Showing posts with label USAID. Show all posts
Showing posts with label USAID. Show all posts

Thursday, March 16, 2017

Mar2017: Gender biased comments, need sensitization!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
غیرمحتاط تبصرے!
غورطلب ہے کہ روزمرہ بات چیت میں احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ہم دوسروں کے بارے میں جس غیرمحتاط ’رائے‘ کا اظہار کرتے ہیں‘ اُس کی وجہ سے نہ صرف رشتوں اُور تعلقات میں پیچیدگیاں (خلیج) در آتی ہیں بلکہ قسم قسم کے صنفی امتیازات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ملک کے مختلف حصوں سے آئے وفود کا ’انسٹی ٹیوٹ آف بزنس منیجمنیٹ (کراچی)‘ پہنچنے پر تعارف کے فوراً بعد جس پہلے ’’تربیتی جملے‘‘ سے واسطہ پڑا وہ یہ تھا کہ ’’پانچ روزہ تربیت کے دوران ایک دوسرے کی ذات کے بارے میں ایسا کوئی جملہ نہیں بولنا جس سے آپ کی ’حتمی رائے‘ کا اظہار ہوتا ہو‘‘ لیکن روزمرہ بول چال کے حوالے سے عمومی قومی رویئے اس بات کے عکاس ہیں کہ گھر‘ بازار‘ درسگاہیں اور قانون ساز ایوانوں تک سب کچھ غیرمحتاط اظہار رائے کے گرد گھوم رہا ہے۔ 

سیاسی مخالفین کا مختلف مواقعوں پر باہم دست و گریبان ہونا اور ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں تو کیا کسی نے سوچا کہ قائدین و رہنماؤں کے اِس قسم کے بیانات اور عمومی طرز فکروعمل کا عام آدمی (ہم عوام) کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اراکین قومی اسمبلی مراد سعید اور جاوید لطیف کے درمیان جھگڑا نہ تو پہلا تھا اُور نہ ہی اِس ’بُری روایت‘ کو آخری سمجھنا چاہئے۔ قومی اسمبلی کی کاروائی کے دوران کم و بیش ہر روز ہی ایسے مواقع آتے ہیں جب اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کو مداخلت کرتے ہوئے چند جملوں کو اسمبلی کاروائی سے ہذف کرنے کا حکم دینا پڑتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسے جملے بولنے والے تجربہ کار اور معروف سیاستدان ’انتہائی اِحتیاط‘ سے کام کیوں نہیں لیتے؟ یہ مرحلہ اِس باریک نکتے کو سمجھنے کا ہے کہ ’’بنیادی طور پر ’ناخواندگی‘ سارے فساد کی جڑ ہے۔‘‘ 

اذہان عالیہ کے لئے اِس حوالے سے ایک خواہش بطور تجویز پیش خدمت ہے کہ اراکین قومی اسمبلی ’انسٹی ٹیوٹ آف بزنس منیجمنیٹ (کراچی)‘ سے وابستہ معلمہ ’ڈاکٹر ثمرہ جاوید‘ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کریں اُور سمجھیں کہ صنف و جنس متعلق ہوں یا نہ ہوں لیکن عمومی و خصوصی بول چال میں احتیاط کے تقاضے کس قدر ہیں اور جن کا خیال رکھنا کتنا اہم یا ضروری ہوتا ہے۔

قوم کے سامنے سوالات کے ڈھیر میں تازہ اضافہ غورطلب ہے کہ کیا حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کو اپنے ہم عصر مراد سعید کی بہنوں کے حوالے سے نامناسب بات کہنی چاہئے تھی؟ غصے کی حالت میں اُن کے منہ سے جو کچھ بھی نکلا‘ کیا یہ خاص ردعمل تھا یا بول چال کی عمومی عادت؟ یہ پہلا موقع نہیں جب قومی اسمبلی کے اندر یا احاطے میں خواتین کو تضحیک ہوئی ہو بلکہ اس سے قبل بھی ایسے بے شمار قابل مذمت واقعات سامنے آچکے ہیں‘ جو یاداشتوں کا حصہ بھی نہیں رہے۔ مثال کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کے شوخ لباس پر تبصرے کئے گئے۔ ایک مرتبہ بینظیر بھٹو نے پاکستانی جھنڈے جیسے سبز رنگ کی قمیض کے ساتھ سفید شلوار زیب تن کی ہوئی تھی‘ وہ ایوان میں داخل ہوئیں تو ایک رکن قومی اسمبلی نے تبصرہ کیا کہ ’’آپ بالکل طوطے جیسی دکھائی دیتی ہیں‘‘ جس پر محترمہ بینظیر بھٹو چپ نہ رہیں اور ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ اُنہی رکن قومی اسمبلی نے دوسری مرتبہ بھی محترمہ کی شخصیت و لباس کو اُس وقت تنقید کا نشانہ بنایا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں زرد رنگ کا سوٹ پہن کر تشریف لائیں‘ اور جب وہ ایوان سے باہر نکلنے لگیں تو شیخ رشید اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور تقریر نہ سننے پر ایسے لقب سے پکارا جسے ایوان تو کیا سڑکوں پر بھی بہت بُرا تصور کیا جاتا ہے۔ اسی روز گورنر پنجاب اور محترمہ بینظیر بھٹو کی ملاقات طے تھی‘ بینظیر اسی ملاقات کے لئے جارہی تھیں‘ جب اُسی رکن قومی اسمبلی نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور دیکھنے والوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر کی آنکھیں سرخ دیکھی گئیں۔ کاش کہ یہ واقعات مسلسل رونما نہ ہوتے۔ جب تک قوم شائستگی اور بول چال میں ادب اداب کا مطالبہ نہیں کرے گی‘ سیاستدان اپنی اصلاح نہیں کریں گے۔ 

کیا ہم بھول نہیں چکے کہ رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری کو ’’ٹریکٹر ٹرالی‘‘ کہنے سے قبل کسی ’معزز رکن اسمبلی‘ نے بیگم مہناز رفیع کو اُن کے پاؤں میں لنگڑاہٹ کی وجہ سے ’پینگوئن‘ کا خطاب دیا تھا!؟ جون دوہزار سولہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بھی خاتون سیاستدان پر ایک تبصرے کے باعث ہی ’’مچھلی منڈی‘‘ میں تبدیل ہوا۔ ماہ رمضان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے جاری بحث میں جب شیریں مزاری نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا تو متعلقہ وزیر نے یکایک (ازرائے مذاق) شیریں مزاری پر تنقید کا تیر برساتے ہوئے کہا کہ ’’کوئی اِس ٹریکٹر ٹرالی کو خاموش کرائے یا کم سے کم سے اسکی آواز کچھ خواتین جیسی کر دے۔‘‘ اجلاس کے عینی شاہدین کے مطابق اس موقع پر حکومتی نشستوں میں سے شیریں مزاری کو (تضحیک کے طور پر) ’’آنٹی‘ آنٹی‘‘ کہہ کر بھی مخاطب کیا گیا۔

بات قانون ساز ایوانوں کی ہو یا ذرائع ابلاغ کے براہ راست (لائیو) نشر ہونے والے بحث و مباحثوں (ٹاک شوز) کی ہر جگہ جس ایک سبب سیاستدانوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یہی عمومی طرز عمل ہے کہ ہم دوسروں کے بارے میں فیصلہ صادر فرمانے میں ذرا دیر نہیں کرتے یا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ذومعنی جملوں پر ایوانوں اور راہداریوں میں گونجنے والے قہقہے ہوں یا خواتین کی تضحیک کرنے والوں کے بحث و مباحثے (ٹاک شوز) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت (اُوور ریٹنگز) جیسا قابل مذمت معیار‘ اِس بات کی گواہی ہیں کہ مضبوط نظریات کی حامل پراعتماد خواتین کی موجودگی متعدد حضرات کے لئے قابل برداشت نہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ہمارے ہاں انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں بات کرتے ہوئے عوام و خواص کی حالت یہی ہے کہ اَچھے اَچھوں کو ’خواتین سے بات کرنے کی تمیز نہیں!‘
!Mind your language

Saturday, March 4, 2017

Mar2017: Gender vs Sex. Education vs Awareness!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صنفی امتیاز و مساوات!

سانس لینا ہی کافی نہیں بلکہ زندگی کی علامت ’’شعور‘‘ قول و فعل کے لئے تحریک ہونی چاہئے۔ کیا ہمیں اپنے آپ اور گردوپیش میں اُن امور کے بارے میں سوچنے کی فرصت کبھی میسر آئی‘ جن کا تعلق خالصتاً ہماری اپنی ذات سے ہے؟ جیسا کہ ہمیں اِس بات کا احساس (علم) کب ہوا‘ یا یہ ’’راز‘‘ کب آشکار ہوا کہ میرا تعلق مرد یا عورت میں سے کس صنف سے ہے یا کس صنفی تعارفی اصطلاح کا اطلاق مجھ پر زیادہ ہوتا ہے؟ جس معاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی اور انسانی صحت سے جڑے مسائل کو ’جنسی‘ بنا کر پیش کرنے کی وجہ سے بات کرنا بھی معیوب سمجھی جاتی ہو‘ وہاں دراصل خرابیاں‘ تجربات کے نتائج کی صورت ظاہر ہوتے ہیں جو بدقسمتی سے ہماری نوجوان نسل کو بھگتنا پڑ رہے ہیں! افسوس کہ ہم جس معاشرے کے پروردہ ہیں‘ اُس میں جنس‘ بلوغت اور اس سے متعلق آگاہی دینے کا رواج نہیں۔ 

تعلیمی اداروں میں بچوں اور نوجوان نسل کو ان کے جسم میں رونما ہونے والی فطری تبدیلیوں کے بارے میں بتدریج درست معلومات دینا تو کجا‘ ہم اپنے گھروں اور خاندان میں بھی ان بنیادی موضوعات پر بات کرنے سے کتراتے ہیں اور اِس بات کا احساس مجھے بھی کبھی نہ ہوتا اگر امریکہ کے امدادی ادارے (یوایس ایڈ) کی معاونت سے منعقدہ ’صنفی مساوات پروگرام‘ کے تحت بیس سے چوبیس فروری اُس ورکشاپ میں شرکت کا موقع نہ ملتا۔ جس کے آغاز ہی میں ڈاکٹر ثمرا جاوید نے ’صنف و جنس‘ کے درمیان فرق کے بارے سوچنے اور اپنے آپ سے بات کرنے کی دعوت دی۔ کراچی کے جامعہ ’’انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن‘‘ سے وابستہ ڈاکٹر سمرا معروف ماہر تعلیم ہیں جنہوں نے ڈاکٹوریٹ کی سند ’تدریس کے شعبے میں روایتی طور طریقوں‘ کی بجائے ایک ایسا انوکھا تصور پیش کرکے حاصل کی ہے جو متبادل اور تجرباتی درسی نظام پر مبنی ہے اور اِس میں معلم کی بجائے تدریسی عمل طالب علم کی اپنی جستجو اور تحقیق پر منحصر ہوتا ہے۔
بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیا ہم اپنے وجود اور اِس کے تقاضوں پر بھی (کماحقہ) غور کرتے ہیں؟ 
جب جسم کے اندر مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں‘ تو اس حوالے سے تجسس پیدا ہونا فطری (رد) عمل ہے۔ ایسے میں عمومی رویہ‘ روایتی اساتذہ اور نصاب‘ بچوں کے اِس تجسس کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ ایسے میں زیادہ تر ہر عمر کے بچے کیبل ٹیلی ویژن یا انٹرنیٹ کے ذریعے خاص تفریحی مواد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جس سے ذہنی خلفشار اور جذباتی ہیجان پیدا ہوتا ہے اور اس حوالے سے جب ورکشاپ کے شرکاء نے اپنے اپنے تجربات کو فہرست کیا تو دلچسپ انکشافات سامنے آئے جو ایک چھوٹے پیمانے پر کی گئی مشق تھی لیکن اگر یہی مشق ’بڑے پیمانے‘ پر کی جائے تو اِس کے زیادہ بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ 

خیبرپختونخوا اسمبلی نے رواں ہفتے موبائل فونز کے ’نائٹ پیکجز‘ کے خلاف قرارداد منظور کی لیکن اگر نوجوانوں کے شعور کی سطح بلند کی جاتی اور صنف و جنس سے متعلق اُن کے تصورات واضح ہوتے تو ایسی کسی قرارداد کی ضرورت ہی پیش نہ آتی کیونکہ تبدیلی قراردادوں سے نہیں بلکہ قانون سازوں کے رہنما کردار سے آتی ہے۔ برق رفتار مواصلاتی رابطوں (انٹرنیٹ اور موبائل) کے دور میں جب ہمارے نوجوان ایک انگلی کی جنبش پر دنیا سے جڑے ہیں اور دنیا اُن سے جڑی ہوئی ہے جس سے انہیں ہر قسم کے گرے اور بلیو لٹریچر تک بلا امتیاز مفت رسائی حاصل ہے‘ تو ہمیں اپنی بحث کا موضوع و معیار کچھ بلند کرنا ہوگا کہ آیا ہر عمر کے بچوں کو بلوغت اور جنس سے متعلق تعلیم دی جائے یا نہیں یا پھر انہیں محض زمانے اُور ٹیکنالوجی‘ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے؟ بحث کا ایک نکتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صنف و جنس کے بارے تعلیم (معلومات) بچوں اور نوجوانوں کو کس عمر میں‘ کس زبان میں‘ کہاں اور کیسے دی جائے؟ ایسا کرتے ہوئے کن اخلاقی‘ لغوی اور تہذیبی پیچیدگیوں کا خیال رکھا جائے؟ لیکن اس بات پر کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہئے کہ جنسی صحت اور بلوغت سے متعلق بروقت اور مکمل آگاہی بچوں اور نوجوانوں کو باشعور اور محتاط بناتی ہے اور بے راہ روی سے دور رکھنے کا وسیلہ ہو سکتی ہے۔ 

خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی جہیز کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے قانون سازی کرنے جا رہی ہے لیکن ’اخلاقی اقدار‘ کو اتنا مضبوط اور واضح نہیں کیا جاتا کہ بناء قانون سازی ہی جہیز کی لعنت کو معیوب سمجھا جانے لگے اور پھر قوانین تو ایک سے بڑھ کر ایک موجود ہے جس پر عمل درآمد حکومتوں کے لئے ممکن نہیں ہوتا!؟ 

ذرا سوچئے کہ جب ہم بارہ سے پندرہ سال کے بچوں اور بچیوں کی شادی کروا کر انہیں براہِ راست عملی زندگی میں دھکیل رہے ہوتے ہیں تو کیا بچوں کو علم ہوتا ہے کہ اُن کی صنفی و جنسی زندگی سے متعلقہ مسائل اور ضروریات کیا (کچھ) ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بناء رہنمائی کم عمری کے رشتے نابالغ بچوں کی شادی کروانے سے بھی زیادہ بڑی غلطی ہو؟ ستم تو یہ بھی ہے کہ شادی کے موقع پر لاکھوں روپے محض نمود و نمائش اور دکھاوے پر خرچ کئے جاتے ہیں لیکن اس تمام تر اہتمام میں ازدواجی رشتے میں بندھنے والے جوڑے کی آگاہی اور شعوری تعلیم ناقص مشوروں کی حد تک ہی محدود رہتی ہے پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اکثر جوڑے بیجا توقعات کے باعث جذباتی ناآسودگی اور خلفشار کا شکار رہتے ہیں اور ایک دیرپا رشتہ استوار نہیں کر پاتے‘ جو ہمارے ہاں خاندانی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جن لوگوں کو صنفی تعلیم و آگہی میں حیا باختگی کے پہلو نظر آتے ہیں‘ کیا وہ انسان نہیں ہیں یا اُن کا ایسے مسائل سے خود کبھی واسطہ نہیں پڑا؟ 

آخر ایسا کیوں ہے کہ ہم اپنے بچوں کو منشیات اور سگریٹ کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے مختلف جان لیوا بیماریوں کے نام گنواتے ہیں تاکہ وہ ان کے استعمال سے باز رہیں مگر جہاں صنفی تضادات یا جنسی مسائل کی بات ہوتی ہے تو یکایک سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے! اگر تمباکو نوشی کے جملہ نقصانات اُور اُن سے لاحق انسانی صحت کو خطرات کا بیان ’سموکنگ (smoking)‘ کی ترغیب نہیں‘ تو پھر اِسی کلیے کا اطلاق صنفی معلومات یا متعلقہ مسائل کی تعلیم پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟

Sunday, February 26, 2017

Feb2017: Social & Development Sectors Revolution!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انقلاب: گماں بہت ہے!؟
اُنیس سے پچیس فروری کے درمیان کراچی کو قریب سے دیکھنے کا موقع تو بہت سے راز کھلے جیسا کہ سال دوہزار سولہ میں کے دوران اگر 52 ہزار 552 سٹریٹ کرائمز (رہزانی و دیگر چھوٹے جرائم) رونما ہوئے تو صورتحال (اوسط) پہلے دو ماہ کے گزرنے پر زیادہ مختلف نہیں! ہر سمت پھیلتے کراچی میں اکثریت کی زندگی بے ہنگم اور بنیادی آبادی سہولیات سے محروم ایک انجانے خوف کا شکار ہے۔ کراچی نے ہنسنا اُور مسکرانا تو ترک نہیں کیا لیکن آنکھوں اور الفاظ میں چھپا دُکھ کہیں کہے اور کہیں بناء کہے صاف ظاہر تھا۔ پچیس سال قبل جب چھ ماہ کے لئے کراچی ’رینجرز‘ کے حوالے کیا گیا تو آج تک صورتحال میں بہتری ضرور آئی ہے‘ لیکن اِس قدر لمبے عرصے تک طاقت کے بے انتہاء استعمال کے باوجود بھی خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے‘ جس کی وجہ سے کراچی پر کبھی زیادہ تو کبھی کم گہرے خوف کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں! جن کے اثر سے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندہ وفود کی ورکشاب بھی محفوظ نہ رہ سکی اور اِس تربیتی نشست کے شرکاء زیادہ تر وقت ایک چاردیواری کی حد تک ہی محدود رہے۔ امریکہ کے امدادی ادارے ’یوایس ایڈ‘ کے مالی تعاون سے ’انسٹیٹویٹ آف بزنس منیجمنٹ (یونیورسٹی)‘ میں نشست کا انعقاد ’صنفی مساوات پروگرام‘ کے اختتام (اٹھائیس فروری) سے قبل انعقاد اگر اِس حکمت عملی کے آغاز میں کیا جاتا تو زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے تھے بہرحال ’این جی اُوز‘ کی دنیا میں سب باتیں اور حکمتیں سب کی سمجھ میں آ جائیں ایسا ضروری تو کیا ممکن بھی نہیں ہوتا۔ ایسی ہر نشست سوالات ختم کرنے کی بجائے اُن میں مزید اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔ سماجی ترقی میں صنفی کردار کی ماہرہ ڈاکٹر ثمرہ سے لیکر بزنس منیجمنٹ (فنڈ ریزنگ) کے کتابی تعارف کے بے تاج بادشاہ ’ڈاکٹر جاوید احمد نے محتاط اور کبھی کبھار غیر محتاط یعنی سچائی سے پاکستان میں ’صنفی مساوات‘ کے حوالے سے الجھنوں کو سلجھانے کی کوشش کی‘ جو اپنی جگہ قابل ستائش کوشش تھی۔

فروری کے تیسرے اور چوتھے ہفتے‘ کراچی میں قیام کا نادر موقع ایک ایسے وقت میں ملا جبکہ ملک میں امن کی بحالی کے لئے ایک نئی فوجی کاروائی نئے عزم اور نئے دعوؤں سے شروع کی گئی ہے لیکن برسرزمین حقائق کیا ہیں؟ کراچی کے رہنے والوں کی اکثریت یقین کی حد تک یہ بات زور دے کر کہتی ہے کہ سال دو ہزار سولہ کی طرح دوہزار سترہ بھی زیادہ مختلف ثابت نہیں ہوگا‘ کیونکہ انسداد دہشت گردی کا ہدف اُس وقت تک عملاً حاصل نہیں ہوسکتا جب تک سیاست اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان ایک دوسرے کی جملہ ضروریات پوری کرنے کے لئے تعاون (بشمول انتخابی کامیابی کی ضمانت تعلق) ختم نہیں کردیا جاتا۔ جب تک مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے بارے میں قوم کی رائے ایک نہیں ہو جاتی! کراچی میں رینجرز کی کامیاب کاروائی بھی اُس وقت تک منطقی طور پر اختتام پذیر نہیں ہوگی‘ جب تک اندرون سندھ اور پنجاب میں بلاامتیاز اور سخت گیر فوجی کاروائی عمل میں نہیں آتی۔ وقت ہے کہ پاکستان کے مفاد پر ہر قسم کی مصلحتوں کو قربان کردیا جائے!

کراچی صرف کاروباری اور صنعتی یا آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں بلکہ اِس کا ادبی چہرہ بھی ہے۔ اسکائنز نامی غیرسرکاری تنظیم کی روح رواں سقاف یاسر اور اِسی تنظیم کی نمائندہ سماجی کارکن‘ ایک ابھرتی ہوئی شاعرہ شائستہ چودھری کے ساتھ تبادلۂ خیال سے اِنسانی تاریخ کے تناظر میں عالمی اور بالخصوص کراچی کے عمومی حالات پر غور کرنے کا موقع ملا کہ صرف مادی ترقی کے علمبردار ہی نہیں بلکہ دنیا میں رونما ہونے والے سیاسی اور سماجی انقلابات میں شعراء‘ مصنفین اور دانشوروں کا کردار کلیدی رہا ہے جس کی بدولت (تناظر میں) آج کے درپیش مسائل (بحرانوں) کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی سماج یا معاشرے میں جہاں افراد معاشرتی انتشار‘ معاشی مشکلات اُور سماجی ناانصافیوں کا شکار ہوں وہاں سب سے پہلے علمی و ادبی طبقہ بیدار ہوتا ہے۔یہ طبقہ اپنی ادبی تخلیقات اور تقاریر سے عام افراد کو یہ احساس جگاتا ہے کہ اُنہیں معاشرتی استحصال کا اژدھا نگل رہا ہے‘ ایسی صورت میں کسی معاشرے میں انقلاب کی پیدائش (سماجی تغیر) ’’انسانی بیداری‘‘ کا ثمر ہوتے ہیں۔ برصغیر میں برطانوی سامراجی حکومت کے خلاف بیداری کی لہر جنوبی ایشیاء سے منسلک علمی و ادبی شخصیات نے بھی اُنیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے ابتدائی و درمیانی عرصے میں اہم تاریخی کردار ادا کیا۔ کراچی میں قیام کے دوران ’بائیس فروری‘ کا دن انقلابی شاعر جوشؔ ملیح آبادی (پانچ دسمبر 1894ء سے 22 فروری1982ء) کی برسی سے منسوب ہے‘ جنہوں نے برطانوی راج کے خلاف ہی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے بعد بھی تحریکِ آزادی کو فروغ دینے میں اپنی انقلابی، سیاسی و نظریاتی شاعری کے ذریعے اہم کردار اَدا کیا۔ ’’سنو اے بستگان زلف گیتی: ندأ کیا آ رہی ہے آسماں سے۔۔۔ کہ آزادی کا اِک لمحہ ہے بہتر: غلامی کی حیات جاوداں سے!‘‘

بیسویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک شاید ہی کوئی ایسا شاعر‘ ادیب‘ دانشور یا لکھاری ہو گا‘ جو جوشؔ کی شاعرانہ عظمت کا قائل یا اُن کی شاعری سے متاثر نہ ہو۔ جوشؔ کے ہاں معاشرے کے سلگتے سماجی مسائل پر بے باک تبصرہ ہے‘ وہ بھوک اور افلاس کی مذمت کرتے ہیں تو کبھی انسانی جہل پر نوحہ خوانی کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی ظالم حکمرانوں کو للکارتے ہیں اور کبھی عوامی فکری جمود اور بے حسی پر شکوہ کرتے ہیں! یہی طرزعمل (انسانی بیداری) لمحۂ موجود کی بھی ضرورت ہے کہ ہم میں ہر ایک (خاطرخواہ) ’جوش‘ کا مظاہرہ کرے! کراچی میں ہر قدم پر جوشؔ کی یاد آتی رہی۔ ’’جس دیس میں آباد ہوں بھوکے انسان: احساسِ لطیف کا وہاں کیا امکان۔۔۔اِک فکرِ معاش پر نچھاور سو عشق: اک نانِ جویں پہ لاکھ مکھڑے قربان!‘‘ 

جوشؔ کی شاعری کیا ہے مگر اُس میں انسان کو تقدم حاصل ہے اُور وہ عظمتِ انسان کی اساس ہے۔ کیا بُرا چاہتے ہیں اگر جوشؔ ’’انسان کی جبیں‘‘ پر سربلندی اور سرفرازی کا تاج سجا دیکھنا چاہیں! جوشؔ ہر اُس فکر‘ نظامِ حکومت اور نظامِ زندگی کو مسترد کرتے ہیں جو انسان کو اسیر کر کے فکری پرواز میں حائل ہوں‘ جوش مغربی سرمایہ داری‘ جاگیرداری‘ ایشیائی ملوکیت اور عرب مطلق العنانیت کے مخالف ہیں۔ جوشؔ نے اپنے اجداد کی مثل خود تو (بغاوت کی) تلوار نہیں اُٹھائی لیکن قلم (خیالات) کو بطور شمشیر استعمال کیا اور یہی انقلابی پیغام (لب لباب) گماں کی حدوں سے بہت آگے حالات کی تبدیلی کے لئے دعوت فکروعمل ہے۔

Wednesday, February 22, 2017

Feb2017: Gender Equity Program & possibilities!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صنفی مساوات: ممکنات کی حد!
پاکستان میں امریکہ کے امدادی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ کی سرگرمیاں کم وبیش 100سے زائد شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں جن میں صنفی مساوات پروگرام (جینڈر ایکویٹی پروگرام) ایک ایسا عنصر ہے‘ جو اپنی اہمیت و افادیت کے لحاظ سے منفرد و غیرمعمولی ہے۔ خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمے اور مساوات پر مبنی تصورات کی تبلیغ و تشہیر کرنے کی اِس حکمت عملی کا اطلاق ’عورت فاؤنڈیشن‘ کے ذریعے کیا گیا جن کی زیرنگرانی ضلعی سطح پر ذیلی غیرسرکاری تنظیموں (این جی اُوز) نے ملک گیر سرگرمیاں کے ذریعے ایک معاشرے میں ایک ایسی سوچ کو پروان چڑھایا۔ اِسی پروگرام کا نتیجہ تھا کہ مرد اور خاتون کے درمیان صنفی اور جنسی امتیازات کے درمیان باریک فرق کو واضح کیا گیا اور معاشرے کی ترقی میں اِن دونوں اکائیوں کے کردار سے یکساں استفادہ کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے یہ تصور پیش کیا گیا کہ ترقی کا معنوی عمل صنفی اکائیوں کے درمیان افراق و تفریق سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ اور ترقی کے یکساں مواقعوں کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کے تحت پاکستان کے لئے امریکی امداد کا حجم ’’چار کروڑ (40ملین) ڈالر تھا جس کا ساٹھ فیصد سے کم حصہ ہی استعمال کیا جاسکا۔ اگرچہ بیرونی امداد سے ملنے والے مالی وسائل سے مکمل استفادہ نہ کرنے جیسی خامی اِس بات کا سبب نہیں لیکن ’یو ایس ایڈ‘ کی جانب سے ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کو رواں برس ختم کرنے کی بنیادی وجہ ’صدر امریکہ ٹرمپ‘ کی ترجیحات ہیں جنہوں نے بیرون امریکہ ’یوایس ایڈ‘ کے پروگراموں کو بتدریج اور مرحلہ وار ختم کرنے کی بجائے فوری طور پر جہاں ہے اور جیسا ہے کہ بنیاد پر منجمند کرنے کے احکامات صادر فرما دیئے ہیں اور یہی وجہ ہے آنے والے چند ماہ کے دوران پاکستان میں ’یو ایس ایڈ‘ کی سرگرمیاں رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی جائیں گی۔ 

پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو حقوق نسواں اور صنفی مساوات کے اِس پروگرام کا جاری رہنا اِس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ ابھی اِس کے مقرر کردہ جملہ اہداف حاصل نہیں ہو پائے اور نہ ہی انتھک و پرخطر عملی مشقوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہونا شروع ہوئے ہیں کہ یکایک اِس حکمت عملی (پروگرام) میں شامل ذیلی منصوبے (پراجیکٹ) ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے‘ اور بعدازاں ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کی بساط بھی لپیٹ دی جائے گی۔ یہ ایک مایوس کن صورتحال ہے بالخصوص اُن تمام متعلقہ ’غیرسرکاری تنظیموں‘ کے لئے جو سال2018ء کے عام انتخابات سے قبل خواتین کی سیاسی عمل میں زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے کے حوالے سے کام کر رہی تھیں۔

سال 2010ء میں شروع ہونے والے ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کے چار بنیادی اہداف و مقاصد یہ تھے 1: انصاف تک رسائی‘ خواتین کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور اِس ذریعے سے صنفی مساوات کا حصول کیا جائے۔ 2: خواتین کو بذریعہ شعور و خواندگی خودمختار (بااختیار) بنانا اُور انہیں گھر‘ کام کاج کے ماحول اور معاشرے میں اپنے آئینی حقوق کے بارے علم ہو سکے۔ 3: صنفی بنیاد پر تشدد کی حوصلہ شکنی اور اِس منفی رویئے کے خلاف جدوجہدکرنا اور 4: ایسے اداروں کی استعداد میں اضافہ (سرپرستی) کرنا جو خواتین کو خودمختاری اور صنفی عدم مساوات کو ختم کرنے کی مہارت یا اِن شعبوں میں عملی کام کا تجربہ رکھتی ہیں۔ اِن چار بنیادی اہداف کے حصول کے لئے 12 مختلف مراحل میں الگ الگ مالی امداد مختص و فراہم کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان نے ’صنفی مساوات پروگرام‘ سے کیا سیکھا (حاصل کیا) اور اِس کے ثمرات و اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اِس حکمت عملی کو جاری رکھنا چاہئے‘ اگر ہاں تو کیوں؟

خیبرپختونخوا کے چار (ایبٹ آباد‘ ہری پور‘ سوات‘ پشاور) اور مجموعی طور پر پاکستان کے بارہ اضلاع میں خواتین کو انصاف تک رسائی کے تحت ایک ہزار سے زائد خواتین کو مفت قانونی امداد دی گئی بصورت دیگر وہ اپنے آئینی حقوق سے محروم رہتیں اور انتہاء یہ بھی ہو سکتی تھی کہ انہیں زندہ رہنے ہی سے محروم کر دیا گیا ہوتا! غنیمت نہیں تو کیا ہے کہ اِسی پروگرام کے تحت قریب چوبیس سو وکلاء (خواتین و حضرات) کے صنفی مساوات کے حوالے سے تصورات واضح کئے گئے۔ علاؤہ ازیں اضلاع کی سطح پر بار ایسوسی ایشن کی استعداد میں اضافہ کیا گیا۔ اِسی پروگرام کے تحت کم و بیش پانچ لاکھ خواتین کے قومی شناختی کارڈز بنوائے گئے اور ووٹر لسٹوں میں اُن کے ناموں کا اندارج کرایا گیا۔ ملک بھر میں خواتین کے لئے بارہ ’پناہ گاہیں‘ بنائی گئیں جہاں انہیں آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ خواتین کو ہنرمندی کی تربیت دی گئی۔ خواتین کو خودروزگار کے لئے مالیاتی اداروں سے آسان شرائط پر قرض دلوائے گئے۔ خواتین سے متعلق قوانین سازی کے عمل اور پہلے سے موجود قوانین کے بارے میں شعور اُجاگر کیا گیا۔ 

صنفی بنیاد پر تشدد معاشرے کے نسبتاً کمزور اکثریتی طبقے سے امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ دو سو سے زائد مقامی ’این جی اُوز (غیرسرکاری تنظیموں)‘ کو مالی امداد دی گئی‘ اُن کی استعداد میں اضافہ کیا گیا جو ایک ایسا اثاثہ ہے۔ اشاعتوں اور تشہیری مواد کے ذریعے صنفی بنیادوں پر تشدد کے بارے شعور میں اضافہ ایک ایسا مشکل ہدف تھا جس کا حصول سب سے بڑی کامیابی ہے اور اسی سے معاشرے میں ایک قسم کی برداشت بھی پیدا ہوئی۔

صنفی مساوات (خواتین کی ترقی و حقوق کا تحفظ) ایک ایسا موضوع اُور شعبہ ہے‘ جس کے حوالے سے حکومت پاکستان کی عملی اقدامات اُور دلچسپی کم ترین سطح پر ہے۔ سرکاری اداروں میں سوائے تنخواہیں‘ مراعات اُور بیرون ممالک دوروں سے زیادہ آگے کی سوچ نہیں پائی جاتی! اگر ’جینڈر ایکوٹی پروگرام‘ نامی حکمت عملی کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کی بجائے اِسے کم کرتے ہوئے ختم کیا جاتا ہے تو نقصان صرف اور صرف اُن خواتین کا ہوگا‘ جنہیں ایک طرف صنف کی بنیاد پر امتیازی روئیوں اور ناموافق ماحول کا سامنا ہے بلکہ اُن کے وراثت اور حق رائے دہی جیسے بنیادی آئینی حقوق بھی غصب ہیں! 
epaper.dailyaaj.com.pk/index.htm
or
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2017-02-22

Sunday, February 19, 2017

Feb2017: Women Participation in Elections

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عام انتخابات: خواتین ووٹ سے محروم کیوں!؟

خیبرپختونخوا کے پندرہ اضلاع میں اہلیت کے باوجود خواتین ووٹ ڈالنے سے محروم ہیں اِس سلسلے میں کئے گئے ابتدائی اور بنیادی نوعیت کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ایبٹ آباد میں غیررجسٹرڈ شدہ ووٹر خواتین کی تعداد 1161 ہے جبکہ بنوں 38429‘ بٹ گرام 4887‘ بونیر4679‘ چارسدہ29780‘ چترال5153‘ ہری پور 7001‘کرک 16558‘ کوہاٹ 25545‘ لکی مروت 17481‘مالاکنڈ 13905‘مانسہرہ 21733‘ شانگلہ5135 ‘صوابی 25768اُور ٹانک میں ایسی خواتین کی تعداد 7588 بتائی گئی ہے جن کے نام ووٹر فہرستوں میں درج نہیں لیکن خواتین کی ایک بڑی تعداد کو عام انتخابات سے الگ رکھنے کی بات صرف کسی ایک صوبے کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں 992629 (نو لاکھ بانوے ہزار چھ سو اُنتیس) خواتین اہل ہونے کے باوجود اگر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے حق سے محروم ہیں تو طرزعمل اصلاح چاہتا ہے۔

’’روشن پاکستان‘‘ کے عزم سے امریکہ کا اِمدادی اِدارہ ’یوایس ایڈ‘ 4 کروڑ 50لاکھ ڈالر مالیت کی ایک ایسی بیش قیمت حکمت عملی بنام ’’سٹیزن وائس پراجیکٹ‘‘ کی مالی سرپرستی کر رہا ہے جس کے تحت ’عوام کی اپنے حقوق سے آگاہی اُور امتیازات و دھاندلی سے پاک انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لئے ’’ٹرسٹ فار ڈیموکریسی اَیجوکیشن اینڈ اکاونٹ بیلٹی (TDEA)‘‘ عملی معاونت کر رہا ہے‘ جس کا حصہ ’فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافین)‘ تعارف کا محتاج نہیں۔ یہاں ایک تکنیکی سقم موجود ہے۔ فافین کی مہارت چونکہ عام انتخابات میں شراکت داری اور انعقاد میں شفافیت سے جڑے امور سے ہے‘ اُور چونکہ اِس غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) کا نیٹ ورک ملک میں سب سے بڑا ہے‘ اِس لئے ’’سٹیزن وائس پراجیکٹ‘‘ کا منصوبہ ’ہائی جیک‘ کر کے اِس کی معنویت و فعالیت محدود کردی گئی ہے! اُمید کی جاتی ہے کہ ’یو ایس ایڈ‘ اِس فکری پہلو پر غور کرے گی‘ تاکہ ’’سٹیزن وائس پراجیکٹ‘‘ کے جملہ اہداف حاصل کئے جا سکیں۔ 

تو بات ہو رہی تھی اُس ملک گیر نمائندہ جائزے کی جس سے معلوم ہوا کہ ملک کے ہر حصے میں اہل خواتین کی ایسی تعداد موجود ہے جن کے ’ووٹ‘ رجسٹرڈ نہیں اُور اِس کی کئی وجوہات بھی سامنے آئی ہیں جیسا کہ 1: سماجی دباؤ۔ 2: قومی شناختی کارڈ کا نہ ہونا۔ جائیداد کے کاغذات یا دیگر شناختی دستاویزات کا نہ ہونا۔ 3: اقتصادی دباؤ (غربت)۔ 4: شعور نہ ہونا کہ ووٹ رجسٹرڈ کرانا اُور انتخابی عمل میں حصّہ لینا کیوں ضروری ہے اُور 5: ووٹ رجسٹرڈ کرانے کے عمل بارے معلومات یا سہولیات کا نہ ہونا۔ ’’سٹیزن وائس پراجیکٹ‘‘ کے مرتب کردہ اعدادوشمار مختلف اضلاع میں کام کر رہی غیرسرکاری تنظیموں (این جی اُوز) میں تقسیم کر دیئے گئے ہیں‘ تاکہ جہاں کہیں خواتین کے ووٹ رجسٹرڈ نہیں اور جن کی تعداد بھی معلوم ہے تو اُنہیں الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ کرانے کا بندوبست کیا جائے۔ اِس سلسلے میں مرتب کی جانے والی حکمت عملی کثیرالجہتی ہے جس کے تحت تربیتی نشستوں کا انعقاد ہوگا جس میں سیاسی جماعتیں‘ انتخابی اُمیدوار یا اُن کے نمائندے‘ صحافی‘ دیگر اسٹیک ہولڈرز‘ متعلقہ عمائدین‘ مقامی این جی اوز‘ عام انتخابات میں حصہ لینے والا عملہ اور الیکشن کمیشن کے اہلکاروں کو شریک کیا جائے گا۔ اِسی حکمت عملی کے تحت ملک گیر سطح پر بحث و مباحثوں کی نشستیں (فورمز) کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ موضوع پر تبادلۂ خیال سے وضاحت ہوتی چلی جائے۔ قومی شناختی اور ووٹ رجسٹر کرنے کے لئے سہولیات و معلومات کی فراہمی کا اہتمام کرنا بھی حکمت عملی کا حصّہ ہے جبکہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی موبائل وینز کا بندوبست کرنا تاکہ خواتین کم وقت اور باسہولت انداز میں قومی شناختی کارڈز کا اجرأ کروا سکیں اُور صرف یہی نہیں بلکہ خواتین کو ایسے اسباب و وسائل (سہولیات) فراہم کی جائیں گی جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے وہ الیکشن کمیشن دفاتر جا کر اپنے ووٹ کا اندراج کروا سکیں۔ اِس سلسلے میں ذرائع ابلاغ (پرنٹ الیکٹرانک میڈیا) اُور سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) کی فعالیت و کردار سے بھی استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ علاؤہ ازیں صوتی و نشری مواد (آڈیو ویڈیو پراڈکشنز)‘ موبائل فونز پر مختصر پیغامات ایس ایم ایس اُور ایسے خصوصی سافٹ وئرز (موبائل ایپس) سے مدد لی جائے گی‘ جن کا استعمال بالخصوص نوجوان نسل میں مقبول ہیں۔ پوسٹرز‘ پمفلٹ اور معلوماتی مواد کی اشاعت و تقسیم بھی حکمت عملی کا حصّہ ہے‘ جبکہ ریڈیو اُور ٹیلی ویژن پر ٹاک شوز کے ذریعے اِس موضوع پر متعلقہ ماہرین کے تبصرے اور گھر گھر جا کر کیمونٹی سے بات چیت کی مشقیں‘ سٹریٹ تھیٹر‘ عوامی اجتماعات کے مقامات پر کیمپ لگا کر خواتین کی انتخابی عمل میں شراکت بارے شعور اُجاگر کیا جائے گا اور اسی سلسلے میں مزدور (لیبر) یونینز‘ لیڈی ہیلتھ ورکرز‘ بلدیاتی نمائندوں (خواتین کونسلرز) کے ذریعے گھر گھر پیغام پہنچانے کو حکمت عملی کا جز بنایا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ دس لاکھ اہل خواتین ایسی ہیں جن کے ووٹ رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے وہ عام انتخابات میں حق رائے دہی استعمال نہیں کرسکتیں۔ یہ بات بھی لمحہ فکریہ ہے کہ خواتین کل رجسٹرڈ ووٹوں کا 43.7 فیصد ہیں اور اِس قدر کم تعداد میں خواتین کی ووٹر لسٹوں میں موجودگی کا سبب یہ ہے کہ اُن کے قومی شناختی کارڈز نہیں بنے یا دانستہ طور پر نہیں بنوائے جاتے۔ خواتین کو عام انتخابات سے الگ رکھنے کی حوصلہ شکنی کے لئے قانون سازی بھی زیرغور ہے۔ مجوزہ قانون (الیکشن بل 2017ء) کی نقل قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے بلاقیمت حاصل کی جاسکتی ہے جس کی شق 47 ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے کہ اگر کسی قومی اسمبلی کے حلقے میں خواتین ووٹرز کی تعداد مرد ووٹرز کی تعداد سے 10فیصد کم ہو تو ایسے حلقوں کو نظرانداز کرنے کی بجائے خواتین کے ووٹ رجسٹرڈ کرنے کے لئے مہمات چلائی جائیں۔ 

نئی قانون سازی اگر آئندہ عام انتخابات سے قبل عملاً ممکن ہو جاتی ہے تو اِس سے الیکشن کمیشن اور ’نادرا‘ پر یہ ’’آئینی ذمہ داری‘‘ عائد ہو جائے گی کہ وہ خواتین کے قومی شناختی کارڈز اور اُن کے ووٹ رجسٹرڈ کرنے کے لئے روائتی کام کاج کے طریقوں سے ہٹ کر خصوصی انتظامات کریں اور اِس ہدف کے حصول کو عملاً یقینی بنائیں۔ ضرورت اِس امر کی بھی ہے کہ نئی قانون سازی کو زیادہ جامع بناتے ہوئے کامیاب اُمیدواروں کے لئے لازمی قرار دیا جائے کہ کسی انتخابی حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کا کم سے کم 51فیصد حاصل کریں‘ بصورت دیگر متعلقہ حلقے میں انتخابی عمل اُس وقت تک بار بار دہرایا جائے جب تک کسی اُمیدوار کو ووٹ ملنے کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ نہیں ہو جاتی! ووٹروں کو انتخابی عمل میں شریک کرنا نہ صرف جمہوریت کی بنیادی شرط اور تقاضا ہے بلکہ یہی مستقبل کی ضرورت ہے۔ فافین کے بقول کسی اچھے لیڈر (رہنما) کی خصوصیات میں شامل ہے کہ ’’وہ عوام اور علاقے کی ضروریات سے باخبر ہو‘ عوام سے ہر وقت رابطے میں رہے‘ عوام کے سامنے جوابدہ ہو‘ الیکشن کمیشن کے مقررکردہ ضابطۂ اخلاق کا پابند ہو‘ ووٹ حاصل کرنے کے لئے غیرقانونی ذرائع (تھانہ کچہری‘ دھونس دھاندلی مالی وسائل) کا استعمال نہ کرے اور وہ اجتماعی مسائل حل کرنے کی بصیرت کے ساتھ عملی اقدامات بھی کرے۔‘‘ کیا ہمارے ’’لیڈر‘‘ قابلیت کے اِس کم سے کم معیار پر پورا اُترتے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں عام انتخابات کی ساکھ اور قابل بھروسہ رہ جاتی ہے اگر اِس عمل سے ووٹ دینے کی اہل خواتین کو دانستہ یا غیردانستہ طور پر الگ رکھا جاتا ہے؟

Sunday, December 27, 2015

Dec2015: Earthquake & Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
زلزلہ‘ خوف‘ اندیشے اُور پشاور!
قدرتی آفات کے سامنے کسی کا بس نہیں چلتا اور ابھی سائنسی علوم نے ترقی کے وہ مراتب طے نہیں کئے جن کے بعد زیرزمین مٹی و ریت کی پرتوں میں ہونے والے ردوبدل کے نتیجے میں زلزلے کی آمد و شدت کے بارے پیشگی اطلاع دی جاسکے البتہ جو علاقے زلزلے کا سبب بننے والی زیرزمین پٹیوں پر واقع ہیں‘ وہاں جانی و مالی نقصانات کم سے کم کرنے کے حوالے سے علم و دانش سے استفادہ دنیا کے کئی ممالک میں عملاً دیکھا جا سکتا ہے۔ ماہرین تعمیرات و شہری ترقی کثیرالمنزلہ عمارتیں بشمول مکانات بنانے میں اُس علاقے سے ٹکرانے والے طوفان بادباراں اور زلزلوں کی اوسط شرح کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور تعمیرات کے شعبے میں یہ علوم الگ اضافے کی صورت رائج ہو چکے ہیں۔ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں نجی و سرکاری عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر و ترقی اور توسیع میں قدرتی آفات کے اُن ممکنہ حملوں کا خیال نہیں رکھا جاتا جنہیں کی شدت بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ کیا آپ یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتے ہیں کہ پشاور میں تعمیرات کی نگرانی کرنے والے ایک سے زیادہ اداروں کی کارکردگی کیا ہے؟ جبکہ آسمان سے باتیں کرنے والے پلازے دھڑا دھڑ تعمیر ہو رہے ہیں۔ اسی طرح کیا آپ پشاور کی ترقی کے نام پر نگران ادارے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے واقف ہیں‘ جو ’’حلقۂ یاراں کے لئے ریشم کی طرح نرم‘‘ مزاج رکھتی ہے!

خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کا قدیمی حصہ (اندرون شہر کے علاقے) شدید خطرے میں ہیں۔ ہفتے کی الصبح آنے والے شدید زلزلے سے کئی اندرون ہشتنگری و لاہوری گیٹ میں کئی بوسیدہ عمارتوں کے حصے منہدم ہونے سے درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ شکر ہے کہ بڑا جانی نقصان نہیں ہوا‘ جو 90سیکنڈز دورانیئے جیسے طویل زلزلے سے عین ممکن تھا اگر (خدانخواستہ) اِس کی شدت ریکٹراسکیل پر سات درجے سے کم نہ ہوتی۔ تو کیا ہم کسی بڑی آفت اور بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کا انتظار کریں یا مناسب وقت ہے کہ ایسی تمام عمارتوں کی قسمت کے بارے میں فیصلہ کرلیا جائے جو رہائش و استعمال کے قابل نہیں رہیں۔

پشاور مرکزی شہر ہے اور یہاں ساٹھ سے زیادہ صوبائی اور وفاقی سرکاری محکموں کے دفاتر موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ‘ گورنر اور وزرأ پر مبنی ایک ایسا نگران اور فہم و فراست رکھنے والا گروہ موجود ہے‘ جنہیں عوام کے مسائل‘ اندیشوں اور خوف سے بخوبی آگہی ہے لیکن طرزحکمرانی کا سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ حکمراں بننے والوں کا عوام سے دلی رابطہ گویا کٹ سا جاتا ہے اُور طرز حکمرانی کے نظام کی وہ سبھی خامیاں جو بطور حزب اختلاف سیاست دانوں کو دکھائی دیتی ہیں لیکن حکومت ملنے کے بعد رویئے اور ترجیحات یکسر تبدیل ہو جاتی ہیں۔ قول و فعل اور ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے طرزعمل میں اس قدر تضاد خود کو عوام کا نمائندہ قرار دینے والوں کو زیب نہیں دیتا لیکن خودفریبی اور خودستائش ایک ایسا لاعلاج مرض ہے‘ جس کی تشخیص (بدقسمتی سے عین) اُس وقت ہوتی ہے‘ جب فیصلہ سازی کا اختیار ہاتھ سے نکل جاتا ہے! التجا ہے صوبائی اور پشاور کی ضلعی حکومتوں سے کہ وہ اندرون پشاور کے اُن تمام بوسیدہ مکانات اور عمارتوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں مزید تاخیر و کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں۔ ایسی تمام عمارتیں جنہیں ماضی میں خود حکومتی اداروں نے ناقابل استعمال قرار دے رکھا ہے‘ اُن سے کس مصلحت کے تحت چشم پوشی اختیار کی جا رہی ہے؟

ایسے خستہ حال مکانوں و عمارتوں کا شمار سینکڑوں میں ہے‘ جن کی طبعی عمریں پوری ہو چکی ہیں اور زلزلے یا موسلادھار بارشوں کی صورت اُن کے مکینوں کی جانیں مستقل خطرے میں رہتی ہیں۔ صرف بوسیدہ مکانات ہی نہیں بلکہ گذشتہ دس برس کے دوران پشاور میں بننے والی نئی کثیرالمنزلہ درجنوں عمارتوں کی تعمیر میں ایمرجنسی کی صورت باہر نکلنے کے راستے اور آتشزدگی سے بچاؤ کے لئے آلات نصب نہیں۔ پارکنگ کے مختص جگہیں بھی کرائے پر دی گئیں ہیں جو ’قواعد‘ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح رہائشی و کاروباری علاقوں کے درمیان تمیز ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ پشاور کا ایسا کوئی گلی کوچہ نہیں رہا جہاں خستہ مکانات کے نچلے حصے معمولی ردوبدل کے ساتھ کمرشل سانچوں میں نہ ڈھال دیئے گئے ہوں۔ اندرون یکہ توت میں ایک ایسا کثیرالمنزلہ پلازہ بھی ہے جس کے زیرزمین تہہ خانے کو اپنی حد سے بڑھا کر سڑک تک پھیلا دیا گیا ہے۔ ایک عمارت کا راستہ متصل گلی میں سیڑھیاں کھود کر بنایا گیا ہے اور یہ بات خود ’بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی‘ کے متعلقہ اہلکاروں کے علم میں کہ کس طرح سیاسی اثرورسوخ رکھنے والوں نے منظور کئے جانے والے تعمیراتی نقشہ جات پر عمل درآمد میں قواعد کی خلاف ورزیاں کیں لیکن عوام کی شکایات کو درخوراعتناء نہ سمجھتے ہوئے واجبی جرمانوں کے ذریعے معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ادارے بھی موجود ہیں اور اُن کے قواعد و ضوابط بھی جن پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے بھاری تنخواہوں اور مراعات پر ملازمین کی فوجیں بھرتی کی گئیں ہیں لیکن پشاور یعنی ہم عوام کے مفاد کی بجائے یہ ادارے اور ملازمین اُن شخصیات کے غلام بن گئے ہیں‘ جنہوں نے بھرتیاں‘ تبادلے اور تعیناتیاں اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہیں! حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن اداروں کی روش وہی کی وہی ہے کہ بظاہر کاغذی کاروائی (فائل ورک) کے تقاضے پورے کئے جاتے ہیں اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ تعمیراتی کاموں کے ٹینڈر کھلنے سے لیکر اہم عہدوں پر تعیناتیوں تک تعلقات‘ سفارش یا سیاسی وابستگی جیسے حوالے ہی کام آتے ہیں۔ اِس صورتحال اُور پیدا ہونے والے منظرنامے میں تبدیلی کے لئے شعوری کوششوں کی ضرورت ہے‘ جس کے لئے بلدیاتی نمائندے صرف اہم نہیں بلکہ نہایت ہی کلیدی کردار اَدا کرسکتے ہیں۔

ضرورت اِس امر کی ہے کہ اندرون پشاور کے علاقوں (سرکی گیٹ‘ آسیہ‘ رامداس‘ ڈبگری‘ جہانگیرپورہ‘ یکہ توت‘ گنج‘ کریم پورہ سے ہشتنگری‘ اندرون لاہوری و رامپورہ گیٹ بالخصوص فصیل شہر کے داخلی حصوں) میں خستہ حال عمارتوں کا جائزہ (سروے) جتنا جلد ہو مکمل کر لیا جائے۔ اس سلسلے میں امریکہ کے امدادی ادارے ’یوایس ایڈ‘ یا جرمن حکومت کی تکنیکی و فنی اور مالی معاونت کے پشاور میں صدر دفتر سے رابطہ کیا جاسکتا ہے جو اِس طرح کی شہری منصوبہ بندی (سویک پلاننگ) کا وسیع تجربہ و مہارت رکھتے ہیں۔ تاہم سروے کو محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہر ایک عمارت کی سن تعمیر‘ ظاہری حالت اور اُس کی باقی ماندہ عمر کا تعین بھی ایک ہی سانس میں ممکن ہے۔ گلوبل انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) کے تحت پشاور کی ہر گلی کوچے کا نقشہ اُور آبادی کے اعدادوشمار بھی اِسی کوشش میں مرتب کئے جا سکتے ہیں جس سے پشاور میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے نظام کی ضروریات معلوم ہو سکتی ہیں۔ سردست پشاور کی آبادی اور اس کے لئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب‘ کوڑا کرکٹ (ٹھوس گندگی) اُٹھانے کے نظام اور دیگر ضروریات کے تعین کا تازہ ترین سروے موجود نہیں۔ اگر اپنے وسائل سے استفادہ مقصود ہو تو صوبائی حکومت کے پاس ’جی آئی ایس‘ کے آلات اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے جس نے کامیابی کے ساتھ تعلیمی اداروں کے اعدادوشمار جمع کئے ہیں اور بناء کسی اضافی اخراجات اِسی ’ایجوکیشن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ای ایم آئی ایس)‘ نامی شعبے کی خدمات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے جسے نہ صرف پشاور کے مزاج و گلی کوچوں کا علم بھی ہے بلکہ اسے مقامی آبادیوں بالخصوص ایسے مضافاتی علاقوں میں کام کرنے کا تجربہ بھی ہے جہاں انسداد پولیو مہمات سمیت کسی بھی کام کے لئے جانے والے سرکاری اہلکاروں کو حفاظتی حصار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضلع پشاور کی سطح پر ’جی آئی ایس‘ سروے کے لئے جامعہ پشاور کے شعبہ جات اور طلباء و طالبات کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے‘ جو اِس ٹیکنالوجی میں درس حاصل کررہے ہیں اور اُنہیں عملی تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر پشاور کی سطح پر صفائی کے لئے رضاکاروں پر مشتمل ٹیمیں بنائی جا سکتی ہیں تو ایک ایسے مقصد کے لئے غوروخوض اور عملی مشقیں کیوں نہیں کرائی جاسکتیں جن کا تعلق انسانی جان و مال کو محفوظ بنانے سے ہے؟

Sunday, September 6, 2015

Sep2015: Promises with Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سخن دلنواز!
صوبائی دارالحکومت کے رہنے والوں کی اکثریت کا کسی نہ کسی طور جس ایک مشکل سے مستقل واسطہ رہتا ہے وہ ’نکاسی آب کا مسئلہ‘ ہے جو عمومی حالات یا موسلادھار بارشوں کی صورت سیلابی صورت اختیار کر جاتا ہے اور ماضی میں صرف نشیبی علاقے زیرآب آیا کرتے تھے اب تو بالائی علاقوں کے گلی کوچوں اور بازاروں تالاب یا نہر کامنظر پیش کرتے ہیں جس کا حل پیش کرتے ہوئے ’’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور‘‘ نامی ادارے نے ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دی ہے‘ جس کی تکمیل سے ہر قسم کی ’نکاسئ آب‘ کا مسئلہ کم از کم آئندہ پچاس سال تک کے لئے حل ہو جائے گا! کسی سرکاری ادارے کی منصوبہ بندی میں مستقبل کی ضروریات کا اس قدر خیال رکھنے کی یہ پہلی اور عمدہ مثال ہوگی‘ اگر اس کے پس پردہ محرکات‘ ترجیحات اور نیت میں فتور نہ ہو۔ اگر کاغذی کاروائی کے مطابق اِس نئے منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز موجودہ حکومت کر دیتی ہے تو اس سے سیاسی و انتخابی فائدے بھی حاصل ہوں گے۔

ستر لاکھ کی آبادی والے شہر میں ’نکاسئ آب‘ کا مسئلہ چٹکیاں بجاتے ہی مستقل بنیادوں پر حل کر لیا جائے گا‘ اِس سے زیادہ ’سخن دلنواز‘ کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ پشاور کے ’زیرآب‘ آنے سے نہ صرف روزمرہ عمومی معاشرت بلکہ کاروباری و تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ نئی حکمت عملی کے حوالے سے ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور‘ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس منعقد ہوا‘ جس میں آئندہ پچاس سال کی ضروریات کا تعین کرنے اور نکاسئ آب کے مسئلے کے حل کے لئے ایک ایسے چوڑی دار پلاسٹک کے پائپ بچھانے پر اتفاق کیا گیا‘ جو موسمی اثرات کے علاؤہ غیرمعمولی حالات میں پانی کا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور اس میں (ٹھوس) گندگی (کوڑاکرکٹ) کی وجہ سے بننے والی رکاوٹ کی وجہ سے پانی کا بہاؤ بھی متاثر نہیں ہوتا۔ جس نئی قسم کی پلاسٹک سے یہ پائپ تیار کئے جاتے ہیں اُس کی قسم کو ’پولی وینائل کلورائیڈ‘ سے تیار کیا جاتا ہے جو پلاسٹک ہی طرح ایک لچکدار مادہ ہے جو زیادہ مضبوط اور پائیدار ثابت ہوا ہے اور نکاسئ آب کے لئے اِس قسم کی پائپ لائن بچھانے کے تجربات ملک کے دیگر حصوں میں پہلے ہی کئے جاچکے ہیں اور بات صرف پاکستان کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ حکام کو فراہم کی جانے والی دستاویزات کے مطابق ’پیچدار ساخت‘ والے یہ نئی قسم کے پائپ عراق‘ ہنگری‘ البانیہ اور بلغاریہ میں بھی استعمال ہو رہے ہیں‘ اِن میں کنکریٹ کے مقابلے زیادہ رفتار سے پانی و گندگی لیجانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ’یو پی وی سی (uPVC)‘ کہلانے والے یہ پائپ قیمت میں بھی نسبتاً کم ہوتے ہیں‘ اگرچہ ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز‘ کے حکام نے ’یو پی وی سی پائپ لائن‘ بچھانے کی منظوری دے دی ہے لیکن اِن پائپ لائن کی خریداری اُس ریگولیٹری اتھارٹی کی اجازت حاصل کئے بناء ممکن نہیں جو جملہ سرکاری خریداریوں کرتی ہے۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز میں پیش کی جانے والی مفصل رپورٹ میں کہا گیا ہے ’یو پی وی سی پائپ‘ تین مقاصد کے لئے استعمال کئے جائیں گے۔ ایک تو پشاور میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اِن سے استفادہ کیا جائے گا۔ دوسرا نکاسی آب اور تیسرا ٹھوس گندگی ٹھکانے لگانے کے منصوبوں میں اِنہیں استعمال کیا جائے گا۔ جو نجی ادارہ یہ پائپ فراہم کرے گا‘ وہ قبل ازیں پاکستان میں تین بڑے منصوبے مکمل کر چکا ہے۔ یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ پشاور کو نکاسئ آب کے لئے توسیعی‘ جامع اور نئے ترقیاتی منصوبے کی ضرورت ہے جیسا کہ حال ہی میں بڈھنی نالے میں آئے سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کے وقت دیکھا گیا‘ اور صوبائی حکومت نے فیصلہ کر لیا کہ نکاسی آب کا ایسا نظام وضع کیا جائے تو پانی کے کھلے نالوں کی بجائے زیرزمین پائپ لائنوں پر مشتمل ہو لیکن زیرزمین نکاسی آب کے اِس قدر بڑے منصوبے کو گنجان آباد شہر کے اندرونی علاقوں میں کس طرح بچھایا جائے گا جبکہ پہلے سے موجود زیرزمین نظام آج بھی کفالت کر رہا ہے اور اگر صرف ’شاہی کٹھے‘ پر قائم تجاوزات ہی ہٹا دی جائیں تو پشاور شہر سے نکاسئ آب کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔ اب تک یہ واضح نہیں کہ نئے پائپ لائنوں کے لئے مالی وسائل کون فراہم کرے گا‘ کل لاگت کا تخمینہ کیا ہوگا اور کیا امریکہ کا امدادی ادارہ ’یوایس ایڈ (USAID)‘ جو اس سے قبل پشاور میں پینے کے پانی کی ترسیل کے پائپ لائنوں کی اصلاح کا اعلان کرچکا ہے‘ کیا نئے منصوبے کی مالی و تکنیکی معاونت کرنے کی دلچسپی رکھتا ہے؟ تلخ حقیقت ہے کہ ماضی کی ملتی جلتی ترقیاتی حکمت عملیوں کا جائزہ لیں تو جہاں کہیں بھی نکاسئ آب کو زیرزمین کیا گیا‘ اس کے منفی نتائج برآمد ہوئے۔

سٹی سرکلر روڈ کے اطراف میں ایسی کئی مثالیں آج بھی دیکھی جا سکتیں ہیں۔درحقیقت سب سے آسان کام پیسہ خرچ کرنا ہوتا ہے۔ سرکاری ادارے ایک سے بڑھ کر ایک ماہرانہ اور مہنگا حل پیش کرتے ہیں لیکن اس کی خرابیوں کے امکانات اور معیار کے لئے فیصلہ ساز بعدازاں ذمہ دار نہیں ہوتے۔ قومی احتساب بیورو میں زیرالتوأ اور عدالتوں میں بدعنوانی کے زیرسماعت مقدمات کی تفصیلات ملاحظہ کریں کہ کس طرح سرکاری خزانے کو اربوں روپے کے ٹیکے لگانے والے ’وائٹ کالر کریمنلز‘ معزز بھی بنے رہے اور ذاتی مفادات کے لئے سودے بازیاں بھی کرتے رہے! ہم نے ماضی سے کیا سیکھا ہے اور کیا سیکھنا چاہئے یہ الگ سے توجہ طلب سوال ہے۔

 افسوس صد افسوس تو احتساب کے اُس قانون پر ہے جس میں بدعنوانی کرنے والے اگر خردبرد کی گئی رقم میں سے محض چند فیصد (یعنی آٹے میں نمک کے مساوی) اَدا کر دے تو اُسے ’باعزت بری‘ کر دیا جاتا ہے۔ اصولی طور پر ’اصل رقم بمعہ ہزار گنا سود‘ واپس وصول کی جانی چاہئے اور ایسے عناصر کو نشان عبرت بنایا جائے‘ جو سر سے پاؤں تک بدعنوانیوں میں ڈوبے رہے لیکن چونکہ بحیثیت قوم ہم نے بدعنوانی کو دل سے قبول کر لیا ہے اور اس سے اظہار نفرت یا بیزاری نہیں کرتے‘ اِس لئے انواع و اقسام کی خرابیاں اُور بدعنوانیاں ہر دور میں نام بدل بدل کر فیصلہ سازی پر حاوی رہتی ہیں۔

پشاور کی اَشد ضرورت کا تعین کرنے کے لئے ’نومنتخب مقامی (بلدیاتی) حکومتوں‘ کی معلومات اُور بصیرت پر بھروسہ کرنا چاہئے‘ جن کی معاونت مختلف شعبوں کے ماہرین کرسکتے ہیں لیکن اگر فیصلہ سازی کا کام چند منظور نظر ماہرین کے ہاتھوں ہی سرانجام دینا ہے تو اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی اور بدعنوانی سے پاک طرز حکمرانی کے اہداف حاصل کرنا صرف خواب نہیں بلکہ محض خواب ہی رہے گا۔

Thursday, July 2, 2015

Jul2015: The drinking water!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
نعمت متروکہ!
ضرورت ایجاد کی ماں تو مجبوری اُس خاندان کے سربراہ کا کردار ادا کرتی ہے‘ جسے پینے کا صاف پانی میسر نہیں! یہی وجہ ہے کہ وسائل رکھنے والے پاکستانی ’بوتل بند (بنام منرل) پانی‘ خریدنے پر مجبور ہیں لیکن بار بار کے لیبارٹری ٹیسٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں بھی معیار اورتحفظ کی کوئی ضمانت نہیں! ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی اٹھارہ کروڑ سے زائد آبادی کے تقریباً پینتیس فیصد حصے کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں۔ پاکستان کی نیشنل ڈرنکنگ واٹر پالیسی 2009ء کے مطابق پانی‘ صفائی اور حفظان صحت سے متعلق بیماریوں کے باعث قومی خزانے پر ہر سال ایک سو بارہ ارب روپے کے اخراجات کا بوجھ پڑتا ہے! تعجب خیز امر ہے کہ حکومت علاج معالجے پر تو فراخدلی کے ساتھ مالی وسائل خرچ کرتی ہے لیکن پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن نہیں بناتی!

سال 2011ء میں ورلڈ بینک نے ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق پانی سے متعلق اخراجات کا اُنتیس فیصد بوتل بند پانی کی کھپت پر خرچ ہوجاتا ہے جو کہ کل معاشی قیمت کا ایک اعشاریہ چار فیصد ہے۔ استعمال ہونے والے بوتل بند پانی کی لاگت چار ارب روپے سے زیادہ تھی۔

حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ادارے پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کی بوتل بند پانی کے معیار پر رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ ادارہ شہری و دیہی اور زیرِ زمین پانی کے حوالے سے تحقیق اور ملک کے چاروں صوبوں میں اُنیس تجزیہ گاہوں کے ذریعے نگرانی جیسے متعدد کام کرتا ہے اُور سہ ماہی کی بنیاد پر ٹیسٹ ’وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی‘ کو جمع کرواتے ہیں۔ حالیہ رپورٹ میں مارکیٹ میں دستیاب 71برانڈز میں سے ہر ایک کی چار بوتلوں کے نمونے جمع کیے گئے اور موقع ہی پر انہیں شناختی کوڈ الاٹ کر کے سیل کر دیا گیا۔ یہ نمونے پاکستان کے تین صوبوں کے سات بڑے شہروں اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ ٹنڈو جام‘ لاہور‘ کوئٹہ‘ سیالکوٹ اور کراچی سے جمع کیے گئے جہاں فروخت ہونے والے آٹھ برانڈز انسانی استعمال کے لئے حتمی طور پر غیر محفوظ پائے گئے! کیونکہ ان میں آرسینِک‘ سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار قومی معیاراتی ادارے کی منظور شدہ سطح سے کہیں زیادہ تھی! اگر آرسینک کی سطح مقرر کردہ معیار سے بڑھ جائے تو وہ رفتہ رفتہ اعصابی نظام‘ جگر اور گردوں کو تباہ کر سکتی ہے اور تولیدی اعضا کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ پوٹاشیم کی بڑھی ہوئی مقدار گردوں‘ دل‘ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس (شوگر) کو منفی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ تین مزید برانڈز کے تجزیوں میں بیکٹیریائی آلودگیاں پائی گئیں۔ جراثیمی آلودگی ہیضہ‘ اسہال‘ پیچش‘ یرقان‘ ٹائیفائیڈ اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتی ہے!


’’نیشنل ڈرنکنگ واٹر پالیسی 2009ء‘‘ کے مطابق پینے کے صاف پانی تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ پالیسی 2010ء میں منظور کیے گئے پینے کے پانی کی کوالٹی کے قومی معیار کے نفاذ پر زور دیتی ہے لیکن عمل درآمد کے حوالے سے حقائق کچھ اور ہیں۔ یونیسیف کی 2009ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 53 ہزار 300 سے زائد بچے غیر محفوظ پانی اور ناقص صفائی کی وجہ سے ڈائیریا کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔ غیر معیاری پانی بیچنے سے متعلق قوانین و قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر کم از کم پچاس ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا ہوسکتی ہے لیکن عدالتی نظام کی سست رفتاری کی وجہ سے آلودہ پانی فروخت کرنے والوں کو فوری طور پر سزائیں نہیں ہوتیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو جتنا بڑا جرم کرتا ہے اُسے قانون سے بچنے کی اُتنی ہی راہیں مل جاتی ہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ غیرصحت مند پانی فروخت کرنے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نجی سطح پر پانی صاف کرنے کے ’ریورس اوسموسس پلانٹس‘ نصب کرا لئے گئے ہیں۔ افسوسناک ہے کہ پینے کے پانی کا معیار ہر گزرتے دن کے ساتھ گراوٹ کا شکار ہے۔ پی سی آر ڈبلیو آر کی ویب سائٹ پر موجود اعدادوشمار کے مطابق ملک کے چوبیس بڑے شہروں میں رہنے والوں کی اکثریت آلودہ پانی استعمال کر رہی ہے اور آلودگی کی تعریف ہے کہ اس میں منظور شدہ معیار سے زیادہ مقدار میں تحلیل شدہ ٹھوس اجزأ پائے جاتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور بھی انہی شہروں میں شامل ہے جہاں پینے کا صاف پانی ایک نعمت متروکہ ہے۔ آپ پانی چاہے ٹیوب ویل سے حاصل کر رہے ہوں یا کسی دوسرے ذریعے سے صارفین کو صاف پانی کے حصول کے لئے خود کوششیں کرنا ہوں گی۔

 امریکہ کے امدادی ادارے یو ایس ایڈ (USAID) نے پشاور میں پانی کے ترسیلی نظام کی اصلاح اور نئے پائپ لائن بچھانے کے لئے امداد کا اعلان کر رکھا ہے‘ جس پر اکتفا کئے بناء وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جناب پرویز خٹک سے درخواست ہے کہ نئے مالی سال میں اُنہوں نے پشاور کے لئے جس اربوں روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے اُس کے استعمال کا آغاز پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے کریں کیونکہ جو حکومت ایک بوند صاف پانی نہیں دے سکتی وہ زیادہ بڑے اور مشکل کام بھلا کیسے پایہ تکمیل تک پہنچا پائیگی۔ ابتدأ اگر پشاور کی بانوے یونین کونسلوں سے کی جائے اور سوچا جائے کہ خیبرپختونخوا کے ہر باسی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کم سے کم وقت میں کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے تو یہ صرف ’کارہائے نمایاں‘ ہی نہیں بلکہ کارنامہ اور دیگر صوبوں کے لئے فقیدالمثال عمل ہوگا۔

Wednesday, June 24, 2015

Jun2015: Education & the hurdles!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
فروغ تعلیم: حائل رکاوٹیں
امریکہ کے امدادی ادارے ’یوایس ایڈ (USAID) پاکستان‘ کی جانب سے پسماندہ اضلاع میں ’’بنیادی تعلیم‘‘ کے فروغ کی اہمیت و ضرورت کو محسوس کیا گیا ہے۔ سال 2002 ء سے شعبہ تعلیم سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی اور آفت زدہ علاقوں کی معیشت و معاشرت کی بحالی کے لئے جاری کوششوں میں یہ ایک نیا اضافہ ہے جس کے تحت ’19لاکھ بچوں‘ کے لئے پرائمری کی سطح پر بہتر تدریسی مواقع فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائے گا۔ تیئس جون کو اعلان کے موقع پر پسماندہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے 9 ہزار 400 نوجوانوں کو انگریزی زبان سے آشنائی کا ذکر کیا گیا ہے لیکن کیا یہ سب عملی کوششیں اُس (سرکاری محروم توجہ) تعلیمی شعبے میں انقلاب لانے کے لئے کافی ثابت ہو رہی ہیں‘ جس میں وسائل کی سرمایہ کاری کا حجم تو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے لیکن حاصل ہونے والے ’نتائج‘ حوصلہ اَفزأ نہیں۔

امریکہ کے امدادی ادارے سے درخواست ہے کہ وہ حسب سابق روائتی انداز میں مالی وسائل مختص کرنے اور اس کے مرحلہ وار استعمال و نتائج کے بارے میں اُن اعدادوشمار پر بھروسہ نہ کرے‘ جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اگر تعلیم کے شعبے میں بہتری مقصود ہے تو اِس پورے منظرنامے کو الگ عینک نہیں بلکہ ژرف نگاہی سے دیکھنا ہوگا کہ برتن میں سوراخ کہاں ہے کیونکہ اِس میں جتنا پانی بھی ڈالا جاتا ہے وہ سب کا سب آناً فاناً ختم ہو جاتا ہے اور پیاس پوری شدت کے ساتھ اپنا وجود باقی رکھتی ہے! اِس سلسلے میں پہلا نکتہ تو یہ سمجھنا ہے کہ مالی اِمداد مسئلے کا حل نہیں بلکہ موجود وسائل کے استعمال میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور تعلیم کے اسلوب کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ’چلتے پھرتے (غیرروائتی) سکول‘ اُور پاکستان کو تبدیل کرنے‘ حب الوطنی کے جذبات سے سرشار نوجوان رضاکاروں کی کمی نہیں‘ جن کی صلاحیتوں سے بطور معلم اِستفادہ کیا جاسکتا ہے۔ نصاب تعلیم کو زیادہ دلچسپ اور انٹرایکٹیو (interactive) بنانے کے ساتھ فاصلاتی نظام تعلیم میں موبائل فون (ٹیکنالوجی) کا استعمال متعارف کرانا ضروری ہے کیونکہ کتابوں کی اشاعت اور اُن کی ترسیل و حفاظت سے زیادہ آسان ’الیکٹرانک کتابیں‘ ہیں‘ جو ’ورچوئل کتب خانوں‘ سے بلاقیمت حاصل کی جاسکیں۔ کتاب سے رشتہ جوڑنے کے لئے کتب خانے آباد کرنا اُن صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کا حصہ ہونا چاہئے‘ جس سے نوجوانوں کو تعمیری و مثبت سرگرمی میں وقت خرچ کرنے کا موقع میسر آئے۔ ہم نصابی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کی بجائے اِداروں کے درمیان فاصلوں اور ملک گیر سطح پر ایک نصاب اُس طبقاتی نظام کو ختم کرنے کی ابتدأ ثابت ہو سکتی ہے‘ جس میں مادری زبان کی اہمیت کو تو سمجھا گیا ہے لیکن مختلف زبانوں میں اسباق کا آپسی تعلق نہیں۔ اُستاد کو گھر تک پہنچانے سے نہیں بلکہ چوبیس گھنٹے بذریعہ انٹرنیٹ موجود رکھنے سے تبدیلی آ سکتی ہے۔ موبائل فون کمپنیاں اگر دن رات چوبیس گھنٹے محض ایک روپے میں بات کرنے کی پیشکش (آفر) دے سکتی ہیں تو یہی غیرملکی امداد پورے کے پورے شہر کو ’ورچوئل کیمپس‘ بنانے پر کیوں خرچ نہیں کی جاسکتی؟

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ فروغ تعلیم کے لئے عالمی امداد کم یا زیادہ ہونے سے اِس شعبے میں ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوں گے بلکہ اِس کے لئے فیصلہ سازی کے منصب پر فائز افراد اور اُس کاریگر (معلم) کو اپنا فکروعمل تبدیل کرنا ہوگا‘ جس کا آغاز ’نیت‘ سے ہونا چاہئے کہ میں خود کو حلفیہ ’وقف پاکستان‘ کرتا ہوں اُور میری کمٹمنٹ (commitment) رہے گی کہ تدریس پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔‘‘ اس سلسلے میں ایک ضرورت ’اساتذہ کی تربیت‘ کی بھی ہے‘ جن کی اکثریت کو اپنے فرائض منصبی اور ذمہ داریوں کا حقیقت میں ادراک ہی نہیں۔ کیا معلم کا کردار ’رول ماڈل (مثالی)‘ ہونا چاہئے اور کیا ایسا ہے؟ تعلیم کے شعبے میں ’سرکاری ملازمت‘ کو روزگار کا ’پائیدار ذریعہ‘ سمجھ لیا گیا ہے۔ ماضی کی سیاسی جماعتیں اپنے منظورنظر افراد کو ’استاد‘ بھرتی کرواتی رہیں اور نتیجہ ایسے ہزاروں افراد بھرتی کر لئے گئے جنہیں نہ تو خود تعلیم سے کوئی لگاؤ رہا اُور نہ ہی اُن کے لئے درس و تدریس ماہانہ تنخواہ اُور مراعات سے زیادہ کشش یا معنی رکھتا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ سرکاری سکولوں کی عمارتیں اور سہولیات باقی لیکن سکول کا مقصد (روح) باقی نہیں رہی!

امریکہ کے امدادی ادارے کی طرح جرمن حکومت کے امدادی ادارے ’جی آئی زیڈ‘ کے فیصلہ سازوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ سال دو ہزار دو سے دوہزار پندرہ تک قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا میں شعبۂ تعلیم کے فروغ (ایجوکیشن سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام) نامی حکمت عملی کے تحت ’جرمن فیڈرل منسٹری فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (BMZ)‘ کی اِمداد خرچ تو ہوئی لیکن اِس کا حاصل کیا رہا۔ ’جی آئی زیڈ‘ کی ویب سائٹ (giz.de) پر آج بھی یہ بات موجود ہے کہ خیبرپختونخوا کی 53فیصد بالغ آبادی ناخواندہ ہے جبکہ کم و بیش 70فیصد خواتین بھی پڑھ لکھ نہیں سکتیں! اِس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے برطانیہ کے ادارے ڈی ایف آئی ڈی (DFID)‘ کینیڈا کے ’سی آئی ڈی اے (CIDA)‘ آسٹریلیا کے ’آس ایڈ (AusAid)‘ اُور ہالینڈ و ناروے کی حکومتوں کے فراہم کردہ مالی وسائل جرمن حکومت نے خرچ کئے اور یہ حکمت عملی سال 2020ء تک جاری رہے گی‘ جس میں یورپین یونین کے شامل ہونے کی بھی اُمید ہے لیکن بچوں کی نفسیات سمجھنا تو دور کی بات جس ’انٹرایکٹو‘ تدریسی نظام کو متعارف کرانے کی بات کی گئی وہ بھی تاحال دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ اساتذہ کی تربیت کی گئی۔ نصاب کی نئی باتصویر کتب شائع کی گئیں لیکن سکولوں کو نہ تو باہم مربوط کیا گیا اور نہ ہی اساتذہ کی کارکردگی اور تدریس میں منطقی انداز اختیار کرنے کی تلقین و ہدایات اور احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ خیبرپختونخوا پر اِس قدر عالمی توجہ‘ مالی و تکنیکی اِمداد اُور خیرخواہی پر اِظہار شکروفکر کے عملی تقاضے بھی پورے ہونے چاہیءں۔

تعلیم کے فروغ اور شرح خواندگی کے ثمرات نہ تو ہماری شہری زندگیوں کا حصہ ہیں اور نہ ہی دیہی علاقوں کے رہنے والوں کا طرزعمل تبدیل ہوا ہے۔ کہیں نہ کہیں خرابی اور کہیں نہ کہیں وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے‘ جس سے فائدہ اُٹھانے والوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کی بجائے مختلف طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا۔ ذاتی مفادات پر مبنی ترجیح کے باعث تعلیم نجی شعبے کو سونپ دی گئی ہے‘ جس پر محفوظ حقوق‘ عام کرنے کے بارے میں کل سے نہیں آج سے سوچ کا آغاز ہونا چاہئے۔

Friday, May 29, 2015

May2015: LG Polls & Technology

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
حکمت و دانش کے تقاضے
خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ’مقامی حکومت‘ کے لئے ہونے والے عام انتخابات کا طلسم ’ہزارہ ڈویژن‘ کو بھی اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے‘ جہاں گلی محلے اُور گاؤں کی سطح پر سیاسی و آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدوار اور اُن کی حمایت کرنے والوں کے جوش و خروش میں جس ایک بات کا سب سے کم خیال رکھا گیا وہ ’الیکشن کمیشن‘ کی جانب سے وضع کئے گئے ’ضابطۂ اخلاق‘ کی وہ شقیں تھیں‘ جن کا تعلق ’قبل از انتخابات ہدایات‘ سے تھا۔ حسب سابق الیکشن کمیشن نے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر ’تجاہل عارفانہ‘ اختیار کئے رکھا‘ جس سے انتخابی مقابلے کے آزاد اُمیدواروں کو ’نکتۂ اعتراض‘ اُٹھانا چاہئے تھا۔ بہرکیف اُمید کی جاتی ہے کہ انتخابات (پولنگ) کے دن اور بعدازاں نہ صرف اُمیدواروں بلکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی اپنی ذمہ داریاں اور فرائض کی ادائیگی میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

ہزارہ ڈویژن کے پانچ اضلاع میں فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اِداروں کی کڑی نگرانی میں 23 لاکھ 85 ہزار 298 مرد و خواتین اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ یوں تو ہزارہ ڈویژن کے 6 اضلاع ہیں لیکن مقامی حکومت کے لئے انتخابات اِن میں سے پانچ اضلاع ہری پور‘ ایبٹ آباد‘ مانسہرہ‘ بٹ گرام اُور تورغر میں ہو رہے ہیں جبکہ کوہستان کو چونکہ دو حصوں (اپر اینڈ لوئر کوہستان) میں تقسیم کیا گیا تھا‘ جس پر پلاس اور ملحقہ علاقوں کے رہنے والوں نے ’پشاور ہائی کورٹ‘ سے رجوع کر رکھا ہے اور عدالت کا فیصلہ آنے تک وہاں مقامی حکومتوں کے انتخابات نہیں ہوں گے۔ضلع کوہستان کے علاؤہ تیئس لاکھ پچاسی ہزار سے زیادہ ووٹروں کو 15 ہزار 667 انتخابی اُمیدواروں میں سے چناؤ کرنا ہے اور یہ قطعی طورپر آسان مرحلہ نہیں۔ ماضی میں کبھی بھی ’مقامی (بلدیاتی نظام) حکومت‘ کے لئے اس قدر جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور نہ ہی اس قدر بڑی تعداد میں اُمیدوار دیکھے گئے۔ ہر ووٹر کو سات مختلف رنگوں کی پرچیوں کے ذریعے اپنی پسند کا اظہار کرنا ہے اور چونکہ روایت رہی ہے کہ ہم ہاں ہر ریکارڈ توڑا جاتا ہے تو آئندہ انتخابات میں اس سے کہیں گنا زیادہ تعداد میں اُمیدوار انتخابی عمل میں حصہ لیں گے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ووٹ دینے کے موجودہ طریقۂ کار (عمل) کو سادہ و آسان بنایا جائے اور اس کے لئے ’الیکٹرانک ووٹنگ‘ کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے ووٹ دینے کا عمل شفاف بھی ہے اور اس سے ووٹوں کے ضائع ہونے کا امکان بھی نہیں رہتا۔ چونکہ بات ایک یا دو بیلٹ پیپرز سے سات تک جا پہنچی ہے‘ اِس لئے ارباب اختیار کو ’ٹیکنالوجی گریز‘ رویئے اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنے کی بجائے سوچنا چاہئے کہ عام انتخابات پر اُٹھنے والے خطیر اخراجات اور اِس عمل سے متعلق پیدا ہونے والے شکوک شبہات کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ سردست ’بائیومیٹرک شناخت‘ اور ’الیکٹرنک ووٹنگ‘ سے متعلق ٹیکنالوجی درآمد کرنا پڑے گی‘ اِس لئے انتخابی عمل کو موجودہ حکمت عملی کے تحت مرحلہ وار انداز میں مکمل کرایا جاسکتا ہے‘ جبکہ نتائج کا اعلان ملک گیر سطح پر الیکٹرانک پولنگ کی تکمیل پر کیا جائے۔ اِس سلسلے میں انٹرنیٹ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ’آن لائن ووٹنگ‘ بھی متعارف کرائی جا سکتی ہے‘ جس میں دھاندلی کے امکانات کم کئے جاسکتے ہیں اور وہ لوگ جو سیکورٹی خدشات یا دیگر وجوہات کی بناء پر ’پولنگ اسٹیشنز‘ پر قطاروں میں لگنا پسند نہیں کرتے انہیں گھر بیٹھے ووٹ پول کرنے کی سہولت فراہم کی جانی چاہئے۔ اس سلسلے میں فراڈ سے بچنے کے لئے شناختی طریقۂ کار اور موبائل فون سے بذریعہ ’ایس ایم ایس‘ اضافی تصدیق کا طریقہ وضع کیا جاسکتا ہے (الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ کسی ایک موبائل فون نمبر سے منسلک ووٹر ایک ہی ووٹ ڈال سکے) جبکہ ’آن لائن‘ ووٹ ڈالنے کے لئے بھی الیکشن کمیشن سے خفیہ کوڈ کا حصول قومی شناختی کارڈ نمبر اور موبائل فون سے منسلک کئے جاسکتے ہیں۔ اس سہولت سے شہری علاقوں میں رہنے والوں کی اکثریت فائدہ اُٹھانا چاہے گی اور اگر ووٹ ڈالنے کی پانچ یا دس روپے تک قیمت بھی مقرر کر دی جائے تو اِس سے ٹیکنالوجی پر اٹھنے والے اخراجات کا بڑا حصہ پہلے مرحلے ہی میں وصول کر لیا جائے گا۔ اِسی طرح بینک اکاونٹ رکھنے والے ’اے ٹی ایم‘ کارڈ کے ذریعے اپنا ووٹ پول کر سکتے ہیں اور ایسی لاکھوں مشینیں پورے ملک میں نصب ہیں‘ جنہیں سافٹ وئر کے معمولی ردوبدل سے ’الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں‘ میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اِس سلسلے میں جرمن حکومت کی جانب سے تکنیکی امدادی ادارے ’جی آئی زیڈ‘ اُور امریکی عوام کی نمائندہ ’یو ایس ایڈ‘ کو توجہ دینی چاہئے کہ مقامی (بلدیاتی) حکومتیں صرف اُسی صورت فعال کردار ادا کر سکیں گی جبکہ اُنہیں زیادہ سے زیادہ عوام کی حمایت حاصل ہوگی۔ اگر تیس سے چالیس فیصد ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں اور عام انتخابات کی شفافیت کے بارے میں تحفظات بھی پائے جاتے ہیں تو اِن کا ازالہ ہونا چاہئے۔

مقامی حکومت ہی اگر ’بنیادی حکومت‘ ہے تو اِس نظام سے بطور اُمیدوار یا ووٹر سپورٹر وابستہ ہونے والوں کو ’یورپین یونین (28 ترقی یافتہ مغربی ممالک)‘ کے وضع کردہ اُس متفقہ اصطلاحی مفہوم کو سمجھنا ہوگا‘ جس میں مؤثر‘ فعال اور حقیقی نمائندگی کو 12 اصولوں پر عمل درآمد سے مشروط کرتے ہوئے ٹیکنالوجی سے استفادہ تجویز کیا گیا ہے۔ 1: شفاف انتخابات اُور اس عمل میں ووٹروں کی بھرپور شرکت۔ 2: نظام اور نمائندوں کی کارکردگی سے جڑی عوام کی توقعات کا پورا ہونا۔ 3: بلدیاتی نظام کے اصولوں پر عمل درآمد اور اُنہیں عملاً مؤثر ثابت کرنا۔ 4: مقامی حکومتوں کے مالی و انتظامی معاملات میں شفافیت۔ 5: وضع کردہ قواعد و قوانین کا بلاامتیاز اطلاق اور انصاف۔ 6: اخلاقی پابندیاں۔ ہر نمائندہ اپنی ضمیر کی عدالت میں خود کو ہمہ وقت حاضر سمجھے۔ 7: اِداروں کی صلاحیت اُور کارکردگی میں بتدریج اِضافہ اُور اِرتقاء۔ 8: نظام کی اِصلاح کے لئے نت نئے تصورات اور حسب ضرورت لائحہ عمل اپنانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیاجائے۔ 9: عوام دوست‘ ماحول دوست اُور پائیدار ترقی متعارف کرائی جائے۔ 10: سخت گیر قسم کا مالی نظم وضبط لاگو کیا جائے۔ 11: اِنسانی حقوق‘ شخصی آزادی اُور اِظہار رائے کا احترام کیا جائے۔ آثار قدیمہ‘ ثقافت اور لوک ورثے کو آنے والی نسلوں کے لئے امانت سمجھا جائے اُور 12: فیصلہ سازی کے مراحل یا مالی وسائل کے اِستعمال کی صورت اِحتساب کو رہنما اَصول سمجھا جائے۔

Thursday, May 28, 2015

May2015: LG Polls & Women Participation!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
خواب آلود حقائق
مقامی حکومتوں کا قیام‘ فیصلہ کن مرحلے تک آ پہنچا ہے اور آئندہ چوبیس گھنٹے (تیس مئی کا دن) انتہائی اہم ہے جب خیبرپختونخوا کے رہنے والے اُس قیادت کا انتخاب کر رہے ہوں گے جس نے اقتدار کو نچلی سطح پر منظم اور اُس بنیادی حکومت کے تصور کو عملی شکل دینا ہوگی جو ملک کے جمہوری نظام کے لئے ایک ستون جیسا کلیدی کردار ادا کرے گا۔ مثال کے طور پر دیہی و ہمسائیگی کونسل کی وجہ سے عام آدمی فیصلہ سازی کے عمل میں فعالیت کے ساتھ شریک اُور حصہ دار بن جائے گا۔ یہی وہ خواب تھا جس کے لئے کئی دوست ممالک بشمول امریکہ حکومت کے اِمدادی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ اور اُن کے مقامی شریک کار ’اسکائنز‘ نے سالہا سال سے کوششیں کیں۔ مقامی حکومتوں کے نظام کی اہمیت سے متعلق نہ صرف شعور اُجاگر کیا بلکہ اِس مطالبے کو زندہ بھی رکھا اور یہی ثمر ہے کہ مقامی حکومتیں قائم ہونے جا رہی ہیں لیکن کیا اِس نظام سے جڑی وہ تمام ’توقعات‘ پوری ہوپائیں گی‘ جس کا خواب یا خلاصہ خیرخواہوں اور منصوبہ سازوں کے تخیل و تصورات کی دنیا کو آباد کئے ہوئے ہے؟

مقامی حکومتوں کا نظام اُس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہوگا جب تک اس میں ’خواتین کی بھرپور یا مکمل شراکت داری‘ عملاً دکھائی نہیں ہوتی بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ خواتین کی مردوں سے زیادہ اور بڑھ چڑھ کر شراکت ناگزیر ہے‘ جو موجودہ صورتحال میں سیاسی جماعتوں اور اُن کے فیصلوں پر مردوں کی اجارہ داری کے باعث ممکن نہیں ہوسکی۔ سیاسی جماعتوں نے سمجھ لیا ہے کہ اُنہوں نے خواتین کے لئے مخصوص نشستیں مقرر کرکے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیا ہے وہ کافی ہے جبکہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی مخصوص خواتین کا ایوانوں میں کردار نہ ہونے کی حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ خواتین کو مرد اراکین کی طرح نہ تو مساوی بنیادوں پر وزارتیں‘ عہدے اور ترقیاتی فنڈز دیئے جاتے ہیں اور نہ ہی قانون سازی کی سطح پر وہ اتنی بااختیار ہوتی ہیں کہ اگر اُن کا تعلق برسراقتدار جماعت سے ہے تو وہ کسی حکومتی فیصلے پر مستورات کے نکتۂ نظر سے اظہار خیال ہی کرسکیں۔ جب تک خواتین کے ساتھ ’مخصوص‘ اور اُن کی قانون ساز ایوانوں میں موجودگی سیاسی جماعتوں کے رحم وکرم پر ہے‘ اِس پورے منظرنامے میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ خواتین کو سوچنے‘ سمجھنے‘ بولنے اور سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے سوا چارہ نہیں رہا۔ سیاسی جماعتوں کی سطح پر خواتین کی اکادکا موجودگی اور برائے نام شرکت (مشاورت) کو زیادہ سے زیادہ معنی خیز بنانے کے بعد ہی مقامی حکومتوں کی سطح تک اِس کے ثمرات منتقل ہو سکتے ہیں۔

اِس مرحلۂ فکر پر انتخابات کے نگران ادارے ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ خواتین کے حق رائے دہی پر ضرب لگانے اور انہیں برائے نام استعمال کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ جن انتخابی حلقوں میں خواتین کو حق رائے دہی سے محروم رکھا جاتا ہے وہاں کے انتخابی نتائج کسی صورت تسلیم نہیں ہونے چاہیءں بلکہ خواتین کے کل رجسٹرڈ شدہ ووٹوں کا تناسب پچاس فیصد سے کم ہونے کی صورت میں دوبارہ پولنگ کی شرط اگر قانون ساز نہیں کر رہے تو اسے انتخابی قواعد کا حصہ بھی بنایا جاسکتا ہے تاکہ سیاسی جماعتیں بہ امر مجبوری ہی سہی لیکن خواتین کو پس پشت رکھنے کی بجائے اُنہیں آگے آنے کا موقع دیں۔ سماجی‘ خاندانی اور ذات پات کی روایات نے ہمیں جس انداز میں جھکڑ رکھا ہے‘ اُس سے خواتین بطور معاشرے کے ایک کمزور طبقے متاثر ہورہی ہیں اور باوجود اِس حقیقت کا ادراک ہونے کے بھی ’سلے سلائے (ریڈی میڈ)‘ انتظامات‘ اقدامات اُور احکامات سے کام چلایا جا رہا ہے۔
توجہ کیجئے کہ خیبرپختونخوا کے لئے سال 2013ء میں وضع کردہ ترمیم شدہ ’’مقامی حکومتوں کے نظام‘‘ کے تحت صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک ’سٹی ڈسٹرکٹ حکومت‘ اور ’4 عدد ٹاؤنز‘ ہوں گے جس کے بعد ’پشاور ڈسٹرکٹ کونسل‘ اور ’میونسپل کارپوریشن‘ ختم ہو جائیں گی۔ اسی طرح 23 اضلاع میں سے ہر ایک میں ’ضلعی حکومتیں‘ قائم ہو جائیں گی جہاں 61 میونسپل کمیٹیاں بنیں گی اور یہ سب کی سب ’تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (ٹی ایم ایز)‘ کے سانچوں میں ڈھل جائیں گی۔ اِسی طرح کل 69 ’ٹی ایم ایز‘ بنیں گے اور اِن اضافی بننے والے ’ٹی ایم ایز‘ کی منطق یہ ہے کہ ’طورغر‘ بنوں اور دیر کے اضلاع میں نئی تحصیلوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت ضلعی سربراہ ناظم ہوگا‘ جس کے ماتحت ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے زیرکنٹرول حکومتی محکمے ہوں گے۔ ضلعی ناظم بذریعہ ڈپٹی کمشنر ہی حکومتی محکموں بشمول صحت و تعلیم کی کارکردگی کے حوالے بازپرس کر سکے گا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مقامی حکومتوں کا نظام وضع کرتے ہر ایک کو خوش یا مطمئن رکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور بطور خاص اِس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ افسرشاہی ناراض (یا گلہ مند) نہ ہو۔ سب اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کئے بیٹھے ہیں۔ مقامی حکومتوں کے بعد بھی صوبائی و قومی اسمبلیوں کے اراکین کا اپنے اپنے اضلاع میں رعب‘ دبدبہ و جلال بدستور (حسب سابق) قائم رہے گا لیکن اِس پورے نظام میں اگر کہیں کوئی کمی بلکہ بہت بڑی کمی دکھائی دیتی ہے تو وہ خواتین کی محدود پیمانے پر فیصلہ سازی میں شرکت ہے۔

زیادہ دور نہ جائیں۔ پشاور جیسے مرکزی شہر میں آپ کو مقامی حکومتوں کے لئے ایسی خواتین اُمیدواروں کے پوسٹرز دکھائی دیں گے‘ جنہوں نے اپنی تصاویر تو کیا اپنا اصل نام تک شائع نہیں کیا۔ ایسی خواتین اُمیدوار اپنے باپ‘ خاوند‘ یا بیٹے کے نام کا حوالہ اور اپنے انتخابی نشان کی تشہیر کرتی ہیں۔ سابقہ مقامی حکومتوں (بلدیاتی نظام) کے تحت بیرون لاہوری گیٹ سے ’اسماعیل کی والدہ‘ شاید واحد خاتون تھی‘ جنہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہیں لیکن آج کئی ایک ایسی خواتین ہیں‘ جن کے نام اور چہرے نہیں‘ جو اپنی شناخت سے بہ امر مجبوری محروم ہیں‘ جن میں اعتماد کے ساتھ اُن ہم عصروں کی اکثریت کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں‘ جو اکثریت کو اقلیت اور اقلیت کو اکثریت بنائے بیٹھے ہیں۔ ویلج کونسل ’کرا خیل‘ جو کہ پشاور کے نواحی علاقے ’ماشوخیل‘ کا حصہ ہے وہاں سے خاتون انتخابی اُمیدوار کا خاوند ’رابطہ عوام مہم‘ چلاتے ہوئے انتخابی نشانوں پر مشتمل جو کارڈ تقسیم کرتے پایا گیا‘ اُن پر تحریر ہے ’’ووٹ ولی خان کی اہلیہ کو دیجئے!‘‘
For effective Local Government System, women participation is must & fundamental need