Showing posts with label CPEC. Show all posts
Showing posts with label CPEC. Show all posts

Friday, January 5, 2018

Jan 2018: Trade Deficit with China and the trade!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پاک چین دوطرفہ مفادات!
چین پاکستان اِقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے متعلق عمومی خیال یہی کیا جاتا ہے کہ اِس کے ذریعے سازوسامان کی نقل و حمل ہو گی اور پاکستان کے زمینی راستوں کا استعمال کرتے ہوئے چین اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے ایسا متبادل راستہ (راہداری) تعمیر کرنا چاہتا ہے جس سے خطے کی منڈیوں تک اُس کی رسائی کم خرچ اور کم وقت میں ممکن ہو سکے۔ 

اُنتیس دسمبر کو چین کا سات دورہ مکمل کرنے والے پاکستان کے پارلیمانی وفد کے سامنے ’سی پیک‘ کے جو خدوخال‘ رکھے گئے اُن سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مرحلہ وار منصوبہ کسی بھی طرح صرف راہداری کی حد تک محدود نہیں اور اِس بات کو تقویت ’اسٹیٹ بینک آف پاکستان‘ (مرکزی قومی مالیاتی ادارے) کے اِس بیان سے بھی ملتی ہے کہ ’’چین اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تجارتی امور میں چینی کرنسی یوان میں کاروبار کے لئے تمام تر انتظامات کئے جا چکے ہیں۔‘‘ اِس سے قبل (اُنیس دسمبر دوہزارسترہ) وفاقی احسن اقبال (اُس وقت وفاقی وزیر برائے ترقی اور منصوبہ بندی) نے یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ ’’پاکستان کی حکومت چین سے دوطرفہ تجارت کے لئے امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی ’یوان‘ کے استعمال کا جائزہ لے رہی ہے۔‘‘ یاد رہے کہ ایک یوان (Yuan) کی پاکستانی کرنسی میں شرح تبادلہ (4 جنوری2018ء کے روز) ’’17 روپے چار پیسے‘‘ تھے اور سال دو ہزار سترہ کے دوران یوان کی قدر مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔ چین نے بلوچستان گوادر میں تجارتی سرگرمیوں کے لئے امریکی ڈالر کے بجائے ’یوان‘ کے استعمال کی تجویز دی تاہم وفاقی حکومت نے یہ تجویز مسترد کردی تھی اور اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو چین کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لئے خاص حد سے آگے نہیں جانا چاہئے کیونکہ چین کے مقابلے امریکہ اور یورپی ممالک پاکستانی مصنوعات کی بڑی منڈیاں ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ سے نکلنے کے لئے پاکستان اقتصادی و تجارتی شعبوں میں نئے امکانات پر غور کر رہا ہے اور اِس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر نتائج حسب حال و توقع رہیں۔ چین کی قیادت پاکستان کے حق میں بیانات جاری کرنے میں دیر نہیں کرتی لیکن اُس کی عالمی سفارتکاری کے ساتھ پاکستان کو اقتصادی (مالی) تعاون اور چین کی منڈیوں تک رسائی بھی درکار ہے۔ اسٹیٹ بینک نے چین کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے اگر ’’جامع پالیسی‘‘ مرتب کی ہے‘ جس کے تحت مستقبل قریب میں درآمدات‘ برآمدات اور مالیاتی لین دین میں چینی کرنسی پر انحصار کیا جا سکے گا تو اِس بارے میں معلومات (تفصیلات) نہ ہونے کے برابر دستیاب ہیں! 

وفاقی سطح پر آزاد پالیسی اختیار کی گئی ہے یعنی چین اور پاکستان کے سرکاری اور نجی مالیاتی اداروں کو دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کے لئے ’یوان (چینی کرنسی)‘ کے انتخاب کرنے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور اِس میں حکومت کی جانب سے کسی قسم کا دباؤ نہیں ہوگا۔ چینی کرنسی یوان (آر ایم بی) اب پاکستان میں غیر ملکی کرنسی کی صورت میں لین دین کے لئے منظور شدہ کرنسی کا درجہ حاصل کر چکی ہے اُور اِس ضمن میں پاکستان کے مرکزی بینک نے تمام ضروری ریگولیٹری فریم ورک بھی تیار کرلیا جس میں تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاملات مثلاً لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) اور فنانسنگ کی سہولیات چینی کرنسی میں ہو سکیں گی۔

مالی سال دوہزارسترہ میں پاکستان نے ’ایک ارب باسٹھ کروڑ ڈالر‘ مالیت کی مصنوعات اور خدمات (سروسز) چین کو برآمد کیں جبکہ چین سے درآمد کا حجم ’دس ارب ستاون کروڑ ڈالر‘ تھا جو غیرمعمولی تجارتی عدم توازن ہے۔ اصل ضرورت پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی خسارہ پاکستان کے حق میں کرنا ہے جس کے لئے دونوں ممالک کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر حتمی فیصلہ لینا باقی ہے۔ وفاقی حکومت کو جو کام پہلے کرنا تھا وہ سردخانے میں پڑا ہوا ہے لیکن کرنسی کے استعمال بارے چین کی دیرینہ خواہش پوری کر دی گئی ہے! 

اسٹیٹ بینک کی جانب سے تمام مقامی بینکوں کو بھی چینی کرنسی یوان میں ڈیپازٹ اور تجارتی قرض دینے کی اجازت دے دی گئی ہے یعنی پاکستانی بینکوں میں ڈالر کی طرح چینی کرنسی میں بھی اکاونٹس کھولے جا سکیں گے لیکن صرف تصدیق شدہ ڈیلرز ہی بیرونی رقم والا اکاؤنٹ کھولنے اور تجارتی قرضہ دینے کے اہل ہوں گے۔ پاکستان میں ’’بینک آف چائنا‘‘ کے آغاز کے ساتھ ہی چین کی ’’آن شور‘‘ مارکیٹ تک رسائی مزید مضبوط ہوجائے گی جبکہ پاکستان میں متعدد نجی بینک ’’آن شور‘‘ یوآن اکاؤنٹس برقرار رکھ سکیں گے۔ اُمید ہے کہ ’سی پیک‘ کے تناظر میں چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی اور مالیاتی سرگرمیوں سمیت مقامی اور عالمی منڈیوں میں معاشی ترقی میں ’یوآن‘ کا اِستعمال مؤثر رہے گا اُور دونوں ممالک تعاون کی اِس نئی جہت 
سے طویل المدتی فائدہ اُٹھا سکیں گے۔

پاکستان کی کرنسی پر ڈالر کے مقابلے دباؤ بدستور موجود ہے۔ ’اوپن مارکیٹ‘ کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے باعث قومی بینک نے غیر ملکی کرنسیوں کی برآمدات کے مقابلے میں کیش ڈالر کی درآمدی ضرورت کو پینتیس فیصد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس سلسلے میں غیرملکی کرنسیوں کو متحدہ عرب امارات (دبئی) برآمد کرنے کے لئے سوفیصد کی بجائے صرف پینتیس فیصد کیش ڈالر استعمال کئے جائیں گے۔ 

برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافے کے باعث قومی زرمبادلہ کے ذخائر گھٹ رہے ہیں۔ یہ صورتحال قومی معیشت کے لئے تشویشناک ہے کیونکہ تجارتی مقاصد سے ہٹ کر بھی ڈالر کا بیرون ملک اخراج جاری ہے جو اس امر کا عکاس ہے کہ ’فارن ایکس چینج‘ پر قومی اداروں کی گرفت کمزور ہے اور یہ دھندا زیادہ تر ’کرنسی ایکس چینج کے نجی مراکز‘ کے توسط سے ہو رہا ہے۔ 

بعض ممالک کی کرنسیاں جن میں یورپی منڈی کا یورو‘ جاپان کا ین‘ چین کا یوآن اور برطانیہ کا پاؤنڈ خصوصاً قابل ذکر ہیں‘ عالمی مارکیٹ میں لین دین کے لئے استعمال ہو رہی ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا بھر کی بڑی اور چھوٹی معیشتیں ڈالر کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ اگرچہ چینی کرنسی سے متعلق فیصلے کی ’’کرنسی ایکس چینج‘‘ والوں نے مخالفت کی ہے لیکن قومی بینک کا فیصلہ وقت کی ضرورت دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف قومی روئیوں کی اصلاح بھی ضروری ہے کیونکہ پاکستانیوں کی ایک تعداد ایسی ہے جو مقامی کرنسی (پاکستانی روپے) کے عوض ڈالر خرید لیتے ہیں‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تعلیمی اغراض‘ سیاحتی مقاصد یا بیرون ملک سفر کرنا ہوتا ہے۔ پھر ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو خفیہ طریقوں سے اپنے اثاثے (کالا دھن) ڈالر کی شکل میں بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ اِس صورتحال میں اصلاح کی ضرورت تھی۔ پاکستان اور پاکستان کی معیشت میں اعتماد کی بحالی کے لئے سیاسی رہنماؤں کو خود عملی مثال بننا ہوگا‘ جنہوں نے اپنے اثاثے اور اہل و عیال بیرون ملک محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
۔

Tuesday, October 31, 2017

Oct 2017: Chinese language teaching - a way forward!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
زبانِ یار ۔۔۔!
’پلاننگ کمیشن آف پاکستان‘ نے رواں برس ماہ جون کے پہلے ہفتے جاری کئے اعدادوشمار میں کہا تھا کہ ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے‘‘ کے تحت ’’تیس ہزار پاکستانیوں (ترجیحی بنیادوں پر انجنیئروں‘ راج اور مزدوروں) کے لئے ملازمتی مواقع پیدا ہوں گے۔‘‘ جبکہ مزدوروں کی عالمی تنظیم (انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں ’سی پیک‘ سے ملازمتی مواقعوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ‘ جن میں براہ راست ایک لاکھ سے زیادہ ملازمتیں شامل ہوں گی۔‘‘ اگرچہ ’سی پیک‘ کے حوالے سے حکومتی دستاویزات ’سراپا راز (خاموش‘ ہیں جن تک کسی وجہ سے عام آدمی (ہم عوام) کو رسائی نہیں دی گئی لیکن مختلف مواقعوں پر حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے بیانات سے معلوم ہوا ہے کہ ’سی پیک‘ منصوبوں میں چین کے لوگوں کا مقررہ ملازمتی کوٹہ ’’پچیس فیصد‘‘ سے کم ہوگا۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ’سی پیک‘ ہی سہی لیکن کسی طور پاکستان میں لاکھوں ملازمتی مواقع پیدا ہوں گے.

خیبرپختونخوا ’سی پیک‘ کا گیٹ وے ہے اور یہیں سے گزرنے والی راہداری سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے پاکستان کی اقتصادی قسمت بدل کر رکھ دینی ہے‘ اِسی لئے ’خیبرپختونخوا‘ کے لئے ’سی پیک‘ سے مستفید ہونے کے اِمکانات دیگر صوبوں کے مقابلے زیادہ ہیں! لیکن کیا خیبرپختونخوا ’سی پیک‘ سے کماحقہ فائدہ اُٹھانے کی خواہش کے ساتھ اِس سے عملی طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے بھی تیار ہے؟کیا ہمارے پاس ایسی افرادی قوت موجود ہے جو چینی کمپنیوں کے معیار پر پورا اُترے یا ہمارے ہنرمندوں کو چینی زبان کے چند ایک بنیادی اصولوں سے ہی واقفیت ہے اور اُن کے لئے کم سے کم یہ بات ممکن ہے کہ وہ چینی باشندوں کے نام صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کر سکیں؟ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں انگریزی زبان (انگلش میڈیم آف ایجوکیشن) پر ’حد سے زیادہ اِنحصار (بھروسہ)‘ کیا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ بھی سمجھ آتی ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا سمیت جدید علوم اور بالخصوص سائنس کے میدان میں انگریزی کتب کی تعداد اور دستیابی آسان ہے لیکن یہ مفروضہ قائم کر لینا کہ بناء ’’انگریزی دانی‘‘ جدید عصری علوم حاصل ہی نہیں کئے جا سکتے‘ ایک مغالطہ (اصلاح طلب تاثر) ہے کیونکہ امریکہ کے علاؤہ دنیا کی چار دیگر ’عالمی طاقتیں (سپرپاورز)‘ چین‘ روس‘ فرانس اور جرمنی میں درس و تدریس مادری زبانوں میں رائج ہے اور یہ اقوام مادری زبانوں ہی کے بل بوتے پر خلاؤں میں نئے جہاں تلاش کرنے کے علاؤہ صنعتی ترقی‘ تحقیق و ایجادات کے نت نئے بلند معیار بھی تخلیق کر رہی ہیں۔

لائق داد و تذکرہ ہے کہ ۔۔۔ خیبرپختونخوا حکومت نے ’سی پیک‘ کے ثمرات بالخصوص ملازمتی مواقعوں سے خاطرخواہ استفادہ کرنے کے لئے ’تکنیکی و فنی علوم کے مراکز (ٹیکنیکل ایجوکیشن سنٹرز) میں ’چینی زبان‘ کی کلاسیز کے اجرأ کا فیصلہ کیا ہے۔ ’مختصر مدت کے یہ تربیتی مواقع (شارٹ کورسیز)‘ طلباء و طالبات کو اِس قابل بنا دیں گے کہ وہ چینی زبان میں عمومی بول چال کر سکیں یا سمجھ سکیں اور درست تلفظ میں چینی ناموں کی ادائیگی اُن کے لئے ممکن ہو۔ اِس ’عظیم منصوبے‘ کے حکومتی سطح پر آغاز سے قبل نجی اِداروں نے چینی زبان کے عملی استعمال کے مختصر کورسیز کا اجرأ پہلی ہی اپنی مدد آپ کے تحت کر رکھا ہے اور خیبرپختونخوا کے مختلف (سی پیک سے متعلقہ) اضلاع بشمول پشاور‘ نوشہرہ‘ ایبٹ آباد‘ مانسہرہ‘ ہری پور‘ ڈی آئی خان کے علاؤہ بھی مختلف شہروں میں ’تربیتی مراکز (کوچنگ اکیڈمیز و سنٹرز)‘ انگریزی بول چال کے ساتھ چینی زبان کی تعلیم بھی دے رہے ہیں جہاں تین سے چھ ماہ کے ایک کورس کی اوسط فیس ’ماہانہ تین سے پانچ ہزار روپے‘ مقرر ہے۔ اِن نجی کوچنگ سنٹرز میں سکھائی جانے والی چینی زبان کتنی معیاری ہے اِس پر نظر رکھنے والا کوئی نہیں اور لازم ہے کہ اِس تبدیلی کا صرف مشاہدہ نہ کیا جائے بلکہ اِسے مفیدعام بنانے کے لئے نجی اداروں کی زیادہ سے زیادہ سرپرستی کی جائے۔

خیبرپختونخوا کے ’’ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ وکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹویٹا)‘‘ کے ایک ذمہ دار کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق ’ٹیکنیکل ایجوکیشن‘ کے ساتھ چینی زبان کی تعلیم شروع کرنے کامقصد یہ ہے کہ ہمارے ہنرمند ’سی پیک‘ کی ذیل میں ملازمتی مواقعوں سے حسب تعلیم و مہارت فائدہ اُٹھا سکیں۔‘‘ لیکن ’’پاک چین دوستی‘‘ کو ایک تنظیم سے تحریک میں تبدیل کرنے والے سیّد علی نواز گیلانی سمجھتے ہیں کہ ’’درحقیقت دیگر زبانوں کے مقابلے چینی زبان‘ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک تہذیب و ثقافت اور فکروعمل کا نام بھی ہے۔ چین محنت کش قوم ہے۔ جن کی زبان سیکھنا ہی اِس بات کی ضمانت (کافی) نہیں ہوگا کہ ہمارے نوجوانوں کو ملازمتی مواقع اور حسب خواہش ترقی ملے گی بلکہ اِس کے لئے اپنے آپ کو مٹا دینے والی محنت کرنا ہوگی اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے‘ نصاب تعلیم کے اسباق کی حد تک محدود ہیں اور وہ طلبہ (نوجوانوں) میں جستجو پیدا نہیں کرتے۔ اُنہیں محنت کی عظمت‘ کردار اور اپنے کام سے لگن جسے عشق کہا جائے پیدا نہیں کر پا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ذہین نوجوان ہنرمند ہونے کے باوجود بھی بڑی تعداد میں بیروزگار ہیں‘ جبکہ اُنہیں محنت کرنے میں بھی عار محسوس ہوتی ہے۔ جب تک صوبائی حکومت اِس معاشرتی و سماجی خرابی کو دور نہیں کرے گی‘ جس کا تعلق نصاب تعلیم‘ نفسیات اور علاقائی رسم ورواج سے بھی ہے اُس وقت تک ’سی پیک‘ منصوبے ہوں یا عملی زندگی کے دیگر محاذ‘ ہمارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا نہیں منوا سکیں گے۔‘‘ 

ایک سوال کے جواب میں علی نواز گیلانی نے اِس اندیشے کا اظہار بھی کیا کہ اگر وفاقی اُور خیبرپختونخوا حکومتوں نے ’چینی زبان‘ اور ’چین شناسی‘ سے نئی نسل کو آگاہ کرنے کے لئے مربوط و مسلسل کوششیں نہ کیں تو مجبوری ہوگی کہ زیادہ تعداد میں چین کی افرادی قوت پاکستان میں ملازمتوں پر فائز دکھائی دے‘ لہٰذا ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ جس طرح چین کی حکومت اور وہاں کے اِداروں نے ’سی پیک‘ کو سنجیدگی سے لیا ہے‘ ہمارے فیصلہ ساز بھی اپنی اپنی ترجیحات کا اَزسرنو تعین کریں اور بناء تاخیر ’چینی زبان‘ کو بطور مضمون نصاب تعلیم میں شامل کریں۔ 

یکساں اہم ہے کہ چینی زبان کو صرف ٹیکنیکل اِداروں کی حد تک ہی محدود نہ رکھا جائے۔‘‘علی نواز گیلانی نے انگریزی زبان پر بڑھتے ہوئے انحصار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجویز کیا کہ ’’پاکستانی طلباء و طالبات کے وفود کو گرما اور موسم سرما کی تعطیلات کے دوران چین کے دوروں پر بھیجا جائے تاکہ وہ چین کی ترقی اور معاشرے کا قریب سے مشاہدہ کرسکیں۔ انہوں نے پاک چین تعلیمی اِداروں کے آپسی رابطوں اور وفود کے تبادلوں کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ ’’اِس میں ذرائع ابلاغ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا (ٹیلی ویژن اور ریڈیو) کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اگر برطانوی اور امریکی نشریاتی ادارے ’اردو زبان‘ میں اپنے پروگرام ہمارے ٹیلی ویژن چینلز پر نشر کر سکتے ہیں تو یہی رابطہ کاری ’’چینی اُردو زبانوں‘‘ میں کیوں ممکن نہیں؟‘‘ 

پاک چین دوستی صرف رسمی نام (سماعتوں کے لئے خوشگوار نعرہ) نہیں بلکہ وقت کی نہایت ہی اہم ضرورت ہے اور ایک ایسی حاجت بھی ہے جس سے انکار کسی بھی صورت پاکستان کے ’وسیع تر قومی مفاد‘ میں نہیں!
۔

Sunday, October 8, 2017

TRANSLATION: CPEC by Dr. Farrukh Saleem

CPEC
سی پیک!

پہلی حقیقت: پاکستان کے جن فیصلہ سازوں نے ’’چین پاکستان اقتصادی اقتصادی راہداری (منصوبہ)‘‘ کی منظوری دیتے ہوئے اِس معاہدے پر دستخط کئے ہیں اُن کے پاکستان میں کاروباری مفادات یا تو نہ ہونے کے برابر ہیں یا وہ اندرون ملک اپنی سرمایہ کاری نہیں رکھتے۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو جن فیصلہ سازوں نے ’سی پیک‘ کی منظوری اور اِسے عملی جامہ پہنانے کے لئے چین سے معاہدہ کیا‘ اُن کے زیادہ ترکاروباری مفادات پاکستان سے باہر ہیں۔

دوسری حقیقت: چین کی وہ کمپنیاں جو پاکستان میں بڑے ترقیاتی منصوبے (میگا پراجیکٹس) لے رہی ہیں وہ یہاں قدم جما رہی ہیں اور اپنے ساتھ چین سے افرادی قوت بھی لا رہی ہیں۔ چین کی کمپنیاں پاکستانی کمپنیوں سے بمشکل شراکت داری کرتی ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کو ہرممکنہ اپنے ’افرادی و تکنیکی وسائل‘ سے پورا کرنے کی کوشش کرتی ہیں‘ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کی صنعتیں بطور ادارہ یا افراد بطور افرادی قوت ’سی پیک‘ کے جاری منصوبوں سے تکنیکی اور فنی طور پر مستفید نہیں ہو رہے۔ اِسی طرح چین کی کمپنیاں پاکستان میں ٹیکنالوجی منتقل بھی نہیں کر رہیں‘ جس سے مقامی افراد کے لئے روزگار کے مواقع یا پاکستان میں صنعتی ترقی کا نیا دور شروع ہو۔

تیسری حقیقت: ترقیاتی مقاصد کے لئے قرضہ جات کسی بھی ملک کی ترقی میں ’کلیدی کردار‘ ادا کرتے ہیں۔ قرض بھلے ’ترقیاتی مقاصد‘ کے لئے لیا جائے یا کسی دوسرے مقصد کے لئے‘ اِس کا انحصار دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ 1: قرض کی شرائط کیا طے کی گئیں ہیں اور دوسرا‘ اُس پر شرح سود کتنی ادا کرنا پڑے گی۔

چوتھی حقیقت: پاکستان نے ’سی پیک‘ منصوبوں کے لئے جو قرضہ جات حاصل کئے اُن کی تفصیلات ’غیرضروری طور پر‘ خفیہ رکھی گئی ہیں۔ اگر ہم کوئلے سے بجلی سے پیداواری منصوبوں کی بات کریں تو اُس کے لئے حاصل کئے جانے والے قرضہ جات پر بنیادی رقم کے 27.2 فیصد سے لیکر 34.49فیصد سالانہ کے تناسب سے سود ادا کیا جائے گا۔

پانچویں حقیقت: جہاں کہیں سرکاری خریداری ہوتی ہے تو اس کے لئے عالمی اصول یہ ہے کہ اُسے خفیہ نہیں رکھا جاتا بلکہ مقابلے کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے جس میں خدمات فراہم کرنے والے ایک دوسرے سے کم قیمت پر ٹھیکہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو عالمی سطح پر مشتہر کیا جاتا ہے جو ایک معمول کی بات ہے۔ اس کے بعد ٹھیکہ اُس کمپنی کو دیا جاتا ہے جو قیمت میں نسبتاً کم اور جو قدرے نرم شرائط رکھتی ہو۔

چھٹی حقیقت: عالمی سطح پر مشتہر کرنے سے اداروں کے درمیان مقابلے کا ماحول پیدا ہوتا ہے جس سے کسی ترقیاتی منصوبے پر خرچ ہونے والی لاگت میں کمی آتی ہے اور اس سے حتمی طور پر ملک کا فائدہ ہوتا ہے۔

ساتویں حقیقت: سی پیک کے لئے منصوبے عالمی سطح پر ٹھیکوں کو مشتہر کئے بناء دیئے گئے۔

آٹھویں حقیقت: حکومت پاکستان سی پیک منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے والی چینی کمپنیوں کو ٹیکس میں رعائت اور دیگر مراعات دے رہی ہے لیکن اِس قسم کی رعائت اور مراعات اُن کی ہم عصر پاکستانی کمپنیوں کو نہیں دیئے جا رہے۔

نویں حقیقت: پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات (میڈ اِن پاکستان) کی مانگ تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

دسویں حقیقت: پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی ملک کی مجموعی برآمدات میں حصہ داری 52فیصد ہے اور اِس پیداواری شعبے سے ملک کا 40فیصد روزگار بھی وابستہ ہے۔

پاکستان ٹیکسٹائل سٹی کی کہانی: سال 2009ء میں حکومت پاکستان نے ’پورٹ قاسم (بندرگاہ)‘ پر ایک صنعتی علاقہ (زون) تخلیق کیا جس کا مقصد ٹیکسٹائل مصنوعات اور اِس صنعت سے وابستہ امور کو سہولیات دینا تھا۔ اِس منصوبے میں وفاقی حکومت کی حصہ داری 40فیصد تھی۔ سندھ حکومت کی 16فیصد‘ نیشنل بینک کی 8فیصد‘ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی 4فیصد‘ سعودی پاک انشونس کمپنی‘ پاک قطر انویسٹمنٹ کمپنی‘ پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی میں سے ہر ایک کی 4فیصد اور پی آئی ڈی سی (PIDC) کی ایک فیصد شراکت داری رکھی گئی۔ چار اگست 2017ء کے روز پارلیمانی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ’’حکومت پاکستان ’ٹیکسٹائل سٹی‘ کا مذکورہ منصوبہ ختم کر رہی ہے۔‘‘

زیانجنگ Xinjiang ٹیکسٹائل پارک کی کہانی: پاکستان کے سرحدی علاقے سے متصل چین کے صوبے ’زیانجنگ‘ میں چین حکومت نے ’ٹیکسٹائل پارک‘ کے نام سے ایک خصوصی صنعتی علاقہ قائم کیا۔ اِس پارک میں ایک کروڑ میٹر کاٹن سے کپڑا (کلاتھ) تیار کیا جاتا ہے جو نہ صرف چین میں ٹیکسٹائل کی صنعتی ترقی کا کلیدی منصوبہ ہے بلکہ اس سے چین کی برآمدات بڑھی ہیں اور مقامی افراد کو روزگار کے اضافی مواقع میسر آئیں ہیں۔ زیانجنگ ٹیکسٹائل پارک سے وابستہ کاشتکاروں وک حکومت نے 33 ارب ڈالر کی رعائت بھی دی جو اِس دس سالہ حکمت عملی کو کامیاب بنانے کی سوچ کا حصہ ہے تاکہ زیانجنگ ٹیکسٹائل پارک کو خطے کی سب سے بڑی ’ٹیکسٹائل ایکسپورٹنگ حب (مرکز)‘ بنایا جائے۔ اگر ہم چین میں ٹیکسٹائل کی صنعت کی سرپرستی کا موازنہ پاکستان سے کریں تو پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعت قریب المرگ ہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ’سی پیک‘ نہ تو مفید ہے اور نہ ہی نقصان دہ لیکن ہم اِس سے جو کچھ حاصل کرنا چاہیں وہ مقاصد پاکستان کے لئے مفید یا نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

ایک آخری سوال: کیا ’سی پیک‘ منصوبے پاکستان کے لئے مفید ہیں اور اِن سے ترقی کے امکانات پیدا ہوں گے؟

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, May 21, 2017

TRANSLATION: Understanding CPEC!

Understanding CPEC
سی پیک خدوخال

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے خدوخال سمجھنے سے پہلے ہمیں عوامی جمہوریہ چین کی ترجیحات اور اقتصادیات سے متعلق اہداف کو سمجھنا ہوگا۔ چین میں محنت کش افرادی قوت (مزدوروں) کی تعداد قریب 80 کروڑ ہے اور چین کی حکومت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ’بے روزگاری‘ ہے۔ چین میں ’اسٹیٹ کپیٹل ازم‘ ہے اور وہاں ’کیمونسٹ پارٹی آف چائنا‘ کی حکومت ہے جس کی پہلی ترجیح مذکورہ افرادی قوت کے لئے روزگار کا بندوبست کرنا ہے تاکہ اقتصادی بحران پیدا ہو نہ جیسا کہ 1989ء میں ہوا تھا جب طلبہ کی قیادت میں ایک احتجاجی تحریک اِس قدر شدت اختیار کر گئی تھی کہ اُس وقت کی حکومت کو ’مارشل لاء‘ نافذ کرنا پڑا تھا۔

سی پیک کا خاکہ اور تصور چین کے دو اداروں کی مربوط سوچ کا عکاس ہے۔ اِن اداروں ’چائنا ڈویلپمنٹ بینک‘ اور ’نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن آف چین‘ کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ پاکستان نہیں بلکہ چین کے (اقتصادی) مفادات کا تحفظ کریں اور چین کی ترقی و مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چین کے پاس خام مال کی کثرت ہے جس میں اسٹیل‘ کوئلہ‘ سیمنٹ‘ ایلومنیم اور فلیٹ گلاس شامل ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ دنیا میں اسٹیل کی مجموعی پیداوار کا پچاس فیصد صرف چین میں پیدا ہوتا ہے۔ چین میں دھاتوں کو پگھلانے اور ان سے مائع دھات سے سلاخیں و دیگر آلات تیار کرنے کی صنعت سے قریب 36لاکھ 30ہزار (3.63 ملین) مزدور وابستہ ہیں۔ چین میں اسٹیل کی سالانہ پیداوار قریب 80کروڑ (800ملین) میٹرک ٹن جبکہ اِس کی مقامی ضرورت 400 میٹرک ٹن ہے۔

چین کے فیصلہ سازوں کے سامنے دو مراحل تھے۔ ایک تو وہ ہرسال 100 ارب ڈالر مالیت کی اضافی اسٹیل برآمد کرنے کے لئے مارکیٹ تلاش کرتے یا پھر اسٹیل (لوہا سازی) کی صنعت سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کا بوجھ حکومت اپنے کندھوں سے اُتار دیتی۔ ذہن نشین رہے کہ افرادی قوت کو بے روزگار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشی عدم استحکام پیدا ہو اور ملک ایک مرتبہ پھر اُحتجاج مظاہروں کی طرف چلا جائے۔ اسی طرح دنیا بھر میں بنائے جانے والے سیمنٹ کا 60فیصد چین میں بنایا جاتا ہے جبکہ چین میں سیمنٹ کی ضروریات تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ اب چین کی حکمراں جماعت کے سامنے ایک اور مشکل یہ تھی سیمنٹ کی پیداواری صلاحیت 390 ملین (اُنتالیس کروڑ) ٹن جو کہ مقامی ضروریات سے زیادہ ہے اُسے کم کیا جائے اور ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو جائے۔

سال 2014ء میں چین کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم سب سے زیادہ یعنی 4 کھرب ڈالر تھا۔ مئی 2017ء میں چین کے پاس غیرملکی ذخائر کا حجم غیرمعمولی کم ہوا جو قریب 3کھرب ڈالر ہوگیا۔ یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہے کہ چین دنیا میں سب سے زیادہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے اور ساتھ ہی چین دنیا بھر میں امریکہ کے سب سے زیادہ اثاثہ جات بھی رکھتا ہے۔ چین کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں قریب 2 کھرب ’امریکی ڈالروں‘ کی شکل میں ہیں جبکہ باقی ماندہ ذخائر میں 2.5فیصد سونے (قیمتی دھات) کی صورت ذخیرہ کئے گئے ہیں۔
چین کی امریکہ اور امریکہ کے اقتصادی نظام میں دو کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری سے سالانہ 1.13فیصد سے لیکر 2.98فیصد منافع حاصل ہو رہا ہے۔ تصور کیجئے کہ جب چین اگر یہی سرمایہ کاری پاکستان میں کرتا ہے تو اُسے کس قدر زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ کوئلے کے ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر ’’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘‘ کی مثال لیں جس میں چینی سرمایہ کاری پر ضمانت دی گئی ہے کہ اُسے مجموعی سرمایہ کاری کا سالانہ 4.5فیصد سے زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ علاؤہ ازیں مذکورہ ’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘ میں سرمایہ کاری پر چین کو 6.21فیصد کے تناسب سے سود بھی ملے گا جبکہ چین ہی کے ایک انشورنس ادارے (چائنا ایکسپورٹ اینڈ کریڈٹ انشورنس کارپوریشن) کو انشورنس پرمیئم سے 7فیصد الگ آمدنی حاصل ہوگی۔ تصور کیجئے کہ چین کو پہلے ہی سال قریب 13فیصد آمدنی ہوگی یعنی اگر چین امریکہ میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اُسے 1.13فیصد کے تناسب سے منافع ملتا ہے لیکن اگر وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اُس کا منافع تیرہ فیصد مقرر کیا جاتا ہے تو چین کے نکتۂ نظر سے کیا یہ گھاٹے کا سودا ہے؟

’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘ سے پیدا ہونے والی بجلی کی طے شدہ قیمت اور چین کو منافع کی ایسی ضمانتیں فراہم کی گئی ہیں جن پر منافع کی شرح کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی اور ایک بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے 
سرمایہ کاروں کا ایک دیرینہ خواب پورا ہو گیا ہو۔ 

’سی پیک‘ کے اثرات سے متعلق 231 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز سے پانچ قسم کے رسک (خطرات یا اندیشے) سامنے آئے ہیں‘ جن میں مخلوط سیاسی حکومتوں کاقیام‘ مذہبی اُور قبائلی نظاموں پر اثرات‘ دہشت گردی اور مغربی مداخلت میں کمی شامل ہیں۔ ’سی پیک‘ کے تحت سرمایہ کاری کرنے کے بعد چینی مفادات و تنصیبات کا تحفظ کرنے کے لئے چینی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی پاکستان آئے گی! اِس منظرنامے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’عالمی سطح پر 176 بدعنوان ممالک‘ کی اُس فہرست پر نظر ڈالیں جس کے مطابق مذکورہ انڈکس میں پاکستان 116ویں جبکہ چین 76ویں نمبر ہے بدقسمتی سے چین اور پاکستان دونوں ممالک میں فیصلہ سازی کے منصب (حکومتی معاملات) میں مالی بدعنوانیوں پائی جاتی ہیں اور چونکہ دونوں ممالک میں قومی وسائل بارے امانت و دیانت کے متعلق تصورات کم وبیش ایک جیسے ہی ہیں اِس لئے یہ ’امکانی امر‘ باعث حیرانی نہیں ہوگا کہ ’سی پیک‘ منصوبوں پر لاگت اصل قیمت سے بڑھا چڑھا کر ظاہر کی جا رہی ہو!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Saturday, April 29, 2017

Apr2017: CPEC & exclusivity!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انحصاریت
’چین پاکستان اِقتصادی راہداری (سی پیک)‘ منصوبے سے ’خیبرپختونخوا کے اِقتصادی مفادات‘ بھی لاتعداد اُمیدوں اور خوابوں کی طرح وابستہ ہیں۔ اِس سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں رواں ماہ ’سولہ سے اٹھارہ اپریل‘ عوامی جمہوریہ چین دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس لوٹ آیا ہے اور ہر سرکاری دورے کی طرح اِس مرتبہ بھی ’کامیابی کا دعویٰ‘ کیا جارہا ہے‘ جس کی تصدیق آئندہ چند برس میں خودبخود سامنے آ جائے گی۔ خیبرپختونخوا کے وفد نے چین حکومت اور نجی اداروں کے ساتھ مجموعی طور پر 82 منصوبوں سے متعلق مفاہمت کی یاداشتوں (ایم اُو یوز) پر دستخط کئے‘ جن سے مجموعی طورپر ’دواِعشاریہ چار کھرب روپے‘ مالیت کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

ترقی کا ہر کام‘ اپنی ہر ذمہ داری ’سی پیک‘ سے منسلک کرنا کہاں کی سمجھ داری ہے اور یہ حکمت عملی خیبرپختونخوا کی ثقافت‘ رہن سہن اُور بول چال پر کس قدر مثبت اور منفی اثرات مرتب کرے گی‘ اِس بارے میں کوئی سوچنا ہی نہیں چاہتا۔ سب کی نظریں چین کی آسمان سے باتیں کرتی ترقی پر مرکوز ہیں‘ جس کی بنیادیں ایک مخلص و ایماندار قیادت نے رکھی تھیں! کیا ہم کسی ایسی بند گلی کے آخری حصے تک آ پہنچے ہیں جہاں سے واپسی اور مزید سفر کی تدابیر سجھائی نہیں دے رہیں؟

کہیں چین چین کرتے ہم اپنی چال ہی سے تو ہاتھ نہیں دھو بیٹھیں گے؟ اُور اگر جان کی امان ہو تو فیصلہ سازوں سے سب سوالوں کا ایک ہی سوال پوچھنے کی جسارت کر لی جائے کہ کیا چین پر بڑھتی ہوئی ’اِنحصاریت (exclusivity)‘ کے علاؤہ ترقی ممکن ہی نہیں رہی؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا اِقتصادی تعاون ’روڈ شو‘ کا بنیادی مقصد اِس تاثر کو زائل کرنا تھا کہ صوبائی حکومت ’مغربی راہداری‘ کے مطالبے کی وجہ سے ’سی پیک مخالف‘ ہو چکی ہے جبکہ خود وزیراعلیٰ بارہا کہہ چکے تھے کہ ’خیبرپختونخوا‘ سی پیک کی ملکیت رکھتا ہے تو اِس سے دستبردار یا اِس کا مخالف کیسے ہو سکتا ہے؟ بہرحال ایک سرکاری دورہ ہوا‘ جس کا نام ’’خیبرپختونخوا اقتصادی تعاون ’روڈ شو‘‘ تھا اور اس کی سب سے خاص بات (اگر خبر اور خبریت کی تلاش مقصود ہو تو) یہ ہے کہ چین خیبرپختونخوا میں جو ’دو کھرب روپے‘ سے زائد مالیت کی سرمایہ کاری کرے گا‘ جو بطور قرض نہیں بلکہ خالص امداد ہوگی اور صوبائی یا وفاقی حکومت کے وسائل سے کچھ بھی خرچ کرنا نہیں پڑے گا۔ کیا چین حکومت اور نجی اداروں کے پاس ’دوکھرب پاکستانی روپے سے زائد جیسی خطیر رقم یونہی پڑی ہوئی تھی‘ جسے وہ ہنستے مسکراتے خیبرپختونخوا میں بطور امداد (انسانی دوستی کے جذبے واحترام میں) خرچ کرنے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے؟ یاد رہے کہ دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں ہوتا لیکن اُس کی قیمت کوئی نہ کوئی ادا کر رہا ہوتا ہے!

مشاورت در مشاورت کے مراحل کب اور کہاں مکمل ہوئے اِس بارے تفصیلات دستیاب نہیں لیکن چین حکومت کی جانب سے ’خیبرپختونخوا میں سیاحت کی ترقی‘ اُور ’آثار قدیمہ سے متعلق علوم کے فروغ تحفظ‘ قدیم عمارتوں کے بحالی اور عجائب گھروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے بھی ’دو منصوبوں‘ کا انتخاب ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد بھی چین کے دورے پر تھے جنہوں نے اپنے محکمے کی جانب سے مذکورہ مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے۔ جن کی تفصیلات کے مطابق ’سی پیک‘ منصوبے سے منسلک راستوں پر ’20‘ ایسے تاریخی مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے‘ جنہیں چین کے شمال مغربی صوبے ’شانسئی (Shaanx)‘ کی حکومت کے مالی و تکنیکی تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔ اِن بیس مقامات میں (گورگٹھڑی) پشاور‘ سوات‘ مردان‘ ہری پور‘ چترال اُور ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامات شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ چین کے ’شانسئی‘ صوبے ہی سے ’شاہراہ ریشم‘ کا آغاز ہوتا ہے اور پاکستان کے راستے برصغیر و مشرق وسطی کے ممالک تک چین کی تجارت کا یہ راستہ پانچ ہزار سال پرانا ہے۔ جو ماہرین یہ سمجھ رہے ہیں کہ ’سی پیک‘ منصوبہ اپنی نوعیت کا منفرد‘ اچھوتا اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کا پہلا ایسا منصوبہ (انوکھا تصور) ہے تو انہیں خطے کی اُس پانچ ہزار سال پرانی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے‘ جس میں اشیاء کے بدلے اشیاء کی تجارت کا ایک ایسا جال (نیٹ ورک) پھیلا ہوا تھا‘ جس میں صرف چین کے تاجر ہی نہیں بلکہ سیاح بھی یہاں کا دورہ کرنے آتے تھے اور پشاور سمیت خطے کے کئی ایسے ممالک ہیں‘ جن کی آج (معلوم و) مستند تاریخ کے حوالے (انحصار اِنہی) چینی سیاحوں کے قلم سے اخذ کردہ معلومات پر بنیاد کرتی ہیں۔ بہرحال ’شانسئی صوبہ‘ نہ صرف ’شاہراہ ریشم‘ کے آغاز کا نکتہ ہے بلکہ آثارقدیمہ کے لحاظ سے بھی چینی تاریخ و ثقافت کا مرکز ہے۔ جہاں چین کے بادشاہ ’قین شی ہواینگ (Qin Shi Huang)‘ کے فوجیوں کے ہزاروں کی تعداد میں ’مٹی کے مجسمے‘ نمائش کے لئے رکھے ہیں۔

صوبہ ’شانسئی‘ کے فنی و تکنیکی تعاون سے خیبرپختونخوا کے ’آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ‘ کی اَفرادی قوت کو تربیت بھی دی جائے گی‘ جنہیں عجائب گھروں کے انتظامات‘ نمائش کے طور طریقوں اُور جدید اسلوب سکھائے جائیں گے۔ اُمید ہے چین کے ہاں سے نصابی کتابی علم کے ہمراہ ’تعمیروترقی کا وہ بلند معیار‘ بھی ہمراہ آئے گا جو امانت و دیانت کے ساتھ فرائض کی انجام دہی میں یک سوئی پر مبنی ہے۔ کیا ہمارے ہاں کے سرکاری ملازمین کا موازنہ چین کی تعمیروترقی میں جڑے فرض شناسوں سے ممکن ہے‘ جنہیں ہمارے ہاں کی طرح مادر پدر آزادیاں اور ’فری اکنامی‘ جیسی سرمایہ دارانہ رعونت بھی حاصل نہیں! آج یا کل نتیجہ یہی اخذ ہوگا کہ قومیں تعمیرات سے نہیں بلکہ انفرادی واجتماعی حیثیت میں فرض شناسی پر ارتقائی مراحل طے کرتی ہیں اور چین سے ترقی بطور امداد یا قرض طلب کرنے والوں کو یہ دیکھنا چاہئے کہ کس طرح چین کے معاشرے نے زرعی‘ صنعتی پیداوار‘ معاشی‘ اقتصادی اور دفاع جیسے کلیدی شعبوں ہی میں مربوط ترقی نہیں کی بلکہ اُنہوں نے دنیا کو قومیت کا ایک ایسا نکھرا نکھرا (خودار) تصور بھی دیا ہے جس میں اپنی (مادری) زبان و ثقافت (بودوباش) کی اہمیت ترقی کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے!

Wednesday, April 12, 2017

Apr2017: Export of Donkeys & Livestock why not?

ژرف نگاہ ۔۔۔شبیر حسین اِمام
گدھے‘ ذہانت اور چراغوں کی روشنی!
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ ’عظیم الشان‘ ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا‘ یہ بات کہنے والے چین کی منڈیوں سے نکاسئ مال کے حوالے سے ایک درست بات تو کہتے ہیں لیکن کیا ’سی پیک‘ سے مستفید ہونے کے لئے پاکستان کے پاس بھی کوئی ’چین جیسا جامع‘ لائحہ عمل بھی ہے؟ چین کی قیادت پاکستان کے راستے دنیا کو ایک منڈی کے طور پر دیکھ رہی ہے تودانشمندی یہی ہو گی کہ اِس راہداری کے ذریعے پاکستان بھی چین کی منڈیوں کو فتح کرنے کا عزم کر لے مگر کیسے؟ 

خیبرپختونخوا اُور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان زراعت اور مال مویشیوں کے جیسے ’معمولی دکھائی دینے والے‘ شعبوں میں تعاون اور بالخصوص ’گدھوں کی چین برآمد‘ کے حوالے سے دس اپریل کو شائع ہونے والی تحریر ’مذاق‘ کی نذر ہو گئی لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سنجیدہ طبقات بشمول صحافیوں کی جانب سے بھی ایسے ایسے تبصرے بذریعہ اِی میل‘ ٹیکسٹ میسجز اور واٹس ایپ موصول ہوئے‘ کہ جنہیں پڑھ کر ’اتنے ہنسے کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑے!‘ ملاحظہ کیجئے پہلا تبصرہ جس کے الفاظ معذرت کے ساتھ شروع ہوئے اور کہا گیا کہ ’’کیا خیبرپختونخوا سے گدھوں کی برآمد سے کوئی ایسا بحران تو پیدا نہیں ہوگا کہ ذہانت کا قحط پڑ جائے؟ دوسرا تبصرہ قدرے مثبت پہلو رکھتا تھا کہ خیبرپختونخوا میں جو ایک طبقہ کام کررہا تھا اگر اُسے بھی چین بھیج دیا گیا تو باقی مجھ سے جیسے کام چور ہی رہ جائیں گے اور کوئی ملک یا صوبہ کس طرح محض کام چوروں سے چل سکتا ہے؟ تیسرا تبصرہ تحریک انصاف کی تبدیلی کے وعدے سے متعلق ہے جس میں پاکستانی گدھوں کو چین کے حوالے کرنا ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی میں ایک صوبے کی ’بیجا مداخلت‘ قراردی گئی ہے! چوتھا قابل ذکر غور ہے کہ پشاور اور خیبرپختونخوا کے رہنے والی ایک تعداد ایسی تھی جنہوں نے چوہے مارنے کے عوض منافع کمایا اور اب گدھوں کی باری ہے تو کیا ہم اپنے انسانی وسائل سے کوئی زیادہ بہتر استفادہ نہیں کرسکتے؟ اور جس پانچویں تبصرے کو یہاں شامل کرنے کا مقصد تصویر کا ایک ایسا رخ دکھانا ہے‘ جس میں درد بھی چھپا ہے اُور اِصلاح کی گنجائش بھی کہ ’’گدھوں کی چین برآمد سے کہیں گوشت کا قلت پیدا نہ ہو جائے؟‘‘ دوست احباب نے جس عرق ریزی اور توجہ سے گدھوں کے بارے ’کھل کر اظہار خیال‘ کیا ہے اُس سے صاف ظاہر ہے کہ وقت اور تخیل پرواز کی کوئی کمی و حد نہیں! اے کاش اگر ’گدھوں کی صنعتی پیمانے پر افزائش‘ کے موضوع کو ’گوگل (google)‘ ہی کر لیا جاتا تو بہت کچھ ایسا پڑھنے کو ملتا جس پر یقین کرنا مشکل ہے۔

کیا ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ رواں برس موسم گرما کی شدت ماضی کے مقابلے زیادہ ہوگی جس کی ایک جھلک مارچ کے اختتام اور اپریل کے شروع ہی میں دیکھی گئی جب درجہ حرارت کی باعث میدانی علاقوں کے رہنے والوں کی چیخیں نکل گئیں۔ ملک میں بجلی کا شارٹ فال اور لوڈشیڈنگ بڑھنے کا سبب بھی موسمی تبدیلی ہے جس کے منفی اثرات نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور بالخصوص اُن تمام پالتو جانوروں پر بھی یکساں مرتب ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی صورت ہمارا ہاتھ بٹا رہے ہوتے ہیں۔ گھوڑا‘ خچر اور گدھا پہاڑی علاقوں میں مال برداری کا اہم ذریعہ ہیں‘ جن کی افزائش ماحول دوست ہونے کے ساتھ زرعی معیشت و معاشرت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں ’لائیوسٹاک‘ کی اصطلاح کو محدود کر کے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت اگر کچھ مختلف کرنے جا رہی ہے اُور اس نے برآمدات کے لئے ایک ایسی جنس کا انتخاب کیا ہے جس کی چین جیسی بڑی منڈی میں مانگ ہے اور تجارت کی کامیابی کا پہلا اصول بھی یہی ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں جنس کی طلب و مانگ پر نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی تیار کی جائے! تو حرج ہی کیا ہے؟ پشاور کے ایک سینئر صحافی نے تو ’فرط جذبات‘ یہاں تک لکھ دیا کہ ’’اَب ہم گدھوں کی کمائی کھائیں گے؟‘‘ یقیناًانہوں نے یہ بھی سوچ سمجھ کر ہی لکھا ہوگا کہ ’’خیبرپختونخوا کی ترقی کے لئے گدھے میدان میں آگئے۔ گدھے اب فارن (بیرون ملک) جاب (ملازمت) کرنے جائیں گے جو ذہانت کی نکاسی (برین ڈرین) ہے!‘‘ اِس لمحۂ فکر پر رُک کر جان لیں کہ ’’برین ڈرین (brain drain)‘‘ کی اصطلاح کا اطلاق اُن ذہین اور پڑھے لکھے طلباء و طالبات کے بیرون ملک جانے پر ہوتا ہے جو پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اِس تعلیم کا استعمال اپنے ملک کی بہتری کے لئے نہیں کرتے بلکہ اچھی تعلیمی قابلیت کے ساتھ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم یا روزگار کے لئے منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ گذشتہ بیس برس کے دوران پاکستان سے کم و بیش ’تیس لاکھ‘ ایسے نوجوان بیرون ملک جا چکے ہیں‘ جن کی تعلیمی قابلیت اور اہلیت سے اگر اپنے ملک میں فائدہ خاطرخواہ اٹھایا جا رہا ہوتا تو ایسے افراد کو کسی بھی صورت بیرون ملک جانے کی ضرورت نہ پڑتی لیکن چونکہ پاکستان میں فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات بالخصوص نوجوانوں کے لئے اپنے اپنے مزاج کے مطابق ملازمتیں یا مزید پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع آبادی کے تناسب سے موجود نہیں‘ اِس لئے نوجوانوں کی اکثریت اچھے مستقبل اور اپنے ذوق و شوق کی تسکین کے لئے مغربی ممالک کا رخ کرتی ہے اور اِس میں حرج بھی کوئی نہیں کیونکہ ’برین ڈرین‘ بہرحال اس بات سے بہتر ہے کہ ذہانت (برین) کو نالے نالیوں میں بہا کر ضائع (ڈرین) کر دیا جائے۔ 

پاکستان کے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں نے اگر نوجوان افرادی قوت سے خاطرخواہ استفادہ نہیں کیا تو اِس کوتاہی اور غلطی کا ’دیرآئد درست آئد‘ اعتراف کرنے میں بھلا حرج ہی کیا ہے بلکہ ہمیں اپنے جملہ فیصلہ سازوں (وفاقی و صوبائی حکومتوں) کو جھنجوڑنا چاہئے کہ کس طرح ’نوجوانوں‘ کی اُمیدوں‘ وقت اُور صلاحیتوں کا خون ہو رہا ہے۔ 

زراعت کے شعبے میں گریجوئٹس کو اگر زرعی اراضی دی جائے اور انہیں گدھوں کی افزائش سمیت ’لائیوسٹاک‘ کی افزائش و ترقی (موسمی اثرات کے موافق خوراک اور بچاؤ بارے تحقیق) کی جانب راغب کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ جس محدود پیمانے اور بیرونی سرمایہ کاری سے ’گدھوں کی مذکورہ تجارت‘ کا تصور پیش کیا گیا ہے اُس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر مالی فائدہ اُٹھایا جاسکے۔ پاکستان کے بارے میں ایک گمراہ کن رائے بھی توجہ طلب ہے کہ ہمارے ہاں سے ذہین افراد ہی بیرون ملک جا رہے ہیں‘ حالانکہ ایسا نہیں۔ بیرون جانے والوں کی اکثریت کے پاس جو تعلیمی قابلیت ہوتی ہے مغربی ممالک کی نظر میں وہ کسی کام نہیں بلکہ اُنہیں انگریزی زبان تک کے کورسیز کرکے یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ انگریزی دان ہیں! گدھوں کی چین کو برآمد کرنے سے نہ تو ذہانت کا فقدان ہوگا اور نہ ہی گوشت کی قلت پیدا ہو گی لیکن جس ایک بات نے سب کی ’دعوت فکر‘ دی ہے وہ یہ ہے کہ 
جنہیں حقیر (گدھا) سمجھ کر بھلا (بجھا) دیا تو نے ۔۔۔ 
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی!

Monday, April 10, 2017

Apr2017: Donkeys export to China!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیدھی سادی اُلٹی باتیں!
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے جڑی توقعات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اِس کثیر الجہتی منصوبے سے ’گیٹ وے‘ خیبرپختونخوا میں ترقی کے ایسے نئے اُور پائیدار دُور کا آغاز ہوگا‘ جس سے ’پسماندہ علاقوں کی قسمت بدل جائے گی۔‘ سمندر سے دُوری اُور دیگر غیرموافق حالات کا شکار صنعتیں بھی اپنی جگہ اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں جن کے بارے غور کے لئے گیارہ اپریل کے روز ’ایبٹ آباد‘ میں ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد بھی متوقع ہے‘ جس میں سرکاری و غیرسرکاری اِداروں اُور منتخب نمائندوں کی نپی تلی (سوچی سمجھے) حاضری کے دوران اُن تمام اِمکانات (امور) بارے بات چیت ہوگی‘ جو خیبرپختونخوا کی ’سی پیک‘ سے جڑی ترقی سے متعلق ہیں۔ 

اجتماعی دانشمندی پر اِس قسم کا بھروسہ خوش آئند ہے۔ داخلی محاذ کی طرح بیرونی سطح پر بھی ’سی پیک‘ کے فوائد کا زیادہ سے زیادہ حصہ (شراکت) خیبرپختونخوا کے نام کرنے کے لئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں بھی کوششیں جاری ہیں اور ایک وفد آئندہ ہفتے چین جا رہا ہے‘ جہاں سے مزید سرمایہ کاری اُور چین کی منڈیوں تک رسائی‘ کے ساتھ مصنوعات برآمد کرنے کے بارے متعدد اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے چین کے ساتھ اقتصادی تعاون اور چین سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لئے کوششوں کے بارے وفاق کو بھی اعتماد میں لیا ہے‘ جو ایک آئینی ضرورت تھی۔ وزیراعلیٰ کے دورے میں مفاہمت کی جن یاداشتوں پر دستخط متوقع ہیں اُن میں ایک گدھوں کی چین برآمد بھی ہے اور اس سلسلے میں خیبرپختونخوا اپنے ہاں ’ڈنکی فارمنگ (گدھوں کی افزائشگاہوں)‘ کا فروغ چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ چین میں محنت کش‘ سخت جان گدھوں کی مانگ ہے جن کی کھال‘ گوشت اُور خون سے اَدویات (خاص قسم کی جیلی) بنائی جاتی ہے۔

خیبرپختونخوا کی موافق آب و ہوا میں گدھوں (جانور) کی آبادی بڑھانے کے لئے حکومتی سطح پر پہلے ہی کئی ایک اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے اور اِس شعبے میں چینی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی سامنے آئی ہے‘ جو چین میں رہتے ہوئے نہ صرف ’ڈنکی فارمنگ‘ کے شعبے کی مالی سرپرستی کریں گے بلکہ وہ اِن کے خریدار بھی ہوں گے۔ 

’خیبرپختونخوا چائنا سسٹین ایبل ڈنکی ڈویلپمنٹ پروگرام‘ کے بارے میں تفصیلات جب ایک ٹوئٹر پیغام کے ذریعے جاری کیں تو اِس کا عجیب و غریب اُور بڑی حد تک حیران کن ردعمل دیکھنے میں آیا اُور ایک نہایت ہی سنجیدہ موضوع مذاق کی رو میں بہہ گیا۔ کسی نے لکھا چین کو درآمد کئے جانے والے گدھوں میں قوت کلام رکھنے والے گدھے بھی شامل ہوں گے؟ 
ذومعنی دیگر سوالات بھی بہت تھے جیسا کہ ’دو یا چار ٹانگوں والے گدھے برآمد کئے جائیں گے؟‘ کہیں خیبرپختونخوا میں گدھوں کی آبادی کم تو نہیں ہو جائے گی؟ وغیرہ وغیرہ! 
ایسی کئی دیگر ’سیدھی سادی اُلٹی باتیں‘ اپنی جگہ لیکن ہمارے ہاں گدھے سے جڑے عمومی تاثرات نہایت ہی منفی اور حقائق کے منافی ہیں جن میں گدھے کو ایسا جانور سمجھا جاتا ہے جو ’’بیوقوفی‘‘ کی علامت ہے! حالانکہ گھوڑے کی نسل سے تعلق رکھنے والا یہ جانور پانچ ہزار سال سے انسانوں کی خدمت میں مصروف ہے لیکن انسان اِس کا احساس نہیں کر رہے! بھارت میں گدھوں سے حاصل ہونے والا دودھ اُور گدھوں کی برآمد ایک منافع بخش صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔ گدھوں کی فارمنگ اِس لئے آسان ہے کہ یہ سخت جان ہوتے ہیں انہیں زیادہ حفاظت یا بہتر خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اس کی کئی ایسی جنگلی نسلیں بھی ہیں جن کی فارمنگ ممکن نہیں ہوتی اور اگر انہیں دیگر جانوروں کی طرح ایک ہی ماحول (فارم) میں رکھا جائے تو وہ دوسرے جانوروں کو جسمانی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں۔ تصور کیجئے کہ آسٹریلیا جیسا ترقی یافتہ ملک بھی گدھوں کی فارمنگ پر خاص توجہ دیتا ہے اور اس کے برآمد سے قیمتی زرمبادلہ کما رہا ہے تو پاکستان جو کہ چین کا ہمسایہ بھی ہے اور ’سی پیک‘ کے ذریعے زمینی راستوں سے مسافت زیادہ محفوظ‘ تیزرفتار اُور کم قیمت بھی ہو جائے گی تو سب سے زیادہ حق تو پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کا بنتا ہے کہ وہ چین کی مارکیٹ میں گدھوں کی مانگ اور طلب سے فائدہ اُٹھائے۔

سترہ سے اَٹھارہ اپریل عوامی جمہوریہ چین کے دورے پر جانے والا خیبرپختونخوا کا وفد محض ’سیرسپاٹا‘ ہی نہیں بلکہ ’’روڈ شو (road show)‘‘ کے ذریعے چین کے اُن سرمایہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا‘ جو زراعت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ گدھوں کی فارمنگ بھی زرعی شعبے ہی کی ذیل میں آتی ہے لیکن دیگر پھل اور سبزی پر مبنی خام زرعی پیداوار سے مصنوعات کی تیاری میں بھی چین کی مہارت اور منڈی (طلب) سے یقیناًفائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ خیبرپختونخوا نے گدھوں کی صنعتی بنیادوں پر افزائش کے لئے جو حکمت عملی تیار کی ہے اُس کے لئے ابتدا میں ’ایک ارب روپے‘ مختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اِس ’ایک ارب روپے‘ سے کئی ہزار ارب روپے کمائے جا سکیں گے۔ محکمۂ زراعت اور لائیوسٹاک سے تعلق رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کو گدھوں کی افزائش کے مراکز قائم کرنے کے ساتھ اِن فارمز پر کام کرنے والوں کے رہائشگاہیں اُور دفاتر تعمیر کرنے کا بھی کہا جائے گا جبکہ اِن فارمز کے لئے بجلی کی ضروریات شمسی توانائی سے پوری کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ خیبرپختونخوا اور چین کے سرمایہ کاروں کے درمیان براہ راست اقتصادی تعاون کی بنیاد پر ہوگا جس کی حیثیت اگرچہ سرکاری منصوبے جیسی ہوگی اور اس کے اثاثے سرکار کی ملکیت ہی رہیں گے لیکن اِسے چین اور پاکستان کے نجی سرمایہ کار اور ماہرین مل کر چلائیں گے۔

خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے سات اپریل کے روز ’’اَیبٹ آباد الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن‘‘ کو محکمۂ اطلاعات کی جانب سے ’پانچ لاکھ روپے‘ کی مالی اِمداد دینے کے موقع پر غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے چین کے دورے اور زیرغور متعدد ترقیاتی منصوبوں کے بارے جن سرسری تفصیلات سے صحافیوں کو آگاہ کیا‘ اُس کے مطابق وفاق اُور پنجاب کی جانب سے خیبرپختونخوا کو دیوار سے لگانے اور ’سی پیک‘ سے وابستہ فوائد سے الگ رکھنے کی کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا رہا ہے اور ’سی پیک‘ کو خیبرپختونخوا کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید و کارآمد بنانے کے لئے صوبائی حکومت نے ہر سطح پر کوششیں تیز کر دی ہیں۔ گدھوں کی افزائش اور زندہ جانوروں کی برآمدات کے ساتھ اگر اُن سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی صنعتیں بھی خیبرپختونخوا ہی میں لگائی جائیں تو اِس سے منافع میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے لیکن وقت آگیا ہے کہ ہمیں گدھے کو محض گدھا نہیں سمجھنا بلکہ گدھے کی طرح کام کرنے جیسی خصلت بھی خود میں پیدا کرنی ہے‘ جو کامیابی اور ناکامی (نتائج) کی پرواہ کئے بناء‘ بس سر جھکائے اپنے کام سے کام اُور اپنی دھن میں مگن رہتا ہے۔
Getting benefits from China Pakistan Economic Corridor CPEC