Showing posts with label Gor Khatri. Show all posts
Showing posts with label Gor Khatri. Show all posts

Thursday, June 15, 2023

Sethi Houses vanishing, like memories, with each curtain's fall

ناقابل اشاعت ……  شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خاموش اِحتجاج

زوال اُور تبدیلی مستقل عمل ہے لیکن اِس کے منفی اثرات کم کرنے کے لئے حساس معاشروں میں ’آثار قدیمہ‘ کے تحفظ پر توجہ دی جاتی ہے جبکہ ’پشاور کہانی‘ مختلف ہے کہ یہاں تاریخ و ثقافت سے جڑی ہر نشانی زوال پذیر ہے اُور انتہائی مخدوش حالت میں دیکھی جا سکتی ہے جبکہ متعلقہ حکومتی ادارے (محکمۂ آثار قدیمہ) اُور قانون نافذ کرنے والے ادارے (متعلقہ تھانہ جات) کی کارکردگی سب کے سامنے ہے کہ ایک ایک کر کے پشاور کی نشانیاں مٹ رہی ہیں! بقول ’یحییٰ سیٹھی‘ پشاور کا یہ منظرنامہ‘ یہ حال احوال‘ یہ اجنبیت‘ جو آج نظر آ رہی ہے‘ پہلے کبھی بھی نہیں دیکھی گئی اُور اِس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پشاور کے آباؤاجداد کی نشانیاں ایک ایک کر کے مٹ رہی ہیں!“ پشاور کے مٹتے نقوش میں ’سیٹھی خاندان‘ کے گھر‘ سیٹھی خاندان کا قبرستان اُور سیٹھی خاندان کے نمایاں ترین فلاحی منصوبے کی اراضی بھی زیادہ دنوں کی مہمان دکھائی نہیں دے رہی!

تازہ ترین  واردات میں ’بازار کلاں‘ سے متصل ’محلہ سیٹھیان‘ کا قدیمی مکان راتوں رات منہدم کر دیا گیا ہے۔
 گھر کے مالک سیٹھی خاندان کے باقی ماندہ بزرگ یا تو انتہائی ضعیف ہیں یا پھر اِس خوف سے سامنے نہیں آ رہے کیونکہ قبضہ مافیا مسلح اُور سینہ زو رہے‘ جسے قانون یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خوف نہیں۔ یہ مافیا ،اپنے سامنے کھڑے ہونے والے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ گالیاں بکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ’معزز و برتر‘ شریف سیٹھی گھرانے کے بزرگ اُور نوجوان تھانہ کچہری نہیں کریں گے۔ یہ شریف اُور شرفا کی ایک نشانی اُن کی کمزوری سمجھی جاتی ہے حالانکہ یہ کام صوبائی حکومت اُور پشاور کی ضلعی انتظامیہ کا ہے کہ وہ سیٹھی خاندان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو اُور اِس بات کو یقینی بنائے کہ پشاور میں اگر کوئی کمزور و ناتواں ہے تو وہ ’قانون شکن‘ ہونا چاہئے۔ 

محلہ سیٹھیان کا تازہ ترین نشانہ بننے والا مکان افتخار سیٹھی (مرحوم) اُور اُن کی ہمشیرہ مسماۃ شمیم (ریٹائرڈ ڈاکٹر) کے نام پر مکان ہے۔
افتخار سیٹھی کے بھائیوں کو اِس سے دلچسپی نہیں۔ دونوں عمر کے اُس حصے میں ہیں جہاں وہ تھانہ کچہری نہیں کرنا چاہتے اُور نہ ہی ایک مکان کے لئے اپنے بال بچوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اِسی محلے کا دوسرا مکان لب سڑک (قریب دو کنال) جو ’اقبال سیٹھی‘ کی عدالت سے تسلیم شدہ ملکیت ہے لیکن وہ بھی قبضہ ہے‘ اگرچہ سیٹھی خاندان اِس مکان کی ملکیت کا مقدمہ جیت چکا ہے لیکن گھر کا قبضہ حاصل نہیں کر سکا۔

سیٹھی ہاؤس ہو یا کوئی بھی تاریخی و ثقافتی اہمیت کی حامل عمارت ، اِس راتوں رات ملبے کا ڈھیر بنانے والے عموماً ہفتہ و اتوار کی درمیان شب واردات کرتے ہیں جب سرکاری دفاتر میں تعطیل ہوتی ہے اُور اِس تعطیل کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مسرت ہلالی سے درخواست ہے کہ وہ اِس جاری بے قاعدگی اُور لاقانونیت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر آرکیالوجی اُور اُ ن کے عملے کو طلب کریں اُور اِس بات کی بھی الگ سے تحقیقات ہونی چاہئیں کہ جن اہلکاروں کو پشاور کی تاریخ و ثقافت کے نایاب نقوش بطور امانت سونپے گئے تھے اُنہوں نے اپنی ذمہ داریاں (فرائض منصبی) کس حد تک ایمانداری سے ادا کئے ہیں اُور یہ بھی دیکھا جائے کہ اِن اہلکاروں کے مالی اثاثے کہیں اِن کی آمدنی کے جائز و معلوم ذرائع سے زیادہ تو نہیں ہیں۔

تازہ ترین واردات میں  پشاور کے 2 تعمیراتی فن پاروں (سیٹھی ہاؤسیز) کے نقوش مٹا دیئے گئے ہیں لیکن  کوئی روکنے یا بچانے یا اِس نقصان پر مگرمچھ کے آنسو تک بہانے نہیں آیا! (انا للہ و انا علیہ راجعون)۔

سیٹھی ہاؤسیز کے ظاہری شان و شوکت (لکڑی کے ستون ، دروازے اُور کھڑکیاں، روشن دان، فرش اُور قیمتی پتھروں سے سجی چھتیں) مسمار ہونے کے بعد متعلقہ تھانہ اُور علاقے کی سیاسی نمائندگی کرنے والے بلدیاتی نمائندے حرکت میں آئے۔ موقع پر کام کرنے والے چند مزدوروں کو پکڑ لیا گیا جبکہ قریب ہی بازار کلاں میں بیٹھے اِس پورے منصوبے کے ’ماسٹر مائنڈ‘ پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔

توجہ طلب ہے کہ صرف ’محلہ سیٹھیان‘ ہی نہیں بلکہ پشاور میں سیٹھی خاندان کا قبرستان جس کا کل رقبہ 20 کنال سے زیادہ ہے اُور اِس کی ملکیت کے کاغذات بھی موجود ہیں لیکن اِس کا رقبہ بھی قبضہ ہو چکا ہے یا قبضہ کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یہ معاملہ ماضی میں جب عدالت تک پہنچا تو سیٹھی خاندان کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اُور چار سال تک سماعتیں ہوتی رہیں جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سیٹھی خاندان کے حق میں دیا لیکن سیٹھی خاندان کو اپنا حق آج تک نہیں مل سکا۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ قبضہ مافیا نے ایک اُور چال چلتے ہوئے ’سیٹھی قبرستان‘ کو بدھ مت کا قدیمی مرکز قرار دینے کی مہم ’سوشل میڈیا‘ پر شروع کر رکھی ہے اُور اِس حوالے سے جس درخت اُور چبوترے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ سیٹھی خاندان کے بزرگ قرآن کریم کی تلاوت‘ درس قرآن اُور فاتحہ خوانی کی اجتماعی محافل کے اِنعقاد کے لئے کیا کرتے تھے! پاکستان بننے کے وقت یہاں ’سرخ پوشوں‘ نے پناہ بھی لی تھی‘ جنہیں بطور مہمان رکھا گیا تھا اُور اُن کی میزبانی کی گئی تھی۔ سیٹھی خاندان اِس علاقے میں خیرات و زکوۃ بھی دیا کرتا تھا اُور یہی خاندان صرف پشاور ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے کئی ممالک کی مدد کیا کرتا تھا۔

المیہ نہیں تو کیا ہے کہ ہے کہ پشاور کی تاریخ پر آج اُن لوگوں کو زیادہ عبور ہونے کا دعویٰ ہے جن کی اپنی کوئی تاریخ نہیں!

سیٹھی قبرستان (کم و بیش بیس کنال) کے گردچاردیواری بنانے کی ہر کوشش اب تک ناکام رہی ہے! ماضی میں قبرستان چاردیواری کے تعمیراتی منصوبے پر لاگت کا تخمینہ ’40 لاکھ‘ روپے تھا جو بڑھ کر ’ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے‘ ہو چکا ہے اُور اب اِس قدر خطیر رقم کہاں سے آئے گی‘ یہ سوال اپنی جگہ حکومت کو متوجہ کر رہا ہے کہ اگر سیٹھی قبرستان کے گرد چاردیواری نہ بنائی گئی تو شاید چند مرلے زمین بھی باقی نہ رہے اُور سیٹھی خاندان کے اجداد کی قبروں پر رہائشی بستی آباد ہو جائے جسے حکومتی فنڈ سے ٹیوب ویل‘ جنازہ گاہ‘ مسجد اُور سکول تعمیر کر کے قانونی شکل دیدی جائے گی اُور یہی طریقۂ واردات پشاور کی دیگر اقوام کے قبرستانوں کے ساتھ بھی ہو چکا ہے!

کیا یہ بات قابل مذمت نہیں کہ سیٹھی قبرستان کے ساتھ ملحقہ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی قبضہ ہو چکا ہے! 

اَلمیہ نہیں تو کیا ہے کہ سیٹھی خاندان عدالت میں تو ہر مقدمہ جیت جاتا ہے لیکن عدالتی احکامات کو عملی جامہ پہنانے والوں کی دلی ہمدردیاں سیٹھی خاندان کے ساتھ نہیں! وہ کہ جنہیں حقیقی محافظ ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے اِس پورے معاملے سے لاتعلق ہیں۔ سیٹھی خاندان کے لوگ انتہائی شریف النفس ہیں وہ قبضہ مافیا کا مقابلہ اُور اُن کا تن تنہا سامنا نہیں کر سکتے اُور ایسی صورت میں صوبائی و ضلعی حکومت کو سیٹھی خاندان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہئے۔

سیٹھی خاندان کی پشاور میں ’تیسری نشانی‘ اندرون یکہ توت گیٹ (محلہ جٹان) کا ’دارالمساکین‘ ہے جو آج بھی اِسی (سیٹھی) خاندان کی ملکیت ہے اُور جسے ماضی و حال میں کئی مرتبہ قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خاص نکتہ یہ ہے کہ ’دارالمساکین‘ وقف اراضی نہیں تو پھر اِس کا انتظام و ملکیت سیٹھی خاندان کے پاس کیوں نہیں اُور اِس میں حکومتی تعمیرات کس قانون یا اخلاقی جواز کے تحت کی گئی ہیں؟ دارالمساکین سیٹھی خاندان کے آباؤاجداد کی ملکیت تھی اُور ہے اُور صرف ملکیت نہیں بلکہ دارالمساکین پشاور اُور اہل پشاور سے سیٹھی خاندان کی ’دلی محبت‘ کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ افسوس کہ سیٹھی خاندان کے گھر‘ سیٹھی خاندان کا قبرستان اُور سیٹھی خاندان کی طرف سے اہل پشاور کی فلاح و بہبود کا مرکز (دارالمساکین) پر ایک ایسی سوچ رکھنے والے قابض ہیں جن کے لئے پشاور کی تاریخ و ثقافت‘ یہاں کے شریف و محسن خاندانوں کی کوئی اہمیت نہیں!

پشاور کبھی بھی اِس قدر ’بے سروسامان‘ اُور ’بے آسرا‘ نہیں تھا کہ دیگر خیبرپختونخوا کے قبائلی و بندوبستی اضلاع اُور جعلی شناختی دستاویز کے ذریعے پاکستان کی شہریت حاصل کرنے والے افغان جرائم پیشہ گروہوں کے اراکین جنہوں نے پشاور میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں یہاں کی ہر نشانی اُور ہر خوبی کو ایک ایک کر مٹا رہے ہیں اُور پشاور تماشا دیکھ رہا ہے۔

صرف سیٹھی ہاؤسیز ہی نہیں بلکہ کئی دیگر نایاب گھر جو فن تعمیر کا نمونہ تھے‘ پشاور کی تاریخ و ثقافت کے گواہ تھے لیکن ملبے کی صورت راتوں رات ’لوٹ‘ لئے گئے ہیں! قبضہ مافیا کے ہاتھ لمبے ہیں جبکہ اہل پشاور بے بس ہیں کیونکہ وہ حقیقی سیاسی و سماجی نمائندگی سے محروم ہیں۔ اِن کی آنکھوں میں آنسوؤں اُور دل غم سے نڈھال ہیں۔ دُکھ بھرے بوجھل وجود کے ساتھ‘ آنسوؤں کی برسات ’خاموش احتجاج‘ کی صورت جاری ہے۔
پشاور کو کون سمجھے گا؟
اہل پشاور کے دُکھ کو کون سمجھے گا؟
پشاور کی مسیحائی کون کرے گا؟

 ”فکر مجھے گلزاروں کی ہے مولا خیر …… بارش تو انگاروں کی ہے مولا خیر
 اُلجھ رہے ہیں سارے مسیحا آپس میں …… فکر کسے بیماروں کی ہے مولا خیر (شمیم فرحت)۔“

……



SethiHouse
In Peshawar's embrace, Sethi House stands tall
Yet vanishing, like memories, with each curtain's fall

Sunday, July 3, 2022

Fish market of Peshawar

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : مچھلی منڈی

شہری زندگی کے دکھ سکھ شمار کئے جائیں تو پشاور کے اندرون شہر گنجان آباد علاقوں کا المیہ یہ سامنے آئے گا کہ یہاں کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوتی ہے۔ انسداد تجاوزات سے لیکر تعمیروترقی تک‘ ہر نیت‘ عزم اُور کوشش کا ایک جیسا مایوس کن نتیجہ سامنے آتا ہے اُور اگر اِس بات پر یقین نہ آئے تو سال 1900ءمیں تعمیر ہونے والے ’گھنٹہ گھر‘ کے اطراف میں دیکھتے ہی دیکھتے قائم ہونے والی ’مچھلی منڈی‘ سے پیدا ہونے والے مسائل و مشکلات کو دیکھا جا سکتا ہے جو بدبو‘ گندگی‘ کیچڑ اُور تجاوزات کا باعث ہے۔ ویسے تو یار لوگ پورے پشاور ہی کو ’مچھلی منڈی‘ قرار دیتے ہیں لیکن حقیقتاً گھنٹہ گھر بازار کی مچھلی منڈی شہر سے باہر منتقل ہونی چاہئے کیونکہ چند برس پہلے تک گھنٹہ گھر بازار کے مقام پر مچھلی فروشوں کی چند ایک دکانیں ہوا کرتی تھیں لیکن اب یہ تھوک (ہول سیل) منڈی کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کا نصف کاروبار فٹ پاتھ پر اُور باقی ہتھ ریڑھیوں کی صورت گھنٹہ گھر سے چوک یادگار تک پھیلا ہوا ہے‘ ظاہر ہے کہ اِس قدر لاقانونیت کے درپردہ بدعنوانی چھپی ہوئی ہے‘ ورنہ کسی کی جرات نہیں ہو سکتی کہ کسی دور دراز ضلع سے پشاور وارد ہو کر یہاں کے بازاروں پر قبضہ کر لے!

 کون نہیں جانتا کہ مچھلی فروشوں نے دکانوں کو گوداموں میں تبدیل کر رکھا ہے جہاں دن کے آغاز پر مچھلی کی نیلامی‘ دن کے وسط میں مچھلی کی فروخت اُور دن کے اختتام پر تلی (ڈیپ فرائی) مچھلی ملتی ہے۔ لائق توجہ نکتہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے گھنٹہ گھر سے ملحقہ بازار (ثقافتی راہداری) کو سیاحوں کے لئے پرکشش بنانے کے جامع منصوبے پر ’60 کروڑ‘ جیسی خطیر رقم خرچ کی لیکن یہ ساری کی ساری کوشش رائیگاں ہو چکی ہے اُور مچھلی فروشوں سمیت گھنٹہ گھر سے بازار کلاں تک دکاندار فٹ پاتھ ہڑپ کر چکے ہیں جبکہ سڑک کے دونوں اطراف پر آٹو رکشاؤں کی اجارہ داری رہتی ہے اُور اِس درمیان ہتھ ریڑھیاں‘ کار پارکنگ اُور بھیک مانگنے والوں کے جھتے آمدورفت کو ناممکن حد تک دشوار بناتے ہیں۔ توجہ طلب ہے کہ ٹریفک جام کی وجہ سے گھنٹہ گھر سے بازار کلاں تک دھویں کے بادل بھی یہاں کی نشانی بن چکے ہیں۔

پشاور کی ثقافتی راہداری کیا ہے؟

 اِس منصوبے پر کل کتنی لاگت آئی؟ اُور اِسے کیوں بنایا گیا؟

 اگر عام آدمی (ہم عوام) اِن سوالات کے جوابات جان لیں تو اُمید ہے کہ اہل پشاور ’ثقافتی راہداری‘ ہی نہیں بلکہ پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑی ہر شے اُور ہر خوبی کی حفاظت کریں گے۔ گورگٹھڑی سے گھنٹہ گھر ثقافتی راہداری (ہیٹریج ٹرائل پراجیکٹ) منصوبے کا سنگ بنیاد سات دسمبر 2017ءکے روز رکھا گیا اُور اِس قریب نصف کلومیٹر رہداری میں گورگٹھڑی کے مغربی دروازے سے گھنٹہ گھر تک 40مکانات کو اصل حالت میں بحال کیا گیا جبکہ ایسی 87 عمارتیں جو جدید فن تعمیر کے مطابق بنائی گئیں تھیں اُنہیں تاریخی شکل و صورت دی گئی اُور یہ سارا کام ’اقوام متحدہ‘ کے وضع کردہ تاریخی عمارتوں کی مرمت‘ بحالی و تحفظ کے اصولوں کے مطابق کیا گیا اُور اِس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ مذکورہ ثقافتی راہداری میں شامل ہر عمارت اُور ہر شے کم سے کم 100 سال پرانی دکھائی دے۔ اِسی ثقافتی راہداری منصوبے میں سیٹھی ہاؤس کی بحالی و مرمت بھی مکمل کی گئی جو محکمۂ آثار قدیمہ کی ملکیت میں سال 2006ءسے تھا اُور یہ مکان 1850ءسے 1884ءکے درمیان تعمیر ہوا تھا۔ اِس منصوبے پر لاگت کا ابتدائی تخمینہ 51 کروڑ (513ملین) روپے تھے جب کہ اِس کی تکمیل تک 70 کروڑ 70 لاکھ (707ملین) روپے خرچ ہو چکے تھے کیونکہ ثقافتی راہداری میں بعدازاں سیٹھی ہاو¿س کی بحالی کو بھی شامل کر لیا گیا اُور اِس ساری کوشش کا مقصد ’پشاور کے پرکشش سیاحتی مقامات میں اضافہ اُور ملکی و غیرملکی سیاحوں کو پشاور کی جانب متوجہ کرنا تھا تاکہ سیاحت کے فروغ سے ملکی و مقامی معیشت کو سہارا دیا جا سکے لیکن ثقافتی راہداری سے جڑا کوئی ایک بھی ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا۔

چند بنیادی سوالات کا جواب کون دے گا؟

1: گورگٹھڑی سے گھنٹہ گھر تک تجاوزات ختم کرنے کی ذمہ داری کسے سونپی جانی چاہئے؟

 2: گورگٹھڑی سے گھنٹہ گھر تک راہداری ہر قسم کی ٹریفک کے ممنوع قرار دی گئی تھی تاہم تاجروں کے دباؤپر اِسے پہلے یک طرفہ ٹریفک کے لئے کھولا گیا اُور بعدازاں ٹریفک یک طرفہ نہیں رہی بلکہ انتہائی بے ہنگم صورت اختیار کر چکی ہے۔ ٹریفک پولیس نے لاکھوں روپے خرچ کر کے ثقافتی راہداری کے داخلی و خارجی راستوں پر آہنی رکاوٹیں کھڑی کیں اُور نگرانی کے لئے کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے بھی نصب کر رکھے ہیں لیکن اِس کے باوجود یک طرفہ ٹریفک کے لئے نصب آلات تک چوری کر لئے گئے۔ ثقافتی راہداری بنانے پر قومی خزانے سے اخراجات کئے گئے اُور اِسے قدیم تعمیراتی شکل و صورت دینے کا مقصد بھی یہی تھا کہ یہاں کی سیر کے لئے آنے والے پشاور کی بودوباش اُور یہاں کے قیام و طعام سے متعلق اچھی یادیں اپنے ساتھ لیکر جائیں لیکن اِس مقصد کا حصول ’منظم ٹریفک‘ کی صورت ممکن ہے جس کے لئے پشاور ٹریفک پولیس کے ایک ایک اہلکار کو اِس کے داخلی‘ خارجی اُور وسطی مقام پر تعینات ہونا چاہئے۔ اگر ٹریفک پولیس کے فیصلہ ساز پورے پشاور کی ٹریفک کو درست نہیں کر سکتے تو کم سے کم ایک کلومیٹر کے علاقے ہی میں ٹریفک کو مثالی شکل و صورت دے سکتے ہیں اُور یہ پولیس کے بااختیار فیصلہ سازوں کی ذہانت و فرض شناسی امتحان (آزمائش) ہے۔

3: ”والڈ سٹی اتھارٹی“ کے نام سے ایک جامع منصوبہ سرد خانے کی نذر ہے‘ جس پر عملدرآمد وقت کی ضرورت ہے۔

4: ثقافتی راہداری کی تعمیر کا کام محکمۂ آثار قدیمہ کے ذریعے مکمل کروایا گیا جنہوں نے عالمی معیار کے مطابق اِس کی نوک پلک سنواری لیکن اِس کے بعد کوئی بھی حکومتی ادارہ اِس ذمہ داری کو تن تنہا اُٹھانے کے لئے تیار نہیں۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ پشاور کی ضلعی حکومت کو ’ٹاؤن ون‘ کی حدود میں اِس ثقافتی راہداری کا نگران و منتظم مقرر کیا جائے تاکہ کروڑوں روپے کی اِس تعمیر کو نقصان پہنچانے اُور اِس کے اثاثے چوری کرنے والوں نمٹا جا سکے۔

5: ثقافتی راہداری سے متصل تجارتی مراکز اُور بازاروں کی الگ الگ تاجر و دکاندار تنظیمیں موجود ہیں‘ جنہیں اِس راہداری کی حفاظت و خوبصورتی کے عمل میں شریک بنایا جا سکتا ہے۔ دکاندار دن کے اختتام اُور دن کے آغاز پر گندگی پھیلاتے ہیں جسے رش کے باعث سارا دن نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ دکاندار صفائی ستھرائی اُور پانی جیسی سہولیات سے استفادہ تو کرتے ہیں لیکن وہ اِن خدمات کے عوض معمولی (واجبی) ماہانہ فیس ادا نہیں کر رہے تو اِس سلسلے میں ٹاؤن ون کے منتخب بلدیاتی نمائندے ثقافتی راہداری اُور اِس کے اطراف میں فن تعمیر کی شاہکار عمارتوں کے لئے خطرہ بنے عوامل کا ۔

 6: ثقافتی راہداری سے متصل رہائشی علاقوں کے مکینوں سے نمائندہ افراد کو نگران و انتظامی کمیٹی کا حصہ بنایا جائے‘ جن کی آمدروفت اُور معمولات ِزندگی شہری و رہائشی علاقوں کے درمیان ختم ہوتی تمیز و تفریق کے باعث شدید متاثر ہے لیکن اُن کی فریاد سننے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں۔ وقت ہے کہ پشاور شہر کے وسائل پر اغیار کے تصرف کو قواعد پر بلاامتیاز و سخت ترین عمل درآمد سے کم کیا جائے۔

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar 03 July 2022 Sunday

Zarf e Nigha Logo


Thursday, October 19, 2017

Oct 2017: Gorkhattree the wonder in wonders!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
گورگٹھڑی: کون کیا چاہتا ہے!؟
محکمۂ آثار قدیمہ (خیبرپختونخوا) کی کوشش ہے کہ ’’پشاور شہر کے وسط میں واقع قریب تین ہزار سال پرانی عمارت ’گورگٹھڑی (گورگھ دی ہٹی)‘ کے باقی ماندہ حصوں کو اُس کی تاریخی اہمیت اور اصل کے مطابق ’بحال‘ کر دیا جائے۔‘‘ اِس عمارت کو پہلے ہی ’’پاکستان کے پہلے آرکیالوجیکل پارک‘‘ کا درجہ دیا جاچکا ہے اور یہاں پشاور شہر کی تاریخ کے حوالے سے ایک عدد عجائب گھر (سٹی میوزیم) بھی قائم ہے۔ اگرچہ بہت کم پشاوریوں کو اِس بات کا علم ہوگا کہ اُن کے شہر کی پہلی اینٹ قریب چھبیس سو سال پہلے رکھنے جیسا انکشاف (ڈسکوری) بھی ’گورگٹھڑی‘ ہی کے مقام پر ہونے والی متعدد کھدائیوں سے کی گئی اور ایسی ہی ایک کھدائی کو اُس کی اصل حالت میں دائم رکھا گیا ہے تاکہ نہ صرف ’آثار قدیمہ‘ کا علم حاصل کرنے والے طالب علم‘ ملکی و غیرملکی تحقیق کاروں‘ دلچسپی رکھنے والے سیاحوں بلکہ نئی نسل کو بھی پشاور‘ اِس خطے اور پاکستان و بھارت (برصغیر پاک و ہند) کی تاریخ جاننے اور اِس کے بارے میں مزید غور کرنے کی ترغیب و مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ یوں سندی تاریخی اعتبار کے علاؤہ ’گورگٹھڑی‘ کی اہمیت علمی و تحقیقی اعتبار سے ہٹ کر ایک حوالہ مذہب بھی ہے کہ یہاں کئی مندروں پر مشتمل ہندو مذہب کی مقدس عبادت گاہیں موجود ہیں اور اگر ’گورگٹھڑی‘ کو اُس کے اصل کے مطابق بحال کر دیا جاتا ہے تو اِس سے پشاور میں ’’مذہبی سیاحتی‘‘ کے موجود اِمکانات میں ایک بیش قیمت نگینے (ہیرے) کا اِضافہ ہو جائے گا۔

تحریک انصاف کی قیادت میں ’خیبرپختونخوا حکومت‘ یہ چاہتی ہے کہ ۔۔۔ ’’پشاور ہائی کورٹ‘‘ کے اُن احکامات کو عملی جامہ پہنایا جائے‘ جس کے مطابق ۔۔۔ ’گورگٹھڑی‘ کے اِحاطے میں تعمیر ہونے والا شادی ہال ’تجاوز‘ ہے‘ جس کا اِس عمارت میں وجود کسی بھی طرح ضروری نہیں اور اسے ’فوری طور پر مسمار کر دیا جائے‘‘ لیکن ماضی کے حکمران مصلحتوں کا شکار رہے اُور اُنہوں نے عدالتی احکامات کو حیلوں بہانوں سے پس پشت ڈالے رکھا۔ عدالتی احکامات کی تعمیل نہ ہونے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ صوبائی اور پشاور کی ضلعی حکومتوں (ٹاؤن ون) نے مذکورہ شادی ہال قوم پرست صوبائی وزیر (رُکن اسمبلی) کو اَجارے (لیز) پر دے دیا‘ جن کی کوشش تھی کہ شادی ہال سمیت تمام ’گورگٹھڑی‘ ہی اَجارے پر لینے کے بعد اِسے پارٹی کارکنوں میں تقسیم کر دیا جائے اُور یہاں روائتی دستکاروں‘ ہنرمندوں اُور کھانے پینے کے مراکز (فوڈ سٹریٹ) ہونا چاہئے۔ تصور کیجئے کہ تاریخی اہمیت کی حامل ایک عمارت‘ کہ جس میں فضل حق کے آمرانہ دور میں شادی ہال تعمیر کیا گیا اور پھر تین دہائیوں بعد اُسے سیاسی ملی بھگت سے ہڑپ لینے کی کوشش کی گئی!

پشاور کے تاریخی اَثاثوں کے لئے دردمند مؤقف رکھنے والے مطالبہ کرتے ہیں کہ ۔۔۔ ’گورگٹھڑی‘ کے اَحاطے (صحن) میں قائم ’باغات (پبلک پارکس)‘ کی تعداد اور سبزہ زاروں میں اضافہ کیا جائے۔ نجی اداروں کو عمارت کے احاطے میں کسی بھی قسم کی کمرشل (بڑے پیمانے پر) سرگرمیوں کے انعقاد کی اجازت نہ دی جائے جس سے یہاں کے سبزہ زاروں‘ راہداریوں یا درودیوار کو تراش خراش سے نقصان پہنچے۔ قریب ایک مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ’گورگٹھڑی‘ کا استعمال سرکاری گاڑیوں کو کھڑا (پارکنگ) کے لئے بھی نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس کا کوئی بھی حصہ سرکاری و نجی تجارتی‘ کاروباری یا دیگر سرگرمیوں کے کیا جائے۔ گورگٹھڑی ایک نعمت ہے‘ جس کے ذریعے نہ صرف ملحقہ گنجان آباد اندرون پشاور کے علاقوں میں ماحولیات توازن قائم ہے بلکہ اِس کے اطراف چھ یونین کونسلوں سے ’ہلکی پھلکی ورزش (صبح کی سیر اور واک) کے لئے آنے والے مردوخواتین کے علاؤہ بچوں کے لئے ’’صحت مند تفریح‘‘ کا ذریعہ ہے اور اہل علاقہ بالخصوص نئی نسل کو پشاور کے ماضی سے متعارف کرانے کی سبیل ہے۔ محکمۂ موسمیات خبردار کر چکی ہے کہ ہر سال گرمیوں کے ایک دن میں اضافہ ہو رہا ہے اور اگر ماحول کی تباہی اِسی طرح جاری رہی تو آئندہ پندرہ برس بعد چند دنوں کے لئے آنے والا ’موسم بہار‘ نہیں رہے گا۔ ماحول اگر ترجیح ہے تو ’گورگٹھڑی‘ کو بطور سبزہ زار اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سردمہر ضلعی حکومت کی سوچ ہے کہ گورگٹھڑی میں قائم ’کتب خانہ (لائبریری)‘ راتوں رات (13 اکتوبر کی شب) اچانک مسمار کرنے سے پہلے اُسے اعتماد میں لیا جاتا اور یہ کام خوش اسلوبی سے کرنا بھی ممکن تھا۔ چھ سے سات ہزار کتب کا ذخیرہ رکھنے والی مذکورہ میونسپل لائبریری کا قیام 1914ء میں ہوا تھا جس میں عطیہ کی گئی سینکڑوں ایسے نسخے موجود ہیں‘ جو نایاب ہو چکے ہیں۔ مادی ترقی کے دور میں چونکہ نئی نسل کا تعلق کتاب سے زیادہ ’انٹرنیٹ‘ سے جڑ چکا ہے اِس لئے لائبریریاں ویران دکھائی دیتی ہیں! تو ’’کتاب سے دوستی‘‘ کے لئے نئے وسائل اور ذرائع سے استفادہ بھی ہونا چاہئے۔ شادی ہال سے متصل لائبریری سے کتابیں بوریوں میں بھر کر شاہی باغ (شالیمار گارڈن) کے اُس حصے میں فرش پر پھینک (ڈھیر کر) دی گئی ہیں جو ’فٹ بال ایسوسی ایشن‘ نے بنایا ہے۔ اس سلسلے میں جب لائبریرین سے بات کی گئی تو وہ کافی دُکھی پائی گئیں اور گلہ کیا کہ سرکاری اِداروں کو مربوط اور ایک دوسرے پر اعتماد (بھروسہ) کرنا چاہئے۔ وہ ایک کتابیں ایک خزانہ تھا‘ اُس کتب خانے کا فرنیچر اور دیگر اَشیاء اثاثہ تھا۔ سب کچھ تہس نہس کر دیا گیا۔ بہت سی کتابیں اُور سازوسامان گم ہو چکا ہے۔ 

میونسپل لائبریری کبھی بھی ’ضلعی حکومت‘ کی ترجیح نہیں رہی‘ یہی وجہ ہے کہ ’’ڈپٹی ڈائریکٹر‘ ویمن پروگرام‘‘ کو مذکورہ لائبریری کی اضافی ذمہ داریاں سونپی گئیں‘ جن کا کہنا ہے کہ وہ اُردو اخبار نہیں پڑھتیں۔ پردہ باغ میں زیب دفتر ہیں اور لائبریری کے بیس سے پچیس افراد کے عملے کی نگران ہونے کے علاؤہ پچاس دستکاری (ہنرمندی) کے سنٹرز اُن کی بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔ محترمہ کا کہنا ہے کہ ’’لائبریری مسمار ہونے سے اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو وہ پشاور ہے اُور پشاور کو اِس کا احساس تک نہیں!‘‘
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-10-19

Saturday, April 29, 2017

Apr2017: CPEC & exclusivity!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انحصاریت
’چین پاکستان اِقتصادی راہداری (سی پیک)‘ منصوبے سے ’خیبرپختونخوا کے اِقتصادی مفادات‘ بھی لاتعداد اُمیدوں اور خوابوں کی طرح وابستہ ہیں۔ اِس سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں رواں ماہ ’سولہ سے اٹھارہ اپریل‘ عوامی جمہوریہ چین دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس لوٹ آیا ہے اور ہر سرکاری دورے کی طرح اِس مرتبہ بھی ’کامیابی کا دعویٰ‘ کیا جارہا ہے‘ جس کی تصدیق آئندہ چند برس میں خودبخود سامنے آ جائے گی۔ خیبرپختونخوا کے وفد نے چین حکومت اور نجی اداروں کے ساتھ مجموعی طور پر 82 منصوبوں سے متعلق مفاہمت کی یاداشتوں (ایم اُو یوز) پر دستخط کئے‘ جن سے مجموعی طورپر ’دواِعشاریہ چار کھرب روپے‘ مالیت کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

ترقی کا ہر کام‘ اپنی ہر ذمہ داری ’سی پیک‘ سے منسلک کرنا کہاں کی سمجھ داری ہے اور یہ حکمت عملی خیبرپختونخوا کی ثقافت‘ رہن سہن اُور بول چال پر کس قدر مثبت اور منفی اثرات مرتب کرے گی‘ اِس بارے میں کوئی سوچنا ہی نہیں چاہتا۔ سب کی نظریں چین کی آسمان سے باتیں کرتی ترقی پر مرکوز ہیں‘ جس کی بنیادیں ایک مخلص و ایماندار قیادت نے رکھی تھیں! کیا ہم کسی ایسی بند گلی کے آخری حصے تک آ پہنچے ہیں جہاں سے واپسی اور مزید سفر کی تدابیر سجھائی نہیں دے رہیں؟

کہیں چین چین کرتے ہم اپنی چال ہی سے تو ہاتھ نہیں دھو بیٹھیں گے؟ اُور اگر جان کی امان ہو تو فیصلہ سازوں سے سب سوالوں کا ایک ہی سوال پوچھنے کی جسارت کر لی جائے کہ کیا چین پر بڑھتی ہوئی ’اِنحصاریت (exclusivity)‘ کے علاؤہ ترقی ممکن ہی نہیں رہی؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا اِقتصادی تعاون ’روڈ شو‘ کا بنیادی مقصد اِس تاثر کو زائل کرنا تھا کہ صوبائی حکومت ’مغربی راہداری‘ کے مطالبے کی وجہ سے ’سی پیک مخالف‘ ہو چکی ہے جبکہ خود وزیراعلیٰ بارہا کہہ چکے تھے کہ ’خیبرپختونخوا‘ سی پیک کی ملکیت رکھتا ہے تو اِس سے دستبردار یا اِس کا مخالف کیسے ہو سکتا ہے؟ بہرحال ایک سرکاری دورہ ہوا‘ جس کا نام ’’خیبرپختونخوا اقتصادی تعاون ’روڈ شو‘‘ تھا اور اس کی سب سے خاص بات (اگر خبر اور خبریت کی تلاش مقصود ہو تو) یہ ہے کہ چین خیبرپختونخوا میں جو ’دو کھرب روپے‘ سے زائد مالیت کی سرمایہ کاری کرے گا‘ جو بطور قرض نہیں بلکہ خالص امداد ہوگی اور صوبائی یا وفاقی حکومت کے وسائل سے کچھ بھی خرچ کرنا نہیں پڑے گا۔ کیا چین حکومت اور نجی اداروں کے پاس ’دوکھرب پاکستانی روپے سے زائد جیسی خطیر رقم یونہی پڑی ہوئی تھی‘ جسے وہ ہنستے مسکراتے خیبرپختونخوا میں بطور امداد (انسانی دوستی کے جذبے واحترام میں) خرچ کرنے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے؟ یاد رہے کہ دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں ہوتا لیکن اُس کی قیمت کوئی نہ کوئی ادا کر رہا ہوتا ہے!

مشاورت در مشاورت کے مراحل کب اور کہاں مکمل ہوئے اِس بارے تفصیلات دستیاب نہیں لیکن چین حکومت کی جانب سے ’خیبرپختونخوا میں سیاحت کی ترقی‘ اُور ’آثار قدیمہ سے متعلق علوم کے فروغ تحفظ‘ قدیم عمارتوں کے بحالی اور عجائب گھروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے بھی ’دو منصوبوں‘ کا انتخاب ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد بھی چین کے دورے پر تھے جنہوں نے اپنے محکمے کی جانب سے مذکورہ مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے۔ جن کی تفصیلات کے مطابق ’سی پیک‘ منصوبے سے منسلک راستوں پر ’20‘ ایسے تاریخی مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے‘ جنہیں چین کے شمال مغربی صوبے ’شانسئی (Shaanx)‘ کی حکومت کے مالی و تکنیکی تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔ اِن بیس مقامات میں (گورگٹھڑی) پشاور‘ سوات‘ مردان‘ ہری پور‘ چترال اُور ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامات شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ چین کے ’شانسئی‘ صوبے ہی سے ’شاہراہ ریشم‘ کا آغاز ہوتا ہے اور پاکستان کے راستے برصغیر و مشرق وسطی کے ممالک تک چین کی تجارت کا یہ راستہ پانچ ہزار سال پرانا ہے۔ جو ماہرین یہ سمجھ رہے ہیں کہ ’سی پیک‘ منصوبہ اپنی نوعیت کا منفرد‘ اچھوتا اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کا پہلا ایسا منصوبہ (انوکھا تصور) ہے تو انہیں خطے کی اُس پانچ ہزار سال پرانی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے‘ جس میں اشیاء کے بدلے اشیاء کی تجارت کا ایک ایسا جال (نیٹ ورک) پھیلا ہوا تھا‘ جس میں صرف چین کے تاجر ہی نہیں بلکہ سیاح بھی یہاں کا دورہ کرنے آتے تھے اور پشاور سمیت خطے کے کئی ایسے ممالک ہیں‘ جن کی آج (معلوم و) مستند تاریخ کے حوالے (انحصار اِنہی) چینی سیاحوں کے قلم سے اخذ کردہ معلومات پر بنیاد کرتی ہیں۔ بہرحال ’شانسئی صوبہ‘ نہ صرف ’شاہراہ ریشم‘ کے آغاز کا نکتہ ہے بلکہ آثارقدیمہ کے لحاظ سے بھی چینی تاریخ و ثقافت کا مرکز ہے۔ جہاں چین کے بادشاہ ’قین شی ہواینگ (Qin Shi Huang)‘ کے فوجیوں کے ہزاروں کی تعداد میں ’مٹی کے مجسمے‘ نمائش کے لئے رکھے ہیں۔

صوبہ ’شانسئی‘ کے فنی و تکنیکی تعاون سے خیبرپختونخوا کے ’آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ‘ کی اَفرادی قوت کو تربیت بھی دی جائے گی‘ جنہیں عجائب گھروں کے انتظامات‘ نمائش کے طور طریقوں اُور جدید اسلوب سکھائے جائیں گے۔ اُمید ہے چین کے ہاں سے نصابی کتابی علم کے ہمراہ ’تعمیروترقی کا وہ بلند معیار‘ بھی ہمراہ آئے گا جو امانت و دیانت کے ساتھ فرائض کی انجام دہی میں یک سوئی پر مبنی ہے۔ کیا ہمارے ہاں کے سرکاری ملازمین کا موازنہ چین کی تعمیروترقی میں جڑے فرض شناسوں سے ممکن ہے‘ جنہیں ہمارے ہاں کی طرح مادر پدر آزادیاں اور ’فری اکنامی‘ جیسی سرمایہ دارانہ رعونت بھی حاصل نہیں! آج یا کل نتیجہ یہی اخذ ہوگا کہ قومیں تعمیرات سے نہیں بلکہ انفرادی واجتماعی حیثیت میں فرض شناسی پر ارتقائی مراحل طے کرتی ہیں اور چین سے ترقی بطور امداد یا قرض طلب کرنے والوں کو یہ دیکھنا چاہئے کہ کس طرح چین کے معاشرے نے زرعی‘ صنعتی پیداوار‘ معاشی‘ اقتصادی اور دفاع جیسے کلیدی شعبوں ہی میں مربوط ترقی نہیں کی بلکہ اُنہوں نے دنیا کو قومیت کا ایک ایسا نکھرا نکھرا (خودار) تصور بھی دیا ہے جس میں اپنی (مادری) زبان و ثقافت (بودوباش) کی اہمیت ترقی کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے!

Wednesday, April 19, 2017

Apr2017: Peshawar need Quick response!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پشاور کے حقوق: جلد اَز جلد!
وحشت ہو یا نہ ہو لیکن پشاور کا نقشہ جس زوایئے سے بھی دیکھیں اُلٹا دکھائی دیتا ہے! تعمیروترقی کے نام پر ’’اعمال کی کہانی‘‘ کا سرنامہ کلام یہ ہے کہ ’’پشاور کا ماضی و حال ایک جیسا دکھائی دے رہا ہے۔ آخر وہ تبدیلی کیوں نہیں آ رہی جس کا ہر عام انتخاب میں وعدہ کیا جاتا ہے جبکہ ہر دور حکومت میں‘ ہر ترقیاتی حکمت عملی میں اُور یعنی ہر مالی سال کے آغاز پر ’ترقیاتی کاموں‘ کے لئے وسائل باقاعدگی سے مختص اُور خرچ کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں؟ 

سبھی سوالات کا جواب ’سیاسی و انتخابی ترجیحات‘ ہیں جن کی وجہ سے فیصلہ ساز مصلحتوں کا شکار رہے ہیں۔ ترقیاتی عمل کے لئے ’ذمہ دار اِداروں‘ کے درمیان آپسی ’تعاون نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی ’عدم مربوطیت‘ کے باعث نہ صرف قیمتی مالی وسائل ضائع ہوئے بلکہ کئی ایسے علاقے بھی ہیں‘ جہاں ترقی کے نام پر حکومتی اِداروں کی کارکردگی ’افتتاحی تختیاں‘ تک محدود دکھائی دیتی ہے! ’خواب سہانا (سترہ اَپریل)‘ اُور ’ترجیحات: پشاور کے مفادات (اَٹھارہ اپریل)‘ کے ذریعے پشاور میں ’ترقی کا جو منظرنامہ‘ پیش کیا گیا‘ اُس میں تحریک انصاف کی صوبائی و ضلعی حکومتوں نے تبدیلی (اصلاح) کے لئے جو قابل ذکر (ٹھوس) اقدامات کئے اُن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ’پشاور ہیرٹیج ٹریل ڈویلپمنٹ پراجیکٹ‘ کے تحت ترقیاتی امور سے متعلق جملہ 12 اِداروں کو باہم مربوط کر دیا گیا ہے اُور اُمید ہے کہ گورگٹھڑی سے چوک یادگار تک ترقی کا جو خاکہ اور منصوبہ بنایا گیا وہ بروقت مکمل کر لیا جائے گا۔ چین سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ’’اِقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے‘‘ میں ’پشاور کو شامل‘ کرتے ہوئے جن پانچ منصوبوں کے لئے مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں اُن میں پشاور کا رنگ روڈ مکمل کرنے کے لئے 12ارب روپے ‘ چمکنی کے مقام پر نئے جنرل بس اسٹینڈ کی تعمیر کے لئے 10ارب روپے‘ موجودہ جنرل بس اسٹینڈ میں ’سی پیک ٹاور‘ کے لئے 5 ارب روپے‘ ریگی ماڈل ٹاؤن شپ میں 22 ارب روپے کا ’’ہیلتھ سٹی‘‘ اُور کمرشل و ریزیڈینشل سنٹر کے لئے 11 ارب روپے‘ کی بیرونی سرمایہ کاری آئے گی اور مفاہمت کی دستاویزات پر دستخطوں کے بعد صوبائی حکومت اِن منصوبوں کے ’پی سی ون‘ تیار کرے گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ گورگٹھڑی سے متعلق ایک ترقیاتی منصوبے پر چین سے سرمایہ کاری متوقع ہے!

تخیلات کی حد نہیں۔ ترقی کے امکانات اور ضروریات لامحدود ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ’ہیرٹیج ٹریل ڈویلپمنٹ پراجیکٹ‘ پشاور کی قسمت بدل سکتا ہے اگر اِس پر کام حسب حکمت عملی شروع اور اِسے ’دن رات‘ ایک کرکے مکمل کر لیا جائے اور اگر ایسا کر لیا گیا تو کم سے کم اندرون پشاور سے تحریک انصاف کو انتخابی شکست نہیں دی جا سکے گی! لیکن تعجب خیز امر یہ ہے کہ ایک طرف وزیراعلیٰ اور ضلعی ناظم نے آثار قدیمہ کے ماہر کو ’شہر کی ترقی‘ سونپی جبکہ اُن کا علم و تجربہ شہری ترقی سے متعلق نہیں ہے اور دوسری جانب اُسی ماہر آثار قدیمہ کو اپنے ساتھ چین کے دُورے پر لے گئے ہیں جبکہ ضرورت اِس امر کی تھی کہ گورگٹھڑی سے چوک یادگار تک تعمیرات کے لئے تمام تر توانیاں‘ وسائل اور دستیاب وقت کا ہر منٹ مرکوز کر دیا جاتا۔ بہرکیف گورگٹھڑی سے چوک یادگار تک ’450 میٹر‘ طویل سڑک کے دونوں اطراف 16 اضافی گلیوں کی تعمیر بھی منصوبے کے حصہ ہے جسے گذشتہ سال منظور کر لیا گیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر اِس ترقیاتی کام شروع نہ ہوسکا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے مایوسی کی یہی وجہ رہی ہوگی کہ ’سول ورک‘ کا کام متعلقہ حکومتی ادارے کو دینے کی بجائے ایک ماہر آثار قدیمہ کو سونپ دیا گیا کہ چلو کوئی تو اِس کو انجام تک پہنچائے گا۔ حسب منصوبہ بندی رواں برس ماہ اگست کے بعد تعمیراتی کام (سول ورک) شروع ہو گا‘ جس کے ڈیزائن کی پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے اور اگر حالات معمول پر رہتے ہیں تو اُمید ہے کہ اگست میں شروع ہونے والا کام دسمبر کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ دسمبر 2016ء سے ’گورگٹھڑی‘ کی عمارت کو صرف خیبرپختونخوا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا پہلا ’آرکیالوجیکل پارک‘ قرار دیا جا چکا ہے لیکن اِس بارے شاید ہی اہل پشاور کو علم ہو کہ ’آرکیالوجیکل پارک‘ کیا ہوتا ہے؟ 

عام آدمی (ہم عوام) کی آثار قدیمہ سے متعلق علوم سے لاعلمی و اپنے ہی پشاور کے تاریخی تعمیراتی اثاثوں سے لاتعلقی نے بہت سے سرکاری محکموں کا کام آسان کر دیا ہے‘ جنہیں نمائشی بورڈ یا سنگ بنیاد و افتتاحی تختیاں آویزاں کرنے سے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔ پشاور کے کم سے کم پانچ خاندان ایسے ہیں جنہوں یہاں کے مختلف انتخابی حلقوں سے بطور اُمیدوار حصہ لینے کا ٹھیکہ اُٹھا رکھا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ پشاور کو ترقی سے محروم رکھنا یا غیرپائیدار ترقی اُن کے لئے مستقبل میں کمائی کے کتنے دروازے کھول دے گی! گورگٹھڑی سے چوک یادگار تک جن گلیوں کو ترقیاتی حکمت عملی میں شامل کیا گیا ہے‘ اُن کے بارے مقامی افراد کو اعتماد میں لینے کے لئے ذرائع ابلاغ سے زیادہ کوئی دوسرا مؤثر پلیٹ فارم نہیں۔

گورگٹھڑی کے احاطے میں قائم شادی ہال اور دیگر پختہ تعمیرات کو ’تجاوزات‘ قرار دے کر مسمار کرنے کا حکم پشاور ہائی کورٹ نے ایک مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد نہایت سوچ سمجھ کر دیا تھا۔ مذکورہ مقدمہ گرینز گروپ آف ہوٹلز اور میونسپل کارپوریشن پشاور کے درمیان 28 مارچ 2016ء کو عدالت کے روبرو پیش ہوا‘ جس پر فیصلہ یکم اپریل 2016ء کو آیا اور اِس فیصلے کی رو سے شادی ہال سمیت گورگٹھڑی کے احاطے میں کی جانے والی تمام تعمیرات کو مسمار کرنا تھا۔ اگر اُنیس صفحات پر مشتمل اِس عدالتی فیصلے پر کئی مضامین تحریر کئے جا سکتے ہیں کیونکہ اِس میں دیگر صوبوں کی مثالیں اور اُس جعل سازی کا بھی ذکر بطور حوالہ موجود ہے‘ جو تحریک انصاف سے قبل پشاور کی ضلعی اورصوبائی حکومتوں کے فیصلہ سازوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کیا۔ جو قارئین اِس عدالتی فیصلے کی دستاویز کا بذات خود تفصیلی مطالعہ کرنا چاہیں وہ بذریعہ برقی مکتوب (اِی میل) peshavar@gmail.com یا ٹوئٹر اکاونٹ @peshavar رابطہ کرکے اِس فیصلے کی ’پی ڈی ایف فائل‘ بلاقیمت حاصل کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود گورگٹھڑی کے احاطے میں مذکورہ شادی ہال اور دیگر پختہ تعمیرات (تجاوزات) مسمار نہیں کی جاسکیں؟ یہ سوال جب چین کے دورے پر گئے ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹرعبدالصمد سے بذریعہ ’واٹس ایپ‘ پوچھا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ ’’شادی ہال اور دیگر تعمیرات کا قبضہ اُنہیں حاصل ہوگیا ہے لیکن مذکورہ عمارت کو فوری طور پر نہیں لیکن بہرحال مسمار کیا جائے گا۔‘‘ 

ڈائریکٹر آرکیالوجی کو سمجھنا ہوگا کہ تحریک انصاف کی صوبائی و ضلعی حکومت کا دور کسی نعمت سے کم نہیں اور اگر انہوں نے موجودہ دور حکومت میں یہ کام نہ کیا تو آئندہ عام انتخابات کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں‘ عین ممکن ہے تحریک انصاف کو ماضی کی طرح پشاور شہر سے اکثریتی نشستیں حاصل نہ ہوں۔ ڈائریکٹر آرکیالوجی بخوبی جانتے ہیں کہ ایک وقت میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان گورگٹھڑی کا دورہ کرنے کے خواہشمند تھے اور اِس سلسلے میں استقبالیہ کے انتظامات بھی مکمل کر لئے گئے تھے لیکن آخری لمحے ایک رکن صوبائی اسمبلی نے عمران خان کو اپنے ہی حلقے کی ’’شان و شوکت‘‘ والی اِس خاص عمارت کے دورہ کرنے سے روک دیا۔ گورگٹھڑی کی اہمیت اور احساس ہر کسی کا نصیب نہیں۔ ضروری نہیں کہ پشاور میں رہنے والا ہر شخص اِس کی محبت سے سرشار ہو اُور یہ بھی لازم نہیں کہ پشاور شناسی یہاں آ کر آباد ہونے والوں کی رگوں میں خون کی طرح گردش کر رہی ہو! لہٰذا تحریک انصاف کی صوبائی اور ضلعی حکومتوں سے ملنے والی توجہ‘ وسائل اور پشاور کے حقوق اَدا کرنے کی شدید خواہش جس قدر جلد بلکہ ’جلدازجلد‘ عملاً پوری کر دی جائے‘ اُتنا ہی بہتر اور پشاور کے حق میں مفید ہوگا۔

Monday, April 17, 2017

Apr2017: Development in Hurry!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

خواب سہانا!



اکتیس مئی دوہزار تیرہ: ’خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی‘ کے اراکین صوبے کے ’بائیسویں وزیراعلی‘ کے لئے پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پرویز خٹک کو اکثریت رائے یعنی 84 ووٹوں سے منتخب کیا جبکہ اُن کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے حمایت یافتہ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے نامزد اُمیدوار مولانا لطف الرحمن 37 اراکین کی حمایت حاصل کر سکے اور یوں ایک روز قبل اسپیکر کے عہدے پر فائز ہونے والے اسد قیصر کے لئے اپنے ہی ’ہم جماعت‘ کی بطور ’وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا‘ کامیابی کے اعلان سے ایک ایسا دور شروع ہوا‘ جس میں صوبائی حکومت سے انقلابی و جنونی تبدیلیوں اور اصلاحات کی توقعات آسمان سے باتیں کر رہی تھیں بالخصوص پشاور سے صوبائی اسمبلی کی 11 نشستوں پر کامیاب ہونے والوں کے سامنے ترقی سے محروم ایک ایسا شہر تھا‘ جس کے وسائل پر آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے سبب پینے کے صاف پانی کی قلت‘ نکاسئ آب کا اَبتر نظام اُور کوڑا کرکٹ (ٹھوس گندگی) ٹھکانے لگانے جیسے تین بنیادی کام بحرانوں کی صورت منتظر تھے اور یہ مسائل آج بھی حل نہیں ہوسکے تو ذمہ دار کون ہے؟

 پندرہ اپریل دوہزار سترہ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ’’پشاور ہیرٹیج ٹریل‘‘ کے نام سے ’کثیرالجہتی‘ ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی‘ جس کے تحت اندرون شہر ہر قسم کی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ سڑکیں کشادہ کرنے کے ساتھ تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا۔ ’ٹف ٹائلز‘ سے فٹ پاتھ بنائے جائیں گے۔ بجلی‘ ٹیلی فون کی تاریں‘ نکاسئ آب سمیت تمام یوٹیلیز زمین دوز بنائی جائیں گی۔ قدیمی تاریخی عمارتوں کی تعمیرومرمت‘ بحالی اُور آرائش کی جائے گی۔ اِس منصوبے میں شہری ترقی اور تعمیرات کے 12 محکمے ’آرکیالوجی (آثارقدیمہ)‘ کی معاونت کریں گے اور اِس پورے منصوبے کی نگرانی ضلع ناظم اُور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تشکیل پانے والی کمیٹیاں کریں گی۔ پہلے مرحلے میں گورگٹھڑی (تحصیل) سے بازار کلاں‘ مینا بازار‘ گھنٹہ گھر تا چوک یادگار تک کھدائی کر کے دن رات کام کیا جائے گا تاکہ ’’تین مہینے (کی ریکارڈ مدت)‘‘ میں یہ کام مکمل کر لئے جائیں۔

’’پشاور ہیرٹیج ٹریل ڈویلپمنٹ پراجیکٹ‘‘ میں محکمۂ آثار قدیمہ کو شامل کرنا خوش آئند ہے لیکن ناقابل فہم بات یہ ہے کہ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر (سربراہ) بننے سے ڈاکٹر عبدالصمد ’گورگٹھڑی (تحصیل)‘ کی عمارت کسی بھی قسم تجارتی یا ایسی صنعتی و کاروباری سرگرمی کے لئے استعمال کے سب سے بڑے مخالف (ایڈوکیٹ) تھے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ’آف دی ریکارڈ‘ ایسی تکنیکی (تفصیلی) معلومات فراہم کیا کرتے تھے‘ جس سے اُس وقت کے ڈائریکٹر آرکیالوجی‘ صوبائی وزیر سیاحت و ثقافت‘ وفاقی حکومت اُور ضلعی حکومت کو ’گورگٹھڑی‘ کی تاریخی اہمیت کا احساس ہو۔ آثار قدیمہ کے قواعدوضوابط کی روشنی میں ’’گورگٹھڑی کے درودیوار میں چاہے وہ مغلیہ عہد کی تعمیرات ہوں یا ڈھائی ہزار سال قبل سے تعلق رکھتے ہوں‘ اُن میں ایک کیل بھی نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ یہ ایک عالمی اثاثہ ہے اور اِسے ’پاکستان کا پہلا آرکیالوجیکل پارک‘ بنایا جانا چاہئے۔ وہ سبھی تحاریک نجانے کیوں ختم ہو گئیں اور آج ’محکمۂ آثار قدیمہ‘ گورگٹھڑی کے ایک حصے میں مغلیہ عہد کی اُس سرائے کو ’آرٹیزن ویلیج‘ بنانا چاہتا ہے جس منصوبے میں سنگین نوعیت کی مالی بدعنوانیاں پائی جاتی ہیں اور اگر وزیراعلیٰ سمیت پشاور سے منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے غیرمقامی اراکین صوبائی اسمبلی فرصت کے کسی لمحے ماضی میں ہوئی محکمہ ثقافت و سیاحت کی کارستانیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ کس طرح افسرشاہی اور اُن کے ہم منصبوں نے ’پشاور کے وسائل‘ کی لوٹ مار کی اور بجائے ماضی کی غلطیوں کا ازالہ اور ملوث کرداروں کو بے نقاب کرکے سزا دینے ایک ایسا منصوبہ جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جو کسی بھی صورت ’گورگٹھڑی‘ کے مفاد میں نہیں اور اِس سلسلے میں رہنمائی کے لئے پشاور ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ بھی موجود ہے۔

وقت تیزی سے گزر رہا ہے‘ جس کی اہمیت کا احساس ہونا چاہئے۔ خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کا صوبائی اسمبلی سے انتخاب (اکتیس مئی دو ہزار تیرہ) سے ’’پشاور ہیرٹیج ٹریل‘‘ کے اعلان (پندرہ اپریل دوہزار سترہ) تک موجودہ صوبائی حکومت کے ’’تین سال‘ دس ماہ اُور پندرہ دن‘‘ قطعی معمولی عرصہ نہیں۔ اَگر اِن ’’1415 ایام‘‘ کی قدروقیمت کا احساس کر لیا گیا ہوتا تو آج پشاور کی یہ حالت نہ ہوتی۔ چودہ سو پندرہ دنوں میں سے اگر تمام سرکاری اور ہفتہ وار تعطیلات منہا بھی کر لی جائیں تو بھی 960 دن (ورکنگ ڈیز) میں بہت کچھ ایسا ممکن بنایا جا سکتا تھا‘ جس سے پشاور کو اُس کا شاندار ماضی جیسی صاف ستھری‘ معطر آب و ہوا نہ سہی لیکن کم سے کم ایک ایسا ’جدید شہر‘ ضرور بنایا جا سکتا تھا‘ جس کی پاکستان میں مثال نہ ملتی!

’’پشاور ہیرٹیج ٹریل‘‘ کے ذریعے پشاور کی ترقی کا ’سہانا خواب‘ ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ 

تاریخ و ثقافت اُور آثار قدیمہ کی حفاظت اور اِن کی شان و شوکت بحال کرنے کے لئے ’پائیدار و متوازی ترقی‘ کے جو ’’نئے اہداف‘‘ (بلندبانگ دعوے) مقرر (ارشاد) کئے گئے ہیں‘ اُن کی کامیابی کے لئے ڈھیروں دعاؤں اور تمناؤں کے ساتھ‘ تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت سے دست بستہ عرض ہے کہ آئندہ عام انتخابات اگر اپنے مقررہ وقت پر ہوئے اور پانامہ پیپرز سے متعلق سپرئم کورٹ کا فیصلہ قبل ازوقت عام انتخابات کا مؤجب نہ بنا تو اُن کے پاس (صوبائی حکومت کی) کارکردگی دکھانے کے لئے صرف اور صرف 390 دن باقی ہیں اور اِن 9360 گھنٹوں کے ہر پل کا اگر درست (مؤثر) استعمال کر لیا گیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ’پشاور‘ سے صوبائی اسمبلی کی گیارہ نشستیں آئندہ بھی تحریک انصاف ہی کے حصے میں آئیں گی بصورت دیگر پانچ سالہ آئینی مدت (کم و بیش 1825 دن) کے اختتام اور نئے انتخابی نتائج کے بعد ہاتھ ملنے اور ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانے کے سوأ کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا‘ 

بلاشک و شبہ بہت سا وقت قومی سیاست‘ داخلی اختلافات اور حسب روایت اختیارات اور سرکاری وسائل سے محظوظ ہونے میں ضائع کر دیا گیا لیکن دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ باقی ماندہ دنوں (مہلت) کے ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد دورانیئے پر مبنی ہر ایک منٹ سے کماحقہ استفادہ کیا جائے‘ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی!