Showing posts with label #Dec16. Show all posts
Showing posts with label #Dec16. Show all posts

Wednesday, December 16, 2015

Dec2015: Ongoing thinking process!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سوچ کا جاری سفر!
سولہ دسمبر کا دن کیسے گزر سکتا ہے جب 1971ء میں پاکستان کا ایک حصہ علیحدہ ہوا۔ کون جانتا تھا کہ یہ دن اپنے دامن میں ایک اُور سانحہ بھی سموئے ہوئے ہوگا یقیناًجن قوتوں نے 1971ء میں وار کیا‘ انہی منصوبہ سازوں نے 2014ء میں پھر سے ہمیں یاد دلایا ہے کہ دیکھا کس طرح پاکستان کو شکار کیا گیا! جس طرح سقوط ڈھاکہ بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے اسی طرح سانحۂ پشاور کے حوالے سے بھی سوالات کی کمی نہیں جنہیں سولہ دسمبر کے روز کہیں دبے تو کہیں دھیمے لہجے میں اٹھایا جاتا رہا۔ اس قتلِ عام کے اسباب، سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی اور اس کا وقت، اور اِس واقعے کے حوالے سے خفیہ اطلاعات موجود تھیں؟ اور اگر موجود تھیں تو کیا سانحے کو ٹالا نہیں جاسکتا تھا؟ اس کے علاوہ بھی دیگر بڑے سوالات موجود ہیں۔ کیا واقعی دہشت گردوں کو شکست دی جاچکی ہے اور ان کی کمر توڑی جا چکی ہے؟ اور آرمی پبلک اسکول حملے میں کون سا عسکریت پسند گروپ ملوث تھا؟ کیا کشت و خون میں ملوث تمام ملزمان بشمول سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے؟ کیا اُن کے پاس اب بھی ایسی ہی بڑی کاروائی یا دیگر بڑے دہشت گردی کے حملے کرنے کی صلاحیت موجود ہے؟ اور یہ کہ آج عسکریت پسندی کے خلاف قوم کہاں کھڑی ہے اور بحیثیت قوم سقوط ڈھاکہ اور سانحۂ پشاور کے بعد کی منزل کیا ہوگی؟

سوچ کا سفر جاری رہنا چاہئے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی درس و تدریس کے شعبہ میں ’انقلابی اصلاحات‘ کے بارے میں سوچئے۔ تصور کیجئے کہ اساتذہ جب 17ویں اور 18ویں گریڈ میں ترقی پاکر اپنے تبادلے تعلیمی اداروں سے متعلقہ وزارتوں (سیکرٹریٹ) میں کراتے ہیں‘ جہاں انہیں انتظامی معاملات چلانے کا قطعی کوئی تجربہ نہیں ہوتا لیکن سیاسی اثرورسوخ اور ذاتی و خاندانی تعلق کی بنیاد پر ’سیکشن آفیسر‘ کے عہدے پر تعینات ہو جاتے ہیں تو درس و تدریس کا کتنا نقصان ہوتا ہے‘ اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں جنہیں اِس شعبے کے مسائل کا دردمندی سے احساس ہو۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے راستے مختلف محکموں میں من پسند عہدوں پر تعینات جملہ اہلکاروں کو درس و تدریس کی ذمہ داریاں واپس سونپی جائیں اور اسی طرح جو ڈاکٹر علاج معالجے کے لئے ہسپتالوں میں بھاری تنخواہوں و تاحیات مراعات کے عوض بھرتی کئے جاتے ہیں اُن کی خدمات بھی مالی و انتظامی امور کی نگرانی کرنے کی بجائے ’علاج معالجے‘ کے لئے مختص کی جائیں۔ عجب ہے کہ اُستاد بھرتی ہونے والا درس و تدریس میں دلچسپی نہیں رکھتا اور علاج معالجے کی تربیت و اعلیٰ تعلیم یافتہ دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے چکر میں ہے! المیہ نہیں تو کیا ہے کہ اُستاد کو اُستاد‘ ڈاکٹر کو ڈاکٹر اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت ایسی ہے جسے اپنے پیشے کے تقدس کا احساس نہیں! سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت کم تو ہوئی لیکن ختم نہیں کی جاسکی اور اِس کمی کے ثمرات بھی نجانے کس صدی میں ظاہر ہوں گے کیونکہ جن عہدوں پر منظورنظر افراد تعینات ہیں اُن کی گھٹی میں اہلیت اور ذہن میں عہدوں سے جڑے امانت و دیانت کے تصورات دھندلے ہیں!

سانحۂ پشاور کے بعد سال کا ہر دن جن لوگوں کے لئے ایک سال کے برابر تھا اُن میں ایسے والدین بھی ہیں‘ جنہوں نے آئے روز تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور عمومی خوف کی وجہ سے اپنے جگرگوشوں کو سکولوں سے الگ کروا لیا۔ وسائل رکھنے والوں نے انفرادی سطح پر تعلیم کا بندوبست کیا لیکن بہت جلد اُنہیں احساس ہوا کہ بچوں کے لئے تعلیمی اداروں میں معمول کے مطابق استفادہ کس حد تک ضروری ہوتا ہے اور اُن کا ہم عمر و ہم عصر بچوں سے میل جول‘ ہم نصابی سرگرمیاں اور مختلف رہن سہن کے حامل بچوں کا باہم بول چال کتنی بڑی ’’تعلیم کا ذریعہ‘‘ ہوتا ہے۔ چونکہ انسان ایک سماجی جانور ہے تو اِس کے لئے الگ تھلگ رہنا ممکن نہیں ہوتا‘ اگرچہ کوشش کر بھی لے۔ والدین کو تحفظ کا احساس دلانے کے لئے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’ٹیکنالوجی‘ کا سہارا لیا اور تعلیمی اداروں کو موبائل فون ایپ (ایپلی کیشن) سے جوڑ دیا‘ وہیں تشویش کا شکار ایک والد نے بھی اپنے وسائل سے ’’محافظ‘‘ نامی اینڈرائرڈ یا اپیل اُو ایس (آپریٹنگ سسٹم) کی ایپلی کیشن (سافٹ وئر) تیار کرکے مفت (بطور صدقہ جاریہ) عام کر دی ہے اور انٹرنیٹ سمیت سمارٹ فون رکھنے والے صارفین اس کم و بیش 6 میگابائٹس کی ایپلی کیشن کو گوگل یا اپیل سٹور سے بلاقیمت حاصل (ڈاؤن لوڈ) کر سکتے ہیں‘ جس کی خصوصیات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہنگامی (ایمرجنسی) صورتحال میں خون عطیہ کرنے والوں سے رابطہ کیا جاسکے۔ اپنے خاندان کے افراد یا دوستوں کو ایک بٹن دباتے ہی مدد کرنے کے فوری پیغامات ارسال کئے جاسکیں۔ ہنگامی صورتحال جیسا کہ آتشزدگی‘ زلزلہ‘ چوری‘ ڈاکہ‘ حادثہ یا دہشت گردی کی صورت ’’پستول کا نشان (آئیکن)‘‘ کو دبا کر آن کی آن متعلقہ افراد کو مطلع کیا جاسکے۔ پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ’فہد خان‘ کی تیار کردہ ’’محافظ موبائل ایپلی کیشن‘‘ جدید (سمارٹ) موبائل فونز کے استعمال کا تجربہ نہ رکھنے والے بھی باآسانی کر سکتے ہیں اور یہی اِس اپیلی کیشن کا سب سے نمایاں خوبی ہے کہ مفت ہونے کے ساتھ اسے ’صارف دوست‘ بنایا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں کو سمجھنا ہوگا کہ وہ کس طرح معاشرے کے لئے مفید و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ موبائل فون کے ذریعے کسی بھی صارف کا جغرافیائی محل وقوع معلوم کرنا بہت اہم ہوتا ہے اور اگر بچوں کے سکول بستوں (بیگز) یا چھاتی پر لگے سکول بیج میں ’جی پی ایس‘ (گلوبل پوزیشنگ سیٹلائٹس) کا آلہ نصب کر دیا جائے جیسا کہ مغربی دنیا میں پالتو جانوروں تک اِس ٹیکنالوجی سے لیس ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف کسی بھی بچے یا شخص کی آمدورفت میں استعمال ہونے والے راستوں (روٹس) کا ریکارڈ رکھا جاسکتا ہے بلکہ ہنگامی حالات کی صورت اسی آلے کی مدد سے بچوں کی زندگی بھی بچائی جا سکتی ہے۔ سانحۂ پشاور کا دن اگر ٹھہر گیا ہے تو اسے یادآوری کی حد تک محدود نہ سمجھا جائے‘ یہ ایک ایسا نادر موقع بھی تو ہے کہ ہمارے معاشرے میں حکومتی و نجی اداروں یا انفرادی حیثیت سے ماہرین نے جن شعبوں میں کسی بھی وجہ سے غفلت کا مظاہرہ کیا‘ اپنے قول و فعل کی اصلاح کر لیں۔

 اگر ہم ایک سال بعد بھی جہاں تھے‘ وہیں کے وہیں کھڑے ہیں یعنی تعلیمی اداروں کی دیواریں بلند کرنے اور خاردار تاروں سے اُنہیں محفوظ بنانے کا عمل ہی مکمل نہیں کر پائے تو جان لیجئے کہ پے در پے حادثات‘ سانحات اور لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا! ’’گھر ہمارا جو نہ روتے تو بھی ویراں ہوتا!۔۔۔ بحر گر بحر نہ ہوتا‘ تو بیاباں ہوتا۔‘‘

Tuesday, December 15, 2015

Dec2015: US Political scene & worries!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
روشن خیال امریکہ: خوفناک سچائی!
اَمریکہ کا سیاسی منظرنامہ تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ماضی میں معیشت اور ملازمتوں کے گرد گھومنے والا سیاسی و انتخابی بحث و مباحثے کو اب مذہب سے جڑے خوف نے یرغمال بنا لیا ہے۔ راقم کو تو اپنے جگری دوست ’سعید آغا‘ کی فکر کھائے جا رہی ہے جو نیویارک میں اقتصادی مجبوریوں سے زیادہ ضد کے باعث قیام پذیر ہے اور اُمید سے ہے کہ اُسے آئندہ چند ماہ میں امریکی شہریت مل جائے گی! امریکی معاشرے کی خوبیاں گنوانے والے ایسے بہت سے دوستوں سے حالیہ چند دنوں میں ہوئی بات چیت سے اُن کے لہجوں میں چھپی تشویش ظاہر ہوئی۔ امریکہ کو تعصبات سے پاک کہنے والے آج اگر کسی درجے خوفزدہ ہیں تو بھی انہیں وہاں کے معاشی و سیاسی‘ اقتصادی اور انصاف کے نظام میں خوبیاں ہی خوبیاں نظر آتی ہیں! حقیقت حال تو یہ ہے کہ آج کے امریکہ اور یورپی ممالک میں جس قدر مذہبی منافرت اور بالخصوص مسلمانوں سے نفرت کا اظہار عام ہو رہا ہے‘ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی! امریکہ کے معروف بزنس مین‘ چار ارب ڈالر کے اثاثہ جات کے مالک‘ 69 سالہ ڈونلڈ جان ٹرمپ (Donald John Trump) صدر بننے کے متمنی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف بیان داغا ہے کہ ’’انہیں امریکہ نہ آنے دیا جائے‘‘ تو اس کی مذمت مہذب کہلانے والے معاشرے کی اکثریت نے نہیں بلکہ اقلیت نے کی ہے۔ درحقیقت ٹرمپ اس پانچ سال کے بگڑے ہوئے بچے کی طرح ہیں جو سب کی توجہ حاصل کرنے کے لئے عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے۔ یہی حال پاکستان کے سیاست دانوں کا بھی ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام کی توجہ اپنی ذات پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں جس کے لئے دھرنے‘ مارچ اور آئے روز مظاہرے ایک ایسا معمول ہیں‘ جس سے خود اُن کی اپنی اکتاہٹ صاف جھلکتی ہے۔

مسلمانوں کی امریکی امیگریشن پر پابندی کا تصور پیش کرنے پر صدارتی اُمیدوار ٹرمپ کے خلاف جو محاذ کھل گیا ہے‘ یہ بالکل وہی ردعمل ہے جو ٹرمپ یا اُن کی قریبی ساتھی چاہتے تھے اور بدقسمتی سے مسلمان اُن کے اِس جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نسل اور میکسیکن جیسے مسائل سے توجہ مذہب کی جانب موڑ دی ہے‘ اور انتخابی کامیابی کے لئے متنازع چیزوں کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پیرس اور کیلیفورنیا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں نئی روح اور توانائی پھونک دی ہے۔ توجہ مرکوز رہے کہ ’مذہبی منافرت (بشمول فرقہ واریت)‘ کو انتہائی چالاکی سے زیادہ سے زیادہ انتخابی فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کرنا صرف امریکی سیاست ہی کی سوچ نہیں بلکہ یہ رجحان پاکستان میں بلدیاتی اداروں سے لیکر قومی و صوبائی قانون ساز ایوانواں کے لئے اُمیدواروں کے قول و فعل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک امریکہ کی بات ہے تو وہاں ایسے ’منفرد پیغامات‘ لانا الیکشن حکمت عملی کا حصہ رہا ہے جس کا مقصد مرکزی دھارے کے امریکہ میں مقبولیت حاصل کرنا ہوتی ہے تاکہ مدمقابل کو مشکل میں ڈالا جا سکے اور ٹرمپ کی کوشش ہے کہ ڈیموکریٹ ووٹ کم کیا جا سکے‘ جو دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے۔ عام حالات میں تو یہ صرف خوف کے شکار ایک شخص کے شور و غل کی طرح محسوس ہوتا لیکن یہ عام حالات نہیں ہیں۔ سیاسی تقسیم ایک انتہائی خطرناک موڑ لے کر اب امریکہ کے عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر رہی ہے جہاں دونوں ہی گروہوں کے افراد کروڑوں ہیں۔ یہ مرغوں کی ایسی لڑائی کی طرح ہے جس میں کوئی بھی زخم کھائے بغیر یا نقصان اٹھائے بغیر باہر نہیں آتا اور جو نقصان پہنچے گا‘ وہ زبردست اور نسلوں تک جاری رہنے والا ہوگا۔

امریکہ میں جیسے جیسے سال 2016ء کے لئے جاری مرکزی انتخابی مہم آگے بڑھ رہی ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے فائدے کے لئے اسے پرپیچ و خطرناک موڑ دے رہے ہیں۔ مسلمان تارکینِ وطن اور وہیں پیدا ہونے والے مسلمان شدید خوف کا شکار ہیں جیسے کہ وہ بیچ گرداب پھنس گئے ہوں اور اب انہیں اپنے بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی نہ دے رہی ہو! پیرس کے دہشت گرد حملوں سے لے کر کیلیفورنیا میں ہونے والی فائرنگ (شوٹنگ) تک‘ سارے واقعات امریکی مسلمانوں کے لئے بُرے خواب کی طرح ہیں اور دونوں ہی جانب موجود مذہبی طور پر جوشیلے افراد انتہاء کی سیاست کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ٹرمپ کی مہم مسلمان مخالف پیغام کے ساتھ جاری رہتی ہے اور کیا وہ بنیادی کامیابیاں حاصل کر لیں گے؟ اگر وہ واقعی کامیاب رہتے ہیں‘ تو مذہب اور نسل کے خلاف بیانات کو دھیما کر دیا جائے گا تاکہ ٹرمپ کلنٹن کا جم کر مقابلہ کر سکیں اور یہ بھی ایک چال ہی ہوگی۔ سردست امریکی مسلمانوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے کئی بنیادی سوالات تسلی بخش جواب چاہتے ہیں: کیا امریکہ میں واقعی آبادی کا بڑا حصہ جو اب تک تو خاموش تھا مگر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ہی (مسلمان مخالف) خیالات کا حامل ہے؟ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم صرف ایک سیاسی چال ہے یا پھر یہ مرکزی دھارے کے امریکہ کے لئے ایک خوفناک سچائی بن کر اُبھرے گی؟ کیا امریکہ اس حد تک تبدیل ہونے جا رہا ہے جو کسی صلیبی جنگ کو مسلط نہیں بلکہ اپنے ہاں سے شروع کرے گا؟
Worries about internal politics of USA

Monday, December 14, 2015

Dec215: Foggy decision making!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
باعث پریشانی تذبذب!
سولہ دسمبر کے ’سانحۂ پشاور‘ کا دُکھ ’اجتماعی شعور کے اِظہار‘ اُور ملک دشمنوں کے خلاف مثالی ’اِتحادویک جہتی‘ کے مظاہرے کا متقاضی تھا لیکن افسوس کہ ہم نے روائتی طرزعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’144 قربانیوں کو کہانیوں کا رنگ‘ دے کر خاطرخواہ شعوری خراج عقیدت و تحسین پیش نہیں کیا! بہرکیف آرمی پبلک سکول پر حملے کی پہلی برسی کی مناسبت سے صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کے لئے ’عام تعطیل‘ کا اِعلامیہ (نوٹیفیکیشن) چودہ دسمبر کے روز دفتری اوقات کے اختتام تک جاری نہیں ہوسکا اور حسب سابق اگر یہ پندرہ دسمبر کی رات گئے جاری کیا جاتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والی صورتحال والدین اور اساتذہ سمیت تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے لئے بھی شدید پریشانی کا سبب بنے گی کیونکہ ضروری نہیں کہ سبھی والدین کیبل نیٹ ورک کے ذریعے نجی ٹیلی ویژن چینلز سے جڑے ہوں یا اُن کے پاس موبائل فونز بھی ہوں۔

تعلیمی ادارے اس صورتحال میں خود کو ’بے بس‘ سمجھتے ہیں کہ راتوں رات اور بالخصوص رات کے پہلے پہر میں لاکھوں کی تعداد میں والدین کو مطلع کرنا کہ ’کل تعطیل ہو گی‘ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔ حکومتی نکتۂ نظر سے تعلیمی اداروں کی عام تعطیل کا فیصلہ حفاظتی نکتۂ نظر سے بھی کیا جاتا ہے کیونکہ اندیشہ ہے کہ سانحۂ پشاور کی برسی کے موقع پر دہشت گرد قوم کو ایک نیا زخم دینے کی کوشش کریں لیکن اگر یہ منطق درست مان بھی لی جائے تو تعطیل کا بروقت اعلان نہ کرنا درحقیقت سیکورٹی خدشات کو کم کرنے کا نہیں بلکہ اِن میں اضافے کا مؤجب بنتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں بچے صبح تیار ہو کر سکولوں کو پہنچتے ہیں‘ جہاں داخلی دروازوں پر لگے تالے اور چوکیداروں کے بیزار لہجے اُن کا خیرمقدم کرتے ہیں! کیا ضروری نہیں تھا کہ سانحۂ پشاور کی یاد میں تعطیل کی بجائے ہر تعلیمی ادارے میں ’قرآن خوانی اور فاتحہ‘ کا اہتمام کیا جاتا؟ ہر تعلیمی ادارے میں تدریسی عمل میں ایک گھنٹے کا اضافہ کرکے تعلیم دشمنوں کے جسم ہی نہیں بلکہ اُن کے نظریات پر بھی وار کئے جاتے؟

معروف سیاسی تجزیہ نگار اردشیر کاؤس جی (1926ء سے 2012ء) سرکاری تعطیلات کے انتہائی مخالف تھے اور چاہتے تھے کہ ہفتہ وار تعطیل کے علاؤہ قوم کسی دوسرے موقع پر کام کاج سے ہاتھ نہ اُٹھائے۔ اُن کی متعدد تحریروں اور انٹرویوز پاکستانی قوم کو ’ہولی نیشن (مقدس قوم)‘ قرار دیا گیا‘ اور جب اُن سے وجہ پوچھی کہ ’ہولی نیشن کیسے؟‘ تو مخصوص مسکراہٹ اور دبدبے والے لہجے میں کہا ’’بیکاز وی ہیو سو مینی ہولیڈیز (کیونکہ ہم بہت سی تعطیلات جو کرتے ہیں)۔ کاؤس جی نے انگریزی زبان کے لفظ ’ہولی (Holy)‘ کا استعمال Holi سے کیا جو زبان دانی اور انگریزی زبان پر اُن کے عبور کا عکاس تھا۔ بہرکیف سرکاری ہوں یا نجی‘ ہمارے تعلیمی انتظامی ڈھانچے میں سنجیدہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

تعلیم ایک نوکری یا کاروبار کسی صورت نہیں ہونا چاہئے اور یہ خالصتاً ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے منفی محرکات کا ازالہ کرے‘ جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ ’درس و تدریس کا عمل‘ اپنی معنویت و مقصدیت کی منزل سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے! مسئلہ یہ نہیں کہ عید کے چاند کی طرح عام تعطیل کا اعلان اس قدر تاخیر سے کرنے والے فیصلہ سازوں کو عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات کا احساس نہیں بلکہ صورتحال یہ ہے کہ سرکاری یا نجی تعلیمی اداروں کے انتظامی ڈھانچے (معاملات) کچھ اس انداز میں مرتب کئے گئے ہیں کہ ٹیوشن فیس کے علاؤہ ’یہ وہ واجبات‘ کے علاؤہ والدین کو دیگر امور سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔ یہ امر بھی لائق توجہ رہے کہ تعلیمی اداروں کی اکثریت والدین کو بذریعہ ’فون کالز‘ یا ’ایس ایم ایس‘ تعطیل سے متعلق آگاہ کرنے کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتی۔ خیبرپختونخوا کے تعلیمی منظرنامے میں ایک فریق صوبائی حکومت ہے‘ جس نے تعلیمی نصاب‘ ادارہ جاتی سطح پر بنیادی سہولیات کی ’کم سے کم‘ فراہمی کا معیار اُور انتظامی قواعد و ضوابط طے کرنے جیسی ذمہ داریاں اپنے ذمے لے رکھی ہیں‘ لیکن کیا متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں تسلی بخش انداز میں سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ماہرین تعلیم یا والدین کی تشویش پر مبنی نکتۂ نظر کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ نظام تعلیم کا دوسرا فریق ہمارے تعلیمی ادارے ہیں‘ جنہیں اگر سرکاری و نجی درجات میں تقسیم کریں تو دونوں کی سطح پر صرف والدین ہی نہیں بلکہ اساتذہ کی ذہانت سے بھی استفادہ کم ترین سطح پر دکھائی دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پورے کا پورا نظام ’نصابی اسباق‘ کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے‘ جس میں طلباء و طالبات کی اکثریت کا ویژن (بصیرت) ’رٹے رٹاے‘ جملوں کی حد تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ درس وتدریس کے عمل میں تیسرے فریق کا وجود تعلیمی عمل یا اس کے معیار سے زیادہ ’جائز و ناجائز‘ اخراجات کی بروقت ادائیگی کے بارے میں زیادہ فکر مند (ہلکان) رہتا ہے۔

 تعلیمی نظام کی اِس ’سہ فریقی تکون‘ میں طلباء و طالبات پر کئی ایسے نفسیاتی دباؤ ہیں‘ جنہیں کم کرنے کے لئے اُن سے تعلیمی اداروں (اجتماعی) یا گھر (انفرادی) کی سطح پر تبادلۂ خیال یعنی کونسلنگ نہیں کی جاتی۔ راقم الحروف نے ذاتی طور پر درجنوں والدین سے بات چیت کے دوران یہ افسوسناک نتیجہ اخذ کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو اس حد تک محدود سمجھ لیا ہے کہ بچوں کو کسی سرکاری یا نجی سکولوں سے وابستہ کرنے کی حد تک محدود سمجھ لیا ہے اور سوفیصد والدین اساتذہ کے نام اور اُن کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں واجبی معلومات بھی نہیں رکھتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ (خالص منافع کی لالچ میں) نجی تعلیمی اِداروں میں اساتذہ کے بھرتی کرنے کا معیار ’کم تنخواہ و مراعات‘ رکھا جاتا ہے جبکہ فی کلاس روم طالبعلموں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کے بارے میں بھی زیادہ دردمندی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آتا۔ تصور کیجئے کہ بطور معلم یا معلمہ کسی انسان کے لئے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تعداد میں پچیس یا تیس سے زیادہ بچوں کو مکمل توجہ دے سکے اور ایسے ’اوور لوڈ‘ اساتذہ کے لئے کسی موضوع پر درس (لیکچر) دیتے (جھاڑتے) ہوئے طالبعلموں کی ذہانت و نفسیاتی تقاضوں کو پیش نظر رکھنے کی اُمید رکھنا‘ خودفریبی ہی ہوگی! یہی سبب ہے کہ درس وتدریس کے عمل میں سوال کرنے کی حوصلہ شکنی عمومی روش ہے۔

 تعلیم اور نفسیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چیخ و پکار کے لہجے میں اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ سے سہمے ہوئے بچوں کی شخصیت سازی میں ایک نہیں بہت سے خلأ رہ جاتے ہیں۔ اِس مرحلۂ فکر پر سوچئے کہ جہاں تعطیل جیسا فیصلہ ’’بروقت‘‘ نہ ہو سکے‘ وہاں کے طالبعلم اگر اپنی عملی زندگی میں نظم و ضبط اُور خوداعتمادی کے فقدان کا چلتا پھرتا ’نمونہ‘ ثابت ہوں‘ تو اِس پر تعجب کا اظہار ہونا چاہئے؟