Showing posts with label Nepal. Show all posts
Showing posts with label Nepal. Show all posts

Saturday, July 15, 2023

Gandhara dreams by Dr Ramesh Kumar Vankwani

 Gandhara dreams

گندھارا تہذیب: خواب اُور حقیقت

پاکستان میں گندھارا تہذیب کے آثار اُور منسوب مقامات کی سیر کے لئے دنیا بھر سے سیاح آ رہے ہیں۔ حال ہی میں اِس سلسلے میں ایک ’عالمی کانفرنس‘ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں بالخصوص بدھ مت کے پجاری اُور اُن ممالک کے نمائندہ وفود نے شرکت کی جہاں ’بدھ مت‘ سرکاری مذہب کے طور پر رائج ہے۔ گندھارا تہذیب کو مقدس اُور تاریخی اہمیت کی حامل سمجھنے والے جو ممالک دلچسپی لے رہے ہیں اُن میں تھائی لینڈ‘ نیپال‘ ویت نام‘ چین‘ ملائیشیا‘ کوریا‘ سری لنکا‘ میانمار‘ کمبوڈیا‘ انڈونیشیا اور دیگر بودھی اکثریتی ممالک شامل ہیں۔ حال ہی میں معزز بودھی بھکشو نے پاکستان کا دورہ کیا اُور چند دنوں روز یہاں مقیم رہے۔ اِن کی پاکستان یاترا (آمد) کا مقصد وزیر اعظم کی ’خصوصی ٹاسک فورس برائے گندھارا ٹورازم‘ اُور ہم خیال ’تھنک ٹینک نجی اداروں‘ کے تعاون سے منعقد ہونے والے پہلے بین الاقوامی گندھارا سمپوزیم میں شرکت تھی جس کے لئے وفود اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اُترے اُور اُنہوں نے مذکورہ سمپوزیم میں شرکت کے علاؤہ گندھارا تہذیب کے مقامات پر حاضری بھی کی اُور وہاں عبادت و مختصر قیام کے دوران تاریخ کے اُن رشتوں کو زندہ بھی کیا جن پر دہائیوں سے مٹی پڑی ہوئی ہے۔

بین الاقوامی بودھی راہبوں کے ہمراہ تخت باہی مردان کے قدیم گندھارا مقام کا دورہ کرتے ہوئے راقم الحروف کو ایسا لگا کہ جیسے کوئی شخص جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھ رہا ہو اور جب آنکھیں کھلیں گی تو یہ ویران کھنڈرات اپنے شاندار ماضی پر ماتم کرتے نظر آئیں گے۔ بین الاقوامی برادری کے سامنے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لئے ’مذہبی سیاحت‘ کو فروغ دینے کا خواب بالآخر حقیقت بن رہا ہے۔ اِس سمپوزیم سے قبل‘ بدھ بھکشوؤں‘ مختلف ممالک کے سفیروں اور ذرائع ابلاغ کے وفود کے ہمراہ جدید ٹیکسلا اور گندھارا دور کے عظیم تعلیمی مرکز‘ تکششیلا (Takshashila)کے قدیم شہر میں واقع قدیم دھرم راجیکا (Dharmarajika) عبادتگاہ (سٹوپا) کا دورہ کیا۔ معلوم انسانی تاریخ کی یہ پہلی یونیورسٹی تھی اور اِس جامعہ میں عظیم فلسفی کوٹلیہ چانکیہ ڈھائی ہزار سال پہلے حکمت پڑھاتے تھے۔ ’ارتھ شاستر‘ اور ’چانکیہ نیتی‘ کے عنوان سے اُن کی کتابیں اکیسویں صدی میں بھی یکساں مقبول ہیں۔ قدیم شہر ٹیکسلا کی اہمیت کے پیش نظر گندھارا ٹورازم سے متعلق وزیراعظم پاکستان کی بنائی ہوئی ’ٹاسک فورس‘ نے ایک اعلامیہ بھی تیار کیا ہے جسے کانفرنس کے مندوبین اور سفیروں کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ راقم الحروف کو یقین ہے کہ اِس عاجزانہ کوشش کو تاریخ میں ’تکششیلا اعلامیہ‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

بین الاقوامی مندوبین نے ٹیکسلا اور پشاور کے عجائب گھروں کا دورہ بھی کیا۔ اِس موقع پر راہبوں سے ہوئی بات چیت میں اِس بات کا خصوصی طور پر اظہار کیا گیا کہ گندھارا کے بارے میں بہت کچھ پڑھنے اُور سننے والوں کو جب اِس سے متعلقہ مقامات اُور آثار کو قریب سے دیکھنے کا پہلا اُور نادر موقع خاص اہمیت کا حامل ہے۔ وہ اپنے آبائی ممالک واپس جانے کے بعد پاکستان اور پاکستان کے عوام کے بارے میں اچھی باتیں اُور یادیں بطور سوغات لیکر جائیں گے۔ ذہن نشین رہے کہ گندھارا سیاحت کے فروغ کے لئے جب وزیر اعظم کی ٹاسک فورس نے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا اُور بدھ مت زائرین نے تخت بھائی کا دورہ کیا تو راقم الحروف نے اُس وفد کی قیادت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اُور اُس وقت یہ بالکل ناممکن دکھائی دے رہا تھا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے بدھ بھکشو پاکستان کا دورہ کر سکیں گے تاہم جہاں ارادہ موجود ہو اُور جہاں نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو راستے نکل ہی آتے ہیں۔ ذاتی طور پر راقم الحروف کا ماننا ہے کہ ہر قوم اور ملک کا کوئی نہ کوئی خواب ہوتا ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ امریکہ کے 16ویں صدر ’ابراہم لنکن‘ نے اپنی قوم کو سپر پاور بننے کا خواب دیا۔ اسی طرح چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی اپنی قوم کو عالمی سطح پر متعارف کرایا اُور چین کی صنعتی و سفارتی طاقت کو منوایا۔ 

ہمارے بزرگوں نے بھی ایک خودمختار اور آزاد ریاست کا خواب دیکھا تھا جو بانیئ پاکستان قائد اعظم کی دور اندیش قیادت میں پورا ہوا۔ جناح صاحب نے ’11 اگست 1947ء‘ کے روز اپنی تقریر میں اِس خواب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”وہ پاکستان کو ’مثالی رول ماڈل ریاست‘ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر کسی کو مسجد یا مندر یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کی آزادی ہو۔“ ایک محب وطن پاکستانی شہری ہونے کے ناطے راقم الحروف کا بھی خواب ہے کہ پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہو اُور پاکستان کا تعارف ترقی یافتہ‘ پرامن اُور خوشحال ملک کے طور پر کیا جائے۔ ’گندھارا ڈریم‘ کے ساتھ پاکستان نے مذہبی سیاحت کے فروغ سے متعلق ’واضح اہداف‘ مقرر کئے ہیں اُور اِس کوشش میں بڑی کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ سینکڑوں سال پہلے ہماری سرزمین پر پھلنے پھولنے والی عظیم گندھارا تہذیب دنیا کی ’اَنوکھی قدیم‘ تہذیب ہے۔ اِس تہذیب کے باقی ماندہ آثار میں ہر پتھر‘ ہر کھنڈر‘ ہر کونا کوئی نہ کوئی کہانی بیان کر رہا ہے۔ 

گندھارا ورثہ پراسرار ہے اُور اِس کی پراسراریت جدید دور میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ گندھارا کے مقدس مقامات کی زیارت دنیا کے ہر بدھ مت پیروکار کا خواب ہے لہٰذا ہمیں اِس جانب راغب کرنے کے لئے غیرملکی سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ 

(مضمون نگار رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔ بشکریہ: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)


Sunday, April 16, 2017

TRANSLATION: Understanding India!

Understanding India
بھارت کی حقیقت!
بھارت گھن راجیہ یعنی ری پبلک آف انڈیا کی سرحدیں چھ ممالک (بنگلہ دیش‘ بھوٹان‘ برما‘ چین‘ نیپال اور پاکستان) سے ملتی ہیں۔ اگر ہم بھارت کے اپنے چھ ہمسایہ ممالک سے تعلقات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے تعلقات کسی بھی ملک سے مثالی نہیں اور وہ ہمیشہ اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتا ہے۔

بھارت بنگلہ دیش تعلقات: بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے مکتی بھانی اور شانتی بھانی نامی تحریک کی پشت پناہی کی۔ ہندو تنظیم ’’بنگا سینا‘‘ ایک عرصے تک بنگلہ دیش میں دہشت گرد کاروائیاں کرتی رہی‘ جن کا مطالبہ تھا کہ بنگالی ہندوؤں کے لئے الگ ملک بنایا جائے۔ بنگلہ دیش فوج کے سابق تھری سٹار‘ لیفٹیننٹ جنرل جہانگیر عالم چوہدری جو کہ بنگلہ دیش رائفلز کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں کے مطابق بھارتی فوج نے ’بنگا سینا‘ کے عسکریت پسندوں کو پشت پناہی کی اور اُن کے مراکز بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں قائم کی گئیں جہاں اُنہیں عسکری کاروائیوں کی تربیت اور اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے حکمت عملیاں دی جاتی تھیں۔ علاؤہ ازیں بھارت نے بنگلہ دیش میں ایک کٹھ پتلی حکومت بھی قائم کر رکھی تھی۔

بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 54 مشترک دریا ہیں۔ بھارت پر بنگلہ دیش کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اُس نے ’فاراکا بیراج (Farakka Barrage)‘ کے ذریعے دریائے گنگا کا پانی کلکتہ کی جانب موڑا جو کہ ’آبی دہشت گردی‘ کے زمرے میں شمار کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کا دعویٰ ہ کہ اُسے دریائے گنگا سے اپنے حصے کا خاطرخواہ پانی نہیں ملتا بالخصوص جب گرم موسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے لیکن جب مون سون بارشوں کا موسم ہوتا ہے تو اُس کے دریاؤں میں بھارت اضافہ پانی چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے اُس کے علاقے زیرآب آ جاتے ہیں اور بڑے رقبے پر کھڑی فصلیں اور تعمیرات تباہ ہو جاتی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے مطابق سال 2001ء سے سال 2011ء کے درمیان بھارت بنگلہ دیش سرحد پر کم و بیش ایک ہزار افراد کو گولی ماری جا چکی ہے اور صورتحال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے سرحدی محافظوں کو حکم ہے کہ بنگلہ دیش کی طرف سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے! بھارت کا بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدی تنازعہ 44 سال پرانا ہے۔ اپریل 2001ء میں بنگلہ دیش کے سرحدی مسلح محافظین ’بارڈر گارڈز بنگلہ دیش‘ اور بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس کے درمیان مسلح تصادم ہوا جو 1971ء کے بعد سے ہونے والا ایسا شدید ٹکراؤ تھا۔ بھارت کا ’میری ٹائم بانڈری‘ اور دیگر ملحقہ علاقوں پر ملکیت کا دعویدار ہے۔

بھارت بھوٹان تعلقات: بھارت نیپال میں ہمیشہ اور صرف کٹھ پتلی حکومت ہی برسراقتدار چاہتا ہے۔ 1975ء میں بھارت نے سیکم (Sikkim) کے سرحدی علاقے میں ایک لاکھ فوجی تعینات کئے اور بعدازاں اس علاقے کو ملک کی بائیسویں ریاست قرار دے دیا۔

بھارت چین تعلقات: خفیہ ادارہ ’را‘ مشرقی ترکستان ( Turkestan) آزادی کی تحریک کی پشت پناہی جاری رکھے ہوئے ہے جو چین کے صوبے سنکیانگ (Xinjang) میں ہے۔ ’را‘ تین دہشت گرد عسکری تنظیموں (ایسٹ ترکستان انڈی پینڈنس موومنٹ‘ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور تحریک طالبان پاکستان) کی مربوط اور باہم رابطہ کاری میں بھی ملوث ہے۔

بھارت کے چین کے ساتھ چار سرحدی تنازعات بھی ہیں۔ اورانچل پردیش اور توانگ کے اضلاع بھارت کے کنٹرول میں ہے لیکن اِن پر چین اپنی ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے اور اِسی طرح اکسائی چن (Aksai Chin) اور شاکسگم وادی (Shaksgam) چین کے کنٹرول میں ہیں اُن کی ملکیت کا دعویٰ بھارت کرتا ہے۔

بھارت نیپال تعلقات: نیپال میں سرگرم عسکری مزاحمت کار گروہ ’موؤسٹ‘ کے بھارت سے کئی تعلقات ہیں۔ اِس بارے میں دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ بھارت کی فوج کے سابق اہلکار اور سابق گورکھا سپاہیوں نے ’مووؤسٹ پیپلز لبریشن آرمی‘ کو عسکری تربیت دی۔

اُنیس سو باسٹھ میں بھارت کی ’اِنڈو بارڈر پولیس‘ نے کالاپ نائی (Kalapnai) کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا جس کی ملکیت کا دعویٰ نیپال کرتا ہے۔ بھارت کا 35 ہزار ایکٹر کے نیپالی علاقے سستا (Susta) پر ملکیت کا دعویٰ بھی ہے۔

بھارت پاکستان تعلقات: 1984ء سے 2004ء تک‘ بھارت اِس کوشش میں رہا کہ پاکستان کو دو حصوں میں توڑ دے لیکن اپنی اِس خواہش اور کوششوں کی نامرادی و ناکامی کے بعد بھارت کی فوجی قیادت نے ایسے عناصر کی پشت پناہی شروع کردی جو پاکستان کے داخلی ریاستی مفادات پر حملہ آور ہوں۔ اِس حکمت عملی کے بھی جب خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہوئے تو علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی‘ دی بلوچستان ری پبلکن آرمی‘ تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی کو اپنی مہمات کے مالی وسائل فراہم کرنا شروع کر دیئے۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان میں اُس کی کٹھ پتلی حکومت قائم ہو۔ بھارت ایک محکوم و غلام پاکستان چاہتا ہے۔ بھارت ایک ایسا پاکستان چاہتا ہے جو اُس پر انحصار رکھتا ہو۔

بھارت کی تاریخ رہی ہے کہ وہ اپنے چھ میں سے پانچ ہمسایہ ممالک میں علیحدگی پسند تحریکیوں کی مختلف طریقوں سے ایک جیسے مذموم مقاصد کے لئے حمایت کرتا رہا ہے۔ ’را‘ بھارت کے چھ ہمسایہ ممالک میں سے کم سے کم پانچ میں دہشت گردی‘ عسکریت پسندی اور باغی تحریکیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
سری لنکا کی خانہ جنگی (سول وار) کے دوران بھارت نے تامل ایلام (Tamil Elam) کے ’لبریشن ٹائیگرز‘ کو تربیت دی جنہوں نے اپنے ہی ملک (سری لنکا) کے 23 ہزار 327 باشندوں کو قتل جبکہ دہشت گرد حملوں میں 60 ہزار افراد کو زخمی کیا۔ اِسی طرح بنگلہ دیش میں ’را‘ نے دہشت گرد تنظیموں ’مکتی باہنی‘ اُور ’شانتی باہنی‘ کی پشت پناہی کی۔ تبت (Tibet) میں بھارت نے ’خامپا (Khampa)‘ باغیوں کو عسکری تربیت دی اور اِن سبھی کاروائیوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ بھارت خطے میں اپنی بالادستی اور تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)