Showing posts with label Skyians. Show all posts
Showing posts with label Skyians. Show all posts

Sunday, February 26, 2017

Feb2017: Social & Development Sectors Revolution!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انقلاب: گماں بہت ہے!؟
اُنیس سے پچیس فروری کے درمیان کراچی کو قریب سے دیکھنے کا موقع تو بہت سے راز کھلے جیسا کہ سال دوہزار سولہ میں کے دوران اگر 52 ہزار 552 سٹریٹ کرائمز (رہزانی و دیگر چھوٹے جرائم) رونما ہوئے تو صورتحال (اوسط) پہلے دو ماہ کے گزرنے پر زیادہ مختلف نہیں! ہر سمت پھیلتے کراچی میں اکثریت کی زندگی بے ہنگم اور بنیادی آبادی سہولیات سے محروم ایک انجانے خوف کا شکار ہے۔ کراچی نے ہنسنا اُور مسکرانا تو ترک نہیں کیا لیکن آنکھوں اور الفاظ میں چھپا دُکھ کہیں کہے اور کہیں بناء کہے صاف ظاہر تھا۔ پچیس سال قبل جب چھ ماہ کے لئے کراچی ’رینجرز‘ کے حوالے کیا گیا تو آج تک صورتحال میں بہتری ضرور آئی ہے‘ لیکن اِس قدر لمبے عرصے تک طاقت کے بے انتہاء استعمال کے باوجود بھی خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے‘ جس کی وجہ سے کراچی پر کبھی زیادہ تو کبھی کم گہرے خوف کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں! جن کے اثر سے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندہ وفود کی ورکشاب بھی محفوظ نہ رہ سکی اور اِس تربیتی نشست کے شرکاء زیادہ تر وقت ایک چاردیواری کی حد تک ہی محدود رہے۔ امریکہ کے امدادی ادارے ’یوایس ایڈ‘ کے مالی تعاون سے ’انسٹیٹویٹ آف بزنس منیجمنٹ (یونیورسٹی)‘ میں نشست کا انعقاد ’صنفی مساوات پروگرام‘ کے اختتام (اٹھائیس فروری) سے قبل انعقاد اگر اِس حکمت عملی کے آغاز میں کیا جاتا تو زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے تھے بہرحال ’این جی اُوز‘ کی دنیا میں سب باتیں اور حکمتیں سب کی سمجھ میں آ جائیں ایسا ضروری تو کیا ممکن بھی نہیں ہوتا۔ ایسی ہر نشست سوالات ختم کرنے کی بجائے اُن میں مزید اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔ سماجی ترقی میں صنفی کردار کی ماہرہ ڈاکٹر ثمرہ سے لیکر بزنس منیجمنٹ (فنڈ ریزنگ) کے کتابی تعارف کے بے تاج بادشاہ ’ڈاکٹر جاوید احمد نے محتاط اور کبھی کبھار غیر محتاط یعنی سچائی سے پاکستان میں ’صنفی مساوات‘ کے حوالے سے الجھنوں کو سلجھانے کی کوشش کی‘ جو اپنی جگہ قابل ستائش کوشش تھی۔

فروری کے تیسرے اور چوتھے ہفتے‘ کراچی میں قیام کا نادر موقع ایک ایسے وقت میں ملا جبکہ ملک میں امن کی بحالی کے لئے ایک نئی فوجی کاروائی نئے عزم اور نئے دعوؤں سے شروع کی گئی ہے لیکن برسرزمین حقائق کیا ہیں؟ کراچی کے رہنے والوں کی اکثریت یقین کی حد تک یہ بات زور دے کر کہتی ہے کہ سال دو ہزار سولہ کی طرح دوہزار سترہ بھی زیادہ مختلف ثابت نہیں ہوگا‘ کیونکہ انسداد دہشت گردی کا ہدف اُس وقت تک عملاً حاصل نہیں ہوسکتا جب تک سیاست اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان ایک دوسرے کی جملہ ضروریات پوری کرنے کے لئے تعاون (بشمول انتخابی کامیابی کی ضمانت تعلق) ختم نہیں کردیا جاتا۔ جب تک مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے بارے میں قوم کی رائے ایک نہیں ہو جاتی! کراچی میں رینجرز کی کامیاب کاروائی بھی اُس وقت تک منطقی طور پر اختتام پذیر نہیں ہوگی‘ جب تک اندرون سندھ اور پنجاب میں بلاامتیاز اور سخت گیر فوجی کاروائی عمل میں نہیں آتی۔ وقت ہے کہ پاکستان کے مفاد پر ہر قسم کی مصلحتوں کو قربان کردیا جائے!

کراچی صرف کاروباری اور صنعتی یا آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں بلکہ اِس کا ادبی چہرہ بھی ہے۔ اسکائنز نامی غیرسرکاری تنظیم کی روح رواں سقاف یاسر اور اِسی تنظیم کی نمائندہ سماجی کارکن‘ ایک ابھرتی ہوئی شاعرہ شائستہ چودھری کے ساتھ تبادلۂ خیال سے اِنسانی تاریخ کے تناظر میں عالمی اور بالخصوص کراچی کے عمومی حالات پر غور کرنے کا موقع ملا کہ صرف مادی ترقی کے علمبردار ہی نہیں بلکہ دنیا میں رونما ہونے والے سیاسی اور سماجی انقلابات میں شعراء‘ مصنفین اور دانشوروں کا کردار کلیدی رہا ہے جس کی بدولت (تناظر میں) آج کے درپیش مسائل (بحرانوں) کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی سماج یا معاشرے میں جہاں افراد معاشرتی انتشار‘ معاشی مشکلات اُور سماجی ناانصافیوں کا شکار ہوں وہاں سب سے پہلے علمی و ادبی طبقہ بیدار ہوتا ہے۔یہ طبقہ اپنی ادبی تخلیقات اور تقاریر سے عام افراد کو یہ احساس جگاتا ہے کہ اُنہیں معاشرتی استحصال کا اژدھا نگل رہا ہے‘ ایسی صورت میں کسی معاشرے میں انقلاب کی پیدائش (سماجی تغیر) ’’انسانی بیداری‘‘ کا ثمر ہوتے ہیں۔ برصغیر میں برطانوی سامراجی حکومت کے خلاف بیداری کی لہر جنوبی ایشیاء سے منسلک علمی و ادبی شخصیات نے بھی اُنیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے ابتدائی و درمیانی عرصے میں اہم تاریخی کردار ادا کیا۔ کراچی میں قیام کے دوران ’بائیس فروری‘ کا دن انقلابی شاعر جوشؔ ملیح آبادی (پانچ دسمبر 1894ء سے 22 فروری1982ء) کی برسی سے منسوب ہے‘ جنہوں نے برطانوی راج کے خلاف ہی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے بعد بھی تحریکِ آزادی کو فروغ دینے میں اپنی انقلابی، سیاسی و نظریاتی شاعری کے ذریعے اہم کردار اَدا کیا۔ ’’سنو اے بستگان زلف گیتی: ندأ کیا آ رہی ہے آسماں سے۔۔۔ کہ آزادی کا اِک لمحہ ہے بہتر: غلامی کی حیات جاوداں سے!‘‘

بیسویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک شاید ہی کوئی ایسا شاعر‘ ادیب‘ دانشور یا لکھاری ہو گا‘ جو جوشؔ کی شاعرانہ عظمت کا قائل یا اُن کی شاعری سے متاثر نہ ہو۔ جوشؔ کے ہاں معاشرے کے سلگتے سماجی مسائل پر بے باک تبصرہ ہے‘ وہ بھوک اور افلاس کی مذمت کرتے ہیں تو کبھی انسانی جہل پر نوحہ خوانی کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی ظالم حکمرانوں کو للکارتے ہیں اور کبھی عوامی فکری جمود اور بے حسی پر شکوہ کرتے ہیں! یہی طرزعمل (انسانی بیداری) لمحۂ موجود کی بھی ضرورت ہے کہ ہم میں ہر ایک (خاطرخواہ) ’جوش‘ کا مظاہرہ کرے! کراچی میں ہر قدم پر جوشؔ کی یاد آتی رہی۔ ’’جس دیس میں آباد ہوں بھوکے انسان: احساسِ لطیف کا وہاں کیا امکان۔۔۔اِک فکرِ معاش پر نچھاور سو عشق: اک نانِ جویں پہ لاکھ مکھڑے قربان!‘‘ 

جوشؔ کی شاعری کیا ہے مگر اُس میں انسان کو تقدم حاصل ہے اُور وہ عظمتِ انسان کی اساس ہے۔ کیا بُرا چاہتے ہیں اگر جوشؔ ’’انسان کی جبیں‘‘ پر سربلندی اور سرفرازی کا تاج سجا دیکھنا چاہیں! جوشؔ ہر اُس فکر‘ نظامِ حکومت اور نظامِ زندگی کو مسترد کرتے ہیں جو انسان کو اسیر کر کے فکری پرواز میں حائل ہوں‘ جوش مغربی سرمایہ داری‘ جاگیرداری‘ ایشیائی ملوکیت اور عرب مطلق العنانیت کے مخالف ہیں۔ جوشؔ نے اپنے اجداد کی مثل خود تو (بغاوت کی) تلوار نہیں اُٹھائی لیکن قلم (خیالات) کو بطور شمشیر استعمال کیا اور یہی انقلابی پیغام (لب لباب) گماں کی حدوں سے بہت آگے حالات کی تبدیلی کے لئے دعوت فکروعمل ہے۔

Feb2017: Trade Deficit & Brands

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خسارہ در خسارہ
پاکستان سے محبت عملی اظہار کی متقاضی ہے صرف قومی ترانے کے احترام میں کھڑا ہونا یا کسی ملی نغمے پر جھومنے کا نام ’حب الوطنی‘ نہیں بلکہ اِس کے کئی دیگر ایسے پہلو بھی ہیں جو خاطرخواہ غور نہ ہونے کی وجہ سے ہماری نظروں سے اُوجھل ہیں جیسا کہ غیرملکی درآمد شدہ اشیاء کا غیرضروری ’بطور آسائش یا فیشن استعمال۔‘ درآمدات پر بڑھتا ہوا یہ انحصار کسی بھی طرح نہ تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کے لئے خوش آئند (تعمیری) ہے اور نہ ہی اِس سے پیدا ہونے والا رہن سہن‘ عادات اور مقابلے کی فضاء سماجی شعور کے لئے مثبت و پائیداری کا باعث قرار دیا جاسکتا ہے۔ کراچی میں قیام کے دوران کئی ایسے کثیرالمنزلہ وسیع و عریض ’شاپنگ مراکز‘ جانے کا اتفاق ہوا‘ جو آمدنی کے خاص طبقات کی قوت خرید اور سوچ کی عکاسی کر رہے تھے اُور جہاں نظروں کو خیرہ کر دینے والی چمک دمک کے درمیان درجنوں کی تعداد میں غیرملکی اشیاء کی فروخت کے مراکز ایک سے بڑھ کر ایک کشش کا سامان رکھتے تھے لیکن اِس سے بھی زیادہ حیرت کا باعث یہ امر تھا کہ اِن انتہائی مہنگی غیرملکی اشیاء کی خریداری کے مراکز پرہجوم تھے! 

ڈولمین سنٹر ہی کی مثال لیں جہاں گندے اور گیلے پاؤں کے ساتھ گھسنے پر پابندی تو عائد کی گئی ہے لیکن وہاں خریدار کی ذریعہ آمدنی کیا ہے اور منٹوں میں ہزاروں لاکھوں روپے کی خریداری کرنے والی ذہنیت و قوت خرید کے پیچھے محرکات کیا ہیں‘ اِس بارے کوئی کسی سے نہ تو کچھ پوچھتا ہے اور نہ ہی پر رونق شاپنگ مالز میں کوئی ایک دوسرے سے نظریں ملاتا ہے‘ صرف اردگرد کے ماحول ہی سے نہیں بلکہ ’ڈولمین سٹی‘ میں خود سے بے نیازی عام دیکھی جا سکتی ہے جہاں یہاں وہاں بیٹھی‘ چلتی پھرتی یا پھر خریداری کرتی نسلوں کی نسلیں‘ قدم بہ قدم چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں!

پاکستان کا تجارتی خسارہ کیا ہے کیوں ہے اِس حقیقت کے بارے میں سبھی کو کچھ نہ کچھ معلوم ہے لیکن درآمدات پر بڑھتا ہوا انحصار اور ’برانڈز‘ کی ہوس نے صورتحال کو زیادہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے‘ اِس بارے زیادہ غور نہیں کیا جاتا۔ ملک کی قومی ائرلائن (پی آئی اے) نے مہنگی لیز پر A320 طیارے لئے جس میں سوار ہوتے ہی ’بزنس ریکارڈر‘ کی شہ سرخی پر نظر پڑی‘ کہ ’’اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کو کم کرنے والے خطرنات اور تجارتی خسارے پر کنٹرول کے لئے درآمد کی جانے والی کئی چیزوں پر ایک سو فیصد مارجن کا نفاذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے‘‘ اور یہ خبر نہایت ہی نمایاں طور پر شائع کی گئی تھا جبکہ دیگر قومی اخبارات میں اِس خبر کو اگرچہ زیادہ اہمیت نہیں دی گئی لیکن خوش آئند تھا کہ ہمارے کسی قومی ادارے کو (کم سے کم) اِس بات سے خطرہ تو محسوس ہوا ہے کہ غیرملکی ثقافت اور رہن سہن کی نقل یا اُسے اپنانے کی دھن کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔ 

درآمدات پر انحصار کم کرنے کی اِس کوشش کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہونے کی زیادہ توقع نہیں کیونکہ جو طبقہ مہنگی ’برانڈیڈ(branded)‘ اشیاء کی خریداری کا عادی ہے‘ اور وہ اُس کے معمول کی رہن سہن کا جز بن چکا ہے وہ ان اقدامات سے نہ تو متاثر ہوگا اور نہ ہی درآمدی اشیاء کی حوصلہ شکنی ممکن ہو سکے گی! یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جن اشیاء کی درآمد پر سو فیصد مارجن کے نفاذ میں گاڑیاں اُور اُن کے پرزہ جات‘ موبائل فون‘ سگریٹ‘ جیولری‘ کاسمیٹکس‘ ذاتی استعمال کی اشیاء‘ برقی و دیگر گھریلو آلات اور اسلحہ شامل ہے لیکن محض برآمدات کی اس طرح حوصلہ شکنی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ اُن کے متبادل اشیاء پاکستان کے اندر (میڈ اِن پاکستان) فخریہ طور پر تیار نہیں ہوں گی۔

پاکستان کی معروف جامعہ ’انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (کراچی)‘ کے معلم مدحت صاحب جب ’برانڈنگ‘ کے حوالے سے کاروباری حکمت عملی کے مختلف پہلوؤں کو کھول کھول کر بیان کر رہے تھے تو اُس دوران ایک موقع پر یہ نکتہ بھی زیربحث آیا کہ کسی برانڈ کی خصوصیات میں اُس کا معیار اور پائیداری بھی شامل ہوتی ہے۔ کیا پاکستان میں ایسی مصنوعات نہیں بن سکتیں جو معیار و پائیداری میں اپنی مثال آپ ہوں؟ کیا ’میڈ اِن پاکستان‘ برانڈ قابل بھروسہ نہیں ہوسکتا؟ ملک کے ہر شہر میں سڑکوں پر درآمد شدہ گاڑیوں کی تعداد میں ہرسال اضافہ ہو رہا ہے تو کیا یہ ترقی اور قوت خرید بڑھنے کی عکاسی ہے یا کچھ اُور؟ ذہن نشین رہے کہ سال دوہزار پندرہ سولہ کے دوران ایک ارب چھبیس کروڑ تیس لاکھ امریکی ڈالرز کی غیرملکی گاڑیاں اور پرزہ جات پاکستان درآمد کئے گئے۔ یہ اضافہ سالانہ کم وبیش چالیس بنتا ہے جبکہ رواں مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) کے اعدادوشمار کے مطابق الاماشاء اللہ‘ سات ماہ کے دوران غیرملکی گاڑیوں کی مد میں پاکستان ایک ارب ایک کروڑ ڈالر کی درآمدات کر چکا ہے! اِسی طرح موبائل فون کا استعمال بھی ہمارے ہاں حسب ضرورت یا حسب آمدنی و حال نہیں۔ حیرت انگیز طور پر گذشتہ مالی سال (دوہزار پندرہ سولہ) کے دوران پاکستان میں نصف ارب سے زیادہ (66 کروڑ 70لاکھ ڈالر) مالیت کے موبائل فون درآمد کئے گئے جبکہ رواں برس (دوہزار سترہ) میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے! 

رواں مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) کے ابتدائی سات ماہ کے دوران موبائل فون کی درآمدات تینتیس کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہیں! کیا یہ عجب نہیں کہ ہمارے تعلیمی اِداروں میں تحقیق تو ہو رہی ہے لیکن اُسے عملی طور پر اختیار نہیں کیا جارہا؟ یہی وجہ تھی کہ امریکہ کے امدادی ادارے یو ایس ایڈ (USAid)‘ نے ’صنفی مساوات پروگرام (جینڈر ایکویٹی پروگرام)‘ میں اِس بات کو بھی شامل کیا کہ صنعتی شعبے سے متعلق ’نئے تصورات (آئیڈیاز)‘ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اِس سلسلے میں ’سرحد چیمبرآف کامرس‘ (پشاور) کے زیراہتمام رواں ہفتے ایک مقابلے کا انعقاد بھی ہوا‘ جس میں ایک نجی جامعہ ’سرحد یونیورسٹی‘ کے ہونہاروں نے ’پہلی پوزیشن‘ حاصل کی اور اِسی نوعیت کے پروگرام ملک گیر سطح پر جاری ہیں جیسا کہ ایک ورکشاپ میں سیالکوٹ سے مدعو ڈاکٹر زریں فاطمہ سے تبادلۂ خیال میں معلوم ہوا کہ پاکستانی جامعات میں ہونے والی چھوٹے پیمانے کی تحقیق کو صنعتوں تک منتقل کرنے اور اُن کی ضرورت (نیڈ بیسڈ) کے مطابق تحقیق کا عمل جاری ہے تو اُمید کے چراغ روشن ہوئے کہ ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!‘‘

پاکستانی فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ یکساں ضروری یہ امر بھی ہے کہ نوجوان نسل کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے ہاں تحقیق و صنعتی معیار بلند کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ توجہ مرکوز رہے کہ محنت کشوں کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر یہ ہدف حاصل نہیں ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں صرف صنعتکاروں کے اثاثوں میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ معیاری صحت و تعلیم اور بنیادی و خصوصی سہولیات ہر خاص و عام کے لئے یکساں فراہم کی جاتی ہیں۔ 

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اکتوبر دوہزار سولہ کے بعد سے رواں ماہ کے وسط میں کم ہوئے ہیں تو اِس کا پائیدار حل موجود ہے‘ لیکن اُس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا توکیوں؟ سردست پاکستان میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر اکیس اعشاریہ نو ارب ڈالر ہیں‘ جبکہ اسی عرصے کے دوران گذشتہ سال یہ چوبیس ارب ڈالر سے زیادہ تھے! تعلیم و تحقیق اور سماجی سطح پر شعور اُجاگر کرنے کی ذمہ داری اگر سیاسی حکومت پر عائد ہے تو مرکزی بینک کو درآمدات میں اضافے کی حوصلہ شکنی کے لئے رسمی اور واجبی نمائشی اقدامات سے کچھ زیادہ‘ کچھ جنوبی و انقلابی اقدام کرکے دکھانا ہوگا‘ بالخصوص اشیائے خوردونوش کی درآمدات کم کرنے کے لئے سوچ بچار عام کرنا ہو گی۔ اگر پاکستانی کچھ کھا یا پی رہے ہیں تو اِس سے قبل بھی سوچ کر فیصلہ کریں‘ اِس قدر شعور خودبخود پیدا نہیں ہوگا۔ غیرملکی درآمد شدہ آئس کریم اور مشروبات پر پانی کی طرح پیسہ بہانے کی حوصلہ شکنی کے ساتھ متبادل زیادہ بہتر برانڈز متعارف کرانے کی صورت ہدف کا حصول پائیداری سے حاصل کرنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ 

پاکستان جیسا زرعی ملک کہ جس کی 75فیصد سے زائد معیشت کھیتی باڑی سے وابستہ ہے اگر وہ کھانے پینے کی اشیاء کی درآمدات پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تو کیوں؟ سال دوہزار پندرہ سولہ کے دوران مجموعی طور پر چار ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کی اشیائے خوردونوش پاکستان ہضم کر گیا اور اگر پاکستان رواں مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) میں اب تک‘ دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر ڈکار چکا ہے تو یہ قطعی معمولی نہیں اور نہ ہی مثبت (قابل رشک) رجحان ہے۔ کاش کہ ہم سمجھ سکتے کہ پاکستان اور پاکستانیت کے بھی کچھ الگ الگ تقاضے ہیں! 

Wednesday, February 22, 2017

Feb2017: Gender Equity Program & possibilities!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صنفی مساوات: ممکنات کی حد!
پاکستان میں امریکہ کے امدادی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ کی سرگرمیاں کم وبیش 100سے زائد شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں جن میں صنفی مساوات پروگرام (جینڈر ایکویٹی پروگرام) ایک ایسا عنصر ہے‘ جو اپنی اہمیت و افادیت کے لحاظ سے منفرد و غیرمعمولی ہے۔ خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمے اور مساوات پر مبنی تصورات کی تبلیغ و تشہیر کرنے کی اِس حکمت عملی کا اطلاق ’عورت فاؤنڈیشن‘ کے ذریعے کیا گیا جن کی زیرنگرانی ضلعی سطح پر ذیلی غیرسرکاری تنظیموں (این جی اُوز) نے ملک گیر سرگرمیاں کے ذریعے ایک معاشرے میں ایک ایسی سوچ کو پروان چڑھایا۔ اِسی پروگرام کا نتیجہ تھا کہ مرد اور خاتون کے درمیان صنفی اور جنسی امتیازات کے درمیان باریک فرق کو واضح کیا گیا اور معاشرے کی ترقی میں اِن دونوں اکائیوں کے کردار سے یکساں استفادہ کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے یہ تصور پیش کیا گیا کہ ترقی کا معنوی عمل صنفی اکائیوں کے درمیان افراق و تفریق سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ اور ترقی کے یکساں مواقعوں کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کے تحت پاکستان کے لئے امریکی امداد کا حجم ’’چار کروڑ (40ملین) ڈالر تھا جس کا ساٹھ فیصد سے کم حصہ ہی استعمال کیا جاسکا۔ اگرچہ بیرونی امداد سے ملنے والے مالی وسائل سے مکمل استفادہ نہ کرنے جیسی خامی اِس بات کا سبب نہیں لیکن ’یو ایس ایڈ‘ کی جانب سے ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کو رواں برس ختم کرنے کی بنیادی وجہ ’صدر امریکہ ٹرمپ‘ کی ترجیحات ہیں جنہوں نے بیرون امریکہ ’یوایس ایڈ‘ کے پروگراموں کو بتدریج اور مرحلہ وار ختم کرنے کی بجائے فوری طور پر جہاں ہے اور جیسا ہے کہ بنیاد پر منجمند کرنے کے احکامات صادر فرما دیئے ہیں اور یہی وجہ ہے آنے والے چند ماہ کے دوران پاکستان میں ’یو ایس ایڈ‘ کی سرگرمیاں رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی جائیں گی۔ 

پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو حقوق نسواں اور صنفی مساوات کے اِس پروگرام کا جاری رہنا اِس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ ابھی اِس کے مقرر کردہ جملہ اہداف حاصل نہیں ہو پائے اور نہ ہی انتھک و پرخطر عملی مشقوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہونا شروع ہوئے ہیں کہ یکایک اِس حکمت عملی (پروگرام) میں شامل ذیلی منصوبے (پراجیکٹ) ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے‘ اور بعدازاں ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کی بساط بھی لپیٹ دی جائے گی۔ یہ ایک مایوس کن صورتحال ہے بالخصوص اُن تمام متعلقہ ’غیرسرکاری تنظیموں‘ کے لئے جو سال2018ء کے عام انتخابات سے قبل خواتین کی سیاسی عمل میں زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے کے حوالے سے کام کر رہی تھیں۔

سال 2010ء میں شروع ہونے والے ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کے چار بنیادی اہداف و مقاصد یہ تھے 1: انصاف تک رسائی‘ خواتین کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور اِس ذریعے سے صنفی مساوات کا حصول کیا جائے۔ 2: خواتین کو بذریعہ شعور و خواندگی خودمختار (بااختیار) بنانا اُور انہیں گھر‘ کام کاج کے ماحول اور معاشرے میں اپنے آئینی حقوق کے بارے علم ہو سکے۔ 3: صنفی بنیاد پر تشدد کی حوصلہ شکنی اور اِس منفی رویئے کے خلاف جدوجہدکرنا اور 4: ایسے اداروں کی استعداد میں اضافہ (سرپرستی) کرنا جو خواتین کو خودمختاری اور صنفی عدم مساوات کو ختم کرنے کی مہارت یا اِن شعبوں میں عملی کام کا تجربہ رکھتی ہیں۔ اِن چار بنیادی اہداف کے حصول کے لئے 12 مختلف مراحل میں الگ الگ مالی امداد مختص و فراہم کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان نے ’صنفی مساوات پروگرام‘ سے کیا سیکھا (حاصل کیا) اور اِس کے ثمرات و اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اِس حکمت عملی کو جاری رکھنا چاہئے‘ اگر ہاں تو کیوں؟

خیبرپختونخوا کے چار (ایبٹ آباد‘ ہری پور‘ سوات‘ پشاور) اور مجموعی طور پر پاکستان کے بارہ اضلاع میں خواتین کو انصاف تک رسائی کے تحت ایک ہزار سے زائد خواتین کو مفت قانونی امداد دی گئی بصورت دیگر وہ اپنے آئینی حقوق سے محروم رہتیں اور انتہاء یہ بھی ہو سکتی تھی کہ انہیں زندہ رہنے ہی سے محروم کر دیا گیا ہوتا! غنیمت نہیں تو کیا ہے کہ اِسی پروگرام کے تحت قریب چوبیس سو وکلاء (خواتین و حضرات) کے صنفی مساوات کے حوالے سے تصورات واضح کئے گئے۔ علاؤہ ازیں اضلاع کی سطح پر بار ایسوسی ایشن کی استعداد میں اضافہ کیا گیا۔ اِسی پروگرام کے تحت کم و بیش پانچ لاکھ خواتین کے قومی شناختی کارڈز بنوائے گئے اور ووٹر لسٹوں میں اُن کے ناموں کا اندارج کرایا گیا۔ ملک بھر میں خواتین کے لئے بارہ ’پناہ گاہیں‘ بنائی گئیں جہاں انہیں آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ خواتین کو ہنرمندی کی تربیت دی گئی۔ خواتین کو خودروزگار کے لئے مالیاتی اداروں سے آسان شرائط پر قرض دلوائے گئے۔ خواتین سے متعلق قوانین سازی کے عمل اور پہلے سے موجود قوانین کے بارے میں شعور اُجاگر کیا گیا۔ 

صنفی بنیاد پر تشدد معاشرے کے نسبتاً کمزور اکثریتی طبقے سے امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ دو سو سے زائد مقامی ’این جی اُوز (غیرسرکاری تنظیموں)‘ کو مالی امداد دی گئی‘ اُن کی استعداد میں اضافہ کیا گیا جو ایک ایسا اثاثہ ہے۔ اشاعتوں اور تشہیری مواد کے ذریعے صنفی بنیادوں پر تشدد کے بارے شعور میں اضافہ ایک ایسا مشکل ہدف تھا جس کا حصول سب سے بڑی کامیابی ہے اور اسی سے معاشرے میں ایک قسم کی برداشت بھی پیدا ہوئی۔

صنفی مساوات (خواتین کی ترقی و حقوق کا تحفظ) ایک ایسا موضوع اُور شعبہ ہے‘ جس کے حوالے سے حکومت پاکستان کی عملی اقدامات اُور دلچسپی کم ترین سطح پر ہے۔ سرکاری اداروں میں سوائے تنخواہیں‘ مراعات اُور بیرون ممالک دوروں سے زیادہ آگے کی سوچ نہیں پائی جاتی! اگر ’جینڈر ایکوٹی پروگرام‘ نامی حکمت عملی کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کی بجائے اِسے کم کرتے ہوئے ختم کیا جاتا ہے تو نقصان صرف اور صرف اُن خواتین کا ہوگا‘ جنہیں ایک طرف صنف کی بنیاد پر امتیازی روئیوں اور ناموافق ماحول کا سامنا ہے بلکہ اُن کے وراثت اور حق رائے دہی جیسے بنیادی آئینی حقوق بھی غصب ہیں! 
epaper.dailyaaj.com.pk/index.htm
or
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2017-02-22

Sunday, February 19, 2017

Feb2017: Women Participation in Elections

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عام انتخابات: خواتین ووٹ سے محروم کیوں!؟

خیبرپختونخوا کے پندرہ اضلاع میں اہلیت کے باوجود خواتین ووٹ ڈالنے سے محروم ہیں اِس سلسلے میں کئے گئے ابتدائی اور بنیادی نوعیت کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ایبٹ آباد میں غیررجسٹرڈ شدہ ووٹر خواتین کی تعداد 1161 ہے جبکہ بنوں 38429‘ بٹ گرام 4887‘ بونیر4679‘ چارسدہ29780‘ چترال5153‘ ہری پور 7001‘کرک 16558‘ کوہاٹ 25545‘ لکی مروت 17481‘مالاکنڈ 13905‘مانسہرہ 21733‘ شانگلہ5135 ‘صوابی 25768اُور ٹانک میں ایسی خواتین کی تعداد 7588 بتائی گئی ہے جن کے نام ووٹر فہرستوں میں درج نہیں لیکن خواتین کی ایک بڑی تعداد کو عام انتخابات سے الگ رکھنے کی بات صرف کسی ایک صوبے کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں 992629 (نو لاکھ بانوے ہزار چھ سو اُنتیس) خواتین اہل ہونے کے باوجود اگر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے حق سے محروم ہیں تو طرزعمل اصلاح چاہتا ہے۔

’’روشن پاکستان‘‘ کے عزم سے امریکہ کا اِمدادی اِدارہ ’یوایس ایڈ‘ 4 کروڑ 50لاکھ ڈالر مالیت کی ایک ایسی بیش قیمت حکمت عملی بنام ’’سٹیزن وائس پراجیکٹ‘‘ کی مالی سرپرستی کر رہا ہے جس کے تحت ’عوام کی اپنے حقوق سے آگاہی اُور امتیازات و دھاندلی سے پاک انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لئے ’’ٹرسٹ فار ڈیموکریسی اَیجوکیشن اینڈ اکاونٹ بیلٹی (TDEA)‘‘ عملی معاونت کر رہا ہے‘ جس کا حصہ ’فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافین)‘ تعارف کا محتاج نہیں۔ یہاں ایک تکنیکی سقم موجود ہے۔ فافین کی مہارت چونکہ عام انتخابات میں شراکت داری اور انعقاد میں شفافیت سے جڑے امور سے ہے‘ اُور چونکہ اِس غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) کا نیٹ ورک ملک میں سب سے بڑا ہے‘ اِس لئے ’’سٹیزن وائس پراجیکٹ‘‘ کا منصوبہ ’ہائی جیک‘ کر کے اِس کی معنویت و فعالیت محدود کردی گئی ہے! اُمید کی جاتی ہے کہ ’یو ایس ایڈ‘ اِس فکری پہلو پر غور کرے گی‘ تاکہ ’’سٹیزن وائس پراجیکٹ‘‘ کے جملہ اہداف حاصل کئے جا سکیں۔ 

تو بات ہو رہی تھی اُس ملک گیر نمائندہ جائزے کی جس سے معلوم ہوا کہ ملک کے ہر حصے میں اہل خواتین کی ایسی تعداد موجود ہے جن کے ’ووٹ‘ رجسٹرڈ نہیں اُور اِس کی کئی وجوہات بھی سامنے آئی ہیں جیسا کہ 1: سماجی دباؤ۔ 2: قومی شناختی کارڈ کا نہ ہونا۔ جائیداد کے کاغذات یا دیگر شناختی دستاویزات کا نہ ہونا۔ 3: اقتصادی دباؤ (غربت)۔ 4: شعور نہ ہونا کہ ووٹ رجسٹرڈ کرانا اُور انتخابی عمل میں حصّہ لینا کیوں ضروری ہے اُور 5: ووٹ رجسٹرڈ کرانے کے عمل بارے معلومات یا سہولیات کا نہ ہونا۔ ’’سٹیزن وائس پراجیکٹ‘‘ کے مرتب کردہ اعدادوشمار مختلف اضلاع میں کام کر رہی غیرسرکاری تنظیموں (این جی اُوز) میں تقسیم کر دیئے گئے ہیں‘ تاکہ جہاں کہیں خواتین کے ووٹ رجسٹرڈ نہیں اور جن کی تعداد بھی معلوم ہے تو اُنہیں الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ کرانے کا بندوبست کیا جائے۔ اِس سلسلے میں مرتب کی جانے والی حکمت عملی کثیرالجہتی ہے جس کے تحت تربیتی نشستوں کا انعقاد ہوگا جس میں سیاسی جماعتیں‘ انتخابی اُمیدوار یا اُن کے نمائندے‘ صحافی‘ دیگر اسٹیک ہولڈرز‘ متعلقہ عمائدین‘ مقامی این جی اوز‘ عام انتخابات میں حصہ لینے والا عملہ اور الیکشن کمیشن کے اہلکاروں کو شریک کیا جائے گا۔ اِسی حکمت عملی کے تحت ملک گیر سطح پر بحث و مباحثوں کی نشستیں (فورمز) کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ موضوع پر تبادلۂ خیال سے وضاحت ہوتی چلی جائے۔ قومی شناختی اور ووٹ رجسٹر کرنے کے لئے سہولیات و معلومات کی فراہمی کا اہتمام کرنا بھی حکمت عملی کا حصّہ ہے جبکہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی موبائل وینز کا بندوبست کرنا تاکہ خواتین کم وقت اور باسہولت انداز میں قومی شناختی کارڈز کا اجرأ کروا سکیں اُور صرف یہی نہیں بلکہ خواتین کو ایسے اسباب و وسائل (سہولیات) فراہم کی جائیں گی جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے وہ الیکشن کمیشن دفاتر جا کر اپنے ووٹ کا اندراج کروا سکیں۔ اِس سلسلے میں ذرائع ابلاغ (پرنٹ الیکٹرانک میڈیا) اُور سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) کی فعالیت و کردار سے بھی استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ علاؤہ ازیں صوتی و نشری مواد (آڈیو ویڈیو پراڈکشنز)‘ موبائل فونز پر مختصر پیغامات ایس ایم ایس اُور ایسے خصوصی سافٹ وئرز (موبائل ایپس) سے مدد لی جائے گی‘ جن کا استعمال بالخصوص نوجوان نسل میں مقبول ہیں۔ پوسٹرز‘ پمفلٹ اور معلوماتی مواد کی اشاعت و تقسیم بھی حکمت عملی کا حصّہ ہے‘ جبکہ ریڈیو اُور ٹیلی ویژن پر ٹاک شوز کے ذریعے اِس موضوع پر متعلقہ ماہرین کے تبصرے اور گھر گھر جا کر کیمونٹی سے بات چیت کی مشقیں‘ سٹریٹ تھیٹر‘ عوامی اجتماعات کے مقامات پر کیمپ لگا کر خواتین کی انتخابی عمل میں شراکت بارے شعور اُجاگر کیا جائے گا اور اسی سلسلے میں مزدور (لیبر) یونینز‘ لیڈی ہیلتھ ورکرز‘ بلدیاتی نمائندوں (خواتین کونسلرز) کے ذریعے گھر گھر پیغام پہنچانے کو حکمت عملی کا جز بنایا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ دس لاکھ اہل خواتین ایسی ہیں جن کے ووٹ رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے وہ عام انتخابات میں حق رائے دہی استعمال نہیں کرسکتیں۔ یہ بات بھی لمحہ فکریہ ہے کہ خواتین کل رجسٹرڈ ووٹوں کا 43.7 فیصد ہیں اور اِس قدر کم تعداد میں خواتین کی ووٹر لسٹوں میں موجودگی کا سبب یہ ہے کہ اُن کے قومی شناختی کارڈز نہیں بنے یا دانستہ طور پر نہیں بنوائے جاتے۔ خواتین کو عام انتخابات سے الگ رکھنے کی حوصلہ شکنی کے لئے قانون سازی بھی زیرغور ہے۔ مجوزہ قانون (الیکشن بل 2017ء) کی نقل قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے بلاقیمت حاصل کی جاسکتی ہے جس کی شق 47 ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے کہ اگر کسی قومی اسمبلی کے حلقے میں خواتین ووٹرز کی تعداد مرد ووٹرز کی تعداد سے 10فیصد کم ہو تو ایسے حلقوں کو نظرانداز کرنے کی بجائے خواتین کے ووٹ رجسٹرڈ کرنے کے لئے مہمات چلائی جائیں۔ 

نئی قانون سازی اگر آئندہ عام انتخابات سے قبل عملاً ممکن ہو جاتی ہے تو اِس سے الیکشن کمیشن اور ’نادرا‘ پر یہ ’’آئینی ذمہ داری‘‘ عائد ہو جائے گی کہ وہ خواتین کے قومی شناختی کارڈز اور اُن کے ووٹ رجسٹرڈ کرنے کے لئے روائتی کام کاج کے طریقوں سے ہٹ کر خصوصی انتظامات کریں اور اِس ہدف کے حصول کو عملاً یقینی بنائیں۔ ضرورت اِس امر کی بھی ہے کہ نئی قانون سازی کو زیادہ جامع بناتے ہوئے کامیاب اُمیدواروں کے لئے لازمی قرار دیا جائے کہ کسی انتخابی حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کا کم سے کم 51فیصد حاصل کریں‘ بصورت دیگر متعلقہ حلقے میں انتخابی عمل اُس وقت تک بار بار دہرایا جائے جب تک کسی اُمیدوار کو ووٹ ملنے کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ نہیں ہو جاتی! ووٹروں کو انتخابی عمل میں شریک کرنا نہ صرف جمہوریت کی بنیادی شرط اور تقاضا ہے بلکہ یہی مستقبل کی ضرورت ہے۔ فافین کے بقول کسی اچھے لیڈر (رہنما) کی خصوصیات میں شامل ہے کہ ’’وہ عوام اور علاقے کی ضروریات سے باخبر ہو‘ عوام سے ہر وقت رابطے میں رہے‘ عوام کے سامنے جوابدہ ہو‘ الیکشن کمیشن کے مقررکردہ ضابطۂ اخلاق کا پابند ہو‘ ووٹ حاصل کرنے کے لئے غیرقانونی ذرائع (تھانہ کچہری‘ دھونس دھاندلی مالی وسائل) کا استعمال نہ کرے اور وہ اجتماعی مسائل حل کرنے کی بصیرت کے ساتھ عملی اقدامات بھی کرے۔‘‘ کیا ہمارے ’’لیڈر‘‘ قابلیت کے اِس کم سے کم معیار پر پورا اُترتے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں عام انتخابات کی ساکھ اور قابل بھروسہ رہ جاتی ہے اگر اِس عمل سے ووٹ دینے کی اہل خواتین کو دانستہ یا غیردانستہ طور پر الگ رکھا جاتا ہے؟

Thursday, May 28, 2015

May2015: LG Polls & Women Participation!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
خواب آلود حقائق
مقامی حکومتوں کا قیام‘ فیصلہ کن مرحلے تک آ پہنچا ہے اور آئندہ چوبیس گھنٹے (تیس مئی کا دن) انتہائی اہم ہے جب خیبرپختونخوا کے رہنے والے اُس قیادت کا انتخاب کر رہے ہوں گے جس نے اقتدار کو نچلی سطح پر منظم اور اُس بنیادی حکومت کے تصور کو عملی شکل دینا ہوگی جو ملک کے جمہوری نظام کے لئے ایک ستون جیسا کلیدی کردار ادا کرے گا۔ مثال کے طور پر دیہی و ہمسائیگی کونسل کی وجہ سے عام آدمی فیصلہ سازی کے عمل میں فعالیت کے ساتھ شریک اُور حصہ دار بن جائے گا۔ یہی وہ خواب تھا جس کے لئے کئی دوست ممالک بشمول امریکہ حکومت کے اِمدادی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ اور اُن کے مقامی شریک کار ’اسکائنز‘ نے سالہا سال سے کوششیں کیں۔ مقامی حکومتوں کے نظام کی اہمیت سے متعلق نہ صرف شعور اُجاگر کیا بلکہ اِس مطالبے کو زندہ بھی رکھا اور یہی ثمر ہے کہ مقامی حکومتیں قائم ہونے جا رہی ہیں لیکن کیا اِس نظام سے جڑی وہ تمام ’توقعات‘ پوری ہوپائیں گی‘ جس کا خواب یا خلاصہ خیرخواہوں اور منصوبہ سازوں کے تخیل و تصورات کی دنیا کو آباد کئے ہوئے ہے؟

مقامی حکومتوں کا نظام اُس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہوگا جب تک اس میں ’خواتین کی بھرپور یا مکمل شراکت داری‘ عملاً دکھائی نہیں ہوتی بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ خواتین کی مردوں سے زیادہ اور بڑھ چڑھ کر شراکت ناگزیر ہے‘ جو موجودہ صورتحال میں سیاسی جماعتوں اور اُن کے فیصلوں پر مردوں کی اجارہ داری کے باعث ممکن نہیں ہوسکی۔ سیاسی جماعتوں نے سمجھ لیا ہے کہ اُنہوں نے خواتین کے لئے مخصوص نشستیں مقرر کرکے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیا ہے وہ کافی ہے جبکہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی مخصوص خواتین کا ایوانوں میں کردار نہ ہونے کی حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ خواتین کو مرد اراکین کی طرح نہ تو مساوی بنیادوں پر وزارتیں‘ عہدے اور ترقیاتی فنڈز دیئے جاتے ہیں اور نہ ہی قانون سازی کی سطح پر وہ اتنی بااختیار ہوتی ہیں کہ اگر اُن کا تعلق برسراقتدار جماعت سے ہے تو وہ کسی حکومتی فیصلے پر مستورات کے نکتۂ نظر سے اظہار خیال ہی کرسکیں۔ جب تک خواتین کے ساتھ ’مخصوص‘ اور اُن کی قانون ساز ایوانوں میں موجودگی سیاسی جماعتوں کے رحم وکرم پر ہے‘ اِس پورے منظرنامے میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ خواتین کو سوچنے‘ سمجھنے‘ بولنے اور سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے سوا چارہ نہیں رہا۔ سیاسی جماعتوں کی سطح پر خواتین کی اکادکا موجودگی اور برائے نام شرکت (مشاورت) کو زیادہ سے زیادہ معنی خیز بنانے کے بعد ہی مقامی حکومتوں کی سطح تک اِس کے ثمرات منتقل ہو سکتے ہیں۔

اِس مرحلۂ فکر پر انتخابات کے نگران ادارے ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ خواتین کے حق رائے دہی پر ضرب لگانے اور انہیں برائے نام استعمال کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ جن انتخابی حلقوں میں خواتین کو حق رائے دہی سے محروم رکھا جاتا ہے وہاں کے انتخابی نتائج کسی صورت تسلیم نہیں ہونے چاہیءں بلکہ خواتین کے کل رجسٹرڈ شدہ ووٹوں کا تناسب پچاس فیصد سے کم ہونے کی صورت میں دوبارہ پولنگ کی شرط اگر قانون ساز نہیں کر رہے تو اسے انتخابی قواعد کا حصہ بھی بنایا جاسکتا ہے تاکہ سیاسی جماعتیں بہ امر مجبوری ہی سہی لیکن خواتین کو پس پشت رکھنے کی بجائے اُنہیں آگے آنے کا موقع دیں۔ سماجی‘ خاندانی اور ذات پات کی روایات نے ہمیں جس انداز میں جھکڑ رکھا ہے‘ اُس سے خواتین بطور معاشرے کے ایک کمزور طبقے متاثر ہورہی ہیں اور باوجود اِس حقیقت کا ادراک ہونے کے بھی ’سلے سلائے (ریڈی میڈ)‘ انتظامات‘ اقدامات اُور احکامات سے کام چلایا جا رہا ہے۔
توجہ کیجئے کہ خیبرپختونخوا کے لئے سال 2013ء میں وضع کردہ ترمیم شدہ ’’مقامی حکومتوں کے نظام‘‘ کے تحت صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک ’سٹی ڈسٹرکٹ حکومت‘ اور ’4 عدد ٹاؤنز‘ ہوں گے جس کے بعد ’پشاور ڈسٹرکٹ کونسل‘ اور ’میونسپل کارپوریشن‘ ختم ہو جائیں گی۔ اسی طرح 23 اضلاع میں سے ہر ایک میں ’ضلعی حکومتیں‘ قائم ہو جائیں گی جہاں 61 میونسپل کمیٹیاں بنیں گی اور یہ سب کی سب ’تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (ٹی ایم ایز)‘ کے سانچوں میں ڈھل جائیں گی۔ اِسی طرح کل 69 ’ٹی ایم ایز‘ بنیں گے اور اِن اضافی بننے والے ’ٹی ایم ایز‘ کی منطق یہ ہے کہ ’طورغر‘ بنوں اور دیر کے اضلاع میں نئی تحصیلوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت ضلعی سربراہ ناظم ہوگا‘ جس کے ماتحت ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے زیرکنٹرول حکومتی محکمے ہوں گے۔ ضلعی ناظم بذریعہ ڈپٹی کمشنر ہی حکومتی محکموں بشمول صحت و تعلیم کی کارکردگی کے حوالے بازپرس کر سکے گا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مقامی حکومتوں کا نظام وضع کرتے ہر ایک کو خوش یا مطمئن رکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور بطور خاص اِس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ افسرشاہی ناراض (یا گلہ مند) نہ ہو۔ سب اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کئے بیٹھے ہیں۔ مقامی حکومتوں کے بعد بھی صوبائی و قومی اسمبلیوں کے اراکین کا اپنے اپنے اضلاع میں رعب‘ دبدبہ و جلال بدستور (حسب سابق) قائم رہے گا لیکن اِس پورے نظام میں اگر کہیں کوئی کمی بلکہ بہت بڑی کمی دکھائی دیتی ہے تو وہ خواتین کی محدود پیمانے پر فیصلہ سازی میں شرکت ہے۔

زیادہ دور نہ جائیں۔ پشاور جیسے مرکزی شہر میں آپ کو مقامی حکومتوں کے لئے ایسی خواتین اُمیدواروں کے پوسٹرز دکھائی دیں گے‘ جنہوں نے اپنی تصاویر تو کیا اپنا اصل نام تک شائع نہیں کیا۔ ایسی خواتین اُمیدوار اپنے باپ‘ خاوند‘ یا بیٹے کے نام کا حوالہ اور اپنے انتخابی نشان کی تشہیر کرتی ہیں۔ سابقہ مقامی حکومتوں (بلدیاتی نظام) کے تحت بیرون لاہوری گیٹ سے ’اسماعیل کی والدہ‘ شاید واحد خاتون تھی‘ جنہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہیں لیکن آج کئی ایک ایسی خواتین ہیں‘ جن کے نام اور چہرے نہیں‘ جو اپنی شناخت سے بہ امر مجبوری محروم ہیں‘ جن میں اعتماد کے ساتھ اُن ہم عصروں کی اکثریت کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں‘ جو اکثریت کو اقلیت اور اقلیت کو اکثریت بنائے بیٹھے ہیں۔ ویلج کونسل ’کرا خیل‘ جو کہ پشاور کے نواحی علاقے ’ماشوخیل‘ کا حصہ ہے وہاں سے خاتون انتخابی اُمیدوار کا خاوند ’رابطہ عوام مہم‘ چلاتے ہوئے انتخابی نشانوں پر مشتمل جو کارڈ تقسیم کرتے پایا گیا‘ اُن پر تحریر ہے ’’ووٹ ولی خان کی اہلیہ کو دیجئے!‘‘
For effective Local Government System, women participation is must & fundamental need

Saturday, May 16, 2015

May2015: Local govt system is real democracy

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مقامی حکومت‘ بنیادی حکومت!
عالمی برادری بالخصوص امریکہ کا امدادی ادارہ ’یوایس ایڈ‘ چاہتا ہے کہ ’خیبرپختونخوا میں درپیش بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ شعوری اور حقیقی معنوی انداز میں طے ہو۔‘ اِس مقصد کے لئے غیرسرکاری تنظیم ’اسکائین‘ کے تجربے سے فائدہ اُٹھایا گیا ہے جو خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں انتخابی عمل سے متعلق اُمیدواروں اور رائے دہندگان کی رہنمائی کر رہی ہے۔ ایبٹ آباد میں ’اسکائین‘ کے زیراہتمام منعقدہ نشست میں سول سوسائٹی‘ سیاسی جماعتوں‘ آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں‘ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اُور الیکشن کمیشن کے اَراکین کو مدعو کیا گیا۔ سب کو اَیک دوسرے کا نکتۂ نظر‘ رائے اور تجاویز ’تسلی و تشفی‘ سے سننے کا موقع ملا‘ لیکن یہ سب ایک ایسے وقت میں ایک دوسرے کی ذہانتوں کا امتحان لے رہے تھے جبکہ ’الیکشن شیڈول‘ کا اعلان ہو چکا ہے اور آئندہ بارہ دن بعد پولنگ ہونا ہے!

پوری صورتحال کا لب لباب یہ ہے کہ ۔۔۔ بلدیاتی اِنتخابات سے متعلق قانون سازی کے مرحلے پر صوبائی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کا نکتۂ نظر سمجھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی اُور جب انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کے حصے میں آئی تو اُنہوں نے ’ضابطۂ اخلاق‘ پر مبنی قواعد و ضوابط تشکیل دینے میں اِس بات کو ضروری نہیں سمجھا کہ صوبائی حکومت سمیت جملہ سیاسی قیادت سے مشاورت کے بعد پولنگ سے قبل‘ پولنگ کے دن اور پولنگ کے بعد پیش آنے والے انتخابی مراحل کے بارے میں ہدایات و شرائط اُور لائحہ عمل مرتب کی جائیں‘ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ بلدیاتی انتخابات ایک سمت اور اس کے انعقاد کے لئے ذمہ دار ادارہ دوسری سمت میں سفر کر رہا ہے اور اگرچہ دونوں ہی کو کوشش ہے کہ ’سرخرو‘ ہوں لیکن ہر انتخابات کی طرح اِس مرتبہ بھی کئی محروم توجہ شعبے رہ گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ۔۔۔’’جب ایک ووٹر کو 7 مختلف رنگوں کی پرچیاں تھمائی جائیں گی تو کم سے کم کتنے وقت میں اپنا ووٹ کاسٹ کر سکے گا؟‘‘ تصور کیجئے کہ کسی پولنگ اسٹیشن کے اندر داخل ہونے اور پھر اپنے پولنگ بوتھ میں تصدیق کے مراحل طے کرنے میں اوسطاً کتنا وقت لگے گا؟ غیرسائنسی بنیاد پر حساب کتاب کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر ہم فی ووٹ کاسٹ ہونے کا دورانیہ ’پانچ منٹ‘ اُوسط لگائیں تو مقررہ دورانیئے 9 گھنٹے میں 108 یا زیادہ سے زیادہ 120سے 150 ووٹ ہی کاسٹ ہو سکیں گے اور ووٹ ڈالنے کی یہ اوسط دیہی علاقوں میں مزید کم متوقع ہے کیونکہ ایک طرف سات مختلف رنگوں کی پرچیاں نبھانی ہیں اُور دوسری طرح کئی ایک مضحکہ خیز انتخابی نشانات کی تلاش میں عام ووٹرز (بالخصوص کم خواندہ یا بزرگوں) کو جس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے‘ اُس کا عملی مظاہرہ پولنگ کے دن عام ہوگا! الیکشن کمیشن کے مطابق شماریات کے سائنسی حساب کتاب کی روشنی میں 27 سے 30 سیکنڈ میں کسی ووٹر کو سات پرچیاں (ووٹ) جاری کئے جائیں گی اور ہر پولنگ بوتھ پر زیادہ سے زیادہ دو ہزار ووٹ کاسٹ ہونے کی بنیاد پر آبادی کو پولنگ مراکز میں تقسیم کیا گیا ہے جو کہ ایک آئیڈیل صورتحال ہے اور اِس کا حصول موجودہ بلدیاتی انتخاب کے موقع پر حصول ناممکنات میں سے ہوگا۔ لمحۂ فکریہ یہ بھی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لئے ایک صوبے نے ووٹ ڈالنے کے لئے کم سے کم عمر کی حد ’اٹھارہ سال‘ کی بجائے ’اکیس سال‘ مقرر کی ہے‘ جس کی وجہ سے گیارہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے مقابلے اِس مرتبہ شرح پولنگ مزید کم آئے گی‘ پھر نتیجہ یہ نکالا جائے گا کہ دیکھئے عام آدمی کا جمہوری نظام پر سے اعتماد اُٹھ رہا ہے! شکر ہے خیبرپختونخوا میں ووٹ ڈالنے کے لئے عمر کی کم سے کم ’اٹھارہ سال‘ کی حد حسب سابق مقرر ہے! جو بہت سی تجاویز سنی اَن سنی کر دی گئیں ان میں کہ ۔۔۔ ’’1: ضلع‘ تحصیل یا دیہی و ہمسائیگی کونسل کے لئے پولنگ انتخابات اَلگ اَلگ یعنی ’تین دن‘ میں کرائے جائیں۔2: بلدیاتی انتخابات میں خواتین کا بطور اُمیدوار اور ووٹر حصہ لینے کے لئے الگ سے حکمت عملی ترتیب جاتی۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر عظمی خان اُور ثوبیہ خان کا تعلق ’لوئر دیر‘ سے ہے لیکن ’لوئر دیر‘ میں جب ضمنی اِنتخابات ہوئے تو بطور اُمیدوار حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں نے آپسی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ ’’خواتین کی پولنگ نہیں ہوگی!‘‘ اُور ’واہ واہ‘ تو الیکشن کمیشن کے لئے جس نے ایک ایسے انتخابی نتیجے کو درست تسلیم کر لیا‘ جہاں غیرتحریری و غیراعلانیہ (درپردہ) خواتین کو پولنگ کے عمل سے الگ رکھا گیا! سیاسی جماعتوں پر مسلط آمریت (تضادات)کا خاتمہ اُور آمرانہ فیصلوں میں قیادت کے اختیار الیکشن کمیشن ہی کے ذریعے ختم کئے جا سکتے ہیں۔ بہرکیف خیبرپختونخوا کی سطح پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں جو دانستہ کوتاہیاں رہ گئیں ہیں‘ ان کی اصلاح دیگر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے موقع پر کیا جاسکتا ہے۔

خیبرپختونخوا کی ’سلیکٹ کمیٹی‘ کے سامنے جب بلدیاتی قانون کی جزئیات طے کرنے کی ذمہ داری پڑی تھی اور ایک چھت تلے غوروخوض آخری مرحلے میں تھا تو اس بات کی کوشش کی گئی کہ بلدیاتی نمائندوں بشمول ناظمین (چیئرمینوں) کے اختیارات کم سے کم رکھے جائیں۔ ناظمین کو اِختیارات دینے کے مراحل تھے تو کئی ایک اراکین اسمبلی تلملا اُٹھے اور بولے کہ پھر ’’رکن اسمبلی (اِیم پی اَے) کے پاس کیا رہے گا؟‘‘ اراکین اسمبلی جب خود سفر کرتے ہیں یا حتی کہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں تو حسب شان ’ٹی اے/ڈی اے‘ لینا نہیں بھولتے لیکن جب بلدیاتی نمائندوں اور اِداروں کی بات آئی تو ملاحظہ کیجئے کہ صوبے کا 70فیصد ترقیاتی بجٹ قانون ساز اِسمبلی کے اَراکین کے پاس رہے گا اُور صرف 30 فیصد اُن بلدیاتی نمائندوں کو ملے گا‘ جن کے پاس بمشکل انتظامی اخراجات کے بعد جو کچھ بچے گا‘ اِس سے (اندیشہ ہے کہ) تحصیل‘ ضلع اُور دیہی و ہمسائیگی کونسل کے اراکین میں مسائل حل کرنے کے لئے یک سوئی و ہم آہنگی کی بجائے سیاسی اِختلافات ذاتی دشمنیوں کی صورت سامنے آئیں گے۔ مقامی حکومت ہی بنیادی حکومت ہے اور بنیادی حکومت کی روح‘ اس کی اہمیت کا کماحقہ ادراک وقت کی ضرورت ہے۔
SEMINAR Report on Local Govt Elections