ ہوگا‘ جبکہ اُنہیں نارمل بچوں سے گھلنے ملنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ تعلیمی اداروں کی تعطیلات اور گھروں میں غم و صدمے کی کیفیات دیکھ دیکھ کر بچے زیادہ بڑی مصیبت اور ذہنی کوفت سے دوچار ہیں‘ گویا ہم بڑوں (فیصلہ سازوں) نے بچوں پر ’سولہ دسمبر‘ کا دن مسلط کردیا ہے‘ وہ ایک دن جسے گزر جانا چاہئے تھا‘ ٹھہر سا گیا ہے!

تجویز ہے کہ جس اَنداز میں ’سانحۂ پشاور‘ کی نمائش و فروخت سے پرنٹ و الیکٹرانک ذرائع ابلاغ نے اَپنی اَپنی مقبولیت (ratings) میں اضافہ کیا اور بالخصوص ٹیلی ویژن چینلز نے جس اَنداز میں ’اپنے ناخنوں سے زخم کریدے‘ اُس کا ازالہ بھی ہونا چاہئے۔ متاثرہ بچوں کی دیگر شہروں کے بچوں کے ساتھ رابطہ کاری‘ انہیں نسبتاً پرسکون اَضلاع یا محفوظ ماحول میں سکول کے خوف سے آزادی دلانے کی ضرورت ہے۔ بچوں کے ذہن میں سکول خوف کی علامت بن چکے ہیں اور یہ منفی تاثر ذرائع ابلاغ پر کارٹونوں یا پتلی تماشوں جیسے کرداروں کی مدد سے زائل کیا جاسکتا ہے۔

لب لباب یہ ہے کہ تدریس کا عمل معطل کرنے کی بجائے اس کا اہتمام پہلے سے زیادہ اہتمام سے ہونا چاہئے۔ قومی ترانہ پہلے سے زیادہ جذبے اور بلند آواز سے پڑھا جائے۔ اِس سلسلے میں مخیر حضرات‘ صنعتی و مالیاتی اِدارے بھی اَپنا اَپنا کردار اَدا کر سکتے ہیں۔ سانحۂ پشاور کی یاد میں محض آنسو بہانا اُور سسکیاں بھرنا کافی نہیں بلکہ متاثرہ بچوں اور غم زدہ والدین کو تنہائی کا احساس نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان کو خوف و دہشت پھیلانے والوں سے واپس لینے کے لئے قربانیوں کا جذبہ جوان رہنا چاہئے۔ حسب سابق پے در پے ہوئی دہشت گرد وارداتوں کے بعد ’رات گئی بات گئی‘ جیسے اَندیشے سر نہیں اُٹھانے چاہیءں۔ سانحۂ پشاور کے غم اور دُکھ کا احساس اپنی جگہ لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ ’’وہ میری میت پہ آئے‘ رو گئے‘ منہ دھو گئے!‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔