Showing posts with label ADP. Show all posts
Showing posts with label ADP. Show all posts

Sunday, December 24, 2017

Dec 2017: Examples of bad governance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سزاوار پشاور کیوں؟
سیاست دانوں کے منہ سے اکثر نکلنے والے جملوں میں جہاں جمہوریت‘ جمہوری عمل‘ جمہوری اِداروں کے تحفظ کی تکرار ملتی ہے وہیں قانون ساز ایوانوں (پارلیمینٹ) کی بالادستی اُور خودمختاری پر آنچ نہ آنے دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک بھی ایسی منتخب حکومت نہیں آئی جس نے پارلیمینٹ کے فیصلوں کو صوابدیدی اختیارات سے بدلنے کی کوشش نہ کی ہو بلکہ ہر سیاسی (منتخب) حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار میں صوابدیدی اختیارات میں اضافہ کرے چاہے اِس سے پارلیمینٹ کو کتنی ہی سبکی کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔ 

مثالیں موجود ہیں کہ ماضی و حال کے وزرائے اعلیٰ نے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کرتے ہوئے اپنے منصب‘ ذمہ داریوں اور سب سے بڑھ کر خیبرپختونخوا کے عام آدمی (ہم عوام) سے اِنصاف نہیں کیا بلکہ اِس بات کو زیادہ اہم سمجھا کہ اپنے اپنے آبائی حلقوں (علاقوں) کو ترجیح دی جائے۔ یہ معاملہ (سیاسی بدنیتی) عدالت عالیہ (پشاور ہائی کورٹ) میں زیرسماعت (زیرغور) آئی تو ضمنی طور پر اِس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ کسی طرح ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ (درست) تقسیم کا کوئی ایسا (عادلانہ) طریقۂ کار (فارمولہ یا پیمانہ) وضع کر دیا جائے جس کے بعد کسی بھی حکومت کے لئے ممکن نہ رہے کہ وہ صوابدیدی اختیارات کے بل بوتے پر پسماندہ اور بالخصوص دور دراز کے اضلاع کی حق تلفی کی مرتکب ہو۔ بائیس دسمبر کے روز پشاور ہائی کورٹ نے اِس بات کو ’’غیرقانونی‘‘ قرار دیا کہ صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والی سالانہ ترقیاتی حکمت عملی (اینول ڈویلپمنٹ پروگرام ’اے ڈی پی‘) میں شامل کسی ایک بھی منصوبے کو ختم کیا جا سکے۔ اگر کوئی ترقیاتی منصوبہ ایک مرتبہ ’اے ڈی پی‘ میں شامل ہو جائے تو اُس کے لئے مختص مالی وسائل کسی بھی صورت نہ تو روکے جا سکیں گے اور نہ ہی اُسے کسی دوسرے ترقیاتی منصوبے سے تبدیل کیا جا سکے گا۔ عدالت کی جانب سے واضح احکامات ہیں کہ وزیراعلیٰ (خیبرپختونخوا) سمیت کسی بھی صوبائی وزیر یا محکمے کے نگران کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی اسمبلی سے منظوری کے بعد اپنے صوابدیدی اختیارات کے ذریعے اُن میں ردوبدل کرسکے! 

جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس محمد غضنفر خان کا یہ واضح حکم رکن صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ آفریدی کے دائر کردہ مقدمے کی سماعت کے بعد ’تفصیلی فیصلے‘ میں لکھا گیا ہے‘ جو عدالت کی ویب سائٹ پر تاحال جاری نہیں ہوا اُور اُمید ہے کہ پہلی فرصت میں معاون عملہ اِسے جاری (اَپ لوڈ) کر دے گا۔ یوں تو ہر عدالتی فیصلہ ہی اہم اور لائق مطالعہ ہوتا ہے لیکن ’پشاور سے متعلق یہ فیصلہ یقیناًپورے خیبرپختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں کے لئے ’رہنما اصول‘ ثابت ہوگا‘ جس سے سیاسی بددیانتی کے ایک ایسے دور (حاکمیت) کا اختتام ممکن ہوگا‘ جس کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز انتخابی حلقوں سے متعلق ترجیحات کی نذر ہوجاتے ہیں اور حکمراں جماعت کی ترجیحات ذاتی و سیاسی مفادات کے گرد گھومتی رہتی ہیں!

متنازعہ شخصیت و منفرد سیاسی اصولوں کے مالک‘ رکن صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ آفریدی کی ذات کے بارے میں ہزار ہا اعتراضات اور اُن کی پسند و ناپسند پر مبنی مؤقف سے اختلاف کی گنجائش بہرحال موجود ہے لیکن جب اُنہوں نے پشاور سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے ون‘ میں ترقیاتی کاموں کی منسوخی کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ سے باضابطہ رجوع کیا تو صوبائی حکومت کو اپنی غلطی کا فوری اعتراف کرتے ہوئے ’اے ڈی پی اسکیم نمبر 782‘ جو کہ مالی سال دوہزار پندرہ سولہ اور بعدازاں سے متعلق تھی کے لئے مختص فنڈز جاری کر دینے چاہیءں تھے یوں یہ معاملہ پورے پاکستان کی توجہ کا مرکز (بدنامی کا باعث) نہ بنتا لیکن تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکمرانوں کے لئے اِس بات کی قطعی کوئی اہمیت نہیں کہ اُن کے لئے ’انقلاب و انصاف‘ جیسے ناموں سے سیاست کرنے والی جماعت کی ’نیک نامی (ساکھ)‘ کتنی اہمیت رکھتی ہے! مالی سال دوہزار پندرہ سولہ اور مالی سال دوہزار سولہ سترہ کی ترقیاتی حکمت عملی میں پشاور کے ’محل تیرائی‘ کے لئے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر مبنی ایک حکمت عملی وضع کی گئی لیکن چونکہ وہاں سے رکن صوبائی اسمبلی نے تحریک انصاف سے اختلافات کا اظہار کیا اِس لئے وہ منظورشدہ ترقیاتی حکمت عملی منسوخ کر دی گئی یعنی سیاسی مخالفت کی سزا پشاور کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

معاملہ عدالت میں پہنچا جس کا ’مختصر فیصلہ‘ 3 اکتوبر کو سنایا گیا تھا اور ’تفصیلی فیصلہ‘ بائیس دسمبر کو جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے احکامات کو نہ صرف غیرقانونی قرار دیا گیا بلکہ آئندہ کے لئے بھی ایسی کسی حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی! عدالت نے ترقیاتی اسکیم نمبر 782 کو رواں مالی سال ’دوہزار سترہ اٹھارہ‘ کا حصہ بنانے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اِسے آئندہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے۔ منطقی امر ہے کہ جب صوبائی اسمبلی جیسا معزز ایوان کسی ترقیاتی منصوبے کی ایک مرتبہ منظوری دے دیتا ہے تو یہ بات کسی کا بھی صوابدیدی اختیار کس طرح ہو سکتی ہے کہ وہ صوبائی اسمبلی کے اِس فیصلے میں ردوبدل کرے اگر اعتراض ہوتا بھی ہے تو اُسے منظوری سے قبل سامنے آنا چاہئے۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایک نہیں دو مرتبہ مذکورہ ترقیاتی منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی ترجیحاتی فہرست سے الگ (ڈراپ) کیا۔ پہلی مرتبہ دو مارچ دوہزار سولہ اور دوسری مرتبہ ’دس جون دوہزار سولہ‘ کے روز لیکن اُن کی کابینہ میں موجود کسی بھی وزیر و مشیر نے ایسا کرنے پر اعتراض نہیں کیا جس سے عیاں ہے کہ ہر کسی کو اپنے اپنے انتخابی حلقے اور ذاتی وسیاسی مفادات سے غرض ہے۔ کیا تحریک انصاف ادراک رکھتی ہے کہ پشاور کے حقوق غصب کرنے سے جو کچھ حاصل ہوا ہے اُس کا آئندہ عام انتخابات پر کتنا منفی اثر پڑے گا؟ شاہانہ مزاج پر گراں نہ گزرے تو جان کی امان پاتے ہوئے سوال یہ بھی ہے کہ ’خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع اور علاقے کے لئے مختص (مشتہر) ترقیاتی فنڈز روک کر‘ وہاں کے رہنے والوں کو سزا دینا کہاں کا انصاف و دانشمندانہ اقدام تھا‘ جس کی اگرچہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ نے کوئی سزا مقرر نہیں کی اور نہ ہی مالی جرمانہ عائد کیا ہے لیکن درپردہ فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ موجودہ فیصلہ ساز قیادت کرنے کی کم سے کم اہلیت کے معیار پر بھی پورا نہیں اُترتے!؟
۔

Sunday, June 5, 2016

Jun2016: Poverty Defination need to be review!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خط غربت؟
عالمی سطح پر غربت کے کا تعین کرنے کے لئے بنایا گیا پیمانہ ’کم سے کم آمدنی‘ کی بنیاد پر یہ وضع کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق کسی بھی شخص کی آمدنی اگر ایک مقررہ حد سے کم ہے تو وہ ’’غریب‘‘ کہلائے گا۔ اکتوبر 2015ء میں ’عالمی بینک‘ نے یومیہ آمدنی کی کم سے کم حد 1.90 ڈالر کی تھی جو سال 2005ء سے قبل ایک ڈالر بعدازاں 1.25 ڈالر یومیہ مقرر کی گئی۔ دنیا بھر کے ماہرین اِقتصادیات کم یا زیادہ اختلاف کے ساتھ ’خط غربت‘کے پیمانے سے اتفاق کرتے ہیں جو کسی فرد واحد کی ’قوت خرید‘ کی عکاسی تو کرتا ہے لیکن کیا یہ پیمانہ پاکستان جیسے ملک میں غربت کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے؟

خط غربت کے موجودہ عالمی پیمانے کو اگر پاکستانی روپے میں تبدیل کیا جائے تو یہ ’’199 روپے 3 پیسے‘‘ بنتے ہیں یعنی ہر وہ پاکستانی ’’غریب‘‘ ہے جو یومیہ کم و بیش 200 روپے کما رہا ہے اور اِس حساب سے 6ہزار روپے سے کم آمدنی والا غریب کہلائے گا جو سراسر غلط اور پاکستانی معاشرے کے حساب سے بے بنیاد تصور ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان کا قومی یا صوبائی بجٹ تشکیل دیتے وقت بھی غریبوں کا شمار اِسی ’خط غربت‘ پر کیا جاتا ہے جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک شخص کو اُس کے خاندان کی کفالت کے لحاظ سے شمار کیا جانا چاہئے۔ اگر ہم پاکستان میں کم سے کم مقررہ تنخواہ کہ جسے تین جون کو پیش کئے گئے بجٹ میں ایک ہزار روپے بڑھا کر چودہ ہزار کر دیا گیا ہے اور درحقیقت یہی ’خط غربت‘ ہے!

حکومت کی جانب سے مقرر کی جانے والی کم سے کم تنخواہ کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن اِس کی ادائیگی کے لئے حکومت (اپنے ہی حکم پر عمل درآمد) سختی سے نہیں کراتی۔ ایسے نجی اِداروں کا شمار اُنگلیوں پر ممکن نہیں‘ جو وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے کم سے کم تنخواہ کے مطابق ماہانہ ادائیگیاں نہیں کرتے۔ بھلا حکومت ایسے دلاسے دیتی ہی کیوں ہے جبکہ مزدوروں بالخصوص دیہاڑی (یومیہ محنت مزدوری) کرنے والوں کو کم سے کم چودہ یا پندرہ ہزار روپے ماہانہ اُجرت نہیں دلا سکتی!؟
خط غربت میں کمی اُس وقت تک عملاً ممکن نہیں ہوگی جب تک اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوتے اُور اُس وقت تک طرزحکمرانی پر اُٹھنے والے غیرترقیاتی اخراجات میں کمی نہیں کی جاتی جب تک کہ آمدن میں اضافہ نہ ہو۔ اقتصادی سروے رپورٹ 2015-16ء کے مطابق کپاس کی فصل خراب ہونے سے رواں مالی سال کیلئے معاشی ترقی کا پانچ اعشاریہ پانچ فیصد کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا۔ یہ مسلسل تیسرا موقع ہے کہ حکومت اپنے بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اقتصادی سروے اور بجٹ کی روشنی میں سامنے آنے والی صورتحال کسی طرح خوش کن اور اطمینان بخش قرار نہیں دی جاسکتی۔ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی ترقی اور صنعت کا پہیہ بنیادی طور پر زرعی سیکٹر سے جڑا ہوا ہے جو بدقسمتی سے شروع دن سے حکومت کی عدم توجہ اور عدم دلچسپی کا شکار ہے۔

کیا ہم نہیں جانتے کہ زراعت سے وابستہ روزگار کا تناسب 80فیصد سے زیادہ ہے لیکن اِس شعبے پر ’حکومتی نظرکرم‘ خاطرخواہ نہیں۔ بجٹ تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ نے کھاد کی بوری کی قیمت کم کرنے کا اعلان کیا تو اُن کی اطلاع کے لئے عرض میں پاکستان میں کھاد کی جو بوری رعایت کے بعد 1400 روپے میں بطور خاص عنایت دی جارہی وہی بھارت میں 700 روپے فی بوری ہے اور اگر کرنسی کا فرق نکال دیا جائے تو بھارت میں کھاد کی ایک بوری 900 روپے جبکہ پاکستان میں اگر 1400 روپے ہوگی تو اِس میں کمال ہی کیا ہے؟ رواں مالی سال میں زرعی سیکٹر میں ترقی کی منفی 0.19فیصد شرح ہے جو گزشتہ پچیس برسوں میں پہلی بار سامنے آئی ہے۔ کپاس‘ چاول] مکئی اور گندم ہماری اہم نقد آور اجناس ہیں ان کی پیداوار میں کمی سے ملکی برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور اب تو یہ بات خود حکومت بھی تسلیم کر رہی ہے۔ کیا ہم یہ بات بھی فراموش کر دیں کہ ’خط غربت‘ سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی اکثریت اُن محنت کشوں کی ہے جو کسی نہ کسی ذریعے زراعت سے وابستہ ہیں۔

 زرعی سیکٹر پوری طرح فعال ہونا چاہئے۔ کھاد‘ ٹریکٹر‘ پانی‘ تصدیق شدہ اچھے بیج اور دوسری مطلوبہ سہولیات ارزاں نرخوں پر مہیا کرنے کے ساتھ زرعی ماہرین کی رہنمائی فراہم ہونی چاہئے۔ معاشی اہداف کاحصول ممکن بنانے کے لئے بڑے زمینداروں کی آمدن اور چھوٹے کاشتکاروں کو سبسڈی دینا ہوگی۔ زرعی سیکٹر کے علاؤہ جنگلات‘ فشریز‘ لائیو سٹاک بجلی گیس اور تعمیرات کے شعبوں کا احوال بھی ناقابل بیان ہے۔ ہر شعبے میں ترقی اور نمو کی شرح مختلف ہے‘ کہیں کم کہیں زیادہ تاہم اس سے حکومت کی مجموعی کارکردگی پر کوئی اچھا اور مثبت تاثر نہیں اُبھرتا۔ اقتصادی فیصلہ سازوں کو ’خط غربت‘ کے عالمی معیار کا پاکستان پر اطلاق کرتے ہوئے زمینی حقائق اور اُن منفی محرکات پر غور کرنا چاہئے کہ بڑے زمیندار‘ صنعتکار اور تاجروں کی نمائندگی ہر منتخب ایوان میں موجود ہے لیکن عام آدمی (ہم عوام) جو کہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 90فیصد سے زیادہ ہیں‘ اُن کی بات کہنے اور اُن کے مفادات کا تحفظ کرنے والا کوئی نہیں! کیا یہ بات دل کو لگتی ہے کہ ملک کا صدر‘ وزیراعظم اور تمام ججوں کی ماہانہ تنخواہیں ٹیکس سے مستثنیٰ لیکن خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے اگر ایک عدد ماچس بھی خریدیں یا ایک یونٹ بجلی بھی خرچ کریں تو اُنہیں ٹیکس ادا کرنا پڑے۔ محصولات کی وصولی کے طریقۂ کار (نظام) کو بدلنا ہوگا‘ جس میں زیادہ آمدنی والوں سے کم لیکن کم آمدنی والوں سے نسبتاً زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے!
Poverty line need to be redefine

Tuesday, May 31, 2016

May2016: KP development refused by the Federal Govt!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سچ کی قیمت!
وفاقی حکومت کے لئے آئندہ مالی سال (2016-17ء) کا بجٹ کسی بھی صورت آسان نہیں۔ ایک تو بجٹ کی کابینہ سے منظوری پہلی مرتبہ وزیراعظم کی ’عدم موجودگی لیکن ورچوئل حاضری‘ سے ہونا ’ٹیکنالوجی پر اعتماد و بھروسہ‘ کا آئینہ دار ہے جس سے اُمید ہو چلی ہے کہ وفاقی و صوبائی سطح پر وزرأ آئندہ اضلاع کے انتظامی دوروں کی بجائے بہت سی باتیں بذریعہ بصری و صوتی الیکٹرانک وسائل کا استعمال کرتے ہوئے سرانجام دیں گے جو کہ ’کم خرچ بالا نشین‘ بھی ہے اور زیادہ قابل بھروسہ بھی کیونکہ ایسی ’ورچوئل بات چیت‘ کا ہر لفظ بذریعہ ریکارڈنگ محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ بہرکیف یہ تو ایک ضمنی موضوع ہے جس میں طرزحکمرانی کو فعال اور فیصلہ سازوں کو اداروں کی کارکردگی پرنظر رکھنے کے عمل کو آسان بنایا جاسکتا ہے اور اِس سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت پہلے ہی ابتدأ کر چکی ہے۔

وفاقی بجٹ کو زیادہ پرکشش (ٹیکس فری) بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم ترقیاتی امور کے لئے مختص کی جاتی ہے چاہے وفاقی حکومت کے پاس مالی وسائل ہوں یا نہ ہوں۔ چاہے ملک کا نظام چلانے کے لئے قرض لینے پڑ رہے ہوں لیکن ترقی اور برائے نام ٹیکس فری بجٹ جیسی اصطلاحات فراخدلی سے استعمال کی جاتی ہیں۔ وفاقی حکومت کی مالی مشکلات کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لئے خیبرپختونخوا میں ایسے 100 ترقیاتی منصوبوں کو ملنے والی مالی امداد پہلے ہی روک لی گئی ہے جن میں وفاقی حکومت کی حصّہ داری شامل تھی لیکن تحریک انصاف اِس پورے منظرنامے کو الگ زاویئے سے دیکھ رہی ہے اور صوبائی قیادت کا کہنا ہے کہ ’’پانامہ لیکس پر کڑی تنقید کی وجہ سے وفاقی حکومت نے (انتقاماً) خیبرپختونخوا کے لئے مالی وسائل روک لئے ہیں۔‘‘ صوبائی حکومت کو محسوس ہونے والے ’امتیازی سلوک‘ کی تائید اِس بات سے بھی ہوتی ہے کہ آئندہ مالی سال کے لئے خیبرپختونخوا کی جانب سے وفاق کو ’پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت جن 45 ترقیاتی منصوبوں کی فہرست ارسال کی گئی تھی‘ اِن میں سے کسی ایک کو بھی ’شرف قبولیت‘ نہیں بخشا گیا جس سے عیاں ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا سے خوش بھی نہیں اُور کوشش ہے کہ ترقی کے عمل میں توسیع نہ ہونے پائے جس سے تحریک انصاف کی نیک نامی میں اضافہ ہوسکتا ہے!

پانامہ لیکس ہوں یا انتخابی اصلاحات‘ شفاف طرز حکمرانی ہو یا قیادت کرنے والوں کو امانت و دیانت کے تصورات کا عملاً پابند بنانا‘ جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی ہو یا جماعتی سطح پر جمہوری اقدار کا فروغ‘ کیا تحریک انصاف کے نظریات‘ سیاسی طرزعمل اُور ساکھ کی سزا پورے ’خیبرپختونخوا‘ کو دی جائے گی؟ اور یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اگر کسی صوبے میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت کی حکومت ہو تو اُسے پسماندہ رکھا جائے؟ کیا وفاقی حکومت کا رویہ صوبہ سندھ سے بھی وہی ہے جو خیبرپختونخوا سے ہے؟ کیا یہ امر باعث حیرت نہیں کہ وفاقی حکومت نے پن بجلی منافع کی مد میں خیبرپختونخوا کے 225 ارب روپے ادا کرنا ہیں جن میں سے 30 ارب روپے کی قسط فروری دوہزار سولہ (رواں برس کے دوسرے ماہ) ادا کرنا تھی لیکن بالواسطہ و بلاواسطہ یقین دہانیوں اور یاد دہانیوں کے باوجود بھی یہ وفاقی حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے ہنگامہ تین اپریل سے شروع ہوا اُور اِس کے بعد تو گویا وفاقی حکومت کے تیور ہی بدل گئے۔ اگر آئندہ چار ہفتوں میں (تیس جون سے قبل) خیبرپختونخوا کے بقایا جات ادا نہیں کئے جاتے تو یکم جون سے نیا مالی سال شروع ہو جائے گا جس کی وجہ سے مختلف اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید سست ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے پچیس اضلاع میں ترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے کیونکہ ہر ضلع میں اوسطاً چار سے پانچ ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن میں شاہراؤں کی تعمیرو توسیع‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ صحت و تعلیم کے منصوبے شامل ہیں۔

بات خیبرپختونخوا میں ترقی کے عمل اور خیبرپختونخوا کے حقوق کی ہے جس کے دفاع و حصول کی کوششیں صرف برسراقتدار جماعت یا اتحادی پارلیمانی جماعتوں ہی کی نہیں بلکہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے رویئے میں تبدیلی کے لئے اپنا اثرورسوخ اُور سیاسی حیثیت کا استعمال کریں۔ یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت کو 10 پن بجلی کے منصوبوں کی سرمایہ کاری کے لئے ’التجا‘ کر رکھی ہے جس سے مجموعی طور پر 1585میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی اور اِن ترقیاتی منصوبوں پر لاگت کا تخمینہ 410.4 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا کی طرف سے دیئے گئے منصوبوں میں 6 نئی صنعتی بستیوں کا قیام‘ 7 آبپاشی کے منصوبے‘ 2 پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ 5 زراعت‘ لائیوسٹاک اور کوآپریٹو سیکٹر سے متعلقہ منصوبے اور 14منصوبے پشاور ہائی کورٹ سے متعلق ہیں‘ جنہیں ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے!

KP is paying a huge fee for voting PTI