Showing posts with label Trade Deficit. Show all posts
Showing posts with label Trade Deficit. Show all posts

Saturday, March 3, 2018

Mar 2018: Pakistan Turk Free Trade Agreement - a mirage!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ایک ہاتھ کی تالی!
پاکستان کی کوشش ہے کہ ترکی کے ساتھ ’’آزاد تجارت کا معاہدہ (فری ٹریڈ ایگریمنٹ)‘‘ کی ایک مرتبہ پھر توثیق ہو جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارت کا حجم جو کہ 5 ارب ڈالر ہو سکتا ہے اُسے سال 2022ء تک 10 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکے۔ اِس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل فروری 2015ء سے جاری ہے جبکہ اکتوبر 2015ء میں انقرہ اجلاس اہم پیشرفت تصور ہوتی ہے لیکن اِن تمام کوششوں کا حاصل (لب لباب) یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان اور ترک حکام اِس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ دوطرفہ تجارت پر عائد 85 فیصد اخراجات (محصولات) کم کئے جائیں لیکن جس قدر گرمجوشی پاکستان کی جانب سے دیکھنے میں آ رہی ہے‘ ترک حکام اُس قدر مہربانی کا مظاہرہ نہیں کر رہے‘‘ اُور یہی وجہ ہے کہ وزارت تجارت نے وفاقی کابینہ سے پاکستانی مصنوعات پر ترکی میں ڈیوٹی کی کمی یا پھر پاکستان کی یورپی نظام کے تحت ترجیحات کے عمومی نظام کی حیثیت میں توسیع کے معاملے کو لیکر ترک حکام پر زور دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارتِ تجارت نے وفاقی کابینہ کو باقاعدہ طور پر اس بات سے بھی آگاہ کیا ہے کہ ایسے ترقی پذیر ممالک جو ترجیحات کے عمومی نظام کی حیثیت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں‘ ان میں سے ترکی نے پاکستان اور ارمانیہ کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو توسیع دینے سے انکار کردیا ہے اُور ضرورت اِس امر کی ہے کہ ترک حکومت سے پاکستانی مصنوعات پر دی جانے والی بھاری اضافی ڈیوٹی ختم کرانے کے لئے بات چیت کی جائے۔

فروری دوہزارپندرہ سے اب تک اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان ہونے والے ’’آزاد تجارتی معاہدے‘‘ کے لئے مذاکرات میں متعدد مرتبہ اضافی ڈیوٹی کے مسئلے کو اجاگر کیا گیا تاہم اس معاملے میں اب تک خاطرخواہ پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ پاکستان نے اپنے حصے کی رعائت تو دے دی جس سے ترکی فائدہ بھی اٹھار رہا ہے لیکن پاکستان کو برآمدات بڑھانے میں خاطرخواہ فائدہ نہیں ہورہا۔ اِس وقت جو پاکستانی مصنوعات زیرِبحث ہیں‘ اِن میں ٹیکسٹائل‘ کارپٹ‘ ہاتھوں سے بنے فائبر‘ پلاسٹک اور جوتے وغیرہ شامل ہیں۔ اِن مصنوعات پر بیس سے پچاس فیصد تک ڈیوٹی مقرر ہے جبکہ مجموعی طور پر اِن اشیاء پر 28 سے67فیصد کی ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے جبکہ ان کے ساتھ دیگر (اضافی) محصولات بھی لاگو ہوتے ہیں۔ ترک حکام کی جانب سے اس قدر بھاری ڈیوٹیز کے نیتجے میں سال دوہزارگیارہ سے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں کمی ہو رہی ہیں اور یہ کمی قریب ستر فیصد جیسی غیرمعمولی ہیں‘ جو سات برس قبل 90کروڑ 60لاکھ ڈالر تھیں اور گزشتہ مالی سال تک کم ہوکر 28کروڑ 20لاکھ ڈالر رہ گئیں ہیں۔ وزارتِ تجارت کے نظر میں ترک حکومت پابند ہے کہ وہ پاکستان کی آزاد تجارتی حیثیت بحال کرے کیونکہ وہ خود بھی یورپی یونین کی کسٹم یونین کا سابق رکن ہے۔ یہی وہ مطالبہ ہے جو 2017ء میں ترک حکام سے کیا جاچکا ہے تاہم اس معاملے میں مذاکرات کی بجائے ’’آزاد تجارتی معاہدے‘‘ کی تجویز سامنے آئی۔ گزشتہ برس جون میں اِسی معاہدے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں پاکستان نے ترکی سے مطالبہ کیا کہ اِس کی خصوصی حیثیت میں توسیع کی جائے یا پھر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ٹیکس کے حوالے سے رعایت دی جائے۔ مذکورہ میٹنگ میں ترکی نے دوہزار گیارہ میں نافذ ہونے والی اضافی پچیس فیصد ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز پیش کی تھی‘ جو پانچ سال کے لئے تھی جبکہ دیگر مصنوعات کے لئے گیارہ سال تک توسیع کے امکان کو رکھا گیا تھا لیکن پاکستان نے ترکی کی اِس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ترک حکام پر زیادہ سے زیادہ نرمی دکھانے کی ضرورت پر زور دیا تھا لیکن اگر حالیہ کوششیں بھی ناکام ہو جاتی ہیں تو اس کے بعد پاکستان درآمد ہونے والی ترک مصنوعات پر بھی اضافی ٹیکس لاگو کرنے کے سوا کوئی دوسری صورت باقی نہیں رہے گی‘ جس کے لئے ترکی ذہنی طور پر تیار دکھائی دیتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اُس کے لہجے میں سختی کا عنصر یوں غالب دکھائی نہ دے رہا ہوتا۔ گزشہ برس دسمبر میں آزاد تجارتی معاہدے سے علیحدگی کے بعد ’پاکستان اور ترکی کے درمیان جوائنٹ ورکنگ گروپ‘ کا اجلاس ہوا‘ جس میں یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر اٹھایا گیا لیکن نتیجہ خیز نہیں رہا۔ مذکورہ مذاکرات میں ترک حکام نے واضح کیا تھا کہ ’’ترکی ان ممالک کو ’آزاد تجارتی حیثیت‘ نہیں دے گا جو پہلے ہی اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔‘‘ ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ہونے والے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی اُو) اجلاس کے موقع پر بھی پاکستان کی جانب سے ترکی کو منانے کی کوششیں رائیگاں رہیں۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان اب تک آزاد تجارت کے معاہدے سے متعلق جو پہلے دوہزار سولہ میں ہونے تھے انہیں دوہزارسترہ میں ہونا طے (شیڈول) کیا گیا اور ابھی بھی دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر بات چیت کے لئے مذاکرات متوقع نہیں۔ 

حقیقت حال تو یہ ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان گرمجوش تجارتی تعلقات ’ایک ہاتھ سے تالی بجانے کی کوشش‘ ہے۔ ترک دو طرفہ تجارت اور آزاد تجارت کی بجائے یک طرفہ برآمدات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ 

عالمی سطح پر پاکستان سے محبت کا اظہار کرنے والے ممالک کی کمی نہیں لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اپنے قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کو موجودہ اقتصادی مشکلات سے نکلنے میں مدد فراہم کرے۔ پاکستان کو درپیش دوسرا اہم مسئلہ مصنوعات کے معیار کا بھی ہے۔ 

ترک مصنوعات معیار میں بہتر ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں اپنا مقام رکھتی ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قابل بھروسہ ’میڈ اِن پاکستان (Made in Pakistan)‘ اور ’میک اِن پاکستان(Make in Pakistan)‘ جیسے انقلابی اقدامات کئے جائیں تاکہ پاکستانی مصنوعات کی منڈیوں میں مانگ اور فوری کھپت ممکن ہو۔ تجارت بڑھانے کا کوئی بھی دوسرا ذریعہ (شارٹ کٹ) کامیاب نہیں ہو سکے گا کیونکہ توانائی بحران‘ اِقتصادی مسائل اور پاکستانی کرنسی پر دباؤ کے علاؤہ مہنگائی جیسے اسباب پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں مقابلے کے قابل نہیں بنا پا رہیں۔ دوست ممالک سے توقعات وابستہ کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن خوش فہمی کی بجائے حقیقت حال کا ادراک ضروری ہے کہ اقتصادی مشکلات کی موجودہ گھڑی میں پاکستانی برآمدات کو سہارا دینے کوئی نہیں آئے گا‘ جب تک ہم خود اپنی خامیوں اور کمیوں کو دور نہیں کرتے۔
۔

Sunday, January 14, 2018

TRANSLATION: Without the US? by Dr. Farruhk Saleem

?Without the US
بناء اَمریکہ‘ خوداِنحصاری؟

پاکستان بھکاری نہیں لیکن اِسے بھکاری بنایا گیا ہے۔ پاکستان غریب نہیں لیکن اِس کی دولت اور قومی وسائل ایک منظم سازش کے تحت غصب کئے جا رہے ہیں۔ 

پاکستان ایک زرخیز ملک ہے۔ اس کی زمینیں اور یہاں کے رہنے والوں کے ذہن زرخیز ہیں۔ پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا اور نوجوان ملک ہے کیونکہ اِس کی 63 فیصد آبادی کی عمر پچیس سال سے کم ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسے ہاتھوں (افرادی قوت) کی کمی نہیں جو پاکستان کو خوشحال اور خودمختار و آزاد رکھنے کے لئے کام کر سکتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ پاکستان کی 63فیصد آبادی حکومت پر بوجھ نہیں بلکہ وہ اپنی جسمانی طاقت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر قومی ترقی میں کردار ادا کرسکتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے وسائل اور دستیاب افرادی قوت سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور اِس فائدہ نہ اٹھانے کے پیچھے جو واحد محرک کارفرما رہا وہ سیاسی فیصلہ سازوں کی نااہلی رہی۔ جنہوں نے پاکستان کی ترقی کو ہر بات سے زیادہ مقدم نہیں سمجھا۔ 

پاکستان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اگر کچھ نہیں تو اِس کی وجہ منصوبہ بندی کا فقدان‘ منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے میں کوتاہی‘ قرض لینے جیسے آسان فیصلے‘ معیشت کی نظرانداز ترقی اور خوشحالی جیسے محرکات شامل ہیں جن کی اصلاح ممکن ہے۔

پاکستان کو لاحق سب سے بڑا خطرہ اقتصادیات کا ہے اور اِس اقتصادی خطرے کے دو حصے ہیں۔ ایک قومی آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن (بجٹ خسارہ) اور دوسرا قومی برآمدات اور درآمدات میں عدم توازن (تجارتی خسارہ) اور انہی دو خطرات کے باعث پاکستان کو بھکاری بنا دیا گیا۔ انہی کے باعث پاکستان کی قومی دولت لوٹ لی گئی! مالی سال 2017-18ء کے دوران مالی خسارہ 1.5 (یعنی ڈیڑھ) کھرب روپے کے مساوی ہو چکا ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ ہر پاکستانی فرد اور خاندان کو اپنی بقاء کے لئے سالانہ پچاس ہزار روپے بھیک مانگنا پڑتی ہے!

پاکستان کو قرض دینے والے ممالک اور مالی امدادی اداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے جن سے قومی آمدنی میں اضافہ ہو لیکن یہ تجربہ اور خواہش ہر مرتبہ ناکام ثابت ہوتی ہے اور قومی اداروں کی کارکردگی قومی خزانے پر سوائے بوجھ کے کچھ نہیں۔ تصور کیجئے کہ پاکستان میں بجلی کا پیداواری شعبہ سالانہ 400 ارب روپے کا خسارہ کر رہا ہے۔ قومی ترقی کے لئے سالانہ 600 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن یہ ترقی حاصل نہیں ہو سکی ہے اور کاموڈیٹی آپریشنز کا قرض 400 ارب روپے کے مساوی ہوتا ہے۔ صرف اِن چار مدوں میں پاکستان کے سالانہ اخراجات 1.8 کھرب روپے ہیں! ایک اعشاریہ آٹھ کھرب روپے کے یہ اخراجات (خسارہ) ختم کرنا قطعی مشکل نہیں لیکن اگر ایسا کرنے کی خواہش اور قومی قیادت میں جذبہ تعمیر زندہ ہو۔

پاکستان حکومت کے غیرترقیاتی اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے۔ کبینٹ ڈویژن پر سال کے بارہ ماہ‘ ہر دن 80 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں آخر کیوں؟ وزیراعظم پاکستان کے بیرون ملک دورے پر سال کے بارہ ماہ‘ ہر دن 50 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں آخر کیوں؟ وزیراعظم کے دفتری اخراجات پر سال کے بارہ ماہ‘ ہر دن 20 لاکھ روپے یومیہ خرچ ہوتے ہیں آخر کیوں؟ صدر پاکستان پر سال کے بارہ ماہ‘ ہر دن 13 لاکھ روپے یومیہ خرچ ہوتے ہیں آخر کیوں؟

پاکستان کی برآمدات تیزی سے کم ہو رہی ہیں اور موجودہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں یہ کمی سب سے زیادہ اور غیرمعمولی رفتار سے ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 35 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہے! پاکستان میں تیار ہونے والی اشیاء عالمی منڈیوں میں مقابلہ اِس لئے بھی نہیں کر سکتیں کیونکہ اِن پر لاگت زیادہ آتی ہے اور پاکستان میں بجلی و گیس سمیت پیداواری اخراجات بلند ترین سطح کو چھو رہے ہیں۔

فوری طور پر پاکستان کو اپنی درآمدات میں کمی لانا ہے۔ پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے لیکن اس کے باوجود ہم سالانہ 25 کروڑ ڈالر کی ڈیری مصنوعات کیوں درآمد کر رہے ہیں؟ آخر ہمیں سالانہ 2.5 ارب ڈالر کی گاڑیاں درآمد کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟ سالانہ 2 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ ایک ارب روپے کی دالیں کیوں درآمد کی جاتی ہیں؟ اور ہم 550 ارب ڈالر مالیت کی چائے کیوں درآمد کر رہے ہیں؟

پاکستان کی غربت خود اپنے ہی ہاتھوں غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے اور یہی محرک ہے جس کی وجہ سے پاکستان قرض کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ اگر قیادت میسر آ جائے تو حب الوطن اور نوجوان افرادی قوت کی کمی نہیں جو پاکستان کو درپیش اقتصادی مسائل کا حل نکال سکتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمیں ایسے فیصلہ ساز میسر نہیں جو قومی ترقی کا لائحہ عمل مرتب کر سکیں اور اپنے مفادات کی قربانی دیتے ہوئے ایک ایسی قوم کو عروج سے روشناس کرائیں جس کے پاس وسائل کی کبھی بھی اور قطعی کوئی کمی نہیں! 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
۔

Sunday, January 7, 2018

TRANSLATION: Toxic marriage by Dr Farrukh Saleem

Toxic marriage
مہلک تعلقات!
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے ادوار 70 سال پر محیط ہیں دونوں ممالک کے درمیان قربت اور تعلقات عدم توازن کا شکار رہے اور اگرچہ یہ تعلقات ’ایک دوسرے پر ’انحصار‘ جیسی دوطرفہ ضرورت کے تحت استوار ہیں لیکن پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کسی نہ کسی درجے باہمی اعتماد کا فقدان رہا ہے۔ امریکہ کے نکتہ نظر سے پاکستان کی اہمیت اُس کے خطے میں اپنی حاکمیت اور وجود برقرار رکھنے کے لئے ایک ضروری ہے جبکہ پاکستان کے لئے امریکہ مالی و اقتصادی معاون سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ دونوں ممالک کے درمیان اگرچہ کبھی بھی مثالی نہیں رہے لیکن اِنہیں منقطع کرنے کا بھی کبھی مرحلہ نہیں آیا۔

امریکہ کی جانب سے مالی سال دوہزار دو سے دوہزار اٹھارہ کے عرصے میں مجموعی طور پر ’33.927 ارب ڈالر‘ بطور ’دفاعی اخراجات‘ ادائیگیاں کی گئیں۔ اِن میں سیکورٹی سے جڑی مدوں میں 8.259 ارب ڈالر‘ اقتصادیات کے لئے 11.095 ارب ڈالر اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اتحادی کے طور پر کردار ادا کرنے اور اِس عرصے میں ہوئے نقصانات کی تلافی کے لئے 14.573ارب ڈالر دیئے گئے۔ یہ تمام ادائیگیاں 28 نومبر 2017ء تک وصول ہوئیں۔ قابل ذکر ہے کہ بطور اتحادی پاکستان کو دی جانے والی ادائیگیاں اُن اخراجات کی مد میں ہوتی ہیں جو پاکستان اتحادی افواج کو سہولیات بہم پہنچانے یا اُن کے مقرر کردہ اہداف کے مطابق (امریکی منظوری سے) عسکری مہمات پر اپنے وسائل سے کرتا ہے اور بعدازاں یہ رقم ادا کی جاتی ہے۔ درحقیقت بطور اتحادی ملنے والی 75فیصد امداد ’اتحادی سپورٹ فنڈ‘ کا حصہ ہوتی ہے جبکہ پچیس فیصد باقی ماندہ امداد اقتصادی امور کے دی جاتی ہے۔

امریکہ اب تک افغانستان میں 714ارب ڈالر خرچ کر چکاہے۔ افغانستان میں امریکہ کی جنگ اُس کی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی ترین مہم ہے۔ لانگ وار جرنل نامی ایک تحقیقاتی اشاعتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ’’طالبان افغانستان کے 45فیصد اضلاع پر یا تو قابض یا وہاں قابض ہونے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔‘‘

پاکستان میں ’’راہ نجات‘‘ نامی فوجی کاروائی کے ذریعے جنوبی وزیرستان (قبائلی علاقے کا) 6ہزار 619 مربع کلومیٹر حصے پر حکومتی عمل داری قائم کی گئی۔ ’’ضرب عضب‘‘ کے نام سے شمالی وزیرستان کا 4 ہزار 707 مربع کلومیٹر حصہ جبکہ بونیر‘ لوئر دیر‘ سوات اور شانگہ میں فوجی کاروائیوں سے بھی اِن علاقوں کو عسکریت پسندوں کی دسترس سے آزاد کرایا گیا جو پھیل چکے تھے۔ پاکستان کا بیانیہ (کہنا) یہ ہے کہ ہمارے ملک کا کوئی ایک بھی ایسا حصہ نہیں جہاں حکومت کی عمل داری قائم نہ ہو اور نہ ہی پاکستان میں ایسا کوئی بھی منظم عسکری گروہ ہے جو کسی ایک جگہ اپنا مرکز رکھتا ہو لیکن بدقسمتی سے پاکستان اپنے اِس بیانئے (مؤقف) کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا‘ جس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں یہ گمراہ کن شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ یہ دہشت گردوں کا مرکز ہے۔

خطرے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے ایک عالمی سازش پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کا ادارہ منظم و فعال ہے لیکن پاکستان کی اقتصادی صورتحال دگرگوں ہے۔ آئندہ بارہ کے دوران پاکستان کو کم سے کم چھ ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہیں یہ وہ ادائیگیاں ہیں جو بیرون ملک قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لئے دینی ہیں۔ توقع ہے کہ رواں برس (دوہزاراٹھارہ) ماہ جنوری سے جون کے عرصے میں پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ قریب 8 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ بائیس دسمبر دوہزار سترہ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 14.1 ارب ڈالر کے ذخائر تھے اور آئندہ چھ ماہ کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس اِس رقم کا بھی نہایت ہی معمولی سا حصہ باقی رہ جائے گا‘ جو خطرناک اقتصادی صورتحال کی جانب بطور اشارہ عرض ہے۔

تصور کیجئے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 35 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ تصور کیجئے کہ پاکستان کے بجٹ کا خسارہ 2.2 کھرب روپے ہو جائے گا اور یہ حقائق امریکہ کے صدر ٹرمپ کے سامنے یقیناًہوں گے۔ مجھے کئی تجزیہ کاروں کو یہ کہتے ہوئے سننے کا اتفاق ہوا کہ پاکستان روس اور چین کے درمیان اقتصادی و دفاعی شعبوں میں اتحاد ہونا چاہئے لیکن کیا ایسا کوئی ممکنہ اتحاد پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کر پائے گا؟ کیا ماضی میں اس قسم کے سہ ملکی اتحاد کی کوششیں نہیں کی گئیں اور ان کا کیا نتیجہ برآمد ہوا۔

تصور کیجئے کہ امریکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک برائے تعمیرو ترقی کی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتا ہے اور اِن مالیاتی اداروں میں امریکہ نے بڑی سرمایہ کاری کے عوض کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ اپنی تجارت ’ڈالر‘ کی بجائے ’یوآن (چینی کرنسی)‘ میں کرنے کا خواہاں ہے لیکن کیا ایسا کرنے سے پاکستان کو قومی سطح پر درپیش آمدن و اخراجات میں (بجٹ) خسارے پر قابو پالیا جائے گا؟

18 دسمبر 2017ء کے روز ٹرمپ نے بطور صدرِ امریکہ اپنی پہلی قومی سلامتی حکمت عملی پیش کی‘ جس میں اُس نے چین کی اقتصادی و تجارتی ترقی کو بھی نشانہ بنایا۔ میرے خیال صدر ٹرمپ پاکستان و افغانستان کی بجائے پاکستان اور چین کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ صورتحال محتاط ردعمل اور حالات پر نگاہ رکھنے کا ہے کیونکہ جب ہاتھیوں کی لڑائی ہوتی ہے تو اُس میں گھاس کچلی جاتی ہے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Friday, January 5, 2018

Jan 2018: Trade Deficit with China and the trade!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پاک چین دوطرفہ مفادات!
چین پاکستان اِقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے متعلق عمومی خیال یہی کیا جاتا ہے کہ اِس کے ذریعے سازوسامان کی نقل و حمل ہو گی اور پاکستان کے زمینی راستوں کا استعمال کرتے ہوئے چین اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے ایسا متبادل راستہ (راہداری) تعمیر کرنا چاہتا ہے جس سے خطے کی منڈیوں تک اُس کی رسائی کم خرچ اور کم وقت میں ممکن ہو سکے۔ 

اُنتیس دسمبر کو چین کا سات دورہ مکمل کرنے والے پاکستان کے پارلیمانی وفد کے سامنے ’سی پیک‘ کے جو خدوخال‘ رکھے گئے اُن سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مرحلہ وار منصوبہ کسی بھی طرح صرف راہداری کی حد تک محدود نہیں اور اِس بات کو تقویت ’اسٹیٹ بینک آف پاکستان‘ (مرکزی قومی مالیاتی ادارے) کے اِس بیان سے بھی ملتی ہے کہ ’’چین اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تجارتی امور میں چینی کرنسی یوان میں کاروبار کے لئے تمام تر انتظامات کئے جا چکے ہیں۔‘‘ اِس سے قبل (اُنیس دسمبر دوہزارسترہ) وفاقی احسن اقبال (اُس وقت وفاقی وزیر برائے ترقی اور منصوبہ بندی) نے یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ ’’پاکستان کی حکومت چین سے دوطرفہ تجارت کے لئے امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی ’یوان‘ کے استعمال کا جائزہ لے رہی ہے۔‘‘ یاد رہے کہ ایک یوان (Yuan) کی پاکستانی کرنسی میں شرح تبادلہ (4 جنوری2018ء کے روز) ’’17 روپے چار پیسے‘‘ تھے اور سال دو ہزار سترہ کے دوران یوان کی قدر مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔ چین نے بلوچستان گوادر میں تجارتی سرگرمیوں کے لئے امریکی ڈالر کے بجائے ’یوان‘ کے استعمال کی تجویز دی تاہم وفاقی حکومت نے یہ تجویز مسترد کردی تھی اور اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو چین کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لئے خاص حد سے آگے نہیں جانا چاہئے کیونکہ چین کے مقابلے امریکہ اور یورپی ممالک پاکستانی مصنوعات کی بڑی منڈیاں ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ سے نکلنے کے لئے پاکستان اقتصادی و تجارتی شعبوں میں نئے امکانات پر غور کر رہا ہے اور اِس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر نتائج حسب حال و توقع رہیں۔ چین کی قیادت پاکستان کے حق میں بیانات جاری کرنے میں دیر نہیں کرتی لیکن اُس کی عالمی سفارتکاری کے ساتھ پاکستان کو اقتصادی (مالی) تعاون اور چین کی منڈیوں تک رسائی بھی درکار ہے۔ اسٹیٹ بینک نے چین کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے اگر ’’جامع پالیسی‘‘ مرتب کی ہے‘ جس کے تحت مستقبل قریب میں درآمدات‘ برآمدات اور مالیاتی لین دین میں چینی کرنسی پر انحصار کیا جا سکے گا تو اِس بارے میں معلومات (تفصیلات) نہ ہونے کے برابر دستیاب ہیں! 

وفاقی سطح پر آزاد پالیسی اختیار کی گئی ہے یعنی چین اور پاکستان کے سرکاری اور نجی مالیاتی اداروں کو دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کے لئے ’یوان (چینی کرنسی)‘ کے انتخاب کرنے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور اِس میں حکومت کی جانب سے کسی قسم کا دباؤ نہیں ہوگا۔ چینی کرنسی یوان (آر ایم بی) اب پاکستان میں غیر ملکی کرنسی کی صورت میں لین دین کے لئے منظور شدہ کرنسی کا درجہ حاصل کر چکی ہے اُور اِس ضمن میں پاکستان کے مرکزی بینک نے تمام ضروری ریگولیٹری فریم ورک بھی تیار کرلیا جس میں تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاملات مثلاً لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) اور فنانسنگ کی سہولیات چینی کرنسی میں ہو سکیں گی۔

مالی سال دوہزارسترہ میں پاکستان نے ’ایک ارب باسٹھ کروڑ ڈالر‘ مالیت کی مصنوعات اور خدمات (سروسز) چین کو برآمد کیں جبکہ چین سے درآمد کا حجم ’دس ارب ستاون کروڑ ڈالر‘ تھا جو غیرمعمولی تجارتی عدم توازن ہے۔ اصل ضرورت پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی خسارہ پاکستان کے حق میں کرنا ہے جس کے لئے دونوں ممالک کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر حتمی فیصلہ لینا باقی ہے۔ وفاقی حکومت کو جو کام پہلے کرنا تھا وہ سردخانے میں پڑا ہوا ہے لیکن کرنسی کے استعمال بارے چین کی دیرینہ خواہش پوری کر دی گئی ہے! 

اسٹیٹ بینک کی جانب سے تمام مقامی بینکوں کو بھی چینی کرنسی یوان میں ڈیپازٹ اور تجارتی قرض دینے کی اجازت دے دی گئی ہے یعنی پاکستانی بینکوں میں ڈالر کی طرح چینی کرنسی میں بھی اکاونٹس کھولے جا سکیں گے لیکن صرف تصدیق شدہ ڈیلرز ہی بیرونی رقم والا اکاؤنٹ کھولنے اور تجارتی قرضہ دینے کے اہل ہوں گے۔ پاکستان میں ’’بینک آف چائنا‘‘ کے آغاز کے ساتھ ہی چین کی ’’آن شور‘‘ مارکیٹ تک رسائی مزید مضبوط ہوجائے گی جبکہ پاکستان میں متعدد نجی بینک ’’آن شور‘‘ یوآن اکاؤنٹس برقرار رکھ سکیں گے۔ اُمید ہے کہ ’سی پیک‘ کے تناظر میں چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی اور مالیاتی سرگرمیوں سمیت مقامی اور عالمی منڈیوں میں معاشی ترقی میں ’یوآن‘ کا اِستعمال مؤثر رہے گا اُور دونوں ممالک تعاون کی اِس نئی جہت 
سے طویل المدتی فائدہ اُٹھا سکیں گے۔

پاکستان کی کرنسی پر ڈالر کے مقابلے دباؤ بدستور موجود ہے۔ ’اوپن مارکیٹ‘ کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے باعث قومی بینک نے غیر ملکی کرنسیوں کی برآمدات کے مقابلے میں کیش ڈالر کی درآمدی ضرورت کو پینتیس فیصد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس سلسلے میں غیرملکی کرنسیوں کو متحدہ عرب امارات (دبئی) برآمد کرنے کے لئے سوفیصد کی بجائے صرف پینتیس فیصد کیش ڈالر استعمال کئے جائیں گے۔ 

برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافے کے باعث قومی زرمبادلہ کے ذخائر گھٹ رہے ہیں۔ یہ صورتحال قومی معیشت کے لئے تشویشناک ہے کیونکہ تجارتی مقاصد سے ہٹ کر بھی ڈالر کا بیرون ملک اخراج جاری ہے جو اس امر کا عکاس ہے کہ ’فارن ایکس چینج‘ پر قومی اداروں کی گرفت کمزور ہے اور یہ دھندا زیادہ تر ’کرنسی ایکس چینج کے نجی مراکز‘ کے توسط سے ہو رہا ہے۔ 

بعض ممالک کی کرنسیاں جن میں یورپی منڈی کا یورو‘ جاپان کا ین‘ چین کا یوآن اور برطانیہ کا پاؤنڈ خصوصاً قابل ذکر ہیں‘ عالمی مارکیٹ میں لین دین کے لئے استعمال ہو رہی ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا بھر کی بڑی اور چھوٹی معیشتیں ڈالر کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ اگرچہ چینی کرنسی سے متعلق فیصلے کی ’’کرنسی ایکس چینج‘‘ والوں نے مخالفت کی ہے لیکن قومی بینک کا فیصلہ وقت کی ضرورت دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف قومی روئیوں کی اصلاح بھی ضروری ہے کیونکہ پاکستانیوں کی ایک تعداد ایسی ہے جو مقامی کرنسی (پاکستانی روپے) کے عوض ڈالر خرید لیتے ہیں‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تعلیمی اغراض‘ سیاحتی مقاصد یا بیرون ملک سفر کرنا ہوتا ہے۔ پھر ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو خفیہ طریقوں سے اپنے اثاثے (کالا دھن) ڈالر کی شکل میں بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ اِس صورتحال میں اصلاح کی ضرورت تھی۔ پاکستان اور پاکستان کی معیشت میں اعتماد کی بحالی کے لئے سیاسی رہنماؤں کو خود عملی مثال بننا ہوگا‘ جنہوں نے اپنے اثاثے اور اہل و عیال بیرون ملک محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
۔