Showing posts with label MDG. Show all posts
Showing posts with label MDG. Show all posts

Sunday, May 22, 2016

TRANSLATION: The Human Cost

The human cost
بدعنوانی کی بھاری قیمت!
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل  نے ایک کہانی شائع کی ہے جو ڈھاکہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی سے متعلق ہے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش دنیاکے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں سال 2015ء سے متعلق جاری کردہ ایک جائزے کے مطابق سرکاری اداروں میں پائی جانے والی بدعنوانی کی شرح اُس کسوٹی یا پیمانے پر پچاس فیصد سے کم ہے جس میں سب سے بدعنوان ملک کو 100فیصد نمبر دیئے جاتے ہیں۔ مذکورہ لڑکی کی کہانی کچھ یوں ہے کہ وہ بجائے سکول جانے کے ایک فیکٹری میں محنت مزدوری کرتی ہے جہاں اُس کا کام بوتلوں کو ترتیب دینا ہے۔ بنگلہ دیش بھی دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں بچوں سے اِس قسم کی مشقت نہیں لی جا سکتی جبکہ وہ قانون کی رو سے پابند ہیں کہ اپنا وقت تعلیمی اداروں کے اندر صرف کریں لیکن جہاں کہیں بدعنوانی پائی جائے وہاں قانون توڑنے کے راستے نکل ہی آتے ہیں۔ جب ایک غلط طریقے سے درست سرکاری افسر کو رشوت دی جاتی تو اس سے نتیجے میں گنجائش نکل آتی ہے۔ عالمی طور پر مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے جن جن ممالک کے سرکاری اداروں میں بدعنوانی پائی جاتی ہے وہاں اِس کی قیمت غربت زدہ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں اور بالخصوص بچوں کو چکانا پڑتی جو سخت ترین قواعد کے باوجود نہایت ہی مشکل و ناموافق حالات میں محنت مشقت کرتے ہیں۔

سرکاری اداروں میں پائی جانے والی رشوت ستانی و بدعنوانی کے پیمانے پر بنگلہ دیش پچیسویں نمبر پر ہے جبکہ اِسی پیمانے پر پاکستان کو تیس نمبر دیئے گئے ہیں۔ دنیا کے غریب (ترقی پذیر ممالک) سالانہ ایک کھرب ڈالر کے مساوی بدعنوانی کی نذر کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے سرکاری ادارے سالانہ 8 ارب ڈالر خرد برد کرتے ہیں یہ رقم ملک کے سالانہ دفاعی بجٹ کے مساوی ہے۔ انگولا‘ جنوبی سوڈان‘ سوڈان‘ افغانستان‘ شمالی کوریا اُور صومالیہ دنیا کے نہایت ہی بدعنوان ملک ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہی ممالک کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں بھی ہوتا ہے جو امن و امان کے حساب سے بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کروڑوں ڈالر بجائے تعمیر و ترقی پر خرچ ہونے کے چوری یا خورد برد ہونے کی وجہ سے ضائع ہوگئے ۔ انگولہ کی 70فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی کرتی ہے یعنی اُن کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر یا اِس سے کم ہے۔ وہاں ہر چھ میں سے ایک بچہ پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتا ہے جو دنیا میں بچوں کی اموات کی بلند ترین شرح ہے! براعظم افریقہ کے اِس ملک میں بدعنوانی اور اختیارات کے عوض ذاتی اثاثوں میں اضافہ کرنے کی ایک مثال یہ ملاحظہ کیجئے کہ صدر کی بیٹی اسابیل ڈس سینٹوس (Isabel dos Santos) جو کہ ہیروں کی تجارت اور ٹیلی کیمونیکشن کمپنی کی مالکہ ہے براعظم افریقہ کی سب سے کم عمر ارب پتی خاتون ہے!

اگر ہم بدعنوانی کے منفی اثرات دیکھیں تو اِس سے فائدہ اٹھانے والے چند افراد کے مقابلے ملک کی ایک بڑی آبادی نہایت ہی بُرے انداز میں متاثر ہوتی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ ہر 10 میں سے 6پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں یعنی اُن کی یومیہ آمدنی یا ایک دن کے اخراجات 2 ڈالر سے کم ہیں۔ سیو دی چلڈرن نامی ایک عالمی امدادی ادارے (این جی اُو) کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر ایک ہزار بچوں میں سے 40.7بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اِس بات سے لگائیں کہ پاکستان کے بعد بچوں کی شرح اموات کے لحاظ سے نائجیریا دوسرے نمبر پر ہے جہاں 32.7‘ سری لیون میں 30.8‘ صومالیہ میں 29.7 اور افغانستان میں ہر ایک ہزار میں سے 29 بچے ہلاک ہو جاتے ہیں! یعنی افغانستان میں بچوں کے اموات کی شرح پاکستان سے بہتر ہے!

بدعنوانی‘ غربت اور عدم مساوات میں گہرا تعلق ہے اور اسی سبب سے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوپاتے۔ بدعنوانی کی وجہ سے ملک کی پیداوار اور سرمایہ کاری بھی متاثر ہوتی ہے جبکہ تعلیم پر بھی اِس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ غربت کا خاتمہ کس وجہ سے نہیں ہو پا رہا تو اِس کا بنیادی سبب سرکاری اداروں کی بدعنوانی سامنے آئے گی جو قوانین و قواعد پر عمل درآمد کو جب چاہیں معطل کردیتے ہیں۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں سالانہ بجٹ میں مختص کئے جانے والے مالی وسائل میں سے 20 ارب سے 40 ارب ڈالر خردبرد ہو جاتے ہیں اور یہ خردبرد اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین کرتے ہیں جو سرمائے کو بیرون ملک چھپا کر رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صدہزاری ترقیاتی اہداف (میلینئم ڈویلپمنٹ گولز) کے حصول میں خاطرخواہ کامیابی نہیں ہو رہی۔ بدعنوانی کے سبب دنیا ایک روشن مستقبل سے محروم ہے۔ الف اعلان نامی ایک غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے بچیاں ایسی ہیں جو سکول نہیں جاتے اور ایسے سکول سے باہر بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے چند ارب ڈالرز کی ضرورت ہے اور ایک ارب ڈالر اضافی طور پر مزید خرچ کردیا جائے تو بچوں کی پیدائش سے قبل یا پیدائش کے بعد ہونے والی شرح اموات کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

جاتے جاتے یہ بات بھی سن لیں کہ پاکستان میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں پانچ سو فیصد اضافہ مہنگائی‘ توانائی بحران‘ رشوت ستانی‘ بدعنوانی‘ قوانین پر عمل درآمد میں امتیازات‘ ناقص تعلیمی نظام‘ پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہر رکن پارلیمنٹ کی تنخواہ 80 ہزار روپے ماہانہ تھی جسے یکایک بڑھا کر 4 لاکھ 70 ہزار روپے کر دی گئی ہے!

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Thursday, July 2, 2015

Jul2015: The drinking water!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
نعمت متروکہ!
ضرورت ایجاد کی ماں تو مجبوری اُس خاندان کے سربراہ کا کردار ادا کرتی ہے‘ جسے پینے کا صاف پانی میسر نہیں! یہی وجہ ہے کہ وسائل رکھنے والے پاکستانی ’بوتل بند (بنام منرل) پانی‘ خریدنے پر مجبور ہیں لیکن بار بار کے لیبارٹری ٹیسٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں بھی معیار اورتحفظ کی کوئی ضمانت نہیں! ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی اٹھارہ کروڑ سے زائد آبادی کے تقریباً پینتیس فیصد حصے کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں۔ پاکستان کی نیشنل ڈرنکنگ واٹر پالیسی 2009ء کے مطابق پانی‘ صفائی اور حفظان صحت سے متعلق بیماریوں کے باعث قومی خزانے پر ہر سال ایک سو بارہ ارب روپے کے اخراجات کا بوجھ پڑتا ہے! تعجب خیز امر ہے کہ حکومت علاج معالجے پر تو فراخدلی کے ساتھ مالی وسائل خرچ کرتی ہے لیکن پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن نہیں بناتی!

سال 2011ء میں ورلڈ بینک نے ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق پانی سے متعلق اخراجات کا اُنتیس فیصد بوتل بند پانی کی کھپت پر خرچ ہوجاتا ہے جو کہ کل معاشی قیمت کا ایک اعشاریہ چار فیصد ہے۔ استعمال ہونے والے بوتل بند پانی کی لاگت چار ارب روپے سے زیادہ تھی۔

حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ادارے پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کی بوتل بند پانی کے معیار پر رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ ادارہ شہری و دیہی اور زیرِ زمین پانی کے حوالے سے تحقیق اور ملک کے چاروں صوبوں میں اُنیس تجزیہ گاہوں کے ذریعے نگرانی جیسے متعدد کام کرتا ہے اُور سہ ماہی کی بنیاد پر ٹیسٹ ’وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی‘ کو جمع کرواتے ہیں۔ حالیہ رپورٹ میں مارکیٹ میں دستیاب 71برانڈز میں سے ہر ایک کی چار بوتلوں کے نمونے جمع کیے گئے اور موقع ہی پر انہیں شناختی کوڈ الاٹ کر کے سیل کر دیا گیا۔ یہ نمونے پاکستان کے تین صوبوں کے سات بڑے شہروں اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ ٹنڈو جام‘ لاہور‘ کوئٹہ‘ سیالکوٹ اور کراچی سے جمع کیے گئے جہاں فروخت ہونے والے آٹھ برانڈز انسانی استعمال کے لئے حتمی طور پر غیر محفوظ پائے گئے! کیونکہ ان میں آرسینِک‘ سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار قومی معیاراتی ادارے کی منظور شدہ سطح سے کہیں زیادہ تھی! اگر آرسینک کی سطح مقرر کردہ معیار سے بڑھ جائے تو وہ رفتہ رفتہ اعصابی نظام‘ جگر اور گردوں کو تباہ کر سکتی ہے اور تولیدی اعضا کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ پوٹاشیم کی بڑھی ہوئی مقدار گردوں‘ دل‘ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس (شوگر) کو منفی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ تین مزید برانڈز کے تجزیوں میں بیکٹیریائی آلودگیاں پائی گئیں۔ جراثیمی آلودگی ہیضہ‘ اسہال‘ پیچش‘ یرقان‘ ٹائیفائیڈ اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتی ہے!


’’نیشنل ڈرنکنگ واٹر پالیسی 2009ء‘‘ کے مطابق پینے کے صاف پانی تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ پالیسی 2010ء میں منظور کیے گئے پینے کے پانی کی کوالٹی کے قومی معیار کے نفاذ پر زور دیتی ہے لیکن عمل درآمد کے حوالے سے حقائق کچھ اور ہیں۔ یونیسیف کی 2009ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 53 ہزار 300 سے زائد بچے غیر محفوظ پانی اور ناقص صفائی کی وجہ سے ڈائیریا کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔ غیر معیاری پانی بیچنے سے متعلق قوانین و قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر کم از کم پچاس ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا ہوسکتی ہے لیکن عدالتی نظام کی سست رفتاری کی وجہ سے آلودہ پانی فروخت کرنے والوں کو فوری طور پر سزائیں نہیں ہوتیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو جتنا بڑا جرم کرتا ہے اُسے قانون سے بچنے کی اُتنی ہی راہیں مل جاتی ہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ غیرصحت مند پانی فروخت کرنے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نجی سطح پر پانی صاف کرنے کے ’ریورس اوسموسس پلانٹس‘ نصب کرا لئے گئے ہیں۔ افسوسناک ہے کہ پینے کے پانی کا معیار ہر گزرتے دن کے ساتھ گراوٹ کا شکار ہے۔ پی سی آر ڈبلیو آر کی ویب سائٹ پر موجود اعدادوشمار کے مطابق ملک کے چوبیس بڑے شہروں میں رہنے والوں کی اکثریت آلودہ پانی استعمال کر رہی ہے اور آلودگی کی تعریف ہے کہ اس میں منظور شدہ معیار سے زیادہ مقدار میں تحلیل شدہ ٹھوس اجزأ پائے جاتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور بھی انہی شہروں میں شامل ہے جہاں پینے کا صاف پانی ایک نعمت متروکہ ہے۔ آپ پانی چاہے ٹیوب ویل سے حاصل کر رہے ہوں یا کسی دوسرے ذریعے سے صارفین کو صاف پانی کے حصول کے لئے خود کوششیں کرنا ہوں گی۔

 امریکہ کے امدادی ادارے یو ایس ایڈ (USAID) نے پشاور میں پانی کے ترسیلی نظام کی اصلاح اور نئے پائپ لائن بچھانے کے لئے امداد کا اعلان کر رکھا ہے‘ جس پر اکتفا کئے بناء وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جناب پرویز خٹک سے درخواست ہے کہ نئے مالی سال میں اُنہوں نے پشاور کے لئے جس اربوں روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے اُس کے استعمال کا آغاز پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے کریں کیونکہ جو حکومت ایک بوند صاف پانی نہیں دے سکتی وہ زیادہ بڑے اور مشکل کام بھلا کیسے پایہ تکمیل تک پہنچا پائیگی۔ ابتدأ اگر پشاور کی بانوے یونین کونسلوں سے کی جائے اور سوچا جائے کہ خیبرپختونخوا کے ہر باسی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کم سے کم وقت میں کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے تو یہ صرف ’کارہائے نمایاں‘ ہی نہیں بلکہ کارنامہ اور دیگر صوبوں کے لئے فقیدالمثال عمل ہوگا۔