Showing posts with label Town One. Show all posts
Showing posts with label Town One. Show all posts

Wednesday, January 6, 2021

Tale of never ending encroachments & Peshawar!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

تجاوزات: نیا عزم

کراچی اُور پشاور کی کہانی اُور قسمت ایک جیسی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے پہلے اُور دنیا کے ساتویں بڑے شہر ’کراچی‘ میں تجاوزات سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ آف پاکستان) کے چیف جسٹس گلزار احمد نے گزشتہ ہفتے (29 دسمبر 2020ءکے روز) اِس بارے سندھ حکومت کو متوجہ کیا تھا کہ ”کراچی گاوں نما لگتا ہے کیونکہ یہاں کچھ بھی مثالی حالت میں موجود نہیں۔ سڑکیں‘ پانی اُور سبزہ زاروں (باغات) کی خستہ حالی پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وہ خاطرخواہ اقدامات کرے۔“ عدالت کے روبرو پیش ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کروائی کہ وہ تجاوزات کے خاتمے اُور نشاندہی کئے گئے مسائل کے حل پر توجہ دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق تجاوزات کے خلاف کراچی میں یوں تو سارا سال ہی کاروائیاں جاری رہتی ہیں تاہم چار جنوری دوہزار اکیس کے روز ’نئے عزم‘ سے مذکورہ کاروائیوں کا آغاز ’محمود آباد نالے‘ کے اطراف میں سات کلومیٹر پٹی پر قائم 319 تجاوزات کی نشاندہی کے بعد اُن کے خاتمے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ 

4 جنوری 2021ء ہی کے روز پشاور میں بھی تجاوزات خاتمے سے متعلق غوروخوض کے جاری عمل میں نکاسی آب کے قدیمی نظام (شاہی کٹھے) کی صفائی اُور اِس پر قائم غیرقانونی عمارتیں ختم کرنے پر اتفاق رائے سامنے آیا۔ اُور ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی)“ نے پشاور میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے اُور آبادی کے لحاظ سے اِس نظام کی کشادگی پر ’ٹاون ون‘ اُور ’ضلعی حکومت (سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ) سے تجاویز طلب کی ہیں۔ شاہی کٹھہ 10 کلومیٹر طویل ہے جس کا صرف 5 فیصد حصہ ہی تجاوزات سے بچ پایا ہے۔ نکاسی آب کا یہ نغام مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں پشاور کے گورنر ’جنرل پاولو ایوٹیبل (Gen. Paolo Avitabile)‘نے تعمیر کروایا تھا اُور اِسی گورنر نے فصیل شہر کے کئی حصوں کو ازسرنو تعمیر کرتے ہوئے اِس میں نئے دروازوں اُور دیوار کی اونچائی میں اضافہ کروایا تھا۔ پشاور کے 2 بنیادی مسائل (امن و امان کے قیام اُور نکاسی آب کی بہتری) پر توجہ دینے سے پشاور اُور جنرل ایوٹیبل میں اجنبیت ختم ہوتی چلی گئی اُور اہل پشاور نے اُنہیں اپنائیت میں ’ابوطبیلہ‘ کے لقب سے پکارنا شروع کیا۔ معلوم ہوا کہ جب کوئی غیرمقامی شخص مقامی مسائل کے حل پر توجہ دیتا ہے تو اُسے پیار ملتا ہے لیکن جب مقامی فیصلہ ساز اپنے شہر کے مسائل کے حل کی بجائے اِس میں اضافے کا باعث بنتے ہیں تو ایسا طرزحکمرانی اُور حکمراں (بشمول اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین) کی حیثیت و تذکرہ ضمنی رہ جاتا ہے کیونکہ جو مسئلے کا حل نہیں ہوتا وہ بذات خود مسئلہ ہوتا ہے۔ ”ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں .... ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں!“

شاہی کٹھہ سمیت پشاور میں نکاسی آب کے نظام کی اصلاح و توسیع کے لئے ’جامع تحقیقی رپورٹ‘ امریکہ کے امدادی ادارے ’یو ایس ایڈ (USAID)‘ کے مالی و تکنیکی تعاون و نگرانی میں مرتب کی گئی جو ”پلاننگ اینڈ انجنیئرنگ سروسیز فار ماسٹر پلان اِن پشاور خیبرپختونخوا‘ نامی منصوبے کا حصہ ہے۔ اِس حکمت عملی کی خلاصہ (ایگزیکٹو سمری) 69 صفحات پر مبنی ہے جس میں کلیدی تکنیکی پہلوو¿ں کا اشارتاً ذکر کرتے ہوئے اپریل 2014ءمیں رپورٹ ہر خاص و عام کے مطالعے و معلومات کے لئے جاری کی گئی۔ عجب ہے کہ اِس جامع حکمت عملی کی موجودگی میں بھی ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ سازوں کو ’ٹاو¿ن ون‘ اُور ’ضلعی حکومت‘ کی مدد و مشاورت درکار ہے‘ جنہیں اگر معاملے کی سمجھ بوجھ ہوتی اُور جن کا پشاور سے ’گہرا دلی تعلق‘ ہوتا تو یہ بات ممکن ہی نہیں تھی کہ شاہی کٹھہ پر 280 سرکاری اُور 120 نجی تعمیرات ہوتیں۔ جب ہم 280 سرکاری اثاثوں (عمارتوں اُور دکانوں) کی بات کرتے ہیں تو اگرچہ اِن کی ملکیت سرکاری ہے لیکن یہ مختلف ادوار میں منظورنظر سیاسی کارکنوں کو کرائے اُور اجارے پر کچھ اِس رازداری سے دی گئیں کہ اہل پشاور کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی اُور اب جبکہ شاہی کٹھے پر مذکورہ 400 تعمیرات کی فرداً فرداً جانچ پڑتال کی گئی ہے تو صرف پانچ دکانداروں کے پاس ایسے کاغذات ہیں جن کی بنیاد پر اُنہیں شاہی کٹھہ پر تعمیر کی اجازت حاصل ہوئی لیکن ٹاون اُور ضلعی حکومت کی جانب سے دی گئی یہ اجازت بھی اختیارات سے تجاوز (غیرقانونی) ہی ہے۔ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ ساز اگر سنجیدہ ہیں اُور اپنے قیام کے بنیادی مقصد کی تکمیل و تعمیل چاہتے ہیں تو ’یو ایس ایڈ‘ کی زیرنگرانی مرتب ہوئی مذکورہ حکمت عملی کا مطالعہ کریں جس پر عمل درآمد کی تکمیل و اختتام سال 2022ءمیں ہونا ہے اُور اِسی (حکمت عملی) کے تحت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تاہم پشاور میں نہ تو نکاسی آب کا نظام حسب حکمت عملی (ٹائم لائن) درست ہو سکا اُور نہ ہی پشاور کی 92 یونین کونسلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکی۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے قیام سے قبل جس انداز میں صفائی اُور آبنوشی فراہم ہو رہا تھا آج بھی ترتیب وہی ہے صرف نام تبدیل ہوا ہے اُور خوشنما تشہیری مہمات اُور ملازمین کی ”فوج ظفر موج“ کی تنخواہوں اُور مراعات پر سالانہ کروڑوں روپے اضافی خرچ ہو رہے ہیں۔ 

پشاور کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے والے مختلف ادارے ایک دوسرے سے مربوط نہیں۔ ایک دوسرے کے حال اُور کام کاج سے آگاہ بھی نہیں۔ اِن کے الگ الگ دفاتر اُور فاصلے آپسی رابطے میں حائل بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایک ہی کام کے لئے ایک سے زیادہ محکمے‘ دفاتر اُور اہلکار خود کو مصروف رکھنے کے لئے ایک دوسرے سے خط و کتابت کرتے رہتے ہیں اُور یہ بات بھی نمائشی کارکردگی پر مبنی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ مذکورہ خط و کتابت کی تشہیر صحافیوں (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) کے ذریعے کر دی جائے تاکہ اہل پشاورکو یقین ہو کہ کوئی نہ کوئی‘ کہیں نہ کہیں‘ اُن کے بارے میں سوچ رہا ہے! پشاور کی تجاوزات صرف شاہی کٹھہ تک محدود نہیں جو کوہاٹی گیٹ سے شروع ہو کر قصہ خوانی‘ جہانگیرپورہ‘ کوچی بازار‘ محلہ جنگی‘ محمد علی جوہر روڈ‘ پیپل منڈی‘ ریتی بازار سے بل کھاتا ہوا بڈھنی نہر (نالے) میں جا گرتا ہے۔ 10کلومیٹر طویل اُور 8 فٹ چوڑا شاہی کٹھہ مٹی ریت اُور گندگی سے بھر چکا ہے جس کی صفائی کئی دہائیوں سے نہیں ہو رہی کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں اُور نالے پر پُل ڈال کر دکانیں‘ مکانات‘ مساجد‘ سڑکیں اُور گلیاں راستے بنا دیئے گئے ہیں جن کی مالیت (مارکیٹ ویلیو) اربوں روپے ہے اُور اِن سے ماہانہ کروڑوں روپے کے مالی مفادات وابستہ ہیں‘ جن کا حصہ سرکاری اہلکاروں کی جیبوں میں بھی یقینا جاتا ہوگا بصورت دیگر صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے اُور خیبرپختونخوا کے مرکزی شہر میں جہاں صوبائی اداروں کے صدر دفاتر موجود ہیں‘ اِس قدر لاقانونیت اُور وہ بھی کھلے عام رونما نہیں ہو سکتی! القصہ مختصر کراچی ہو یا پشاور‘ تجاوزات کسی ایک شہر کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی مسئلہ اُور ایسا درد سر ہے‘ جس کا ’سپرئم کورٹ‘ ازخود نوٹس نہ بھی لے اُور سپرئم کورٹ کا خوف نہ بھی محسوس کیا جائے تب بھی اِس مسئلے کا پائیدار حل ہونا چاہئے۔

....




Thursday, March 12, 2020

Son of soil: Serving Peshawar with best of the abilities!

ژرف نگاہ
پشاور: ضمیر کی آواز!
غور طلب ہے کہ قصور و فتور کبھی بھی صوبائی و بلدیاتی‘ منتخب‘ غیرمنتخب اُور چنیدہ فیصلہ سازوں کی نیت کا نہیں رہا اُور نہ ہی فیصلہ سازی کے مراحل میں کوتاہی ہوئی بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک جامع حکمت عملی دفتری کام کاج (ریکارڈ) کا حصہ ہے جبکہ پشاور کے ظاہری مسائل کے پوشیدہ پہلو یہ ہیں کہ یہاں عزم اِرادوں‘ اِرادے حوصلوں‘ حوصلے مصلحتوں اُور مصلحت ترجیحات پر غالب آتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظاہری حسن اُور شہری زندگی کے لئے بدنمائی کا سبب بننے والے تین بنیادی محرکات (تجاوزات‘ دیواروں پر لکھائی جسے عرف عام میں وال چاکنگ کا کہا جاتا ہے اُور آویزاں کئے گئے سیاسی و غیرسیاسی تشہیری مواد) سے شہر کو پاک کرنے کی جملہ کوششیں کہیں نہ کہیں دم توڑتی رہی ہیں جبکہ (تاریخ گواہ ہے کہ) بھرپور جوش و جذبے (ذرائع ابلاغ کی وساطت سے مشتہر بلندبانگ دعوو ¿ں کے ساتھ) پشاور کی ظاہری خوبصورتی بحال کرنے کی حسب حال ضروری کوششیں منطقی انجام تک پہنچنے سے قبل ہی ادھوری چھوڑنے کی روایت بھی نئی نہیں۔
پشاور کا دن کب آئے گا؟
وہ دن جب شہری ترقی کے لئے کام کرنے والے ایک سے زیادہ حکومتی ادارے ماضی کی کوششوں (کامیابیوں و ناکامیوں) سے حاصل (اخذ) نتائج کو مدنظر رکھیں گے۔ جب اداروں کے سالانہ مالیاتی امور ہی کا نہیں بلکہ اِن کی کارکردگی کا بھی اِحتساب ہو گا۔ تجاوزات‘ وال چاکنگ اُور سیاسی و غیرسیاسی تشہیری مواد سے پشاور کو پاک کرنے کے لئے ماضی و حال کی کوششوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ اِن مہمات کے نگرانوں کی اکثریت کا خمیر و ضمیر پشاور کی مٹی سے نہیں اُٹھا اُور یہ بات الگ موضوع ہے کہ پشاور کی محبت بھی ہر کسی کا نصیب بھی نہیں ہوتی۔ این سعادت بزور بازو نیست کے مصداق درجنوں مثالیں موجود ہیں جب اپنوں اُور اغیار (دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والوں) نے اپنے سیاسی اثرورسوخ اُور تعلقات کی بناءپر پشاور کی بلدیاتی یا سیاسی فیصلہ سازی اپنے ہاتھ میں لی لیکن اِن میں سے اکثر کے لئے پشاور صرف اُور صرف ’ملازمتی موقع‘ تھا‘ جس سے ہر ممکن اُور کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھایا گیا اُور ذاتی اُور وقتی مفادات پر پشاور کی محبت غالب نہ آ سکی۔ فیصلہ سازوں نے اپنے ملازمتی عرصے کے ابتدائی چند ہفتے اہل پشاور جبکہ باقی سالہا سال حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں گزارے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ فصیل شہر‘ سولہ دروازے اُور پشاور کا فن تعمیر‘ حتیٰ کہ بذریعہ قانون محفوظ (protected) قرار دیئے گئے آثار قدیمہ کا مستقبل مخدوش دکھائی دیتا ہے جو ایک ایک کر کے اپنا وجود کھو رہے ہیں اُور دردمندی و گہرائی سے دیکھا جائے تو پشاور کو پہنچنے والے یہی ناقابل تلافی نقصانات ہیں کہ یہ شہر صرف ماضی ہی نہیں بلکہ حال کی ہر ایک خوبی کو ایک ایک کر کے گنواتا رہا۔
حسن ظن یا حسن اِتفاق نہیں کہ پشاور ہر دور میں توجہ کا مرکز رہتا ہے بلکہ پشاور کی مرکزی حیثیت اِس قدر ہے کہ اِسے دیکھ کر خیبرپختونخوا میں طرزحکمرانی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 92 یونین کونسلوں پر مشتمل پشاور 4 ٹاو نز (بلدیاتی علاقوں) میں تقسیم ہے‘ جس کے اندرون شہر کے علاقوں پر مشتمل ’ٹاو ن ون‘ کی اِنتظامیہ 4 فروری سے خصوصی مہم چلا رہی ہے۔ چار فروری ہی کے دن ’پشاور کے سپوت‘ ریاض اعوان کی بطور ’ٹاو ن آفیسر ریگولیشنز (TOR)‘ تعیناتی ہوئی۔ آپ خیبرپختونخوا کے مختلف ٹاو ¿ن میونسپل اتھارٹیز کے نگران (ایڈمنسٹریٹر) رہنے کے بعد جب اپنے آبائی شہر واپس تعینات ہوئے تو یہ کسی بھی طور معمولی بات نہیں تھی اُور حسب توقع وہ اپنے شہر کی خدمت کا حق ادا کر رہے ہیں جنہیں ’چاچا یونس ثانی‘ قرار دینا چاہئے۔ ریاض اعوان کی بطور ’ٹی اُو آر‘ پشاور تعیناتی (چار فروری) کے دن شام ہونے سے پہلے تجاوزات‘ وال چاکنگ اُور تشہیری مواد کی صفائی کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ اگلے دن (پانچ فروری) ’یوم کشمیر‘ کے سلسلے میں دیگر سرکاری مصروفیات غالب رہیں لیکن پانچ فروری بوقت عصر سے جاری مہم کے دوران گیارہ مارچ تک (ایک ماہ سات دن) کے دوران ہر قسم کے سیاسی و غیرسیاسی دباو ¿ حتیٰ کہ ہفتہ وار تعطیلات کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا اُور یہی ماضی و حال کی بظاہر ایک جیسی مہمات کے یکسر مختلف نتائج برآمد ہونے کا باعث امر ہے کہ تجاوزات‘ وال چاکنگ اُور تشہیری مواد جیسے انبار سے پاک و صاف (نکھرا نکھرا ستھرا) پشاور ظاہر ہو رہا ہے۔ ٹاو ¿ن ون اہلکاروں میں پشاور کی خدمت اُور محبت کی نئی روح پھونکنے والے ایک جواں ہمت شخص کی توفیقات میں اضافے اُور صحت و سلامتی کی دعاو ¿ں کے ساتھ اُمید ہے کہ ریاض اعوان اہل پشاور کی نہیں بلکہ اپنے خمیر و ضمیر کی توقعات پر پورا اُتریں گے۔
............


Sunday, March 11, 2018

Mar 2018: Save the graveyards of Peshawar, please!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پشاور کی خبریں!
’روزنامہ آج‘ کی اشاعت میں شامل ’’پشاور کی خبریں‘‘ مستقل و مسلسل اُور مربوط سلسلہ ہے‘ جو نہ صرف ’اپنے شہر‘ سے آگاہی کا ’(مستند) وسیلہ ہے بلکہ مقامی اور غیرمقامی اہل پشاور یا ایک جیسی دلچسپی رکھنے والے قارئین آپس میں جڑے رہتے ہیں تاہم ’صفحہ 2‘ کے ذریعے ’پشاور شناسی‘ میں اضافہ ہونے کے امکان بارے ادارتی فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ صحافت ایک مشن بھی تو ہوسکتا ہے۔ 

نہایت ہی شدت سے کمی اِس بات کی بھی محسوس ہو رہی ہے کہ پشاور سے متعلق درپیش مسئلے مسائل کی بابت عام آدمی (ہم عوام) کی آراء خصوصیت اور تواتر سے شائع ہوں۔ فی الوقت پشاور کے لئے مختص جگہ (space) کا بڑا حصہ اعلامیوں (احکامات)‘ روائتی سیاسی و غیرسیاسی بیانات اور اُن واقعات کی خبروں نے لے رکھی ہے‘ جن کا اِرتکاب بصورت معمول یا جرائم ہوتا ہے۔ تین مارچ کی اشاعت میں چار کالم شہ سرخی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ ’’(پشاور:) قبرستان پر قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی‘ اُوقاف سے رابطہ۔‘‘ اِس خبر کو صفحے کے بالائی حصے میں نمایاں کرکے شائع کرنے کا مقصد یہی ہوگا کہ ’صوبائی اور ضلعی حکومتوں‘ کی جانب سے ’فوری توجہ (نوٹس)‘ لیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اب تو یہ بات پشاور سے شائع ہونے والے اور پشاور کی محبت کا دم بھرنے والے بہت سے اخباروں کے لئے خبر بھی نہیں رہی کہ ’’قبرستانوں کی اراضی قبضہ ہو رہی ہے اور صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے قبضہ مافیا کی کاروائیاں جاری ہیں۔‘‘ عجب ہے کہ نہ تو خبر کا اثر ہو رہا ہے اور نہ ہی قانون کا خوف محسوس کرنے والوں کی کمی ہے! 

سیاسی پشت پناہی رکھنے والے اِیسے عناصر معلوم ہیں‘ جن کے لئے ’انٹرپول‘ یا ڈرون طیاروں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اِن ’دیدہ دلیر قانون شکنوں‘ نے کسی ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس سے متعلق قانون کی کتابیں خاموش ہیں اور معلوم ہی نہیں ہو رہا کہ کن دفعات کا اطلاق کیا جائے! 

صد افسوس کہ ماضی کی طرح ’تبدیلی کی علمبردار‘ موجودہ صوبائی و ضلعی حکومتیں بھی مصلحتوں کا شکار ہیں‘ جن کے لئے ذرائع ابلاغ کی طرف سے ’’نشاندہی اور رہنمائی‘‘ کی خاطرخواہ اہمیت نہیں تو اِس (تجاہل عارفانہ پر مبنی) طرزِعمل سے ’صحافت یا اہل صحافت‘ کا نہیں بلکہ ’اہل سیاست‘ اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ المیہ ہے کہ خبروں کی قدر و اِہمیت تو باقی ہے لیکن چونکہ متعقلہ حکام اِن کے بارے میں ’حساس‘ نہیں رہے تو خبریں خبروں کے بوجھ تلے دب کر دم توڑ رہی ہیں!

تین مارچ کو شائع ہوا کہ ’’(پشاور کے) زاہد آباد علاقے میں سرکاری قبرستان کی کھدائی جاری ہے۔ کچھ لوگ قبضہ کرنا چاہتے ہیں لیکن آغا میرجانی شاہ پولیس نے (بروقت کاروائی کرتے ہوئے) ملوث افراد کو غیرقانونی اقدام سے روک دیا۔‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ پولیس نے ’غیرقانونی اقدام‘ میں ملوث افراد کو روکا لیکن اُن کے خلاف کاروائی نہیں کی اور یہی وجہ رہی کہ نہ صرف زاہد آباد بلکہ دیگر قبرستانوں کی اراضی پر قبضہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوئی۔ حال تو یہ ہے کہ قبرستانوں کی اراضی ہڑپ کرنا نہ تو اخلاقی اور نہ ہی قانونی جرم تصور ہو رہا ہے اور اگرچہ یہ معاملہ پشاور ہائی کورٹ تک جا پہنچا ہے جہاں صوبائی حکومت نے دو ماہ کی مہلت لے رکھی ہے لیکن قبرستان محفوظ نہیں کئے جاسکے۔ یوں لگتا ہے کہ دو ماہ کی مہلت باقی ماندہ قبرستانوں کی اراضی مل بانٹ کر تقسیم کرنے کے لئے لی گئی ہے! 

9 مارچ کو (دو کالم) شائع ہونے والی اِس دوسری خبر کی سرخی تھی ۔۔۔ ’’اخون بابا قبرستان پر قبضہ مافیا کے خلاف احتجاج‘‘ رنگ روڈ بلاک (جبکہ) بیری باغ میں 80 مرلے اراضی پر دوبارہ قبضہ کر لیا گیا‘ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ’انتظامیہ نوٹس لے۔‘‘ منظرنامہ ملاحظہ کیجئے کہ ۔۔۔ ایک طرف قانون شکن ہیں جن کے سامنے پولیس بے بس ہے تو اُن کے مدمقابل مقامی افراد (اپنی مدد آپ کے تحت) قبرستانوں کی اراضی بچانے کے لئے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر پولیس اپنی حقیقی موجودگی کو ثابت کرتی ہے تو صوبائی دارالحکومت کے علاقہ ہزار خوانی کے مکینوں کو احتجاج کی نوبت نہ آتی۔ ٹاؤن ون کی حدود ’اَخون بابا‘ اور ’بیڑی باغ‘ قبرستانوں پر قبضہ نہ تو راتوں رات ہوا‘ اُور نہ ہی یہ واردات جادوئی تھی کہ کسی کو کانوں کان اور نظروں نظر خبر ہی نہ ہو سکتی لیکن چونکہ پشاور دل و جاں کا حصہ نہیں اِس لئے عوام کے منتخب کردہ ’ضلعی نمائندے‘ صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ پولیس اسٹیشنوں کی پولیس کا رویہ عملاً ’پشاور دوست‘ بھی نہیں! 

تیسری خبر‘ تین کالم سائز میں ’10 مارچ‘ کے روز ’صحفہ دو‘ کی زینت بنی‘ جس کی ’شہ سرخی‘ میں ڈیزائن کی خوبیاں کے ساتھ ’عوام الناس‘ کو مطلع کیا گیا کہ ’’بیری باغ قبرستان میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن‘ کارِ سرکار میں مداخلت پر جھڑپیں۔‘‘ ماضی میں بھی ’بیڑی باغ‘ کے مقام پر ضلعی اِہلکاروں اُور اِحتجاج کرنے والے مقامی اَفراد کے درمیان اِسی قسم کی جھڑپیں ہو چکی ہیں لیکن قانون شکن عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی نہیں کی گئی! ضلعی حکومت پشاور کے طول و عرض میں تجاوزات کے خلاف ’گرینڈ آپریشن (بڑی کاروائیاں)‘ کرنے کی (زبانی) دعویدار تو ہے لیکن شہرخموشاں (قبرستانوں) سے لیکر ’عالم طلسم‘ تک برسرزمین صورتحال میں تبدیلی نہیں آ رہی۔ 

پشاور کے رہنے والوں کے لئے اِس سے زیادہ صدمہ اُور کیا ہو سکتا ہے کہ ہر چند ہفتوں بعد اُن کے آباؤ و اجداد کی قبریں مسمار کرنے والے ہاتھ کر جاتے ہیں جبکہ صاحبان اِختیار (حکومتیں) خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ یہی وہ مقام فکر و بیان ہے کہ جہاں ’پشاور کو لاوراث‘ قرار دیا جاتا ہے کہ اِس شہر کی فیصلہ سازی پر ایسے لوگ مسلط (حاوی) ہو گئے ہیں جن کی پشاور میں نہیں بلکہ اِس کے وسائل اور اراضی میں زیادہ دلچسپی ہے۔ آئندہ عام انتخابات (دوہزار اٹھارہ) کے موقع پر اگر اہل پشاور (ہندکووانوں) نے ایک مرتبہ پھر ماضی کی غلطیاں دُہرائیاں اُور اپنا ووٹ ’جانے پہچانے اَنجانوں‘ کے حق میں استعمال کیا تو پھر اُنہیں قبرستانوں اور بازاروں میں تجاوزات کے خلاف بولنے یا احتجاج کرنے کا بھی حق نہیں‘ پھر بنیادی سہولیات کی محرومی کا رونا بھی نہیں بنے گا۔ 

عام اِنتخابات کے موقع پر ۔۔۔ پشاور کے عام آدمی (ہم عوام) کو اپنی سوچ اُور عمل کی اصلاح کے ساتھ خوداحتسابی جیسے شعوری سفر کی منازل طے کرنی ہیں کیونکہ فیصلے کی گھڑی‘ ہر گھڑی قریب آ رہی ہے۔ 

’’عالم طلسم شہرخموشاں ہے سر بسر
یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا (مرزا غالب)۔‘‘
۔
Three news items picked from Page 2 also known as City Page regarding encroachments in Graveyards of Peshawar

Layout of the editorial page of Daily Aaj - Mar 11, 2018 Sunday

Thursday, October 19, 2017

Oct 2017: Gorkhattree the wonder in wonders!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
گورگٹھڑی: کون کیا چاہتا ہے!؟
محکمۂ آثار قدیمہ (خیبرپختونخوا) کی کوشش ہے کہ ’’پشاور شہر کے وسط میں واقع قریب تین ہزار سال پرانی عمارت ’گورگٹھڑی (گورگھ دی ہٹی)‘ کے باقی ماندہ حصوں کو اُس کی تاریخی اہمیت اور اصل کے مطابق ’بحال‘ کر دیا جائے۔‘‘ اِس عمارت کو پہلے ہی ’’پاکستان کے پہلے آرکیالوجیکل پارک‘‘ کا درجہ دیا جاچکا ہے اور یہاں پشاور شہر کی تاریخ کے حوالے سے ایک عدد عجائب گھر (سٹی میوزیم) بھی قائم ہے۔ اگرچہ بہت کم پشاوریوں کو اِس بات کا علم ہوگا کہ اُن کے شہر کی پہلی اینٹ قریب چھبیس سو سال پہلے رکھنے جیسا انکشاف (ڈسکوری) بھی ’گورگٹھڑی‘ ہی کے مقام پر ہونے والی متعدد کھدائیوں سے کی گئی اور ایسی ہی ایک کھدائی کو اُس کی اصل حالت میں دائم رکھا گیا ہے تاکہ نہ صرف ’آثار قدیمہ‘ کا علم حاصل کرنے والے طالب علم‘ ملکی و غیرملکی تحقیق کاروں‘ دلچسپی رکھنے والے سیاحوں بلکہ نئی نسل کو بھی پشاور‘ اِس خطے اور پاکستان و بھارت (برصغیر پاک و ہند) کی تاریخ جاننے اور اِس کے بارے میں مزید غور کرنے کی ترغیب و مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ یوں سندی تاریخی اعتبار کے علاؤہ ’گورگٹھڑی‘ کی اہمیت علمی و تحقیقی اعتبار سے ہٹ کر ایک حوالہ مذہب بھی ہے کہ یہاں کئی مندروں پر مشتمل ہندو مذہب کی مقدس عبادت گاہیں موجود ہیں اور اگر ’گورگٹھڑی‘ کو اُس کے اصل کے مطابق بحال کر دیا جاتا ہے تو اِس سے پشاور میں ’’مذہبی سیاحتی‘‘ کے موجود اِمکانات میں ایک بیش قیمت نگینے (ہیرے) کا اِضافہ ہو جائے گا۔

تحریک انصاف کی قیادت میں ’خیبرپختونخوا حکومت‘ یہ چاہتی ہے کہ ۔۔۔ ’’پشاور ہائی کورٹ‘‘ کے اُن احکامات کو عملی جامہ پہنایا جائے‘ جس کے مطابق ۔۔۔ ’گورگٹھڑی‘ کے اِحاطے میں تعمیر ہونے والا شادی ہال ’تجاوز‘ ہے‘ جس کا اِس عمارت میں وجود کسی بھی طرح ضروری نہیں اور اسے ’فوری طور پر مسمار کر دیا جائے‘‘ لیکن ماضی کے حکمران مصلحتوں کا شکار رہے اُور اُنہوں نے عدالتی احکامات کو حیلوں بہانوں سے پس پشت ڈالے رکھا۔ عدالتی احکامات کی تعمیل نہ ہونے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ صوبائی اور پشاور کی ضلعی حکومتوں (ٹاؤن ون) نے مذکورہ شادی ہال قوم پرست صوبائی وزیر (رُکن اسمبلی) کو اَجارے (لیز) پر دے دیا‘ جن کی کوشش تھی کہ شادی ہال سمیت تمام ’گورگٹھڑی‘ ہی اَجارے پر لینے کے بعد اِسے پارٹی کارکنوں میں تقسیم کر دیا جائے اُور یہاں روائتی دستکاروں‘ ہنرمندوں اُور کھانے پینے کے مراکز (فوڈ سٹریٹ) ہونا چاہئے۔ تصور کیجئے کہ تاریخی اہمیت کی حامل ایک عمارت‘ کہ جس میں فضل حق کے آمرانہ دور میں شادی ہال تعمیر کیا گیا اور پھر تین دہائیوں بعد اُسے سیاسی ملی بھگت سے ہڑپ لینے کی کوشش کی گئی!

پشاور کے تاریخی اَثاثوں کے لئے دردمند مؤقف رکھنے والے مطالبہ کرتے ہیں کہ ۔۔۔ ’گورگٹھڑی‘ کے اَحاطے (صحن) میں قائم ’باغات (پبلک پارکس)‘ کی تعداد اور سبزہ زاروں میں اضافہ کیا جائے۔ نجی اداروں کو عمارت کے احاطے میں کسی بھی قسم کی کمرشل (بڑے پیمانے پر) سرگرمیوں کے انعقاد کی اجازت نہ دی جائے جس سے یہاں کے سبزہ زاروں‘ راہداریوں یا درودیوار کو تراش خراش سے نقصان پہنچے۔ قریب ایک مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ’گورگٹھڑی‘ کا استعمال سرکاری گاڑیوں کو کھڑا (پارکنگ) کے لئے بھی نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس کا کوئی بھی حصہ سرکاری و نجی تجارتی‘ کاروباری یا دیگر سرگرمیوں کے کیا جائے۔ گورگٹھڑی ایک نعمت ہے‘ جس کے ذریعے نہ صرف ملحقہ گنجان آباد اندرون پشاور کے علاقوں میں ماحولیات توازن قائم ہے بلکہ اِس کے اطراف چھ یونین کونسلوں سے ’ہلکی پھلکی ورزش (صبح کی سیر اور واک) کے لئے آنے والے مردوخواتین کے علاؤہ بچوں کے لئے ’’صحت مند تفریح‘‘ کا ذریعہ ہے اور اہل علاقہ بالخصوص نئی نسل کو پشاور کے ماضی سے متعارف کرانے کی سبیل ہے۔ محکمۂ موسمیات خبردار کر چکی ہے کہ ہر سال گرمیوں کے ایک دن میں اضافہ ہو رہا ہے اور اگر ماحول کی تباہی اِسی طرح جاری رہی تو آئندہ پندرہ برس بعد چند دنوں کے لئے آنے والا ’موسم بہار‘ نہیں رہے گا۔ ماحول اگر ترجیح ہے تو ’گورگٹھڑی‘ کو بطور سبزہ زار اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سردمہر ضلعی حکومت کی سوچ ہے کہ گورگٹھڑی میں قائم ’کتب خانہ (لائبریری)‘ راتوں رات (13 اکتوبر کی شب) اچانک مسمار کرنے سے پہلے اُسے اعتماد میں لیا جاتا اور یہ کام خوش اسلوبی سے کرنا بھی ممکن تھا۔ چھ سے سات ہزار کتب کا ذخیرہ رکھنے والی مذکورہ میونسپل لائبریری کا قیام 1914ء میں ہوا تھا جس میں عطیہ کی گئی سینکڑوں ایسے نسخے موجود ہیں‘ جو نایاب ہو چکے ہیں۔ مادی ترقی کے دور میں چونکہ نئی نسل کا تعلق کتاب سے زیادہ ’انٹرنیٹ‘ سے جڑ چکا ہے اِس لئے لائبریریاں ویران دکھائی دیتی ہیں! تو ’’کتاب سے دوستی‘‘ کے لئے نئے وسائل اور ذرائع سے استفادہ بھی ہونا چاہئے۔ شادی ہال سے متصل لائبریری سے کتابیں بوریوں میں بھر کر شاہی باغ (شالیمار گارڈن) کے اُس حصے میں فرش پر پھینک (ڈھیر کر) دی گئی ہیں جو ’فٹ بال ایسوسی ایشن‘ نے بنایا ہے۔ اس سلسلے میں جب لائبریرین سے بات کی گئی تو وہ کافی دُکھی پائی گئیں اور گلہ کیا کہ سرکاری اِداروں کو مربوط اور ایک دوسرے پر اعتماد (بھروسہ) کرنا چاہئے۔ وہ ایک کتابیں ایک خزانہ تھا‘ اُس کتب خانے کا فرنیچر اور دیگر اَشیاء اثاثہ تھا۔ سب کچھ تہس نہس کر دیا گیا۔ بہت سی کتابیں اُور سازوسامان گم ہو چکا ہے۔ 

میونسپل لائبریری کبھی بھی ’ضلعی حکومت‘ کی ترجیح نہیں رہی‘ یہی وجہ ہے کہ ’’ڈپٹی ڈائریکٹر‘ ویمن پروگرام‘‘ کو مذکورہ لائبریری کی اضافی ذمہ داریاں سونپی گئیں‘ جن کا کہنا ہے کہ وہ اُردو اخبار نہیں پڑھتیں۔ پردہ باغ میں زیب دفتر ہیں اور لائبریری کے بیس سے پچیس افراد کے عملے کی نگران ہونے کے علاؤہ پچاس دستکاری (ہنرمندی) کے سنٹرز اُن کی بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔ محترمہ کا کہنا ہے کہ ’’لائبریری مسمار ہونے سے اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو وہ پشاور ہے اُور پشاور کو اِس کا احساس تک نہیں!‘‘
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-10-19

Thursday, September 28, 2017

Sept 2017: Issues of Sheikh Ameer Abad - Beri Bagh, Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پشاور: مٹتے نقوش!
حل طلب مسائل کی شدت میں ہر گزرتے دن اضافہ ہونے کی وجہ سے ’پشاور کی شہری زندگی‘ کا حسن ماند پڑ چکا ہے۔ بیرون یکہ توت اُور گنج گیٹ سے ملحقہ رہائشی بستی ’شیخ امیر آباد کی بستی ’بیڑی باغ‘ کے نام سے بھی معروف ہے جو ضلعی حکومت کے زیرانتظام ’یونین کونسل وزیرباغ (یو سی اکیس)‘ قومی اسمبلی کے حلقہ ’این اے ون‘ اُور صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے تھری‘ کا حصہ ہے۔ یہاں سے گزرنے والی ’نہر (Canal)‘ جو کبھی آب نوشی اور آبپاشی (زراعت) جیسے مقاصد کے لئے استعمال ہوتی تھی گندگی سے بھرے ’نالے‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ 

تحریک اِنصاف کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت نے ’شیخ اَمیر آباد‘ کے مقام پر گہری نہر کے دونوں کناروں پر ’حفاظتی انتظامات‘ کو بہتر بنایا لیکن اصل مسئلے کی جانب توجہ تاحال مبذول نہیں ہو سکی جو ’نہر میں موجود کوڑا کرکٹ (ٹھوس گندگی) کی صفائی سے متعلق ہے‘ اُور اہل علاقہ کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز (ڈبلیو ایس ایس پی)‘ اپنی موجودگی کا عملاً ثبوت دے اور ’شیخ امیرآباد‘ کے مقام پر نہر کی صفائی اور مذکورہ نہر کے نکاسئ آب کے لئے عمومی استعمال کی اصلاح کی جائے۔ شیخ اَمیر آباد سے گزرنے والا کھٹہ (لختئی) میں دو پائپ گزارے گئے۔ اِن پائپوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نچلا پائپ بند ہے جس کی وجہ سے شیخ امیرآباد گلی نمبر ایک کی نکاسئ آب ممکن نہیں رہی۔ اِس علاقے کا دوسرا بڑا مسئلہ ’تجاوزات‘ کا ہے۔ ٹاؤن ون کے ناظم ’زاہد ندیم‘ سے اُمید ہے کہ وہ اپنی پہلی فرصت ’شیخ امیر آباد‘ کا ’پہلا دورہ‘ فرمائیں گے اور یہاں صفائی کی صورتحال بہتر بنانے‘ بڑھتی ہوئی تجاوزات بالخصوص برف خانے کے سامنے قبرستان کی اَراضی پر قبضے کی جاری کوششیں (سرگرمیوں) کا سخت نوٹس لیں گے اُور ہزار خوانی روڈ سے بیڑی باغ کی طرف موڑ کاٹتے ہوئے سڑک کنارے تجاوزات کے امکانات ختم کرنے میں ’واجب کردار‘ اَدا کریں گے۔ پشاور کے نقوش مٹانے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ سختی سے معاملہ ہونا چاہئے۔

پشاور کے کئی علاقے نایاب ہستیوں کے ناموں سے منسوب ہیں جن میں ’بستی شیخ اَمیر آباد‘ بھی شامل ہے۔ ’(ملک) شیخ امیر مرحوم‘ کا تعلق پشاور کی اُس ’اعوان برادری‘ سے تھا جس میں یہاں کے ’ملک خاندان‘ کے سپوتوں کی اکثریت ہے۔ یہی لوگ ’’پشاور کے مالک‘‘ بھی کہلاتے ہیں کیونکہ کاشتکاری‘ باغبانی اور زراعت سے وابستہ یہی سب سے زیادہ ’صاحب جائیداد‘ ہوا کرتا تھا۔ وزیرباغ کے اطراف سے ’سائنس سپرئیر کالج‘ تا ہزار خوانی‘ رنگ روڈ اُور بیڑی باغ سے گنج گیٹ اُور یکہ توت گیٹ تک پھیلے وسیع و عریض رقبہ ’فصیل شہر‘ کا وہ بیرونی علاقہ ہوا کرتا تھا‘ جہاں قیام پاکستان سے قبل یا تو دیگر ممالک اُور دور دراز علاقوں سے آنے والے تجارتی قافلوں کا گزر ہوتا یا پھر پشاور کے اِن زراعت پیشہ ملک گھرانوں کے آباواجداد زرعی آلات اُٹھائے منہ اندھیرے فصیل شہر کے دروازوں سے گزر کر کھیتوں کو جاتے اور دن ڈھلنے (وقت مغرب) سے قبل واپس لوٹ آتے تاکہ شہر کے داخلی دروازے بند ہونے سے قبل وہ اپنی رہائشگاہوں تک پہنچ سکیں۔ جس وقت ’بیرون پشاور‘ کا بیشتر علاقہ سرسبزوشاداب‘ گل و گلزار مہکتا تھا‘ جب ہر طرف لہلہاتے کھیتوں اور باغات کی قطاریں دکھائی دیتی تھیں اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی نہایت ہی قیمتی اراضی بناء منصوبہ بندی پھیلتے پشاور کی نذر ہو جائے گی اور یہی وجہ رہی کہ پشاور کے مضافاتی علاقوں میں اندرون شہر سے زیادہ گنجان آباد بستیوں سے رہنے والے بنیادی سہولیات سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ 

یادش بخیر پشاور کے اُس سنہرے دور میں ’شیخ امیر‘ نامی کاشتکار پیشہ شخص نے اپنی رہائشگاہ سے متصل ایک قطعہ اراضی آخری آرام گاہ اور دوسرا اس سے متصل مسجد (عبادت گاہ) کے لئے وقف کیا۔ آج اُن کا مزار کسمپرسی کی تصویر ہے جس پر قبضہ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں گویا علاقے کی فلاح و بہبود کے لئے اُن کی خدمات کو اُن کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا ہو۔ مزار سے متصل مسجد موجود تو ہے لیکن اِس مسجد کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ چند ماہ قبل اُن کے مزار کو بھی مسمار کرنے کی کوشش کی گئی اور آج بھی تجاوزات قائم ہیں‘ جس پر شریف النفس اہل خانہ کی جانب سے ردعمل (احتجاج) کی وجہ سے آس پاس رہائش پذیر ’قبضہ مافیا‘ وقتی خاموش تو ہوگیا لیکن اُس کے ارادے معلوم و خطرناک ہیں۔ اِس سلسلے میں شیخ امیر مرحوم و مغفور کے عزیز ’ملک صابر حسین اعوان‘ کی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں‘ جو اپنی خرابئ صحت کے باوجود بھی پشاور کی اِس شناخت اور نقش کو باقی رکھنے کے لئے تن تنہا اِس محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اُن کی درازئ عمر‘ صحت و تندرستی اور سلامتی کے لئے بہت سی دعاؤں اور نیک تمناؤں پیش ہیں کیونکہ اُنہی کے دم کرم سے اِس علاقے کا تشخص‘ باقی ماندہ قبرستانوں کی حفاظت اُور شیخ امیر مرحوم کے مزار و مسجد کو محفوظ رکھنے کی کوششیں ایک تسلسل سے متواتر جاری ہیں۔ دیکھتے دیکھتے ’بیڑی باغ‘ کے قبرستان ہڑپ کر لئے گئے اور آج اِکا دُکا قبروں یا اُن کے نشانات باقی ہیں۔ 

اہل پشاور کے بزرگوں کی قبروں کی یہ بے حرمتی اور قبرستانوں کی وقف اراضی پر قبضہ کرنے والوں کو ’این اے ون‘ اور ’پی کے تھری‘ کے جس نمائندہ خاندان کی سربراہی حاصل ہے‘ انہوں نے اپنی قبروں کے لئے تو ’حضرت ابوالبرکات سید حسن بادشاہ (میراں بادشاہ) رحمۃ اللہ علیہ‘ سے متصل قطعۂ اراضی خرید لی ہے لیکن انتخابی سیاست کے لئے پشاوریوں کے آثار مٹانے کی قابل مذمت کردار سے تاحال رجوع نہیں کیا۔ 

شیخ امیر مرحوم کا مزار اِس لئے بھی محفوظ رہا کہ ایک تو وہ یہ اُن کی ملکیتی اراضی پر قائم ہے اور دوسرا مزار سے متصل جامع مسجد کی محراب اُن کی مزار سے متصل ہے جس طرف توسیع ممکن نہیں۔ کس جواز کے تحت اہل علاقہ نے ’شیخ امیر جامع مسجد‘ کا نام تبدیل کیا جبکہ آج کی تاریخ میں کوئی ایک مرلہ زمین بھی عطیہ نہ کرتا اُور شیخ امیر نے سینکڑوں مرلہ اراضی وقف کی تھی تو کیا اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے!؟ 

مادہ پرستی کے دور میں نوجوان نسل کو ’شیخ امیر آباد‘ جیسی ہستیوں اور اُن کی اپنی مٹی سے وابستگی سے آگاہ کرتے ہوئے ایسے مثالی عمل اور یادگاروں کی حفاظت ہونی چاہئے تاکہ ہر کس و ناکس کو اجتماعی فلاح و بہبود جیسی بے لوث خدمت و عمل کی رغبت مل سکے۔ بلاامتیاز خدمت ہی وہ سیاست ہے جس کا سکہ دنیا اور بعداز رحلت‘ تاقیامت کام آئے گا۔
Sheikh Ameer Abad (Beri Bagh) Peshawar faces many issues including a filth deposited canal & encroachments