Showing posts with label Pak China Friendship. Show all posts
Showing posts with label Pak China Friendship. Show all posts

Friday, October 1, 2021

China Foundation Day 2021

ڑرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

چین‘ یوم جمہوریہ: بے مثل ترقی کا سفر

چین کی آزادی اور ترقی کا سفر جس ایک فیصلے پر پختگی و سختی سے عمل کا نتیجہ ہے۔ اس میں ’روائتی طرز ِحکمرانی‘ کو ’عوامی جمہوریہ‘ سے بدلا گیا جس کے بعد چین کے 72 سالہ سفر (یکم اکتوبر 1949 سے یکم اکتوبر 2021) میں ’عوامی جمہوریہ چین‘ نے ایک سے بڑھ کر ایک سنگ ِمیل عبور کئے اور ان کارہائے نمایاں میں سب سے اہم ”انتہائی غربت میں غیرمعمولی کمی“ ہے جبکہ حاصل مطالعہ چین کی قومی ترجیحاتی حکمت ِعملی کے 3 پہلو ہیں۔ 1: ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی اور سرمایہ کاری۔ 2: پیداواری صلاحیت میں اضافے سے اِقتصادی نمو۔ 3: عالمی سطح پر سیاسی و سفارتی اثرورسوخ اور تجارتی روابط بڑھانے کے نئے امکانات کی تلاش اور بہتر سے بہتر کی جستجو (جہد ِمسلسل)۔ اِن تینوں شعبوں اور امور میں قومی فیصلہ ساز کس حد تک کامیاب و کامران رہے اِس بات کا اندازہ چین کی ترقی کے اقتصادی اعشارئیوں سے متعلق اعدادوشمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ تعجب خیز ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ 2019سے دنیا کی ہر چھوٹی بڑی معیشت کورونا وبا کے دباؤ میں ہے لیکن چین کی سالانہ شرح نمو میں اضافہ ہو رہا ہے جو سالانہ 100کھرب یوآن تک جا پہنچی ہے اور چین میں فی کس اوسط آمدنی 10 ہزار امریکی ڈالر ہے۔ ذہن نشین رہے چین کی کرنسی یوآن کا پاکستانی روپے سے شرح تبادلہ 31 اگست2021کے روز 25 روپے پچاس پیسے جبکہ 30 ستمبر 2021کے روز 26 روپے 25 پیسے رہا یعنی پاکستانی روپے کے مقابلے چین کی کرنسی کی قدر میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے۔

چین کے موجودہ صدر ڑی جن پنگ (Xi Jinping) نومبر 2012ئ سے حکمراں جماعت چائنیز کیمونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور صدارتی عہدے فائز ہیں اور اِس عرصے میں پہلے دن انہوں نے 10 کروڑ (100ملین) لوگوں کو خط ِغربت سے بلند کرنے کے جس عزم کا اظہار (قوم سے وعدے کی صورت) کیا تھا ا±سے عملاً پورا کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے کہ اِنسانی تاریخ میں اِس جیسی ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی کہ جہاں کسی قوم کے 98 فیصد غریبوں کی مالی حالت تبدیل ہو گئی ہو! ذہن نشین رہے کہ ’خط ِغربت‘ کسی ملک میں ایسے افراد کی تعداد کا تعین کرتا ہے جن کی یومیہ آمدنی 2.30 (ڈھائی) امریکی ڈالر یومیہ سے کم ہو۔ چین میں غربت اِس کے شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں زیادہ تھی۔ چین نے پہلا کام یہ کیا کہ خط ِغربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد معلوم کرنے کے لئے عالمی پیمانے (ڈھائی ڈالر یومیہ آمدنی) کو مزید کم کر کے 1.90 ڈالر یومیہ آمدنی کے حساب سے آبادی کی تعداد معلوم کی اور دوسری خاص بات یہ رہی کہ غریبوں کو نقد مالی اِمداد دے کر مصنوعی طریقے سے خط ِغربت سے بلند نہیں کیا گیا بلکہ روزگار کی فراہمی اور ہنرمندی کے ذریعے اِنہیں معاشرے کا فعال رکن بنایا یعنی روزگار کی فراہمی سے معیشت و معاشرت کو مستحکم کیا۔ ذہن نشین رہے کہ ”یومیہ ایک اعشاریہ نوے امریکی ڈالر“ کا پیمانہ عالمی بینک کا وضع کردہ ہے جس کی پاکستانی روپے میں قدر قریب 327 روپے بنتی ہے یعنی ہر وہ شخص جس کی یومیہ آمدنی تین سو ستائیس روپے یا اِس سے کم ہے وہ ’خط ِغربت‘ سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ 1990میں 75 کروڑ (750 ملین) چینی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے جبکہ 2012 میں یہ تعداد کم ہو کر 9 کروڑ (90ملین) ہو گئی اور 2016 میں مزید کم ہو کر 72لاکھ (7.2 ملین) رہ گئی جو چین کی کل آبادی کا صفر اعشاریہ پانچ فیصد ہے یعنی چین کی کل آبادی کا صرف 0.5 فیصد خط غربت سے نیچے ہیں۔ اِن اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں 30 سال پہلے جو 74 کروڑ 50 لاکھ انتہائی غریب لوگوں رہتے تھے‘ ان میں سے آدھ فیصد ہی انتہائی غریب رہ گئے ہیں۔ چین نے انتہائی غربت کم نہیں کی بلکہ اِس کا عملاً اِنسداد کیا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر پاکستان کے فیصلہ سازوں کو بالکل اسی چین کے طوطے کی طرح سبق سیکھنا چاہئے جو ایک فرضی کہانی کا کردار ہے کہ پنجرے میں بند چین کے ایک طوطے کا پیغام سن کر کس طرح اس کے ہم جنس نے قید سے رہائی حاصل کی اور اگر پاکستان کے قومی فیصلہ ساز متوجہ ہوں اور چین کی دوستی پر فخر اور ناز کرتے ہوئے صرف یہ کہنے پر اکتفا نہ کریں کہ پاک چین دوستی سمندروں سے زیادہ گہرائی‘ ہمالیہ پہاڑی سلسلے سے زیادہ بلند و مضبوط اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے تو یقینا ایسا ہی ہوگا لیکن اصل چیز چین سے تعمیروترقی اور غربت کو شکست دینے کے اس عمل کے مطالعے اور تجربے سے فائدہ اٹھانا ہے جس نے چین کی حکمرانی کو جغرافیائی سرحدوں سے آزاد کیا ہے اور آج دنیا کی کوئی ایسی معیشت‘ کوئی ایسی ترقی اور کوئی ایسی سیاسی و سماجی حکمت ِعملی (لائحہ عمل) نہیں جس پر چین کے اثرات‘ چھاپ یا تحقیق و ترقی کا عمل دخل نہ ہو۔

جون 2021 میں مرتب کردہ عالمی اعدادوشمار جو کہ عالمی بینک کے مرتب کردہ ہیں کے مطابق سال 2021-22 کے دوران پاکستان میں انتہائی غربت زدہ افراد کی تعداد 39.3 فیصد ہے جو سال 2022 میں بھی کم و بیش یہی رہے گی جبکہ موجودہ حکومت کی معاشی اصلاحات کا تسلسل رہا تو عالمی بینک کے مطابق سال 2022-23 کے دوران انتہائی غربت زدہ افراد کی تعداد کم ہو کر 37.9فیصد ہو جائے گی۔ تصور ممکن نہیں کہ ہر 100 پاکستانیوں میں سے 37 افراد ایسے ہیں جن کی یومیہ آمدنی ان کے 3 وقت کی کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ تعلیم و علاج معالجے سے محروم ہیں اور بنیادی انسانی ضروریات نہیں رکھتے۔ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان میں غربت کے اعدادوشمار کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ ہر سال ساڑھے چار سے ساڑھے پانچ فیصد غریبوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ چین نے غربت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے زرعی شعبے اور ان قدرتی وسائل کو ترقی دی‘ جس روائتی انداز کے سبب منافع بخش نہیں رہی تھی۔ یہی آج کے پاکستان کا بھی مسئلہ ہے کہ ہم ’زرعی ملک‘ تو ہیں لیکن زراعت اور زرعی معیشت و معاشرت وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ترقیاتی ترجیحات کا حصہ نہیں ہے۔ دعوت ِفکر ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی صداحترام قیادت اور باشعور عوام کو ’یوم ِجمہوریہ‘ کے موقع پر ڈھیروں ڈھیر مبارکبادیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے چین کی ترقی کے 3 بنیادی پہلوؤں (ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی اور سرمایہ کاری۔ 2: پیداواری صلاحیت میں اضافے سے اِقتصادی نمو۔ 3: عالمی سطح پر سیاسی و سفارتی اثرورسوخ اور تجارتی روابط کے نئے امکانات کی جستجو و تلاش) کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات بھی فراموش نہ کی جائے کہ چین نے علم و عمل کی بنیاد پر ترقی و ارتقا حاصل کیا ہے اس میں اپنی زبان اور تاریخ و ثقافت کو فراموش نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ چین کی حکمرانی اِس کی جغرافیائی سرحدوں میں محدود نہیں رہی بلکہ وہ دوستی کی علامت اور امن و ترقی کی عالمی شراکت دار بن چکا ہے۔ چین کی کامیابیوں میں پاکستان کے دیرینہ مسائل (بحرانوں) اور انسداد ِغربت کا راز (حل) پوشیدہ ہے لیکن کوئی ہے کہ جو غور کرے؟ ”میں چاہتا تھا کہ دنیا کو تیرے جیسا لگوں .... سو تیرے قول و عمل کی مثال ہونے لگا (یاور عظیم)۔“

....






Tuesday, October 31, 2017

Oct 2017: Chinese language teaching - a way forward!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
زبانِ یار ۔۔۔!
’پلاننگ کمیشن آف پاکستان‘ نے رواں برس ماہ جون کے پہلے ہفتے جاری کئے اعدادوشمار میں کہا تھا کہ ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے‘‘ کے تحت ’’تیس ہزار پاکستانیوں (ترجیحی بنیادوں پر انجنیئروں‘ راج اور مزدوروں) کے لئے ملازمتی مواقع پیدا ہوں گے۔‘‘ جبکہ مزدوروں کی عالمی تنظیم (انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں ’سی پیک‘ سے ملازمتی مواقعوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ‘ جن میں براہ راست ایک لاکھ سے زیادہ ملازمتیں شامل ہوں گی۔‘‘ اگرچہ ’سی پیک‘ کے حوالے سے حکومتی دستاویزات ’سراپا راز (خاموش‘ ہیں جن تک کسی وجہ سے عام آدمی (ہم عوام) کو رسائی نہیں دی گئی لیکن مختلف مواقعوں پر حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے بیانات سے معلوم ہوا ہے کہ ’سی پیک‘ منصوبوں میں چین کے لوگوں کا مقررہ ملازمتی کوٹہ ’’پچیس فیصد‘‘ سے کم ہوگا۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ’سی پیک‘ ہی سہی لیکن کسی طور پاکستان میں لاکھوں ملازمتی مواقع پیدا ہوں گے.

خیبرپختونخوا ’سی پیک‘ کا گیٹ وے ہے اور یہیں سے گزرنے والی راہداری سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے پاکستان کی اقتصادی قسمت بدل کر رکھ دینی ہے‘ اِسی لئے ’خیبرپختونخوا‘ کے لئے ’سی پیک‘ سے مستفید ہونے کے اِمکانات دیگر صوبوں کے مقابلے زیادہ ہیں! لیکن کیا خیبرپختونخوا ’سی پیک‘ سے کماحقہ فائدہ اُٹھانے کی خواہش کے ساتھ اِس سے عملی طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے بھی تیار ہے؟کیا ہمارے پاس ایسی افرادی قوت موجود ہے جو چینی کمپنیوں کے معیار پر پورا اُترے یا ہمارے ہنرمندوں کو چینی زبان کے چند ایک بنیادی اصولوں سے ہی واقفیت ہے اور اُن کے لئے کم سے کم یہ بات ممکن ہے کہ وہ چینی باشندوں کے نام صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کر سکیں؟ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں انگریزی زبان (انگلش میڈیم آف ایجوکیشن) پر ’حد سے زیادہ اِنحصار (بھروسہ)‘ کیا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ بھی سمجھ آتی ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا سمیت جدید علوم اور بالخصوص سائنس کے میدان میں انگریزی کتب کی تعداد اور دستیابی آسان ہے لیکن یہ مفروضہ قائم کر لینا کہ بناء ’’انگریزی دانی‘‘ جدید عصری علوم حاصل ہی نہیں کئے جا سکتے‘ ایک مغالطہ (اصلاح طلب تاثر) ہے کیونکہ امریکہ کے علاؤہ دنیا کی چار دیگر ’عالمی طاقتیں (سپرپاورز)‘ چین‘ روس‘ فرانس اور جرمنی میں درس و تدریس مادری زبانوں میں رائج ہے اور یہ اقوام مادری زبانوں ہی کے بل بوتے پر خلاؤں میں نئے جہاں تلاش کرنے کے علاؤہ صنعتی ترقی‘ تحقیق و ایجادات کے نت نئے بلند معیار بھی تخلیق کر رہی ہیں۔

لائق داد و تذکرہ ہے کہ ۔۔۔ خیبرپختونخوا حکومت نے ’سی پیک‘ کے ثمرات بالخصوص ملازمتی مواقعوں سے خاطرخواہ استفادہ کرنے کے لئے ’تکنیکی و فنی علوم کے مراکز (ٹیکنیکل ایجوکیشن سنٹرز) میں ’چینی زبان‘ کی کلاسیز کے اجرأ کا فیصلہ کیا ہے۔ ’مختصر مدت کے یہ تربیتی مواقع (شارٹ کورسیز)‘ طلباء و طالبات کو اِس قابل بنا دیں گے کہ وہ چینی زبان میں عمومی بول چال کر سکیں یا سمجھ سکیں اور درست تلفظ میں چینی ناموں کی ادائیگی اُن کے لئے ممکن ہو۔ اِس ’عظیم منصوبے‘ کے حکومتی سطح پر آغاز سے قبل نجی اِداروں نے چینی زبان کے عملی استعمال کے مختصر کورسیز کا اجرأ پہلی ہی اپنی مدد آپ کے تحت کر رکھا ہے اور خیبرپختونخوا کے مختلف (سی پیک سے متعلقہ) اضلاع بشمول پشاور‘ نوشہرہ‘ ایبٹ آباد‘ مانسہرہ‘ ہری پور‘ ڈی آئی خان کے علاؤہ بھی مختلف شہروں میں ’تربیتی مراکز (کوچنگ اکیڈمیز و سنٹرز)‘ انگریزی بول چال کے ساتھ چینی زبان کی تعلیم بھی دے رہے ہیں جہاں تین سے چھ ماہ کے ایک کورس کی اوسط فیس ’ماہانہ تین سے پانچ ہزار روپے‘ مقرر ہے۔ اِن نجی کوچنگ سنٹرز میں سکھائی جانے والی چینی زبان کتنی معیاری ہے اِس پر نظر رکھنے والا کوئی نہیں اور لازم ہے کہ اِس تبدیلی کا صرف مشاہدہ نہ کیا جائے بلکہ اِسے مفیدعام بنانے کے لئے نجی اداروں کی زیادہ سے زیادہ سرپرستی کی جائے۔

خیبرپختونخوا کے ’’ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ وکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹویٹا)‘‘ کے ایک ذمہ دار کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق ’ٹیکنیکل ایجوکیشن‘ کے ساتھ چینی زبان کی تعلیم شروع کرنے کامقصد یہ ہے کہ ہمارے ہنرمند ’سی پیک‘ کی ذیل میں ملازمتی مواقعوں سے حسب تعلیم و مہارت فائدہ اُٹھا سکیں۔‘‘ لیکن ’’پاک چین دوستی‘‘ کو ایک تنظیم سے تحریک میں تبدیل کرنے والے سیّد علی نواز گیلانی سمجھتے ہیں کہ ’’درحقیقت دیگر زبانوں کے مقابلے چینی زبان‘ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک تہذیب و ثقافت اور فکروعمل کا نام بھی ہے۔ چین محنت کش قوم ہے۔ جن کی زبان سیکھنا ہی اِس بات کی ضمانت (کافی) نہیں ہوگا کہ ہمارے نوجوانوں کو ملازمتی مواقع اور حسب خواہش ترقی ملے گی بلکہ اِس کے لئے اپنے آپ کو مٹا دینے والی محنت کرنا ہوگی اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے‘ نصاب تعلیم کے اسباق کی حد تک محدود ہیں اور وہ طلبہ (نوجوانوں) میں جستجو پیدا نہیں کرتے۔ اُنہیں محنت کی عظمت‘ کردار اور اپنے کام سے لگن جسے عشق کہا جائے پیدا نہیں کر پا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ذہین نوجوان ہنرمند ہونے کے باوجود بھی بڑی تعداد میں بیروزگار ہیں‘ جبکہ اُنہیں محنت کرنے میں بھی عار محسوس ہوتی ہے۔ جب تک صوبائی حکومت اِس معاشرتی و سماجی خرابی کو دور نہیں کرے گی‘ جس کا تعلق نصاب تعلیم‘ نفسیات اور علاقائی رسم ورواج سے بھی ہے اُس وقت تک ’سی پیک‘ منصوبے ہوں یا عملی زندگی کے دیگر محاذ‘ ہمارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا نہیں منوا سکیں گے۔‘‘ 

ایک سوال کے جواب میں علی نواز گیلانی نے اِس اندیشے کا اظہار بھی کیا کہ اگر وفاقی اُور خیبرپختونخوا حکومتوں نے ’چینی زبان‘ اور ’چین شناسی‘ سے نئی نسل کو آگاہ کرنے کے لئے مربوط و مسلسل کوششیں نہ کیں تو مجبوری ہوگی کہ زیادہ تعداد میں چین کی افرادی قوت پاکستان میں ملازمتوں پر فائز دکھائی دے‘ لہٰذا ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ جس طرح چین کی حکومت اور وہاں کے اِداروں نے ’سی پیک‘ کو سنجیدگی سے لیا ہے‘ ہمارے فیصلہ ساز بھی اپنی اپنی ترجیحات کا اَزسرنو تعین کریں اور بناء تاخیر ’چینی زبان‘ کو بطور مضمون نصاب تعلیم میں شامل کریں۔ 

یکساں اہم ہے کہ چینی زبان کو صرف ٹیکنیکل اِداروں کی حد تک ہی محدود نہ رکھا جائے۔‘‘علی نواز گیلانی نے انگریزی زبان پر بڑھتے ہوئے انحصار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجویز کیا کہ ’’پاکستانی طلباء و طالبات کے وفود کو گرما اور موسم سرما کی تعطیلات کے دوران چین کے دوروں پر بھیجا جائے تاکہ وہ چین کی ترقی اور معاشرے کا قریب سے مشاہدہ کرسکیں۔ انہوں نے پاک چین تعلیمی اِداروں کے آپسی رابطوں اور وفود کے تبادلوں کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ ’’اِس میں ذرائع ابلاغ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا (ٹیلی ویژن اور ریڈیو) کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اگر برطانوی اور امریکی نشریاتی ادارے ’اردو زبان‘ میں اپنے پروگرام ہمارے ٹیلی ویژن چینلز پر نشر کر سکتے ہیں تو یہی رابطہ کاری ’’چینی اُردو زبانوں‘‘ میں کیوں ممکن نہیں؟‘‘ 

پاک چین دوستی صرف رسمی نام (سماعتوں کے لئے خوشگوار نعرہ) نہیں بلکہ وقت کی نہایت ہی اہم ضرورت ہے اور ایک ایسی حاجت بھی ہے جس سے انکار کسی بھی صورت پاکستان کے ’وسیع تر قومی مفاد‘ میں نہیں!
۔