Showing posts with label IoBM. Show all posts
Showing posts with label IoBM. Show all posts

Thursday, March 16, 2017

Mar2017: Gender biased comments, need sensitization!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
غیرمحتاط تبصرے!
غورطلب ہے کہ روزمرہ بات چیت میں احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ہم دوسروں کے بارے میں جس غیرمحتاط ’رائے‘ کا اظہار کرتے ہیں‘ اُس کی وجہ سے نہ صرف رشتوں اُور تعلقات میں پیچیدگیاں (خلیج) در آتی ہیں بلکہ قسم قسم کے صنفی امتیازات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ملک کے مختلف حصوں سے آئے وفود کا ’انسٹی ٹیوٹ آف بزنس منیجمنیٹ (کراچی)‘ پہنچنے پر تعارف کے فوراً بعد جس پہلے ’’تربیتی جملے‘‘ سے واسطہ پڑا وہ یہ تھا کہ ’’پانچ روزہ تربیت کے دوران ایک دوسرے کی ذات کے بارے میں ایسا کوئی جملہ نہیں بولنا جس سے آپ کی ’حتمی رائے‘ کا اظہار ہوتا ہو‘‘ لیکن روزمرہ بول چال کے حوالے سے عمومی قومی رویئے اس بات کے عکاس ہیں کہ گھر‘ بازار‘ درسگاہیں اور قانون ساز ایوانوں تک سب کچھ غیرمحتاط اظہار رائے کے گرد گھوم رہا ہے۔ 

سیاسی مخالفین کا مختلف مواقعوں پر باہم دست و گریبان ہونا اور ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں تو کیا کسی نے سوچا کہ قائدین و رہنماؤں کے اِس قسم کے بیانات اور عمومی طرز فکروعمل کا عام آدمی (ہم عوام) کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اراکین قومی اسمبلی مراد سعید اور جاوید لطیف کے درمیان جھگڑا نہ تو پہلا تھا اُور نہ ہی اِس ’بُری روایت‘ کو آخری سمجھنا چاہئے۔ قومی اسمبلی کی کاروائی کے دوران کم و بیش ہر روز ہی ایسے مواقع آتے ہیں جب اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کو مداخلت کرتے ہوئے چند جملوں کو اسمبلی کاروائی سے ہذف کرنے کا حکم دینا پڑتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسے جملے بولنے والے تجربہ کار اور معروف سیاستدان ’انتہائی اِحتیاط‘ سے کام کیوں نہیں لیتے؟ یہ مرحلہ اِس باریک نکتے کو سمجھنے کا ہے کہ ’’بنیادی طور پر ’ناخواندگی‘ سارے فساد کی جڑ ہے۔‘‘ 

اذہان عالیہ کے لئے اِس حوالے سے ایک خواہش بطور تجویز پیش خدمت ہے کہ اراکین قومی اسمبلی ’انسٹی ٹیوٹ آف بزنس منیجمنیٹ (کراچی)‘ سے وابستہ معلمہ ’ڈاکٹر ثمرہ جاوید‘ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کریں اُور سمجھیں کہ صنف و جنس متعلق ہوں یا نہ ہوں لیکن عمومی و خصوصی بول چال میں احتیاط کے تقاضے کس قدر ہیں اور جن کا خیال رکھنا کتنا اہم یا ضروری ہوتا ہے۔

قوم کے سامنے سوالات کے ڈھیر میں تازہ اضافہ غورطلب ہے کہ کیا حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کو اپنے ہم عصر مراد سعید کی بہنوں کے حوالے سے نامناسب بات کہنی چاہئے تھی؟ غصے کی حالت میں اُن کے منہ سے جو کچھ بھی نکلا‘ کیا یہ خاص ردعمل تھا یا بول چال کی عمومی عادت؟ یہ پہلا موقع نہیں جب قومی اسمبلی کے اندر یا احاطے میں خواتین کو تضحیک ہوئی ہو بلکہ اس سے قبل بھی ایسے بے شمار قابل مذمت واقعات سامنے آچکے ہیں‘ جو یاداشتوں کا حصہ بھی نہیں رہے۔ مثال کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کے شوخ لباس پر تبصرے کئے گئے۔ ایک مرتبہ بینظیر بھٹو نے پاکستانی جھنڈے جیسے سبز رنگ کی قمیض کے ساتھ سفید شلوار زیب تن کی ہوئی تھی‘ وہ ایوان میں داخل ہوئیں تو ایک رکن قومی اسمبلی نے تبصرہ کیا کہ ’’آپ بالکل طوطے جیسی دکھائی دیتی ہیں‘‘ جس پر محترمہ بینظیر بھٹو چپ نہ رہیں اور ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ اُنہی رکن قومی اسمبلی نے دوسری مرتبہ بھی محترمہ کی شخصیت و لباس کو اُس وقت تنقید کا نشانہ بنایا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں زرد رنگ کا سوٹ پہن کر تشریف لائیں‘ اور جب وہ ایوان سے باہر نکلنے لگیں تو شیخ رشید اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور تقریر نہ سننے پر ایسے لقب سے پکارا جسے ایوان تو کیا سڑکوں پر بھی بہت بُرا تصور کیا جاتا ہے۔ اسی روز گورنر پنجاب اور محترمہ بینظیر بھٹو کی ملاقات طے تھی‘ بینظیر اسی ملاقات کے لئے جارہی تھیں‘ جب اُسی رکن قومی اسمبلی نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور دیکھنے والوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر کی آنکھیں سرخ دیکھی گئیں۔ کاش کہ یہ واقعات مسلسل رونما نہ ہوتے۔ جب تک قوم شائستگی اور بول چال میں ادب اداب کا مطالبہ نہیں کرے گی‘ سیاستدان اپنی اصلاح نہیں کریں گے۔ 

کیا ہم بھول نہیں چکے کہ رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری کو ’’ٹریکٹر ٹرالی‘‘ کہنے سے قبل کسی ’معزز رکن اسمبلی‘ نے بیگم مہناز رفیع کو اُن کے پاؤں میں لنگڑاہٹ کی وجہ سے ’پینگوئن‘ کا خطاب دیا تھا!؟ جون دوہزار سولہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بھی خاتون سیاستدان پر ایک تبصرے کے باعث ہی ’’مچھلی منڈی‘‘ میں تبدیل ہوا۔ ماہ رمضان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے جاری بحث میں جب شیریں مزاری نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا تو متعلقہ وزیر نے یکایک (ازرائے مذاق) شیریں مزاری پر تنقید کا تیر برساتے ہوئے کہا کہ ’’کوئی اِس ٹریکٹر ٹرالی کو خاموش کرائے یا کم سے کم سے اسکی آواز کچھ خواتین جیسی کر دے۔‘‘ اجلاس کے عینی شاہدین کے مطابق اس موقع پر حکومتی نشستوں میں سے شیریں مزاری کو (تضحیک کے طور پر) ’’آنٹی‘ آنٹی‘‘ کہہ کر بھی مخاطب کیا گیا۔

بات قانون ساز ایوانوں کی ہو یا ذرائع ابلاغ کے براہ راست (لائیو) نشر ہونے والے بحث و مباحثوں (ٹاک شوز) کی ہر جگہ جس ایک سبب سیاستدانوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یہی عمومی طرز عمل ہے کہ ہم دوسروں کے بارے میں فیصلہ صادر فرمانے میں ذرا دیر نہیں کرتے یا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ذومعنی جملوں پر ایوانوں اور راہداریوں میں گونجنے والے قہقہے ہوں یا خواتین کی تضحیک کرنے والوں کے بحث و مباحثے (ٹاک شوز) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت (اُوور ریٹنگز) جیسا قابل مذمت معیار‘ اِس بات کی گواہی ہیں کہ مضبوط نظریات کی حامل پراعتماد خواتین کی موجودگی متعدد حضرات کے لئے قابل برداشت نہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ہمارے ہاں انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں بات کرتے ہوئے عوام و خواص کی حالت یہی ہے کہ اَچھے اَچھوں کو ’خواتین سے بات کرنے کی تمیز نہیں!‘
!Mind your language

Saturday, March 4, 2017

Mar2017: Gender vs Sex. Education vs Awareness!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صنفی امتیاز و مساوات!

سانس لینا ہی کافی نہیں بلکہ زندگی کی علامت ’’شعور‘‘ قول و فعل کے لئے تحریک ہونی چاہئے۔ کیا ہمیں اپنے آپ اور گردوپیش میں اُن امور کے بارے میں سوچنے کی فرصت کبھی میسر آئی‘ جن کا تعلق خالصتاً ہماری اپنی ذات سے ہے؟ جیسا کہ ہمیں اِس بات کا احساس (علم) کب ہوا‘ یا یہ ’’راز‘‘ کب آشکار ہوا کہ میرا تعلق مرد یا عورت میں سے کس صنف سے ہے یا کس صنفی تعارفی اصطلاح کا اطلاق مجھ پر زیادہ ہوتا ہے؟ جس معاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی اور انسانی صحت سے جڑے مسائل کو ’جنسی‘ بنا کر پیش کرنے کی وجہ سے بات کرنا بھی معیوب سمجھی جاتی ہو‘ وہاں دراصل خرابیاں‘ تجربات کے نتائج کی صورت ظاہر ہوتے ہیں جو بدقسمتی سے ہماری نوجوان نسل کو بھگتنا پڑ رہے ہیں! افسوس کہ ہم جس معاشرے کے پروردہ ہیں‘ اُس میں جنس‘ بلوغت اور اس سے متعلق آگاہی دینے کا رواج نہیں۔ 

تعلیمی اداروں میں بچوں اور نوجوان نسل کو ان کے جسم میں رونما ہونے والی فطری تبدیلیوں کے بارے میں بتدریج درست معلومات دینا تو کجا‘ ہم اپنے گھروں اور خاندان میں بھی ان بنیادی موضوعات پر بات کرنے سے کتراتے ہیں اور اِس بات کا احساس مجھے بھی کبھی نہ ہوتا اگر امریکہ کے امدادی ادارے (یوایس ایڈ) کی معاونت سے منعقدہ ’صنفی مساوات پروگرام‘ کے تحت بیس سے چوبیس فروری اُس ورکشاپ میں شرکت کا موقع نہ ملتا۔ جس کے آغاز ہی میں ڈاکٹر ثمرا جاوید نے ’صنف و جنس‘ کے درمیان فرق کے بارے سوچنے اور اپنے آپ سے بات کرنے کی دعوت دی۔ کراچی کے جامعہ ’’انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن‘‘ سے وابستہ ڈاکٹر سمرا معروف ماہر تعلیم ہیں جنہوں نے ڈاکٹوریٹ کی سند ’تدریس کے شعبے میں روایتی طور طریقوں‘ کی بجائے ایک ایسا انوکھا تصور پیش کرکے حاصل کی ہے جو متبادل اور تجرباتی درسی نظام پر مبنی ہے اور اِس میں معلم کی بجائے تدریسی عمل طالب علم کی اپنی جستجو اور تحقیق پر منحصر ہوتا ہے۔
بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیا ہم اپنے وجود اور اِس کے تقاضوں پر بھی (کماحقہ) غور کرتے ہیں؟ 
جب جسم کے اندر مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں‘ تو اس حوالے سے تجسس پیدا ہونا فطری (رد) عمل ہے۔ ایسے میں عمومی رویہ‘ روایتی اساتذہ اور نصاب‘ بچوں کے اِس تجسس کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ ایسے میں زیادہ تر ہر عمر کے بچے کیبل ٹیلی ویژن یا انٹرنیٹ کے ذریعے خاص تفریحی مواد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جس سے ذہنی خلفشار اور جذباتی ہیجان پیدا ہوتا ہے اور اس حوالے سے جب ورکشاپ کے شرکاء نے اپنے اپنے تجربات کو فہرست کیا تو دلچسپ انکشافات سامنے آئے جو ایک چھوٹے پیمانے پر کی گئی مشق تھی لیکن اگر یہی مشق ’بڑے پیمانے‘ پر کی جائے تو اِس کے زیادہ بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ 

خیبرپختونخوا اسمبلی نے رواں ہفتے موبائل فونز کے ’نائٹ پیکجز‘ کے خلاف قرارداد منظور کی لیکن اگر نوجوانوں کے شعور کی سطح بلند کی جاتی اور صنف و جنس سے متعلق اُن کے تصورات واضح ہوتے تو ایسی کسی قرارداد کی ضرورت ہی پیش نہ آتی کیونکہ تبدیلی قراردادوں سے نہیں بلکہ قانون سازوں کے رہنما کردار سے آتی ہے۔ برق رفتار مواصلاتی رابطوں (انٹرنیٹ اور موبائل) کے دور میں جب ہمارے نوجوان ایک انگلی کی جنبش پر دنیا سے جڑے ہیں اور دنیا اُن سے جڑی ہوئی ہے جس سے انہیں ہر قسم کے گرے اور بلیو لٹریچر تک بلا امتیاز مفت رسائی حاصل ہے‘ تو ہمیں اپنی بحث کا موضوع و معیار کچھ بلند کرنا ہوگا کہ آیا ہر عمر کے بچوں کو بلوغت اور جنس سے متعلق تعلیم دی جائے یا نہیں یا پھر انہیں محض زمانے اُور ٹیکنالوجی‘ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے؟ بحث کا ایک نکتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صنف و جنس کے بارے تعلیم (معلومات) بچوں اور نوجوانوں کو کس عمر میں‘ کس زبان میں‘ کہاں اور کیسے دی جائے؟ ایسا کرتے ہوئے کن اخلاقی‘ لغوی اور تہذیبی پیچیدگیوں کا خیال رکھا جائے؟ لیکن اس بات پر کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہئے کہ جنسی صحت اور بلوغت سے متعلق بروقت اور مکمل آگاہی بچوں اور نوجوانوں کو باشعور اور محتاط بناتی ہے اور بے راہ روی سے دور رکھنے کا وسیلہ ہو سکتی ہے۔ 

خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی جہیز کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے قانون سازی کرنے جا رہی ہے لیکن ’اخلاقی اقدار‘ کو اتنا مضبوط اور واضح نہیں کیا جاتا کہ بناء قانون سازی ہی جہیز کی لعنت کو معیوب سمجھا جانے لگے اور پھر قوانین تو ایک سے بڑھ کر ایک موجود ہے جس پر عمل درآمد حکومتوں کے لئے ممکن نہیں ہوتا!؟ 

ذرا سوچئے کہ جب ہم بارہ سے پندرہ سال کے بچوں اور بچیوں کی شادی کروا کر انہیں براہِ راست عملی زندگی میں دھکیل رہے ہوتے ہیں تو کیا بچوں کو علم ہوتا ہے کہ اُن کی صنفی و جنسی زندگی سے متعلقہ مسائل اور ضروریات کیا (کچھ) ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بناء رہنمائی کم عمری کے رشتے نابالغ بچوں کی شادی کروانے سے بھی زیادہ بڑی غلطی ہو؟ ستم تو یہ بھی ہے کہ شادی کے موقع پر لاکھوں روپے محض نمود و نمائش اور دکھاوے پر خرچ کئے جاتے ہیں لیکن اس تمام تر اہتمام میں ازدواجی رشتے میں بندھنے والے جوڑے کی آگاہی اور شعوری تعلیم ناقص مشوروں کی حد تک ہی محدود رہتی ہے پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اکثر جوڑے بیجا توقعات کے باعث جذباتی ناآسودگی اور خلفشار کا شکار رہتے ہیں اور ایک دیرپا رشتہ استوار نہیں کر پاتے‘ جو ہمارے ہاں خاندانی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جن لوگوں کو صنفی تعلیم و آگہی میں حیا باختگی کے پہلو نظر آتے ہیں‘ کیا وہ انسان نہیں ہیں یا اُن کا ایسے مسائل سے خود کبھی واسطہ نہیں پڑا؟ 

آخر ایسا کیوں ہے کہ ہم اپنے بچوں کو منشیات اور سگریٹ کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے مختلف جان لیوا بیماریوں کے نام گنواتے ہیں تاکہ وہ ان کے استعمال سے باز رہیں مگر جہاں صنفی تضادات یا جنسی مسائل کی بات ہوتی ہے تو یکایک سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے! اگر تمباکو نوشی کے جملہ نقصانات اُور اُن سے لاحق انسانی صحت کو خطرات کا بیان ’سموکنگ (smoking)‘ کی ترغیب نہیں‘ تو پھر اِسی کلیے کا اطلاق صنفی معلومات یا متعلقہ مسائل کی تعلیم پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟

Sunday, February 26, 2017

Feb2017: Social & Development Sectors Revolution!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انقلاب: گماں بہت ہے!؟
اُنیس سے پچیس فروری کے درمیان کراچی کو قریب سے دیکھنے کا موقع تو بہت سے راز کھلے جیسا کہ سال دوہزار سولہ میں کے دوران اگر 52 ہزار 552 سٹریٹ کرائمز (رہزانی و دیگر چھوٹے جرائم) رونما ہوئے تو صورتحال (اوسط) پہلے دو ماہ کے گزرنے پر زیادہ مختلف نہیں! ہر سمت پھیلتے کراچی میں اکثریت کی زندگی بے ہنگم اور بنیادی آبادی سہولیات سے محروم ایک انجانے خوف کا شکار ہے۔ کراچی نے ہنسنا اُور مسکرانا تو ترک نہیں کیا لیکن آنکھوں اور الفاظ میں چھپا دُکھ کہیں کہے اور کہیں بناء کہے صاف ظاہر تھا۔ پچیس سال قبل جب چھ ماہ کے لئے کراچی ’رینجرز‘ کے حوالے کیا گیا تو آج تک صورتحال میں بہتری ضرور آئی ہے‘ لیکن اِس قدر لمبے عرصے تک طاقت کے بے انتہاء استعمال کے باوجود بھی خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے‘ جس کی وجہ سے کراچی پر کبھی زیادہ تو کبھی کم گہرے خوف کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں! جن کے اثر سے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندہ وفود کی ورکشاب بھی محفوظ نہ رہ سکی اور اِس تربیتی نشست کے شرکاء زیادہ تر وقت ایک چاردیواری کی حد تک ہی محدود رہے۔ امریکہ کے امدادی ادارے ’یوایس ایڈ‘ کے مالی تعاون سے ’انسٹیٹویٹ آف بزنس منیجمنٹ (یونیورسٹی)‘ میں نشست کا انعقاد ’صنفی مساوات پروگرام‘ کے اختتام (اٹھائیس فروری) سے قبل انعقاد اگر اِس حکمت عملی کے آغاز میں کیا جاتا تو زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے تھے بہرحال ’این جی اُوز‘ کی دنیا میں سب باتیں اور حکمتیں سب کی سمجھ میں آ جائیں ایسا ضروری تو کیا ممکن بھی نہیں ہوتا۔ ایسی ہر نشست سوالات ختم کرنے کی بجائے اُن میں مزید اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔ سماجی ترقی میں صنفی کردار کی ماہرہ ڈاکٹر ثمرہ سے لیکر بزنس منیجمنٹ (فنڈ ریزنگ) کے کتابی تعارف کے بے تاج بادشاہ ’ڈاکٹر جاوید احمد نے محتاط اور کبھی کبھار غیر محتاط یعنی سچائی سے پاکستان میں ’صنفی مساوات‘ کے حوالے سے الجھنوں کو سلجھانے کی کوشش کی‘ جو اپنی جگہ قابل ستائش کوشش تھی۔

فروری کے تیسرے اور چوتھے ہفتے‘ کراچی میں قیام کا نادر موقع ایک ایسے وقت میں ملا جبکہ ملک میں امن کی بحالی کے لئے ایک نئی فوجی کاروائی نئے عزم اور نئے دعوؤں سے شروع کی گئی ہے لیکن برسرزمین حقائق کیا ہیں؟ کراچی کے رہنے والوں کی اکثریت یقین کی حد تک یہ بات زور دے کر کہتی ہے کہ سال دو ہزار سولہ کی طرح دوہزار سترہ بھی زیادہ مختلف ثابت نہیں ہوگا‘ کیونکہ انسداد دہشت گردی کا ہدف اُس وقت تک عملاً حاصل نہیں ہوسکتا جب تک سیاست اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان ایک دوسرے کی جملہ ضروریات پوری کرنے کے لئے تعاون (بشمول انتخابی کامیابی کی ضمانت تعلق) ختم نہیں کردیا جاتا۔ جب تک مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے بارے میں قوم کی رائے ایک نہیں ہو جاتی! کراچی میں رینجرز کی کامیاب کاروائی بھی اُس وقت تک منطقی طور پر اختتام پذیر نہیں ہوگی‘ جب تک اندرون سندھ اور پنجاب میں بلاامتیاز اور سخت گیر فوجی کاروائی عمل میں نہیں آتی۔ وقت ہے کہ پاکستان کے مفاد پر ہر قسم کی مصلحتوں کو قربان کردیا جائے!

کراچی صرف کاروباری اور صنعتی یا آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں بلکہ اِس کا ادبی چہرہ بھی ہے۔ اسکائنز نامی غیرسرکاری تنظیم کی روح رواں سقاف یاسر اور اِسی تنظیم کی نمائندہ سماجی کارکن‘ ایک ابھرتی ہوئی شاعرہ شائستہ چودھری کے ساتھ تبادلۂ خیال سے اِنسانی تاریخ کے تناظر میں عالمی اور بالخصوص کراچی کے عمومی حالات پر غور کرنے کا موقع ملا کہ صرف مادی ترقی کے علمبردار ہی نہیں بلکہ دنیا میں رونما ہونے والے سیاسی اور سماجی انقلابات میں شعراء‘ مصنفین اور دانشوروں کا کردار کلیدی رہا ہے جس کی بدولت (تناظر میں) آج کے درپیش مسائل (بحرانوں) کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی سماج یا معاشرے میں جہاں افراد معاشرتی انتشار‘ معاشی مشکلات اُور سماجی ناانصافیوں کا شکار ہوں وہاں سب سے پہلے علمی و ادبی طبقہ بیدار ہوتا ہے۔یہ طبقہ اپنی ادبی تخلیقات اور تقاریر سے عام افراد کو یہ احساس جگاتا ہے کہ اُنہیں معاشرتی استحصال کا اژدھا نگل رہا ہے‘ ایسی صورت میں کسی معاشرے میں انقلاب کی پیدائش (سماجی تغیر) ’’انسانی بیداری‘‘ کا ثمر ہوتے ہیں۔ برصغیر میں برطانوی سامراجی حکومت کے خلاف بیداری کی لہر جنوبی ایشیاء سے منسلک علمی و ادبی شخصیات نے بھی اُنیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے ابتدائی و درمیانی عرصے میں اہم تاریخی کردار ادا کیا۔ کراچی میں قیام کے دوران ’بائیس فروری‘ کا دن انقلابی شاعر جوشؔ ملیح آبادی (پانچ دسمبر 1894ء سے 22 فروری1982ء) کی برسی سے منسوب ہے‘ جنہوں نے برطانوی راج کے خلاف ہی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے بعد بھی تحریکِ آزادی کو فروغ دینے میں اپنی انقلابی، سیاسی و نظریاتی شاعری کے ذریعے اہم کردار اَدا کیا۔ ’’سنو اے بستگان زلف گیتی: ندأ کیا آ رہی ہے آسماں سے۔۔۔ کہ آزادی کا اِک لمحہ ہے بہتر: غلامی کی حیات جاوداں سے!‘‘

بیسویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک شاید ہی کوئی ایسا شاعر‘ ادیب‘ دانشور یا لکھاری ہو گا‘ جو جوشؔ کی شاعرانہ عظمت کا قائل یا اُن کی شاعری سے متاثر نہ ہو۔ جوشؔ کے ہاں معاشرے کے سلگتے سماجی مسائل پر بے باک تبصرہ ہے‘ وہ بھوک اور افلاس کی مذمت کرتے ہیں تو کبھی انسانی جہل پر نوحہ خوانی کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی ظالم حکمرانوں کو للکارتے ہیں اور کبھی عوامی فکری جمود اور بے حسی پر شکوہ کرتے ہیں! یہی طرزعمل (انسانی بیداری) لمحۂ موجود کی بھی ضرورت ہے کہ ہم میں ہر ایک (خاطرخواہ) ’جوش‘ کا مظاہرہ کرے! کراچی میں ہر قدم پر جوشؔ کی یاد آتی رہی۔ ’’جس دیس میں آباد ہوں بھوکے انسان: احساسِ لطیف کا وہاں کیا امکان۔۔۔اِک فکرِ معاش پر نچھاور سو عشق: اک نانِ جویں پہ لاکھ مکھڑے قربان!‘‘ 

جوشؔ کی شاعری کیا ہے مگر اُس میں انسان کو تقدم حاصل ہے اُور وہ عظمتِ انسان کی اساس ہے۔ کیا بُرا چاہتے ہیں اگر جوشؔ ’’انسان کی جبیں‘‘ پر سربلندی اور سرفرازی کا تاج سجا دیکھنا چاہیں! جوشؔ ہر اُس فکر‘ نظامِ حکومت اور نظامِ زندگی کو مسترد کرتے ہیں جو انسان کو اسیر کر کے فکری پرواز میں حائل ہوں‘ جوش مغربی سرمایہ داری‘ جاگیرداری‘ ایشیائی ملوکیت اور عرب مطلق العنانیت کے مخالف ہیں۔ جوشؔ نے اپنے اجداد کی مثل خود تو (بغاوت کی) تلوار نہیں اُٹھائی لیکن قلم (خیالات) کو بطور شمشیر استعمال کیا اور یہی انقلابی پیغام (لب لباب) گماں کی حدوں سے بہت آگے حالات کی تبدیلی کے لئے دعوت فکروعمل ہے۔

Feb2017: Trade Deficit & Brands

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خسارہ در خسارہ
پاکستان سے محبت عملی اظہار کی متقاضی ہے صرف قومی ترانے کے احترام میں کھڑا ہونا یا کسی ملی نغمے پر جھومنے کا نام ’حب الوطنی‘ نہیں بلکہ اِس کے کئی دیگر ایسے پہلو بھی ہیں جو خاطرخواہ غور نہ ہونے کی وجہ سے ہماری نظروں سے اُوجھل ہیں جیسا کہ غیرملکی درآمد شدہ اشیاء کا غیرضروری ’بطور آسائش یا فیشن استعمال۔‘ درآمدات پر بڑھتا ہوا یہ انحصار کسی بھی طرح نہ تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کے لئے خوش آئند (تعمیری) ہے اور نہ ہی اِس سے پیدا ہونے والا رہن سہن‘ عادات اور مقابلے کی فضاء سماجی شعور کے لئے مثبت و پائیداری کا باعث قرار دیا جاسکتا ہے۔ کراچی میں قیام کے دوران کئی ایسے کثیرالمنزلہ وسیع و عریض ’شاپنگ مراکز‘ جانے کا اتفاق ہوا‘ جو آمدنی کے خاص طبقات کی قوت خرید اور سوچ کی عکاسی کر رہے تھے اُور جہاں نظروں کو خیرہ کر دینے والی چمک دمک کے درمیان درجنوں کی تعداد میں غیرملکی اشیاء کی فروخت کے مراکز ایک سے بڑھ کر ایک کشش کا سامان رکھتے تھے لیکن اِس سے بھی زیادہ حیرت کا باعث یہ امر تھا کہ اِن انتہائی مہنگی غیرملکی اشیاء کی خریداری کے مراکز پرہجوم تھے! 

ڈولمین سنٹر ہی کی مثال لیں جہاں گندے اور گیلے پاؤں کے ساتھ گھسنے پر پابندی تو عائد کی گئی ہے لیکن وہاں خریدار کی ذریعہ آمدنی کیا ہے اور منٹوں میں ہزاروں لاکھوں روپے کی خریداری کرنے والی ذہنیت و قوت خرید کے پیچھے محرکات کیا ہیں‘ اِس بارے کوئی کسی سے نہ تو کچھ پوچھتا ہے اور نہ ہی پر رونق شاپنگ مالز میں کوئی ایک دوسرے سے نظریں ملاتا ہے‘ صرف اردگرد کے ماحول ہی سے نہیں بلکہ ’ڈولمین سٹی‘ میں خود سے بے نیازی عام دیکھی جا سکتی ہے جہاں یہاں وہاں بیٹھی‘ چلتی پھرتی یا پھر خریداری کرتی نسلوں کی نسلیں‘ قدم بہ قدم چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں!

پاکستان کا تجارتی خسارہ کیا ہے کیوں ہے اِس حقیقت کے بارے میں سبھی کو کچھ نہ کچھ معلوم ہے لیکن درآمدات پر بڑھتا ہوا انحصار اور ’برانڈز‘ کی ہوس نے صورتحال کو زیادہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے‘ اِس بارے زیادہ غور نہیں کیا جاتا۔ ملک کی قومی ائرلائن (پی آئی اے) نے مہنگی لیز پر A320 طیارے لئے جس میں سوار ہوتے ہی ’بزنس ریکارڈر‘ کی شہ سرخی پر نظر پڑی‘ کہ ’’اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کو کم کرنے والے خطرنات اور تجارتی خسارے پر کنٹرول کے لئے درآمد کی جانے والی کئی چیزوں پر ایک سو فیصد مارجن کا نفاذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے‘‘ اور یہ خبر نہایت ہی نمایاں طور پر شائع کی گئی تھا جبکہ دیگر قومی اخبارات میں اِس خبر کو اگرچہ زیادہ اہمیت نہیں دی گئی لیکن خوش آئند تھا کہ ہمارے کسی قومی ادارے کو (کم سے کم) اِس بات سے خطرہ تو محسوس ہوا ہے کہ غیرملکی ثقافت اور رہن سہن کی نقل یا اُسے اپنانے کی دھن کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔ 

درآمدات پر انحصار کم کرنے کی اِس کوشش کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہونے کی زیادہ توقع نہیں کیونکہ جو طبقہ مہنگی ’برانڈیڈ(branded)‘ اشیاء کی خریداری کا عادی ہے‘ اور وہ اُس کے معمول کی رہن سہن کا جز بن چکا ہے وہ ان اقدامات سے نہ تو متاثر ہوگا اور نہ ہی درآمدی اشیاء کی حوصلہ شکنی ممکن ہو سکے گی! یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جن اشیاء کی درآمد پر سو فیصد مارجن کے نفاذ میں گاڑیاں اُور اُن کے پرزہ جات‘ موبائل فون‘ سگریٹ‘ جیولری‘ کاسمیٹکس‘ ذاتی استعمال کی اشیاء‘ برقی و دیگر گھریلو آلات اور اسلحہ شامل ہے لیکن محض برآمدات کی اس طرح حوصلہ شکنی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ اُن کے متبادل اشیاء پاکستان کے اندر (میڈ اِن پاکستان) فخریہ طور پر تیار نہیں ہوں گی۔

پاکستان کی معروف جامعہ ’انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (کراچی)‘ کے معلم مدحت صاحب جب ’برانڈنگ‘ کے حوالے سے کاروباری حکمت عملی کے مختلف پہلوؤں کو کھول کھول کر بیان کر رہے تھے تو اُس دوران ایک موقع پر یہ نکتہ بھی زیربحث آیا کہ کسی برانڈ کی خصوصیات میں اُس کا معیار اور پائیداری بھی شامل ہوتی ہے۔ کیا پاکستان میں ایسی مصنوعات نہیں بن سکتیں جو معیار و پائیداری میں اپنی مثال آپ ہوں؟ کیا ’میڈ اِن پاکستان‘ برانڈ قابل بھروسہ نہیں ہوسکتا؟ ملک کے ہر شہر میں سڑکوں پر درآمد شدہ گاڑیوں کی تعداد میں ہرسال اضافہ ہو رہا ہے تو کیا یہ ترقی اور قوت خرید بڑھنے کی عکاسی ہے یا کچھ اُور؟ ذہن نشین رہے کہ سال دوہزار پندرہ سولہ کے دوران ایک ارب چھبیس کروڑ تیس لاکھ امریکی ڈالرز کی غیرملکی گاڑیاں اور پرزہ جات پاکستان درآمد کئے گئے۔ یہ اضافہ سالانہ کم وبیش چالیس بنتا ہے جبکہ رواں مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) کے اعدادوشمار کے مطابق الاماشاء اللہ‘ سات ماہ کے دوران غیرملکی گاڑیوں کی مد میں پاکستان ایک ارب ایک کروڑ ڈالر کی درآمدات کر چکا ہے! اِسی طرح موبائل فون کا استعمال بھی ہمارے ہاں حسب ضرورت یا حسب آمدنی و حال نہیں۔ حیرت انگیز طور پر گذشتہ مالی سال (دوہزار پندرہ سولہ) کے دوران پاکستان میں نصف ارب سے زیادہ (66 کروڑ 70لاکھ ڈالر) مالیت کے موبائل فون درآمد کئے گئے جبکہ رواں برس (دوہزار سترہ) میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے! 

رواں مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) کے ابتدائی سات ماہ کے دوران موبائل فون کی درآمدات تینتیس کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہیں! کیا یہ عجب نہیں کہ ہمارے تعلیمی اِداروں میں تحقیق تو ہو رہی ہے لیکن اُسے عملی طور پر اختیار نہیں کیا جارہا؟ یہی وجہ تھی کہ امریکہ کے امدادی ادارے یو ایس ایڈ (USAid)‘ نے ’صنفی مساوات پروگرام (جینڈر ایکویٹی پروگرام)‘ میں اِس بات کو بھی شامل کیا کہ صنعتی شعبے سے متعلق ’نئے تصورات (آئیڈیاز)‘ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اِس سلسلے میں ’سرحد چیمبرآف کامرس‘ (پشاور) کے زیراہتمام رواں ہفتے ایک مقابلے کا انعقاد بھی ہوا‘ جس میں ایک نجی جامعہ ’سرحد یونیورسٹی‘ کے ہونہاروں نے ’پہلی پوزیشن‘ حاصل کی اور اِسی نوعیت کے پروگرام ملک گیر سطح پر جاری ہیں جیسا کہ ایک ورکشاپ میں سیالکوٹ سے مدعو ڈاکٹر زریں فاطمہ سے تبادلۂ خیال میں معلوم ہوا کہ پاکستانی جامعات میں ہونے والی چھوٹے پیمانے کی تحقیق کو صنعتوں تک منتقل کرنے اور اُن کی ضرورت (نیڈ بیسڈ) کے مطابق تحقیق کا عمل جاری ہے تو اُمید کے چراغ روشن ہوئے کہ ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!‘‘

پاکستانی فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ یکساں ضروری یہ امر بھی ہے کہ نوجوان نسل کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے ہاں تحقیق و صنعتی معیار بلند کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ توجہ مرکوز رہے کہ محنت کشوں کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر یہ ہدف حاصل نہیں ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں صرف صنعتکاروں کے اثاثوں میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ معیاری صحت و تعلیم اور بنیادی و خصوصی سہولیات ہر خاص و عام کے لئے یکساں فراہم کی جاتی ہیں۔ 

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اکتوبر دوہزار سولہ کے بعد سے رواں ماہ کے وسط میں کم ہوئے ہیں تو اِس کا پائیدار حل موجود ہے‘ لیکن اُس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا توکیوں؟ سردست پاکستان میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر اکیس اعشاریہ نو ارب ڈالر ہیں‘ جبکہ اسی عرصے کے دوران گذشتہ سال یہ چوبیس ارب ڈالر سے زیادہ تھے! تعلیم و تحقیق اور سماجی سطح پر شعور اُجاگر کرنے کی ذمہ داری اگر سیاسی حکومت پر عائد ہے تو مرکزی بینک کو درآمدات میں اضافے کی حوصلہ شکنی کے لئے رسمی اور واجبی نمائشی اقدامات سے کچھ زیادہ‘ کچھ جنوبی و انقلابی اقدام کرکے دکھانا ہوگا‘ بالخصوص اشیائے خوردونوش کی درآمدات کم کرنے کے لئے سوچ بچار عام کرنا ہو گی۔ اگر پاکستانی کچھ کھا یا پی رہے ہیں تو اِس سے قبل بھی سوچ کر فیصلہ کریں‘ اِس قدر شعور خودبخود پیدا نہیں ہوگا۔ غیرملکی درآمد شدہ آئس کریم اور مشروبات پر پانی کی طرح پیسہ بہانے کی حوصلہ شکنی کے ساتھ متبادل زیادہ بہتر برانڈز متعارف کرانے کی صورت ہدف کا حصول پائیداری سے حاصل کرنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ 

پاکستان جیسا زرعی ملک کہ جس کی 75فیصد سے زائد معیشت کھیتی باڑی سے وابستہ ہے اگر وہ کھانے پینے کی اشیاء کی درآمدات پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تو کیوں؟ سال دوہزار پندرہ سولہ کے دوران مجموعی طور پر چار ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کی اشیائے خوردونوش پاکستان ہضم کر گیا اور اگر پاکستان رواں مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) میں اب تک‘ دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر ڈکار چکا ہے تو یہ قطعی معمولی نہیں اور نہ ہی مثبت (قابل رشک) رجحان ہے۔ کاش کہ ہم سمجھ سکتے کہ پاکستان اور پاکستانیت کے بھی کچھ الگ الگ تقاضے ہیں! 

Wednesday, February 22, 2017

Feb2017: Gender Equity Program & possibilities!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صنفی مساوات: ممکنات کی حد!
پاکستان میں امریکہ کے امدادی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ کی سرگرمیاں کم وبیش 100سے زائد شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں جن میں صنفی مساوات پروگرام (جینڈر ایکویٹی پروگرام) ایک ایسا عنصر ہے‘ جو اپنی اہمیت و افادیت کے لحاظ سے منفرد و غیرمعمولی ہے۔ خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمے اور مساوات پر مبنی تصورات کی تبلیغ و تشہیر کرنے کی اِس حکمت عملی کا اطلاق ’عورت فاؤنڈیشن‘ کے ذریعے کیا گیا جن کی زیرنگرانی ضلعی سطح پر ذیلی غیرسرکاری تنظیموں (این جی اُوز) نے ملک گیر سرگرمیاں کے ذریعے ایک معاشرے میں ایک ایسی سوچ کو پروان چڑھایا۔ اِسی پروگرام کا نتیجہ تھا کہ مرد اور خاتون کے درمیان صنفی اور جنسی امتیازات کے درمیان باریک فرق کو واضح کیا گیا اور معاشرے کی ترقی میں اِن دونوں اکائیوں کے کردار سے یکساں استفادہ کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے یہ تصور پیش کیا گیا کہ ترقی کا معنوی عمل صنفی اکائیوں کے درمیان افراق و تفریق سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ اور ترقی کے یکساں مواقعوں کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کے تحت پاکستان کے لئے امریکی امداد کا حجم ’’چار کروڑ (40ملین) ڈالر تھا جس کا ساٹھ فیصد سے کم حصہ ہی استعمال کیا جاسکا۔ اگرچہ بیرونی امداد سے ملنے والے مالی وسائل سے مکمل استفادہ نہ کرنے جیسی خامی اِس بات کا سبب نہیں لیکن ’یو ایس ایڈ‘ کی جانب سے ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کو رواں برس ختم کرنے کی بنیادی وجہ ’صدر امریکہ ٹرمپ‘ کی ترجیحات ہیں جنہوں نے بیرون امریکہ ’یوایس ایڈ‘ کے پروگراموں کو بتدریج اور مرحلہ وار ختم کرنے کی بجائے فوری طور پر جہاں ہے اور جیسا ہے کہ بنیاد پر منجمند کرنے کے احکامات صادر فرما دیئے ہیں اور یہی وجہ ہے آنے والے چند ماہ کے دوران پاکستان میں ’یو ایس ایڈ‘ کی سرگرمیاں رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی جائیں گی۔ 

پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو حقوق نسواں اور صنفی مساوات کے اِس پروگرام کا جاری رہنا اِس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ ابھی اِس کے مقرر کردہ جملہ اہداف حاصل نہیں ہو پائے اور نہ ہی انتھک و پرخطر عملی مشقوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہونا شروع ہوئے ہیں کہ یکایک اِس حکمت عملی (پروگرام) میں شامل ذیلی منصوبے (پراجیکٹ) ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے‘ اور بعدازاں ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کی بساط بھی لپیٹ دی جائے گی۔ یہ ایک مایوس کن صورتحال ہے بالخصوص اُن تمام متعلقہ ’غیرسرکاری تنظیموں‘ کے لئے جو سال2018ء کے عام انتخابات سے قبل خواتین کی سیاسی عمل میں زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے کے حوالے سے کام کر رہی تھیں۔

سال 2010ء میں شروع ہونے والے ’جینڈر ایکویٹی پروگرام‘ کے چار بنیادی اہداف و مقاصد یہ تھے 1: انصاف تک رسائی‘ خواتین کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور اِس ذریعے سے صنفی مساوات کا حصول کیا جائے۔ 2: خواتین کو بذریعہ شعور و خواندگی خودمختار (بااختیار) بنانا اُور انہیں گھر‘ کام کاج کے ماحول اور معاشرے میں اپنے آئینی حقوق کے بارے علم ہو سکے۔ 3: صنفی بنیاد پر تشدد کی حوصلہ شکنی اور اِس منفی رویئے کے خلاف جدوجہدکرنا اور 4: ایسے اداروں کی استعداد میں اضافہ (سرپرستی) کرنا جو خواتین کو خودمختاری اور صنفی عدم مساوات کو ختم کرنے کی مہارت یا اِن شعبوں میں عملی کام کا تجربہ رکھتی ہیں۔ اِن چار بنیادی اہداف کے حصول کے لئے 12 مختلف مراحل میں الگ الگ مالی امداد مختص و فراہم کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان نے ’صنفی مساوات پروگرام‘ سے کیا سیکھا (حاصل کیا) اور اِس کے ثمرات و اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اِس حکمت عملی کو جاری رکھنا چاہئے‘ اگر ہاں تو کیوں؟

خیبرپختونخوا کے چار (ایبٹ آباد‘ ہری پور‘ سوات‘ پشاور) اور مجموعی طور پر پاکستان کے بارہ اضلاع میں خواتین کو انصاف تک رسائی کے تحت ایک ہزار سے زائد خواتین کو مفت قانونی امداد دی گئی بصورت دیگر وہ اپنے آئینی حقوق سے محروم رہتیں اور انتہاء یہ بھی ہو سکتی تھی کہ انہیں زندہ رہنے ہی سے محروم کر دیا گیا ہوتا! غنیمت نہیں تو کیا ہے کہ اِسی پروگرام کے تحت قریب چوبیس سو وکلاء (خواتین و حضرات) کے صنفی مساوات کے حوالے سے تصورات واضح کئے گئے۔ علاؤہ ازیں اضلاع کی سطح پر بار ایسوسی ایشن کی استعداد میں اضافہ کیا گیا۔ اِسی پروگرام کے تحت کم و بیش پانچ لاکھ خواتین کے قومی شناختی کارڈز بنوائے گئے اور ووٹر لسٹوں میں اُن کے ناموں کا اندارج کرایا گیا۔ ملک بھر میں خواتین کے لئے بارہ ’پناہ گاہیں‘ بنائی گئیں جہاں انہیں آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ خواتین کو ہنرمندی کی تربیت دی گئی۔ خواتین کو خودروزگار کے لئے مالیاتی اداروں سے آسان شرائط پر قرض دلوائے گئے۔ خواتین سے متعلق قوانین سازی کے عمل اور پہلے سے موجود قوانین کے بارے میں شعور اُجاگر کیا گیا۔ 

صنفی بنیاد پر تشدد معاشرے کے نسبتاً کمزور اکثریتی طبقے سے امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ دو سو سے زائد مقامی ’این جی اُوز (غیرسرکاری تنظیموں)‘ کو مالی امداد دی گئی‘ اُن کی استعداد میں اضافہ کیا گیا جو ایک ایسا اثاثہ ہے۔ اشاعتوں اور تشہیری مواد کے ذریعے صنفی بنیادوں پر تشدد کے بارے شعور میں اضافہ ایک ایسا مشکل ہدف تھا جس کا حصول سب سے بڑی کامیابی ہے اور اسی سے معاشرے میں ایک قسم کی برداشت بھی پیدا ہوئی۔

صنفی مساوات (خواتین کی ترقی و حقوق کا تحفظ) ایک ایسا موضوع اُور شعبہ ہے‘ جس کے حوالے سے حکومت پاکستان کی عملی اقدامات اُور دلچسپی کم ترین سطح پر ہے۔ سرکاری اداروں میں سوائے تنخواہیں‘ مراعات اُور بیرون ممالک دوروں سے زیادہ آگے کی سوچ نہیں پائی جاتی! اگر ’جینڈر ایکوٹی پروگرام‘ نامی حکمت عملی کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کی بجائے اِسے کم کرتے ہوئے ختم کیا جاتا ہے تو نقصان صرف اور صرف اُن خواتین کا ہوگا‘ جنہیں ایک طرف صنف کی بنیاد پر امتیازی روئیوں اور ناموافق ماحول کا سامنا ہے بلکہ اُن کے وراثت اور حق رائے دہی جیسے بنیادی آئینی حقوق بھی غصب ہیں! 
epaper.dailyaaj.com.pk/index.htm
or
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2017-02-22