Showing posts with label Kapoor Haveli. Show all posts
Showing posts with label Kapoor Haveli. Show all posts

Monday, September 27, 2021

Peshawar - the city of museums

 پشاور شناسی

جنم بھومی .... ترک تعلق بھی اِک تعلق ہے

پشاور کے اُفق پر فلمی ستاروں کی چمک دمک کو تہذیبی و ثقافتی ورثے کے طور پر پیش کرنے کی منفرد کوشش میں صوبائی محکمہ آثار قدیمہ پورے انہماک سے حصہ لے رہا ہے۔ خواہش ہے کہ اُردو (ہندی) فلموں کے نامور اداکاروں دلیپ کمار اُور کپور خاندان کے آبائی گھروں کو محفوظ کیا جائے اُور اِس مقصد کے لئے تعمیروبحالی کے عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ کون جانتا تھا کہ محمد یوسف خان ولد لالہ غلام سرور خان (والدہ عائشہ بیگم) کا فلمی نام ’دلیپ کمار‘ ہوگا اُور یہ اُن کے اصل نام سے زیادہ مقبول ہو جائے گا۔ بہرحال دنیا دلیپ کمار کو جانتی ہے جن کی پیدائش 11 ستمبر 1911ءپشاور اُور وفات 7 جولائی 2021ءپشاور سے قریب 1700 کلومیٹر دور ممبئی میں ہوئی اُور وہیں کے مقامی قبرستان میں اُنہیں سپردخاک کر دیا گیا۔ 1930ءکی دہائی میں دلیپ کمار کے والدین نے بہتر کاروباری مواقعوں کی تلاش میں نقل مکانی کی تھی‘ جو برصغیر کی تقسیم کے بعد مستقل شکل اختیار کر گئی‘ جس کے بعد یہ اُور دیگر کئی خاندان واپس پشاور نہ آ سکے۔ دلیپ کمار کے نام سے شہرت پانے والے یوسف خان کو حکومت ِپاکستان نے فلمی خدمات کے اعتراف میں اعلیٰ ترین قومی (سول) اعزاز ’نشان ِامتیاز‘ (1998ئ) سے نوازا تھا اُور جولائی 2014ءاُس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے آپ کے آبائی گھر کو ’قومی ورثہ (نینشل ہیئرٹیج مانومینٹ)‘ قرار دیا جس کے بعد ’آثار قدیمہ‘ کے مجریہ (اینٹیکوٹی ایکٹ 1997ئ) کی روشنی میں اُن کے گھر کا تذکرہ زبانی کلامی یا سرکاری دستاویزات میں بطور ’محفوظ یادگار (پروٹیکٹیڈ مانیومنٹ)‘ کے ہونے لگا۔ 

بھارت کی فلمی صنعت کے دوسرے نامور کرداروں ’کپور خاندان‘ کا آبائی تعلق بھی پشاور سے ہے اُور خیبرپختونخوا حکومت نے ’کپور حویلی‘ کو خرید کر ’ثقافتی عجائب گھر‘ میں تبدیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ دلیپ کمار نے اپنی آپ بیتی ’دی سبسٹینس اینڈ دی شیڈو‘ میں لکھا تھا کہ ”ہم غیرمنقسم برصغیر میں رہتے تھے اُور تب (پشاور میں) ہندوو¿ں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی مسلمانوں کے اکثریتی آبادی والے علاقوں میں مل جل کر آباد ہوا کرتی تھی۔ مسلمان (اکثریت) اُور ہندو (اقلیت) ایک دوسرے سے گھل مل کر رہتے۔ ایک دوسرے سے بات چیت اُور راہ و رسم رکھتے اُور سر راہ ایک دوسرے سے بات چیت اُور تہنیتی کلمات کا تبادلہ کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے (گویا پشاور ایک ایسے گلدستے کی مانند تھا جس میں ہر رنگ و نسل اُور مذہب و عقیدے سے تعلق رکھنے والے پھول اپنی اپنی خوشبو پھیلاتے تھے۔ شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پشاور ’پھولوں کا شہر‘ کہلایا تھا)۔“ دلیپ کمار نے لکھا کہ ”میرے والد کے کئی ہندو دوست تھے جن میں سے ایک ’بشیش ور ناتھ جی (Bashesh Warnath Ji)‘ بھی تھے۔ آپ کسی حکومتی دفتر میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ بشیس ناتھ اپنے بڑے جوانسال صاحبزادے کے ہمراہ کئی مرتبہ ہمارے گھر آئے‘ جن کی شخصیت و خوبصورتی (مردانہ جاہ و جلال) کو دیکھنے والے دم بخود رہ جاتے تھے۔ یہ خوبرو جوان پریتھوی راج (Rrithvi Raj) تھے‘ جو بعد میں ’راج کپور‘ کے والد ہوئے۔“ پنجاب کے ہندو قبیلے سے تعلق رکھنے والے ’کپور خاندان‘ کے کچھ لوگ پاکستان بننے کے بعد (1947ئ) میں بھارت منتقل ہوئے اُور اپنے پیچھے ایک تعمیراتی شاہکار بصورت ’کپور حویلی‘ چھوڑ گئے جو ’بشیش ناتھ جی‘ نے 1918ءسے 1922ءکے درمیان تعمیر کی تھی۔ ذہن نشین رہے کہ دلیپ کمار کی طرح کپور خاندان نے بھی بھارت کی فلمی دنیا پر راج کیا۔ راج کپور خاندان کے فلمی سفر کا آغاز 1928ءمیں جبکہ دلیپ کمار کی بطور ہیرو پہلی فلم (جوار بھٹا) 1944ءمیں نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی۔

دلیپ کمار کی آپ بیتی کا مطالعہ ’اہل پشاور‘ کو ضرور کرنا چاہئے‘ جس سے اُنہیں پشاور کے ماضی ِقریب میں رونما ہونے والی کئی خوبیوں کا علم ہوگا جیسا کہ بول چال میں ادب و احترام کا کس قدر اہتمام کیا جاتا تھا۔ دلیپ کمار اُور اِن کے گیارہ بہن بھائیوں کے علاو¿ہ عزیزواقارب بھی اِن کے والد (لالہ غلام سرور خان) کو ’آغا جی‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ ذہن نشین رہے کہ قیام پاکستان سے قبل اُور بعد کی کئی دہائیوں تک پشاور کی اکثریت ہندکو اُور فارسی زبانیں بولتی اُور سمجھتی تھی۔ طرز ِمخاطب بھی اہل پشاور کا معمول اُور وطیرہ تھا کہ یہ بزرگوار ہستیوں کو ادب و احترام سے ’آغا جی‘ کہہ کر مخاطب کرتے اُور اِس لفظ میں چھپی مٹھاس و اپنائیت کے احساس اُور ذائقے کو صرف اہل پشاور ہی محسوس کر سکتے ہیں‘ جو اپنی جگہ کسی نعمت و لذت سے کم نہیں۔) اہل پشاور نے اپنی زبان و ثقافت اُور تاریخ سے تعلق کب اُور کیسے توڑا‘ اِس موضوع کے مختلف پہلوو¿ں پر کسی اُور نشست (فرصت) میں بات کی جائے گی۔ ”صلائے عام ہے یاران ِنکتہ داں کے لئے۔“

بقول شاعر کہ ”یہ بات ترک ِتعلق کے بعد‘ ہم سمجھے .... کسی سے ترک تعلق بھی‘ اِک تعلق ہے!“ پشاور سے ترک ِتعلق کرنے والوں کا اپنی ’جنم بھومی‘ سے رشتہ فاصلوں کے سبب کمزور تو ہو سکتا ہے لیکن ٹوٹ نہیں سکتا اُور آج بھی برقرار ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اِس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ پشاور سے اِس رشتے کو مزید تقویت دی جائے جس کے لئے دلیپ کمار اُور کپور حویلی کو ثقافتی عجائب گھروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یوں پشاور شہر میں مزید 2 عجائب گھروں کے اضافے ساتھ ایسے مراکز کی تعداد 5 ہو جائے گی‘ جن کے دریچوں سے نہ صرف پشاور کے ماضی میں جھانکا جا سکے گا بلکہ اِس سے جنوب ایشیائی خطے کی تاریخ و ثقافت اُور یہاں کے رہنے والوں کی تہذیب و ثقافت کے علاو¿ہ اَدیان کے سفر کا مطالعہ بھی ممکن ہوگا۔ ذہن نشین رہے کہ پشاور کا پہلا اُور قدیمی عجائب گھر ’گندھارا تہذیب‘ کے رہن سہن‘ آثار اُور بودوباش پر مبنی نشانیوں کا مجموعہ ہے جو 1907ءمیں تعمیر ہوا تھا۔ دوسرا عجائب گھر 23 مارچ 2006ءکے روز قائم ہوا اُور اِس میں پشاور شہر کے تاریخی شواہد اُور یہاں کی تہذیب و ثقافت کے نمونوں کو محفوظ کیا گیا ہے۔ تیسرا عجائب گھر 19ویں صدی کا تعمیراتی شاہکار بنام ’سیٹھی ہا  ؤس‘ ہے‘ جو 1845ءمیں تعمیر ہوا اُور اِسے 5 جنوری 2021ءسے عوام الناس کے کھول دیا گیا ہے۔ پشاور کا چوتھا اُور پانچواں عجائب گھر دلیپ کمار اُور کپور خاندان کے آبائی مکانات ہوں گے‘ جنہیں ’ثقافتی مراکز‘ کے طور پر محفوظ اُور قریب اصل حالت میں بحال کیا جا رہا ہے اُور اِس سے پشاور کے سیاحتی مقامات کی تعداد اُور یہاں کی سیاحتی کشش میں یقینا اضافہ ہوگا۔ قابل ِذکر ہے کہ بدھ مت (ہندو مذہب) کے ماننے والوں کے لئے پشاور اُور گندھارا تہذیب کے دیگر مراکز جو کہ پشاور سے سوات (مالاکنڈ ڈویژن کے آخری کونے) تک پھیلے ہوئے ہیں ”مقدس ترین مقامات“ کا درجہ رکھتے ہیں اُور جیسا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں متوجہ ہیں تو اِس سے اُمید ہے کہ ’مذہبی سیاحت‘ فروغ پائے گی اُور پشاور میں بین المذاہب ہم آہنگی کا عملاً فروغ بھی ممکن ہوگا۔ اِس کوشش کی کامیابی سے شاید اُس بہار کا بھی گزر ہو جس سے گلدستہ نما‘ پھولوں کے شہر پشاور کا ہر پھول کھل اُٹھے۔

پھول‘ خوشبو ہوں‘ بہاریں ہوں اُور پشاور ہو

پیار کی رُت میں دعائیں ہوں اُور پشاور ہو

....




Wednesday, February 17, 2021

Computerization of Land Record

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

لینڈ ریکارڈ کمپوٹرائزیشن

بھارت کے خبررساں اِدارے ’پریس ٹرسٹ آف اِنڈیا‘ کی جاری کردہ ایک خبر کے مطابق یوسف خان المعروف دلیپ کمار نے پشاور میں اپنا آبائی گھر ’وقف‘ کرنے کی وصیت کر رکھی ہے اُور اِس سلسلے میں پشاور میں مقیم اُن کے قریبی عزیز (اِیوان ہائے صنعت و تجارت کے سابق صدر اُور معروف صنعتکار) کے نام مختار نامہ (پاور آف اٹارنی) بھی کئی سال پہلے جاری کیا جو اُن کی جائیداد کی خریدوفروخت سے متعلق کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے میں خودمختار ہیں۔ صنعتکار فواد اِسحاق سے بات چیت پر مبنی مذکورہ خبر میں کہا گیا ہے کہ ”دلیپ کمار نے مذکورہ مختار نامہ سال 2012ءمیں تحریر کیا تھا جس میں اُنہوں نے اپنی جائیداد اہل پشاور کے نام وقف کر دی تھی۔“ ذہن نشین رہے کہ محمد یوسف خان گیارہ دسمبر اُنیس سو بائیس پشاور کے محلہ خداداد میں پیدا ہوئے۔ 1944ءمیں فلم ’جوار بھٹہ‘ سے فلمی اداکاری کے شعبے میں عملی زندگی کا آغاز کیا اُور آخری فلم قلعہ 1988ءکے ساتھ مجموعی طور پر 65 فلموں میں کام کیا۔ وہ اِن دنوں علیل ہیں اُور طویل علالت کے باعث 98 برس کی عمر میں خود کو گھر تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔ سولہ مارچ دوہزاربیس کے روز اُن کے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ (@TheDilipKumar) سے جاری ہونے والے پیغام میں کہا گیا تھا کہ ”کورونا وبا کے سبب سماجی مصروفیات ترک کر دی گئی ہیں“ جبکہ دوسرے پیغام میں اُنہوں نے اپنے مداحوں سمیت تمام لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ خود کو ’کورونا وبا‘ سے محفوظ رکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت گھروں کے اندر رہتے ہوئے بسر کریں۔“

13جولائی 2013ءکے روز اُس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے دلیپ کمار کے گھر کو ’قومی ورثہ (National Heritage) قرار دیا تھا لیکن تب سے آج تک ہر دور حکومت میں اِس گھر کی اہمیت کو تسلیم تو کیا جاتا ہے لیکن اِس کی تعمیرنو‘ بحالی اُور حفاظت و ترقی کے لئے خاطرخواہ عملی اقدامات نہیں کئے جاتے۔ 5 مرلہ سے کم اراضی پر اِس 3 منزلہ عمارت کی تعمیر میں بیشتر لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے جو انتہائی خشک اُور بوسیدہ حالت میں ہونے کی وجہ سے مکان کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتی ہے۔ چھتیں منہدم ہیں جبکہ اِس بھوت بنگلے کی قسمت کب جاگے گی نہیں معلوم لیکن ہر دورِ حکومت میں دلیپ کمار کے آبائی گھر کا ذکر بلندبانگ دعووں کے ساتھ سننے میں آتا ہے۔ اِس سلسلے (کڑی) کی تازہ ترین خبر 10فروری (دوہزاراکیس) کے روز سامنے آئی تھی جب محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ دلیپ کمار اُور راج کپور کے آبائی گھروں کو خریدنے کے لئے مالی وسائل صوبائی خزانے سے مختص کر دیئے گئے ہیں۔ کپور حویلی کی قیمت ڈیڑھ کروڑ جبکہ دلیپ کمار کے آبائی گھر کی قیمت 80 لاکھ روپے لگائی گئی اُور مجموعی طور پر 2 کروڑ 35 لاکھ 70 ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں۔ یہ رقم صوبائی حکومت کی جانب سے پشاور کی ضلعی انتظامیہ (ڈپٹی کمشنر) کو فراہم کی جائے گی جو اِن مکانات کی خریداری کریں گے۔ صوبائی حکومت مذکورہ دونوں مکانات کو خرید کر اُنہیں ثقافتی عجائب گھروں میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تاکہ اِن کے ذریعے پشاور میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ ایک طرف دلیپ کمار کی جانب سے دیا جانے والا مختار نامہ ہے جس کے مطابق اُنہوں نے اپنا آبائی مکان اہل پشاور کے نام وقف کر دیا ہے اُور مختار نامہ صرف اُسی صورت جاری ہوتا ہے جبکہ کسی جائیداد یا اراضی کی ملکیت موجود ہو جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت اُس مکان کو خرید رہی ہے جس دلیپ کمار سے نسبت رکھتا ہے لیکن اِس کی ملکیت کسی اُور کے پاس ہے۔ جن قارئین کے لئے یہ نکتہ سمجھ سے بالاتر ہو‘ اُنہیں ’پٹوار خانے‘ اُور ’مال خانے‘ کے نظام کو دیکھنا چاہئے جہاں جائیداد کی ملکیت کے کاغذات بنائے جاتے ہیں اُور جعلی کاغذات اُور فرضی مالکان کے نام پشاور کی اراضی منتقل ہونا ایک ایسا عمومی فعل ہے جو آج تک جاری ہے۔ تحریک انصاف حکومت نے تھانہ اُور پٹوار خانہ کلچر تبدیل کرنے کا وعده کیا تھا لیکن یہ دونوں وعدے پورے نہیں کئے۔ تھانہ کلچر میں تبدیلی کے لئے اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ’اِی گورننس‘ کے تجربات جاری ہیں جبکہ پشاور میں جائیدادوں اُور اراضی کا ڈیٹا ’کمپیوٹرائزڈ‘ کرنے کا عمل 8 سال سے جاری ہے اُور مکمل نہیں ہو رہا تو اِس التوا کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ایک خاص گروہ (مافیا) ”لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن“ کی راہ میں حائل ہے۔ اِس سلسلے میں پنجاب کی مثال موجود ہے جس کے لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل مکمل ہو چکا ہے اُور اُس پورے عمل کی تفصیلات متعلقہ محکمے (پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی) کی ویب سائٹ (punjab-zameen.gov.pk)پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ لینڈ ریونیو مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (LRMIS) کیا ہے‘ کیسے بنایا گیا‘ کیسے کام کرتا ہے اُور اِس کے ذریعے کس طرح جعل سازی اُور سرکاری و نجی املاک کو قبضہ کرنے کی کوششیں ناکام بنائی جا رہی ہیں یہ سب سمجھنے کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ صوبہ پنجاب کے تجربات اُور اُن کے نتائج سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کا عمل (پہلا مرحلہ) 2013ءمیں 7 اضلاع (پشاور‘ مردان‘ ایبٹ آباد‘ بونیر‘ کوہاٹ‘ بنوں اُور ڈیرہ اسماعیل خان) سے شروع ہوا جبکہ دوسرے مرحلے کا آغاز 2015ءمیں کیا گیا جس میں سوات‘ شانگلہ‘ مانسہرہ‘ بٹ گرام‘ نوشہرہ‘ چارسدہ‘ ہنگو‘ کرک‘ ہری پور‘ صوابی‘ لکی مروت اُور ٹانک میں کیا گیا لیکن اِن سبھی اضلاع میں فرد نمبروں کا اجرا اُسی روائتی انداز میں (حسب سابق) جاری ہے۔ ناقابل فہم ہے کہ جو کام چند ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ مہینوں میں مکمل ہو جانا چاہئے تھا‘ اُس کی تکمیل میں اِس قدر تاخیر کا باعث اَمر کیا ہے۔ اُمید ہے اِس بارے میں وفاقی اُور صوبائی فیصلہ ساز ’خصوصی توجہ‘ دیں گے کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت 2013ء سے جاری ہے لیکن 8 سالہ دور مکمل ہونے اُور حکمرانی کے اِس تسلسل کے باوجود بھی حکومتی فیصلوں‘ اقدامات اُور اعلانات کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟

....




Saturday, December 12, 2020

Hidden potential of the cultural assets - Peshawar, a city, a web, unforgettable!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

ثقافتی اثاثے

سیاحت کا فروغ مقصود (مطمعہ نظر) ہے‘ جس کے لئے پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑے اَثاثوں بالخصوص یہاں کے فن تعمیر اُور اہم شخصیات سے نسبت رکھنے والی رہائشگاہیں و مقامات کو بطور یادگار محفوظ بنایا جائے گا۔ اِس سلسلے میں صوبائی حکومت کی وضع کردہ حکمت عملی کے تحت ’ثقافتی عجائب گھر (دیدنی مقامات)‘ بنائے جائیں گے اُور یوں پشاور کی کئی گلیاں کوچے ایسے بھی ہوں گے جہاں ایک سے زیادہ ’ثقافتی عجائب گھر‘ ہوں۔ خوش آئند ہے کہ پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے بھارت معروف فلمی ستاروں یوسف خان المعروف دلیپ کمار (پیدائش 11 دسمبر 1922ئ) اُور راج کپور (پیدائش 14دسمبر 1924ئ۔ وفات 2 جون 1988ئ) کے آبائی مکانات کی سرکاری قیمتیں مقرر کی ہیں جو ایک قانونی ضرورت تھی اُور اِس کے بعد مکانات کی خریداری متوقع ہے۔ مذکورہ دونوں اَداکاروں (دلیپ کمار اُور راج کپور) نے اپنی زندگی (لڑکپن و جوانی) کا کچھ حصہ پشاور میں بسر کیا اُور مذکورہ دونوں کے آبائی مکانات پشاور شہر میں نہ صرف یہاں کے 100سال سے زیادہ قدیم فن تعمیر کی یادگاریں ہیں بلکہ دنیائے فلم کے ستاروں سے اِن کی نسبت کے باعث زیادہ بیش قیمت اُور یادگار ہونے کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ ایک نکتہ نظر یہ ہے کہ ماضی کے مکانات‘ یادگاروں اُور یادوں سے پشاور کو گلے سے لگائے رکھنے کی بجائے حکومتی فیصلہ ساز مستحق مقامی فنکاروں کی مالی مدد اُور فلمی تربیت گاہوں کے علاوہ فلم اُور ڈرامہ سازی کی صنعتیں قائم کریں تاکہ جس طرح پشاور کی مٹی سے دلیپ کمار‘ راج کپور اُور کئی دیگر نامور بھارتی فلمی ستارے اُٹھے تھے اُور جنہیں اپنی خداداد صلاحیتوں کو منوانے کے لئے پاکستان چھوڑ کر بھارت جانا پڑا تھا کیونکہ اُس وقت پاکستان میں فلمی صنعت نہیں تھی اُور آج بھی فلمی صنعت کا حال قیام پاکستان (اگست 1947ئ) سے زیادہ مختلف نہیں ہے تو آج کے فنکاروں کو اپنی ’جنم بھومی(پشاور)‘ سے ’بہ امر مجبوری‘ نقل مکانی نہ کرنی پڑے۔ 

تاریخ رہی ہے کہ سیاسی اُور غیرسیاسی فیصلہ ساز ہمیشہ ایسے آسان فیصلے کرتے ہیں جو ذرائع ابلاغ اُور سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کی اندرون و بیرون ملک مقبولیت میں اضافے کا باعث بنیں۔ دلیپ کمار اُور راج کپور کے آبائی گھروں کو محفوظ بنانے کا فیصلہ بھی ایک ایسا ہی آسان اُور مقبولیت بٹورنے کا اقدام ہے‘ جس سے وقتی طور پر ”واہ واہ“ تو ہو جائے گی لیکن کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی کروڑوں روپے اِن مکانات کی دیکھ بھال کے لئے درکار ہوں گے اُور یہ قومی خزانے پر ایک مستقل بوجھ رہے گا۔ جہاں تعینات ہونے والے ملازمین کی تنخواہیں‘ پینشن‘ مراعات‘ بجلی و گیس کے بل‘ دیکھ بھال اُور تعمیر و مرمت کے علاوہ اہم شخصیات کے دوروں پر انتظامات کرنے پر اخراجات کرنا پڑیں گے جبکہ مذکورہ دونوں گھروں سے اِس قدر آمدنی نہیں ہو گی کہ اُن سے مذکورہ تمام اخراجات ادا کئے جا سکیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہنا چاہئے کہ کورونا وبا کی وجہ سے سیر و سیاحت کا عمل رُکا ہوا ہے اُور بیرون ملک سے سیاح صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کا سفر بھی اختیار نہیں کر رہے۔ اِس صورتحال میں پشاور کے سیاحوں کے لئے دو نئے عجائبات کا اضافہ کرنا درست اقدام تو ہے لیکن اِس کا وقت درست نہیں۔ ذہن نشین رہے کہ پشاور کے مقامی افراد کی اکثریت دلیپ کمار یا راج کپور کے آبائی گھروں کو بحال ہونے کے بعد قیمت ادا کر کے دیکھنے نہیں جائے گی کیونکہ اُن کے لئے اپنی زندگیوں اُور اِن زندگیوں کے مسائل زیادہ اہمیت کے حامل ہیں‘ جن کے حل کرنے کے مطالبات کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔

دلیپ کمار اُور راج کپور کے آبائی گھروں کی موجودہ حالت اِس حد تک ”انتہائی خستہ“ اُور ناقابل مرمت ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ اِن دونوں مکانات کا ملبہ فروخت کرنا پڑے گا اُور پھر نئے تعمیر کر کے وہاں عجائب گھر بنائے جائیں گے۔ اِس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر پشاور نے مکانات کی قیمت مختلف طریقوں سے مقرر کرتے ہوئے زمین (اراضی) اُور ملبے کا قیمت کے الگ الگ تخمینے جاری کئے ہیں۔ معروف قصہ خوانی بازار سے متصل (شمال کی جانب) نسبتاً بلند ’ڈھکی دالگراں‘ میں واقع ”کپور حویلی“ کا کل رقبہ لگ بھگ چھ مرلے (5184 مربع فٹ)۔ حویلی کی زمین کی قیمت ایک کروڑ پندرہ لاکھ سے زیادہ جبکہ ملبے کی قیمت کا تخمینہ 34 لاکھ سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ جائیداد کا مالک چاہتا ہے کہ ’کپور حویلی‘ کے اُسے کم از کم 2 ارب روپے ادا کئے جائیں! اِسی طرح قصہ خوانی بازار ہی سے متصل (مشرق کی جانب) محلہ خداداد میں ’دلیپ کمار‘ کا آبائی گھر واقع ہے جس کا کل رقبہ چار مرلے ہے۔ اس مکان کی تعمیرات والا حصہ 1077 مربع فٹ سے کچھ زیادہ جبکہ سرکاری طور پر مذکورہ اراضی (زمین) کی قیمت 72لاکھ 80ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے جبکہ دلیپ کمار کے آبائی گھر کے ملبے کی قیمت کا تخمینہ 7لاکھ 76ہزار روپے سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ اس حساب سے دلیپ کمار کے گھر کی قیمت 80لاکھ 56ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے۔ مذکورہ دونوں جائیدادوں کی کل قیمت 2کروڑ 30لاکھ اور 56ہزار روپے سے زیادہ مقرر کرنے کے بعد صوبائی حکومت سے اس سلسلے میں مالی وسائل (فنڈز) جاری کرنے کی درخواست ارسال کر دی گئی ہے اُور اُمید ہے کہ اگر فوری طور پر یہ رقم (دو کروڑ تیس لاکھ روپے) جاری نہ بھی کی گئی تو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیاحت کے لئے مالی وسائل الگ کرتے ہوئے اِن دونوں مکانات کے لئے پس و پیش کیا جائے گا تاہم فیصلہ سازوں کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ صرف ایک ہی مرتبہ رقم مختص کرنا کافی نہیں ہوگا اُور بات صرف دو یا ڈھائی کروڑ کی بھی نہیں بلکہ مذکورہ مکانات خریدنے کے بعد اُن پر تعمیرات اُور عجائب گھر کی صورت میں اُنہیں جاذب نظر بناتے ہوئے سیاحوں کے لئے سہولیات اُور تشہیر وغیرہ کے لئے بھی کروڑوں یا شاید اربوں روپے درکار ہوں گے۔

بھیڑ چال ہے۔ خیبرپختونخوا کے کئی سرکاری محکموں کی نظریں (فوکس) اُور ساری کی ساری توجہ دلیپ کمار اُور راج کپور کے آبائی گھروں پر لگی ہوئی ہیں اُور ہر محکمہ کچھ نہ کچھ حاصل (کمانے) کے چکر میں ہے۔ محکمہ مال کے منتظم صاحب بہادر (ڈپٹی کمشنر) نے زمینوں کی مالیت جبکہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) ڈیپارٹمنٹ اس کے ملبے کی مالیت کا تخمینہ لگایا ہے اُور تعمیروبحالی کا کام محکمہ آثار قدیمہ کی زیرنگرانی ہو گا جس کے بعد ممکن ہے کہ اِسے سیاحتی ترقی کے صوبائی محکمے کے حوالے کر دیا جائے لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اگر صوبائی حکومت کی جانب سے بنا تاخیر مطلوبہ دو کروڑ تیس لاکھ روپے سے زائد رقم فراہم کر دی جاتی ہے اُور مالک مکان کی جانب سے قانونی کاروائی آڑے نہیں آتی تب بھی مکانات کو قبضہ صوبائی حکومت کے پاس آنے میں کم سے کم ’چھ ماہ‘ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ دلیپ کمار اُور راج کپور خاندانوں کے لئے اُن کے آبائی گھروں کی خاص اہمیت ہے اُور وہ جب بھی پاکستان آئے اپنے آبائی گھروں کی قدم بوسی کے لئے پشاور کے دورے کے خواہشمند رہے۔ کپور خاندان کا اپنے آبائی گھروں سے عقیدت و محبت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کپور حویلی کی مٹھی بھر مٹی اپنے ساتھ لے گئے تھے! مذکورہ دونوں مکانات کی خریداری‘ بحالی اُور عجائب گھروں میں منتقلی کے بعد بھی اِن کی نسبت و شناخت دلیپ کمار اُور کپور حویلی ہی کے طور پر رہے گی‘ جس میں سرمایہ کاری کے لئے اگر ارب پتی دلیپ کمار اُور کپور خاندان کے افراد سے رابطہ کیا جائے تو اِس سے نہ صرف دونوں خاندان عجائب گھر میں رکھنے کے لئے خاندان کی یادگار اشیاء(نوادرات) عطیہ کریں گے بلکہ ممکن ہے کہ اُن کی جانب سے مکانات کی خریداری اُور بحالی کے جملہ اخراجات بھی برداشت کر لئے جائیں۔ سرمایہ کاری کا دوسرا امکان یہ ہے کہ دونوں مکانات ’گندھارا ہندکو بورڈ (gandharahindko.com)‘ کے ذریعے خریدے اُور بحال کئے جائیں اُور اُنہی کے زیرنگرانی عجائب گھر میں تبدیل کئے جائیں۔ مذکورہ ’ہندکو بورڈ‘ نہ صرف پشاور کی قدیمی مقامی زبان کے تحفظ کی تحریک ہے بلکہ یہ روشن خیال ادارہ پشاور کے علمی‘ ادبی‘ تاریخی و ثقافتی ورثوں کا محافظ بھی ہے۔ یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ پشاور کو ’ہندکو بورڈ‘ سے زیادہ اچھا اُور گہرائی سے کوئی دوسرا حکومتی‘ نیم حکومتی ادارہ‘ غیرسرکاری ادارہ یا تنظیم نہیں سمجھ سکتی۔


اَشک بن کر جو چھلکتی رہی‘ مٹی میری
شعلے کچھ یوں بھی اُگلتی رہی‘ مٹی میری
کچھ تو باقی تھا مری مٹی سے رشتہ میرا
میری مٹی کو ترستی رہی‘ مٹی میری
(شاعر:دوجیندر دوج)

....

Editorial Page - Daily Aaj -Peshawar/Abbottabd - Dec 12, 2020 Saturday

Clipping from Daily Aaj - Editorial Page - Daily Aaj - Dec 12, 2020 Sat