Showing posts with label CDB. Show all posts
Showing posts with label CDB. Show all posts

Sunday, May 21, 2017

TRANSLATION: Understanding CPEC!

Understanding CPEC
سی پیک خدوخال

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے خدوخال سمجھنے سے پہلے ہمیں عوامی جمہوریہ چین کی ترجیحات اور اقتصادیات سے متعلق اہداف کو سمجھنا ہوگا۔ چین میں محنت کش افرادی قوت (مزدوروں) کی تعداد قریب 80 کروڑ ہے اور چین کی حکومت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ’بے روزگاری‘ ہے۔ چین میں ’اسٹیٹ کپیٹل ازم‘ ہے اور وہاں ’کیمونسٹ پارٹی آف چائنا‘ کی حکومت ہے جس کی پہلی ترجیح مذکورہ افرادی قوت کے لئے روزگار کا بندوبست کرنا ہے تاکہ اقتصادی بحران پیدا ہو نہ جیسا کہ 1989ء میں ہوا تھا جب طلبہ کی قیادت میں ایک احتجاجی تحریک اِس قدر شدت اختیار کر گئی تھی کہ اُس وقت کی حکومت کو ’مارشل لاء‘ نافذ کرنا پڑا تھا۔

سی پیک کا خاکہ اور تصور چین کے دو اداروں کی مربوط سوچ کا عکاس ہے۔ اِن اداروں ’چائنا ڈویلپمنٹ بینک‘ اور ’نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن آف چین‘ کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ پاکستان نہیں بلکہ چین کے (اقتصادی) مفادات کا تحفظ کریں اور چین کی ترقی و مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چین کے پاس خام مال کی کثرت ہے جس میں اسٹیل‘ کوئلہ‘ سیمنٹ‘ ایلومنیم اور فلیٹ گلاس شامل ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ دنیا میں اسٹیل کی مجموعی پیداوار کا پچاس فیصد صرف چین میں پیدا ہوتا ہے۔ چین میں دھاتوں کو پگھلانے اور ان سے مائع دھات سے سلاخیں و دیگر آلات تیار کرنے کی صنعت سے قریب 36لاکھ 30ہزار (3.63 ملین) مزدور وابستہ ہیں۔ چین میں اسٹیل کی سالانہ پیداوار قریب 80کروڑ (800ملین) میٹرک ٹن جبکہ اِس کی مقامی ضرورت 400 میٹرک ٹن ہے۔

چین کے فیصلہ سازوں کے سامنے دو مراحل تھے۔ ایک تو وہ ہرسال 100 ارب ڈالر مالیت کی اضافی اسٹیل برآمد کرنے کے لئے مارکیٹ تلاش کرتے یا پھر اسٹیل (لوہا سازی) کی صنعت سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کا بوجھ حکومت اپنے کندھوں سے اُتار دیتی۔ ذہن نشین رہے کہ افرادی قوت کو بے روزگار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشی عدم استحکام پیدا ہو اور ملک ایک مرتبہ پھر اُحتجاج مظاہروں کی طرف چلا جائے۔ اسی طرح دنیا بھر میں بنائے جانے والے سیمنٹ کا 60فیصد چین میں بنایا جاتا ہے جبکہ چین میں سیمنٹ کی ضروریات تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ اب چین کی حکمراں جماعت کے سامنے ایک اور مشکل یہ تھی سیمنٹ کی پیداواری صلاحیت 390 ملین (اُنتالیس کروڑ) ٹن جو کہ مقامی ضروریات سے زیادہ ہے اُسے کم کیا جائے اور ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو جائے۔

سال 2014ء میں چین کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم سب سے زیادہ یعنی 4 کھرب ڈالر تھا۔ مئی 2017ء میں چین کے پاس غیرملکی ذخائر کا حجم غیرمعمولی کم ہوا جو قریب 3کھرب ڈالر ہوگیا۔ یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہے کہ چین دنیا میں سب سے زیادہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے اور ساتھ ہی چین دنیا بھر میں امریکہ کے سب سے زیادہ اثاثہ جات بھی رکھتا ہے۔ چین کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں قریب 2 کھرب ’امریکی ڈالروں‘ کی شکل میں ہیں جبکہ باقی ماندہ ذخائر میں 2.5فیصد سونے (قیمتی دھات) کی صورت ذخیرہ کئے گئے ہیں۔
چین کی امریکہ اور امریکہ کے اقتصادی نظام میں دو کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری سے سالانہ 1.13فیصد سے لیکر 2.98فیصد منافع حاصل ہو رہا ہے۔ تصور کیجئے کہ جب چین اگر یہی سرمایہ کاری پاکستان میں کرتا ہے تو اُسے کس قدر زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ کوئلے کے ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر ’’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘‘ کی مثال لیں جس میں چینی سرمایہ کاری پر ضمانت دی گئی ہے کہ اُسے مجموعی سرمایہ کاری کا سالانہ 4.5فیصد سے زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ علاؤہ ازیں مذکورہ ’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘ میں سرمایہ کاری پر چین کو 6.21فیصد کے تناسب سے سود بھی ملے گا جبکہ چین ہی کے ایک انشورنس ادارے (چائنا ایکسپورٹ اینڈ کریڈٹ انشورنس کارپوریشن) کو انشورنس پرمیئم سے 7فیصد الگ آمدنی حاصل ہوگی۔ تصور کیجئے کہ چین کو پہلے ہی سال قریب 13فیصد آمدنی ہوگی یعنی اگر چین امریکہ میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اُسے 1.13فیصد کے تناسب سے منافع ملتا ہے لیکن اگر وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اُس کا منافع تیرہ فیصد مقرر کیا جاتا ہے تو چین کے نکتۂ نظر سے کیا یہ گھاٹے کا سودا ہے؟

’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘ سے پیدا ہونے والی بجلی کی طے شدہ قیمت اور چین کو منافع کی ایسی ضمانتیں فراہم کی گئی ہیں جن پر منافع کی شرح کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی اور ایک بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے 
سرمایہ کاروں کا ایک دیرینہ خواب پورا ہو گیا ہو۔ 

’سی پیک‘ کے اثرات سے متعلق 231 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز سے پانچ قسم کے رسک (خطرات یا اندیشے) سامنے آئے ہیں‘ جن میں مخلوط سیاسی حکومتوں کاقیام‘ مذہبی اُور قبائلی نظاموں پر اثرات‘ دہشت گردی اور مغربی مداخلت میں کمی شامل ہیں۔ ’سی پیک‘ کے تحت سرمایہ کاری کرنے کے بعد چینی مفادات و تنصیبات کا تحفظ کرنے کے لئے چینی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی پاکستان آئے گی! اِس منظرنامے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’عالمی سطح پر 176 بدعنوان ممالک‘ کی اُس فہرست پر نظر ڈالیں جس کے مطابق مذکورہ انڈکس میں پاکستان 116ویں جبکہ چین 76ویں نمبر ہے بدقسمتی سے چین اور پاکستان دونوں ممالک میں فیصلہ سازی کے منصب (حکومتی معاملات) میں مالی بدعنوانیوں پائی جاتی ہیں اور چونکہ دونوں ممالک میں قومی وسائل بارے امانت و دیانت کے متعلق تصورات کم وبیش ایک جیسے ہی ہیں اِس لئے یہ ’امکانی امر‘ باعث حیرانی نہیں ہوگا کہ ’سی پیک‘ منصوبوں پر لاگت اصل قیمت سے بڑھا چڑھا کر ظاہر کی جا رہی ہو!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)