Showing posts with label China Development Bank. Show all posts
Showing posts with label China Development Bank. Show all posts

Friday, January 5, 2018

Jan 2018: Trade Deficit with China and the trade!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پاک چین دوطرفہ مفادات!
چین پاکستان اِقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے متعلق عمومی خیال یہی کیا جاتا ہے کہ اِس کے ذریعے سازوسامان کی نقل و حمل ہو گی اور پاکستان کے زمینی راستوں کا استعمال کرتے ہوئے چین اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے ایسا متبادل راستہ (راہداری) تعمیر کرنا چاہتا ہے جس سے خطے کی منڈیوں تک اُس کی رسائی کم خرچ اور کم وقت میں ممکن ہو سکے۔ 

اُنتیس دسمبر کو چین کا سات دورہ مکمل کرنے والے پاکستان کے پارلیمانی وفد کے سامنے ’سی پیک‘ کے جو خدوخال‘ رکھے گئے اُن سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مرحلہ وار منصوبہ کسی بھی طرح صرف راہداری کی حد تک محدود نہیں اور اِس بات کو تقویت ’اسٹیٹ بینک آف پاکستان‘ (مرکزی قومی مالیاتی ادارے) کے اِس بیان سے بھی ملتی ہے کہ ’’چین اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تجارتی امور میں چینی کرنسی یوان میں کاروبار کے لئے تمام تر انتظامات کئے جا چکے ہیں۔‘‘ اِس سے قبل (اُنیس دسمبر دوہزارسترہ) وفاقی احسن اقبال (اُس وقت وفاقی وزیر برائے ترقی اور منصوبہ بندی) نے یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ ’’پاکستان کی حکومت چین سے دوطرفہ تجارت کے لئے امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی ’یوان‘ کے استعمال کا جائزہ لے رہی ہے۔‘‘ یاد رہے کہ ایک یوان (Yuan) کی پاکستانی کرنسی میں شرح تبادلہ (4 جنوری2018ء کے روز) ’’17 روپے چار پیسے‘‘ تھے اور سال دو ہزار سترہ کے دوران یوان کی قدر مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔ چین نے بلوچستان گوادر میں تجارتی سرگرمیوں کے لئے امریکی ڈالر کے بجائے ’یوان‘ کے استعمال کی تجویز دی تاہم وفاقی حکومت نے یہ تجویز مسترد کردی تھی اور اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو چین کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لئے خاص حد سے آگے نہیں جانا چاہئے کیونکہ چین کے مقابلے امریکہ اور یورپی ممالک پاکستانی مصنوعات کی بڑی منڈیاں ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ سے نکلنے کے لئے پاکستان اقتصادی و تجارتی شعبوں میں نئے امکانات پر غور کر رہا ہے اور اِس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر نتائج حسب حال و توقع رہیں۔ چین کی قیادت پاکستان کے حق میں بیانات جاری کرنے میں دیر نہیں کرتی لیکن اُس کی عالمی سفارتکاری کے ساتھ پاکستان کو اقتصادی (مالی) تعاون اور چین کی منڈیوں تک رسائی بھی درکار ہے۔ اسٹیٹ بینک نے چین کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے اگر ’’جامع پالیسی‘‘ مرتب کی ہے‘ جس کے تحت مستقبل قریب میں درآمدات‘ برآمدات اور مالیاتی لین دین میں چینی کرنسی پر انحصار کیا جا سکے گا تو اِس بارے میں معلومات (تفصیلات) نہ ہونے کے برابر دستیاب ہیں! 

وفاقی سطح پر آزاد پالیسی اختیار کی گئی ہے یعنی چین اور پاکستان کے سرکاری اور نجی مالیاتی اداروں کو دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کے لئے ’یوان (چینی کرنسی)‘ کے انتخاب کرنے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور اِس میں حکومت کی جانب سے کسی قسم کا دباؤ نہیں ہوگا۔ چینی کرنسی یوان (آر ایم بی) اب پاکستان میں غیر ملکی کرنسی کی صورت میں لین دین کے لئے منظور شدہ کرنسی کا درجہ حاصل کر چکی ہے اُور اِس ضمن میں پاکستان کے مرکزی بینک نے تمام ضروری ریگولیٹری فریم ورک بھی تیار کرلیا جس میں تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاملات مثلاً لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) اور فنانسنگ کی سہولیات چینی کرنسی میں ہو سکیں گی۔

مالی سال دوہزارسترہ میں پاکستان نے ’ایک ارب باسٹھ کروڑ ڈالر‘ مالیت کی مصنوعات اور خدمات (سروسز) چین کو برآمد کیں جبکہ چین سے درآمد کا حجم ’دس ارب ستاون کروڑ ڈالر‘ تھا جو غیرمعمولی تجارتی عدم توازن ہے۔ اصل ضرورت پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی خسارہ پاکستان کے حق میں کرنا ہے جس کے لئے دونوں ممالک کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر حتمی فیصلہ لینا باقی ہے۔ وفاقی حکومت کو جو کام پہلے کرنا تھا وہ سردخانے میں پڑا ہوا ہے لیکن کرنسی کے استعمال بارے چین کی دیرینہ خواہش پوری کر دی گئی ہے! 

اسٹیٹ بینک کی جانب سے تمام مقامی بینکوں کو بھی چینی کرنسی یوان میں ڈیپازٹ اور تجارتی قرض دینے کی اجازت دے دی گئی ہے یعنی پاکستانی بینکوں میں ڈالر کی طرح چینی کرنسی میں بھی اکاونٹس کھولے جا سکیں گے لیکن صرف تصدیق شدہ ڈیلرز ہی بیرونی رقم والا اکاؤنٹ کھولنے اور تجارتی قرضہ دینے کے اہل ہوں گے۔ پاکستان میں ’’بینک آف چائنا‘‘ کے آغاز کے ساتھ ہی چین کی ’’آن شور‘‘ مارکیٹ تک رسائی مزید مضبوط ہوجائے گی جبکہ پاکستان میں متعدد نجی بینک ’’آن شور‘‘ یوآن اکاؤنٹس برقرار رکھ سکیں گے۔ اُمید ہے کہ ’سی پیک‘ کے تناظر میں چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی اور مالیاتی سرگرمیوں سمیت مقامی اور عالمی منڈیوں میں معاشی ترقی میں ’یوآن‘ کا اِستعمال مؤثر رہے گا اُور دونوں ممالک تعاون کی اِس نئی جہت 
سے طویل المدتی فائدہ اُٹھا سکیں گے۔

پاکستان کی کرنسی پر ڈالر کے مقابلے دباؤ بدستور موجود ہے۔ ’اوپن مارکیٹ‘ کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے باعث قومی بینک نے غیر ملکی کرنسیوں کی برآمدات کے مقابلے میں کیش ڈالر کی درآمدی ضرورت کو پینتیس فیصد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس سلسلے میں غیرملکی کرنسیوں کو متحدہ عرب امارات (دبئی) برآمد کرنے کے لئے سوفیصد کی بجائے صرف پینتیس فیصد کیش ڈالر استعمال کئے جائیں گے۔ 

برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافے کے باعث قومی زرمبادلہ کے ذخائر گھٹ رہے ہیں۔ یہ صورتحال قومی معیشت کے لئے تشویشناک ہے کیونکہ تجارتی مقاصد سے ہٹ کر بھی ڈالر کا بیرون ملک اخراج جاری ہے جو اس امر کا عکاس ہے کہ ’فارن ایکس چینج‘ پر قومی اداروں کی گرفت کمزور ہے اور یہ دھندا زیادہ تر ’کرنسی ایکس چینج کے نجی مراکز‘ کے توسط سے ہو رہا ہے۔ 

بعض ممالک کی کرنسیاں جن میں یورپی منڈی کا یورو‘ جاپان کا ین‘ چین کا یوآن اور برطانیہ کا پاؤنڈ خصوصاً قابل ذکر ہیں‘ عالمی مارکیٹ میں لین دین کے لئے استعمال ہو رہی ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا بھر کی بڑی اور چھوٹی معیشتیں ڈالر کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ اگرچہ چینی کرنسی سے متعلق فیصلے کی ’’کرنسی ایکس چینج‘‘ والوں نے مخالفت کی ہے لیکن قومی بینک کا فیصلہ وقت کی ضرورت دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف قومی روئیوں کی اصلاح بھی ضروری ہے کیونکہ پاکستانیوں کی ایک تعداد ایسی ہے جو مقامی کرنسی (پاکستانی روپے) کے عوض ڈالر خرید لیتے ہیں‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تعلیمی اغراض‘ سیاحتی مقاصد یا بیرون ملک سفر کرنا ہوتا ہے۔ پھر ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو خفیہ طریقوں سے اپنے اثاثے (کالا دھن) ڈالر کی شکل میں بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ اِس صورتحال میں اصلاح کی ضرورت تھی۔ پاکستان اور پاکستان کی معیشت میں اعتماد کی بحالی کے لئے سیاسی رہنماؤں کو خود عملی مثال بننا ہوگا‘ جنہوں نے اپنے اثاثے اور اہل و عیال بیرون ملک محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
۔

Sunday, May 21, 2017

TRANSLATION: Understanding CPEC!

Understanding CPEC
سی پیک خدوخال

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے خدوخال سمجھنے سے پہلے ہمیں عوامی جمہوریہ چین کی ترجیحات اور اقتصادیات سے متعلق اہداف کو سمجھنا ہوگا۔ چین میں محنت کش افرادی قوت (مزدوروں) کی تعداد قریب 80 کروڑ ہے اور چین کی حکومت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ’بے روزگاری‘ ہے۔ چین میں ’اسٹیٹ کپیٹل ازم‘ ہے اور وہاں ’کیمونسٹ پارٹی آف چائنا‘ کی حکومت ہے جس کی پہلی ترجیح مذکورہ افرادی قوت کے لئے روزگار کا بندوبست کرنا ہے تاکہ اقتصادی بحران پیدا ہو نہ جیسا کہ 1989ء میں ہوا تھا جب طلبہ کی قیادت میں ایک احتجاجی تحریک اِس قدر شدت اختیار کر گئی تھی کہ اُس وقت کی حکومت کو ’مارشل لاء‘ نافذ کرنا پڑا تھا۔

سی پیک کا خاکہ اور تصور چین کے دو اداروں کی مربوط سوچ کا عکاس ہے۔ اِن اداروں ’چائنا ڈویلپمنٹ بینک‘ اور ’نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن آف چین‘ کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ پاکستان نہیں بلکہ چین کے (اقتصادی) مفادات کا تحفظ کریں اور چین کی ترقی و مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چین کے پاس خام مال کی کثرت ہے جس میں اسٹیل‘ کوئلہ‘ سیمنٹ‘ ایلومنیم اور فلیٹ گلاس شامل ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ دنیا میں اسٹیل کی مجموعی پیداوار کا پچاس فیصد صرف چین میں پیدا ہوتا ہے۔ چین میں دھاتوں کو پگھلانے اور ان سے مائع دھات سے سلاخیں و دیگر آلات تیار کرنے کی صنعت سے قریب 36لاکھ 30ہزار (3.63 ملین) مزدور وابستہ ہیں۔ چین میں اسٹیل کی سالانہ پیداوار قریب 80کروڑ (800ملین) میٹرک ٹن جبکہ اِس کی مقامی ضرورت 400 میٹرک ٹن ہے۔

چین کے فیصلہ سازوں کے سامنے دو مراحل تھے۔ ایک تو وہ ہرسال 100 ارب ڈالر مالیت کی اضافی اسٹیل برآمد کرنے کے لئے مارکیٹ تلاش کرتے یا پھر اسٹیل (لوہا سازی) کی صنعت سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کا بوجھ حکومت اپنے کندھوں سے اُتار دیتی۔ ذہن نشین رہے کہ افرادی قوت کو بے روزگار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشی عدم استحکام پیدا ہو اور ملک ایک مرتبہ پھر اُحتجاج مظاہروں کی طرف چلا جائے۔ اسی طرح دنیا بھر میں بنائے جانے والے سیمنٹ کا 60فیصد چین میں بنایا جاتا ہے جبکہ چین میں سیمنٹ کی ضروریات تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ اب چین کی حکمراں جماعت کے سامنے ایک اور مشکل یہ تھی سیمنٹ کی پیداواری صلاحیت 390 ملین (اُنتالیس کروڑ) ٹن جو کہ مقامی ضروریات سے زیادہ ہے اُسے کم کیا جائے اور ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو جائے۔

سال 2014ء میں چین کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم سب سے زیادہ یعنی 4 کھرب ڈالر تھا۔ مئی 2017ء میں چین کے پاس غیرملکی ذخائر کا حجم غیرمعمولی کم ہوا جو قریب 3کھرب ڈالر ہوگیا۔ یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہے کہ چین دنیا میں سب سے زیادہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے اور ساتھ ہی چین دنیا بھر میں امریکہ کے سب سے زیادہ اثاثہ جات بھی رکھتا ہے۔ چین کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں قریب 2 کھرب ’امریکی ڈالروں‘ کی شکل میں ہیں جبکہ باقی ماندہ ذخائر میں 2.5فیصد سونے (قیمتی دھات) کی صورت ذخیرہ کئے گئے ہیں۔
چین کی امریکہ اور امریکہ کے اقتصادی نظام میں دو کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری سے سالانہ 1.13فیصد سے لیکر 2.98فیصد منافع حاصل ہو رہا ہے۔ تصور کیجئے کہ جب چین اگر یہی سرمایہ کاری پاکستان میں کرتا ہے تو اُسے کس قدر زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ کوئلے کے ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر ’’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘‘ کی مثال لیں جس میں چینی سرمایہ کاری پر ضمانت دی گئی ہے کہ اُسے مجموعی سرمایہ کاری کا سالانہ 4.5فیصد سے زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ علاؤہ ازیں مذکورہ ’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘ میں سرمایہ کاری پر چین کو 6.21فیصد کے تناسب سے سود بھی ملے گا جبکہ چین ہی کے ایک انشورنس ادارے (چائنا ایکسپورٹ اینڈ کریڈٹ انشورنس کارپوریشن) کو انشورنس پرمیئم سے 7فیصد الگ آمدنی حاصل ہوگی۔ تصور کیجئے کہ چین کو پہلے ہی سال قریب 13فیصد آمدنی ہوگی یعنی اگر چین امریکہ میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اُسے 1.13فیصد کے تناسب سے منافع ملتا ہے لیکن اگر وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اُس کا منافع تیرہ فیصد مقرر کیا جاتا ہے تو چین کے نکتۂ نظر سے کیا یہ گھاٹے کا سودا ہے؟

’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘ سے پیدا ہونے والی بجلی کی طے شدہ قیمت اور چین کو منافع کی ایسی ضمانتیں فراہم کی گئی ہیں جن پر منافع کی شرح کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی اور ایک بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے 
سرمایہ کاروں کا ایک دیرینہ خواب پورا ہو گیا ہو۔ 

’سی پیک‘ کے اثرات سے متعلق 231 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز سے پانچ قسم کے رسک (خطرات یا اندیشے) سامنے آئے ہیں‘ جن میں مخلوط سیاسی حکومتوں کاقیام‘ مذہبی اُور قبائلی نظاموں پر اثرات‘ دہشت گردی اور مغربی مداخلت میں کمی شامل ہیں۔ ’سی پیک‘ کے تحت سرمایہ کاری کرنے کے بعد چینی مفادات و تنصیبات کا تحفظ کرنے کے لئے چینی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی پاکستان آئے گی! اِس منظرنامے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’عالمی سطح پر 176 بدعنوان ممالک‘ کی اُس فہرست پر نظر ڈالیں جس کے مطابق مذکورہ انڈکس میں پاکستان 116ویں جبکہ چین 76ویں نمبر ہے بدقسمتی سے چین اور پاکستان دونوں ممالک میں فیصلہ سازی کے منصب (حکومتی معاملات) میں مالی بدعنوانیوں پائی جاتی ہیں اور چونکہ دونوں ممالک میں قومی وسائل بارے امانت و دیانت کے متعلق تصورات کم وبیش ایک جیسے ہی ہیں اِس لئے یہ ’امکانی امر‘ باعث حیرانی نہیں ہوگا کہ ’سی پیک‘ منصوبوں پر لاگت اصل قیمت سے بڑھا چڑھا کر ظاہر کی جا رہی ہو!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)