Showing posts with label Trade. Show all posts
Showing posts with label Trade. Show all posts

Wednesday, February 8, 2023

Economic crisis, worries & unsafe border!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

معاشی بوجھ : غیرمحفوظ سرحد

امریکہ اور یورپ کی جانب سے طالبان حکومت کو اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی دینے سے انکار کے بعد پاکستان سے روزانہ لاکھوں ڈالر افغانستان اسمگل کئے جا رہے ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان کو درپیش معاشی بحران کے اسباب و محرکات کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان سمگل ہونے والے امریکی ڈالرز کا حوالہ دیتے ہوئے تحقیق کا یہ نتیجہ پیش کیا گیا ہے پاکستان سے ڈالروں کی افغانستان منتقلی ملک کے معاشی بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔ ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق روزانہ چھبیس لاکھ ڈالر سرحد پار جا رہے ہیں۔ افغانستان کا مرکزی بینک ہر ہفتے اپنی کرنسی مارکیٹ کے لئے سترہ ملین (ایک کروڑ ستر لاکھ) ڈالر جاری کرتا ہے۔ پاکستان سے ڈالروں کے غیر قانونی بہاو¿ کی وجہ سے ’اگست دوہزاراکیس‘ میں برسراقتدار آئی افغان حکومت عالمی تنہائی کے باوجود اگر قائم ہے تو اِس کی بڑی وجہ پاکستان کا سہارا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے لئے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ایک بڑا مسئلہ ہے اُور اِس کی وجہ سے پاکستانی روپے پر دباو¿ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے لیکن ذاتی منافع کے لئے کرنسی کی غیرقانونی کا منافع بخش کاروبار پورے جوبن پر ہے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان کی مغرب سرحد 2640 کلومیٹر (سولہ سو چالیس میل) طویل اُور افغانستان سے جڑی ہوئی ہے۔ اِس پاک افغان ’غیرمحفوظ سرحد‘ میں افراد کی آمدورفت اُور اشیا و اجناس کی نقل و حمل کے لئے پانچ فعال مقامات (کراسنگ پوائنٹس) میں چمن‘ طورختم‘ خرلاچی‘ غلام خان اُور انگور اڈا شامل ہیں۔ جن کے ذریعے ہر ماہ قریب تین لاکھ پچاسی ہزار سے زائد افغانوں کی آمدورفت ہوتی ہے اُور اِس مقصد کے لئے 100 سہولیاتی مراکز قائم ہیں جن میں سب سے زیادہ چمن میں 79 ہیں۔ افغانوں کی اکثریت کو سفری دستاویزات یعنی افغان پاسپورٹ پر لگے پاکستان کا ویزہ ہونے کی صورت پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ’بنا سفری دستاویزات (افغان شہریت کے کاغذات جسے تذکرہ کہا جاتا ہے)‘ بھی مریضوں‘ خواتین‘ صحافیوں اُور تاجروں کو پاکستان آمدورفت کی اجازت دی جاتی ہے اُور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بنا سفری دستاویزات پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہری (مرد و خواتین) اگر چاہیں تو وہ پاکستان میں اپنے قیام کا دورانیہ بڑھا بھی سکتے ہیں جس کے لئے ایک الگ بندوبست کے تحت شعبے قائم کئے گئے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی دوسرا ملک اپنے کسی ہمسائے ملک کو اِس قدر بڑے پیمانے پر سہولیات فراہم نہیں کرتا۔ افغانستان نے گزشتہ دو دہائیوں کی طویل جنگ کے بعد اقتدار حاصل کرنے حکومت کو دنیا تسلیم نہیں کر رہی اُور اِسے افغان عوام کی ترجمان (منتخب) حکومت نہ ہونے کا طعنہ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ نے افغان مرکزی بینک کے ”9 ارب ڈالر“ سے زائد کے ذخائر (اثاثے) روک (منجمند کر) رکھے ہیں تاکہ یہ رقم عسکریت پسندی کے فروغ یا کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہوں۔ بعدازاں اقوام متحدہ کے دباو¿ پر امریکہ نے افغانستان کے خراب معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے اِس 9 ارب ڈالر کا آدھا حصہ جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہی تھی کہ افغان حکومت کی جانب سے افغان خواتین پر تعلیم اُور کام کاج پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد اِس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ افغانستان میں نئی حکومت کو قریب ’سترہ ماہ‘ مکمل ہو چکے ہیں اُور اِس عرصے کے دوران افغانستان کی معاشی حالت اُور انسانی حقوق کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ آدھی سے زیادہ افغان آبادی کو سخت سردی میں شدید بھوک کا سامنا ہے اُور اِس مشکل میں افغانستان کی معیشت کا کچھ بوجھ پاکستان کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ معروف مالیاتی مشاورتی ادارے ”الفا بیٹا کور سلوشنز پرائیویٹ لمٹیڈ“ کے مطابق ”افغانستان کو روزانہ کی بنیاد پر تقریبا دس سے پندرہ ملین (ایک سے ڈیڑھ کروڑ) ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کا نصف حصہ پاکستان (غیرقانونی طور پر) جا رہا ہے۔“ افغان حکومت کے زیر انتظام مرکزی بینک (دا افغانستان بینک) کے پاس معیشت کو سہارا دینے کے لئے ڈالر موجود ہیں جو اقوام متحدہ کی طرف سے ہر ہفتے 4 کروڑ (چالیس ملین) ڈالر دیئے جاتے ہیں تاکہ انسانی امدادی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں چونکہ افغانستان عالمی بینکاری نظام سے کٹ چکا ہے‘ اس لئے یہ رقم نقدی کی صورت افغان حکومت کو دی جاتی ہے اور اس کے آنے کے بعد اسے مقامی کرنسی مارکیٹ‘ افغانی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اگرچہ اس امداد سے طالبان کو براہ راست کوئی فائدہ نہیں پہنچتا لیکن ڈالر آخر کار مرکزی بینک کے خزانے میں چلے جاتے ہیں۔ اِس کے علاو¿ہ افغان حکومت کو کسٹم ٹیرف سے بھی ڈالروں میں آمدنی ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق ”اقوام متحدہ دراصل مارکیٹوں میں ڈالر کی فراہمی اور بدلے میں افغانیوں کو خرید کر افغانی کرنسی کو مستحکم رکھے ہوئے ہے تاہم اقوام متحدہ تن تنہا افغانستان نہیں چلا رہا بلکہ اِس میں پاکستان سے غیرقانونی ڈالروں کی ترسیل (اسمگلنگ) کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران افغانی میں امریکہ ڈالر (گرین بیک) کے مقابلے میں تقریبا پانچ اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا ہے‘ جو دنیا میں کسی بھی کرنسی کی اچھی (مضبوط) کارکردگی کا مظاہرہ ہے۔ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار میں آنے کے وقت افغان کرنسی کی قدر میں کمی ہوئی تھی اُور ایک ڈالر کے عوض 121.18 افغانی ملتے تھے لیکن بعدازاں افغانی مستحکم ہوئی اُور امریکی ڈالر کے مقابلے اِس کی موجودہ قدر 90 افغانی ہے جبکہ گزشتہ روز (8 فروری) پاکستانی روپے کی قدر 275 روپے تھی۔ اگر گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کو دیکھا جائے تو یہ 37 فیصد بنتی ہے۔ توجہ طلب ہے کہ ایک سال کے دوران افغان کرنسی کی قدر 5.6 فیصد مضبوط جبکہ پاکستانی روپے کی قدر 37 فیصد کم ہوئی ہے جو بڑی گراوٹ ہے! صرف جنوری دوہزارتیئس کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں 10فیصد کمی ہوئی ہے اُور اِس سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال میں حکومت ’آئی ایم ایف‘ سے انتہائی ضروری قرض حاصل کرنے کے لئے شرح تبادلہ پر اپنی گرفت نرم کئے ہوئے ہے اُور اِس کے زرمبادلہ کے ذخائر سال کی کم ترین سطح پر ہیں۔ وقت ہے کہ افغان معیشت کو سہارا دینے کا بوجھ اُتار کر پاکستان کے معاشی مفاد اُور مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے۔ 

افغانستان کی وزارت ِخزانہ کے حکام کا یہ بیان ’آن دی ریکارڈ‘ ہے کہ ”پاکستان سے ڈالروں کی اسمگلنگ گزشتہ سال کے وسط میں اُس وقت شروع ہوئی جب پاکستان نے افغانستان سے کوئلہ درآمد کرنے کا فیصلہ کیا (حالانکہ پاکستان کے پاس افغانستان سے زیادہ کوئلے کے ذخائر موجود ہیں!) چونکہ افغان و پاکستان مقامی کرنسیوں (روپے و افغانی) میں تجارت نہیں کرتے اُور یہ پابندی افغان حکومت کی طرف سے عائد ہے اِس کی وجہ سے کوئلے کے افغان برآمد کنندگان ڈالروں میں تجارت (وصولیاں) کرتے ہیں۔ افغان ڈالروں کی ترسیل کا ذکر 23 جنوری کے روز گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پریس کانفرنس میں بھی سننے میں آیا جب اُنہوں نے کہا کہ ”افغان تاجر مقامی مارکیٹ سے ڈالر خریدتے ہیں تو اِس سے پاکستانی کرنسی مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔“

کوئلہ افغانستان کی برآمدات میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ افغان سرمایہ کار ”تجارتی شراکت داری“ کے تحت افغان کرنسی میں کوئلہ خرید کر اسے اپنے منافع کے ساتھ روپے میں فروخت کرتے ہیں اُور پھر اِس روپے کو ڈالر میں تبدیل کر کے افغانستان کسی بینکنگ چینل سے نہیں بلکہ روائتی ہنڈی حوالہ (غیرقانونی ترسیلات زر) کے ذریعے سے لیجاتے ہیں چونکہ پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالروں کی کمی (قلت) ہے اِس لئے ڈالر پشاور جیسی سرحد سے قریب جگہوں سے خریدے جاتے ہیں جہاں ”گرے مارکیٹوں“ قائم ہیں اُور افغان تاجر سرکاری نرخ سے دس پندرہ فیصد زیادہ ادا کرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں اِس لئے پاکستان کے کرنسی ڈیلروں اُور افغان تاجروں کے درمیان گہرے کاروباری مراسم (ہم آہنگی) دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دوسری طرف افغان حکومت کی جانب سے کسی بھی مقدار میں ڈالر لانے پر کوئی پابندی نہیں بلکہ ڈالر لانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن افغانستان سے بیرون ملک ڈالر جانے کی زیادہ سے زیادہ حد کو نصف کرتے ہوئے 5 ہزار مقرر کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر افغان حکومت اپنی کرنسی و معاشی استحکام کے لئے ڈالروں کی خریدوفروخت (نقل و حمل) پر سخت گیر کنٹرول رکھ سکتی ہے تو ایسا پاکستان کے لئے کیوں مشکل ہے جبکہ ہمارے پاس تکنیکی و افرادی وسائل افغانستان کے مقابلے زیادہ ہیں؟ وقت ہے کہ صرف ناقص و کمزور امیگریشن پالیسی ہی نہیں بلکہ تجارت اور سرحدی کنٹرول“ میں اضافہ کیا جائے اُور بہتری لائی جائے۔ ایک ایسی سرحد جہاں روزانہ ہزاروں افراد بغیر ویزے کے سرحد پار کر رہے ہوں اُور سرحدی کراسنگ پر کسی میلے جیسا سماں ہو‘ وہاں (تجاہل عارفانہ کرتے ہوئے) ڈالروں کی غیرقانونی ترسیل پر تعجب یا تشویش کا اظہار نہیں ہونا چاہئے۔

....


Saturday, March 3, 2018

Mar 2018: Pakistan Turk Free Trade Agreement - a mirage!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ایک ہاتھ کی تالی!
پاکستان کی کوشش ہے کہ ترکی کے ساتھ ’’آزاد تجارت کا معاہدہ (فری ٹریڈ ایگریمنٹ)‘‘ کی ایک مرتبہ پھر توثیق ہو جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارت کا حجم جو کہ 5 ارب ڈالر ہو سکتا ہے اُسے سال 2022ء تک 10 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکے۔ اِس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل فروری 2015ء سے جاری ہے جبکہ اکتوبر 2015ء میں انقرہ اجلاس اہم پیشرفت تصور ہوتی ہے لیکن اِن تمام کوششوں کا حاصل (لب لباب) یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان اور ترک حکام اِس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ دوطرفہ تجارت پر عائد 85 فیصد اخراجات (محصولات) کم کئے جائیں لیکن جس قدر گرمجوشی پاکستان کی جانب سے دیکھنے میں آ رہی ہے‘ ترک حکام اُس قدر مہربانی کا مظاہرہ نہیں کر رہے‘‘ اُور یہی وجہ ہے کہ وزارت تجارت نے وفاقی کابینہ سے پاکستانی مصنوعات پر ترکی میں ڈیوٹی کی کمی یا پھر پاکستان کی یورپی نظام کے تحت ترجیحات کے عمومی نظام کی حیثیت میں توسیع کے معاملے کو لیکر ترک حکام پر زور دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارتِ تجارت نے وفاقی کابینہ کو باقاعدہ طور پر اس بات سے بھی آگاہ کیا ہے کہ ایسے ترقی پذیر ممالک جو ترجیحات کے عمومی نظام کی حیثیت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں‘ ان میں سے ترکی نے پاکستان اور ارمانیہ کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو توسیع دینے سے انکار کردیا ہے اُور ضرورت اِس امر کی ہے کہ ترک حکومت سے پاکستانی مصنوعات پر دی جانے والی بھاری اضافی ڈیوٹی ختم کرانے کے لئے بات چیت کی جائے۔

فروری دوہزارپندرہ سے اب تک اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان ہونے والے ’’آزاد تجارتی معاہدے‘‘ کے لئے مذاکرات میں متعدد مرتبہ اضافی ڈیوٹی کے مسئلے کو اجاگر کیا گیا تاہم اس معاملے میں اب تک خاطرخواہ پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ پاکستان نے اپنے حصے کی رعائت تو دے دی جس سے ترکی فائدہ بھی اٹھار رہا ہے لیکن پاکستان کو برآمدات بڑھانے میں خاطرخواہ فائدہ نہیں ہورہا۔ اِس وقت جو پاکستانی مصنوعات زیرِبحث ہیں‘ اِن میں ٹیکسٹائل‘ کارپٹ‘ ہاتھوں سے بنے فائبر‘ پلاسٹک اور جوتے وغیرہ شامل ہیں۔ اِن مصنوعات پر بیس سے پچاس فیصد تک ڈیوٹی مقرر ہے جبکہ مجموعی طور پر اِن اشیاء پر 28 سے67فیصد کی ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے جبکہ ان کے ساتھ دیگر (اضافی) محصولات بھی لاگو ہوتے ہیں۔ ترک حکام کی جانب سے اس قدر بھاری ڈیوٹیز کے نیتجے میں سال دوہزارگیارہ سے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں کمی ہو رہی ہیں اور یہ کمی قریب ستر فیصد جیسی غیرمعمولی ہیں‘ جو سات برس قبل 90کروڑ 60لاکھ ڈالر تھیں اور گزشتہ مالی سال تک کم ہوکر 28کروڑ 20لاکھ ڈالر رہ گئیں ہیں۔ وزارتِ تجارت کے نظر میں ترک حکومت پابند ہے کہ وہ پاکستان کی آزاد تجارتی حیثیت بحال کرے کیونکہ وہ خود بھی یورپی یونین کی کسٹم یونین کا سابق رکن ہے۔ یہی وہ مطالبہ ہے جو 2017ء میں ترک حکام سے کیا جاچکا ہے تاہم اس معاملے میں مذاکرات کی بجائے ’’آزاد تجارتی معاہدے‘‘ کی تجویز سامنے آئی۔ گزشتہ برس جون میں اِسی معاہدے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں پاکستان نے ترکی سے مطالبہ کیا کہ اِس کی خصوصی حیثیت میں توسیع کی جائے یا پھر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ٹیکس کے حوالے سے رعایت دی جائے۔ مذکورہ میٹنگ میں ترکی نے دوہزار گیارہ میں نافذ ہونے والی اضافی پچیس فیصد ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز پیش کی تھی‘ جو پانچ سال کے لئے تھی جبکہ دیگر مصنوعات کے لئے گیارہ سال تک توسیع کے امکان کو رکھا گیا تھا لیکن پاکستان نے ترکی کی اِس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ترک حکام پر زیادہ سے زیادہ نرمی دکھانے کی ضرورت پر زور دیا تھا لیکن اگر حالیہ کوششیں بھی ناکام ہو جاتی ہیں تو اس کے بعد پاکستان درآمد ہونے والی ترک مصنوعات پر بھی اضافی ٹیکس لاگو کرنے کے سوا کوئی دوسری صورت باقی نہیں رہے گی‘ جس کے لئے ترکی ذہنی طور پر تیار دکھائی دیتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اُس کے لہجے میں سختی کا عنصر یوں غالب دکھائی نہ دے رہا ہوتا۔ گزشہ برس دسمبر میں آزاد تجارتی معاہدے سے علیحدگی کے بعد ’پاکستان اور ترکی کے درمیان جوائنٹ ورکنگ گروپ‘ کا اجلاس ہوا‘ جس میں یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر اٹھایا گیا لیکن نتیجہ خیز نہیں رہا۔ مذکورہ مذاکرات میں ترک حکام نے واضح کیا تھا کہ ’’ترکی ان ممالک کو ’آزاد تجارتی حیثیت‘ نہیں دے گا جو پہلے ہی اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔‘‘ ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ہونے والے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی اُو) اجلاس کے موقع پر بھی پاکستان کی جانب سے ترکی کو منانے کی کوششیں رائیگاں رہیں۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان اب تک آزاد تجارت کے معاہدے سے متعلق جو پہلے دوہزار سولہ میں ہونے تھے انہیں دوہزارسترہ میں ہونا طے (شیڈول) کیا گیا اور ابھی بھی دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر بات چیت کے لئے مذاکرات متوقع نہیں۔ 

حقیقت حال تو یہ ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان گرمجوش تجارتی تعلقات ’ایک ہاتھ سے تالی بجانے کی کوشش‘ ہے۔ ترک دو طرفہ تجارت اور آزاد تجارت کی بجائے یک طرفہ برآمدات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ 

عالمی سطح پر پاکستان سے محبت کا اظہار کرنے والے ممالک کی کمی نہیں لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اپنے قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کو موجودہ اقتصادی مشکلات سے نکلنے میں مدد فراہم کرے۔ پاکستان کو درپیش دوسرا اہم مسئلہ مصنوعات کے معیار کا بھی ہے۔ 

ترک مصنوعات معیار میں بہتر ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں اپنا مقام رکھتی ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قابل بھروسہ ’میڈ اِن پاکستان (Made in Pakistan)‘ اور ’میک اِن پاکستان(Make in Pakistan)‘ جیسے انقلابی اقدامات کئے جائیں تاکہ پاکستانی مصنوعات کی منڈیوں میں مانگ اور فوری کھپت ممکن ہو۔ تجارت بڑھانے کا کوئی بھی دوسرا ذریعہ (شارٹ کٹ) کامیاب نہیں ہو سکے گا کیونکہ توانائی بحران‘ اِقتصادی مسائل اور پاکستانی کرنسی پر دباؤ کے علاؤہ مہنگائی جیسے اسباب پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں مقابلے کے قابل نہیں بنا پا رہیں۔ دوست ممالک سے توقعات وابستہ کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن خوش فہمی کی بجائے حقیقت حال کا ادراک ضروری ہے کہ اقتصادی مشکلات کی موجودہ گھڑی میں پاکستانی برآمدات کو سہارا دینے کوئی نہیں آئے گا‘ جب تک ہم خود اپنی خامیوں اور کمیوں کو دور نہیں کرتے۔
۔

Wednesday, April 12, 2017

Apr2017: Export of Donkeys & Livestock why not?

ژرف نگاہ ۔۔۔شبیر حسین اِمام
گدھے‘ ذہانت اور چراغوں کی روشنی!
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ ’عظیم الشان‘ ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا‘ یہ بات کہنے والے چین کی منڈیوں سے نکاسئ مال کے حوالے سے ایک درست بات تو کہتے ہیں لیکن کیا ’سی پیک‘ سے مستفید ہونے کے لئے پاکستان کے پاس بھی کوئی ’چین جیسا جامع‘ لائحہ عمل بھی ہے؟ چین کی قیادت پاکستان کے راستے دنیا کو ایک منڈی کے طور پر دیکھ رہی ہے تودانشمندی یہی ہو گی کہ اِس راہداری کے ذریعے پاکستان بھی چین کی منڈیوں کو فتح کرنے کا عزم کر لے مگر کیسے؟ 

خیبرپختونخوا اُور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان زراعت اور مال مویشیوں کے جیسے ’معمولی دکھائی دینے والے‘ شعبوں میں تعاون اور بالخصوص ’گدھوں کی چین برآمد‘ کے حوالے سے دس اپریل کو شائع ہونے والی تحریر ’مذاق‘ کی نذر ہو گئی لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سنجیدہ طبقات بشمول صحافیوں کی جانب سے بھی ایسے ایسے تبصرے بذریعہ اِی میل‘ ٹیکسٹ میسجز اور واٹس ایپ موصول ہوئے‘ کہ جنہیں پڑھ کر ’اتنے ہنسے کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑے!‘ ملاحظہ کیجئے پہلا تبصرہ جس کے الفاظ معذرت کے ساتھ شروع ہوئے اور کہا گیا کہ ’’کیا خیبرپختونخوا سے گدھوں کی برآمد سے کوئی ایسا بحران تو پیدا نہیں ہوگا کہ ذہانت کا قحط پڑ جائے؟ دوسرا تبصرہ قدرے مثبت پہلو رکھتا تھا کہ خیبرپختونخوا میں جو ایک طبقہ کام کررہا تھا اگر اُسے بھی چین بھیج دیا گیا تو باقی مجھ سے جیسے کام چور ہی رہ جائیں گے اور کوئی ملک یا صوبہ کس طرح محض کام چوروں سے چل سکتا ہے؟ تیسرا تبصرہ تحریک انصاف کی تبدیلی کے وعدے سے متعلق ہے جس میں پاکستانی گدھوں کو چین کے حوالے کرنا ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی میں ایک صوبے کی ’بیجا مداخلت‘ قراردی گئی ہے! چوتھا قابل ذکر غور ہے کہ پشاور اور خیبرپختونخوا کے رہنے والی ایک تعداد ایسی تھی جنہوں نے چوہے مارنے کے عوض منافع کمایا اور اب گدھوں کی باری ہے تو کیا ہم اپنے انسانی وسائل سے کوئی زیادہ بہتر استفادہ نہیں کرسکتے؟ اور جس پانچویں تبصرے کو یہاں شامل کرنے کا مقصد تصویر کا ایک ایسا رخ دکھانا ہے‘ جس میں درد بھی چھپا ہے اُور اِصلاح کی گنجائش بھی کہ ’’گدھوں کی چین برآمد سے کہیں گوشت کا قلت پیدا نہ ہو جائے؟‘‘ دوست احباب نے جس عرق ریزی اور توجہ سے گدھوں کے بارے ’کھل کر اظہار خیال‘ کیا ہے اُس سے صاف ظاہر ہے کہ وقت اور تخیل پرواز کی کوئی کمی و حد نہیں! اے کاش اگر ’گدھوں کی صنعتی پیمانے پر افزائش‘ کے موضوع کو ’گوگل (google)‘ ہی کر لیا جاتا تو بہت کچھ ایسا پڑھنے کو ملتا جس پر یقین کرنا مشکل ہے۔

کیا ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ رواں برس موسم گرما کی شدت ماضی کے مقابلے زیادہ ہوگی جس کی ایک جھلک مارچ کے اختتام اور اپریل کے شروع ہی میں دیکھی گئی جب درجہ حرارت کی باعث میدانی علاقوں کے رہنے والوں کی چیخیں نکل گئیں۔ ملک میں بجلی کا شارٹ فال اور لوڈشیڈنگ بڑھنے کا سبب بھی موسمی تبدیلی ہے جس کے منفی اثرات نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور بالخصوص اُن تمام پالتو جانوروں پر بھی یکساں مرتب ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی صورت ہمارا ہاتھ بٹا رہے ہوتے ہیں۔ گھوڑا‘ خچر اور گدھا پہاڑی علاقوں میں مال برداری کا اہم ذریعہ ہیں‘ جن کی افزائش ماحول دوست ہونے کے ساتھ زرعی معیشت و معاشرت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں ’لائیوسٹاک‘ کی اصطلاح کو محدود کر کے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت اگر کچھ مختلف کرنے جا رہی ہے اُور اس نے برآمدات کے لئے ایک ایسی جنس کا انتخاب کیا ہے جس کی چین جیسی بڑی منڈی میں مانگ ہے اور تجارت کی کامیابی کا پہلا اصول بھی یہی ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں جنس کی طلب و مانگ پر نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی تیار کی جائے! تو حرج ہی کیا ہے؟ پشاور کے ایک سینئر صحافی نے تو ’فرط جذبات‘ یہاں تک لکھ دیا کہ ’’اَب ہم گدھوں کی کمائی کھائیں گے؟‘‘ یقیناًانہوں نے یہ بھی سوچ سمجھ کر ہی لکھا ہوگا کہ ’’خیبرپختونخوا کی ترقی کے لئے گدھے میدان میں آگئے۔ گدھے اب فارن (بیرون ملک) جاب (ملازمت) کرنے جائیں گے جو ذہانت کی نکاسی (برین ڈرین) ہے!‘‘ اِس لمحۂ فکر پر رُک کر جان لیں کہ ’’برین ڈرین (brain drain)‘‘ کی اصطلاح کا اطلاق اُن ذہین اور پڑھے لکھے طلباء و طالبات کے بیرون ملک جانے پر ہوتا ہے جو پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اِس تعلیم کا استعمال اپنے ملک کی بہتری کے لئے نہیں کرتے بلکہ اچھی تعلیمی قابلیت کے ساتھ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم یا روزگار کے لئے منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ گذشتہ بیس برس کے دوران پاکستان سے کم و بیش ’تیس لاکھ‘ ایسے نوجوان بیرون ملک جا چکے ہیں‘ جن کی تعلیمی قابلیت اور اہلیت سے اگر اپنے ملک میں فائدہ خاطرخواہ اٹھایا جا رہا ہوتا تو ایسے افراد کو کسی بھی صورت بیرون ملک جانے کی ضرورت نہ پڑتی لیکن چونکہ پاکستان میں فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات بالخصوص نوجوانوں کے لئے اپنے اپنے مزاج کے مطابق ملازمتیں یا مزید پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع آبادی کے تناسب سے موجود نہیں‘ اِس لئے نوجوانوں کی اکثریت اچھے مستقبل اور اپنے ذوق و شوق کی تسکین کے لئے مغربی ممالک کا رخ کرتی ہے اور اِس میں حرج بھی کوئی نہیں کیونکہ ’برین ڈرین‘ بہرحال اس بات سے بہتر ہے کہ ذہانت (برین) کو نالے نالیوں میں بہا کر ضائع (ڈرین) کر دیا جائے۔ 

پاکستان کے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں نے اگر نوجوان افرادی قوت سے خاطرخواہ استفادہ نہیں کیا تو اِس کوتاہی اور غلطی کا ’دیرآئد درست آئد‘ اعتراف کرنے میں بھلا حرج ہی کیا ہے بلکہ ہمیں اپنے جملہ فیصلہ سازوں (وفاقی و صوبائی حکومتوں) کو جھنجوڑنا چاہئے کہ کس طرح ’نوجوانوں‘ کی اُمیدوں‘ وقت اُور صلاحیتوں کا خون ہو رہا ہے۔ 

زراعت کے شعبے میں گریجوئٹس کو اگر زرعی اراضی دی جائے اور انہیں گدھوں کی افزائش سمیت ’لائیوسٹاک‘ کی افزائش و ترقی (موسمی اثرات کے موافق خوراک اور بچاؤ بارے تحقیق) کی جانب راغب کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ جس محدود پیمانے اور بیرونی سرمایہ کاری سے ’گدھوں کی مذکورہ تجارت‘ کا تصور پیش کیا گیا ہے اُس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر مالی فائدہ اُٹھایا جاسکے۔ پاکستان کے بارے میں ایک گمراہ کن رائے بھی توجہ طلب ہے کہ ہمارے ہاں سے ذہین افراد ہی بیرون ملک جا رہے ہیں‘ حالانکہ ایسا نہیں۔ بیرون جانے والوں کی اکثریت کے پاس جو تعلیمی قابلیت ہوتی ہے مغربی ممالک کی نظر میں وہ کسی کام نہیں بلکہ اُنہیں انگریزی زبان تک کے کورسیز کرکے یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ انگریزی دان ہیں! گدھوں کی چین کو برآمد کرنے سے نہ تو ذہانت کا فقدان ہوگا اور نہ ہی گوشت کی قلت پیدا ہو گی لیکن جس ایک بات نے سب کی ’دعوت فکر‘ دی ہے وہ یہ ہے کہ 
جنہیں حقیر (گدھا) سمجھ کر بھلا (بجھا) دیا تو نے ۔۔۔ 
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی!

Sunday, February 26, 2017

Feb2017: Trade Deficit & Brands

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خسارہ در خسارہ
پاکستان سے محبت عملی اظہار کی متقاضی ہے صرف قومی ترانے کے احترام میں کھڑا ہونا یا کسی ملی نغمے پر جھومنے کا نام ’حب الوطنی‘ نہیں بلکہ اِس کے کئی دیگر ایسے پہلو بھی ہیں جو خاطرخواہ غور نہ ہونے کی وجہ سے ہماری نظروں سے اُوجھل ہیں جیسا کہ غیرملکی درآمد شدہ اشیاء کا غیرضروری ’بطور آسائش یا فیشن استعمال۔‘ درآمدات پر بڑھتا ہوا یہ انحصار کسی بھی طرح نہ تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کے لئے خوش آئند (تعمیری) ہے اور نہ ہی اِس سے پیدا ہونے والا رہن سہن‘ عادات اور مقابلے کی فضاء سماجی شعور کے لئے مثبت و پائیداری کا باعث قرار دیا جاسکتا ہے۔ کراچی میں قیام کے دوران کئی ایسے کثیرالمنزلہ وسیع و عریض ’شاپنگ مراکز‘ جانے کا اتفاق ہوا‘ جو آمدنی کے خاص طبقات کی قوت خرید اور سوچ کی عکاسی کر رہے تھے اُور جہاں نظروں کو خیرہ کر دینے والی چمک دمک کے درمیان درجنوں کی تعداد میں غیرملکی اشیاء کی فروخت کے مراکز ایک سے بڑھ کر ایک کشش کا سامان رکھتے تھے لیکن اِس سے بھی زیادہ حیرت کا باعث یہ امر تھا کہ اِن انتہائی مہنگی غیرملکی اشیاء کی خریداری کے مراکز پرہجوم تھے! 

ڈولمین سنٹر ہی کی مثال لیں جہاں گندے اور گیلے پاؤں کے ساتھ گھسنے پر پابندی تو عائد کی گئی ہے لیکن وہاں خریدار کی ذریعہ آمدنی کیا ہے اور منٹوں میں ہزاروں لاکھوں روپے کی خریداری کرنے والی ذہنیت و قوت خرید کے پیچھے محرکات کیا ہیں‘ اِس بارے کوئی کسی سے نہ تو کچھ پوچھتا ہے اور نہ ہی پر رونق شاپنگ مالز میں کوئی ایک دوسرے سے نظریں ملاتا ہے‘ صرف اردگرد کے ماحول ہی سے نہیں بلکہ ’ڈولمین سٹی‘ میں خود سے بے نیازی عام دیکھی جا سکتی ہے جہاں یہاں وہاں بیٹھی‘ چلتی پھرتی یا پھر خریداری کرتی نسلوں کی نسلیں‘ قدم بہ قدم چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں!

پاکستان کا تجارتی خسارہ کیا ہے کیوں ہے اِس حقیقت کے بارے میں سبھی کو کچھ نہ کچھ معلوم ہے لیکن درآمدات پر بڑھتا ہوا انحصار اور ’برانڈز‘ کی ہوس نے صورتحال کو زیادہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے‘ اِس بارے زیادہ غور نہیں کیا جاتا۔ ملک کی قومی ائرلائن (پی آئی اے) نے مہنگی لیز پر A320 طیارے لئے جس میں سوار ہوتے ہی ’بزنس ریکارڈر‘ کی شہ سرخی پر نظر پڑی‘ کہ ’’اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کو کم کرنے والے خطرنات اور تجارتی خسارے پر کنٹرول کے لئے درآمد کی جانے والی کئی چیزوں پر ایک سو فیصد مارجن کا نفاذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے‘‘ اور یہ خبر نہایت ہی نمایاں طور پر شائع کی گئی تھا جبکہ دیگر قومی اخبارات میں اِس خبر کو اگرچہ زیادہ اہمیت نہیں دی گئی لیکن خوش آئند تھا کہ ہمارے کسی قومی ادارے کو (کم سے کم) اِس بات سے خطرہ تو محسوس ہوا ہے کہ غیرملکی ثقافت اور رہن سہن کی نقل یا اُسے اپنانے کی دھن کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔ 

درآمدات پر انحصار کم کرنے کی اِس کوشش کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہونے کی زیادہ توقع نہیں کیونکہ جو طبقہ مہنگی ’برانڈیڈ(branded)‘ اشیاء کی خریداری کا عادی ہے‘ اور وہ اُس کے معمول کی رہن سہن کا جز بن چکا ہے وہ ان اقدامات سے نہ تو متاثر ہوگا اور نہ ہی درآمدی اشیاء کی حوصلہ شکنی ممکن ہو سکے گی! یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جن اشیاء کی درآمد پر سو فیصد مارجن کے نفاذ میں گاڑیاں اُور اُن کے پرزہ جات‘ موبائل فون‘ سگریٹ‘ جیولری‘ کاسمیٹکس‘ ذاتی استعمال کی اشیاء‘ برقی و دیگر گھریلو آلات اور اسلحہ شامل ہے لیکن محض برآمدات کی اس طرح حوصلہ شکنی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ اُن کے متبادل اشیاء پاکستان کے اندر (میڈ اِن پاکستان) فخریہ طور پر تیار نہیں ہوں گی۔

پاکستان کی معروف جامعہ ’انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (کراچی)‘ کے معلم مدحت صاحب جب ’برانڈنگ‘ کے حوالے سے کاروباری حکمت عملی کے مختلف پہلوؤں کو کھول کھول کر بیان کر رہے تھے تو اُس دوران ایک موقع پر یہ نکتہ بھی زیربحث آیا کہ کسی برانڈ کی خصوصیات میں اُس کا معیار اور پائیداری بھی شامل ہوتی ہے۔ کیا پاکستان میں ایسی مصنوعات نہیں بن سکتیں جو معیار و پائیداری میں اپنی مثال آپ ہوں؟ کیا ’میڈ اِن پاکستان‘ برانڈ قابل بھروسہ نہیں ہوسکتا؟ ملک کے ہر شہر میں سڑکوں پر درآمد شدہ گاڑیوں کی تعداد میں ہرسال اضافہ ہو رہا ہے تو کیا یہ ترقی اور قوت خرید بڑھنے کی عکاسی ہے یا کچھ اُور؟ ذہن نشین رہے کہ سال دوہزار پندرہ سولہ کے دوران ایک ارب چھبیس کروڑ تیس لاکھ امریکی ڈالرز کی غیرملکی گاڑیاں اور پرزہ جات پاکستان درآمد کئے گئے۔ یہ اضافہ سالانہ کم وبیش چالیس بنتا ہے جبکہ رواں مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) کے اعدادوشمار کے مطابق الاماشاء اللہ‘ سات ماہ کے دوران غیرملکی گاڑیوں کی مد میں پاکستان ایک ارب ایک کروڑ ڈالر کی درآمدات کر چکا ہے! اِسی طرح موبائل فون کا استعمال بھی ہمارے ہاں حسب ضرورت یا حسب آمدنی و حال نہیں۔ حیرت انگیز طور پر گذشتہ مالی سال (دوہزار پندرہ سولہ) کے دوران پاکستان میں نصف ارب سے زیادہ (66 کروڑ 70لاکھ ڈالر) مالیت کے موبائل فون درآمد کئے گئے جبکہ رواں برس (دوہزار سترہ) میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے! 

رواں مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) کے ابتدائی سات ماہ کے دوران موبائل فون کی درآمدات تینتیس کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہیں! کیا یہ عجب نہیں کہ ہمارے تعلیمی اِداروں میں تحقیق تو ہو رہی ہے لیکن اُسے عملی طور پر اختیار نہیں کیا جارہا؟ یہی وجہ تھی کہ امریکہ کے امدادی ادارے یو ایس ایڈ (USAid)‘ نے ’صنفی مساوات پروگرام (جینڈر ایکویٹی پروگرام)‘ میں اِس بات کو بھی شامل کیا کہ صنعتی شعبے سے متعلق ’نئے تصورات (آئیڈیاز)‘ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اِس سلسلے میں ’سرحد چیمبرآف کامرس‘ (پشاور) کے زیراہتمام رواں ہفتے ایک مقابلے کا انعقاد بھی ہوا‘ جس میں ایک نجی جامعہ ’سرحد یونیورسٹی‘ کے ہونہاروں نے ’پہلی پوزیشن‘ حاصل کی اور اِسی نوعیت کے پروگرام ملک گیر سطح پر جاری ہیں جیسا کہ ایک ورکشاپ میں سیالکوٹ سے مدعو ڈاکٹر زریں فاطمہ سے تبادلۂ خیال میں معلوم ہوا کہ پاکستانی جامعات میں ہونے والی چھوٹے پیمانے کی تحقیق کو صنعتوں تک منتقل کرنے اور اُن کی ضرورت (نیڈ بیسڈ) کے مطابق تحقیق کا عمل جاری ہے تو اُمید کے چراغ روشن ہوئے کہ ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!‘‘

پاکستانی فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ یکساں ضروری یہ امر بھی ہے کہ نوجوان نسل کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے ہاں تحقیق و صنعتی معیار بلند کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ توجہ مرکوز رہے کہ محنت کشوں کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر یہ ہدف حاصل نہیں ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں صرف صنعتکاروں کے اثاثوں میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ معیاری صحت و تعلیم اور بنیادی و خصوصی سہولیات ہر خاص و عام کے لئے یکساں فراہم کی جاتی ہیں۔ 

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اکتوبر دوہزار سولہ کے بعد سے رواں ماہ کے وسط میں کم ہوئے ہیں تو اِس کا پائیدار حل موجود ہے‘ لیکن اُس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا توکیوں؟ سردست پاکستان میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر اکیس اعشاریہ نو ارب ڈالر ہیں‘ جبکہ اسی عرصے کے دوران گذشتہ سال یہ چوبیس ارب ڈالر سے زیادہ تھے! تعلیم و تحقیق اور سماجی سطح پر شعور اُجاگر کرنے کی ذمہ داری اگر سیاسی حکومت پر عائد ہے تو مرکزی بینک کو درآمدات میں اضافے کی حوصلہ شکنی کے لئے رسمی اور واجبی نمائشی اقدامات سے کچھ زیادہ‘ کچھ جنوبی و انقلابی اقدام کرکے دکھانا ہوگا‘ بالخصوص اشیائے خوردونوش کی درآمدات کم کرنے کے لئے سوچ بچار عام کرنا ہو گی۔ اگر پاکستانی کچھ کھا یا پی رہے ہیں تو اِس سے قبل بھی سوچ کر فیصلہ کریں‘ اِس قدر شعور خودبخود پیدا نہیں ہوگا۔ غیرملکی درآمد شدہ آئس کریم اور مشروبات پر پانی کی طرح پیسہ بہانے کی حوصلہ شکنی کے ساتھ متبادل زیادہ بہتر برانڈز متعارف کرانے کی صورت ہدف کا حصول پائیداری سے حاصل کرنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ 

پاکستان جیسا زرعی ملک کہ جس کی 75فیصد سے زائد معیشت کھیتی باڑی سے وابستہ ہے اگر وہ کھانے پینے کی اشیاء کی درآمدات پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تو کیوں؟ سال دوہزار پندرہ سولہ کے دوران مجموعی طور پر چار ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کی اشیائے خوردونوش پاکستان ہضم کر گیا اور اگر پاکستان رواں مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) میں اب تک‘ دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر ڈکار چکا ہے تو یہ قطعی معمولی نہیں اور نہ ہی مثبت (قابل رشک) رجحان ہے۔ کاش کہ ہم سمجھ سکتے کہ پاکستان اور پاکستانیت کے بھی کچھ الگ الگ تقاضے ہیں! 

Sunday, March 27, 2016

Mar2016: Trade in Iran, yet another dream!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ایران پاکستان تجارت: امکانات کی دنیا!
جمہوری اسلامی ایران کے صدر حسن روحانی کے دورۂ پاکستان کے جہاں سیاسی پہلوؤں کی جہتیں غورطلب ہیں‘ وہیں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت و اقتصادی شعبوں کی ترقی کے موجود امکانات کے پہلوؤں بارے بھی بحث ضروری ہے اور پاکستان کے سیاسی فیصلہ سازوں بالخصوص امریکہ کے زیراثر اسٹیبلشمنٹ کو اپنے رجحانات و میلانات پر نظرثانی کرتے ہوئے اِس نادر موقع سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے جو عالمی اقتصادی پابندیاں اٹھنے اور ایران سے ہمارے گرمجوش تعلقات میں کم و بیش 36 برس کی سردمہری ختم ہونے کا امکانی دور ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہم سے زیادہ ایران خواہش رکھتا ہے کہ پاکستان کی تیل و گیس اور بجلی جیسے شعبوں میں مدد کرے تو اِس پیشکش کے درپردہ نیک نیتی کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہئے۔

پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع کسی بھی طرح معمولی نہیں۔ گوادر بندرگاہ متحدہ عرب امارات کی طرح ہمارا مستقبل بدل سکتی ہے۔ عرب ممالک سے قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیرسمندر سرنگوں کے ذریعے زمینی راستے بنائے جاسکتے ہیں جیسا کہ برطانیہ اور روس کے درمیان موجود ہیں۔ گوادر کی ترقی سے ایران کی ’چہار بہار بندرگاہ‘ کے متبادل بلکہ مقابل تجارت کا ذریعہ اور وسیلہ حاصل ہوسکتا ہے لیکن اگر یہ سب ہماری قومی ترجیحات یعنی اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے سوچ کا حصہ بن جائے! سوال یہ ہے کہ کیا اِیران کی منڈی میں پاکستان کی زرعی مصنوعات کی کھپت و طلب موجود ہے لیکن ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت پہلے ہی ایران پر حاوی ہو چکا ہے اور جو کچھ ہم آج سوچ رہے ہیں بھارت کئی برس قبل کر چکا ہے۔ ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ پاکستان اور ایران کے سیاسی تعلقات کے دو مراحل ہیں۔ ایک 1979ء سے پہلے کا عرصہ ہے جو بہت ہی گرمجوش تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایران نے 1965ء میں ہماری بہت مدد کی لیکن جب ایران میں ’اسلامی انقلاب‘ آیا تو اُس کے تعلقات سعودی عرب کے زیراثر اسلامی دنیا سے کم ہوتے چلے گئے۔ عجیب مماثلت رہی کہ سعودی عرب کی طرح ’اسلامی انقلاب‘ امریکہ و مغربی یورپی ممالک کو بھی پسند نہ آیا اور ایک اسلامی ملک کی مدد سے دوسرے اسلامی ملک پر جنگ مسلط کرنے سے لیکر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے تک اگر ایران کے ساتھ کوئی شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دیا تو وہ ’روس‘ اُور کسی حد تک چین تھا جبکہ مسلمان اور ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان کا کردار اپنی خارجہ پالیسی اور افغانستان میں مہم جوئی کی وجہ سے مخالف سمت رہا۔ ایران یورپی یونین اور امریکہ سے دور ہوتا چلا گیا تو پاکستان نے بھی ایران سے فاصلے بڑھا لئے لیکن اگر ماضی کو دفن کرکے موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے تو ایران سے ہمارا تعاون کا ایک فطری پہلو بھی ہے۔ ایران کے پاس فی الوقت تیل و ذخائر تو موجود ہیں لیکن اُن کی ترقی اور اُن سے استفادہ کرنے کے لئے ایران کو تکنیکی و فنی امداد کے ساتھ اربوں ڈالر اور سالہا سال کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران سے زرعی تجارت میں بھارت کے مقابلے پاکستان کا تناسب چالیس فیصد سے اگر کم ہے تو اس میں اضافہ ممکن ہے کیونکہ زمینی طور پر منسلک ہونے کی وجہ سے ہم ایران کی منڈیوں تک کم وقت اور کم خرچ میں رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو سب سے زیادہ توجہ تین اجناس یعنی کپاس‘ چاول اور چمڑے کی مصنوعات کی برآمد پر مرکوز رکھنی چاہئے لیکن اس کے لئے صنعتی و زرعی شعبے میں اصلاحات لانا ہوں گی۔ مثال کے طور پر صنعتوں کو جو بجلی اور گیس (اِن پُٹ) دی جا رہی ہے اُس کی قیمت زیادہ اور مقدار کم ہے۔ اسی طرح زرعی شعبے کو دی جانے والی کھاد‘ ڈیزل اور بیج (پیداواری ضروریات) کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں! ہمارے پاس چینی ضرورت سے زیادہ ہے لیکن عالمی منڈی میں چینی کی کم ہونے کی وجہ سے ہم پاکستانی چینی برآمد نہیں کرسکتے۔ ہمارے پاس گندم ضرورت سے زیادہ (سرپلس) ہے لیکن 2نومبر 2014ء سے مقرر کردہ مقامی (امدادی) قیمت تیرہ سو روپے فی چالیس کلوگرام کے مقابلے عالمی منڈی میں قیمت 900روپے ہے تو پاکستان کی مہنگی گندم کون خریدے گا؟ زرعی شعبے کو سستی بجلی و گیس کی فراہمی ضروری ہے اور ساتھ ہی بڑے زمینداروں اور کھاد بنانے والے اداروں کی اجارہ داری و ناجائز منافع خوری جیسے منفی محرک پر بھی نظر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کسان کو کھاد سونے جیسے بھاؤ پر ملتی ہے جس پر جی ایس ٹی بھی عائد ہے۔ گھریلو صارفین کے لئے اگر گیس کی قیمت ڈھائی سو سے ساڑھے تین سو روپے‘ سی این جی اسٹیشنوں کے لئے چھ سے سات سو روپے لیکن کھاد بنانے والی صنعتوں (ایگروز) کو گیس 60 پیسے فی ملین مکعب فٹ کے حساب سے دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود کھاد کی قیمتیں زیادہ ہیں۔ بنیادی و ذیلی مسئلہ یہ ہے کہ کھاد بنانے والی کمپناں اپنی سرمایہ کاری کے عوض سالانہ 80فیصد سے زیادہ منافع کما رہی ہیں! تصور کیجئے کہ 100روپے پر 80روپے کمائی اور وہ بھی چند افراد کا گروہ! یقیناًحکومت کو اِس کا نوٹس لینا چاہئے۔

پاکستان کی برآمدات کم ہونے کی ایک وجہ عالمی بحران بھی ہے جس کی وجہ سے بھارت جیسے ملک کی برآمدات بھی دس فیصد برآمدات کم ہوئی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ امریکہ سے طلب اور مانگ کم ہونے کے منفی اثرات پھیل رہے ہیں لیکن ہماری برآمدات کم ہونے کی دیگر وجوہات (محرکات) بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں پیدا ہونے والی کپاس معیاری نہ ہونے کی وجہ سے کم مقدار میں برآمد ہوتی ہے اور اس میں بیرون یا داخلی سرمایہ کاری بھی نہیں کی جاتی جیسا کہ چینی کی صنعت میں ہوتی ہے۔ برآمدات کرنے والے تاجروں کے الگ گلے شکوے ہیں جنہیں انکم ٹیکس کی واپسی بروقت نہیں ہوتی۔ تصور کیجئے کہ وفاقی ادارے ’ایف بی آر‘ کے پاس واجب الادأ ’’ریفنڈ پے منٹ آرڈرز‘‘ کی مالیت تیس ارب سے زیادہ ہے! کیا یہ زرعی و صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے سازگار ماحول ہے؟


پچھلے دو سال میں جس تیزی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اُس سے حکومت کو کم سے کم ’’گیارہ ارب ڈالر‘‘ کا فائدہ ہوا لیکن یہ فائدہ صارفین کو منتقل کرنے کی بجائے بجٹ کے خسارے (غیرترقیاتی اخراجات) کے لئے استعمال کرنے کی وجہ سے فی پاکستانی خاندان پینتیس سے چالیس ہزار روپے کے مساوی معاشی فائدے کے ثمرات محدود ہو گئے۔ ایک تو بجٹ خسارہ پورا نہ ہوسکا اور دوسرا بلواسطہ (ڈائریکٹ) ٹیکس وصول کرنے میں حکومت نے ناکام ہونے کا آسان حل یہ نکالا کہ بلاواسطہ (اِن ڈائریکٹ) محصولات (ٹیکس) عائد کر دیئے جائیں جس کا حاصل یہ ہے کہ عام آدمی (ہم عوام) کی آمدن کم لیکن ٹیکس کا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے!


ہمارے حکمراں خواب بیچنے کے ماہر ہیں۔ چین سے اقتصادی راہداری کا خوشنما خواب ابھی کالا باغ ڈیم کی طرح تنازعات سے نکلا نہیں کہ ہماری توجہ ایرانی منڈیوں اور ایران کے وسائل کی جانب مبذول کر دی گئی ہے۔ نجانے کیوں ہمیں ایران کے مفادات دکھائی نہیں دے رہے جو ماضی میں ’رشین بلاک‘ میں ہونے کی وجہ سے بھارت کے ساتھ سیاسی‘ تجارتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو زیادہ اہمیت دیتا رہا ہے اور اب بھی بھارت کے ساتھ زیادہ گہرے تجارتی روابط رکھتا ہے لہٰذا کسی (اضافی و امکانی) خوش فہمی میں مبتلا ہونے یا مفروضوں پر انحصار کرنے کی بجائے اُن منفی امور کی اصلاح کی جائے جس سے پاکستان میں داخلی طور پر صنعتی یا زرعی شعبے کی ترقی ممکن نہیں ہو پا رہی! بہتری اِسی میں ہے کہ ہم دور کے سہانے ڈھول (امریکہ) کی تاپ پر رقص جاری رکھنے کی بجائے اپنے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ مل کر ایسی (آزاد) تجارتی و علاقائی اقتصادی تعاون پالیسی (لائحہ عمل) تیار کریں جو بعدازاں چین کی اقتصادی راہداری کا حصہ بن کر زیادہ مفید و کارآمد اور منافع بخش ثابت ہو۔

Mar2016: Pak Iran Relations: New Era

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پاک اِیران تعلقات: توقعات کا نیا دور!
جب کسی ملک کی قیادت داخلی و خارجی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے خلوص نیت و عمل سے اقدامات کرتی ہے تو لامحالہ ’وقوع پذیر‘ ہونے والی بہتری کے بارے میں صرف اپنے ہی نہیں بلکہ غیروں کے منہ سے بھی تعریفی کلمات کی بارش ہونے لگتی ہے یقین نہ آئے تو مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تبصروں اور جائزوں کو ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح پاکستان کے اُس کردار کو سراہا جا رہا ہے جو سعودی عرب کے قریب رہتے ہوئے اپنے ہمسایہ ’جمہوری اسلامی ایران‘ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے اور اختلافات کو ہوا دینے کی بجائے اُمت مسلمہ کے دو اہم ممالک میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالہ کرنے کے لئے مثبت‘ کثیرالجہت مثبت کردار سے متعلق ہے‘ اور جس کا اعتراف خود ایران بھی بارہا کرچکا ہے۔ اگرچہ ایک ہمسایہ ملک کے صدر کو اسلام آباد کا دورہ کرنے میں چار سال کا وقفہ ہے لیکن اُمید ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی قیادت ایک دوسرے کے قریب آئے گی۔ اراکین اسمبلی کے وفود کا زیادہ بڑے پیمانے پر تبادلہ ہوگا اور پاکستان و ایران باہم تجارت کے امکانات کے علاؤہ خطے میں امن و سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کو ایران سے کیا چاہئے؟ پیٹرولیم مصنوعات‘ بجلی اُور گیس کا پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات کے ساتھ تبادلہ۔ سوال یہ ہے کہ ایران کی پاکستان سے توقعات کیا ہیں؟ ایک ایسی تجارت جس میں اجناس کے بدلے اجناس سے زیادہ نقد قیمت وصول کی جائے جو ایران کی فی الوقت ضرورت ہے۔ پاکستان دوطرفہ تجارت میں درآمدات و برآمدات کے توازن کو اپنے حق میں رکھنا چاہتا ہے اور ایران کو ایک ایسی منڈی کے طور پر دیکھتا ہے جہاں خوردنی اجناس اُور ملبوسات کی مانگ ہے۔ دوسری طرف ایران مسلم امہ اور عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی اثرورسوخ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے جبکہ پاکستان داخلی محاذ پر ایران کے اثرورسوخ سے فرقہ واریت پر قابو پانے کا متمنی ہے۔ دونوں ممالک کی ایک دوسرے سے ’’توقعات اُور اُمیدوں کی پیاس‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے کامیابی کے امکانات واضح دکھائی دے رہے ہیں۔

ایران کے صدر حسن روحانی اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف ایک ہی وقت یعنی سال 2013ء سے برسراقتدار ہیں اور دونوں رہنماؤں کو کم و بیش ایک جیسے ہی مشکل حالات کا سامنا ہے‘ جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حسن روحانی نے ’مشروط حالات اور وابستگی‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ ’’پاکستان کی سلامتی و خوشحالی ایران کی سلامتی و خوشحالی کا ذریعہ ہے۔‘‘ ایک دوسرے کی اہمیت کا احساس تو دونوں ممالک کی قیادت کو پہلے ہی سے تھا لیکن جس انداز میں ایران کے صدر نے تعلقات و تجارت بڑھانے کی بات کی ہے‘ اُس سے دلی کیفیت پوشیدہ نہیں رہی۔ تصور کیجئے کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد روس کے صدر ولادمیر پوٹن وہ پہلے غیرملکی رہنما تھے جنہوں نے نومبر دوہزار پندرہ میں ایران کا دورہ کیا۔ جس کے بعد جنوری دوہزار سولہ میں چین کے صدر زی جن پنگ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے دوسرے ایسے مستقل رکن تھے جو تہران جا پہنچے۔ قابل ذکر ہے کہ عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود بھی روس اور چین کا ایران سے تجارت کا حجم بالترتیب چار اور پانچ سو ارب ڈالر رہا۔ ایران نے حال ہی میں اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ چین سے تجارت کو چھ سو ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتا ہے اور اسی طرح کی کوشش میں روس بھی لگا ہوا ہے جس نے جوہری و دفاعی شعبوں کے علاؤہ ایران سے پیٹرولیم مصنوعات و گیس کی ترقی کے لئے حال ہی میں معاہدے کئے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمسایہ ملک پاکستان اور ایران کے درمیان فاصلے نہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو نظرانداز کرنے سے پیدا ہونے والی خلیج وسیع ہوتی چلی گئی‘ جسے بہرحال کم کرنے کے لئے دونوں ممالک کی قیادت پراُمید دکھائی دے رہی ہے۔

اگر اندیشہ یہ ہے کہ امریکہ پاکستان اور ایران کے ایک دوسرے کے قریب آنے کو کس نظر سے دیکھتا ہے تو اس بارے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ مسلم ممالک کے عسکری اتحاد میں شمولیت کے باوجود پاکستان نے جس غیرجانبداری کا ثبوت دیا ہے‘ اُس سے دنیا پر پاکستان کی غیرجانبدار و آزاد خارجہ پالیسی واضح ہوگئی ہے۔ یہی وہ امر بھی ہے جس نے ایران کی قیادت و عوام کے دل جیت لئے ہیں اور دراصل اِسی کا اظہار تشکر کرنے کے لئے صدر روحانی پچیس مارچ کو اسلام آباد پہنچے۔ اگر ہم نوروز (نئے سال) کے موقع پر ایرانی صدر کی تقریر دیکھیں تو اُس میں بھی خطے کے ممالک سے تجارتی روابط بہتر بنانے کی ضرورت اور قیام امن کے لئے تعاون کی جو بات کہی گئی ہے تو اشارہ پاکستان ہی کی طرف تھا یقیناًایران پاکستان کی مدد سے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے جو درپردہ (بادی النظر میں) سب سے مثبت و اہم پیشرفت ہے۔

پاکستان کے اِس مؤقف کو پوری امہ میں پذیرائی ملی ہے کہ سعودی عرب اُور ایران کے کردار و باہمی تعلقات کو دوست یا دشمن کی اصطلاحوں یا حوالوں سے نہ دیکھا جائے بلکہ یہ ایک ہی امت کے جز اور انہیں ایک ہی امت کے نظریئے سے دیکھنا چاہئے۔ ایران پاکستان کے لئے یکساں مفید (کارآمد) ہے کیونکہ ہمیں ’انتہاء پسندی‘ کے جس مسئلے کا سامنا ہے اُس میں ایران اپنے اثرورسوخ سے کمی لا سکتا ہے۔ ایران کے صدر کا پاکستان آنا بہت ہی غیرمعمولی بات ہے تاہم برسوں کا تعلق لیکن چار سال بعد ایران کے صدر کا دورہ فاصلوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔ ایران پر امریکہ کی پابندیوں کی وجہ سے اقتصادی و معاشی تعلقات بحال رکھنا پاکستان کے لئے مشکل تھا لیکن اسے پاکستان کی طرف سے زیادہ مشکل بنا دیا گیا کیونکہ ثقافتی و دیگر شعبوں میں بھی تعاون اور تعلقات بھی کم ترین سطح پر رہے۔

ایک دہائی سے جو رکاوٹیں (مجبوریاں) تھیں وہ (الحمدللہ) ختم ہو گئیں ہیں۔ ایران دنیا کے تجارتی و اقتصادی ترقی کے نقشے پر اُبھر رہا ہے اور ایسے وقت میں جو کوئی ایران کے قریب ہوا وہی مستقبل میں زیادہ مستفید ہوگا کیونکہ باہم تجارت کے روابط گہرے ہوتے چلے جائیں گے۔ ایران سے ہمارا کوئی سرحدی تنازعہ نہیں۔ جتنی تجارت ہوگی اُتنے ہی اختلافات کم ہوتے چلے جائیں گے۔ دنیا میں سفارتکاری کے اسلوب بدل رہے ہیں۔ اگر ہمارے سعودی عرب سے اچھے تعلقات ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم ایران سے دوری (کنارہ کشی) اختیار کر لیں۔ دونوں ممالک نے پانچ ارب تک تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جس میں اِس سے دگنا اضافہ ممکن ہے کیونکہ اگر پاکستان ایران سے صرف گیس ہی خریدتا ہے تو یہ سودا 2ارب ڈالر سے زیادہ ہوگا۔ البتہ دونوں ممالک کو مشترکہ باڈر منیجمنٹ‘ دفاعی شعبوں میں تعاون‘ خفیہ معلومات کے تبادلے اور پاکستان اور ایران کے درمیان بلوچستان میں امن کی بحالی کے لئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ایران اور پاکستان کے درمیان دفاع کے شعبوں میں تعاون اور خفیہ معلومات کا تبادلہ نہ ہونے کے برابر ہے جسے بڑھانے کا کھلے عام تذکرہ (چرچا) تو نہیں ہوا‘ لیکن اِیرانی ذرائع کے مطابق ’’پاکستانی قیادت سے ہوئی ملاقاتوں میں اِس شعبے میں بھی تعاون کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔‘‘
The new era of cooperation with Iran based on lot of expectations, only from the Pakistan side