Showing posts with label Aurat Foundation. Show all posts
Showing posts with label Aurat Foundation. Show all posts

Wednesday, February 22, 2017

Feb2017: Gender Equity Program & possibilities!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صنفی مساوات: ممکنات کی حد!
پاکستان میں امریکہ کے امدادی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ کی سرگرمیاں کم وبیش 100سے زائد شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں جن میں صنفی مساوات پروگرام (جینڈر ایکویٹی پروگرام) ایک ایسا عنصر ہے‘ جو اپنی اہمیت و افادیت کے لحاظ سے منفرد و غیرمعمولی ہے۔ خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمے اور مساوات پر مبنی تصورات کی تبلیغ و تشہیر کرنے کی اِس حکمت عملی کا اطلاق ’عورت فاؤنڈیشن‘ کے ذریعے کیا گیا جن کی زیرنگرانی ضلعی سطح پر ذیلی غیرسرکاری تنظیموں (این جی اُوز) نے ملک گیر سرگرمیاں کے ذریعے ایک معاشرے میں ایک ایسی سوچ کو پروان چڑھایا۔ اِسی پروگرام کا نتیجہ تھا کہ مرد اور خاتون کے درمیان صنفی اور جنسی امتیازات کے درمیان باریک فرق کو واضح کیا گیا اور معاشرے کی ترقی میں اِن دونوں اکائیوں کے کردار سے یکساں استفادہ کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے یہ تصور پیش کیا گیا کہ ترقی کا معنوی عمل صنفی اکائیوں کے درمیان افراق و تفریق سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ اور ترقی کے یکساں مواقعوں کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کے تحت پاکستان کے لئے امریکی امداد کا حجم ’’چار کروڑ (40ملین) ڈالر تھا جس کا ساٹھ فیصد سے کم حصہ ہی استعمال کیا جاسکا۔ اگرچہ بیرونی امداد سے ملنے والے مالی وسائل سے مکمل استفادہ نہ کرنے جیسی خامی اِس بات کا سبب نہیں لیکن ’یو ایس ایڈ‘ کی جانب سے ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کو رواں برس ختم کرنے کی بنیادی وجہ ’صدر امریکہ ٹرمپ‘ کی ترجیحات ہیں جنہوں نے بیرون امریکہ ’یوایس ایڈ‘ کے پروگراموں کو بتدریج اور مرحلہ وار ختم کرنے کی بجائے فوری طور پر جہاں ہے اور جیسا ہے کہ بنیاد پر منجمند کرنے کے احکامات صادر فرما دیئے ہیں اور یہی وجہ ہے آنے والے چند ماہ کے دوران پاکستان میں ’یو ایس ایڈ‘ کی سرگرمیاں رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی جائیں گی۔ 

پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو حقوق نسواں اور صنفی مساوات کے اِس پروگرام کا جاری رہنا اِس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ ابھی اِس کے مقرر کردہ جملہ اہداف حاصل نہیں ہو پائے اور نہ ہی انتھک و پرخطر عملی مشقوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہونا شروع ہوئے ہیں کہ یکایک اِس حکمت عملی (پروگرام) میں شامل ذیلی منصوبے (پراجیکٹ) ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے‘ اور بعدازاں ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کی بساط بھی لپیٹ دی جائے گی۔ یہ ایک مایوس کن صورتحال ہے بالخصوص اُن تمام متعلقہ ’غیرسرکاری تنظیموں‘ کے لئے جو سال2018ء کے عام انتخابات سے قبل خواتین کی سیاسی عمل میں زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے کے حوالے سے کام کر رہی تھیں۔

سال 2010ء میں شروع ہونے والے ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کے چار بنیادی اہداف و مقاصد یہ تھے 1: انصاف تک رسائی‘ خواتین کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور اِس ذریعے سے صنفی مساوات کا حصول کیا جائے۔ 2: خواتین کو بذریعہ شعور و خواندگی خودمختار (بااختیار) بنانا اُور انہیں گھر‘ کام کاج کے ماحول اور معاشرے میں اپنے آئینی حقوق کے بارے علم ہو سکے۔ 3: صنفی بنیاد پر تشدد کی حوصلہ شکنی اور اِس منفی رویئے کے خلاف جدوجہدکرنا اور 4: ایسے اداروں کی استعداد میں اضافہ (سرپرستی) کرنا جو خواتین کو خودمختاری اور صنفی عدم مساوات کو ختم کرنے کی مہارت یا اِن شعبوں میں عملی کام کا تجربہ رکھتی ہیں۔ اِن چار بنیادی اہداف کے حصول کے لئے 12 مختلف مراحل میں الگ الگ مالی امداد مختص و فراہم کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان نے ’صنفی مساوات پروگرام‘ سے کیا سیکھا (حاصل کیا) اور اِس کے ثمرات و اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اِس حکمت عملی کو جاری رکھنا چاہئے‘ اگر ہاں تو کیوں؟

خیبرپختونخوا کے چار (ایبٹ آباد‘ ہری پور‘ سوات‘ پشاور) اور مجموعی طور پر پاکستان کے بارہ اضلاع میں خواتین کو انصاف تک رسائی کے تحت ایک ہزار سے زائد خواتین کو مفت قانونی امداد دی گئی بصورت دیگر وہ اپنے آئینی حقوق سے محروم رہتیں اور انتہاء یہ بھی ہو سکتی تھی کہ انہیں زندہ رہنے ہی سے محروم کر دیا گیا ہوتا! غنیمت نہیں تو کیا ہے کہ اِسی پروگرام کے تحت قریب چوبیس سو وکلاء (خواتین و حضرات) کے صنفی مساوات کے حوالے سے تصورات واضح کئے گئے۔ علاؤہ ازیں اضلاع کی سطح پر بار ایسوسی ایشن کی استعداد میں اضافہ کیا گیا۔ اِسی پروگرام کے تحت کم و بیش پانچ لاکھ خواتین کے قومی شناختی کارڈز بنوائے گئے اور ووٹر لسٹوں میں اُن کے ناموں کا اندارج کرایا گیا۔ ملک بھر میں خواتین کے لئے بارہ ’پناہ گاہیں‘ بنائی گئیں جہاں انہیں آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ خواتین کو ہنرمندی کی تربیت دی گئی۔ خواتین کو خودروزگار کے لئے مالیاتی اداروں سے آسان شرائط پر قرض دلوائے گئے۔ خواتین سے متعلق قوانین سازی کے عمل اور پہلے سے موجود قوانین کے بارے میں شعور اُجاگر کیا گیا۔ 

صنفی بنیاد پر تشدد معاشرے کے نسبتاً کمزور اکثریتی طبقے سے امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ دو سو سے زائد مقامی ’این جی اُوز (غیرسرکاری تنظیموں)‘ کو مالی امداد دی گئی‘ اُن کی استعداد میں اضافہ کیا گیا جو ایک ایسا اثاثہ ہے۔ اشاعتوں اور تشہیری مواد کے ذریعے صنفی بنیادوں پر تشدد کے بارے شعور میں اضافہ ایک ایسا مشکل ہدف تھا جس کا حصول سب سے بڑی کامیابی ہے اور اسی سے معاشرے میں ایک قسم کی برداشت بھی پیدا ہوئی۔

صنفی مساوات (خواتین کی ترقی و حقوق کا تحفظ) ایک ایسا موضوع اُور شعبہ ہے‘ جس کے حوالے سے حکومت پاکستان کی عملی اقدامات اُور دلچسپی کم ترین سطح پر ہے۔ سرکاری اداروں میں سوائے تنخواہیں‘ مراعات اُور بیرون ممالک دوروں سے زیادہ آگے کی سوچ نہیں پائی جاتی! اگر ’جینڈر ایکوٹی پروگرام‘ نامی حکمت عملی کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کی بجائے اِسے کم کرتے ہوئے ختم کیا جاتا ہے تو نقصان صرف اور صرف اُن خواتین کا ہوگا‘ جنہیں ایک طرف صنف کی بنیاد پر امتیازی روئیوں اور ناموافق ماحول کا سامنا ہے بلکہ اُن کے وراثت اور حق رائے دہی جیسے بنیادی آئینی حقوق بھی غصب ہیں! 
epaper.dailyaaj.com.pk/index.htm
or
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2017-02-22

Sunday, May 8, 2016

May2016: Non Political Police

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
غیرسیاسی پولیس۔۔۔؟!
خیبرپختونخوا کے محکمۂ پولیس میں اعلیٰ سطح پر ’سیاسی مداخلت‘ ختم کرنے کے مثبت اثرات تین سال بعد ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں۔ رکن صوبائی اسمبلی سردار سورن سنگھ کے قتل کا معمہ محض چند گھنٹوں اُور ضلع ایبٹ آباد کے ایک دُور افتادہ گاؤں مکول میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ جیسی گھناؤنی واردات کا سراغ بھی چند ہی روز میں لگا کر ’اِنسداد دہشت گردی‘ کی دفعات عائد کردی گئیں ہیں تو کیا یہ تبدیلی نہیں کہ پولیس اس قدر چوکنا اُور مستعد ہو گئی ہے؟ سردار سورن سنگھ رکن صوبائی اسمبلی تھے‘ جن کے قتل کی مذمت تحریک انصاف کے سربراہ سے لیکر حکمراں سیاسی جماعت کے ہر کارکن نے کی۔ وہ ایک ’ہائی پروفائل کیس‘ تھا اُور ہمارے ہاں پولیس کا ماضی ایسی متعدد مثالوں سے مزین ہے‘ جہاں خواص کے خلاف ہونے والی وارداتیں تو چٹکی بجاتے تھانے ہی کی سطح پر حل کر لی گئیں لیکن جہاں کہیں عام آدمی جرم کا شکار ہوا‘ تو وہاں پولیس سے رجوع کرنا گویا ستم بالائے ستم ٹھہرا۔ شہری و دیہی علاقوں میں پولیس کی گشت بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کے پولیس سربراہ ناصر درانی یقیناً’اَعدادوشمار‘ کی بنیاد پر اپنے محکمے کی کارکردگی پر مطمئن ہوں گے لیکن ہر جرم رپورٹ نہیں ہوتا اُور یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کے غوروخوض ضروری ہے۔ ناصر درانی اُنہیں اُس ’عمومی تاثر‘ کو بھی زائل کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہیءں‘ تاکہ پولیس اور تھانے کی ساکھ بہتر ہو۔

خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی میں غیرمعمولی بہتری کا نوٹس عالمی سطح پر بھی لیا گیا ہے اور بالخصوص اٹھائیس اپریل کو منظرعام پر آنے والے گلیات کے تھانہ ڈونگا گلی کے گاؤں مکول پائیں میں لڑکی کے قتل کی تحقیقات جس پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھائی جا رہی ہے‘ اُس پر خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی معروف غیرسرکاری تنظیم ’عورت فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے بھی قدرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کی سطح پر پنچائیت اور جرگے کی مذمت و عملی اقدامات کی ضرورت کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں اِس قسم کے واقعات رونما ہونے کے بعد پولیس پر کڑی تنقید کی جاتی تھی۔ احتجاجی مظاہرین اِس بات کا بھی مطالبہ کرتے تھے کہ پولیس جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن پولیس کلچر میں تبدیلی اپنوں اور غیروں کی نظر میں آنے سے توقعات کم نہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کے لئے عورت فاؤنڈیشن کی ریجنل ڈائریکٹر شبینہ ایاز پولیس کی کارکردگی سے سوفیصد مطمئن نہیں لیکن بہتری محسوس کرتے ہوئے انہوں نے خواتین کے خلاف ایسے درجنوں جرائم کا ذکر کیا ہے جو ہنوز تفتیشی مراحل سے گزر رہے ہیں یا سرے سے رپورٹ ہی نہیں ہورہے کیونکہ پولیس عوام دوست نہیں!‘‘ جائز سوال ہے کہ پولیس کا رعب و دبدبہ کہاں ہے؟ عمومی تاثر یہی ہے کہ جرائم کا ارتکاب اس لئے بھی کیا جاتا ہے کیونکہ تھانہ کچہری کی نزاکتیں‘ باریکیاں اور مراحل کی آسانی مالی وسائل سے مشروط ہے۔

معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس کے محکمے کا ’’مکمل غیرسیاسی‘‘ ہونا اگرچہ فوری ممکن نہیں لیکن ضروری ہے۔ قانون کی نظر ہر خاص وعام کو ایک نظر سے دیکھے‘ اگرچہ ایسا بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہا لیکن بہرکیف و بہرحال ضروری ہے۔ اگر ہم ضلع پشاور کے تھانہ جات ہی کی بات کریں تو آبادی کے تناسب سے افرادی قوت اور تکنیکی و فنی وسائل کی کمی کارکردگی کو متاثر کرنے جیسے دیگر کئی اسباب کا حصہ ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو ذہنی و جسمانی سکون اور آرام تو بہت دور کی بات اُنہیں پیشہ وارانہ استعداد بڑھانے کے لئے تربیت کے مواقع بھی خاطرخواہ نہیں ملتے۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز اہلکاروں کے بیرون ملک تربیتی دورے اور اُن کے علم ودانش میں اضافے کے کچھ نہ کچھ ثمرات تو روزمرہ معمولات کی گرداب میں پھنسے ہوئے اہلکاروں کو بھی منتقل ہونا چاہئے۔ اِنسپکٹر جنرل سے توقع ہے کہ وہ پہلی فرصت میں تھانہ جات کی سطح پر پائے جانے والے تحفظات‘ شکایات اُور ضروریات بارے باقی ماندہ کام مکمل کرنے کی رفتار میں اضافہ کریں گے۔ تھوڑے کہے کو بہت سمجھتے ہوئے اُنہیں دیکھنا ہوگا کہ خود اُنہی کے ’آس پاس‘ ایسے ’فرمان تابع‘ اہلکار بھی ہیں جو اُن کے اصلاحات و تبدیلی کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ پولیس فورس میں احتساب کا عمل جس زور و شور سے شروع کیا گیا‘ اُس بارے سست روی کا تاثر بھی ’سزا وجزأ‘ کے دائمی و اختیاری طرز عمل کا متقاضی ہے۔ پولیس سربراہ اگر معلوم کرنا چاہیں تو ایسے کئی اہلکار ملیں گے جو ایک ہی تھانے میں سالہا سال سے تعینات ہیں۔

دہشت گردی و بھتہ خوری جیسے منظم جرائم کے سہولت کاروں کی تلاش قطعی مشکل نہیں اگر ہر تھانے کو ایسے افراد کی فہرستیں مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے جو ایک سے زیادہ مقدمات میں ملوث ہیں اور تھانے سے مستقل رابطے میں رہتے ہیں جن کی آمدن کے ذرائع مشکوک و معلوم ہیں۔ ماضی میں سیاسی و انتظامی اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والوں کے بارے میں پولیس کے اپنے خفیہ تفتیشی شعبے کی مرتب کردہ رپورٹیں سردخانے کی نذر میں پڑی ہوئی ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ کہیں ’ادھر اُدھر‘ ہی نہ ہوجائیں۔ ناصر درانی سے زیادہ سنہرا (منفرد) موقع شاید ہی کسی پولیس سربراہ کو ملا ہو‘ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اصلاح و تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کی رفتار مزید کتنی بڑھا پاتے ہیں!؟
http://dailyaaj.com.pk/epaper/epaper/1462634497_201605072524.jpg

Friday, May 6, 2016

May2016: Violence against women in Abbottabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
درندگی کی انتہاء!
تصور کیجئے کہ ’عمائدین علاقہ پر مشتمل جرگہ بناء صفائی فرد جرم عائد کرتا ہے اُور مجرم قرار دی گئی لڑکی کو ’’سزائے موت‘‘ سناتا ہے۔ پھر اُسے گھسیٹ کر سب کے سامنے اِتنا پیٹا جاتا ہے کہ وہ مر جائے۔ ایک اطلاع کے مطابق ڈوپٹے سے پھندا بنا کر اُس کو سانسیں منقطع ہونے تک مارپیٹ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ نجانے کتنی ہی ہچکیاں اور چیخیں اُٹھی ہوں گی‘ لیکن ان کی گونج مقامی پولیس کے کانوں تک نہیں پہنچ سکی! ایک ہجوم جس میں شامل ہر ایک کی آنکھوں میں اس قدر خون اُترا تھا کہ اُنہیں ہاتھ اُٹھاتے ہوئے اپنی بیٹیاں یاد نہیں آئیں۔ پھر اُس لڑکی کی لاش کو آگ لگا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا جاتا ہے اور اُس بدقسمت لڑکی کا جرم صرف یہ ہوتا ہے کہ اُس کی ایک سہیلی اپنی پسند کی شادی کرنے کے لئے ’’بغاوت‘‘ پر اُتر آئی تھی! کسی کے ’جرم کی سزا‘ کسی اُور کو دے دی جاتی ہے! پھر جب جلی ہوئی لاش گاؤں سے ایبٹ آباد شہر کے وسطی ہسپتال منتقل ہوتی ہے تو ذرائع ابلاغ کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پولیس پر دباؤ بڑھتا ہے جو ’’غیرت کے نام پر ہونے والے اِس قتل‘‘ میں ملوث 14 افراد کو گرفتار کرتی ہے‘ اُن پر انسداد دہشت گردی کی دفعات میں مقدمہ درج کیا جاتا ہے اور عمومی تفتیش کی بجائے ’کاونٹر ٹریرازم ڈیپارٹمنٹ‘ عدالت سے مزید پوچھ گچھ کے لئے ریمانڈ حاصل کر لیتا ہے۔ یہ کہانی اٹھائیس اپریل سے شروع ہوتی ہے اور پانچ مئی کے روز سامنے آنے والی تفصیلات ’ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی اُو) ایبٹ آباد خرم رشید صحافیوں کے سامنے کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ ’’ضلع ایبٹ آباد کے مکول گاؤں میں عنبرین نامی لڑکی کے قتل کا معمہ پولیس نے حل کر لیاہے۔ پولیس نے لڑکی کے قتل میں ملوث چودہ ملزمان کو بھی گرفتار کیا ہے جس میں لڑکی کی والدہ شمیم بی بی اور ویلج کونسل ناظم پرویز نامی کردار شامل ہیں۔ ناظم پرویز نے پندرہ افراد پر مشتمل جرگہ منعقد کیا جس نے لڑکی کو پہلے دوپٹہ گلے میں ڈال کر پھندا لگایا اور بعدازاں اُسے گاڑی کی نشست کے ساتھ باندھ کر گاڑی کو آگ لگا دی۔ سیٹ پر چونکہ ریکسین اور چمڑا کی گدی بنی ہوتی ہے جو جلد بھڑکتے ہوئے شعلوں میں بدل گئی۔ ڈی پی او کے بقول اٹھائیس اپریل کو مکول میں پندرہ افراد پر مشتمل جرگہ صدیق نامی ڈرائیورکے گھر منعقد ہوا‘ جس میں صدیق نامی شخص کو چند روز قبل گاؤں سے ایک لڑکی کے فرار میں مدد کرنے کا الزام تھا‘ جرگہ کا سربراہ (ماسٹر مائنڈ) علاقہ کے ناظم پرویز نے (ملزمہ) لڑکی عنبرین کو قتل کرنے اور بعدازاں صدیق نامی شخص کی گاڑی میں زندہ جلانے کا فیصلہ سنایا اور قتل کے جملہ ثبوت مٹانے کے لئے ساتھ کھڑی دیگر دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا۔ اِس قتل کے سولہ میں سے چودہ ملزمان گرفتار جبکہ دو کی گرفتاری ابھی باقی ہے۔‘‘

جس ملک میں قانون کی حکمرانی کمزور اور انصاف تک بذریعہ عدالت رسائی صبرآزما‘ مہنگا اور ناقابل یقین حد تک دشوار و پیچیدہ عمل ہو‘ وہاں اِس قسم کے واقعات رونما (متبادل فیصلے) ہونے پر افسوس و حیرت کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔ ضلع ایبٹ آباد کے ایک دور اُفتادہ دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی بیس سالہ عنبرین قتل ہوئی‘ زندہ جلائی گئی اور اُس کی راکھ کے سوا کچھ نہیں بچا‘ جسے ’فرانزک تجزیئے‘کے لئے بھیج دیا گیا ہے لیکن وارداتیں‘ تفتیش اور روائتی مذمت کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک خواتین کو معاشرے کا کمزور ترین اور کم ترین سمجھا جاتا رہے گا۔ پاکستان میں ہر سال خواتین پر تشدد کے ہزاروں جبکہ قتل کے سینکڑوں واقعات رونما ہوتے ہیں! حکومت کی توجہ دلانے کے لئے ’عورت فاؤنڈیشن‘ سمیت کئی غیرسرکاری تنظیمیں باقاعدگی سے ایسے جرائم متعلق سالانہ رپورٹیں مرتب کرتی ہیں لیکن سب کا سب رائیگاں محسوس ہورہا ہے! عنبرین کا قتل بھی آئندہ کسی واردات تک خبروں (شہ سرخیوں) اور ذرائع ابلاغ پر ہونے والی بحث کا حصہ رہے گا۔ غیرملکی خبررساں ادارے بھی اِس خبر کو خوب اچھال رہے ہیں کیونکہ اِس سے پاکستان میں انسانی حقوق اور ایک عام عورت کی معاشرتی حیثیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے! جب تک خبر نشر ہوتی رہے گی اِس بارے معاشرے میں ہر سطح پر بحث بھی جاری رہے گی لیکن ’غیرت کے نام پر‘ کوئی ایک بھی ’قتل‘ اُس وقت تک ’آخری‘ ثابت نہیں ہوگا جب تک بااثر افراد کو نشان عبرت نہیں بنا دیا جاتا۔ تہذیب و تمدن‘ علم اُور فکروشعور کی منزلیں طے کرنے کا دعویٰ کرنے والے معاشرے کی ہرسطح پر‘ ہر معمول میں اگر عورت انصاف کی طلبگار ہے تو اسلامی و نظریاتی مملکت خداداد ہونے کے ’ عملی وقار کا تقاضا‘ یہ ہے کہ صنف نازک کے حقوق اُور اسلامی تعلیمات کے مطابق اُس کے جائز مقام کا ادراک و اَدائیگی میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔
http://dailyaaj.com.pk/epaper/epaper/1462463311_201605059045.jpg