Showing posts with label DailyAaj. Show all posts
Showing posts with label DailyAaj. Show all posts

Wednesday, February 8, 2023

Mind what you eat

 تحریک .... آل یاسین

متوازن غذا : قومی عادات

’باچا خان چوک (پشاور)‘ سے متصل مرغی مارکیٹ میں 100 سے زائد دکانوں سے ہوٹلوں اُور شادی بیاہ کی تقاریب کے لئے ذبح شدہ مرغیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ شادی ہالز اُور ہوٹلز (مستقل گاہگوں) کی جانب سے فون پر آرڈر لکھوانے کے بعد اُنہیں صاف ستھری مرغی مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر فراہم کی جاتی ہے جسے اپنے منافع کے ساتھ مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جاتا ہے لیکن اِس کاروباری بندوبست کا ”تاریک پہلو“ یہ ہے کہ راشننگ کنٹرولرز کی ایک کاروائی (چھاپے کے نتیجے میں) شادی ہالز اُور ہوٹلوں (کھانے پینے کے عمومی مقامات) کو ”مردہ مرغیاں“ فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ مردہ مرغی کا گوشت کھانا حرام ہے۔ شرعی طور پر ”ذبح شدہ“ برائلر مرغی کاکھاناحلال ہے محض قیاس آرائی کی بنا پر کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیاجاسکتا لیکن چونکہ مردہ مرغیاں فروخت کرنے کے منظم دھندے کا انکشاف ہو چکا ہے اُور بڑی مقدار میں ایسی مردار مرغیاں برآمد بھی کی گئیں ہیں اِس لئے شرعی طور پر احتیاط اِسی میں ہے کہ صرف اُسی برائلر یا دیسی مرغی کا گوشت استعمال کیا جائے جسے اپنے سامنے حلال کیا گیا ہو نیز شرعی نکتہ نظر سے مرغی کی خوراک (فیڈ) میں اگر خالص حرام اجزا یا ایسی کوئی چیز شامل کی گئی ہو جس کی وجہ سے حرام مواد خوراک کے باقی حصے پر غالب آ جائے تو ایسی مرغیوں کو کھلانا بھی حرام ہوگا۔ بنیادی بات یہ ہے کہ انسان شرعی اَحکام کا مکلف ہے اُور شریعت میں کسی بھی جاندار کو حرام غذا دینا اُور اِس کے بعد اُس کے حرام ہونے میں شک و شبہ نہیں رہتا۔ ایک شرعی نکتہ نظر یہ ہے کہ اگر کسی مرغی کو حرام چیزیں کھلائی گئیں ہوں لیکن اگر اُس کے گوشت سے بو نہ آتی ہو تو ایسا گوشت کھانا جائز ہے۔ دیسی مرغیاں بھی کیڑے مکوڑے کھاکر پلتی بڑھتی ہیں۔ بہرحال کسی حلال جانور کا کم مقدار میں حرام یا ناپاک چیز کھا لینا اس کے حرام ہونے کے لئے کافی جواز نہیں ہے ہاں اگر اس جانور میں ناپاک یا حرام چیز کی بو پیدا ہوجائے‘ یہ بو کھانے پر حاوی اُور کھانے کے دوران محسوس ہو تو اُس وقت حلال جانور کا کھانا بھی ممنوع ہو جاتا ہے۔ فارمی مرغی میں ہارمونز کی مقدار کا زیادہ ہونا ایک طبی مسئلہ ہے‘ جس پر اطبا (ماہرین صحت) کو قوم کی رہنمائی کرنی چاہئے کیونکہ خوراک کے حلال و حرام اُور مضرصحت ہونے سے متعلق یہ معاملہ (منظرنامہ) انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے اُور اِس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

پاکستان کی معروف فلم و ڈرامہ ایکٹر اُور یوٹیوبر ’عائشہ عمر‘ کی شناخت ’بلبلے‘ نامی مزاحیہ (سٹ کام) ڈرامہ ہے جو سال 2009ءسے اندرون و بیرون ملک دیکھا اُور پسند کیا جا رہا ہے۔ اکتالیس سالہ عائشہ عمر فن اَداکاری اُور گلوکاری میں کئی ملکی و بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہیں اُور چاہتی ہیں کہ ’صحت مند خوراک‘ کے حوالے سے ’قومی عادات‘ تبدیل کریں۔ متوازن غذا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عائشہ عمر نے اپنے انسٹاگرام اکاونٹ (ayesha.m.omar) سے جاری پیغام میں اپنی خوبصورتی اُور جاذب نظر ہونے کا راز بتایا ہے اُور کہا ہے کہ ”میں گھاس پھوس (کچھ بھی) نہیں کھاتی بلکہ اپنے کھانے پینے کی اشیا کا سوچ سمجھ کر انتخاب کرتی ہوں۔ باقاعدگی سے ورزش کرنا فعال زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے جس کے لئے جسمانی ضرورت اُور موسم کے مطابق ’متوازن غذا‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے اگر کوئی بھی شخص (مرد یا عورت) چاہتا ہے کہ وہ ایک مطمئن زندگی بسر کرے تو اُسے اپنے کپڑوں‘ آسائش یا دیگر نمودونمائش پر حد سے زیادہ خرچ کرنے کی بجائے اچھے کھانے پینے پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ صرف زندہ رہنے ہی کے لئے بلکہ صحت مند رہنے کے نکتہ نظر سے بھی خوراک کا انتخاب ہونا چاہئے۔ یہ انتہائی افسوسناک اُور بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے پاس پاکستان میں بہت کم ایسی کھانے پینے کی جگہیں ہیں جہاں صاف‘ غیر پروسیسڈ‘ کیمیائی مادوں‘ مصنوعی ذائقوں‘ یا ہارمونز جیسے زہریلے مواد سے پاک کھانا پیش کیا جاتا ہو۔ مقامی پیداوار‘ اجزااُور قدرتی طور پر تیار ہونے والی خوراک کے مقابلے عموماً ایسے مصنوعی خوردنی اجزاکا انتخاب کیا جاتا ہے جو زیادہ تر کم قیمت ہوتی ہیں۔ صحت مند رہنے کے لئے اچھی خوراک کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے میں جلد ہی ایک تصور کو عملی جامہ پہناؤں گی جس پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اِس منصوبے کے تحت کھانے میں سمندری غذا‘ چکن (جو کہ نامیاتی ہو) اور بنا چربی گوشت کے ساتھ وافر مقدار میں سبزی‘ خشک میوہ جات‘ بیج‘ بیریز اور پھل شامل کئے جائیں گے اُور ریفائنڈ شوگر‘ گلوٹین یا کیمیائی مادوں سے بھرپور دودھ یا دودھ سے بنی ہوئی مصنوعات کا زیادہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ضرورت سے زیادہ پکے ہوئے اور ڈیف جنک فوڈ سے دور رہنے کی کوشش کی جائے گی جو کہ تازہ اور صاف کھانے کی کوشش ہے۔ کھانے کے لئے بہترین تیل ناریل یا دیسی گھی کی صورت استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔ کسی شخص (مرد یا عورت) کے لئے ضروری ہے کہ وہ کھانے کے اچھے و اعلیٰ معیار‘ نامیاتی (قدرتی) وٹامنز پر اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ خرچ کرے۔ سفر اُور کھانا انسان کی زندگی میں مقصدیت کو بھر دیتے ہیں۔ مہنگے جوتے‘ بیگز یا زیورات اور ملبوسات کی بجائے ہمیں اپنے کھانے پینے پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔“ عائشہ عمر کراچی میں رہتی ہیں اُور چونکہ فن ِاداکاری کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں اِس لئے اُنہیں معیاری کھانے پینے کے کاروبار میں سرمایہ کاری سے فوری فائدہ حاصل ہونے کی اُمید ہے لیکن لاہور میں پیدا ہونے والی عائشہ عمر کراچی میں مستقل مقیم ہیں اُور اُن کی خدمات بھی کراچی یا لاہور والوں ہی کو میسر آئیں گے جو پاکستان کے ثقافتی مراکز بھی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے طول و عرض بالخصوص پشاور میں رہنے والوں کو بھی اپنے کھانے پینے کے معمولات پر نظرثانی کرنی چاہئے کیونکہ جو کچھ اُنہیں میسر ہے اُس میں خالص ہونا تو دور کی بات حلال ہونا بھی یقینی نہیں ہے اُور آئے روز مردہ جانور اُور زہر آلودہ دودھ تلف کرنے سے متعلق ’محکمہ خوراک (فوڈ اتھارٹی)‘ کی کارکردگی خبروں کی زینت بنتی ہے لیکن مجال ہے کہ سڑک کنارے تکہ بوٹی اُور کباب فروخت کرنے والوں کے گاہگوں میں کمی آئے۔ شام سے رات گئے تک پشاور کے مختلف حصوں میں قائم ہونے والی ’فوڈ سٹریٹس‘ میں کھانے پینے کا معیار کوئی بھی دیکھنے (پرکھنے‘ جانچنے) والا نہیں کیونکہ سرراہ یہ دکانیں دن کے اختتام پر‘ اُس وقت قائم ہوتی ہیں جب سرکاری دفاتر کے اوقات کار ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں جبکہ عمومی امراض بھی پیچیدہ شکل اختیار کر گئے ہیں اُور کھانے پینے کی اشیا‘ اجناس و سہولیات کی اکثریت معیاری بھی نہیں رہے تو پہلی ضرورت یہی ہے کہ گھر سے باہر کھانے پینے سے حتی الوسع گریز کیا جائے اُور مردہ مرغیوں کی شادی ہالز کو فراہمی کے منظم دھندے کا پردہ فاش ہونے کے بعد ضروری (لازم) ہو گیا ہے کہ احتیاط کرتے ہوئے شادی بیاہ کی تقاریب (جن کا انعقاد غیرضروری طور پر شادی ہالز میں ہونا رواج پا گیا ہے) کے دوران بنا گوشت کھانوں ہی کا انتخاب کیا جائے۔

....


Sunday, October 17, 2021

Petroleum Prices, inflation & threshold

 ژرف نگاہ ....شبیرحسین اِمام

غربت‘ شرافت اُور طرز حکمرانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2 ماہ کے دوران 4 مرتبہ اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے سولہ اکتوبر کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 44 پیسے‘ پیٹرول کی قیمت میں 10روپے 49پیسے اور مٹی کا تیل 10روپے 95 پیسے اضافے جیسا غیرمعمولی ردوبدل کیا گیا ہے۔ لائق توجہ ہے کہ کسی حکومتی کامیابی کا اعلان کرنے کے لئے متعلقہ وزارت کا وزیر یا وفاقی کابینہ کے اراکین اپنے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ کا استعمال کرتے ہیں لیکن جب وفاق کی منظوری سے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہوتا ہے تو اِس کے لئے صرف اُور صرف متعلقہ وزارت ہی کا اعلامیہ سامنے آتا ہے جبکہ عوام کے منتخب نمائندے جنہیں عزت اُور مرتبہ دے کر قانون ساز ایوانوں تک پہنچایا جاتا ہے وہ کچھ اِس طرح مصروف (غائب) ہو جاتے ہیں کہ جیسے اُنہیں خبر ہی نہ ہو یا جیسے اُن کا اِس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو! کاش پاکستان میں ایک وزارت غربت و مہنگائی کی بھی ہوتی جس کے فیصلہ سازوں سے بازپرس کی جاسکتی لیکن مہنگائی کا ذمہ دار ’عالمی منڈی‘ کو قرار دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ذمہ دار حکومت نہیں تو اِس جواز کو عام آدمی (ہم عوام) تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا کیونکہ اشیائے خوردونوش کی نقل و حمل سے لیکر آمدورفت کے اخراجات میں اخراجات میں اضافے کا براہ راست اثر اُن ذخیروں پر بھی پڑتا ہے جو گوداموں میں پڑے ہوتے ہیں یعنی اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو تو اِس کا اثر نہیں ہوتا لیکن معمولی اُور حالیہ غیرمعمولی اضافے کا فوری اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ حکومت عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مجبور ہوئی اُور اِسے قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا تو کیا وجہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اُور ملاوٹ جیسے 3 محرکات پر قابو پانے میں حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ذہن نشین رہے کہ حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 137 روپے 79 پیسے ہو گئی ہے جبکہ ایک لیٹر مٹی کے تیل کی قیمت 110 روپے 26 پیسے ہو گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 134 روپے 48پیسے اُور لائٹ ڈیزل آئل 108 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو چکا ہے۔ وزارت ِخزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں یہ کہا گیا ہے کہ ”عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں قریب پچاسی ڈالر فی بیرل کی بلند سطح پر ہیں جو اکتوبر دوہزاراٹھارہ کے بعد سے ریکارڈ قیمت ہے۔“ لیکن جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ڈالر اُور منفی تک پہنچ گئی تھیں تو تب عوام کو کونسا ریلیف ملا تھا جو اب پچاسی ڈالر فی بیرل ہونے جیسا جواز پیش کیا جا رہا ہے۔ اُمید یہی ہے کہ پیٹرول کی قیمت فی ڈالر یعنی 170 روپے فی لیٹر کے مساوی کر دی جائے گی کیونکہ اِس درآمدی جنس پر سبسڈی ختم کرنے کے لئے حکومت پر اُن مالیاتی اداروں کا دباو¿ ہے‘ جو قرض دیتے ہیں اُور اپنے قرض کو ایسی معاشی اِصلاحات سے مشروط کرتے ہیں‘ جس میں حکومت کسی درآمدی جنس (پیٹرول‘ بجلی‘ گیس‘ گندم‘ چینی‘ گھی‘ خوردنی تیل‘ خشک چائے‘ دالیں وغیرہ) کی وہی قیمت وصول کرے‘ جو قیمت ِخرید ہوتی ہے۔ یہاں مسئلہ مالیاتی اُور انتظامی نظم و ضبط کا ہے کہ حکومتی اداروں کے اخراجات اِس قدر ہوتے ہیں کہ کسی درآمدی جنس کی قیمت سو فیصدی نہیں بلکہ کئی سو فیصدی تک زیادہ مقرر کرنے کے باوجود بھی قومی خزانے کا خسارہ پورا نہیں ہوتا۔ سیاسی فیصلہ سازوں (اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اُور سینیٹرز) کے اخراجات خسارے کی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کرتے ہیں اُور یوں مہنگائی کا آلاو¿ آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے۔ مہنگائی اگر عالمی عمل ہے جس کے سامنے دنیا بے بس اُور عاجز دکھائی دیتی ہے تو اِس صورتحال میں کیا عام آدمی (ہم عوام) یہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ فیصلہ سازی کے مراحل اُور سرکاری ملازمین کے اخراجات اُور مراعات بھی حسب حال و ضرورت کم ہونی چاہیئں اُور حکومت و حکومتی ادارے ’چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں؟‘

لمحہ¿ فکریہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ کے نہ صرف روایتی عوامل ہیں بلکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک (آرگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز OPEC تنظیم کے رکن ممالک) کے مفادات‘ کورونا وبا جیسا مشترکہ عمل اُور تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کی کاروباری حکمت عملیوں کا عمل دخل بھی بڑی حد تک شامل ہوتا ہے اُور اگر یہ کہا جائے کہ کورونا وبا کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ ہر ملک اپنی برآمدات سے زیادہ مالی فائدہ اُٹھا کر کورونا وبا کے باعث معاشی بحران سے نکلنا چاہتا ہے اُور اِن تیل پیدا اُور اِس کا کاروبار کرنے والے اداروں کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں کہ دنیا پیٹرولیم مصنوعات کی زیادہ قیمتوں سے کس قدر متاثر ہوگی۔ تصور کریں کہ قدرت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات (بشمول گیس) جیسی دولت عطا کی گئی ہے اُور جن ممالک کو یہ نعمت حاصل ہے وہ دیگر ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں استحصال کو اپنا پیدائشی حق سمجھ بیٹھے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ایک محرک جس نے اہم کردار ادا کیا ہے وہ امریکی تحمل ہے۔ اس مرتبہ تیل کی عالمی مارکیٹ میں ایک حیران کن کہانی سامنے آئی ہے اُور وہ یہ کہ امریکہ میں تیل پیدا کرنے والوں نے بہت نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جہاں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود تیل کی پیداوار میں سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ تیل کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کا باعث بنتا ہے کیونکہ بہت سی مصنوعات کے لئے پیٹرولیم بطور خام مال استعمال ہوتا ہے اور اس میں بنیادی طور پر پیٹرول اور ڈیزل جو بنیادی طور پر نقل و حمل کے لئے ایندھن لیکن اِن سے بجلی کی پیداوار بھی ہوتی ہے۔ اِسی طرح کھاد‘ پلاسٹک‘ لوہا‘ سیمنٹ اُور دیگر صنعتیں بھی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتی ہیں الغرض زراعت (مقامی پیداوار) سے لیکر درآمدات اُور پیداواری صنعت تک زندگی کا کوئی ایک بھی ایسا شعبہ نہیں جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر نہ ہوتا ہو اُور اِس سے ”انتہائی غربت“ میں اضافہ نہ ہو۔ حرف آخر: جون 2021ءمیں عالمی بینک نے کہا تھا کہ ”پاکستان کی 39.2 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔“ اِس مرحلۂ فکر کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچئے کہ غربت سے متعلق مذکورہ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد 2 ماہ میں اگر 4 مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو کیا پاکستان میں ’غربت اُور انتہائی غربت کی شرح‘ میں اضافہ ہو گا یا کمی؟ ”میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دے .... وقت بدلا تو تری رائے بدل جائے گی (ندا فاضلی)۔“

....






Monday, August 20, 2018

Aug 2018: NEGLECTED sector, the "Social Security" in Pakistan!

شبیرحسین امام
نیاپاکستان: ریاست کا فلاحی کردار!
پاکستان میں غربت کے کئی پہلو ہیں اور اِس ناتوانی کا جائزہ جس کسی پہلو سے بھی لیا جائے زیادہ بھیانک و پرسرار چہرہ (محرک) سامنے آتا ہے۔ معاشرے کو طبقات میں تقسیم کرکے غربت سے دوچار رکھنے میں والوں میں سیاسی فیصلہ سازوں کے شانہ بشانہ ذمہ دار سرکاری ملازمین (افسرشاہی) بھی ہے جنہوں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف تو اٹھایا لیکن اِس حلف کی پاسداری نہیں کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ تبدیلی اور اصلاحات کے ’انقلابی لائحہ عمل (ایجنڈے)‘ متعارف کروائے لیکن اِس سے قبل ’بیوروکریسی‘ کا قبلہ درست کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کو حاصل مالی و انتظامی اختیارات میں کمی نہ لائے۔ حکومت ملازمتیں دینے والی ایجنسی کا نام نہیں ہوتا بلکہ عوام کے ٹیکسوں اور بہبود کے لئے مختص مالی وسائل سے ملازمین اِس لئے رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ عوام کی خدمت کریں تو کیا عملاً ایسا ہی ہو رہا ہے؟ سرکاری اداروں سے بدعنوانی اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اِس بدعنوانی کے امکانات (صوابدیدی اختیارات) پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا‘ جب تک کارکردگی کو ملازمت سے مشروط نہیں کردیا جاتا جو کہ ’’ناگزیر ضروریات‘‘ ہیں۔

غربت کے بارے میں حکومت پاکستان کے مرتب کردہ اعدادوشمار کو مستند مان لیا جائے جنہیں ماہرین کم بتاتے ہوئے اختلاف رکھتے ہیں تب بھی صورتحال ناقابل یقین حد تک خراب ہے۔ حالیہ سالانہ اِقتصادی جائزہ ’اکنامک سروے آف پاکستان (2017-18ء)‘ کے مطابق ’’پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی (5 کروڑ لوگ) خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں یعنی پاکستان میں پانچ کروڑ لوگ ایسے ہیں جنہیں صرف ایک وقت کا کھانا بمشکل میسرآتا ہے۔ اِس کے علاؤ ہ38.8 فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں مختلف پہلوؤں سے غربت کا سامنا ہے یعنی اُن کا رہن سہن ایسا ہے کہ اُس میں تعلیم و صحت اور سہولیات سمیت کچھ بھی معیاری نہیں۔ یوں مجموعی طور پر پاکستان کی ’’88.8 فیصد‘‘ آبادی کسی نہ کسی صورت غربت سے دوچار ہے۔ غربت زدہ اور غریب متوسط طبقات کی اکثریت دیہی علاقوں میں آباد ہے‘ جہاں کی معیشت و معاشرت کا انحصار زراعت پر ہے اور ایک عرصے سے زراعت وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ترجیح نہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں‘ پانی کی قلت اور پیداواری اخراجات میں اضافے کی وجہ سے زراعت منافع بخش بھی نہیں رہی!

اقوام متحدہ کی جانب سے سال 2030ء تک رکن ممالک سے جس ایک چیز کا ترجیحی بنیادوں پر خاتمہ کرنے کی حکمت عملی (ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز اور بعدازاں ساسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز) وضع کئے گئے اُن میں سرفہرست غربت کا خاتمہ ہے‘ جس کے لئے تجویز کیا گیا ہے کہ حکومتیں ’سماجی و اقتصادی بہبود (سوشل پروٹیکشن)‘ کے ذریعے غربت زدہ خاندانوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں‘ اُن کی روزمرہ ضروریات پوری کی جائیں اور تعلیم و صحت تک سب کو یکساں رسائی دی جائے۔ اِس سلسلے میں ریاست کے فلاحی کردار پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے اور اگر اقوام متحدہ کے وضع کردہ (پائیدار ترقی کے) اہداف کا یہ بنیادی نکتہ سمجھ لیا جائے تو باقی ماندہ کام آسان ہو جاتا ہے کہ ’’ریاست (حکومت) کا کام فلاح اور سماجی تحفظ ہونا چاہئے۔‘‘ کیا پاکستان میں کوئی ایک بھی حکومت عام آدمی (ہم عوام) کے ’’سماجی تحفظ‘‘ کے لئے فکرمند دکھائی دی؟ اور کیا تبدیلی و ترقی کا کارواں کسی بھی طرح منزل تک پہنچ پائے گا جبکہ آبادی کا بڑا حصہ بہت پیچھے رہ گیا ہے اور اُس میں قدم اٹھانے کی بھی سکت نہ رہی ہو!؟

دنیا کے 149 ممالک میں سے صرف غریب ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ معاشروں میں بھی حکومتوں کی جانب سے کم آمدنی رکھنے والے طبقات کی ’’مالی مدد‘‘ کی جاتی ہے اور پاکستان میں ’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ بھی اُنہیں عالمی کوششوں کا تسلسل ہے جس کے ذریعے انتہائی غریب اور کم آمدن والے طبقات کا معیار زندگی بلند کرنے کی محدود کوشش کی گئی۔ 

تحریک انصاف کے مقرر کردہ انتخابی اہداف (وعدوں) میں سماجی تحفظ کی فراہمی اور فلاحی ریاست کا قیام شامل رہا اور چیئرمین عمران خان انتخابی جلسوں میں جس ’مدینۃ المنورہ‘ کا ذکر کرتے رہے ہیں جس کی مثالیں آج کے ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ہیں‘ جہاں ریاست کے پاس وسائل کی ہر پائی عوام کی بہبود پر خرچ ہوتی اُور حکمراں خود کو عوام کا خادم سمجھتے ہوئے ریاستی وسائل سے ’نمود و نمائش‘ اختیار نہ کرتے تھے۔ تحریک انصاف کے لئے ممکن ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وسعت دے جو کہ انتظامی طور پر کم خرچ حل ہوگا لیکن اگر ایک نیا پروگرام شروع کیا گیا تو اِس کے انتظامی معاملات پر اٹھنے والے اخراجات اضافی بوجھ ہوں گے۔ 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا 10 سالہ عرصہ کامیابیوں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہے۔ سیاسی جماعتوں (پیپلزپارٹی اور نواز لیگ) نے اِس پروگرام سے انتخابی فوائد حاصل کرنے کو زیادہ اہم سمجھا۔ اراکین اسمبلیوں کے ذریعے کارڈ تقسیم کئے گئے جن کی ایک بڑی تعداد آج بھی انتہائی غریبوں یا مستحقین کے علاؤہ اُن لوگوں کے پاس ہے جہاں یہ نہیں ہونے چاہئے تھے۔ کیا تحریک انصاف ’بینظیرانکم سپورٹ پروگرام‘ کی مالی امداد میں اضافے سے پہلے ’کلب ممبروں‘ کا حساب کتاب کرے گا؟ 

یہی سبب رہا کہ قریب 2 کروڑ 70 لاکھ افراد کی مالی معاونت کرنے کے باوجود بھی مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو رہے اور نہ ہی خود حکومت کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 5 کروڑ ’’انتہائی غریب‘‘ اَفراد ہی اِس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اب تک کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ مالی معاونت و استعانت سے غربت کی دلدل میں پھنسے خاندانوں کو وقتی فائدہ تو ہوتا ہے لیکن وہ آمدنی کے لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا مالی وسائل بنیادی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک وسیع کرنا ہوں گے تاکہ غربت سے سمجھوتہ نہیں بلکہ اُسے شکست دی جا سکے۔ اِس سلسلے میں کئی ممالک کے تجربات اور اُن سے حاصل کردہ نتائج موجود ہیں کہ جہاں حکومتوں نے غریب اور کم آمدنی رکھنے والے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کی تعلیم میں سرمایہ کاری کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نہ صرف غربت سے رہا ہوگئے بلکہ اُنہوں نے معاشرے کے دیگر غریبوں کے لئے بھی آسانیاں پیدا کیں۔ دراصل تعلیم میں سرمایہ کاری ہی ایک روشن مستقبل اور نئے پاکستان کی نوید بن سکتی ہے۔
۔
https://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-08-20

https://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-08-20