Showing posts with label Cultral Museum. Show all posts
Showing posts with label Cultral Museum. Show all posts

Thursday, June 15, 2023

Sethi Houses vanishing, like memories, with each curtain's fall

ناقابل اشاعت ……  شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خاموش اِحتجاج

زوال اُور تبدیلی مستقل عمل ہے لیکن اِس کے منفی اثرات کم کرنے کے لئے حساس معاشروں میں ’آثار قدیمہ‘ کے تحفظ پر توجہ دی جاتی ہے جبکہ ’پشاور کہانی‘ مختلف ہے کہ یہاں تاریخ و ثقافت سے جڑی ہر نشانی زوال پذیر ہے اُور انتہائی مخدوش حالت میں دیکھی جا سکتی ہے جبکہ متعلقہ حکومتی ادارے (محکمۂ آثار قدیمہ) اُور قانون نافذ کرنے والے ادارے (متعلقہ تھانہ جات) کی کارکردگی سب کے سامنے ہے کہ ایک ایک کر کے پشاور کی نشانیاں مٹ رہی ہیں! بقول ’یحییٰ سیٹھی‘ پشاور کا یہ منظرنامہ‘ یہ حال احوال‘ یہ اجنبیت‘ جو آج نظر آ رہی ہے‘ پہلے کبھی بھی نہیں دیکھی گئی اُور اِس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پشاور کے آباؤاجداد کی نشانیاں ایک ایک کر کے مٹ رہی ہیں!“ پشاور کے مٹتے نقوش میں ’سیٹھی خاندان‘ کے گھر‘ سیٹھی خاندان کا قبرستان اُور سیٹھی خاندان کے نمایاں ترین فلاحی منصوبے کی اراضی بھی زیادہ دنوں کی مہمان دکھائی نہیں دے رہی!

تازہ ترین  واردات میں ’بازار کلاں‘ سے متصل ’محلہ سیٹھیان‘ کا قدیمی مکان راتوں رات منہدم کر دیا گیا ہے۔
 گھر کے مالک سیٹھی خاندان کے باقی ماندہ بزرگ یا تو انتہائی ضعیف ہیں یا پھر اِس خوف سے سامنے نہیں آ رہے کیونکہ قبضہ مافیا مسلح اُور سینہ زو رہے‘ جسے قانون یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خوف نہیں۔ یہ مافیا ،اپنے سامنے کھڑے ہونے والے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ گالیاں بکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ’معزز و برتر‘ شریف سیٹھی گھرانے کے بزرگ اُور نوجوان تھانہ کچہری نہیں کریں گے۔ یہ شریف اُور شرفا کی ایک نشانی اُن کی کمزوری سمجھی جاتی ہے حالانکہ یہ کام صوبائی حکومت اُور پشاور کی ضلعی انتظامیہ کا ہے کہ وہ سیٹھی خاندان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو اُور اِس بات کو یقینی بنائے کہ پشاور میں اگر کوئی کمزور و ناتواں ہے تو وہ ’قانون شکن‘ ہونا چاہئے۔ 

محلہ سیٹھیان کا تازہ ترین نشانہ بننے والا مکان افتخار سیٹھی (مرحوم) اُور اُن کی ہمشیرہ مسماۃ شمیم (ریٹائرڈ ڈاکٹر) کے نام پر مکان ہے۔
افتخار سیٹھی کے بھائیوں کو اِس سے دلچسپی نہیں۔ دونوں عمر کے اُس حصے میں ہیں جہاں وہ تھانہ کچہری نہیں کرنا چاہتے اُور نہ ہی ایک مکان کے لئے اپنے بال بچوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اِسی محلے کا دوسرا مکان لب سڑک (قریب دو کنال) جو ’اقبال سیٹھی‘ کی عدالت سے تسلیم شدہ ملکیت ہے لیکن وہ بھی قبضہ ہے‘ اگرچہ سیٹھی خاندان اِس مکان کی ملکیت کا مقدمہ جیت چکا ہے لیکن گھر کا قبضہ حاصل نہیں کر سکا۔

سیٹھی ہاؤس ہو یا کوئی بھی تاریخی و ثقافتی اہمیت کی حامل عمارت ، اِس راتوں رات ملبے کا ڈھیر بنانے والے عموماً ہفتہ و اتوار کی درمیان شب واردات کرتے ہیں جب سرکاری دفاتر میں تعطیل ہوتی ہے اُور اِس تعطیل کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مسرت ہلالی سے درخواست ہے کہ وہ اِس جاری بے قاعدگی اُور لاقانونیت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر آرکیالوجی اُور اُ ن کے عملے کو طلب کریں اُور اِس بات کی بھی الگ سے تحقیقات ہونی چاہئیں کہ جن اہلکاروں کو پشاور کی تاریخ و ثقافت کے نایاب نقوش بطور امانت سونپے گئے تھے اُنہوں نے اپنی ذمہ داریاں (فرائض منصبی) کس حد تک ایمانداری سے ادا کئے ہیں اُور یہ بھی دیکھا جائے کہ اِن اہلکاروں کے مالی اثاثے کہیں اِن کی آمدنی کے جائز و معلوم ذرائع سے زیادہ تو نہیں ہیں۔

تازہ ترین واردات میں  پشاور کے 2 تعمیراتی فن پاروں (سیٹھی ہاؤسیز) کے نقوش مٹا دیئے گئے ہیں لیکن  کوئی روکنے یا بچانے یا اِس نقصان پر مگرمچھ کے آنسو تک بہانے نہیں آیا! (انا للہ و انا علیہ راجعون)۔

سیٹھی ہاؤسیز کے ظاہری شان و شوکت (لکڑی کے ستون ، دروازے اُور کھڑکیاں، روشن دان، فرش اُور قیمتی پتھروں سے سجی چھتیں) مسمار ہونے کے بعد متعلقہ تھانہ اُور علاقے کی سیاسی نمائندگی کرنے والے بلدیاتی نمائندے حرکت میں آئے۔ موقع پر کام کرنے والے چند مزدوروں کو پکڑ لیا گیا جبکہ قریب ہی بازار کلاں میں بیٹھے اِس پورے منصوبے کے ’ماسٹر مائنڈ‘ پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔

توجہ طلب ہے کہ صرف ’محلہ سیٹھیان‘ ہی نہیں بلکہ پشاور میں سیٹھی خاندان کا قبرستان جس کا کل رقبہ 20 کنال سے زیادہ ہے اُور اِس کی ملکیت کے کاغذات بھی موجود ہیں لیکن اِس کا رقبہ بھی قبضہ ہو چکا ہے یا قبضہ کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یہ معاملہ ماضی میں جب عدالت تک پہنچا تو سیٹھی خاندان کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اُور چار سال تک سماعتیں ہوتی رہیں جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سیٹھی خاندان کے حق میں دیا لیکن سیٹھی خاندان کو اپنا حق آج تک نہیں مل سکا۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ قبضہ مافیا نے ایک اُور چال چلتے ہوئے ’سیٹھی قبرستان‘ کو بدھ مت کا قدیمی مرکز قرار دینے کی مہم ’سوشل میڈیا‘ پر شروع کر رکھی ہے اُور اِس حوالے سے جس درخت اُور چبوترے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ سیٹھی خاندان کے بزرگ قرآن کریم کی تلاوت‘ درس قرآن اُور فاتحہ خوانی کی اجتماعی محافل کے اِنعقاد کے لئے کیا کرتے تھے! پاکستان بننے کے وقت یہاں ’سرخ پوشوں‘ نے پناہ بھی لی تھی‘ جنہیں بطور مہمان رکھا گیا تھا اُور اُن کی میزبانی کی گئی تھی۔ سیٹھی خاندان اِس علاقے میں خیرات و زکوۃ بھی دیا کرتا تھا اُور یہی خاندان صرف پشاور ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے کئی ممالک کی مدد کیا کرتا تھا۔

المیہ نہیں تو کیا ہے کہ ہے کہ پشاور کی تاریخ پر آج اُن لوگوں کو زیادہ عبور ہونے کا دعویٰ ہے جن کی اپنی کوئی تاریخ نہیں!

سیٹھی قبرستان (کم و بیش بیس کنال) کے گردچاردیواری بنانے کی ہر کوشش اب تک ناکام رہی ہے! ماضی میں قبرستان چاردیواری کے تعمیراتی منصوبے پر لاگت کا تخمینہ ’40 لاکھ‘ روپے تھا جو بڑھ کر ’ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے‘ ہو چکا ہے اُور اب اِس قدر خطیر رقم کہاں سے آئے گی‘ یہ سوال اپنی جگہ حکومت کو متوجہ کر رہا ہے کہ اگر سیٹھی قبرستان کے گرد چاردیواری نہ بنائی گئی تو شاید چند مرلے زمین بھی باقی نہ رہے اُور سیٹھی خاندان کے اجداد کی قبروں پر رہائشی بستی آباد ہو جائے جسے حکومتی فنڈ سے ٹیوب ویل‘ جنازہ گاہ‘ مسجد اُور سکول تعمیر کر کے قانونی شکل دیدی جائے گی اُور یہی طریقۂ واردات پشاور کی دیگر اقوام کے قبرستانوں کے ساتھ بھی ہو چکا ہے!

کیا یہ بات قابل مذمت نہیں کہ سیٹھی قبرستان کے ساتھ ملحقہ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی قبضہ ہو چکا ہے! 

اَلمیہ نہیں تو کیا ہے کہ سیٹھی خاندان عدالت میں تو ہر مقدمہ جیت جاتا ہے لیکن عدالتی احکامات کو عملی جامہ پہنانے والوں کی دلی ہمدردیاں سیٹھی خاندان کے ساتھ نہیں! وہ کہ جنہیں حقیقی محافظ ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے اِس پورے معاملے سے لاتعلق ہیں۔ سیٹھی خاندان کے لوگ انتہائی شریف النفس ہیں وہ قبضہ مافیا کا مقابلہ اُور اُن کا تن تنہا سامنا نہیں کر سکتے اُور ایسی صورت میں صوبائی و ضلعی حکومت کو سیٹھی خاندان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہئے۔

سیٹھی خاندان کی پشاور میں ’تیسری نشانی‘ اندرون یکہ توت گیٹ (محلہ جٹان) کا ’دارالمساکین‘ ہے جو آج بھی اِسی (سیٹھی) خاندان کی ملکیت ہے اُور جسے ماضی و حال میں کئی مرتبہ قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خاص نکتہ یہ ہے کہ ’دارالمساکین‘ وقف اراضی نہیں تو پھر اِس کا انتظام و ملکیت سیٹھی خاندان کے پاس کیوں نہیں اُور اِس میں حکومتی تعمیرات کس قانون یا اخلاقی جواز کے تحت کی گئی ہیں؟ دارالمساکین سیٹھی خاندان کے آباؤاجداد کی ملکیت تھی اُور ہے اُور صرف ملکیت نہیں بلکہ دارالمساکین پشاور اُور اہل پشاور سے سیٹھی خاندان کی ’دلی محبت‘ کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ افسوس کہ سیٹھی خاندان کے گھر‘ سیٹھی خاندان کا قبرستان اُور سیٹھی خاندان کی طرف سے اہل پشاور کی فلاح و بہبود کا مرکز (دارالمساکین) پر ایک ایسی سوچ رکھنے والے قابض ہیں جن کے لئے پشاور کی تاریخ و ثقافت‘ یہاں کے شریف و محسن خاندانوں کی کوئی اہمیت نہیں!

پشاور کبھی بھی اِس قدر ’بے سروسامان‘ اُور ’بے آسرا‘ نہیں تھا کہ دیگر خیبرپختونخوا کے قبائلی و بندوبستی اضلاع اُور جعلی شناختی دستاویز کے ذریعے پاکستان کی شہریت حاصل کرنے والے افغان جرائم پیشہ گروہوں کے اراکین جنہوں نے پشاور میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں یہاں کی ہر نشانی اُور ہر خوبی کو ایک ایک کر مٹا رہے ہیں اُور پشاور تماشا دیکھ رہا ہے۔

صرف سیٹھی ہاؤسیز ہی نہیں بلکہ کئی دیگر نایاب گھر جو فن تعمیر کا نمونہ تھے‘ پشاور کی تاریخ و ثقافت کے گواہ تھے لیکن ملبے کی صورت راتوں رات ’لوٹ‘ لئے گئے ہیں! قبضہ مافیا کے ہاتھ لمبے ہیں جبکہ اہل پشاور بے بس ہیں کیونکہ وہ حقیقی سیاسی و سماجی نمائندگی سے محروم ہیں۔ اِن کی آنکھوں میں آنسوؤں اُور دل غم سے نڈھال ہیں۔ دُکھ بھرے بوجھل وجود کے ساتھ‘ آنسوؤں کی برسات ’خاموش احتجاج‘ کی صورت جاری ہے۔
پشاور کو کون سمجھے گا؟
اہل پشاور کے دُکھ کو کون سمجھے گا؟
پشاور کی مسیحائی کون کرے گا؟

 ”فکر مجھے گلزاروں کی ہے مولا خیر …… بارش تو انگاروں کی ہے مولا خیر
 اُلجھ رہے ہیں سارے مسیحا آپس میں …… فکر کسے بیماروں کی ہے مولا خیر (شمیم فرحت)۔“

……



SethiHouse
In Peshawar's embrace, Sethi House stands tall
Yet vanishing, like memories, with each curtain's fall

Saturday, December 12, 2020

Hidden potential of the cultural assets - Peshawar, a city, a web, unforgettable!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

ثقافتی اثاثے

سیاحت کا فروغ مقصود (مطمعہ نظر) ہے‘ جس کے لئے پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑے اَثاثوں بالخصوص یہاں کے فن تعمیر اُور اہم شخصیات سے نسبت رکھنے والی رہائشگاہیں و مقامات کو بطور یادگار محفوظ بنایا جائے گا۔ اِس سلسلے میں صوبائی حکومت کی وضع کردہ حکمت عملی کے تحت ’ثقافتی عجائب گھر (دیدنی مقامات)‘ بنائے جائیں گے اُور یوں پشاور کی کئی گلیاں کوچے ایسے بھی ہوں گے جہاں ایک سے زیادہ ’ثقافتی عجائب گھر‘ ہوں۔ خوش آئند ہے کہ پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے بھارت معروف فلمی ستاروں یوسف خان المعروف دلیپ کمار (پیدائش 11 دسمبر 1922ئ) اُور راج کپور (پیدائش 14دسمبر 1924ئ۔ وفات 2 جون 1988ئ) کے آبائی مکانات کی سرکاری قیمتیں مقرر کی ہیں جو ایک قانونی ضرورت تھی اُور اِس کے بعد مکانات کی خریداری متوقع ہے۔ مذکورہ دونوں اَداکاروں (دلیپ کمار اُور راج کپور) نے اپنی زندگی (لڑکپن و جوانی) کا کچھ حصہ پشاور میں بسر کیا اُور مذکورہ دونوں کے آبائی مکانات پشاور شہر میں نہ صرف یہاں کے 100سال سے زیادہ قدیم فن تعمیر کی یادگاریں ہیں بلکہ دنیائے فلم کے ستاروں سے اِن کی نسبت کے باعث زیادہ بیش قیمت اُور یادگار ہونے کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ ایک نکتہ نظر یہ ہے کہ ماضی کے مکانات‘ یادگاروں اُور یادوں سے پشاور کو گلے سے لگائے رکھنے کی بجائے حکومتی فیصلہ ساز مستحق مقامی فنکاروں کی مالی مدد اُور فلمی تربیت گاہوں کے علاوہ فلم اُور ڈرامہ سازی کی صنعتیں قائم کریں تاکہ جس طرح پشاور کی مٹی سے دلیپ کمار‘ راج کپور اُور کئی دیگر نامور بھارتی فلمی ستارے اُٹھے تھے اُور جنہیں اپنی خداداد صلاحیتوں کو منوانے کے لئے پاکستان چھوڑ کر بھارت جانا پڑا تھا کیونکہ اُس وقت پاکستان میں فلمی صنعت نہیں تھی اُور آج بھی فلمی صنعت کا حال قیام پاکستان (اگست 1947ئ) سے زیادہ مختلف نہیں ہے تو آج کے فنکاروں کو اپنی ’جنم بھومی(پشاور)‘ سے ’بہ امر مجبوری‘ نقل مکانی نہ کرنی پڑے۔ 

تاریخ رہی ہے کہ سیاسی اُور غیرسیاسی فیصلہ ساز ہمیشہ ایسے آسان فیصلے کرتے ہیں جو ذرائع ابلاغ اُور سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کی اندرون و بیرون ملک مقبولیت میں اضافے کا باعث بنیں۔ دلیپ کمار اُور راج کپور کے آبائی گھروں کو محفوظ بنانے کا فیصلہ بھی ایک ایسا ہی آسان اُور مقبولیت بٹورنے کا اقدام ہے‘ جس سے وقتی طور پر ”واہ واہ“ تو ہو جائے گی لیکن کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی کروڑوں روپے اِن مکانات کی دیکھ بھال کے لئے درکار ہوں گے اُور یہ قومی خزانے پر ایک مستقل بوجھ رہے گا۔ جہاں تعینات ہونے والے ملازمین کی تنخواہیں‘ پینشن‘ مراعات‘ بجلی و گیس کے بل‘ دیکھ بھال اُور تعمیر و مرمت کے علاوہ اہم شخصیات کے دوروں پر انتظامات کرنے پر اخراجات کرنا پڑیں گے جبکہ مذکورہ دونوں گھروں سے اِس قدر آمدنی نہیں ہو گی کہ اُن سے مذکورہ تمام اخراجات ادا کئے جا سکیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہنا چاہئے کہ کورونا وبا کی وجہ سے سیر و سیاحت کا عمل رُکا ہوا ہے اُور بیرون ملک سے سیاح صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کا سفر بھی اختیار نہیں کر رہے۔ اِس صورتحال میں پشاور کے سیاحوں کے لئے دو نئے عجائبات کا اضافہ کرنا درست اقدام تو ہے لیکن اِس کا وقت درست نہیں۔ ذہن نشین رہے کہ پشاور کے مقامی افراد کی اکثریت دلیپ کمار یا راج کپور کے آبائی گھروں کو بحال ہونے کے بعد قیمت ادا کر کے دیکھنے نہیں جائے گی کیونکہ اُن کے لئے اپنی زندگیوں اُور اِن زندگیوں کے مسائل زیادہ اہمیت کے حامل ہیں‘ جن کے حل کرنے کے مطالبات کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔

دلیپ کمار اُور راج کپور کے آبائی گھروں کی موجودہ حالت اِس حد تک ”انتہائی خستہ“ اُور ناقابل مرمت ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ اِن دونوں مکانات کا ملبہ فروخت کرنا پڑے گا اُور پھر نئے تعمیر کر کے وہاں عجائب گھر بنائے جائیں گے۔ اِس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر پشاور نے مکانات کی قیمت مختلف طریقوں سے مقرر کرتے ہوئے زمین (اراضی) اُور ملبے کا قیمت کے الگ الگ تخمینے جاری کئے ہیں۔ معروف قصہ خوانی بازار سے متصل (شمال کی جانب) نسبتاً بلند ’ڈھکی دالگراں‘ میں واقع ”کپور حویلی“ کا کل رقبہ لگ بھگ چھ مرلے (5184 مربع فٹ)۔ حویلی کی زمین کی قیمت ایک کروڑ پندرہ لاکھ سے زیادہ جبکہ ملبے کی قیمت کا تخمینہ 34 لاکھ سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ جائیداد کا مالک چاہتا ہے کہ ’کپور حویلی‘ کے اُسے کم از کم 2 ارب روپے ادا کئے جائیں! اِسی طرح قصہ خوانی بازار ہی سے متصل (مشرق کی جانب) محلہ خداداد میں ’دلیپ کمار‘ کا آبائی گھر واقع ہے جس کا کل رقبہ چار مرلے ہے۔ اس مکان کی تعمیرات والا حصہ 1077 مربع فٹ سے کچھ زیادہ جبکہ سرکاری طور پر مذکورہ اراضی (زمین) کی قیمت 72لاکھ 80ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے جبکہ دلیپ کمار کے آبائی گھر کے ملبے کی قیمت کا تخمینہ 7لاکھ 76ہزار روپے سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ اس حساب سے دلیپ کمار کے گھر کی قیمت 80لاکھ 56ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے۔ مذکورہ دونوں جائیدادوں کی کل قیمت 2کروڑ 30لاکھ اور 56ہزار روپے سے زیادہ مقرر کرنے کے بعد صوبائی حکومت سے اس سلسلے میں مالی وسائل (فنڈز) جاری کرنے کی درخواست ارسال کر دی گئی ہے اُور اُمید ہے کہ اگر فوری طور پر یہ رقم (دو کروڑ تیس لاکھ روپے) جاری نہ بھی کی گئی تو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیاحت کے لئے مالی وسائل الگ کرتے ہوئے اِن دونوں مکانات کے لئے پس و پیش کیا جائے گا تاہم فیصلہ سازوں کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ صرف ایک ہی مرتبہ رقم مختص کرنا کافی نہیں ہوگا اُور بات صرف دو یا ڈھائی کروڑ کی بھی نہیں بلکہ مذکورہ مکانات خریدنے کے بعد اُن پر تعمیرات اُور عجائب گھر کی صورت میں اُنہیں جاذب نظر بناتے ہوئے سیاحوں کے لئے سہولیات اُور تشہیر وغیرہ کے لئے بھی کروڑوں یا شاید اربوں روپے درکار ہوں گے۔

بھیڑ چال ہے۔ خیبرپختونخوا کے کئی سرکاری محکموں کی نظریں (فوکس) اُور ساری کی ساری توجہ دلیپ کمار اُور راج کپور کے آبائی گھروں پر لگی ہوئی ہیں اُور ہر محکمہ کچھ نہ کچھ حاصل (کمانے) کے چکر میں ہے۔ محکمہ مال کے منتظم صاحب بہادر (ڈپٹی کمشنر) نے زمینوں کی مالیت جبکہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) ڈیپارٹمنٹ اس کے ملبے کی مالیت کا تخمینہ لگایا ہے اُور تعمیروبحالی کا کام محکمہ آثار قدیمہ کی زیرنگرانی ہو گا جس کے بعد ممکن ہے کہ اِسے سیاحتی ترقی کے صوبائی محکمے کے حوالے کر دیا جائے لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اگر صوبائی حکومت کی جانب سے بنا تاخیر مطلوبہ دو کروڑ تیس لاکھ روپے سے زائد رقم فراہم کر دی جاتی ہے اُور مالک مکان کی جانب سے قانونی کاروائی آڑے نہیں آتی تب بھی مکانات کو قبضہ صوبائی حکومت کے پاس آنے میں کم سے کم ’چھ ماہ‘ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ دلیپ کمار اُور راج کپور خاندانوں کے لئے اُن کے آبائی گھروں کی خاص اہمیت ہے اُور وہ جب بھی پاکستان آئے اپنے آبائی گھروں کی قدم بوسی کے لئے پشاور کے دورے کے خواہشمند رہے۔ کپور خاندان کا اپنے آبائی گھروں سے عقیدت و محبت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کپور حویلی کی مٹھی بھر مٹی اپنے ساتھ لے گئے تھے! مذکورہ دونوں مکانات کی خریداری‘ بحالی اُور عجائب گھروں میں منتقلی کے بعد بھی اِن کی نسبت و شناخت دلیپ کمار اُور کپور حویلی ہی کے طور پر رہے گی‘ جس میں سرمایہ کاری کے لئے اگر ارب پتی دلیپ کمار اُور کپور خاندان کے افراد سے رابطہ کیا جائے تو اِس سے نہ صرف دونوں خاندان عجائب گھر میں رکھنے کے لئے خاندان کی یادگار اشیاء(نوادرات) عطیہ کریں گے بلکہ ممکن ہے کہ اُن کی جانب سے مکانات کی خریداری اُور بحالی کے جملہ اخراجات بھی برداشت کر لئے جائیں۔ سرمایہ کاری کا دوسرا امکان یہ ہے کہ دونوں مکانات ’گندھارا ہندکو بورڈ (gandharahindko.com)‘ کے ذریعے خریدے اُور بحال کئے جائیں اُور اُنہی کے زیرنگرانی عجائب گھر میں تبدیل کئے جائیں۔ مذکورہ ’ہندکو بورڈ‘ نہ صرف پشاور کی قدیمی مقامی زبان کے تحفظ کی تحریک ہے بلکہ یہ روشن خیال ادارہ پشاور کے علمی‘ ادبی‘ تاریخی و ثقافتی ورثوں کا محافظ بھی ہے۔ یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ پشاور کو ’ہندکو بورڈ‘ سے زیادہ اچھا اُور گہرائی سے کوئی دوسرا حکومتی‘ نیم حکومتی ادارہ‘ غیرسرکاری ادارہ یا تنظیم نہیں سمجھ سکتی۔


اَشک بن کر جو چھلکتی رہی‘ مٹی میری
شعلے کچھ یوں بھی اُگلتی رہی‘ مٹی میری
کچھ تو باقی تھا مری مٹی سے رشتہ میرا
میری مٹی کو ترستی رہی‘ مٹی میری
(شاعر:دوجیندر دوج)

....

Editorial Page - Daily Aaj -Peshawar/Abbottabd - Dec 12, 2020 Saturday

Clipping from Daily Aaj - Editorial Page - Daily Aaj - Dec 12, 2020 Sat