Showing posts with label Export. Show all posts
Showing posts with label Export. Show all posts

Wednesday, April 12, 2017

Apr2017: Export of Donkeys & Livestock why not?

ژرف نگاہ ۔۔۔شبیر حسین اِمام
گدھے‘ ذہانت اور چراغوں کی روشنی!
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ ’عظیم الشان‘ ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا‘ یہ بات کہنے والے چین کی منڈیوں سے نکاسئ مال کے حوالے سے ایک درست بات تو کہتے ہیں لیکن کیا ’سی پیک‘ سے مستفید ہونے کے لئے پاکستان کے پاس بھی کوئی ’چین جیسا جامع‘ لائحہ عمل بھی ہے؟ چین کی قیادت پاکستان کے راستے دنیا کو ایک منڈی کے طور پر دیکھ رہی ہے تودانشمندی یہی ہو گی کہ اِس راہداری کے ذریعے پاکستان بھی چین کی منڈیوں کو فتح کرنے کا عزم کر لے مگر کیسے؟ 

خیبرپختونخوا اُور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان زراعت اور مال مویشیوں کے جیسے ’معمولی دکھائی دینے والے‘ شعبوں میں تعاون اور بالخصوص ’گدھوں کی چین برآمد‘ کے حوالے سے دس اپریل کو شائع ہونے والی تحریر ’مذاق‘ کی نذر ہو گئی لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سنجیدہ طبقات بشمول صحافیوں کی جانب سے بھی ایسے ایسے تبصرے بذریعہ اِی میل‘ ٹیکسٹ میسجز اور واٹس ایپ موصول ہوئے‘ کہ جنہیں پڑھ کر ’اتنے ہنسے کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑے!‘ ملاحظہ کیجئے پہلا تبصرہ جس کے الفاظ معذرت کے ساتھ شروع ہوئے اور کہا گیا کہ ’’کیا خیبرپختونخوا سے گدھوں کی برآمد سے کوئی ایسا بحران تو پیدا نہیں ہوگا کہ ذہانت کا قحط پڑ جائے؟ دوسرا تبصرہ قدرے مثبت پہلو رکھتا تھا کہ خیبرپختونخوا میں جو ایک طبقہ کام کررہا تھا اگر اُسے بھی چین بھیج دیا گیا تو باقی مجھ سے جیسے کام چور ہی رہ جائیں گے اور کوئی ملک یا صوبہ کس طرح محض کام چوروں سے چل سکتا ہے؟ تیسرا تبصرہ تحریک انصاف کی تبدیلی کے وعدے سے متعلق ہے جس میں پاکستانی گدھوں کو چین کے حوالے کرنا ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی میں ایک صوبے کی ’بیجا مداخلت‘ قراردی گئی ہے! چوتھا قابل ذکر غور ہے کہ پشاور اور خیبرپختونخوا کے رہنے والی ایک تعداد ایسی تھی جنہوں نے چوہے مارنے کے عوض منافع کمایا اور اب گدھوں کی باری ہے تو کیا ہم اپنے انسانی وسائل سے کوئی زیادہ بہتر استفادہ نہیں کرسکتے؟ اور جس پانچویں تبصرے کو یہاں شامل کرنے کا مقصد تصویر کا ایک ایسا رخ دکھانا ہے‘ جس میں درد بھی چھپا ہے اُور اِصلاح کی گنجائش بھی کہ ’’گدھوں کی چین برآمد سے کہیں گوشت کا قلت پیدا نہ ہو جائے؟‘‘ دوست احباب نے جس عرق ریزی اور توجہ سے گدھوں کے بارے ’کھل کر اظہار خیال‘ کیا ہے اُس سے صاف ظاہر ہے کہ وقت اور تخیل پرواز کی کوئی کمی و حد نہیں! اے کاش اگر ’گدھوں کی صنعتی پیمانے پر افزائش‘ کے موضوع کو ’گوگل (google)‘ ہی کر لیا جاتا تو بہت کچھ ایسا پڑھنے کو ملتا جس پر یقین کرنا مشکل ہے۔

کیا ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ رواں برس موسم گرما کی شدت ماضی کے مقابلے زیادہ ہوگی جس کی ایک جھلک مارچ کے اختتام اور اپریل کے شروع ہی میں دیکھی گئی جب درجہ حرارت کی باعث میدانی علاقوں کے رہنے والوں کی چیخیں نکل گئیں۔ ملک میں بجلی کا شارٹ فال اور لوڈشیڈنگ بڑھنے کا سبب بھی موسمی تبدیلی ہے جس کے منفی اثرات نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور بالخصوص اُن تمام پالتو جانوروں پر بھی یکساں مرتب ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی صورت ہمارا ہاتھ بٹا رہے ہوتے ہیں۔ گھوڑا‘ خچر اور گدھا پہاڑی علاقوں میں مال برداری کا اہم ذریعہ ہیں‘ جن کی افزائش ماحول دوست ہونے کے ساتھ زرعی معیشت و معاشرت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں ’لائیوسٹاک‘ کی اصطلاح کو محدود کر کے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت اگر کچھ مختلف کرنے جا رہی ہے اُور اس نے برآمدات کے لئے ایک ایسی جنس کا انتخاب کیا ہے جس کی چین جیسی بڑی منڈی میں مانگ ہے اور تجارت کی کامیابی کا پہلا اصول بھی یہی ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں جنس کی طلب و مانگ پر نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی تیار کی جائے! تو حرج ہی کیا ہے؟ پشاور کے ایک سینئر صحافی نے تو ’فرط جذبات‘ یہاں تک لکھ دیا کہ ’’اَب ہم گدھوں کی کمائی کھائیں گے؟‘‘ یقیناًانہوں نے یہ بھی سوچ سمجھ کر ہی لکھا ہوگا کہ ’’خیبرپختونخوا کی ترقی کے لئے گدھے میدان میں آگئے۔ گدھے اب فارن (بیرون ملک) جاب (ملازمت) کرنے جائیں گے جو ذہانت کی نکاسی (برین ڈرین) ہے!‘‘ اِس لمحۂ فکر پر رُک کر جان لیں کہ ’’برین ڈرین (brain drain)‘‘ کی اصطلاح کا اطلاق اُن ذہین اور پڑھے لکھے طلباء و طالبات کے بیرون ملک جانے پر ہوتا ہے جو پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اِس تعلیم کا استعمال اپنے ملک کی بہتری کے لئے نہیں کرتے بلکہ اچھی تعلیمی قابلیت کے ساتھ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم یا روزگار کے لئے منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ گذشتہ بیس برس کے دوران پاکستان سے کم و بیش ’تیس لاکھ‘ ایسے نوجوان بیرون ملک جا چکے ہیں‘ جن کی تعلیمی قابلیت اور اہلیت سے اگر اپنے ملک میں فائدہ خاطرخواہ اٹھایا جا رہا ہوتا تو ایسے افراد کو کسی بھی صورت بیرون ملک جانے کی ضرورت نہ پڑتی لیکن چونکہ پاکستان میں فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات بالخصوص نوجوانوں کے لئے اپنے اپنے مزاج کے مطابق ملازمتیں یا مزید پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع آبادی کے تناسب سے موجود نہیں‘ اِس لئے نوجوانوں کی اکثریت اچھے مستقبل اور اپنے ذوق و شوق کی تسکین کے لئے مغربی ممالک کا رخ کرتی ہے اور اِس میں حرج بھی کوئی نہیں کیونکہ ’برین ڈرین‘ بہرحال اس بات سے بہتر ہے کہ ذہانت (برین) کو نالے نالیوں میں بہا کر ضائع (ڈرین) کر دیا جائے۔ 

پاکستان کے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں نے اگر نوجوان افرادی قوت سے خاطرخواہ استفادہ نہیں کیا تو اِس کوتاہی اور غلطی کا ’دیرآئد درست آئد‘ اعتراف کرنے میں بھلا حرج ہی کیا ہے بلکہ ہمیں اپنے جملہ فیصلہ سازوں (وفاقی و صوبائی حکومتوں) کو جھنجوڑنا چاہئے کہ کس طرح ’نوجوانوں‘ کی اُمیدوں‘ وقت اُور صلاحیتوں کا خون ہو رہا ہے۔ 

زراعت کے شعبے میں گریجوئٹس کو اگر زرعی اراضی دی جائے اور انہیں گدھوں کی افزائش سمیت ’لائیوسٹاک‘ کی افزائش و ترقی (موسمی اثرات کے موافق خوراک اور بچاؤ بارے تحقیق) کی جانب راغب کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ جس محدود پیمانے اور بیرونی سرمایہ کاری سے ’گدھوں کی مذکورہ تجارت‘ کا تصور پیش کیا گیا ہے اُس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر مالی فائدہ اُٹھایا جاسکے۔ پاکستان کے بارے میں ایک گمراہ کن رائے بھی توجہ طلب ہے کہ ہمارے ہاں سے ذہین افراد ہی بیرون ملک جا رہے ہیں‘ حالانکہ ایسا نہیں۔ بیرون جانے والوں کی اکثریت کے پاس جو تعلیمی قابلیت ہوتی ہے مغربی ممالک کی نظر میں وہ کسی کام نہیں بلکہ اُنہیں انگریزی زبان تک کے کورسیز کرکے یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ انگریزی دان ہیں! گدھوں کی چین کو برآمد کرنے سے نہ تو ذہانت کا فقدان ہوگا اور نہ ہی گوشت کی قلت پیدا ہو گی لیکن جس ایک بات نے سب کی ’دعوت فکر‘ دی ہے وہ یہ ہے کہ 
جنہیں حقیر (گدھا) سمجھ کر بھلا (بجھا) دیا تو نے ۔۔۔ 
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی!

Monday, April 10, 2017

Apr2017: Donkeys export to China!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیدھی سادی اُلٹی باتیں!
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے جڑی توقعات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اِس کثیر الجہتی منصوبے سے ’گیٹ وے‘ خیبرپختونخوا میں ترقی کے ایسے نئے اُور پائیدار دُور کا آغاز ہوگا‘ جس سے ’پسماندہ علاقوں کی قسمت بدل جائے گی۔‘ سمندر سے دُوری اُور دیگر غیرموافق حالات کا شکار صنعتیں بھی اپنی جگہ اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں جن کے بارے غور کے لئے گیارہ اپریل کے روز ’ایبٹ آباد‘ میں ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد بھی متوقع ہے‘ جس میں سرکاری و غیرسرکاری اِداروں اُور منتخب نمائندوں کی نپی تلی (سوچی سمجھے) حاضری کے دوران اُن تمام اِمکانات (امور) بارے بات چیت ہوگی‘ جو خیبرپختونخوا کی ’سی پیک‘ سے جڑی ترقی سے متعلق ہیں۔ 

اجتماعی دانشمندی پر اِس قسم کا بھروسہ خوش آئند ہے۔ داخلی محاذ کی طرح بیرونی سطح پر بھی ’سی پیک‘ کے فوائد کا زیادہ سے زیادہ حصہ (شراکت) خیبرپختونخوا کے نام کرنے کے لئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں بھی کوششیں جاری ہیں اور ایک وفد آئندہ ہفتے چین جا رہا ہے‘ جہاں سے مزید سرمایہ کاری اُور چین کی منڈیوں تک رسائی‘ کے ساتھ مصنوعات برآمد کرنے کے بارے متعدد اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے چین کے ساتھ اقتصادی تعاون اور چین سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لئے کوششوں کے بارے وفاق کو بھی اعتماد میں لیا ہے‘ جو ایک آئینی ضرورت تھی۔ وزیراعلیٰ کے دورے میں مفاہمت کی جن یاداشتوں پر دستخط متوقع ہیں اُن میں ایک گدھوں کی چین برآمد بھی ہے اور اس سلسلے میں خیبرپختونخوا اپنے ہاں ’ڈنکی فارمنگ (گدھوں کی افزائشگاہوں)‘ کا فروغ چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ چین میں محنت کش‘ سخت جان گدھوں کی مانگ ہے جن کی کھال‘ گوشت اُور خون سے اَدویات (خاص قسم کی جیلی) بنائی جاتی ہے۔

خیبرپختونخوا کی موافق آب و ہوا میں گدھوں (جانور) کی آبادی بڑھانے کے لئے حکومتی سطح پر پہلے ہی کئی ایک اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے اور اِس شعبے میں چینی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی سامنے آئی ہے‘ جو چین میں رہتے ہوئے نہ صرف ’ڈنکی فارمنگ‘ کے شعبے کی مالی سرپرستی کریں گے بلکہ وہ اِن کے خریدار بھی ہوں گے۔ 

’خیبرپختونخوا چائنا سسٹین ایبل ڈنکی ڈویلپمنٹ پروگرام‘ کے بارے میں تفصیلات جب ایک ٹوئٹر پیغام کے ذریعے جاری کیں تو اِس کا عجیب و غریب اُور بڑی حد تک حیران کن ردعمل دیکھنے میں آیا اُور ایک نہایت ہی سنجیدہ موضوع مذاق کی رو میں بہہ گیا۔ کسی نے لکھا چین کو درآمد کئے جانے والے گدھوں میں قوت کلام رکھنے والے گدھے بھی شامل ہوں گے؟ 
ذومعنی دیگر سوالات بھی بہت تھے جیسا کہ ’دو یا چار ٹانگوں والے گدھے برآمد کئے جائیں گے؟‘ کہیں خیبرپختونخوا میں گدھوں کی آبادی کم تو نہیں ہو جائے گی؟ وغیرہ وغیرہ! 
ایسی کئی دیگر ’سیدھی سادی اُلٹی باتیں‘ اپنی جگہ لیکن ہمارے ہاں گدھے سے جڑے عمومی تاثرات نہایت ہی منفی اور حقائق کے منافی ہیں جن میں گدھے کو ایسا جانور سمجھا جاتا ہے جو ’’بیوقوفی‘‘ کی علامت ہے! حالانکہ گھوڑے کی نسل سے تعلق رکھنے والا یہ جانور پانچ ہزار سال سے انسانوں کی خدمت میں مصروف ہے لیکن انسان اِس کا احساس نہیں کر رہے! بھارت میں گدھوں سے حاصل ہونے والا دودھ اُور گدھوں کی برآمد ایک منافع بخش صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔ گدھوں کی فارمنگ اِس لئے آسان ہے کہ یہ سخت جان ہوتے ہیں انہیں زیادہ حفاظت یا بہتر خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اس کی کئی ایسی جنگلی نسلیں بھی ہیں جن کی فارمنگ ممکن نہیں ہوتی اور اگر انہیں دیگر جانوروں کی طرح ایک ہی ماحول (فارم) میں رکھا جائے تو وہ دوسرے جانوروں کو جسمانی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں۔ تصور کیجئے کہ آسٹریلیا جیسا ترقی یافتہ ملک بھی گدھوں کی فارمنگ پر خاص توجہ دیتا ہے اور اس کے برآمد سے قیمتی زرمبادلہ کما رہا ہے تو پاکستان جو کہ چین کا ہمسایہ بھی ہے اور ’سی پیک‘ کے ذریعے زمینی راستوں سے مسافت زیادہ محفوظ‘ تیزرفتار اُور کم قیمت بھی ہو جائے گی تو سب سے زیادہ حق تو پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کا بنتا ہے کہ وہ چین کی مارکیٹ میں گدھوں کی مانگ اور طلب سے فائدہ اُٹھائے۔

سترہ سے اَٹھارہ اپریل عوامی جمہوریہ چین کے دورے پر جانے والا خیبرپختونخوا کا وفد محض ’سیرسپاٹا‘ ہی نہیں بلکہ ’’روڈ شو (road show)‘‘ کے ذریعے چین کے اُن سرمایہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا‘ جو زراعت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ گدھوں کی فارمنگ بھی زرعی شعبے ہی کی ذیل میں آتی ہے لیکن دیگر پھل اور سبزی پر مبنی خام زرعی پیداوار سے مصنوعات کی تیاری میں بھی چین کی مہارت اور منڈی (طلب) سے یقیناًفائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ خیبرپختونخوا نے گدھوں کی صنعتی بنیادوں پر افزائش کے لئے جو حکمت عملی تیار کی ہے اُس کے لئے ابتدا میں ’ایک ارب روپے‘ مختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اِس ’ایک ارب روپے‘ سے کئی ہزار ارب روپے کمائے جا سکیں گے۔ محکمۂ زراعت اور لائیوسٹاک سے تعلق رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کو گدھوں کی افزائش کے مراکز قائم کرنے کے ساتھ اِن فارمز پر کام کرنے والوں کے رہائشگاہیں اُور دفاتر تعمیر کرنے کا بھی کہا جائے گا جبکہ اِن فارمز کے لئے بجلی کی ضروریات شمسی توانائی سے پوری کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ خیبرپختونخوا اور چین کے سرمایہ کاروں کے درمیان براہ راست اقتصادی تعاون کی بنیاد پر ہوگا جس کی حیثیت اگرچہ سرکاری منصوبے جیسی ہوگی اور اس کے اثاثے سرکار کی ملکیت ہی رہیں گے لیکن اِسے چین اور پاکستان کے نجی سرمایہ کار اور ماہرین مل کر چلائیں گے۔

خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے سات اپریل کے روز ’’اَیبٹ آباد الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن‘‘ کو محکمۂ اطلاعات کی جانب سے ’پانچ لاکھ روپے‘ کی مالی اِمداد دینے کے موقع پر غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے چین کے دورے اور زیرغور متعدد ترقیاتی منصوبوں کے بارے جن سرسری تفصیلات سے صحافیوں کو آگاہ کیا‘ اُس کے مطابق وفاق اُور پنجاب کی جانب سے خیبرپختونخوا کو دیوار سے لگانے اور ’سی پیک‘ سے وابستہ فوائد سے الگ رکھنے کی کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا رہا ہے اور ’سی پیک‘ کو خیبرپختونخوا کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید و کارآمد بنانے کے لئے صوبائی حکومت نے ہر سطح پر کوششیں تیز کر دی ہیں۔ گدھوں کی افزائش اور زندہ جانوروں کی برآمدات کے ساتھ اگر اُن سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی صنعتیں بھی خیبرپختونخوا ہی میں لگائی جائیں تو اِس سے منافع میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے لیکن وقت آگیا ہے کہ ہمیں گدھے کو محض گدھا نہیں سمجھنا بلکہ گدھے کی طرح کام کرنے جیسی خصلت بھی خود میں پیدا کرنی ہے‘ جو کامیابی اور ناکامی (نتائج) کی پرواہ کئے بناء‘ بس سر جھکائے اپنے کام سے کام اُور اپنی دھن میں مگن رہتا ہے۔
Getting benefits from China Pakistan Economic Corridor CPEC