Showing posts with label China. Show all posts
Showing posts with label China. Show all posts

Saturday, July 15, 2023

Gandhara dreams by Dr Ramesh Kumar Vankwani

 Gandhara dreams

گندھارا تہذیب: خواب اُور حقیقت

پاکستان میں گندھارا تہذیب کے آثار اُور منسوب مقامات کی سیر کے لئے دنیا بھر سے سیاح آ رہے ہیں۔ حال ہی میں اِس سلسلے میں ایک ’عالمی کانفرنس‘ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں بالخصوص بدھ مت کے پجاری اُور اُن ممالک کے نمائندہ وفود نے شرکت کی جہاں ’بدھ مت‘ سرکاری مذہب کے طور پر رائج ہے۔ گندھارا تہذیب کو مقدس اُور تاریخی اہمیت کی حامل سمجھنے والے جو ممالک دلچسپی لے رہے ہیں اُن میں تھائی لینڈ‘ نیپال‘ ویت نام‘ چین‘ ملائیشیا‘ کوریا‘ سری لنکا‘ میانمار‘ کمبوڈیا‘ انڈونیشیا اور دیگر بودھی اکثریتی ممالک شامل ہیں۔ حال ہی میں معزز بودھی بھکشو نے پاکستان کا دورہ کیا اُور چند دنوں روز یہاں مقیم رہے۔ اِن کی پاکستان یاترا (آمد) کا مقصد وزیر اعظم کی ’خصوصی ٹاسک فورس برائے گندھارا ٹورازم‘ اُور ہم خیال ’تھنک ٹینک نجی اداروں‘ کے تعاون سے منعقد ہونے والے پہلے بین الاقوامی گندھارا سمپوزیم میں شرکت تھی جس کے لئے وفود اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اُترے اُور اُنہوں نے مذکورہ سمپوزیم میں شرکت کے علاؤہ گندھارا تہذیب کے مقامات پر حاضری بھی کی اُور وہاں عبادت و مختصر قیام کے دوران تاریخ کے اُن رشتوں کو زندہ بھی کیا جن پر دہائیوں سے مٹی پڑی ہوئی ہے۔

بین الاقوامی بودھی راہبوں کے ہمراہ تخت باہی مردان کے قدیم گندھارا مقام کا دورہ کرتے ہوئے راقم الحروف کو ایسا لگا کہ جیسے کوئی شخص جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھ رہا ہو اور جب آنکھیں کھلیں گی تو یہ ویران کھنڈرات اپنے شاندار ماضی پر ماتم کرتے نظر آئیں گے۔ بین الاقوامی برادری کے سامنے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لئے ’مذہبی سیاحت‘ کو فروغ دینے کا خواب بالآخر حقیقت بن رہا ہے۔ اِس سمپوزیم سے قبل‘ بدھ بھکشوؤں‘ مختلف ممالک کے سفیروں اور ذرائع ابلاغ کے وفود کے ہمراہ جدید ٹیکسلا اور گندھارا دور کے عظیم تعلیمی مرکز‘ تکششیلا (Takshashila)کے قدیم شہر میں واقع قدیم دھرم راجیکا (Dharmarajika) عبادتگاہ (سٹوپا) کا دورہ کیا۔ معلوم انسانی تاریخ کی یہ پہلی یونیورسٹی تھی اور اِس جامعہ میں عظیم فلسفی کوٹلیہ چانکیہ ڈھائی ہزار سال پہلے حکمت پڑھاتے تھے۔ ’ارتھ شاستر‘ اور ’چانکیہ نیتی‘ کے عنوان سے اُن کی کتابیں اکیسویں صدی میں بھی یکساں مقبول ہیں۔ قدیم شہر ٹیکسلا کی اہمیت کے پیش نظر گندھارا ٹورازم سے متعلق وزیراعظم پاکستان کی بنائی ہوئی ’ٹاسک فورس‘ نے ایک اعلامیہ بھی تیار کیا ہے جسے کانفرنس کے مندوبین اور سفیروں کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ راقم الحروف کو یقین ہے کہ اِس عاجزانہ کوشش کو تاریخ میں ’تکششیلا اعلامیہ‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

بین الاقوامی مندوبین نے ٹیکسلا اور پشاور کے عجائب گھروں کا دورہ بھی کیا۔ اِس موقع پر راہبوں سے ہوئی بات چیت میں اِس بات کا خصوصی طور پر اظہار کیا گیا کہ گندھارا کے بارے میں بہت کچھ پڑھنے اُور سننے والوں کو جب اِس سے متعلقہ مقامات اُور آثار کو قریب سے دیکھنے کا پہلا اُور نادر موقع خاص اہمیت کا حامل ہے۔ وہ اپنے آبائی ممالک واپس جانے کے بعد پاکستان اور پاکستان کے عوام کے بارے میں اچھی باتیں اُور یادیں بطور سوغات لیکر جائیں گے۔ ذہن نشین رہے کہ گندھارا سیاحت کے فروغ کے لئے جب وزیر اعظم کی ٹاسک فورس نے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا اُور بدھ مت زائرین نے تخت بھائی کا دورہ کیا تو راقم الحروف نے اُس وفد کی قیادت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اُور اُس وقت یہ بالکل ناممکن دکھائی دے رہا تھا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے بدھ بھکشو پاکستان کا دورہ کر سکیں گے تاہم جہاں ارادہ موجود ہو اُور جہاں نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو راستے نکل ہی آتے ہیں۔ ذاتی طور پر راقم الحروف کا ماننا ہے کہ ہر قوم اور ملک کا کوئی نہ کوئی خواب ہوتا ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ امریکہ کے 16ویں صدر ’ابراہم لنکن‘ نے اپنی قوم کو سپر پاور بننے کا خواب دیا۔ اسی طرح چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی اپنی قوم کو عالمی سطح پر متعارف کرایا اُور چین کی صنعتی و سفارتی طاقت کو منوایا۔ 

ہمارے بزرگوں نے بھی ایک خودمختار اور آزاد ریاست کا خواب دیکھا تھا جو بانیئ پاکستان قائد اعظم کی دور اندیش قیادت میں پورا ہوا۔ جناح صاحب نے ’11 اگست 1947ء‘ کے روز اپنی تقریر میں اِس خواب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”وہ پاکستان کو ’مثالی رول ماڈل ریاست‘ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر کسی کو مسجد یا مندر یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کی آزادی ہو۔“ ایک محب وطن پاکستانی شہری ہونے کے ناطے راقم الحروف کا بھی خواب ہے کہ پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہو اُور پاکستان کا تعارف ترقی یافتہ‘ پرامن اُور خوشحال ملک کے طور پر کیا جائے۔ ’گندھارا ڈریم‘ کے ساتھ پاکستان نے مذہبی سیاحت کے فروغ سے متعلق ’واضح اہداف‘ مقرر کئے ہیں اُور اِس کوشش میں بڑی کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ سینکڑوں سال پہلے ہماری سرزمین پر پھلنے پھولنے والی عظیم گندھارا تہذیب دنیا کی ’اَنوکھی قدیم‘ تہذیب ہے۔ اِس تہذیب کے باقی ماندہ آثار میں ہر پتھر‘ ہر کھنڈر‘ ہر کونا کوئی نہ کوئی کہانی بیان کر رہا ہے۔ 

گندھارا ورثہ پراسرار ہے اُور اِس کی پراسراریت جدید دور میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ گندھارا کے مقدس مقامات کی زیارت دنیا کے ہر بدھ مت پیروکار کا خواب ہے لہٰذا ہمیں اِس جانب راغب کرنے کے لئے غیرملکی سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ 

(مضمون نگار رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔ بشکریہ: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)


Friday, October 1, 2021

China Foundation Day 2021

ڑرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

چین‘ یوم جمہوریہ: بے مثل ترقی کا سفر

چین کی آزادی اور ترقی کا سفر جس ایک فیصلے پر پختگی و سختی سے عمل کا نتیجہ ہے۔ اس میں ’روائتی طرز ِحکمرانی‘ کو ’عوامی جمہوریہ‘ سے بدلا گیا جس کے بعد چین کے 72 سالہ سفر (یکم اکتوبر 1949 سے یکم اکتوبر 2021) میں ’عوامی جمہوریہ چین‘ نے ایک سے بڑھ کر ایک سنگ ِمیل عبور کئے اور ان کارہائے نمایاں میں سب سے اہم ”انتہائی غربت میں غیرمعمولی کمی“ ہے جبکہ حاصل مطالعہ چین کی قومی ترجیحاتی حکمت ِعملی کے 3 پہلو ہیں۔ 1: ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی اور سرمایہ کاری۔ 2: پیداواری صلاحیت میں اضافے سے اِقتصادی نمو۔ 3: عالمی سطح پر سیاسی و سفارتی اثرورسوخ اور تجارتی روابط بڑھانے کے نئے امکانات کی تلاش اور بہتر سے بہتر کی جستجو (جہد ِمسلسل)۔ اِن تینوں شعبوں اور امور میں قومی فیصلہ ساز کس حد تک کامیاب و کامران رہے اِس بات کا اندازہ چین کی ترقی کے اقتصادی اعشارئیوں سے متعلق اعدادوشمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ تعجب خیز ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ 2019سے دنیا کی ہر چھوٹی بڑی معیشت کورونا وبا کے دباؤ میں ہے لیکن چین کی سالانہ شرح نمو میں اضافہ ہو رہا ہے جو سالانہ 100کھرب یوآن تک جا پہنچی ہے اور چین میں فی کس اوسط آمدنی 10 ہزار امریکی ڈالر ہے۔ ذہن نشین رہے چین کی کرنسی یوآن کا پاکستانی روپے سے شرح تبادلہ 31 اگست2021کے روز 25 روپے پچاس پیسے جبکہ 30 ستمبر 2021کے روز 26 روپے 25 پیسے رہا یعنی پاکستانی روپے کے مقابلے چین کی کرنسی کی قدر میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے۔

چین کے موجودہ صدر ڑی جن پنگ (Xi Jinping) نومبر 2012ئ سے حکمراں جماعت چائنیز کیمونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور صدارتی عہدے فائز ہیں اور اِس عرصے میں پہلے دن انہوں نے 10 کروڑ (100ملین) لوگوں کو خط ِغربت سے بلند کرنے کے جس عزم کا اظہار (قوم سے وعدے کی صورت) کیا تھا ا±سے عملاً پورا کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے کہ اِنسانی تاریخ میں اِس جیسی ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی کہ جہاں کسی قوم کے 98 فیصد غریبوں کی مالی حالت تبدیل ہو گئی ہو! ذہن نشین رہے کہ ’خط ِغربت‘ کسی ملک میں ایسے افراد کی تعداد کا تعین کرتا ہے جن کی یومیہ آمدنی 2.30 (ڈھائی) امریکی ڈالر یومیہ سے کم ہو۔ چین میں غربت اِس کے شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں زیادہ تھی۔ چین نے پہلا کام یہ کیا کہ خط ِغربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد معلوم کرنے کے لئے عالمی پیمانے (ڈھائی ڈالر یومیہ آمدنی) کو مزید کم کر کے 1.90 ڈالر یومیہ آمدنی کے حساب سے آبادی کی تعداد معلوم کی اور دوسری خاص بات یہ رہی کہ غریبوں کو نقد مالی اِمداد دے کر مصنوعی طریقے سے خط ِغربت سے بلند نہیں کیا گیا بلکہ روزگار کی فراہمی اور ہنرمندی کے ذریعے اِنہیں معاشرے کا فعال رکن بنایا یعنی روزگار کی فراہمی سے معیشت و معاشرت کو مستحکم کیا۔ ذہن نشین رہے کہ ”یومیہ ایک اعشاریہ نوے امریکی ڈالر“ کا پیمانہ عالمی بینک کا وضع کردہ ہے جس کی پاکستانی روپے میں قدر قریب 327 روپے بنتی ہے یعنی ہر وہ شخص جس کی یومیہ آمدنی تین سو ستائیس روپے یا اِس سے کم ہے وہ ’خط ِغربت‘ سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ 1990میں 75 کروڑ (750 ملین) چینی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے جبکہ 2012 میں یہ تعداد کم ہو کر 9 کروڑ (90ملین) ہو گئی اور 2016 میں مزید کم ہو کر 72لاکھ (7.2 ملین) رہ گئی جو چین کی کل آبادی کا صفر اعشاریہ پانچ فیصد ہے یعنی چین کی کل آبادی کا صرف 0.5 فیصد خط غربت سے نیچے ہیں۔ اِن اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں 30 سال پہلے جو 74 کروڑ 50 لاکھ انتہائی غریب لوگوں رہتے تھے‘ ان میں سے آدھ فیصد ہی انتہائی غریب رہ گئے ہیں۔ چین نے انتہائی غربت کم نہیں کی بلکہ اِس کا عملاً اِنسداد کیا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر پاکستان کے فیصلہ سازوں کو بالکل اسی چین کے طوطے کی طرح سبق سیکھنا چاہئے جو ایک فرضی کہانی کا کردار ہے کہ پنجرے میں بند چین کے ایک طوطے کا پیغام سن کر کس طرح اس کے ہم جنس نے قید سے رہائی حاصل کی اور اگر پاکستان کے قومی فیصلہ ساز متوجہ ہوں اور چین کی دوستی پر فخر اور ناز کرتے ہوئے صرف یہ کہنے پر اکتفا نہ کریں کہ پاک چین دوستی سمندروں سے زیادہ گہرائی‘ ہمالیہ پہاڑی سلسلے سے زیادہ بلند و مضبوط اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے تو یقینا ایسا ہی ہوگا لیکن اصل چیز چین سے تعمیروترقی اور غربت کو شکست دینے کے اس عمل کے مطالعے اور تجربے سے فائدہ اٹھانا ہے جس نے چین کی حکمرانی کو جغرافیائی سرحدوں سے آزاد کیا ہے اور آج دنیا کی کوئی ایسی معیشت‘ کوئی ایسی ترقی اور کوئی ایسی سیاسی و سماجی حکمت ِعملی (لائحہ عمل) نہیں جس پر چین کے اثرات‘ چھاپ یا تحقیق و ترقی کا عمل دخل نہ ہو۔

جون 2021 میں مرتب کردہ عالمی اعدادوشمار جو کہ عالمی بینک کے مرتب کردہ ہیں کے مطابق سال 2021-22 کے دوران پاکستان میں انتہائی غربت زدہ افراد کی تعداد 39.3 فیصد ہے جو سال 2022 میں بھی کم و بیش یہی رہے گی جبکہ موجودہ حکومت کی معاشی اصلاحات کا تسلسل رہا تو عالمی بینک کے مطابق سال 2022-23 کے دوران انتہائی غربت زدہ افراد کی تعداد کم ہو کر 37.9فیصد ہو جائے گی۔ تصور ممکن نہیں کہ ہر 100 پاکستانیوں میں سے 37 افراد ایسے ہیں جن کی یومیہ آمدنی ان کے 3 وقت کی کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ تعلیم و علاج معالجے سے محروم ہیں اور بنیادی انسانی ضروریات نہیں رکھتے۔ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان میں غربت کے اعدادوشمار کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ ہر سال ساڑھے چار سے ساڑھے پانچ فیصد غریبوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ چین نے غربت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے زرعی شعبے اور ان قدرتی وسائل کو ترقی دی‘ جس روائتی انداز کے سبب منافع بخش نہیں رہی تھی۔ یہی آج کے پاکستان کا بھی مسئلہ ہے کہ ہم ’زرعی ملک‘ تو ہیں لیکن زراعت اور زرعی معیشت و معاشرت وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ترقیاتی ترجیحات کا حصہ نہیں ہے۔ دعوت ِفکر ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی صداحترام قیادت اور باشعور عوام کو ’یوم ِجمہوریہ‘ کے موقع پر ڈھیروں ڈھیر مبارکبادیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے چین کی ترقی کے 3 بنیادی پہلوؤں (ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی اور سرمایہ کاری۔ 2: پیداواری صلاحیت میں اضافے سے اِقتصادی نمو۔ 3: عالمی سطح پر سیاسی و سفارتی اثرورسوخ اور تجارتی روابط کے نئے امکانات کی جستجو و تلاش) کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات بھی فراموش نہ کی جائے کہ چین نے علم و عمل کی بنیاد پر ترقی و ارتقا حاصل کیا ہے اس میں اپنی زبان اور تاریخ و ثقافت کو فراموش نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ چین کی حکمرانی اِس کی جغرافیائی سرحدوں میں محدود نہیں رہی بلکہ وہ دوستی کی علامت اور امن و ترقی کی عالمی شراکت دار بن چکا ہے۔ چین کی کامیابیوں میں پاکستان کے دیرینہ مسائل (بحرانوں) اور انسداد ِغربت کا راز (حل) پوشیدہ ہے لیکن کوئی ہے کہ جو غور کرے؟ ”میں چاہتا تھا کہ دنیا کو تیرے جیسا لگوں .... سو تیرے قول و عمل کی مثال ہونے لگا (یاور عظیم)۔“

....






Sunday, January 7, 2018

TRANSLATION: Toxic marriage by Dr Farrukh Saleem

Toxic marriage
مہلک تعلقات!
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے ادوار 70 سال پر محیط ہیں دونوں ممالک کے درمیان قربت اور تعلقات عدم توازن کا شکار رہے اور اگرچہ یہ تعلقات ’ایک دوسرے پر ’انحصار‘ جیسی دوطرفہ ضرورت کے تحت استوار ہیں لیکن پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کسی نہ کسی درجے باہمی اعتماد کا فقدان رہا ہے۔ امریکہ کے نکتہ نظر سے پاکستان کی اہمیت اُس کے خطے میں اپنی حاکمیت اور وجود برقرار رکھنے کے لئے ایک ضروری ہے جبکہ پاکستان کے لئے امریکہ مالی و اقتصادی معاون سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ دونوں ممالک کے درمیان اگرچہ کبھی بھی مثالی نہیں رہے لیکن اِنہیں منقطع کرنے کا بھی کبھی مرحلہ نہیں آیا۔

امریکہ کی جانب سے مالی سال دوہزار دو سے دوہزار اٹھارہ کے عرصے میں مجموعی طور پر ’33.927 ارب ڈالر‘ بطور ’دفاعی اخراجات‘ ادائیگیاں کی گئیں۔ اِن میں سیکورٹی سے جڑی مدوں میں 8.259 ارب ڈالر‘ اقتصادیات کے لئے 11.095 ارب ڈالر اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اتحادی کے طور پر کردار ادا کرنے اور اِس عرصے میں ہوئے نقصانات کی تلافی کے لئے 14.573ارب ڈالر دیئے گئے۔ یہ تمام ادائیگیاں 28 نومبر 2017ء تک وصول ہوئیں۔ قابل ذکر ہے کہ بطور اتحادی پاکستان کو دی جانے والی ادائیگیاں اُن اخراجات کی مد میں ہوتی ہیں جو پاکستان اتحادی افواج کو سہولیات بہم پہنچانے یا اُن کے مقرر کردہ اہداف کے مطابق (امریکی منظوری سے) عسکری مہمات پر اپنے وسائل سے کرتا ہے اور بعدازاں یہ رقم ادا کی جاتی ہے۔ درحقیقت بطور اتحادی ملنے والی 75فیصد امداد ’اتحادی سپورٹ فنڈ‘ کا حصہ ہوتی ہے جبکہ پچیس فیصد باقی ماندہ امداد اقتصادی امور کے دی جاتی ہے۔

امریکہ اب تک افغانستان میں 714ارب ڈالر خرچ کر چکاہے۔ افغانستان میں امریکہ کی جنگ اُس کی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی ترین مہم ہے۔ لانگ وار جرنل نامی ایک تحقیقاتی اشاعتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ’’طالبان افغانستان کے 45فیصد اضلاع پر یا تو قابض یا وہاں قابض ہونے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔‘‘

پاکستان میں ’’راہ نجات‘‘ نامی فوجی کاروائی کے ذریعے جنوبی وزیرستان (قبائلی علاقے کا) 6ہزار 619 مربع کلومیٹر حصے پر حکومتی عمل داری قائم کی گئی۔ ’’ضرب عضب‘‘ کے نام سے شمالی وزیرستان کا 4 ہزار 707 مربع کلومیٹر حصہ جبکہ بونیر‘ لوئر دیر‘ سوات اور شانگہ میں فوجی کاروائیوں سے بھی اِن علاقوں کو عسکریت پسندوں کی دسترس سے آزاد کرایا گیا جو پھیل چکے تھے۔ پاکستان کا بیانیہ (کہنا) یہ ہے کہ ہمارے ملک کا کوئی ایک بھی ایسا حصہ نہیں جہاں حکومت کی عمل داری قائم نہ ہو اور نہ ہی پاکستان میں ایسا کوئی بھی منظم عسکری گروہ ہے جو کسی ایک جگہ اپنا مرکز رکھتا ہو لیکن بدقسمتی سے پاکستان اپنے اِس بیانئے (مؤقف) کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا‘ جس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں یہ گمراہ کن شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ یہ دہشت گردوں کا مرکز ہے۔

خطرے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے ایک عالمی سازش پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کا ادارہ منظم و فعال ہے لیکن پاکستان کی اقتصادی صورتحال دگرگوں ہے۔ آئندہ بارہ کے دوران پاکستان کو کم سے کم چھ ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہیں یہ وہ ادائیگیاں ہیں جو بیرون ملک قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لئے دینی ہیں۔ توقع ہے کہ رواں برس (دوہزاراٹھارہ) ماہ جنوری سے جون کے عرصے میں پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ قریب 8 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ بائیس دسمبر دوہزار سترہ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 14.1 ارب ڈالر کے ذخائر تھے اور آئندہ چھ ماہ کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس اِس رقم کا بھی نہایت ہی معمولی سا حصہ باقی رہ جائے گا‘ جو خطرناک اقتصادی صورتحال کی جانب بطور اشارہ عرض ہے۔

تصور کیجئے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 35 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ تصور کیجئے کہ پاکستان کے بجٹ کا خسارہ 2.2 کھرب روپے ہو جائے گا اور یہ حقائق امریکہ کے صدر ٹرمپ کے سامنے یقیناًہوں گے۔ مجھے کئی تجزیہ کاروں کو یہ کہتے ہوئے سننے کا اتفاق ہوا کہ پاکستان روس اور چین کے درمیان اقتصادی و دفاعی شعبوں میں اتحاد ہونا چاہئے لیکن کیا ایسا کوئی ممکنہ اتحاد پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کر پائے گا؟ کیا ماضی میں اس قسم کے سہ ملکی اتحاد کی کوششیں نہیں کی گئیں اور ان کا کیا نتیجہ برآمد ہوا۔

تصور کیجئے کہ امریکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک برائے تعمیرو ترقی کی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتا ہے اور اِن مالیاتی اداروں میں امریکہ نے بڑی سرمایہ کاری کے عوض کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ اپنی تجارت ’ڈالر‘ کی بجائے ’یوآن (چینی کرنسی)‘ میں کرنے کا خواہاں ہے لیکن کیا ایسا کرنے سے پاکستان کو قومی سطح پر درپیش آمدن و اخراجات میں (بجٹ) خسارے پر قابو پالیا جائے گا؟

18 دسمبر 2017ء کے روز ٹرمپ نے بطور صدرِ امریکہ اپنی پہلی قومی سلامتی حکمت عملی پیش کی‘ جس میں اُس نے چین کی اقتصادی و تجارتی ترقی کو بھی نشانہ بنایا۔ میرے خیال صدر ٹرمپ پاکستان و افغانستان کی بجائے پاکستان اور چین کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ صورتحال محتاط ردعمل اور حالات پر نگاہ رکھنے کا ہے کیونکہ جب ہاتھیوں کی لڑائی ہوتی ہے تو اُس میں گھاس کچلی جاتی ہے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, December 24, 2017

TRANSLATION: The Yuan by Dr. Farrukh Saleem

The Yuan
ہنس کی چال!
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’پاکستان چین کے ساتھ اپنے تجارتی لین دین کا انحصار امریکی ڈالر سے ختم کر کے چین کی کرنسی ’یوآن (Yuan)‘ پر منتقل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔‘‘ چین کی کرنسی کا نام ’رینمین بی (Renminbi)‘ ہے جسے اصطلاحاً RMB کہا جاتا ہے اور ’یوآن‘ اِس کی ایک ذیلی اکائی (یونٹ) ہے۔ چین کے مرکزی بینک ’’پیپلزبینک آف چائنا‘‘ رینمین بی (کرنسی) سے جڑے معاملات کا نگران ادارہ ہے جیسا کہ پاکستان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان روپے اور غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی جمع پونجی اور روپے کی قدر کا تعین کرتا ہے۔

پاکستان کی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) 283 ارب ڈالر ہے جبکہ عوامی جمہوریہ چین کی قومی پیداوار کا حجم 11 کھرب ڈالر ہے اور ہم پاکستان اور چین کی قومی پیداوار کا موازنہ کریں تو پاکستان کی قومی پیداوار چین کے مقابلے ایک فیصد سے بھی کم یعنی صرف 0.4 فیصد ہے۔ اِسی طرح عالمی برآمدات میں چین کی حصہ داری 16 کھرب ڈالر ہے جس کے موازنہ کرتے ہوئے پاکستان کی برآمدات 0.13فیصد ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان چاہے چین سے اپنے تجارتی سودوں کو امریکی ڈالر سے کرے یا چین کی اپنی کرنسی سے عالمی سطح پر تو کسی کو خاص فرق نہیں پڑے گا نہیں پاکستان کا اپنا خسارہ ہوگا۔ پاکستان کی چین کے ساتھ تجارت 1.8 ارب ڈالر سالانہ ہے اور چین سے پاکستان کو ہونے والی برآمدات کا حجم ’14ارب ڈالر‘ سالانہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 12 ارب ڈالر سالانہ ہے‘ جو کسی بھی طرح معمولی نہیں۔

خطرے کی بات: پاکستان کی عالمی لین دین کا موازنہ اگر چین کے ساتھ ہونے والی تجارت سے کیا جائے تو یہ خسارہ قریب چالیس فیصد بنتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کئی ذرائع سے سے قرض حاصل کرکے چلتی ہے تاکہ تجارتی خسارے کو پورا کیا جا سکے۔ اگر پاکستان یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ ڈالر کی بجائے چینی کرنسی میں تجارت کرے گا تو پھر اُسے تجارتی خسارہ ختم کرنے کیلئے چین سے قرضہ جات حاصل کرنا پڑیں گے‘ جس کا مطلب ہے کہ پاکستان اُن تمام ذرائع سے الگ ہو جائے گا‘ جو فی الوقت اِس کی معیشت و تجارت کو سہارا دیئے ہوئے ہیں۔

خطرے کی بات: چین کے ساتھ تجارت بڑھنے اور چین کی کرنسی میں تجارت کرنے کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ ہم ’اسٹیٹ بینک آف پاکستان‘ کو چین کے عمل دخل میں دے دیں جو ہماری مالیاتی پالیسی پر اثرانداز ہو۔ ایسی کسی صورتحال میں پاکستان سے زیادہ چین کو فائدہ ہوگا۔ 

چین کی ایک عرصے سے کوشش ہے کہ اُس کی کرنسی زرمبادلہ کے ذخائر کے طور پر استعمال ہو کیونکہ ایسا کرنے سے پاکستان میں چین کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری زیادہ محفوظ اور منافع بخش رہے گی جبکہ چین کی خطے میں بالادستی میں بھی اضافہ ہوگا جو ایک اہم جغرافیائی ہدف کے حصول کا ذریعہ ثابت ہوگا اور یہ ہدف حاصل کرنے میں چین کو زیادہ کچھ خرچ کرنا بھی نہیں پڑے گا۔

چین کی کرنسی پر اِنحصار کرنے والے ایک ملک کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ زمبابوے (Zimbabwe) چین کا دوست ملک ہے۔ سال 2010ء سے 2015ء کے درمیان چین نے زمبابوے کو کم شرح سود پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا قرض دیا۔ سال 2015ء میں چین کے صدر ’شی جن پنگ (Xi Jinping)‘ نے زمبابوے کا دورہ کیا اور زمبابوے کے لئے دیئے جانے والے کچھ قرضہ جات کو ختم کردیا‘ جس کا منفی اثر زمبابوے کی اقتصادیات پر پڑا اور اُس کی کرنسی بے قدر ہو گئی۔ 2009ء میں زمبابوے بینک کو ’زمبابوے ڈالر‘ ختم کرنا پڑا۔ جس کی وجہ سے زمبابوے بینک کا ملک کی مالیاتی پالیسی پر کنٹرول مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

پاکستان اور چین کے درمیان ’آزاد تجارتی معاہدہ (فری ٹریڈ ایگریمنٹ)‘ ہے جس کی بنیاد پر پاکستان نے چین کو ’چھ ہزار آٹھ سو تین‘ اشیاء (مصنوعات بشمول الیکٹرانکس‘ مشینری‘ کیمیکل اور دیگر اشیاء) پر تجارتی رعائت دے رکھی ہے اِس رعائت سے پاکستان کے مقابلے چین کی صنعتیں اور ملک سراسر زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ قریب چھ برس قبل چین اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ سوال یہ ہے کہ آخر چین پاکستان سے مزید کیا چاہتا ہے؟ کیا یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ وہ ایک متوازی و متبادل کے طور پر دوسری کرنسی پر انحصار کرے؟ ممالک اپنی اپنی کرنسی کی حفاظت کرنے کے لئے سخت جدوجہد کرتے ہیں۔ 

کیا پاکستان کو بھی اپنی کرنسی کی حفاظت اور اپنے مالیاتی مفادات کے تحفظ کے لئے کوششیں نہیں کرنی چاہیءں؟ کیا یہ آسان ہوگا کہ چین کی کرنسی پر تجارتی انحصار منتقل کردیا جائے اور کیا ایسا کرنے سے کیا چین سے زیادہ پاکستان کو فائدہ ہوگا؟ کیا پاکستان کی معیشت و اِقتصادیات کو سہارا دینے کے لئے ایک اُور خواب دیکھا جا رہا ہے یا پھر یہ پاکستان کو اکیسویں صدی عہد غلامی میں دھکیلنے کی سازش ہے؟ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, June 4, 2017

TRANSLATION: Sri Lanka for Sale by Dr Farrukh Saleem

?Sri Lanka for sale
سری لنکا برائے فروخت؟
برطانیہ کے خبررساں ادارے ’بی بی سی‘ نے اُنتیس مئی کو ایک سوال اٹھایا کہ ’’کیا سری لنکا برائے فروخت ہے؟‘‘ اِس سوال کا محرک بی بی سی کی جانب سے کی گئی تحقیق اور حالات کا ایک جائزہ تھا جس میں کہا گیا کہ ’’سری لنکا عوامی جمہوریہ چین کی کمپنیوں کو اجازت دے رہا ہے کہ وہ اُس کے ہاں اثاثے خریدیں جبکہ وہ پہلے ہی چین کی جانب سے لئے گئے قرضہ جات کی ادائیگی میں سری لنکا کو دشواریاں درپیش ہیں۔‘‘ سال 2007ء میں ایگزیم بینک آف چائنا (EXIM Bank of China) نے سری لنکا کی بندرگاہ ’ہمبنٹوٹا پورٹ (Hambantota Port)‘ کی ترقی کے لئے مالی وسائل فراہم کرنا شروع کئے۔ اِس بندرگاہ کا ترقیاتی کام 1.3 ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوا۔ 

چین کے مالی تعاون سے 900 میگاواٹ پیداواری صلاحیت رکھنے والا بجلی گھر (Norochcholai Power Plant) تعمیر کیا‘ جس پر 1.35 ارب ڈالر لاگت آئی۔ سال 2010ء میں بیجنگ نے سری لنکا کو 200 ملین (بیس کروڑ) ڈالر قرض دیا تاکہ وہ ائرپورٹ تعمیر کر سکے۔ سال 2010ء میں چین نے سری لنکا کے لئے مزید 810ملین ڈالر کا قرض دیا۔ سال 2011ء میں ماہندہ راجہ پکسہ (Mahinda Rajapaksa International Cricket Stadium) نامی کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر 700ملین (70کروڑ) روپے سے مکمل ہوئی۔ سال 2013ء میں ہمبنٹوٹا کے نزدیک ’مٹالا راجاپکسہ انٹرنیشنل ائرپورٹ‘ تعمیر کیا گیا جس پر 26 ارب روپے لاگت آئی۔ اِسی عرصے میں ’سدرن ایکسپریس ہائی وے‘ بنائی گئی جس پر 778ارب روپے خرچ آیا۔ ہمبنٹوٹا سپورٹس زون کی تعمیر پر 15ارب روپے لاگت آئی جبکہ سال 2013ء میں چین نے سری لنکا کو 272 ملین ڈالر دیئے تاکہ اِس رقم سے اپنے ہاں ریلوے کا نظام فعال کر سکے۔

سال 2008ء اور سال 2015ء کے درمیان چین نے سری لنکا کو 6 ارب ڈالر بطور امداد اور قرضہ جات کی شکل میں دیئے۔ اگر ہم سال 2017ء کا جائزہ لیں تو ’ہمبنٹوٹا بندرگاہ‘ سے استفادہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح ’راجہ پکسہ نیشنل ٹیلی سینما سے بھی استفادہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مہندہ راجہ پکسہ انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم بھی تیار کر لیا گیا لیکن اس سہولت سے بھی استفادہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ مٹالا راجہ پکسہ انٹرنیشنل ائرپورٹ بھی تیار ہے لیکن اِس سے بھی خاطرخواہ استفادہ نہ ہونے ہی کے برابر ہے۔

لب لباب یہ ہے کہ سری لنکا نے اپنے ہاں ترقی کے لئے چین سے قرض لیا لیکن جو منصوبے مکمل کئے گئے اُن سے استفادہ نہ ہونے کی وجہ سے اب قرض کی اقساط اور اُن پر سود کی ادائیگی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ہمبنٹوٹا بندرگاہ کی تعمیری لاگت کی واپسی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب سری لنکا کی جانب سے قرض کی ادائیگی میں مشکلات درپیش ہیں تو چین نے مذکورہ بندرگاہ کے سات میں سے چار حصوں کو 35برس کے اجارے پر اپنے نام کر لیا ہے۔ اس کے علاؤہ چین نے ہمبنٹوٹا کے علاقے ہی میں 15 ہزار ایکڑ اراضی بھی اجارے پر لے لی ہے۔ سری لنکا کو بجلی کے ایک پیداواری منصوبے (Norochcholai Power Plant) کے لئے حاصل کردہ قرض کی واپسی میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔ 17اپریل 2017ء کو مذکورہ بجلی گھر میں اس حد کی خرابی پیدا ہوئی کہ اِس نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔ سری لنکا چاہتا ہے کہ چین اِس بجلی گھر کا کنٹرول بھی سنبھال لے۔

سری لنکا حکومت کی ایک دہائی سے حکمت عملی رہی کہ وہ قرضہ جات سے ترقی کرے لیکن اب اِن قرضہ جات کی واپسی میں اُسے مشکلات درپیش ہیں اور وہ کوئی ایسا ذریعہ ڈھونڈ رہے ہیں جس سے قرضوں کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔ اِس مسئلے کا حل وزیراعظم رانیل وکرمے سنگھے (Ranil Wickermesinghe) کے نزدیک یہی بنتا ہے کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں کا انتظامی کنٹرول چین کے حوالے کر دے لیکن اطلاعات کے مطابق چین کے سفیر یئی شیان لنگ (Yi Xianliang) نے وزیراعظم کو صاف الفاظ میں اِس چینی مؤقف سے آگاہ کر دیا ہے کہ اُن کا ملک ایسا کرنے کا خواہشمند نہیں اور ہمیں ہمارے پیسے واپس چاہیءں۔ چین سری لنکا کے خالی ائرپورٹس میں دلچسپی نہیں رکھتا۔‘‘

سری لنکا کو اپنے قرضہ جات کی واپسی کا قضیہ درپیش ہے جن کا حجم 58.3 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے اور یہ ملک کی کل خام پیداوار کا 95.4فیصد بنتا ہے جو قرضوں کی ادائیگی میں جا رہا ہے۔ برطانوی خبررساں ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق ایک مچھیرے ارونا روشنتھا (Aruna Roshantha) کا کہنا ہے کہ ’’سری لنکا کے عوام اس بات کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہے کہ اُن کا ملک چین کے حوالے کر دیا جائے اور یہ بات صرف چین تک ہی محدود نہیں بلکہ اگر دنیا کا کوئی بھی دوسرا ملک ایسا کرنا چاہے گا تو سری لنکن اِس اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سری لنکا کی زمین اور اثاثوں کی حفاظت کرے اور انہیں فروخت نہ کیا جائے۔‘‘ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, May 21, 2017

TRANSLATION: Understanding CPEC!

Understanding CPEC
سی پیک خدوخال

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے خدوخال سمجھنے سے پہلے ہمیں عوامی جمہوریہ چین کی ترجیحات اور اقتصادیات سے متعلق اہداف کو سمجھنا ہوگا۔ چین میں محنت کش افرادی قوت (مزدوروں) کی تعداد قریب 80 کروڑ ہے اور چین کی حکومت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ’بے روزگاری‘ ہے۔ چین میں ’اسٹیٹ کپیٹل ازم‘ ہے اور وہاں ’کیمونسٹ پارٹی آف چائنا‘ کی حکومت ہے جس کی پہلی ترجیح مذکورہ افرادی قوت کے لئے روزگار کا بندوبست کرنا ہے تاکہ اقتصادی بحران پیدا ہو نہ جیسا کہ 1989ء میں ہوا تھا جب طلبہ کی قیادت میں ایک احتجاجی تحریک اِس قدر شدت اختیار کر گئی تھی کہ اُس وقت کی حکومت کو ’مارشل لاء‘ نافذ کرنا پڑا تھا۔

سی پیک کا خاکہ اور تصور چین کے دو اداروں کی مربوط سوچ کا عکاس ہے۔ اِن اداروں ’چائنا ڈویلپمنٹ بینک‘ اور ’نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن آف چین‘ کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ پاکستان نہیں بلکہ چین کے (اقتصادی) مفادات کا تحفظ کریں اور چین کی ترقی و مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چین کے پاس خام مال کی کثرت ہے جس میں اسٹیل‘ کوئلہ‘ سیمنٹ‘ ایلومنیم اور فلیٹ گلاس شامل ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ دنیا میں اسٹیل کی مجموعی پیداوار کا پچاس فیصد صرف چین میں پیدا ہوتا ہے۔ چین میں دھاتوں کو پگھلانے اور ان سے مائع دھات سے سلاخیں و دیگر آلات تیار کرنے کی صنعت سے قریب 36لاکھ 30ہزار (3.63 ملین) مزدور وابستہ ہیں۔ چین میں اسٹیل کی سالانہ پیداوار قریب 80کروڑ (800ملین) میٹرک ٹن جبکہ اِس کی مقامی ضرورت 400 میٹرک ٹن ہے۔

چین کے فیصلہ سازوں کے سامنے دو مراحل تھے۔ ایک تو وہ ہرسال 100 ارب ڈالر مالیت کی اضافی اسٹیل برآمد کرنے کے لئے مارکیٹ تلاش کرتے یا پھر اسٹیل (لوہا سازی) کی صنعت سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کا بوجھ حکومت اپنے کندھوں سے اُتار دیتی۔ ذہن نشین رہے کہ افرادی قوت کو بے روزگار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشی عدم استحکام پیدا ہو اور ملک ایک مرتبہ پھر اُحتجاج مظاہروں کی طرف چلا جائے۔ اسی طرح دنیا بھر میں بنائے جانے والے سیمنٹ کا 60فیصد چین میں بنایا جاتا ہے جبکہ چین میں سیمنٹ کی ضروریات تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ اب چین کی حکمراں جماعت کے سامنے ایک اور مشکل یہ تھی سیمنٹ کی پیداواری صلاحیت 390 ملین (اُنتالیس کروڑ) ٹن جو کہ مقامی ضروریات سے زیادہ ہے اُسے کم کیا جائے اور ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو جائے۔

سال 2014ء میں چین کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم سب سے زیادہ یعنی 4 کھرب ڈالر تھا۔ مئی 2017ء میں چین کے پاس غیرملکی ذخائر کا حجم غیرمعمولی کم ہوا جو قریب 3کھرب ڈالر ہوگیا۔ یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہے کہ چین دنیا میں سب سے زیادہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے اور ساتھ ہی چین دنیا بھر میں امریکہ کے سب سے زیادہ اثاثہ جات بھی رکھتا ہے۔ چین کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں قریب 2 کھرب ’امریکی ڈالروں‘ کی شکل میں ہیں جبکہ باقی ماندہ ذخائر میں 2.5فیصد سونے (قیمتی دھات) کی صورت ذخیرہ کئے گئے ہیں۔
چین کی امریکہ اور امریکہ کے اقتصادی نظام میں دو کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری سے سالانہ 1.13فیصد سے لیکر 2.98فیصد منافع حاصل ہو رہا ہے۔ تصور کیجئے کہ جب چین اگر یہی سرمایہ کاری پاکستان میں کرتا ہے تو اُسے کس قدر زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ کوئلے کے ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر ’’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘‘ کی مثال لیں جس میں چینی سرمایہ کاری پر ضمانت دی گئی ہے کہ اُسے مجموعی سرمایہ کاری کا سالانہ 4.5فیصد سے زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ علاؤہ ازیں مذکورہ ’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘ میں سرمایہ کاری پر چین کو 6.21فیصد کے تناسب سے سود بھی ملے گا جبکہ چین ہی کے ایک انشورنس ادارے (چائنا ایکسپورٹ اینڈ کریڈٹ انشورنس کارپوریشن) کو انشورنس پرمیئم سے 7فیصد الگ آمدنی حاصل ہوگی۔ تصور کیجئے کہ چین کو پہلے ہی سال قریب 13فیصد آمدنی ہوگی یعنی اگر چین امریکہ میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اُسے 1.13فیصد کے تناسب سے منافع ملتا ہے لیکن اگر وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اُس کا منافع تیرہ فیصد مقرر کیا جاتا ہے تو چین کے نکتۂ نظر سے کیا یہ گھاٹے کا سودا ہے؟

’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘ سے پیدا ہونے والی بجلی کی طے شدہ قیمت اور چین کو منافع کی ایسی ضمانتیں فراہم کی گئی ہیں جن پر منافع کی شرح کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی اور ایک بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے 
سرمایہ کاروں کا ایک دیرینہ خواب پورا ہو گیا ہو۔ 

’سی پیک‘ کے اثرات سے متعلق 231 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز سے پانچ قسم کے رسک (خطرات یا اندیشے) سامنے آئے ہیں‘ جن میں مخلوط سیاسی حکومتوں کاقیام‘ مذہبی اُور قبائلی نظاموں پر اثرات‘ دہشت گردی اور مغربی مداخلت میں کمی شامل ہیں۔ ’سی پیک‘ کے تحت سرمایہ کاری کرنے کے بعد چینی مفادات و تنصیبات کا تحفظ کرنے کے لئے چینی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی پاکستان آئے گی! اِس منظرنامے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’عالمی سطح پر 176 بدعنوان ممالک‘ کی اُس فہرست پر نظر ڈالیں جس کے مطابق مذکورہ انڈکس میں پاکستان 116ویں جبکہ چین 76ویں نمبر ہے بدقسمتی سے چین اور پاکستان دونوں ممالک میں فیصلہ سازی کے منصب (حکومتی معاملات) میں مالی بدعنوانیوں پائی جاتی ہیں اور چونکہ دونوں ممالک میں قومی وسائل بارے امانت و دیانت کے متعلق تصورات کم وبیش ایک جیسے ہی ہیں اِس لئے یہ ’امکانی امر‘ باعث حیرانی نہیں ہوگا کہ ’سی پیک‘ منصوبوں پر لاگت اصل قیمت سے بڑھا چڑھا کر ظاہر کی جا رہی ہو!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, April 16, 2017

TRANSLATION: Understanding India!

Understanding India
بھارت کی حقیقت!
بھارت گھن راجیہ یعنی ری پبلک آف انڈیا کی سرحدیں چھ ممالک (بنگلہ دیش‘ بھوٹان‘ برما‘ چین‘ نیپال اور پاکستان) سے ملتی ہیں۔ اگر ہم بھارت کے اپنے چھ ہمسایہ ممالک سے تعلقات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے تعلقات کسی بھی ملک سے مثالی نہیں اور وہ ہمیشہ اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتا ہے۔

بھارت بنگلہ دیش تعلقات: بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے مکتی بھانی اور شانتی بھانی نامی تحریک کی پشت پناہی کی۔ ہندو تنظیم ’’بنگا سینا‘‘ ایک عرصے تک بنگلہ دیش میں دہشت گرد کاروائیاں کرتی رہی‘ جن کا مطالبہ تھا کہ بنگالی ہندوؤں کے لئے الگ ملک بنایا جائے۔ بنگلہ دیش فوج کے سابق تھری سٹار‘ لیفٹیننٹ جنرل جہانگیر عالم چوہدری جو کہ بنگلہ دیش رائفلز کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں کے مطابق بھارتی فوج نے ’بنگا سینا‘ کے عسکریت پسندوں کو پشت پناہی کی اور اُن کے مراکز بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں قائم کی گئیں جہاں اُنہیں عسکری کاروائیوں کی تربیت اور اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے حکمت عملیاں دی جاتی تھیں۔ علاؤہ ازیں بھارت نے بنگلہ دیش میں ایک کٹھ پتلی حکومت بھی قائم کر رکھی تھی۔

بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 54 مشترک دریا ہیں۔ بھارت پر بنگلہ دیش کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اُس نے ’فاراکا بیراج (Farakka Barrage)‘ کے ذریعے دریائے گنگا کا پانی کلکتہ کی جانب موڑا جو کہ ’آبی دہشت گردی‘ کے زمرے میں شمار کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کا دعویٰ ہ کہ اُسے دریائے گنگا سے اپنے حصے کا خاطرخواہ پانی نہیں ملتا بالخصوص جب گرم موسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے لیکن جب مون سون بارشوں کا موسم ہوتا ہے تو اُس کے دریاؤں میں بھارت اضافہ پانی چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے اُس کے علاقے زیرآب آ جاتے ہیں اور بڑے رقبے پر کھڑی فصلیں اور تعمیرات تباہ ہو جاتی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے مطابق سال 2001ء سے سال 2011ء کے درمیان بھارت بنگلہ دیش سرحد پر کم و بیش ایک ہزار افراد کو گولی ماری جا چکی ہے اور صورتحال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے سرحدی محافظوں کو حکم ہے کہ بنگلہ دیش کی طرف سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے! بھارت کا بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدی تنازعہ 44 سال پرانا ہے۔ اپریل 2001ء میں بنگلہ دیش کے سرحدی مسلح محافظین ’بارڈر گارڈز بنگلہ دیش‘ اور بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس کے درمیان مسلح تصادم ہوا جو 1971ء کے بعد سے ہونے والا ایسا شدید ٹکراؤ تھا۔ بھارت کا ’میری ٹائم بانڈری‘ اور دیگر ملحقہ علاقوں پر ملکیت کا دعویدار ہے۔

بھارت بھوٹان تعلقات: بھارت نیپال میں ہمیشہ اور صرف کٹھ پتلی حکومت ہی برسراقتدار چاہتا ہے۔ 1975ء میں بھارت نے سیکم (Sikkim) کے سرحدی علاقے میں ایک لاکھ فوجی تعینات کئے اور بعدازاں اس علاقے کو ملک کی بائیسویں ریاست قرار دے دیا۔

بھارت چین تعلقات: خفیہ ادارہ ’را‘ مشرقی ترکستان ( Turkestan) آزادی کی تحریک کی پشت پناہی جاری رکھے ہوئے ہے جو چین کے صوبے سنکیانگ (Xinjang) میں ہے۔ ’را‘ تین دہشت گرد عسکری تنظیموں (ایسٹ ترکستان انڈی پینڈنس موومنٹ‘ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور تحریک طالبان پاکستان) کی مربوط اور باہم رابطہ کاری میں بھی ملوث ہے۔

بھارت کے چین کے ساتھ چار سرحدی تنازعات بھی ہیں۔ اورانچل پردیش اور توانگ کے اضلاع بھارت کے کنٹرول میں ہے لیکن اِن پر چین اپنی ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے اور اِسی طرح اکسائی چن (Aksai Chin) اور شاکسگم وادی (Shaksgam) چین کے کنٹرول میں ہیں اُن کی ملکیت کا دعویٰ بھارت کرتا ہے۔

بھارت نیپال تعلقات: نیپال میں سرگرم عسکری مزاحمت کار گروہ ’موؤسٹ‘ کے بھارت سے کئی تعلقات ہیں۔ اِس بارے میں دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ بھارت کی فوج کے سابق اہلکار اور سابق گورکھا سپاہیوں نے ’مووؤسٹ پیپلز لبریشن آرمی‘ کو عسکری تربیت دی۔

اُنیس سو باسٹھ میں بھارت کی ’اِنڈو بارڈر پولیس‘ نے کالاپ نائی (Kalapnai) کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا جس کی ملکیت کا دعویٰ نیپال کرتا ہے۔ بھارت کا 35 ہزار ایکٹر کے نیپالی علاقے سستا (Susta) پر ملکیت کا دعویٰ بھی ہے۔

بھارت پاکستان تعلقات: 1984ء سے 2004ء تک‘ بھارت اِس کوشش میں رہا کہ پاکستان کو دو حصوں میں توڑ دے لیکن اپنی اِس خواہش اور کوششوں کی نامرادی و ناکامی کے بعد بھارت کی فوجی قیادت نے ایسے عناصر کی پشت پناہی شروع کردی جو پاکستان کے داخلی ریاستی مفادات پر حملہ آور ہوں۔ اِس حکمت عملی کے بھی جب خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہوئے تو علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی‘ دی بلوچستان ری پبلکن آرمی‘ تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی کو اپنی مہمات کے مالی وسائل فراہم کرنا شروع کر دیئے۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان میں اُس کی کٹھ پتلی حکومت قائم ہو۔ بھارت ایک محکوم و غلام پاکستان چاہتا ہے۔ بھارت ایک ایسا پاکستان چاہتا ہے جو اُس پر انحصار رکھتا ہو۔

بھارت کی تاریخ رہی ہے کہ وہ اپنے چھ میں سے پانچ ہمسایہ ممالک میں علیحدگی پسند تحریکیوں کی مختلف طریقوں سے ایک جیسے مذموم مقاصد کے لئے حمایت کرتا رہا ہے۔ ’را‘ بھارت کے چھ ہمسایہ ممالک میں سے کم سے کم پانچ میں دہشت گردی‘ عسکریت پسندی اور باغی تحریکیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
سری لنکا کی خانہ جنگی (سول وار) کے دوران بھارت نے تامل ایلام (Tamil Elam) کے ’لبریشن ٹائیگرز‘ کو تربیت دی جنہوں نے اپنے ہی ملک (سری لنکا) کے 23 ہزار 327 باشندوں کو قتل جبکہ دہشت گرد حملوں میں 60 ہزار افراد کو زخمی کیا۔ اِسی طرح بنگلہ دیش میں ’را‘ نے دہشت گرد تنظیموں ’مکتی باہنی‘ اُور ’شانتی باہنی‘ کی پشت پناہی کی۔ تبت (Tibet) میں بھارت نے ’خامپا (Khampa)‘ باغیوں کو عسکری تربیت دی اور اِن سبھی کاروائیوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ بھارت خطے میں اپنی بالادستی اور تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)